Ishq Hai Tujhse (Qismat Se Hari Mein Season 3) By Palwasha Safi Readelle50281 (Ishq Hai Tujhe) Episode 19
Rate this Novel
(Ishq Hai Tujhe) Episode 19
وہ اللہ کو پکارتی اپنے حفاظت کی فریاد کر رہی تھی جب کلک کر کے دروازہ کھلنے کی آواز آئی۔ ارحام شاک ہوگیا۔ ابھی وہ دانین پر سے ہٹا ہی تھا کہ ایک جھٹکے سے دروازہ کھلا اور رانا مبشر غضب سے سرخ ہوتے اندر داخل ہوئے۔ سامنے کا منظر دیکھ کر ان کے پیروں تلے زمین نکل گئی تھی۔ وہ وہی منجمد ہوگئے۔
ان کا 17 سالہ ٹین ایج بیٹا نیم برہنہ حالت میں تھا اور وہ ٹیج ایج لڑکی خستہ حال رو رہی تھی دہائیاں کر رہی تھی۔
رانا صاحب کے پیچھے ذیشان حیدر خان اور ازان بھی تیزی سے داخل ہوئے۔ دانین بابا کو دیکھتے ہی ان سے لپٹ گئی۔
“ڈیڈ۔۔۔۔” ارحام نے ابھی رانا صاحب کو مخاطب کیا ہی تھا کہ رانا صاحب نے پورے تاب سے اسے تھپڑ رسید کیا۔
ارحام دائیں جانب جھک سا گیا۔ وہ حیرت زدہ سیدھا ہوا کہ رانا صاحب نے دوسرے گال کو بھی اپنی عتاب کا نشانہ بنایا۔
“یہ کیا کر رہے تھے۔۔۔۔ یہ تربیت کی ہے میں نے تمہاری۔۔۔۔” وہ بلند آواز اسے جھڑکنے لگے۔
“میں صرف اسے ڈرا رہا تھا۔۔۔۔۔۔ ہاتھ اٹھایا تھا اس نے مجھ پر۔۔۔۔۔۔” ارحام ڈیڈ کی آنکھوں میں دیکھ کر غرایا۔
“ہاتھ تو میں نے بھی اٹھایا ہے۔۔۔۔۔ اب میرے ساتھ کیا کرو گے۔۔۔۔۔۔ مارو گے مجھے۔۔۔۔۔” رانا صاحب بھی اس پر برس پڑے۔
ذیشان حیران پریشان ان دونوں باپ بیٹے کے بیچ میں آگیا۔ وہ نہیں چاہتا تھا ارحام جنون میں آکر سچ میں ایسی کوئی گستاخی کرے۔
“بڑے پاپا پلیززززز calm down۔۔۔۔ ” اس نے رانا صاحب کو کندھوں سے تھام لیا۔
“کیا تمہیں یہ پسند ہے۔۔۔۔۔۔ بولو۔۔۔۔۔ اگر ہے تو میں بغیر ان کی پرواہ کیے ابھی اسی وقت تمہارا اس سے نکاح کرواتا ہو۔۔۔۔۔” رانا صاحب نے دانین کے جانب اشارہ کیا۔
ازان نے مداخلت کرنی چاہی پر حیدر صاحب نے ہر بار کی طرح اسے خاموش کروا دیا۔ وہ جانتے تھے رانا صاحب انصاف پسند ہے۔
نکاح کا لفظ سن کر وہاں موجود سب ہی حیران ہوگئے۔ دانین کا دل دہل گیا۔ کیا وہ کوئی کھلونا تھی جو کبھی بھائی اسے ایک کے حوالے کریں تو کبھی ارحام اپنے جنون کا نشانہ بنائے
“بٹ بڑے پاپا۔۔۔۔ he is just 17۔۔۔۔۔” ذیشان نے رانا صاحب کو ٹوکا۔
“جب یہ اس کے ساتھ کسنگ کرتے ویڈیو بنا سکتا ہے۔۔۔۔۔۔ جب یہ اسے کڈنیپ کر کے اس حد تک جا سکتا ہے۔۔۔۔۔ تو میرا نہیں خیال اسے ازدواجی رشتے کا پتہ نا ہو۔۔۔۔” رانا صاحب نے افسوس سے سر جھٹکا۔
“مجھے نہیں کرنی اس سے شادی۔۔۔۔۔” ارحام نے سفاکی سے دو ٹوک انداز میں جواب دیا اور رخ پھیر لیا۔
“میں پھر سے معذرت چاہتا ہوں حیدر صاحب۔۔۔۔۔۔ ” رانا صاحب نے دل گیر انداز میں لب مینچھے۔ ناجانے ارحام کی وجہ سے انہیں کتنی مرتبہ شرمندہ ہونا تھا۔
“ازان چلو۔۔۔۔۔” حیدر خان نے ازان کا ہاتھ پکڑ لیا۔
“نہیں بابا۔۔۔۔ آج یا تو یہ رہے گا یا میں۔۔۔۔۔” اس نے پتسول نکال لی اور ارحام پر تھام لی۔ رانا صاحب ساکن کھڑے ہوگئے۔
“ازان میں کہہ رہا ہوں۔۔۔۔۔ ہمیں نکلنا چاہیئے۔۔۔۔۔۔ چلو۔۔۔۔۔” حیدر خان نے بیٹے کے ہاتھوں سے پستول جھپٹ لی۔
“مجھے سمجھ نہیں آتی بابا۔۔۔۔۔ کیوں کرتے ہیں آپ ایسا۔۔۔۔۔۔ ہر بار کیوں چھوڑ دیتے ہے اسے۔۔۔۔۔” ازان تپ کر رہ گیا۔
“قرآن کہتا ہے۔۔۔۔۔ تمہارے مال۔۔۔۔ تمہاری اولاد ایک آزمائش ہے۔۔۔۔۔ اور اللہ ہی ہے جس کے پاس بڑا اجر ہے۔۔۔۔۔” حیدر خان نے دانین کو مضبوطی سے تھامے فارم ہاوس سے نکلتے ہوئے ایک قرآنی آیت کا ترجمہ سنایا۔
“میرے لیے دانین آزمائش ہے۔۔۔۔۔ اور رانا مبشر کے لیے ارحام۔۔۔۔۔” ان کی یہ بات سن کر دانین کا سر مزید جھک گیا۔
“ایک باپ کی حثیت سے سوچوں تو رانا مبشر کی آزمائش مجھ سے دوگنی ہے۔۔۔۔۔ ہم نے تو دانین کو قابو کر لیا۔۔۔۔۔۔ پر وہ اب تک ارحام کو قابو نہیں کر پا رہے۔۔۔۔۔ اور ابھی انہیں بہت سے طوفانوں سے گزرنا ہے۔۔۔۔ میں نے اس سب کا اجر اللہ کے حوالے چھوڑ دیا ہے۔۔۔۔۔ اور وہ انصاف کرنے والا ہے۔۔۔۔” حیدر خان نے ازان کو قائل کرنے کی کوشش کی۔
ازان باپ کی نصیحتوں کے آگے بے بس ہوگیا اور اپنا طیش قابو کرتے ٹرین اسٹیشن کے جانب روانہ ہو گیا۔
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
“لیو می۔۔۔۔۔” ارحام نے رانا ہاوس پہنچ کر رانا صاحب سے اپنا ہاتھ چھڑایا۔
لاونج میں اس وقت عائرہ اور روحان صوفے پر بیٹھے تھے۔ کرن اور نور کمرے میں تھی۔ انہیں آتے دیکھ روحان اور عائرہ کھڑے ہوگئے۔
“سب ٹھیک ہے۔۔۔۔۔ وہ لڑکی اپنے والد کے تحویل میں دے دی ہے۔۔۔۔” ذیشان نے پاپا کو تسلی دی۔
“کیا چاہتے ہو تم۔۔۔۔۔” رانا صاحب نے سپاٹ انداز میں کہا پوچھا۔
“تنگ آگیا ہوں میں آپ سے اور اس گھر کی پابندیوں سے۔۔۔۔۔ سانس لینا بھی دشوار لگتا ہے یہاں۔۔۔۔۔ “ارحام ہاتھ ہوا میں اٹھا کر بے زاری سے گویا ہوا۔
اس کا انکشاف سن کر رانا صاحب شاک ہوگئے۔
“جب دیکھو میرے پیچھے پڑے ہو۔۔۔۔۔ کبھی واچ میں ٹریکنگ لگا رہے ہو۔۔۔۔ کبھی اپنا بندہ۔۔۔۔۔ میں بھی انسان ہوں۔۔۔۔۔ میری بھی پرائویسی ہے۔۔۔۔۔” وہ جو منہ میں آرہا تھا بولے جا رہا تھا۔
“ارحام ہوش میں تو ہو۔۔۔۔۔ ایک تو تمہیں ان لوگوں سے بچا کر لائے ہیں اور تم انہی کو سنا رہے ہو۔۔۔۔” روحان مزید صبر نا رکھ سکا۔
“ڈیڈ سے ایسے بات کرتے ہیں۔۔۔۔۔ ہو کیا گیا ہے تمہیں۔۔۔۔” عائرہ نے حیران ہوتے اسے ڈانٹا۔
“کوئی کچھ نہیں بولے گا۔۔۔۔۔ میں دیکھنا چاہتا ہوں۔۔۔۔۔ اس کے اندر کتنا جنون ہے۔۔۔۔۔” رانا صاحب نے روحان اور عائرہ کو منع کیا۔
“بس بہت ہوگیا ہے۔۔۔۔ اب میں یہ سب برداشت نہیں کروں گا۔۔۔۔۔ مجھے اپنی مرضی سے لائف جینی ہے۔۔۔۔۔۔ آپ کے اشاروں پر نہیں۔۔۔۔۔” اس نے حکم صادر کرنے کے انداز میں جواب دیا۔
“یہاں رہنا ہے۔۔۔۔۔ تو اس گھر کے رہن سہن کے مطابق ہی رہنا ہوگا۔۔۔۔” رانا صاحب کی آواز میں افسردگی در آئی تھی ۔
“فائن۔۔۔۔ نہیں رہنا مجھے یہاں۔۔۔۔۔ iam leaving ۔۔۔۔۔” اس نے ہاتھ اٹھائے بحث ختم کی۔ رانا صاحب لب مینچھے ہاتھ پیچھے باندھے اسے دیکھنے لگے۔ کتنی آسانی سے وہ گھر چھوڑنے کی بات کہہ گیا تھا۔
“ارحام رکو۔۔۔۔۔ ” عائرہ نے اس کا بازو جکڑ لیا۔ وہ زور لگاتا خود کو آزاد کروانے لگا۔
“ڈیڈ کچھ کہے۔۔۔۔۔ روکے۔۔۔۔۔ کہاں جائے گا یہ۔۔۔۔۔ ” وہ حواس باختہ رانا صاحب سے التجا کرنے لگی لیکن وہ خاموش تماشائی بنے رہے۔
روحان نے اسے پکارا پر وہ ان کی پکار ان سنی کر کے باہر کے جانب بڑھ گیا۔
“مما۔۔۔۔۔۔ مما۔۔۔۔۔۔ ” عائرہ یذیانی ہوئے بلند آواز کرن کو بلانے لگی۔
کرن کمرے سے باہر آئی تو سامنے ارحام کو دیکھ کر اس سے لپٹ گئی۔
“مما روکو اسے۔۔۔۔۔ یہ گھر چھوڑ کر جا رہا ہے۔۔۔۔۔” عائرہ نے تیزی سے آگاہ کیا۔
“کیا۔۔۔۔۔ نہیں اپنی مما کو چھوڑ کر تھوڑی جا سکتا ہے۔۔۔۔ ارحام۔۔۔۔” کرن کو کانوں سنے پر یقین نہیں آرہا تھا۔
“مما ہٹو۔۔۔۔۔ چھوڑو مجھے۔۔۔۔۔” وہ کرن کو خود سے دور کرنے لگا۔ کرن اس سے لگی لاونج کے دروازے تک گھسیٹتی چلی گئی۔
ارحام نے زور سے اسے پرے کیا تو وہ لڑکھڑا گئی۔ رانا صاحب کے آبرو تن گئے اور مٹھیاں سختی سے مینچھ لی۔ اگر وہ ان کا اپنا خون نا ہوتا تو اس وقت ان کی محبت، ان کی بیوی کے ساتھ ایسا برتاو کرنے پر وہ اسے جان سے مار دیتے۔
“نہیں ارحام مت جاو۔۔۔۔ سب ٹھیک ہوجائے گا۔۔۔۔ رک جاو۔۔۔۔ اپنی مما کے لیے۔۔۔۔ میرے لیے رک جاو۔۔۔۔۔ غصہ چھوڑ دو۔۔۔۔۔” کرن یذیانی ہوکر اس کی منت کرنے لگی۔ پر اس جنون میں اندھے پر کسی کے رونے کا اثر نہیں ہورہا تھا۔
“کرن اگر تم نے گھر کی دہلیز کے باہر قدم بھی رکھا تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا۔۔۔” رانا صاحب نے تند و تیز آواز میں اسے ٹوکا۔ وہ گھر کے گیٹ پر ہی رک گئی۔
عورت صرف اپنے من پسند مرد کی بات مانتی ہے اسی کا غصہ برداشت کرتی ہے۔ کرن کے اندر کی بیوی نے ممتا کے قدم جما لیئے۔ وہ شوہر کا حکم ماننے کی پابند ہوگئی تھی۔
“ایک بات یاد رکھنا ارحام۔۔۔۔ میں اپنی جوانی میں کتنا بھی برا آدمی کیوں نا رہا ہوں۔۔۔۔۔ لیکن میں زانی نہیں تھا۔۔۔۔۔ میں نے جس عورت کو چاہا اس سے نکاح کر کے اپنایا۔۔۔۔۔۔ ناجائز تعلقات کبھی نہیں رکھے۔۔۔۔۔ تم باقی سارے حدود تو پار کر چکے ہو۔۔۔۔۔ لیکن اگر یہ حد پار کی۔۔۔۔ تو میرا جنازہ دیکھنا بھی تم پر حرام ہے۔۔۔۔۔” ارحام کے گیٹ سے نکلنے سے پہلے رانا صاحب نے ایک آخری نصیحت اس کے گوش گزار کی۔
ارحام دانت پیستے ہوئے کرن سے اپنا بازو چھڑا کر گھر کے باہر نکل گیا اور کرن وہی گیٹ پر سر ٹکائے اسے پکارتی رہ گئی۔
“رانا بھائی۔۔۔۔ اسے جانے کیوں دیا۔۔۔۔ روک لیتے۔۔۔۔” روحان کو اس کی فکر ہونے لگی۔
“اس نے ابھی تک زندگی کی ٹھوکریں نہیں کھائی۔۔۔۔۔۔۔ اس نے ابھی فاقے نہیں کاٹے۔۔۔۔۔ اپنوں سے دور نہیں ہوا۔۔۔۔۔ اس لیے اتنی آسانی سے چلا گیا۔۔۔۔۔۔ وقت سے ظالم کچھ نہیں ہے۔۔۔۔ وقت اسے بتا دے گا۔۔۔۔ اس نے کیا کھویا ہے۔۔۔۔ اور یہی اس کی سزا ہے۔۔۔۔۔” رانا صاحب نے شکستہ ہو کر لمبا سانس لیا اور کمرے کے جانب بڑھ گئے۔
“رانا صاحب ارحام کو واپس لائے۔۔۔۔۔ وہ ابھی زیادہ دور نہیں گیا ہوگا۔۔۔۔۔۔ پلیزززز اسے روک لے۔۔۔۔۔ کہاں جائے گا۔۔۔۔۔ اسے دنیا کے سختیوں کا کوئی اندازہ نہیں ہے۔۔۔۔۔ اسے لیں کر آئے۔۔۔۔ مجھے اپنا بیٹا چاہیئے۔۔۔۔” کرن روتی رانا صاحب کی منت کرنے لگی۔
“وہ اپنی مرضی سے گھر چھوڑ کر گیا ہے۔۔۔۔ آنا ہوا تو خود واپس آجائے گا۔۔۔۔۔ میں کہی نہیں جا رہا۔۔۔۔۔ ہمارے نرمی کے آڑ میں اس نے بہت سے گناہ کئے ہیں۔۔۔۔۔ اب یہ اس کی سزا کا دور ہے۔۔۔۔۔۔ یہ اسے اکیلے کاٹنا ہے۔۔۔۔۔” رانا صاحب نے سختی سے انکار کر دیا۔
“ایسا مت کہے۔۔۔۔ وہ ابھی بچہ ہے۔۔۔۔۔ جنون میں غلطی کر دی ہے۔۔۔۔ ایسی سزا مت دے اسے۔۔۔۔۔ بچے کے ساتھ ضدی ہونا ضروری تو نہیں۔۔۔۔۔۔ مجھے اپنے بیٹے سے دور نا کریں۔۔۔۔۔۔ میں جی نہیں سکوں گی۔۔۔۔۔ ” وہ ان کا بازو جھنجوڑ رہی تھی۔
“یہ راستہ اس نے خود اپنے لیئے چنا ہے۔۔۔۔ ماں باپ کا کام اولاد کو صحیح راہ دکھانا ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔ اولاد غلط راہ کا انتخاب خود کرتے ہیں۔۔۔۔۔” وہ بہت مشکل سے اپنے ضبط پر قابو کیئے ہوئے تھے۔
“وقت ہر چیر کو بدل دیتا ہے۔۔۔۔۔ کوئی بھی چیز ہو یا انسان۔۔۔۔ وہ ہمیشہ ایک جیسا نہیں رہ سکتا۔۔۔۔۔ تم بھی وقت کے ساتھ سنبھل جاو گی۔۔۔۔۔” رانا صاحب اپنا بازو چھڑا کر آگے بڑھ گئے۔
“اور آپ کیا کریں گے۔۔۔۔” دل ٹوٹ کر ریزا ریزا ہوگیا تھا۔
“میں مان لوں گا۔۔۔۔ میرا کبھی کوئی بیٹا ہی نہیں تھا۔۔۔۔۔ میری بس ایک اولاد ہے۔۔۔۔۔ اور وہ ہے عائرہ۔۔۔۔۔” رانا صاحب کے الفاظ کرن کے دل کو کچلنے کافی تھے۔ وہ یک ٹک ان کی پشت دیکھتی رہی۔
اس بات نے نا صرف کرن کو بلکہ دروازے پر کھڑی عائرہ کو بھی منجمد کر دیا تھا۔ وہ اپنی جگہ جامد ہوگئی تھی۔
کرن شل سی چلتی کمرے سے باہر نکل گئی۔ اور تب رانا صاحب کو احساس ہوا وہ کرن کو پھر سے کھو چکے۔ وہ ساتھ ہو کر بھی پھر سے دور ہوچلی تھی۔
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
“تمہیں کبھی خوشی نہیں ملے گی ارحام مبشر۔۔۔۔ دیکھ لینا۔۔۔۔۔ محبت کے لیے ترسو گے۔۔۔۔۔ اپنوں کا پیار تک نصیب نہیں ہوگا۔۔۔۔۔ ایک معصوم دل کو اس قدر توڑ کر اگر تمہیں لگتا ہے تم اللہ کی پکڑ سے بچ جاو گے۔۔۔۔۔۔ تو یہ تمہاری غلط فہمی ہے۔۔۔۔۔۔ اس کی لاٹھی بے آواز ہے۔۔۔۔۔ میری بد دعا ہے۔۔۔۔ تم کبھی سکون سے نہ رہو۔۔۔۔۔ تم کبھی خوش نہ رہو۔۔۔۔۔ اپنے اپنوں کو بھی ترس جاو۔۔۔۔” دانین بے آواز آنسو بہاتی ارحام کو کوس رہی تھی۔
17 سال میں ہی دانین کا اپنے قبیلے کے لڑکے سے نکاح ہو چکا تھا۔ وہ اس وقت دلہن کے سرخ جوڑے میں سجی اس کمرے میں بیٹھی اپنی قسمت پر رو رہی تھی جب دروازہ کھلا اور سلمان جلیل خان اندر داخل ہوا۔
دانین نے تیز تیز اپنے بھیگے رخسار صاف کیئے۔ اپنی لرزش قابو کرنے وہ سانس روکے مٹھیاں سختی سے مینچھے ہوئے تھی۔
20 سالہ سلمان مسرور ہوتا بیڈ کنارے بیٹھا اور اپنی کم سن بیوی کو دیکھ کر مسکرایا۔ دانین نے ایک مرتبہ بھی نظریں اٹھا کر اس کے جانب نہیں دیکھا۔
ارحام کی ظلموں کی ستائی ہوئی وہ اتنا ڈر گئی تھی کہ اپنے محرم سے بھی اسے خوف لگ رہا تھا۔
سلمان نے پہل کرتے پہلے اسے منہ دکھائی کا تحفہ دیا پھر اس کے قریب کھسکا۔ دانین کا دل دھڑکنے لگا اس کی کپکپاہٹ میں مزید اضافہ ہوگیا تھا۔
جیسے جیسے سلمان رقبت بڑھا رہا تھا۔ دانین کی حالت غیر ہوتی جارہی تھی۔ اس نے اپنے اضطراب کو قابو رکھنے کی کوشش کرتے آنکھیں میچھ لی۔ اور آنکھیں بند کرتے ہی خود پر جھکے ہوئے ارحام کا چہرہ اس کے ذہن پر لہرایا۔ ایک جھٹکے سے آنکھیں کھولتی وہ بے اختیار ہاتھ اٹھا کر پیچھے ہوگئی۔ سلمان حیرت زدہ ہو کر اسے دیکھنے لگا۔
“سسس سوری۔۔۔۔ ووووووہ۔۔۔۔۔ ” وہ گھبرا گئی۔ اسے اپنی حرکت پر شرمندگی کا احساس ہوا۔
“آپ کو جو کرنا ہے۔۔۔۔۔ کر لیں۔۔۔۔۔” وہ ہمت کر کے واپس آگے ہوگئی۔ لیکن تب تک سلمان کے تاثرات بدل گئے تھے۔
“کوئی بات نہیں۔۔۔۔ تم ابھی فزیکل نہیں ہونا چاہتی تو ٹھیک ہے۔۔۔۔ میاں بیوی کا رشتہ پیار اور اعتماد سے بنتا ہے۔۔۔۔۔ زور زبردستی کر کے نہیں۔۔۔۔۔ دراصل غلطی میری ہے۔۔۔۔۔ ابھی ابھی تو ملے ہیں اور میں۔۔۔۔۔۔” سلمان کو اپنے بہکنے پر افسوس ہوا۔
دانین نے پہلی مرتبہ سلمان کو دیکھا۔ وہ ارحام جتنا ہینڈسم اور چارمنگ نہیں تھا۔ اس میں ارحام جیسی کوئی کشش نہیں تھی۔ 20 سالہ سلمان درمیانہ قد کاٹ اور سانولی رنگت کا مالک تھا۔ کالی گہری آنکھیں سخت چمڑی لیکن دل ہیرے جیسا شفاف۔
اس وقت دانین کو احساس ہوا دنیا میں ارحام جیسے لڑکی کو پیروں کی جوتی سمجھنے والی ہی نہیں بلکہ سلمان جیسے محرم ہوتے ہوئے بھی اس کو عزت دینے والے اس کی مرضی کا خیال رکھنے والے مرد بھی ہوتے ہے۔
محرم رشتے کا وہ پہلا سکون دانین کے دل کے زخموں پر مرہم کی طرح لگا۔ اس کی آنکھیں بھیگنے لگی۔
“نہیں رووو مت۔۔۔۔ میں سچ میں کچھ نہیں کروں گا۔۔۔۔ پلیزز رو مت۔۔۔۔۔” سلمان اس کے آنسو دیکھ کر پریشان ہوگیا اور اس کے پاس سے اٹھ کر دور ہوگیا۔
دانین روتے روتے بھی مسکرا دی۔ اس نے اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ادا کیا۔ بیشک وہ پاک ذات بہترین سے نوازنے والا ہے۔
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
“میں نے گھر چھوڑ دیا ہے۔۔۔۔ اب وہاں کبھی نہیں جاوں گا۔۔۔۔” ارحام اس وقت ہائی وے کے پاس البرٹ کے ساتھ بیٹھا تھا۔
“تو اب۔۔۔۔۔” البرٹ نے شاکی انداز میں پوچھا۔
“اب کچھ بھی کر۔۔۔۔۔ مجھے یہاں سے کہی دور بھیج دے۔۔۔۔۔ مجھے اس ملک میں ہی نہیں رہنا۔۔۔۔۔ پلیز البرٹ آخری مدد کردو۔۔۔۔۔ ” ارحام اس کے آگے ہاتھ جوڑے منت کرنے لگا۔ البرٹ نے اس کا کندھا تھپتھپایا اور سوچنے لگا۔
(حال)
ماضی کی داستان سناتے سناتے پیرس کے خوبصورت شہر میں شام ہو چلی تھی۔
اصلاح کے سو الفاظ سے زیادہ تجربے کی ایک ٹھوکر انسان کو مضبوط بناتی ہے۔ کچھ باتیں سمجھانے پر نہیں بلکہ خود پر بیت جانے پر ہی سمجھ آتی ہے۔
ارحام کو بھی ٹھوکر کھا کر سمجھ آگئی تھی۔
اس نے گیلی سانس اندر کھینچ کر خود کو نارمل کیا اور سامنے بیٹھی حدیل کو دیکھا تو اس کے رخسار آنسوؤں سے تر ہوچکے تھے۔
ارحام کا دل دہل گیا اس نے میز پر بازو رکھ کر آنکھیں بند کر لی اور اپنی پیشانی بازو پر ٹکا دی۔ اسے رونا آرہا تھا۔ اسے لگا وہ حدیل کو کھو چکا ہے۔ وہ اب کبھی اس کی طرف مڑ کر بھی نہیں دیکھے گی۔
اسے دانین کی بد دعا لگ چکی تھی۔ اللہ کی بے آواز لاٹھی اس پر پڑ چکی تھی۔ وہ اپنوں سے دور تھا۔ وہ ماں باپ کے پیار کو ترس رہا تھا۔ اور اب تو حدیل کی محبت بھی اس کے نصیب میں نہیں رہی تھی۔ وہ پھر سے اکیلا ہوچکا تھا۔
حدیل نے آنکھیں بند کر کے زخمی سانس خارج کی۔ وہ فیصلہ نہیں کر پا رہی تھی کہ وہ اس وقت اپنے سامنے بیٹھے ٹوٹے ارحام پر افسوس کرے یا ماضی کے جنونی ارحام پر غصہ۔ اس نے گیلی سانس اندر کھینچ کر پلکیں جھپکائی۔ اپنے رخسار صاف کئے۔ اس وقت اس کے پاس کہنے کو کچھ نہیں تھا۔ وہ بنا کچھ کہے اٹھ کر جانے لگی۔
اسے جاتے دیکھ کر ارحام کے چند آنسو ٹوٹ کر تھیوری پر لڑک گئے۔ اس سے حدیل کو روکنے کی ہمت نہ ہوئی۔ وہ آنسو صاف کرتے سامنے ریت پر بیٹھی ایک فیملی کو دیکھنے لگا۔ میاں بیوی اور دو بچوں کی اس فیملی کو دیکھ کر ارحام کو اپنی فیملی شدت سے یاد آئی تھی۔
وہ 12 سالہ بچہ اپنے پاپا کے ساتھ والی بال کھیل رہا تھا۔ ماں اور بیٹی انہیں دیکھ کر خوش ہورہے تھے۔
ایک زور دار شاٹ کے ساتھ بال پانی کے جانب اچھل گئی اور بچہ بال لینے کے ارادے سے سمندر کے جانب بھاگا۔
اس وقت سمندری لہروں میں طغیانی برپا تھی اور بچہ تیز لہروں کی زد میں آگیا۔ ساحل کنارے بیٹھے لوگوں میں شور و غل مچ گیا۔
اپنے آپ میں مگن تیز تیز چلتی حدیل نے شور سنا تو رک گئی اور واپس پلٹ کر کیفے کے جانب بھاگی۔
وہ فرینچ آدمی بار بار اپنے ڈوبتے بیٹے کو بچانے پانی میں جانے کی کوشش کرتا لیکن تیز لہروں کا بہاو اسے پیچھے دھکیل دیتا۔ ماں اور بیٹی بلند آواز آہ و بکا کرنے لگیں۔
کوئی بندہ سمندر کے لائف گارڈز کو اطلاع دینے بھاگا تو کوئی پولیس کو کال ملانے لگا۔ ارحام سے مزید صبر نہ ہوسکا۔ وہ رش کو پیچھے کرتا آگے آیا۔ اپنی جیکٹ اور جوتے اتار کر وہ تیز رفتار سمندر کے جانب بھاگا اور تیز لہروں میں چھلانگ لگا دی۔
“ارحام۔۔۔۔۔۔” حدیل کے پیروں تلے زمین نکل گئی۔ وہ دل ہی دل اللہ سے اس کی خیریت کی دعائیں کرنے لگی
ارحام اپنے تیراکی کے جوہر دکھاتا اس پچے تک پہنچ گیا اور اسے اٹھائے واپسی کنارے پر لیں آیا۔ اس کی ماں نے اپنے بچے کو سینے سے لگا لیا اور وہ آدمی آبدیدہ ہو کر فرینچ میں ارحام کا مشکور ہونے لگا۔ اسے سراہتے فضا میں سیاحوں کی تالیاں گونج اٹھی۔
وہ سر کو خم دیتے اپنے شوز پہن کر جیکٹ ہاتھ میں اٹھائے گیلے بال پیچھے کرتے وہاں سے روانہ ہوگیا۔ چند قدم آگے جا کر وہ رک گیا اور مڑ کر امید بھری نگاہ سے حدیل کو دیکھا۔ وہ افسردگی سے مسکرائی اور بھاگ کر اس کے پاس آگئی۔
“یووووو۔۔۔۔۔ کچھ ہوجاتا تو۔۔۔۔۔” اس کے کندھے سے لگ کر وہ شکوہ کرنے لگی۔
دنیا میں کوئی نہ کوئی ایسا ضرور ہوتا ہے جس کی کوئی بات بری نہیں لگتی۔۔ جس پر آپ کو کبھی غصہ نہیں آتا۔۔ جس سے آپ چاہ کر بھی کبھی ناراض نہیں ہوسکتے۔ اور حدیل کے لیے وہ کوئی نہ کوئی ارحام تھا۔ وہ چاہ کر بھی اس سے دور نا جا سکی تھی۔
اس کی انا نے اسے توڑا تھا اور اب حدیل نے اپنے محبت سے اسے بٹورنا تھا۔ یہ فیصلہ حدیل کر چکی تھی۔
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
ایک ہفتہ clichy میں محنت کر کے اسے کچھ حاصل نہ ہوا۔ ارحام کے متعلق اسے کوئی معلومات ہاتھ نہ لگی اور نہ ہی جیکواس ملا۔
آج وہ saint ouen کے شہر میں داخل ہوچکا تھا۔ بلیک پینٹ کے ساتھ ریڈ ہائی نیک پہنے بال اور شیو ترتیب سے بنائے وہ ترچی ٹوپی پہن کر اور گلے میں بلیک مفلر لپیٹے رات کے وقت ہوٹل کے کمرے سے باہر آیا۔
ابھی وہ پارکنگ میں چل رہا تھا کہ اس کا موبائل بجا۔ یہ ٹیون الارم کی تھی۔ اس نے تاریخ اور وقت چیک کیا تو پاکستان میں اس وقت بارہ بج گئے تھے۔ اس نے مسکراتے ہوئے عائرہ کا نمبر ملایا۔
“جان کی جان۔۔۔۔۔۔ happy anniversary۔۔۔۔۔۔ ” اس نے خوش دلی سے وش کیا۔
عائرہ عنودگی میں مسکرا دی۔
“تھینکیو۔۔۔۔۔۔ اب جلدی سے واپس آجاو۔۔۔۔” چند دن پہلے کی اس کی ناراضگی ختم ہوگئی تھی۔
“آجاوں گا۔۔۔۔۔ اور تمہارے لیے ایک سرپرائز بھی لاوں گا۔۔۔۔۔” اس نے کار اسٹارٹ کرتے ہوئے کہا۔
“کیسا سرپرائز۔۔۔۔۔” عائرہ خوشی سے چہک اٹھی۔
“یہ تو آکر ہی بتاوں گا۔۔۔۔” اس نے شرارتی مسکرا کر کہا اور الوداع لیتے کال کاٹ دی۔
فرانس کا شہر Saint ouen جیکواس کا بڑا اڈا تھا اور ذرائع کے مطابق پتا چلا تھا کہ اس کے آدمی رات کو شہر میں نکل کر دنگا فساد کرتے ہیں اس لیے اس نے جیکواس تک پہنچنے کے لیے رات کا وقت چنا۔
آدھے راستے تک پہنچ کر بہزاد نے اسے کال کر کے ایک مخصوص جگہ بلا لیا۔
“سر۔۔۔۔۔ جیکواس اندر ہے۔۔۔۔۔ پولیس اسے جھڑپنے کے لیے کارروائی کر رہے ہیں۔۔۔۔۔” اس کے پہنچتے ہی بہزاد نے در پیش حالت سے آگاہ کیا۔
وہ دونوں ابھی اس ٹنل کے سرے پر کھڑے تھے جب شور برپا ہوا۔ جیکواس بھاگ نکلا تھا۔ اس کا پیچھا کرتے ان دونوں نے بھی دوڑ لگا دی۔ وہ بات بات پر گن نکالنے والا فرانس کے قوانین کے آگے پابند تھا۔ اس لیے خالی ہاتھ جیکواس کا تعاقب کر رہا تھا۔
اس نے ایک جگہ رک کر آس پاس دیکھا اور ایک شارٹ کٹ کی تلاش کرتے تنگ گلی میں در آیا۔ اس گلی کا دوسرا حصہ مین سڑک کے دوسرے حصہ میں کھلتا تھا جہاں سے جیکواس بھاگ رہا تھا۔
جیکواس اپنا بھاری برکم وزن لیئے رفتار تیز کرنے کی کوشش کر رہا تھا جب سامنے سے اس نے آکر جیکواس کا گلہ دبوچ لیا۔ جیکواس آنکھیں بڑی کر کے اسے دیکھنے لگا۔
اس کے آنکھوں کا دہشت کسی اور سے بہت مشابہت رکھتا تھا۔
“سر۔۔۔۔ اسے ہمارے حوالے کریں۔۔۔۔۔ ہم سچائی اگلواتے ہیں۔۔۔۔” بہزاد نے وقت پر پہنچ کر جیکواس کو اس کے شکنجے سے آزاد کیا۔
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
“وہ تو دو ماہ سے زیادہ میری پاس نہیں رکا۔۔۔ بھاگ گیا تھا۔۔۔ کہاں گیا مجھے نہیں معلوم۔۔۔۔۔” آفسر کے پوچھ گچھ پر جیکواس نے اتنا ہی جواب دیا۔
“آخری مرتبہ کب اور کہاں دیکھا تھا۔۔۔۔۔ پوچھو اس سے۔۔۔۔” اس نے جیکواس کا گریبان پکڑا اور بہزاد کو فرینچ میں پوچھنے کا کہا۔
“میٹرو اسٹیشن میں۔۔۔۔۔۔ 4 اپریل کو۔۔۔۔۔ قریب صبح گیارہ بجے۔۔۔۔۔” جیکواس نے یاد کرتے ہوئے ٹھہر ٹھہر کر بتایا۔
وہ بہزاد کو لیئے وہاں سے روانہ ہوگیا۔ اس کا مزید جیکواس سے کوئی لینا دینا نہیں تھا۔ اب فرانس کی سرکار جانے اور جیکواس۔ اسے صرف ارحام چاہیئے تھا۔
“سر۔۔۔۔ یہاں تو منٹ کے رفتار سے ٹرین آتی جاتی ہے۔۔۔۔ ایک گھنٹے میں دو سو ٹرینیں اس اسٹیشن پر آتی جاتی ہیں۔۔۔۔ اب کیا پتہ جیسے آپ ڈھونڈ رہے ہو۔۔۔۔۔ وہ کس ٹرین سے گیا ہو۔۔۔۔” اسٹیشن انتظامیہ نے معذرت خواہاں انداز میں وضاحت پیش کی اور کوشش کرنے کی یقین دہانی کروائی۔
“مجھے 4 اپریل صبح گیارہ بجے کی ساری سی سی ٹی وی فوٹیچ چاہیئے۔۔۔۔۔” اس نے ہار نہیں مانی۔
بہزاد رخ موڑے اس بے تاج بادشاہ کو دیکھنے لگا۔ اسے اس کی ہمت پر رشک ہونے لگا۔
اسٹیشن انتظامیہ نے سر اثابت میں ہلایا اور اسے سیکیورٹی روم کے جانب لیں گئے۔
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
“چلو۔۔۔۔۔ ” ارحام کے دروازہ کھولتے ہی وہ اسے ساتھ لے جانے لگی۔
صبح کے ساڑھے سات بجے تھے اور ارحام ابھی ابھی اٹھا تھا۔ اس کی خستہ حال اس کی شپ بیداری کی ساری کیفیت بیان کر رہی تھی۔
“کہاں جانا ہے۔۔۔۔” ارحام نے آنکھیں مسلتے سستاتے ہوئے ہوچھا۔
“ایک خاص جگہ۔۔۔۔۔” حدیل نے اسے گھما کر اس کی پشت کو پکڑے واشروم میں دھکیل دیا اور جلدی سے فریش ہونے کی ہدایت دی۔
“اب تو بتا دو۔۔۔۔ کونسی خاص جگہ لے جارہی ہو۔۔۔۔۔” ارحام سے صبر نہیں ہوا گیا۔ وہ دونوں ایک ریسٹورنٹ میں بیٹھے ناشتہ کر رہے تھے۔
“ٹرسٹ می۔۔۔۔۔ تمہیں بہت اچھا لگے گا وہاں۔۔۔۔” حدیل نے جوس کا آخری گھونٹ پیتے ہوئے کہا۔
ناشتہ کر کے وہ دونوں پیرس کے مسلم کمیونٹی سینٹر آگئے تھے۔ وہ ایک بڑے سے ہال پر مشتمل عمارت تھی۔ جس میں نماز پڑھنے کی جگہ۔ مدرسہ۔ اور اسلامی کتابوں سے بھری ایک لائبریری تھی۔
حدیل نے اندر داخل ہوتے گلے میں لیا اسکارف سر پر اوڑھ لیا تھا۔ ایک پل کے لیے ارحام اس کا یہ روپ دیکھ کر حیرت زدہ ہوگیا تھا اور اندر کا مناظر دیکھتے اس کی حیرانگی میں مزید اضافہ ہوگیا تھا۔ وہاں ہر طبقے کے بڑے بزرگ نئے جوان اور بچے موجود تھے۔
“السلام علیکم سر۔۔۔۔۔” حدیل نے امام داود کو سلام کیا۔
“وعلیکم السلام حدیک فرانسیسکو۔۔۔۔۔ کیسی ہو۔۔۔۔۔ کافی دنوں بعد آئی ہو۔۔۔۔۔” امام صاحب نے اسے خوش آمدید کہا۔
“سر یہ میرے فرینڈ ہے۔۔۔۔ ارحام۔۔۔۔۔۔” حدیل نے ارحام کے جانب اشارہ کرتے اسے متعارف کروایا۔
داود صاحب نے ارحام کا بھی اسی خوش دلی سے استقبال کیا۔ ان کے آفس تک آکر حدیل امام صاحب کی اہلیہ سے ملنے عورتوں کے حصے میں چلی گئی اور ارحام امام داود صاحب کے ساتھ ان کے کیبن میں اکیلے رہ گیا۔
اس نے دیکھا امام داود کے آفس میں ویل چیئر پر ایک معذور عمر رسیدہ خاتون بیٹھی تھی۔ امام صاحب مسکراتے ہوئے اس کے پاس گئے اور ان کو پانی پلا کر واپس اپنی نشت پر آکر بیٹھے۔
“میری ماں ہے یہ۔۔۔۔ ” داود صاحب نے ارحام کے تاثرات سے اس کا سوال جانچ لیا تھا۔ ان کے جواب پر ارحام نے اوو کرتے ہونٹوں کو جنبش دیا اور پھر سے اس معذور عمر رسیدہ خاتون کے جانب دیکھا۔
“تمہارے پیرنٹس کہاں ہے۔۔۔۔۔ ” انہوں نے گلاسس لگاتے ہوئے بغور ارحام کے جانب دیکھا۔
“پاکستان میں۔۔۔۔۔” ارحام ان کی نظروں سے متذبذب ہو گیا۔
“تم ان کے پاس کیوں نہیں ہو۔۔۔۔” داود صاحب نے آنکھیں چھوٹی کی۔
“ماں اور باپ دونوں ہی ایک انسان کے زندگی کا سر چشمہ ہوتے ہیں۔۔۔۔ ان کے بغیر انسان کی ذات نا مکمل ہے۔۔۔۔۔ دولت چلی جائے تو واپس آسکتی ہے۔۔۔۔۔ گھر گاڑی بھی دوسری لے سکتے ہیں۔۔۔۔ حتہ کہ شادی بھی دوبارہ کر سکتے ہیں۔۔۔۔۔ لیکن ماں باپ وہ سرمایہ ہے۔۔۔۔ جو ایک دفعہ ہاتھ سے چلا گیا۔۔۔۔۔ تو کبھی کسی اور سے ری پلیس نہیں کر سکتے۔۔۔۔۔ اس نعمت کا کوئی نعمل بدل نہیں۔۔۔۔” امام صاحب اسے ماں باپ کی اہمیت سمجھانے لگے۔
“اگر ماں کے پیروں تلے جنت ہے۔۔۔۔ تو باپ اس جنت کا سایہ دار درخت ہے۔۔۔۔۔ اور پھر ہمارے دین اسلام میں ماں باپ کے بہت سے فرائض بیان کئے گئے ہیں۔۔۔۔ اللہ تعالی کو وہ بشر بلکل نہیں پسند جس کی وجہ سے اس کے ماں باپ کی دل آزاری ہو۔۔۔۔۔ اللہ کے قریب تین چیزوں کی معافی نہیں ہے۔۔۔۔۔ پہلا شرک۔۔۔۔۔ دوسرا زنا۔۔۔۔۔۔ اور تیسرا والدین کو اذیت دینے والوں کی۔۔۔۔۔۔ اللہ ہمیں ایسے شر سے بچائے۔۔۔۔۔” نصیحت کرتے ہوئے آخری فقرے پر امام صاحب نے جرجری لی۔ مانو ایسا گناہ سوچ کر بھی وہ خوف میں مبتلا ہوگئے ہو۔
ارحام خاموشی سے ان کی نصیحت سن رہا تھا۔ اس کا ضمیر اسے ملامت کرنے لگا۔ اس نے باپ کا سر شرم سے جھکا دیا تھا۔ اس نے ماں کو رلا دیا۔
کچھ سایہ دار درخت ایسے ہوتے ہیں۔ جن کا سایہ چھن جانے کے بعد محسوس ہوتا ہے۔ اس وقت امام صاحب کی باتیں سن کر ارحام کو شدت سے رانا صاحب کی، اپنے ڈیڈ کی کمی محسوس ہورہی تھی۔
“حدیل۔۔۔۔۔ اپنے فرینڈ کو کمپنی دو۔۔۔۔۔ میرے لیکچر کا وقت ہورہا ہے۔۔۔۔” امام صاحب نے حدیل کو کیبن میں داخل ہوتے دیکھ کر مخاطب کیا اور خود باہر کے جانب بڑھ گئے۔
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
جاری ہے۔۔۔
