Ishq Hai Tujhse (Qismat Se Hari Mein Season 3) By Palwasha Safi Readelle50281 (Ishq Hai Tujhse) Episode 16
Rate this Novel
(Ishq Hai Tujhse) Episode 16
“حیدر صاحب۔۔۔۔۔ ویڈیو ریمو کر دی گئی ہے۔۔۔۔۔ جہاں سے چاہے چیک کرلیں۔۔۔۔ ” رانا صاحب نے اپنا لیپ ٹاپ اذان کے آگے کیا۔
وہ تینوں بھائی اور اذان حیدر خان اس وقت رانا ایمپائر کے کانفرنس روم میں موجود تھے۔
رانا صاحب روحان ذیشان اور سفیان سمیت ارحام بھی خاموشی سے سیٹ پر بیٹھا ان کا مباحثہ سن رہا تھا۔
“دیکھیں بات کو جتنا بڑھائے گے۔۔۔۔۔ اتنا مسئلہ گھمبیر ہوتا جائے گا۔۔۔۔۔۔ انٹرنیٹ تک تو میرے وکیل بھتیجے کے بدولت رسائی ہوگئی ہماری۔۔۔۔۔ لیکن اگر بات نیوز چینلز تک پہنچ گئی پھر یہ میڈیا رپورٹرز جان نہیں بخشتے۔۔۔۔ آسان حل یہی ہے کہ ہم اس بات کو یہی ختم کر دیں۔۔۔۔۔۔ چاہے تو ہم باقاعدہ طور پر پروپوزل بھیج دینگے۔۔۔۔” رانا صاحب معتبر انداز میں بیٹھے انہیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔
پروپوزل پر ارحام نے شاکی انداز میں ڈیڈ کے جانب دیکھا۔
“مجھے اس کا سر چاہیئے۔۔۔۔۔۔” اذان حیدر خان نے گھورتے ہوئے ارحام کے جانب انگلی اٹھائی۔
رانا صاحب کے آبرو تن گئے۔ سفیان کی تو پیشانی کی رگیں تن گئی تھی لیکن ذیشان نے میز کے نیچھے سے اس کا ہاتھ تھام کر خاموش رہنے کا اشارہ دیا۔ حیدر خان نے بے بسی سے ازان کے جانب دیکھا۔
“ٹھیک ہے پھر ۔۔۔۔ اس کے علاوہ آپ کو اس غلطی کا جیسا بھی کفارہ چاہیئے۔۔۔۔۔ میں دینے کے لیے تیار ہوں۔۔۔۔۔” رانا صاحب نشست پر سے اٹھے اور ارحام کے پیچھے کھڑے ہوگئے۔
“میرے بیٹے کے علاوہ۔۔۔۔ ” انہوں نے ارحام کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر سرد مہری سے ازان کو گھورا۔
گم سم بیٹھے ارحام نے تعجب سے رخ اوپر کر کے ڈیڈ کے با اعتماد تاثرات کو دیکھا۔ اس کے لبوں پر فخریہ مسکراہٹ پھیل گئی تھی۔ رانا مبشر اپنے بیٹے کو بچانے اس کے ساتھ تھے۔ اس پر اپنی پوری دولت لٹا دینے کو تیار تھے۔
منصور خان نے ازان اور حیدر خان کو دیکھا۔ حیدر خان خاموش تھے پر ازان کے اندر آگ برس رہی تھی۔
“تایا ابو۔۔۔۔۔ میں اسے اپنی بہن نہیں دونگا۔۔۔۔۔ چاہے مجھے اسے قتل ہی کرنا پڑ جائے۔۔۔۔۔۔ اس نے تو ابھی سے اسے اتنا رسوا کر دیا ہے۔۔۔۔۔۔ بعد میں یہ کیا خاک اس کی عزت کرے گا۔۔۔۔۔ “ازان اپنے فیصلے پر اٹل رہا۔
“ہمیں اس کے علاوہ کچھ نہیں چاہیئے۔۔۔۔۔ ویسے بھی ہم نے دانین کی شادی کہی اور طے کر دی ہے۔۔۔۔۔ بس آپ اپنے بیٹے کو سنبھال کر رکھیں۔۔۔۔ دوبارہ وہ ہماری لڑکی کے آس پاس بھی نہ بھٹکے۔۔۔۔۔ ” منصور خان نے سر جھٹکتے ہر طرح کی مہربانی لینے سے انکار کر دیا اور وہاں سے روانہ ہونے لگے۔
“ایسا ہی ہوگا۔۔۔۔” رانا صاحب نے یقین دہانی کرواتے ہوئے ان سب سے مصافحہ کیا اور صلح رحمی سے معاملہ نپٹا لیا۔
دانین کے رشتے کی بات سن کر ارحام کے دل میں ٹیس سی اٹھی۔ اسے دانین سے محبت نہیں تھی لیکن ایک سال سے دوستی اور پیار کا ناٹک کرتے کرتے وہ اسے اچھی ضرور لگنے لگی تھی۔ پر اپنے آنا کے آگے اسے کبھی کچھ دکھائی نہیں دیا۔ ایک مرتبہ پھر اپنی تذلیل یاد کرتے اس کے تاثرات بدل گئے۔ اس کے دل میں بدلے کی آگ بھڑک رہی تھی۔ وہ دانین کے لیے ہمدردی کے احساس کو دباتے بدلہ لینے کے ارادے کو پختہ کر رہا تھا۔
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
وقت کے ساتھ ساتھ معاملہ سنبھال گیا۔ وہی رانا ہاوس میں زینب کے شادی کے فنکشنز کی ابتداء ہوگئی۔
نکاح کی تقریب رانا ہاوس کے لان میں ہی منعقد کی گئی جس میں ان کی فیملی اور ابتہاج کی فیملی نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔
رانا ہاوس کو سفید اور کلابی پھولوں سے سجایا گیا تھا۔ کرسیوں کے بیچ چھوٹا سا پھولوں سے سجایا ہوا اسٹیج بنایا گیا تھا جس پر دلہا دلہن نے تشریف فرما ہونا تھا۔ تقریب کی ساری تیاریاں ذیشان دیکھ رہا تھا۔ سفیان بھی ہاتھ بٹا رہا تھا لیکن اس کا زیادہ تر دھیان عائرہ پر مرکوز رہتا۔ دلہے کی فیملی کے جانب سے ابتسام اپنے بڑے بھائی کے نکاح کو شاندار بنانے جٹا ہوا تھا۔
مہمانوں کے آنے سے رونق کا سماء بندھ گیا۔ نور اور کرن دونوں مہمان نوازی کرتے سب سے مل رہی تھی۔
زینب سفید کام دار فراک اور گلابی ڈوپٹے میں دلہن بنی لان میں داخل ہوئی۔ عائرہ جامنی ڈیزائنر ڈریس پہنے بالوں کا ڈھیلا جوڑا بنائے زینب کے ہمراہ چلتی رہی۔
سفیان کی اس پر سے نظریں نہیں ہٹ رہی تھی اور ایسی ہی کچھ کیفیت ذیشان کی بھی ہونے لگی۔ وہ بار بار رخ پھیر لیتا لیکن جا جا کر اس کی نظریں عائرہ کا تعاقب کرنے لگتی۔ اسے اپنی ایسی کیفیت پر کوفت ہونے لگی۔ زینب کی منگنی میں بھی اس کا دل عائرہ پر آنے لگا تھا۔ تب تو اس نے خود کو ڈپٹ کر سنبھال لیا تھا مگر آج پھر سے وہی کیفیت اجاگر ہورہی تھی۔
قاری صاحب کے آمد کے ساتھ نکاح کی رسم شر وع کی گئی۔
“زینب بنت روحان۔۔۔۔ آپ کا نکاح ابتہاج ولد حسین سے بہ معاوضہ پانچ کڑوڑ حق مہر کے ہونا طے پایا ہے۔۔۔۔ کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے۔۔۔؟ ” قاری صاحب نے زینب کے جانب رخ کر کے رضامندی مانگی۔
“قبول ہے۔۔۔۔۔” زینب نے شرماتے ہوئے ان کے بول کی تائید کر دی۔
زینب کی رضامندی لیں کر قاری صاحب نے سفید قمیض شلوار میں ملبوس بال ایک طرف جمائے ہوئے ابتہاج کے جانب رخ کیا اور نکاح کے بول بولے۔
ابتہاج نے قبول ہے کہہ کر زینب کو اپنے نام کر لیا۔ سب نے ان دونوں کو دعائیں دیتے گلے مل کر مبارکباد پیش کی۔
نور کے آنسو جاری ہوچکے تھے۔ روحان اشک بار آنکھوں سے زینب کو دیکھتا نور کے گرد بازو مائل کئے چھپ کروا رہا تھا۔
“وقت کتنا تیزی سے گزر رہا ہے۔۔۔۔ ابھی کل کی بات لگ رہی ہے۔۔۔۔۔ چھوٹی سی زینب میرے گود میں تھی۔۔۔۔ اور آج اس کی شادی ہورہی ہے۔۔۔۔۔۔ ” روحان ماضی کے لمحات یاد کرتے آبدیدہ ہوگیا۔ زینب ان دونوں کے گلے آ لگی۔
“آپ دونوں میرے وجود کا حصہ ہو۔۔۔۔۔ مجھے آپ سے۔۔۔۔ اس گھر سے۔۔۔۔۔ اپنے رشتوں سے کوئی الگ نہیں کر سکتا۔۔۔۔۔ شادی ہو کر بھی اتنا آوں گی کہ آپ تنگ آکر کہو گے زی کبھی اپنے گھر بھی بیٹھ جایا کرو۔۔۔۔۔” زینب نے بھیگی آنکھوں سے مسکراتے ہوئے کہا۔ اور روتے روتے بھی سب ہنسنے لگے۔
سب نے اس کی حمایت کرتے سر اثابت میں ہلایا۔
“اللہ نے مجھے دو بیٹے دیئے۔۔۔۔۔ بیٹی نہیں دی۔۔۔۔۔۔ زینب کو میں اپنی بیٹی بنا کر لیں جا رہا ہوں۔۔۔۔۔۔ اسے کسی چیز کی کمی نہیں ہونے دوں گا۔۔۔۔۔” حسین صاحب نے روحان کے گلے لگ کر تسلی دی۔
چند لمحے ماحول دل گیر ہوگیا تھا۔ تب سفیان نے دھول والے کو میدان میں بلا کر اسے بجانے کا اشارہ کیا اور ساتھ ڈانس کرتے ہوئے ابتہاج اور زینب کو فلور پر لیں گیا۔
وہ دونوں ہاتھ تھامے کھڑے ہوگئے تھے۔ سفیان عائرہ ذیشان حتہ کہ ارحام بھی تالیاں بجاتے ڈانس کرتے ان دونوں سے گرد گھومنے لگے۔ ابتہاج کے جانب سے ابتسام اور ان کے باقی کزنز نے بھی بڑھ چڑھ کر ڈانس میں حصہ لیا۔ رانا ہاوس کا سماء خوشیوں سے بھر پور ہونے لگا۔
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
“اب تو کیا کرے گا ارحام۔۔۔۔۔” شام میں ارحام البرٹ کے ساتھ بیٹھا سیگریٹ نوشی کر رہا تھا جب البرٹ نے اس سے سوال کیا۔ پچھلے ایک ہفتے سے اس کے ساتھ ہوئے حادثات سے البرٹ آشنا تھا۔
“میں اسے نہیں چھوڑوں گا۔۔۔۔۔ بس ایک دفعہ زی آپی کی شادی نپٹ جائے۔۔۔۔۔۔ پھر دکھاتا ہوں اسے۔۔۔۔۔ ارحام پر ہاتھ اٹھانے کی کیا سزا ہوتی ہے۔۔۔۔” ارحام ہوا میں دھویں کا غبار اڑاتے گویا ہوا۔
دوسرے جانب دانین کی طبعیت بہتر ہوگئی تھی۔ اماں کے علاوہ سب گھر والوں نے اس سے کنارہ کشی اختیار کر لی تھی۔ کوئی صحیح منہ اس سے بات نہیں کر رہا تھا۔
وہ گم سم سی بیٹھی گھٹنوں کے گرد بازو مائل کئے سر بازو پر رکھے ہوئے تھے۔
“ہر چیز گہرائی میں اترنے سے اپنا بھیس کیوں بدل لیتی ہے۔۔۔۔ یہ دور دور سے اچھے دکھائی دینے والے قریب جانے پر کچھ اور کیوں نکل آتے ہیں۔۔۔۔۔ ہر شے کناروں سے دھوکہ ہے۔۔۔۔ ہر شے کا سمندر گہرا ہے۔۔۔۔” وہ دل ہی دل اپنی زندگی کے بارے میں سوچ رہی تھی۔
چند دن پہلے تک وہ کیا تھی اور آج کیا ہوگئی تھی۔ کتنے خواب دیکھے تھے اس نے۔ پری میڈیکل کریں گی پھر انٹری ٹیسٹ دے کر ایم بی بی ایس کریں گی اپنے خاندان کی پہلی لیڈی ڈاکٹر بنے گی۔ لیکن اس کے ایک غلط قدم نے اس کی دنیا پلٹ کر رکھ دی تھی۔ سب کچھ ختم ہوچکا تھا۔ اس کے خواب اس کے ارمان باپ کی عزت بھائی کی غیرت، وہ سب کچھ تہس نہس کر چکی تھی اور شاید کچھ دنوں میں اس کی زندگی بھی ختم ہونے والی تھی۔ کیا نا محرم کی چاہت ایسی خوفناک ہوتی ہے۔
اس نے نا اماں سے اس لڑکے کے بارے میں دریافت کرنے کی کوشش کی نا دوبارہ بابا کو رشتے کے لیے انکار کیا۔ اب وہ جس سے بھی بندھنے جا رہی تھی۔ اسے ہر حال اسے قبول کرنا تھا یہی اس کی قسمت کا فیصلہ تھا۔
“میں تو ایک عام سی لڑکی تھی۔۔۔۔ جس نے محبت کی خواہش کی تھی۔۔۔۔ بس اتنا چاہا تھا کوئی میری محرومیوں کو سمیٹ کر میری ذات مکمل کر دیں۔۔۔۔۔ لیکن میری اس ایک خواہش نے مجھے دو کوڑی کا بنا دیا۔۔۔۔۔ ارحام تم نے مجھے میرے ہی نظروں میں اتنا گرا دیا کہ اب میں چاہ کر بھی دوبارہ کسی سے محبت نہیں کر پاوں گی۔۔۔۔ اب مجھے اپنا آپ پیار کے قابل ہی نہیں لگتا۔۔۔۔۔ ” دانین بے دلی سے سوچ رہی تھی جب اس نے چھوٹی بہن کو روتے ہوئے کمرے کے اندر داخل ہوتے دیکھا۔
“چھوٹی کیا ہوا۔۔۔۔” دانین نے فکرمند سے پوچھا۔
“آپ نے ایسا کیوں کیا باجی۔۔۔۔۔ اب لالا مجھے بھی اسکول نہیں جانے دے رہے۔۔۔۔۔” رندھی ہوئی آواز میں گلہ کر کے اس کی پندرہ سالہ چھوٹی بہن پھر سے رونے لگ گئی۔
دانین کے پاس اس بچی کے سوال کا جواب نہیں تھا۔ وہ مایوسی سے اس کے پاس سے اٹھ گئی۔ اس کے آنکھوں کے کنارے بھیگنے لگے۔
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
“آپ مجھ سے پڑھائی کے متعلق کچھ بھی پوچھ لو میں حل کر دوں گا۔۔۔۔۔۔ لیکن یہ پہیلی کبھی حل نہیں ہوگی مجھ سے۔۔۔۔” ابتہاج نے ہتھیار ڈال دیئے۔
مہندی کے فنکشن میں عائرہ سمیت ساری لڑکیاں ابتہاج کے گرد جمع ہوگئی تھی اور اسے زینب کی مہندی میں اپنا نام ڈھونڈنے کا کہہ رہی تھی۔
“کوشش تو کریں جیجو۔۔۔۔ مل جائے گا۔۔۔۔۔” عائرہ نے حوصلہ افزائی کرتے ہوئے کہا۔
ابتہاج نے زینب کے جانب دیکھا۔
“نو چیٹنگ۔۔۔۔۔ آپی آپ نہیں بتاو گی۔۔۔۔” اس نے تیزی سے زینب کو ٹوک دیا۔
“ایک بات کہوں۔۔۔۔۔ میں نے اپنا نام ان کے دل پر لکھ دیا ہے۔۔۔۔۔ اب مہندی میں ہو یا نہ ہو۔۔۔۔۔ فرق نہیں پڑتا۔۔۔۔۔ اصل مقام تو وہ ہے نا۔۔۔۔” ابتہاج نے عائرہ کو نئی دلیل پیش کی۔
اس کے وضاحت پر زینب بلش کرنے لگی۔ اس نے اپنے ہاتھ پیچھے کر دیئے۔ عائرہ اس کی بات سے محظوظ ہورہی تھی۔
ان کے گرد بیٹھی زینب اور عائرہ کی فرینڈز زینب کو ہاتھ دکھانے پر فورس کرنے لگی لیکن عائرہ اٹھ کھڑی ہوگئی اور باقی لڑکیوں کو بھی اٹھنے کا کہنے لگی۔ وہ ابتہاج کی بات اچھے سے سمجھ گئی تھی۔ اور سمجھتی کیسے نہ اس کے دل پر بھی تو کسی کا نام لکھا ہوا تھا۔ رانا سفیان کا نام۔
وہ اپنے ملٹی کلر لہنگے کا دامن پہلووں سے اٹھائے اسٹیج سے اترنے لگی۔
آنکھیں اس کی کچھ فاصلے پر کھڑے سفیان پر مرکوز تھی۔ وہ سفید کرتا بچامہ پہنے اور اس پر رائل بلیو کلر کا ویسٹ کوٹ زیب تن کئے ہوئے تھا۔ بال نفاست سے بنائے ہوئے اور ہلکی شیو رکھی ہوئی تھی۔ مہنگی گھڑی اور بوٹ میں تیار ٹھاٹ دکھاتے وہ لاکھوں دلوں کی دھڑکنیں بڑھا رہا تھا۔
عائرہ کھوئے ہوئے انداز میں اسے دیکھ رہی تھی۔ وہ اپنے مہنگے کیمرے سے رانا مبشر اور روحان کی پکچرز لیں رہا تھا جو ایک دوسرے کو حصار میں لیئے پوز بنا رہے تھے۔ ارحام بھی سفیان کے ساتھ کھڑے انہیں دیکھ کر مسکرا رہا تھا۔
نور اور کرن ابتہاج کی امی جان اور خالہ کے ساتھ بیٹھی باتوں میں مشغول تھی۔ ذیشان اپنی تمام تر چارمنگ پرسنیلٹی لیئے مہمانوں سے مل رہا تھا۔
سب کو ایک نظر دیکھتے عائرہ نے پھر سے اسٹیج پر بیٹھی خوشی سے چہکتے اس جوڑی کو دیکھا۔
“اللہ کریں اس فیملی کی یکجہتی اور خوشحالی کو کسی کی نظر نہ لگے۔۔۔۔۔ یہ گھرانہ یوں ہی ہنستا مسکراتا رہے۔۔۔۔۔” عائرہ کے دل سے دعا نکلی۔
“مائی لو۔۔۔۔۔ اکیلی کیوں کھڑی ہو۔۔۔۔” سفیان کب اس کے پاس آیا اسے پتہ نہ چلا۔
“سب کو دیکھ رہی ہوں۔۔۔۔۔ دعا کر رہی ہوں۔۔۔۔۔ اس گھر کی خوشیوں میں کبھی کوئی رکاوٹ نہ آئے۔۔۔۔۔” عائرہ نے زبان سے بھی وہی دعا دوہرائی۔
“اللہ تمہاری ساری دعائیں قبول فرمائیں۔۔۔۔۔” سفیان نے اس کے ساتھ سیلفی لیتے ہوئے کہا۔
“آمین۔۔۔۔۔” عائرہ اس کے سینے پر ہاتھ رکھ کر مسکراتے ہوئے کیمرے میں دیکھنے لگی۔
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
نکاح اور مہندی کی طرح بارات کی تقریب بھی ایسی دھوم دھام سے منائی گئی۔
رخصتی کے وقت سماء دل گھیر ہوگیا تھا۔ سب کے آنکھوں میں نمی جھلک رہی تھی۔
“کبھی بھی ہماری یاد آئے تو رانا ہاوس کے بانہیں آپ کے لیے ہمیشہ کھلی ہے۔۔۔۔۔۔ خوش رہیں۔۔۔۔۔ صدا آباد رہیں۔۔۔۔۔۔” رانا صاحب نے سرخ جوڑے میں سجی زینب کو سینے سے لگاتے ہوئے یقین دہانی کروائی۔
زینب نے آبدیدہ ہوتے ان کی دعائیں وصول کی پھر یوں ہی ایک ایک کر کے وہ کرن روحان اور نور سے ملی۔
“چلو جی۔۔۔۔۔ ایک آفت تو کم ہوئی۔۔۔۔” سفیان نے اسے تنگ کرنے کی آخری کوشش کی۔ نور نے روتے ہوئے بھی اسے بہن کو آفت بلانے پر ڈانٹ لگا دی۔ عائرہ اور ارحام سے وداع لیں کر اس نے حیرت زدہ ہو کر آس پاس دیکھا۔
“ذیش کہاں ہے۔۔۔۔” زینب اپنے جڑواں بھائی سے ملے بغیر کیسے جا سکتی تھی۔
سفیان اس کا ہاتھ تھامے واپس ہال کے اندر لیں آیا جہاں ذیشان اپنی نگرانی میں ویٹرز سے کام کروانے کی اداکاری کر رہا تھا۔
“کیا ہوا امرجنگ بزنس مین۔۔۔۔۔ رونا آرہا ہے۔۔۔۔۔” سفیان نے شرارتی انداز میں کہتے اسے مخاطب کیا۔
ذیشان اسے ڈپٹنے کے ارادے سے مڑا لیکن ساتھ زینب کو دیکھ کر واپس رخ موڑ لیا۔
“ذیش۔۔۔۔” زینب نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر مخاطب کیا۔
ذیشان پھیکا مسکرا کر اس کے جانب مڑا تو زینب نے اس کے گرد بازو مائل کر دیئے۔
“اپنا خیال رکھنا۔۔۔۔۔۔ اور کوئی بھی پریشانی ہو مجھے کال کرنا۔۔۔۔۔” اس نے زینب کو تھام کر اس کے سر پر بوسہ دیا۔
سفیان کے لیے وہ لمحہ بہت ہی انمول تھا اس نے بانہیں پھیلائے ان دونوں کو اپنے حصار میں لیں لیا۔
زینب کے ایک طرف ذیشان تھا اور دوسرے سمت سفیان۔ وہ دونوں بھائیوں کا ہاتھ تھامے کار تک آئی جہاں ابتہاج اس کا منتظر تھا۔
“زینب میری بہن ہی نہیں۔۔۔۔ میرے وجود کا حصہ ہے۔۔۔۔۔۔ اسے تکلیف ہوتی ہے تو درد مجھے بھی ہوتا ہے۔۔۔۔۔ اس کا خیال رکھنا۔۔۔۔۔” ذیشان نے ابتہاج سے گلے ملتے ہوئے کہا۔
“بے فکر رہو۔۔۔۔ زی اب میری زمہ داری ہے۔۔۔۔۔ اور مجھے اپنی زمہ داریاں نبھانا اچھے سے آتا ہے۔۔۔۔” اس نے دلاسہ دیتے ذیشان کا شانہ تھپتھپایا۔
سب نے خوشی خوشی زینب کو رخصت کیا۔
سفیان ان سب سے قدرے فاصلے پر کھڑی اداس سی عائرہ کے پاس آیا۔ وہ اس وقت سفیان کے پسند کئے بلیک ڈریس میں تیار بہت حسین لگ رہی تھی۔
“تم کیوں اداس ہو۔۔۔۔۔” اس نے کمر پر ہاتھ رکھے ہوئے آبرو اچکا کر عائرہ کو دیکھا۔
“سوچ رہی تھی۔۔۔۔۔ کبھی جب میری رخصتی ہوگی۔۔۔۔ تب بھی سب کا ایسا ری ایکشن ہوگا کیا۔۔۔۔” عائرہ نے سجی ہوئی کار کو دور جاتے دیکھتے ہوئے کھوئے انداز میں کہا۔
“تم سب سے دور تھوڑی جاو گی۔۔۔۔۔ صرف ایک کمرے سے دوسرے کمرے میں رخصت ہو کر آو گی۔۔۔۔ گھر تو یہی رہے گا۔۔۔۔ جب تک میں اپنا خود کا گھر نا بنوا لوں۔۔۔۔” اس نے با اعتماد لہجے میں مستقبل کی جھلک دکھائی۔
عائرہ چند ثانیے اسے دیکھتی رہی۔ اسے سفیان کے اس قدر کانفیڈینٹ پر رشک بھی محسوس ہوا اور افسوس بھی۔
“قسمت کا کسی کو پتہ نہیں ہوتا۔۔۔۔۔ یہ ہر وقت ممکن نہیں جو ہم چاہے وہی ہو۔۔۔۔۔۔ انسان کی زندگی میں ہوتا وہی ہے جو اس کی قسمت میں لکھا ہو۔۔۔۔۔۔ ہمیں دونوں پہلوو کے لیے تیار رہنا چاہیئے۔۔۔۔۔ اپنے آپ پر اتنا اندھا اعتبار نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے۔۔۔۔۔” عائرہ نے حقیقت کا آئینہ دکھایا لیکن سفیان کے آبرو تن گئے۔
“مجھے کوئی دوسرا پہلوو نہیں چاہیئے۔۔۔۔۔۔ میں ہماری قسمت کا فیصلہ کر چکا ہوں۔۔۔۔۔ تم میری ہو۔۔۔۔۔۔ اور جو اس فیصلے کو بدلنے کی کوشش کرے گا۔۔۔۔۔ وہ میرے ہاتھوں مرے گا۔۔۔۔” سفیان نے دانت پر دانت جمائے ہوئے درشتی سے کہا۔
عائرہ بنا پلک جھپکائے یک ٹک اسے دیکھنے لگی۔ اس کا دل تیز رفتار سے دھڑک رہا تھا۔ اس نے سفیان کا یہ روپ پہلی دفعہ دیکھا تھا۔ کیا رانا فیملی کے سارے مرد اپنی محبت کو جنون بنا لیتے ہیں۔ یہ سوچتے اس کا گلا خشک ہونے لگا۔ تب ہی ارحام اسے پکارتے وہاں آیا اور عائرہ اس کے ہمراہ چلتی اپنی کار میں آکر بیٹھ گئی۔
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
حسین صاحب کے گھر زینب کا استقبال پورے جوش و خروش سے کیا گیا۔
وہ ابتہاج کے پھولوں سے سجے کمرے میں بیٹھی سجاوٹ کو دیکھ مسرور ہورہی تھی۔ تازہ پھولوں کی خوشبو اور مدھم روشنی اس کی دھڑکن بڑھا رہے تھے۔
دروازہ کھلنے کی آواز پر وہ بلش کرتی گود میں رکھے اپنے ہاتھوں کو دیکھنے لگی۔
ابتہاج اندر داخل ہوا اور دروازہ لاک کرتا اس کے پاس آکر بیٹھا۔ زینب نے ایک نظر اسے دیکھا اور پھر ہنستے ہوئے شرمانے لگی۔
“کیا ہوا۔۔۔۔۔ اتنی شرم کیوں آرہی ہے۔۔۔۔” ابتہاج نے قریب کھسک کر پوچھا۔
“عجیب لگ رہا ہے۔۔۔۔۔ سٹوڈنٹ اور پروفیسر۔۔۔۔۔ ہسبینڈ وائف بن کر کیسے لگے گے۔۔۔۔۔” زینب کسمسا سی گئی۔
“یہ تو آسان ہے۔۔۔۔۔ اب تو گھر میں بھی ہر وقت لیکچر چلتا رہے گا۔۔۔۔۔” اس نے اپنی مسکراہٹ دبائے ہوئے کہا۔
“کیسے۔۔۔۔۔” زینب کو اس کی منطق سمجھ نہیں آئی۔
“جیسے کہ۔۔۔۔۔ جب ہم۔۔۔۔۔ x کو 360 ڈگری پر گھما کر۔۔۔۔۔۔” وہ کہتے ساتھ آگے ہوا اور اپنا رخ دائیں جانب جھکا دیا۔
“پھر a+b= 2ab کا فارملولہ لگائے گے تو۔۔۔۔۔۔ x کو اپنی مخصوص پوزیشن مل جائے گی۔۔۔۔۔” اس نے مثال دیتے زینب کو بانہوں میں لے لیا۔
“ہاہاہا۔۔۔۔۔ اس کے شریر مثال پر زینب کھلکھلا کر ہنس دی۔
ابتہاج اپنی نئی دلہن کو خوش ہوتا دیکھ کر محظوظ ہوا اور اس کی گردن پر جھک گیا۔ زینب ہنستے ہنستے کانپ اٹھی۔ اس نے ابتہاج کے محبت کو محسوس کرتے خود کو اس کے حوالے کر دیا اور آنکھیں موندھے اس کے گرد بازو مائل کر دیئے۔
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
زینب اور ابتہاج کا ولیمہ ابتہاج کے آبائی شہر بہاولپور میں رکھا گیا تھا۔ اگلی صبح وہ سب بہاولپور کے لیے روانہ ہوگئے۔
رانا ہاوس میں سے روحان نور کرن اور ارحام تقریب میں شرکت کرنے نکل گئے تھے۔ کیونکہ رانا صاحب کو ایک ضروری میٹنگ کے سلسلے میں رکنا پڑا اور روحان کی کمی پوری کرنے ذیشان نے میٹنگ لیڈ کرنے کا فیصلہ کیا۔
عائرہ ڈیڈ کا دھیان رکھنے ان کے پاس رک گئی۔ سفیان کو چونکہ لندن کے لاء کالج سے پریکٹس کی آفر ہوئی تھی اور اگلی صبح اسے ویزہ ایپلیکیشن جمع کروانے سے پہلے ایک امتحان دینے جانا تھا اس لیے وہ بھی ولیمہ میں جانے سے قاصر تھا۔
“تھینکیو۔۔۔۔۔” شام کے وقت وہ لاونج میں کتاب ہاتھ میں لیئے اپنا سبق یاد کر رہا تھا۔ عائرہ گرم گرم کافی کا مگ اٹھائے اس کے پاس سے گزر رہی تھی جب سفیان نے مگ لینا چاہا۔
“کس لیے۔۔۔۔۔” عائرہ نے مگ پر اپنی گرفت مضبوط کر لی۔
“میرے لیے بنا کر لائی ہو نا۔۔۔۔” سفیان نے پھر سے آگے ہو کر مگ لینا چاہا۔
“کس نے کہا۔۔۔۔ میری کافی ہے۔۔۔۔۔” عائرہ نے ہاتھ پیچھے کر لیا۔
“یارررر۔۔۔۔۔ میرے سارے دوستوں کی گرل فرینڈز ان کے لیے جان دیتی ہے۔۔۔۔۔ تم مجھے ایک مگ کافی نہیں دے سکتی۔۔۔۔۔ میرا کل پیپر ہے نا۔۔۔۔۔ پڑھنے کے لیے انرجی چاہیئے۔۔۔۔” سفیان منہ بنانے لگا۔
“ہاں تو خود جا کر بنا لو۔۔۔۔ لندن میں اکیلے رہو گے تب کیا کرو گے۔۔۔۔ وہاں کون بنا کر دے گا۔۔۔۔۔” اس نے نخریلے انداز میں ناک سے مکھی اڑائی۔
سفیان کو اس وقت شدت سے اپنی ممی کی یاد آئی۔ ایک ماں ہی ہوتی ہے جو اولاد کے ہر ناز و نخرے اٹھاتی ہے۔ اس کا دل کیا وہ ابھی نور کے پاس جائے اور اس کے سینے سے لگ جائے۔
“اس میں کونسی بڑی بات ہے۔۔۔۔۔ وہاں بنا لوں گا کوئی انگلش گرل فرینڈ۔۔۔۔۔ ” سفیان نے آنکھ کا کونا دبایا۔
“آج نور ممی کی کمی مجھے پوری کرنی ہوگی۔۔۔۔۔ اتنے لمبے جوڑے جوان ہو کر مار کھاو گے مجھ سے۔۔۔۔۔۔ ” عائرہ کے آبرو تن گئے وہ ہاتھ ہوا میں بلند کر کے ڈپٹنے لگی۔
“ہاہاہاہاہا۔۔۔۔۔ بڑے پاپا۔۔۔۔۔” سفیان قہقہہ لگا کر ہنسا اور ہنستے ہنستے عائرہ کے عقب میں دیکھتے سریس ہوگیا۔
ڈیڈ کی آمد کا جان کر عائرہ کی آنکھیں پھیل گئی اس نے سانس روکے رخ پیچھے کر کے دیکھا پر وہاں کوئی نہیں تھا۔ اور اس کے ہاتھ میں کافی کا مگ بھی نہیں تھا سفیان اس سے مگ اچک کر اپنے کمرے کے جانب بڑھ گیا تھا۔
“سفیااااان۔۔۔۔۔۔ ڈفررررر۔۔۔۔۔۔” عائرہ نے اسے منہ بھسورتے ہوئے مخاطب کیا۔
“آئی لو یو ٹو۔۔۔۔۔۔” سفیان نے اس کی جھڑک کا جواب محبت کے اظہار سے دیا اور کمرے میں چلا گیا۔
عائرہ پیچھے خالی ہاتھ پیر پٹختی رہ گئی۔
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
دو دن بعد وہ سب بہاولپور سے لوٹے۔ روحان نور اور کرن وہی بڑے صوفے پر بیٹھ گئے تھے۔ سامنے دوسرے بڑے صوفے پر ذیشان اور رانا صاحب بیٹھے ان کے سفر اور زینب کے ولیمے کے متعلق پوچھ رہے تھے۔ سفیان نور کے سرہانے کھڑا ان کی گفتگو سن رہا تھا۔
ارحام تو آتے ہی اپنے کمرے میں گھس گیا تھا۔ بہاولپور میں مما اور روحان پاپا کے موجودگی میں وہ اپنے سموکنگ کی لت پوری نہیں کر پایا تھا اور اب کمرے میں ڈریسنگ روم کے وسط میں کھڑا سیگریٹ پر سیگریٹ نوشی کرتا خود کو پُر سکون کر رہا تھا۔
“گھر کتنا سُونا ہوجاتا ہے بیٹی کے جانے کے بعد۔۔۔۔۔۔ زینب کے بغیر سب خالی خالی لگ رہا ہے۔۔۔۔۔” روحان نے لمبی سانس لیتے ہوئے گھر میں نظر دوڑائی۔
“اداس کیوں ہوتے ہیں پاپا۔۔۔۔۔ میں بھی تو آپ کی بیٹی ہوں۔۔۔۔۔۔ ” عائرہ نے روحان کو تسلی دیتے اس کے گرد بازو مائل کئے۔
“یہ بات تو ہے۔۔۔۔۔ اور میں تمہیں خود سے دور نہیں کروں گا۔۔۔۔” روحان نے عائرہ کے رخسار پر ہاتھ رکھ کر پیار کیا۔
“رانا بھائی۔۔۔۔۔۔ میں عائرہ کو اپنی بہو بنانا چاہتا ہوں۔۔۔۔۔ میرے ذیشان کے لیے میں آپ سے عائرہ کا ہاتھ مانگتا ہوں۔۔۔۔” روحان پھرتی سے اٹھا اور رانا صاحب کے پہلو میں بیٹھ کر ان کا ہاتھ تھام لیا۔
عائرہ اور سفیان کے پیروں تلے زمین نکل گئی۔ وہ سانس لینا ہی بھول گئے تھے۔ دونوں اپنی جگہ منجمد ہوگئے۔ سفیان کا رنگ زرد پڑنے لگا اور عائرہ کا دل دہل گیا۔
ذیشان کی آنکھیں چمک اٹھی تھی۔ عائرہ کے لیے اس کے دلی جذبات پھر سے ٹھاٹ مارنے لگے۔ وہ مسکراتا ہوا اپنی اور عائرہ کی رشتے کی بات پر محظوظ ہونے لگا۔
رانا صاحب نے خوش ہوتے کرن کے جانب دیکھا۔ وہ بھی خوش ہوتے ان ہی کو دیکھ رہی تھی۔
“پاپا اتنی جلدی بھی کیا ہے۔۔۔۔۔ ابھی زی کی شادی کو دو دن بھی نہیں ہوئے۔۔۔۔۔۔ اس بارے میں تھوڑا ٹھہر کر سوچتے ہیں۔۔۔۔۔” سفیان نے کنکارتے ہوئے پاپا کو مخاطب کیا۔
“یہی صحیح موقع ہے۔۔۔۔۔ اور نیک کام میں دیری نہیں کرنی چاہیئے۔۔۔۔۔۔ بس رانا بھائی اب آپ جلدی سے ہاں کر دیں۔۔۔۔۔” روحان نے بے صبری سے کہتے رانا بھائی کے ہاتھوں کو جنبش دیا۔
رانا صاحب اور کرن کی خوشی دیدنی تھی۔ ذیشان تو بچپن سے ان کا چہیتا تھا۔ اس سے بڑھ کر داماد کسے چاہیئے تھا۔
عائرہ کی آنکھیں ڈبڈبا گئی۔ وہ خود کو رو دینے سے روکنے کی کوشش کرتی اپنا نچھلا لب کاٹنے لگی۔ سفیان کو سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ ان سب کو کیسے روکے۔ اس کی ساری چالاکیاں ہوا ہوگئی تھی۔ اس کی وکالت پانی میں جا ملی تھی۔ اسے اپنا آپ مفلوج ہوتا محسوس ہوا۔
“میری ہاں میری بیٹی کی ہاں پر انحصار کرتی ہے۔۔۔۔۔۔” رانا صاحب مسرور ہوتے ہوئے عائرہ کے پاس آئے اور آبرو اچکا کر اس کی رائے مانگی۔ کرن نے بھی خوش ہوتے عائرہ کے کندھے کے گرد بازو مائل کر دیا۔
عائرہ نے بہت عرصہ بعد مما اور ڈیڈ کے چہرے پر یہ رونق دیکھی تھی۔ اس نے زخمی مسکرا کر آنکھیں بند کی اور بہت سارے آنسو اپنے اندر اتارے۔
“مجھے منظور ہے ڈیڈ۔۔۔۔۔ میں اس رشتے کے لیے راضی ہوں۔۔۔۔” عائرہ نے دل پر پتھر رکھ کر ذیشان سے رشتے کے لیے ہامی بھری۔ رانا صاحب نے خوشی سے سرشار ہوتے عائرہ کو سینے سے لگا لیا۔
سفیان نے بے یقینی سے عائرہ کو دیکھا۔ پاپا کی خواہش پر جہاں اس کے پیروں تلے زمین نکل گئی تھی وہی عائرہ کی ہامی بھرنے پر مانو اس پر آسمان ٹوٹ پڑا تھا۔ اسے لگا وہ کئی من مٹی تلے دب گیا ہے۔ اسے اپنا سر بھاری ہوتا محسوس ہوا۔
روحان نے مبارکباد پیش کرتے ہوئے ذیشان کو گلے لگا لیا اور پھر رانا صاحب کے آغوش گھیر ہوگیا۔
نور اور کرن بھی ایک دوسرے کے گلے لگ کر مبارکباد دینے لگی۔ کرن سے مل کر نور عائرہ کے جانب بڑھ گئی اور اسے دعائیں دیتے خود سے لگایا۔
سفیان کا دل ڈگمگا رہا تھا۔ بے یقینی ہی بے یقینی تھی۔ بے بسی ہی بے بسی تھی۔ اس کا پیار اس کے بھائی کا نصیب بننے جا رہا تھا اور وہ تہزیب کے بیڑیوں میں جکڑا بے بس کھڑا رہا۔
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔
