60.7K
22

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Ishq Hai Tujhse) Episode 20

“حدیل۔۔۔۔۔ وہ نہیں اٹھ رہا تو چھوڑ دو۔۔۔۔۔” مام نے ناشتہ بناتے ہوئے اسے مخاطب کیا۔
آج انہیں مسلم کمیونٹی سینٹر امام داود کا بیان سننے جانا تھا اور حدیل کو صبح سویرے اٹھنے میں دیر ہوگئی تھی۔ وہ تیار ہوتے ہوئے ارحام کو دس منٹ سے کال کر کے اٹھانے کی کوشش کر رہی تھی۔
“نہیں مام اگر آج چھوڑ دیا۔۔۔۔۔ تو پھر کبھی نہیں اٹھ سکے گا۔۔۔۔۔” حدیل نے ٹھوس لہجے میں جواب دیا۔
“ہر انسان کے اندر دو بھیڑیے ہوتے ہیں۔۔۔۔۔ ایک اچھائی کا۔۔۔۔ ایک برائی کا۔۔۔۔۔ پاور فل وہی رہتا ہے۔۔۔۔۔ جسے ہم پالتے ہیں۔۔۔۔۔ ارحام نے غلط راہ پر چلتے برائی کے بھیڑیے کو طاقتور بنایا تھا۔۔۔۔۔ اب میں اس کے اچھائی کے بھیڑیے کو زندہ کروں گی۔۔۔۔۔ یہ آسان نہیں ہے مگر نا ممکن بھی نہیں ہے۔۔۔۔” وہ پختہ ارادہ بناتے کھڑی ہوگئی۔
“میری جگہ کوئی اور ہوتی تو اس کا ایسا ماضی جاننے کے بعد اسے مڑ کر بھی نہ دیکھتی۔۔۔۔۔ پر میرے دل میں اب بھی اس کے لیے محبت برقرار ہے۔۔۔۔۔ کیونکہ یہ محبت پاک ہے۔۔۔۔ اللہ نے مجھے چنا ہے اس کے لیے۔۔۔۔۔ اب یہ میری ذمہ داری ہے کہ میں اسے اچھا انسان بناوں۔۔۔۔۔۔ ہر انسان کو اپنے آپ کو سدھارنے کا ایک موقع تو ملنا چاہیئے۔۔۔۔۔” وہ ایک امید بھری آہ بھرتے ہوئے اٹھی اور گیٹ کے جانب بڑھ گئی۔
“ناشتہ تو کر لو۔۔۔۔۔” مام نے کچن سے آواز دی۔
“تھینکیو مام۔۔۔۔۔ لو یو۔۔۔۔” وہ واپس آئی اور ان کے ہاتھ سے فرینچ ٹوسٹ اور املیٹ لیں کر لنچ باکس میں ڈال کر اپنے ساتھ لے گئی۔
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
جس وقت وہ دونوں سینٹر پہنچے امام صاحب کا لیکچر شروع ہوچکا تھا۔ وہ ہر جمعہ کو صبح 8 بجے دین اسلام کے الگ الگ فرائض پر سبق دیا کرتے تھے۔
وہ دونوں خاموشی سے آخری کے قطار میں آکر بیٹھ گئے۔ ایک گھنٹہ تک ان کا درس سننے کے بعد ارحام امام صاحب سے ملنے چلا گیا۔
Good to see you again irhaam….. how are you doing….
انہوں نے ارحام کا ہاتھ تھامے شدت سے جنبش دیتے مصافحہ کیا۔ ارحام ان کا یہ خلوص دیکھ کر بہت خوش ہوا۔
“حدیل نہیں آئی۔۔۔۔۔” اسے اکیلے دیکھ کر امام صاحب نے حیرت سے سوال کیا۔
“جی وہ آپ کی مسز کے پاس ہے۔۔۔۔۔” اس نے قدرے جھجکتے ہوئے جواب دیا۔ اس کے لہجے میں نہ وہ مٹھاس تھا اور نہ ہی زبان میں وہ نرمی۔ اسے ان سے بات کرنے میں جھجک ہورہی تھی۔
“اوو آئی سی۔۔۔۔۔ سچ اے نائس گرل شی از۔۔۔۔۔ 10 سال کی تھی جب میری سٹوڈنٹ بنی۔۔۔۔۔ اس کے والد دین اسلام سے واپس پِھر گئے تھے اور اس کی مام نے ان سے طلاق لے لی تھی۔۔۔۔۔ شروع شروع میں وہ بہت چڑ چڑی رہتی۔۔۔۔۔ اپنے ڈیڈ کو بہت یاد کرتی تھی۔۔۔۔۔۔ پھر وقت کے ساتھ ساتھ اس کا اپنے باپ کو کھونے کا دکھ ختم ہوتا گیا۔۔۔۔۔ لیکن ماں اور باپ گاڑی کے دو پہیوں کی طرح ہے۔۔۔۔ ایک بھی پہیہ نہ رہے تو بچوں کے زندگی کا توازن بگڑ جاتا ہے۔۔۔۔۔۔ اللہ حدیل کو اپنے حفظ و امان میں رکھے۔۔۔۔ ” انہوں نے حدیل کے ڈیڈ پر افسوس کرتے ہوئے وضاحت پیش کی۔
ارحام چند لمحے انہیں دیکھتا رہا۔ پھر ان کے آفس کیبن کے جانب بڑھ گیا۔ آفس کے اندر وہ معذور عمر رسیدہ خاتون آج بھی کھڑکی کے پاس ویل چیئر پر بیٹھی تھی۔ ارحام ان کے پاس آیا اور دو زانو ہو کر ان کے جھریوں بھرے چہرے کو دیکھنے لگا۔ ایک سکون سا تھا ان کے چہرے پر جو ارحام کو اطمنان بخش رہا تھا۔
“اووو۔۔۔۔ کیا انہیں کچھ چاہیئے تھا۔۔۔۔۔” امام صاحب نے ارحام کو اپنی ماں کے پاس بیٹھے دیکھ کر پوچھا تو ارحام نے نفی میں سر ہلا دیا۔
“کب سے ایسی ہے یہ۔۔۔۔۔” وہ امام صاحب کے سامنے آکر بیٹھ گیا۔
“میں 35 سال کا تھا۔۔۔۔۔جب انہیں برین اسٹروک ہوگیا۔۔۔۔۔۔ تب مجھے ارب عمارات سے اسکالر بننے کی آفر ہوئی تھی۔۔۔۔ سب نے مجھے کہا انہیں اولڈ ایج ہاوس میں دیں کر اپنی فیملی لیئے چلا جاؤں۔۔۔۔۔ ایسا موقع بار بار نہیں آتا۔۔۔۔” 55 سالہ امام صاحب نےمسکراتے ہوئے اپنی ماں کو دیکھا۔
“پر میں سوچتا ہوں وہ اولاد بہت ہی بد بخت ہے جو بوڑھے ماں باپ کو خود پر بوجھ سمجھ کر اولڈ ایج ہاوس بھیج دیتے ہیں۔۔۔۔ جب ہم چھوٹے تھے ان پر انحصار کرتے تھے ان کے پاس بھی اپنا کیریئر بنانے ایسے کئی مواقع آئیں ہونگے۔۔۔۔ تب کیا انہوں نے ہمیں کسی اور کو دیا تھا۔۔۔۔۔ تو اب جب انہیں ہماری ضرورت ہے۔۔۔۔۔ یہ ہمارے محتاج ہے۔۔۔۔۔ ہم ان سے منہ کیوں پھیر لیں۔۔۔۔۔ ماں اور باپ تو وہ ہنستی ہے۔۔۔۔۔ جن کو مسکرا کر دیکھنے پر بھی ثواب ملتا ہے۔۔۔۔ یہ تو اللہ کے تخلیق کردہ رشتوں میں سے سب سے عظیم رشتہ ہے۔۔۔۔۔” ان کا لہجہ نرم اور سحر کن تھا۔
“میں یہاں آتے روز ان سے گھر پر رک کر آرام کرنے کا کہتا ہوں۔۔۔۔ لیکن ان کا کہنا ہوتا ہے۔۔۔۔ انہیں آرام مجھے دیکھ کر ملتا ہے۔۔۔۔ اور بضد میرے ساتھ آجاتی ہے۔۔۔۔ سارا وقت مجھے دیکھتی رہتی ہے۔۔۔۔ بس یہی ان کی زندگی ہے۔۔۔۔” انہوں نے مسکرا کر سر جھٹکا۔
ارحام کی آنکھیں ڈبڈبا گئی تھی۔ اسے یاد آیا اس کے پیدائش کے بعد کرن نے اپنی سوشل ایکٹیوسٹ کی جاب سے استعفی دے دیا تھا اور جب وہ 10 سال کا ہوا اس نے اپنے لکھاری کا کام بھی ترک کر دیا تاکہ اپنے بچوں کو وقت دے سکے۔ عائرہ تو پھر بھی مما اور ڈیڈ کی فرمانبردار تھی لیکن اس نے کیا کیا تھا۔ سوائے دکھ تکلیف اور رسوائی کے کیا دیا تھا۔
“میں حدیل کو دیکھ کر آتا ہوں۔۔۔۔ پتہ نہیں اتنی دیر کہاں رہ گئی۔۔۔۔۔” وہ امام صاحب سے معذرت کرتا اٹھ گیا۔
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
“اچھا لگا نا۔۔۔۔۔۔ اگلے جمعہ پھر آئیں گے۔۔۔۔۔ ” حدیل نے ٹوسٹ کھاتے ہوئے پیشکش کی۔
وہ دونوں ہالف ٹائم بریک کے دوران کیفٹیریا میں بیٹھے حدیل کا لایا ناشتہ کر رہے تھے۔
“حدیل۔۔۔۔۔ تمہیں اب بھی اپنے ڈیڈ یاد آتے ہیں۔۔۔۔۔” ارحام نے نرم لہجے میں پوچھا۔ وہ نہیں چاہتا تھا کہ حدیل کا دل دکھ جائے۔
“ہممممم کبھی کبھی۔۔۔۔۔” اس نے عام انداز میں سر کو جنبش دیا۔
“ملنے کا دل نہیں کرتا۔۔۔۔” سوال تجسس بھرا ہوا۔
“کرتا ہے۔۔۔۔ خاص کر جب کسی کمپلیٹ فیملی کو دیکھتی ہوں۔۔۔۔ تب بہت دل کرتا ہے میری بھی ایسی فیملی ہوتی۔۔۔۔۔ ایک دو اور بھائی یا بہن ہوتے۔۔۔۔۔ لیکن پھر سوچتی ہوں۔۔۔۔ شاید اسی میں میرے لیے خیر ہو۔۔۔۔۔” وہ نیپکن کو ہونٹوں پر تھپتھپا کر مسکرائی۔
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
اس رات ارحام کو اپنی فیملی کی بہت شدت سے یاد آرہی تھی۔ خاص کر مما کی۔ وہ سوتے سوتے اٹھ جاتا۔ دل میں بہت بے چینی ہورہی تھی۔
انسان کو اپنے بے بس ہونے کا اندازہ تب ہوتا ہے جب وہ کسی دل عزیز دیکھنے کے لیے ترس جائے۔
آخر کار بے بسی سے اٹھ کر اس نے موبائل فون اٹھایا اور مما کا موبائل نمبر ڈائل کیا۔ ایک وہی نمبر اسے زبانی آتا تھا۔
“ہیلو۔۔۔۔۔۔ ہیلو۔۔۔۔ کون ہے۔۔۔۔۔” پاکستان میں اس وقت آدھی رات کے دو بج رہے تھے۔ کرن نے عنودگی میں کال اٹھائی پر کوئی بول نہیں رہا تھا۔
وہی دوسری جانب ارحام لب سختی سے مینچھے اتنے عرصے بعد مما کی آواز سن کر اپنے جذبات پر قابو رکھنے کی ناکام کوشش کرتا رہا۔ اس کے اضطراب میں اضافہ ہونے لگا تو اس نے بنا کچھ کہے کال کاٹ دی اور آنکھیں بند کر کے لمبی سانس لیتے ہوئے خود کو نارمل کرنے لگا۔
دوسرے طرف کرن کو کچھ کھٹکا۔ وہ اپنے بیٹے کی خاموشی بھی پہچان گئی تھی۔ اس نے کال لاگ سے اس نمبر کو واپس ملانا چاہا پر وہاں محض کوئی کوڈ درج آرہا تھا۔ وہ ننگے پیر فرش پر بھاگتی رانا صاحب کے کمرے میں در آئی اور ان کا کندھا جھنجوڑ کر جگایا۔
“کرن سب خیریت ہے۔۔۔۔” رانا صاحب اٹھ بیٹھے اور کرن کو تھام کر اپنے پاس بیٹھایا۔ انہیں کرن اپنے حواس میں نہ لگی۔
“رانا صاحب۔۔۔۔۔ مجھے ابھی کال آئی تھی۔۔۔۔۔۔۔ ارحام نے مجھے کال کی تھی۔۔۔۔ میرے بیٹے نے مجھے کال کی۔۔۔۔۔” اس نے جذباتی ہوتے خوشی سے چہکتے انہیں خبر دی۔
“تم نے کوئی خواب دیکھا ہوگا۔۔۔۔” رانا صاحب اس کے کھلے کھلے چہرے کو دیکھنے لگے۔ ارحام کے صرف ایک فون کال سے وہ اتنا کھل گئی تھی۔
“نہیں میں سچ کہہ رہی ہوں۔۔۔۔۔ کال آئی تھی اور ارحام کی تھی۔۔۔۔۔ میرا دل کہہ رہا ہے وہ ارحام ہی تھا۔۔۔۔” اس نے نفی میں سر ہلاتے اپنا موبائل رانا صاحب کو دکھایا۔
رانا صاحب نے موبائل لے کر دس منٹ پہلے آئے نمبر پر کال ملائی لیکن رنگ نہیں جا رہی تھی۔
“یہ تو کوئی نمبر ہی نہیں ہے۔۔۔۔۔ رنگ بھی نہیں جا رہی اس پر۔۔۔۔۔” رانا صاحب نے مایوسی سے کرن کے جانب دیکھا۔ اس کا چہرہ پھر سے مڑجھا گیا تھا۔
اس نے اداس ہوتے رانا صاحب کے کندھے پر سر رکھ دیا۔ چند لمحے کی خوشی پھر سے خاموشی اختیار کر گئی تھی۔ انہوں نے کرن کو دلاسہ دینے اس کے گرد بازو مائل کر دیئے۔
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
دو سے تین جمعہ باقاعدگی وہ امام داود کا درس سننے جاتا رہا تھا اور اس کے رویے میں بہت مثبت بدلاو بھی آگیا تھا جب ایک دن اس نے ریمو کو حدیل کے ساتھ دیکھ لیا۔ وہ کالج چھٹی کے وقت ارحام کی منتظر کھڑی تھی۔
“تم تو مجھ سے بات ہی مت کرو۔۔۔۔ مجھے پتہ لگ گیا ہے۔۔۔۔۔ میری برتھ ڈے پارٹی میں ارحام کے ڈرنک میں تم نے کچھ ملایا تھا نا۔۔۔۔۔” حدیل ہاتھ سینے پہ باندھے اسے جھڑک رہی تھی۔
“سو واٹ۔۔۔۔۔ تم اس پر اتنا لٹو کیوں ہو۔۔۔۔۔ ایسا کیا ہے اس میں جو مجھ میں نہیں ہے۔۔۔۔۔” ریمو نے ارحام کا مزاق اڑاتے ہوئے اپنے آپ کے جانب اشارہ کیا۔
“تمہں اس سے مسئلہ کیا ہے۔۔۔۔۔ مت تنگ کرو اسے۔۔۔۔۔” حدیل نے قدرے درشتی ہے کہا۔
“کیا ہے وہ میرے سامنے۔۔۔۔۔ میں چاہوں تو اسے ایک منٹ میں واپس ڈی پورٹ کروا سکتا ہوں۔۔۔۔۔ وہ تو تمہارا لحاظ کرتے کوئی ایکشن نہیں لیتا۔۔۔۔” غرور سے اپنا کالر اچکاتے ہوئے کہا۔
“تم ایسا نہیں کرو گے۔۔۔۔۔” حدیل کا دل دہل گیا۔
“میرے ڈیڈ کی پاکستان ایمبیسی میں بہت پہچان ہے۔۔۔۔۔ میرے ایک شکایت پر وہ تمہارے lover کو اٹھا کر پاکستان پٹخ دینگے۔۔۔۔۔۔ اور اگر تم نہیں چاہتی میں اسے ڈی پورٹ نا کرواوں۔۔۔۔۔ تو تمہیں مجھ سے اچھے سے پیش آنا ہوگا۔۔۔۔ میری ہر بات ماننی ہوگی۔۔۔۔” وہ حکم صادر کرتا گردن اکھڑا کر بولا اور آنکھ مارتے ہوئے حدیل کے کندھے پر ہاتھ رکھ دیا۔
حدیل دوہری کیفیت کا شکار ہورہی تھی۔ وہ اس معاملے کو نرمی سے سلجھانے کی کوشش کر رہی تھی جب ارحام تیزی سے آیا اور ریمو پر جھڑپ پڑا۔
How dare you touched her……
بپھرے شیر کے مانند وہ غرایا اور ریمو کو مارنے لگا۔ حدیل کی آنکھیں کھلی رہ گئی۔ اسے وہاں در پیش حالت کو سمجھنے میں چند ثانیے لگے۔ وہ ارحام کو پکارتی اسے روکنے کی کوشش کرنے لگی۔ ان کا ایک اور دوست، جس سے ارحام کی بھی اچھی دوستی تھی وہ بھاگتا ہوا آگے آیا اور ارحام کو بازووں میں جکڑ کر ریمو سے دور کیا۔
“کیوں لڑ رہے ہو۔۔۔۔۔۔ کیا ہوگیا ہے۔۔۔۔۔” حدیل اس کے سامنے آکر اونچی آواز میں پوچھ رہی تھی۔
“ہاتھ کیوں رکھا تھا اس نے۔۔۔۔۔” وہ ریمو کے جانب اشارہ کرتے دھاڑا۔
“جو مجھے ٹچ کرے گا تم اسے مارو گے۔۔۔۔” اس نے شکوہ کن انداز میں سوال کیا۔
“ہاں ماروں گا۔۔۔۔۔ اور ایسے راسکل کو تو جان سے مار دوں گا۔۔۔۔” ارحام دہشت سے سرخ ہوتے پھر سے ریمو کے جانب زور لگانے لگا۔ حدیل کے آبرو پھیل گئے۔
محبت میں اتنا شدت پسند ہونا تو بنتا ہے کہ جو آپ کا ہو، وہ کسی اور کا نہ ہو اور ارحام کے تو خون میں یہ صفت شامل تھی۔
“ارحام۔۔۔۔ چلو یہاں سے۔۔۔۔۔ let’s go۔۔۔۔۔ ” وہ اس کا بازو پکڑے اسے ساتھ لے جانے لگی۔
“دیکھ لوں گا تجھے۔۔۔۔۔۔ اب میں بتاتا ہوں۔۔۔۔۔ کتنی بڑی غلطی کر دی ہے تم نے مجھ پر ہاتھ اٹھا کر۔۔۔۔۔۔” ریمو نے زمین سے اٹھ کر اپنے کپڑے جھاڑتے ہوئے زہر خند لہجے میں صدا لگائی۔
“ارحام پلیز نووو۔۔۔۔۔۔ میری خاطر۔۔۔۔۔ پلیززز۔۔۔۔۔” ارحام نے اسے رد و بد کہتے دوبارہ جھڑپ کرنا چاہی لیکن حدیل اس کی منت کرنے لگی۔
حدیل کو لگا تھا امام صاحب کے اسباق سے اس نے کچھ نا کچھ سیکھا ہے وہ بدل گیا ہے لیکن آج اس کا یہ روپ دوبارہ دیکھ کر اسے اپنی محنت پانی میں ملتی نظر آرہی تھی۔
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
“یہ تم نے ٹھیک نہیں کیا ارحام۔۔۔۔۔” حدیل ایک ہاتھ کمر پر رکھے اور ایک ہاتھ سے سر پکڑے دائیں سے بائیں چکر کاٹ رہی تھی۔
ارحام اس کے گھر کے لاؤنج میں میمونہ آنٹی سے ساتھ بیٹھا تھا۔
“اب تو وہ چپ نہیں رہے گا۔۔۔۔۔ اس نے مجھ سے پہلے ہی کہا تھا۔۔۔۔۔ وہ تمہیں ڈی پورٹ کروا دے گا۔۔۔۔ ” وہ لب کاٹنے لگی۔
“کچھ نہیں کر سکتا وہ۔۔۔۔” اس نے لمبی سانس لیتے سرد مہری سے کہا۔
“وہ کر سکتا ہے۔۔۔۔۔ اس کے ڈیڈ پیرس کے بہت بڑے جانے مانے بزنس مین ہے۔۔۔۔۔” حدیل اسے سمجھانے کی کوشش کرنے لگی۔ ارحام نے استحزیہ مسکرا کر ہونہہ کرتے سر جھٹکا۔
“اس سے پہلے وہ ایمبیسی کو خبر کر دے۔۔۔۔۔ تمہیں ابھی مجھ سے شادی کرنی ہوگی۔۔۔۔۔” وہ ایک راہ حل نکالتے ہوئے بولی۔
“واٹ۔۔۔۔۔۔ “ارحام کھڑا ہو گیا۔
” ٹرائی ٹو انڈرسٹینڈ۔۔۔۔۔۔ تمہیں یہاں کی کسی شہری سے شادی کر کے لیگل ڈاکیومینٹس چاہیئے۔۔۔۔۔۔ وہ بھی جلد از جلد۔۔۔۔۔” حدیل نے اس کا بازو پکڑے جھنجوڑا۔
“میں تم سے کسی صورت شادی نہیں کروں گا۔۔۔۔۔ ” وہ اپنا بازو چھڑا کر دو قدم آگے ہوگیا۔
حدیل کا ہاتھ ہوا میں معلق رہ گیا۔ اسے ارحام کے الفاظ دل میں اتارنے میں وقت لگا۔
“صرف یہاں کی شہریت پانے تک۔۔۔۔۔ فیک شادی ہی کر لو۔۔۔۔۔ ورنہ تمہیں ڈی پورٹ کر دینگے۔۔۔۔” حدیل کے چہرے پر مایوسی چھا گئی۔
“چاہے مجھے ڈی پورٹ ہی کیوں نہ کر دیں۔۔۔۔ پر میں ریئل یا فیک کسی بھی طرح تمہیں خود سے نہیں جوڑ سکتا۔۔۔۔”وہ اپنی بات پر اڑا رہا۔
“ارحام۔۔۔۔ یہ وقت ضد کرنے کا نہیں ہے۔۔۔۔ مام آپ سمجھاو نا اسے۔۔۔۔۔” وہ جذباتی ہونے لگی۔ اس نے مام کے جانب رخ کیا۔ وہ بھی پریشان سی کھڑی رہی۔
“ٹھیک ہے۔۔۔۔ میں سیم سے فیک شادی کر لوں گا۔۔۔۔۔ پر تم سے نہیں۔۔۔۔” ایک اور لفظوں کا وار کیا گیا۔
حدیل کا دماغ مفلوج ہونے لگا۔ کتنی آسانی سے وہ کسی اور کو اپنی زندگی میں شامل کرنے تیار تھا پر اسے نہیں۔
“سیم کو معاملہ سمجھانے میں وقت لگے گا اور ہمارے پاس اتنا وقت نہیں ہے۔۔۔۔۔۔ تم اپنی مرضی سے نہیں مان رہے تو زبردستی ہی سہی۔۔۔۔۔ میری اور تمہاری آج ہی شادی ہوگی۔۔۔۔ چاہے فیک ہو یا ریئل۔۔۔۔۔۔ میں وکیل انکل کو کال کرتی ہوں۔۔۔۔۔” اس نے ہاتھ اٹھا کر اعلانیہ صورت فیصلہ سنایا اور اپنے روم کے جانب بھاگ گئی۔
ارحام کمر پر ہاتھ رکھے پیج و تاب کھاتا رہ گیا۔
“ویسے وہ ٹھیک تو کہہ رہی ہے۔۔۔۔۔ تم اس کی بات مان کیوں نہیں لیتے۔۔۔۔” میمونہ آنٹی نے ہمدردی سے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔
“جانتا ہوں۔۔۔۔۔ پر میں اسے مزید اذیت نہیں دے سکتا۔۔۔۔ پہلے ہی میری محبت میں وہ روز کسی نا کسی تکلیف میں مبتلا ہوجاتی ہے۔۔۔۔۔ جھوٹ ہی صحیح پر وہ مجھ سے کسی بھی رشتے میں جڑ گئی۔۔۔۔۔ تو سوائے دکھ درد تکلیف کے اسے کچھ نہیں ملے گا۔۔۔۔۔ ابھی میرے چھوڑ جانے پر وہ پانچ دس دن روئے گی واویلا کرے گی۔۔۔۔ لیکن خود کو سنبھال لیں گی۔۔۔۔۔ مگر رشتہ جڑ گیا تو اس کی مجھ سے امیدیں وابستہ ہوجائیں گی۔۔۔۔۔۔ اور تب میرے چھوڑ جانے پر وہ ٹوٹ جائے گی۔۔۔۔۔ میں ایک مرتبہ پھر اسے اس اذیت سے دو چار نہیں کر سکتا جس میں وہ اپنے ڈیڈ سے دور ہونے پر ہوئی تھی۔۔۔۔” اپنے جذبات بیان کرتے ارحام کی آواز لرزنے لگی۔ تیز تیز بولنے سے اس کی سانس چڑھ گئی تھی۔
“ایک بات پوچھوں۔۔۔۔۔ سچ بتاو گے۔۔۔۔ آئی پرامس میں حدیل کو نہیں بتاوں گی۔۔۔۔۔
Do you love her…..
میمونہ آنٹی نے ترحم آمیز نگاہوں سے ارحام کو دیکھتے ہوئے سوال کیا۔
ارحام نے لب میچھے رخ ان کی جانب کیا اور ان کی آنکھوں میں دیکھتے معصومیت سے سر اثابت میں ہلایا۔
آنٹی کی آنکھیں بھیگنے لگی تھی۔ ان کی بیٹی کو تکالیف سے بچانے وہ جوان اپنی محبت دل میں دبا کر ساری اذیت اکیلے برداشت کرنے کو آمادہ تھا۔
انہوں نے ایک گہری سانس لی اور اس کا کندھا تھپتھپا کر حدیل کے کمرے کے جانب چلی گئی۔ ارحام کرب سے آنکھیں بند کر کے بہت سے جذبات کا اپنے اندر دفنانے لگا۔
“مام وکیل انکل کا کانٹیکٹ نمبر نہیں مل رہا۔۔۔۔۔ کہاں لکھا تھا آپ نے۔۔۔۔۔” اس نے دو سے تین ڈائری ٹٹول لی تھی اور اب بھی نمبر کے تلاش میں تھی جب مام کو اپنے کمرے میں داخل ہوتے دیکھ کر اس نے سوال کیا۔
مام نے اسے کندھوں سے تھام کر بیڈ پر بیٹھا اور خود اس کے ساتھ بیٹھ کر نفی میں سر ہلا دیا۔
“چھوڑ دو۔۔۔۔۔ وہ نہیں کرے گا تم سے شادی۔۔۔۔۔ وہ اپنے من کا مالک ہے۔۔۔۔۔ خود نا چاہے تو تم چاہے لاکھ کوشش کر لو۔۔۔۔۔۔ وہ نہیں مانے گا۔۔۔۔۔” مام نے اس کے چہرے کے گرد ہاتھوں کا پیالہ بناتے ہوئے کہا۔
“مام اسے روک لو۔۔۔۔۔ وہ چلا گیا تو میں جی نہیں سکوں گی۔۔۔۔ یو نو ہاو مچ آئی لو ہم۔۔۔۔۔۔ پلیزززز مام کچھ کرو۔۔۔۔۔ اسے ڈی پورٹ ہونے سے بچا لو۔۔۔۔۔۔ ڈو سم تھنگ۔۔۔۔۔” وہ زار و قطار روتی مام کے سینے سے لگ گئی۔
اپنی بیٹی کو یوں بکھرتا دیکھ کر میمونہ بیگم کے آنکھوں سے بھی آنسو جاری ہو گئے تھے۔ وہ نا تب اس کے ڈیڈ کو روک سکی تھی نا اب ارحام کو روک پا رہی تھی۔
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
پیرس میں سردیوں کا آغاز ہو چلا تھا۔ اسی کے ساتھ لوگوں نے گرم کپڑے زیب تن کرنا شروع کردیئے تھے۔
وہ جینز اور بلیو ہائی نیک پر بلیک لانگ کوٹ پہنے سر پر ترچی کیپ پہنے آئفل ٹاور کے سامنے کھڑا سر اونچا کر کے اس عجوبہ کو دیکھ رہا تھا۔
“سر۔۔۔۔۔۔ چلیں۔۔۔۔۔ ایمبیسی میں بلایا ہے۔۔۔۔۔” بہزاد نے اسے مخاطب کیا تو وہ پیچھے مڑا۔
وہ ہمم کر کے سر کو اثابت میں جنبش دیتے اس کے ہمراہ اگلے پڑاو پر روانہ ہوگیا۔
ایمبیسی کے اندر وہ دونوں داخل ہوئے تو ریمو اپنے ڈیڈ کے ہمراہ آفس میں بیٹھا بہزاد کے ایک اور ہم منصب سے فرینچ میں مہو گفتگو تھا۔ اس نے پاس میں سے گزرتے ہوئے ریمو کے زبانی ارحام کا نام سنا تو ٹھٹک گیا۔
“تم کیسے جانتے ہو اسے۔۔۔۔۔ کہاں ہے وہ۔۔۔۔۔۔ ” وہ الٹے قدم ان باپ بیٹھے کے پاس آیا اور ریمو کو کالر سے جکڑ کر تند لہجے میں پوچھا۔
“اس کے بارے میں حدیل فرانسیسکو اچھے سے بتا سکتی ہے۔۔۔۔۔” ریمو اس جوان کے آنکھوں میں ارحام کا نام سنتے دہشت در آتے دیکھ کر کنکارہ۔
“کون حدیل فرانسیسکو۔۔۔۔۔ ” اس نے حدیل کا نمبر اور گھر کا پتہ نوٹ کر کے بہزاد کو اشارہ کیا اور باہر کے جانب لپکا۔
“یہ کون تھا۔۔۔۔۔” ریمو نے سامنے بیٹھے آفسر سے پوچھا۔
“ارحام کا ریٹرن ٹکٹ۔۔۔۔۔ وہ دو دن سے زیادہ پیرس میں تو کیا یورپ میں بھی نظر نہیں آئے گا۔۔۔۔۔۔ آپ بے فکر رہیں۔۔۔۔” آفسر نے اسے ارحام کو واپس پاکستان بھیجنے کی یقین دہانی کروائی تو ریمو نے سکون کا سانس لیا اور ہونٹوں پر اطمینان بھری مسکراہٹ پھیل گئی تھی۔
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
“مس حدیل فرانسیسکو۔۔۔۔” بہزاد نے دروازے پر کھڑی 18 سالہ لڑکی سے فرینچ میں اس کا تعارف پوچھا۔
“یس۔۔۔۔۔۔ آپ کون۔۔۔۔” حدیل کو وہ دونوں مرد مشکوک لگے۔
“ہم پاکستان ایمبیسی سے ہیں۔۔۔۔۔۔ ارحام مبشر کہاں ہے۔۔۔۔” دو ٹوک انداز میں پوچھا گیا۔
حدیل کے آبرو پھیل گئے وہ خوفزدہ ہوگئی۔ اس نے دروازہ بند کرنا چاہا پر اس نوجوان نے اپنا پیر درز میں پھنسا دیا اور زور سے دھکہ دے کر دروازہ پورا کھول دیا۔ حدیل چیخ مارتی پیچھے ہوگئی۔
Don’t try to be smart with me miss hadeel….
وہ اندر آتے ہوئے پھنکارہ۔
“میں تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچاوں گا۔۔۔۔ بس مجھے ارحام کا پتہ دے دو۔۔۔۔۔” وہ آگے آتا گیا۔ حدیل کا دل دہل گیا وہ پیچھے ہوتے ہوتے دیوار سے لگ گئی۔
“آپ اسے کوئی نقصان تو نہیں پہنچاو گے۔۔۔۔۔” حدیل نے فکرمندی سے پوچھا۔
“بلکل نہیں۔۔۔۔۔”اس نے شیطانی مسکراتے آبرو اٹھائے سر نفی میں ہلایا۔
اس کے اردو سے آشنا ہونے سے بے خبر وہ دونوں انگلش میں گفتگو کر رہے تھے۔
“پر اگر تم نہیں بتاو گی تب اسے ضرور تکلیف پہنچے گی۔۔۔۔۔ اب اچھی بچی بنو۔۔۔۔ اور اس سے پوچھو اس وقت کہاں ہے۔۔۔۔” وہ اس کا راستہ چھوڑتے سامنے سے ہٹا پر اس کی نظریں مسلسل حدیل کے حرکات مشاہدہ کرنے لگی تھی۔
“ٹرسٹ آس مس حدیل۔۔۔۔۔۔ ہم ارحام کے ساتھ پورا تعاون کریں گے۔۔۔۔۔” بہزاد نے اسے قائل کرنے کی کوشش کی۔
“میں کیسے یقین کر لوں۔۔۔۔۔۔ جب تک مجھے پروف نہیں مل جائے۔۔۔۔۔ میں کچھ نہیں بتاو گی۔۔۔۔” وہ اپنے اعتماد میں واپس آگئی تھی۔
اس نے افففف کرتے لمبی سانس لی اور اپنا موبائل نکال کر کچھ تصاویر حدیل کو دکھائے۔
“اس سے زیادہ پروف چاہیئے۔۔۔۔۔” اسے طیش آنے لگا تھا۔لیکن وہ کسی صنف نازک سے بد تمیزی نہیں کرنا چاہتا تھا۔
وہ تصاویر دیکھ کر حدیل ساکت ہوگئی تھی۔ اس نے بے دلی سے موبائل اٹھایا اور میسج ٹائپ کیا۔ جواب موصول ہوتے اس سے پہلے حدیل پڑھتی اس نے حدیل کے ہاتھ سے موبائل چھپٹا اور خود میسج کا ریپلائے پڑھا۔
“میں ساتھ چلوں گی۔۔۔۔” حدیل نے اپنا موبائل واپس لیا اور ان سے پہلے گھر سے باہر نکل گئی۔ وہ کسی صورت ارحام کو اکیلے خطرے میں نہیں ڈال سکتی تھی۔
اس کے سر زوری پر وہ تپ کر رہ گیا لیکن مجبورا اسے ساتھ لیں جانے پر راضی ہوگیا۔
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
ارحام پل پر چہل قدمی کرتے حدیل کا منتظر تھا جب اسے اپنے پیچھے قدم بہ قدم ملا کر کسی کا چلنا محسوس ہوا۔ وہ الرٹ ہوگیا اور احتیاطاً مڑا ہی تھا کہ اس کے گال پر زوردار ضرب لگی۔ وہ ایک جانب ڈھلک گیا۔
حدیل کی سانس رک گئی اس نے بہزاد کو دیکھا پر وہ ہاتھ سینے پر باندھے سپاٹ تاثرات بنائے سامنے دیکھ رہا تھا۔
ارحام کو شاک لگا۔ وہ آنکھیں بڑی کر کے سیدھا ہوا کہ ایک اور اتنا ہی زوردار گھونسہ دوسرے گال پر پڑا۔ ارحام کے عصاب تن گئے اور حدیل نے اپنی چیخ روکنے منہ پر ہاتھ رکھ دیئے۔
اس کی آنکھوں میں دہشت در آئی تھی۔ وہ جوابی وار کرنے ہاتھ ہوا میں بلند کر کے مڑا کہ ٹھٹک گیا۔ اس کے پیر منجمد ہوگئے۔ ہاتھ ہوا میں معلق رہ گیا۔ کچھ پل وہ سانس لینا ہی بھول گیا تھا۔ وہ پھٹی نظروں سے سامنے کھڑے سراپے کو دیکھنے لگا۔
سفیان نے ترچی کیپ ہٹائی اور گردن اکھڑا کر اسے دیکھا۔ ارحام کا رنگ زرد پڑنے لگا تھا اور سفیان کا سرخ۔ وہ دانت پر دانت جمائے ہوئے ایک اور ضرب لگانے آگے بڑھا۔ ارحام اپنی جگہ بنا ردعمل اس کا ضرب کھانے کو ساکت کھڑا رہا۔
“نووو پلیززززز۔۔۔۔۔۔” حدیل کی چیختی آواز سفیان کے سماعتوں میں پڑی۔
وہ اسے ارحام کو مارنے سے روکنے لگی۔ سفیان کا مٹھی بنا ہاتھ پہلو میں جا گرا۔ اس نے ایک کٹیلی نظر حدیل کو دیکھا۔ اس کی سبز آنکھوں میں آنسو آگئے تھے۔
“سالے میں تجھے پورے پاکستان میں ڈھونڈ رہا ہوں۔۔۔۔۔ اور تو یہاں عیاشی کر رہا ہے۔۔۔۔۔۔۔” سفیان نے غراتے ہوئے ارحام کے سینے پر دھکہ دے مارا وہ دو قدم پیچھے لڑکھڑا گیا۔
“دل تو کر رہا ہے تیرا منہ توڑ دوں سالے۔۔۔۔۔۔” غصہ اپنی جگہ برقرار تھا۔
“گالی نہیں دینا۔۔۔۔” ارحام نے ڈرتے ہوئے اسے ٹوکا۔
“گالی نہیں دے رہا۔۔۔۔۔ جیجا سالے والا سالا بول رہا ہوں۔۔۔۔۔ ایڈیٹ۔۔۔۔۔” اس نے ارحام کے شرٹ کا کالر کھینچ کر اسے اپنے سینے میں بھینچ لیا۔
سفیان کے گلے لگتے ارحام کی دھڑکن تیز ہوگئی تھی۔ وہ لمس وہ خوشبو وہ احساس۔ اپنے خون کا وہ جوش اسے موم کر رہا تھا۔ اسے سفیان کے لمس سے، اس کے انگ انگ سے اپنے ڈیڈ مما اور عائرہ کا لمس محسوس ہورہا تھا۔ اس نے آنکھیں سختی سے مینچھے سفیان کے گرد حصار کو مضبوط کر دیا۔ اس کا دل کیا وہ بچوں کی طرح پھوٹ پھوٹ کر روئے۔
خونی رشتوں کی یہی مجبوری ہوتی ہے کہ انہیں ایک دوسرے کو معاف کرنا ہی ہوتا ہے۔ سفیان بھی ارحام پر لاکھ غصہ سہی پر اسے اپنے سینے سے لگائے وہ اس وقت اس کے سات خون بھی معاف کرنے کو تیار تھا۔
“کیسا ہے۔۔۔۔۔۔ بہت بڑا ہوگیا ہے ہاااا۔۔۔۔۔ باڈی بلڈر بن گیا ہے۔۔۔۔” اس نے ارحام کے مضبوط بازو کو چھو کر سر تا پیر اسے دیکھتے خود سے الگ کیا۔
ارحام نے پھیکا مسکرا کر پلکیں جھپکا کر گیلی سانس اندر کھینچی۔
“آپ کیسے ہو۔۔۔۔۔ گھر پر سب کیسے ہیں۔۔۔۔۔ عائرہ۔۔۔۔ مما۔۔۔ باقی سب۔۔۔۔ اور۔۔۔۔۔۔ ڈیڈ۔۔۔۔۔۔” ڈیڈ کے متعلق پوچھتے اس کا چہرہ اتر گیا تھا۔
“آو بیٹھو۔۔۔۔۔” سفیان نے اس کے گرد بازو مائل کیا اور ساتھ لیئے ایک بینچ پر آکر بیٹھ گیا۔
“سب ٹھیک ہے۔۔۔۔۔ بس تمہیں بہت یاد کرتے ہیں۔۔۔۔ چلو گھر چلتے ہیں۔۔۔۔۔” اس نے نرمی سے سمجھاتے ہوئے اس کے ہاتھ تھام لیئے۔ ارحام بد مزہ ہوگیا۔
“نہیں۔۔۔۔۔ میں نہیں آسکتا۔۔۔۔ میں کس منہ سے گھر جاوں۔۔۔۔ کتنا ہرٹ کیا ہے میں نے مما کو۔۔۔۔۔۔ کتنی تکلیف پہنچائی ہے ڈیڈ کو۔۔۔۔ مجھ میں ان کے سامنے جانے کی ہمت نہیں ہے۔۔۔۔۔” وہ مایوسی سے سر جھکا گیا۔ وہ سفیان کو اپنی آنکھوں میں امڑتی تکلیف نہیں دکھانا چاہتا تھا۔
بہزاد واپس ایمبیسی چلا گیا تھا اور حدیل خاموشی سے ان کی گفتگو سنتی رہی۔
“ماں باپ اپنے اولاد سے بہت پیار کرتے ہیں۔۔۔۔ تم ایک دفعہ سچے دل سے بڑے پاپا اور مما کو گلے لگا کر ان سے معافی مانگو۔۔۔۔۔۔ دیکھنا وہ کتنے خوش ہوتے ہیں۔۔۔۔” سفیان نے ایک نئی امید جگائی۔ ارحام اب بھی قائل نہیں ہوسکا تھا وہ نفی میں سر ہلاتے اضطراب میں مبتلا ہوگیا تھا۔
“تجھے پتا ہے۔۔۔۔۔۔ تیرے پیچھے کیا کچھ ہوگیا ہے۔۔۔۔۔ رانا ہاوس دو حصوں میں تقسیم ہو کر رہ گیا ہے۔۔۔۔۔ باپ بیٹے جیسے دو بھائی الگ ہوگئے ہیں۔۔۔۔۔ محبت کا مثالی جوڑا، بڑے پاپا اور مما میں دوریاں آگئی ہیں۔۔۔۔۔ ذیش کو بزنس میں کتنا لاس ہوگیا تھا۔۔۔۔۔ زی کی شادی خطرے میں پڑ گئی تھی۔۔۔۔ میرا اور عائرہ کا رشتہ ٹوٹنے کے موڑ پر آگیا تھا۔۔۔۔۔۔ اور بڑے پاپا۔۔۔۔” سفیان سانس لینے رکا۔
“کیا ہوا تھا ڈیڈ کو۔۔۔۔۔” ارحام کا دل دہل گیا۔ اس پر مانو آسمان ٹوٹ پڑا تھا۔
“ہارٹ اٹیک ہوا تھا انہیں۔۔۔۔ ” اس نے افسوس کرتے ہوئے کہا۔ سفیان افق میں دیکھتے گویا ہوا۔
ارحام کا جسم مفلوج ہونے لگا۔ کیا زندگی کے امتحانات ابھی باقی ہے۔ کیا اس کی اس سے بد تر آزمائش ابھی رہتی ہے۔
(ماضی)
ارحام کو گھر چھوڑے ابھی دو دن ہی ہوئے تھے۔ کرن کی خفگی اب بھی برقرار تھی۔ رانا صاحب کو اس کا یہ رویہ کھٹکتا تھا اس لیے انہوں نے روحان اور ذیشان کے ساتھ پھر سے آفس جوائن کر لیا تھا۔
ابھی وہ آفس کے احاطے میں داخل ہوئے تھے کہ ان کی کار پر میڈیا رپورٹرز کا حملہ ہوا۔ رانا صاحب سمیت روحان اور ذیشان بھی حیران رہ گئے۔
سیکیورٹی گارڈز دھکم پیل کرتے رپورٹرز کے جھمکٹے کو کار سے دور کرنے لگے۔ لیکن وہ کسی صورت ان کو راستہ نہیں دیں رہے تھے۔
ابھی رانا صاحب کار سے اترے تھے کہ میڈیا والوں نے انہیں اپنے گھیرے میں لے لیا۔
“ہمارے ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ آپ کے ٹین ایج بیٹے نے بے دردی سے ایک معصوم بچی کا ریپ کیا ہے۔۔۔۔۔” ایک میڈیا رپورٹر نے سوالوں کی بھرمار کر دی۔
رانا صاحب کے آبرو پھیل گئے۔
“غلط سنا ہے۔۔۔۔۔ میرے بیٹے نے کسی کا ریپ نہیں کیا۔۔۔” وہ درشتی سے کہتے آگے بڑھنے کی کوشش کرنے لگے۔ روحان اور ذیشان بھی انہیں رانا صاحب سے پیچھے کرنے لگے۔
“ثبوت کیا ہے آپ کے پاس۔۔۔۔۔۔” دوسرا سوال اچھالا گیا
“کیا ایک باپ کی گواہی کافی نہیں ہے۔۔۔۔” رانا صاحب کو غصہ آنے لگا۔
“اگر ایسا ہے تو کہاں ہے آپ کا بیٹا۔۔۔۔۔ سامنے کیوں نہیں آتا۔۔۔۔۔ اور اس لڑکی کو کہاں چھپا دیا ہے۔۔۔۔۔” دوسرا سوال بھی اسی بے رحمی سے کیا گیا۔
“نو کمنٹس۔۔۔۔۔ ” وہ ان کو مزید جواب دینے دے گریز کرنے لگے۔
“یہ کیا کہیں گے۔۔۔۔۔ ان کے پاس کچھ ہوگا تو کہے گے نا۔۔۔۔۔ بیٹا تو ناک کٹوا کر بھاگ گیا ہے۔۔۔۔۔ ” ایک رپورٹر نے ان پر جملہ کسا۔
“ضرور اس لڑکی اور اس کی فیملی کو بھی انہوں نے اپنے پاور سے دبا کر کہی بھیج دیا ہوگا۔۔۔۔۔۔” دوسرے رپورٹر نے اپنے حصے کا اضافہ کیا۔
رانا صاحب، بھائی اور بھتیجے کے حفاطتی بند میں تیز تیز چلتے آفس عمارت کے اندر داخل ہوئے۔
“جو خود ظالم اور حاکم رہا ہو۔۔۔۔۔ ان کا بیٹا نشئی اور ریپسٹ (rapist) ہی ہوگا۔۔۔۔۔ نہیں چلے گی نہیں چلے گی۔۔۔۔۔ امیروں کی سر زوری نہیں چلے گی۔۔۔۔ غریبوں کو انصاف چاہیئے۔۔۔۔۔۔” رپورٹرز آفس کے باہر احتجاجی مظاہرہ کرنے لگے۔
اپنے بیٹے کے لیے نشئی اور ریپسٹ جیسے الفاظ سن کر رانا صاحب کا سر چکرانے لگا۔ بار بار ان رپورٹرز کے زہر خند الفاظ ان کے سماعتوں میں گردش کرنے لگے۔ انہوں نے گرنے سے بچنے دیوار کا سہارا لیا۔
“اٹھا کر باہر پھینکو ان سب کو۔۔۔۔۔۔ جلد از جلد مجھے یہ سب یہاں سے چلتے دکھنے چاہیئے۔۔۔۔۔” روحان اونچی آواز میں مینیجر اور سیکیورٹی گارڈ کو ڈانٹ لگا رہا تھا۔ اس کے ساتھ کھڑے ذیشان نے جب رانا صاحب کی حالت غیر ہوتی دیکھتی تو حواس باختہ سا ان کے جانب لپکا۔
“بڑے پاپا۔۔۔۔۔ آر یو اوکے۔۔۔۔۔” اس نے ان کا بازو اپنے گردن کے گرد مائل کیا اور انہیں سنبھالتے صوفے تک لیں آیا۔
“رانا بھائی۔۔۔۔۔ کیوں ان لوگوں کی باتیں دل پر لیں رہے ہیں۔۔۔۔۔ اپنے آپ کو سنبھالے۔۔۔۔۔ ان لوگوں کو تو بس بات کا پتنگڑ بنانا آتا ہے۔۔۔۔۔ آپ پلیز ٹینشن نہ لیں ہم دیکھ لینگے۔۔۔۔” روحان ان کے پاس بیٹھا ان کے ہاتھوں کو مسلتا دلاسہ دینے لگا۔ ذیشان بھاگ کر ان کے لیے پانی لیں آیا تھا۔
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
جاری ہے۔۔۔۔۔۔
NOTE: