Rate this Novel
Episode 9
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
وہ اپنے گینگ ٹیم کے لوگوں سے میٹنگ ختم کر کے جب اپنے محل نما گھر میں داخل ہوا تو سامنے ہال میں رکھے صوفے میں سے ایک صوفے پر اُسے بیٹھے دیکھ وہ اُس پر سے اپنی نظریں ہٹانا بھول گیا۔
“”””میرے قریب مت آئے پلیز ابھی بھی وقت ہے آپ یہ سب روک لیں مم۔ میں کوئی سمجھوتا نہیں چاہتی ہو میں ساری زندگی نا خوش رہ کر زندگی نہیں گزارنا چاہتی ہو ۔۔۔””””
وہ اُسے اپنی طرف بڑھتے ہوئے دیکھ بُری طرح سے لرزتی ہوئی بولی۔۔
جبکہ مقابل پر اسکی باتوں کا کچھ بھی اثر نہیں ہوا وہ تو اُسکے حسین سراپے میں کھویا ہوا اسکی طرف بڑھ رہا تھا کیونکہ وہ سفید عروسی لباس میں ملبوس حُسن کی مورت لگ رہی تھی وہ آہستگی سے قدم اُسکی طرف بڑھانے لگا۔۔
“””میں نے کہا رک جائے میرے نزدیک مت آئے آپکو کیا سنائے نہیں دیتا میں کیا کہ رہی ہو۔۔۔”””
وہ اُسکی چیخ سے اسکے سحر سے باہر نکلا۔۔۔
“”سویٹ گرل اب تمھیں ساری زندگی اپنے قریب صرف میں ملوں گا۔ اس نکاح کو روکنے کا مطلب میں اپنی گردن دبا کر خود اپنی سانسوں کو روک لوں تو سویٹ ہارٹ اگر تُمھاری یہی چاہ ہے تو میں ہنستے ہنستے تمھاری یہ چاہ بھی قبول کروں گا رہی سمجھوتے کی بات تو میں تُمھیں اتنی چاہ دو گا کہ تُم سمجھوتہ بھول کر جاناں میرے عشق میں ڈوبتی چلی جاؤ گی۔۔۔””””
وہ اُسے دیکھتے ہوئے اُسکے قریب پہنچ کر ایک ہی جست میں اُسے اپنی پناہوں میں لے کر گھمبیر آواز میں کہنے لگا۔
“”””آپ غلط کر رہے ہیں آپ نکاح کو مزاق میں کیوں لے رہے ہیں۔ جبکہ نکاح ایسے نہیں کیا جاتا نکاح کیلئے لڑکی کے ماں باپ کا موجود ہونا اور لڑکی کا راضی ہونا بے حد ضروری ہوتا ہے۔۔۔”””
وہ اُسکی باہوں میں سمٹی سمٹی سی سخت سٹپٹا کے بولنے لگی۔۔۔
“””سویٹ گرل تمھاری ماں اب اس دنیا میں نہیں ہے اور باپ کو صرف تمھاری بہن سے محبت ہے تُم اس وقت بہت اکیلی ہو تمھارا سربراہ ہوتے ہوئے بھی تُم سے لاپرواہی برتا جا رہا ہے تو میں تمھیں کیسے اس دنیا کے حوالے کر دو ہاں بولو تُم جاناں میں تمھارے معاملے میں لاتعلق بالکل بھی نہیں ہونا چاہتا ہوں اور نہ ہی تمھیں خود سے دور کرنا چاہتا ہوں۔۔”””
وہ اُسکے بائیں رخسار کو انگلی سے چھو کر نرم لہجے میں اُسے اپنی عشق کا یقین دلانے لگا۔۔۔
“””میری ماں آپکی وجہ سے مری ہے اگر آپ ایک گینگسٹر نہ ہوتے یا پھر آپکا وجود اس دنیا میں نہ ہوتا تو آج میری ماں میرے ساتھ ہوتی۔۔۔””””
وہ روتی ہوئی اُسکے چوڑے سینے پر مکا مارتی ہوئی کہنے لگی۔تو فرغام سلطان اپنے سینے پر اُسکی خوبصورت ہاتھوں سے مکا مارنے پر مبہم سا مسکرایا۔
“””تُمھاری ماں میری وجہ سے نہیں مری۔۔۔۔وہ اس ملک کے فورسز کی کارروائی کے دوران مری ہے میں تمھاری ماں کا قاتل نہیں ہو۔۔۔””””
وہ اپنی مسکراہٹ کو لبوں سے ہٹا کر ابکے سنجیدگی سے کہنے لگا۔۔
“”””وہاں فورسز بھی تو آپکی وجہ سے آئی تھی آپ میری نظروں میں ایک درندے اور قاتل ہے۔۔۔”””
وہ نروٹھے پن سے کہتی اُسکی مضبوط کندھوں کو پکڑ کر بُری طرح سے جھنجھوڑنے لگی۔۔۔
“””میں قاتل ہوں مائے سویٹ گرل مگر ایک درندہ نہیں۔۔۔۔”””
وہ اُسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر تندو لہجے میں کہنے لگا۔۔۔
“””شششش جاناں اب تمھیں جو کہنا ہے نکاح کے بعد کہنا۔۔””
وہ اُسکی بات پر کچھ بولنے کے لیے اپنا منہ کھولنے لگی تو فرغام سلطان نے اپنی بھاری انگلی اُسکی نرم و ملائم لبوں پہ رکھ کر اُسنے اسے کچھ کہنے سے روک دیا۔
اور پھر اُسکا ہاتھ پکڑ کر اسے لیے اس محل نما گھر سے باہر نکلا۔۔۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
وہ دونوں اس وقت ایک مسجد میں تھے ابھی تھوڑی دیر پہلے ہی اُنکا نکاح سادگی سے ادا کیا گیا تھا فرغام سلطان اس وقت بنا ماسک کے پرسکون انداز میں بیٹھا تھا۔۔
اُسنے گاڑی سے نکلتے ہی اپنے چہرے سے ماکس ہٹا دیا تھا اسکے چہرے پر اس وقت کوئی گلٹ کوئی خوف نہیں تھا۔کیونکہ اُسے بالکل بھی فکر نہیں تھی کیونکہ اُسکے اصل چہرے کو آج تک اسکے دشمنوں نے نہیں دیکھا ہے اسی لیے وہ اتنا پرسکون تھا۔۔۔
وہ دونوں مسجد سے نکل کر جب گاڑی میں آکر بیٹھے تبھی فرغام نے رخ اسکی جانب موڑ کر اُسے اپنی فتح بھری نظروں سے دیکھتے ہوئے اپنا مضبوط ہاتھ آگے بڑھا کر وہ اُسکے نازک سراپے کو پکڑ کر اپنے بے حد قریب کرتا شدت سے اُسکی سانسوں کو اپنی سانسوں میں سمانے لگا تو وہ اس اچانک افاد پر شرم سے سرخ ہو کر اُسکے چوڑے سینے پر ہاتھ رکھ کر سختی سے اسکی کالر کو پکڑنے لگی۔۔
“””پلیز مجھے اس طرح ہاتھ مت لگائیں پلیز۔۔۔”””
وہ اُسکے چھوڑنے پر نظریں نیچے جھکا کر منمناتی ہوئی بولی۔۔۔
تو فرغام اسکی شرم سے سرخ گالوں پر شرارت سے ایک بار پھر سے جھکا روحین اس عمل پر اپنے گال پر ہاتھ رکھ کر ساکت نظروں سے اُسے دیکھنے لگی جو زومعنی انداز میں مسکرا رہا تھا۔۔۔
“”” روحِ جانا اب مجھے تمھیں مکمل ہاتھ لگانے کا اختیار ملا ہے تو میں کیوں نہ تمھیں ہاتھ لگاؤں۔۔۔”””
وہ اُسکی لبوں کے کناروں کو چھوتا مخمور نظروں سے اُسکے سفید عروسی لباس میں ملبوس نازک سراپے کو دیکھنے لگا۔۔۔
“””آپکو اختیار ملنے کا یہ مطلب نہیں کہ آپ مجھے اس طرح ہر جگہ چھوتے پھریں۔۔۔”””
وہ اُسکی ہونٹوں کے لمس سے تڑپتی اُس سے دور ہوتی لرز کر بولی۔۔
“””روحِ جان اگر تمھیں میرا یہاں پیار کرنا سخت بُرا لگ رہا ہے تو تُم اجازت دوں تو میں تمھیں ابھی ہوٹل میں لیجا کر۔۔”””
وہ اُسکے قریب آکر اُسے تھوڈی سے پکڑ کر زومعنی انداز میں مسکرا کر کہتا بُری طرح سے لرزنے پر مجبور کر گیا۔۔۔
“”””ہہ۔۔۔ہوٹل میں کی۔۔۔کیوں۔۔۔”””
وہ ہوٹل کا نام سن کر اُس دن کے فرید الماس والے واقعے کو سوچ کر بری طرح سے جھرجھری لینے لگی۔۔۔
“””اپنی سبز آنکھوں والی پری کو پیار کرنے کے لیے اُسکا ڈر کم کرنے کے لیے اُسے اپنی شدتوں سے پیار کرنے پر مجبور کروانے کے لیے۔۔””
گھمبیر لہجے میں کہتا وہ اُسکا چہرہ سر سے پکڑ کر اپنے چہرے کے قریب لاکر وہ اُسکی ستواں ناک کو چھو کر اُسکے گالوں کو باری باری چھونے لگا۔۔۔
جبکہ روحین کی سانسیں اُس ڈیول کی نزدیکی سے اور اسکی گستاخیوں کی وجہ سے بُری طرح سے اکڑ رہی تھیں۔۔۔
“””مم۔۔۔میں آپ سے کبھی پیار نہیں کروں گی۔”””
وہ یہ کہتی ہوئی اُسکی لمس کو اپنی گردن پر محسوس کرتے بُری سے خود میں سمٹتی چلی گئی۔۔۔
“””جاناں میں تمھیں اتنا مجبور کر دوں گا کہ تُم میرے بنا سانس بھی نہیں لے پاؤ گی۔۔””
اُسکی نازک شولڈر پر برائڈل ڈریس کی بندھی ڈوری کو کھول وہ اسکی شفاف کندھے کو نرمی سے چھونے لگا جبکہ روحین کا تو حلق خشک ہوگیا اپنی میکسی کی ڈوری کھلنے پر وہ نم آنکھوں کو مزید نیچے جھکا کر اپنی گود میں رکھے نازک ملائم ہاتھوں کو وہ شرم سے کھسنے لگی۔
“””آپ پلیز یہ مت کریں پلیز۔۔۔”””
وہ جب دوسری ڈوری کی جانب بڑھا تو وہ تڑپ کر اُسے خود سے دور کرتی اُسکے آوارہ لبوں پر اپنے نازک ہاتھ رکھ کر اُسے روکنے لگی جو شاید آج اُسکے وجود کے ہر ہر حصے کو مہکانے کے لیے بیتاب ہو رہی تھیں۔۔۔
“””روحِ جان میں خود کی سفاکیت سے تھک چکا ہوں پلیز جاناں تُم آج خود میں مجھے کھونے دوں مجھے آج میری اصلیت کو بھول جانے دوں تُم اُسے میری درخواست سمجھ کر قبول کر لوں پلیز مجھے خود میں کھونے کی اجازت دے دوں میں اب بہت زیادہ تھک چکا ہوں بہت زیادہ۔۔۔””””
اچانک سے وہ اُسکی نازک ہاتھوں کو پکڑ کر جذبوں کی آنچ میں دہکتے لہجے میں لگا تو روحین اسکی آنکھوں میں اس وقت درندگی کے بجائے درد بے بسی اور نجانے کیا کیا دیکھنے لگی۔۔
“””مم۔۔۔میں کوئی طوائف نہیں ہو جو آپکے بھکرے وجود کو سمیٹوں اور ناہی میں خود کو آپکی بیوی سمجھتی ہو جو آپ مجھ سے یہ نا مناسب درخواست کر رہے ہیں۔۔۔”””
وہ اُسکے ہاتھوں کو بری طرح سے جھٹکتے ہوئے بولی۔۔
“”تُم کتنی سخت دل ہو روحِ جان۔۔۔”””
وہ سخت بے چارگی سے کہتا اُسکی ڈریس کو صحیح کرنے لگا ۔۔۔
“””آج کے بعد آپ مجھے اس نام سے نہیں بلائے گے۔۔۔””
روحین اُسکی انگلیوں کو اپنے کندھے پر محسوس کر کے پیچھے کھسکتی ہوئی نروٹھے پن سے کہنے لگی۔۔۔
“””””””بالکل بھی نہیں میں تمھاری یہ بات تو بالکل بھی نہیں مانوں گا بس آج سے تُم میری روحِ جان ہوں اور میں تمھیں ابھی اور اسی وقت سے تمھیں اسی نام سے بلایا کروں گا ۔۔۔”””””
سفید عروسی جوڑے میں ملبوس روحین کے حُسن سے آج وہ ڈیول جو کسی سے کبھی نہ ہارنے والا آج پہلی بار اپنی محبت کے آگے ہار تسلیم کر رہا تھا۔۔
“””” کیوں ۔۔۔؟؟؟
روحین کی لمبی پلکیں اُسکی قربت اور خوف کی وجہ سے نیچے جھکتی ہی چلی جا رہی تھیں اور سرخی لگے ہونٹ اُسکی اس بے نام رشتے کی وجہ سے بُری طرح سے لرز رہے تھے۔۔۔
“””کیونکہ تُم میری روح کی درماں بن چکی ہو اسی لیے اب سے میں تمھیں اپنی روحِ جان کہوں گا۔۔۔۔”””
فرغام سلطان آگے بڑھا اور اُسکی نرم و ملائم سُرخ رخساروں کو باری باری چھومتے ہوئے گھمبیر آواز میں کہنے لگا۔
روحین اُسکی اِس بے ساختہ گستاخی پر اپنی ڈھرکنوں کو شدت سے مچلتے ہوئے محسوس کرنے لگی۔
“”””آپ پلیز مجھ سے دور ہو کر بات کریں مجھے یہ پسند نہیں ہے۔۔۔””””
وہ اُسکی گستاخی کی وجہ سے شرم سے سرخ ہوتی اُسکے چوڑے سینے پر اپنا نازک ہاتھ رکھتی اُسے پیچھے دھکیل کر کہنے لگی۔
“””یہ کیا پسند نہیں ہے تُمھیں میری روحِ جان۔۔۔۔؟؟؟
اُسکی زومعنی انداز سے پوچھنے پر روحین کی ڈھرکنیں الگ اُسکی بے باکی سے اتھل پھتل ہونے لگی۔
اور شرم سے جیسے اُسے اپنی کانوں سے دھوئیں نکلتے ہوئے بھی محسوس ہونے لگے۔۔۔
“””””آپکا نزدیک آنا ۔۔۔”””””
اپنی سبز آنکھوں میں حیا کی لالی لیے وہ اُسکے قریب آنے پر سٹپٹا کر پیچھے کھسکتی ہوئی بولی۔۔
“””لیکن روحِ جان مجھے تو تُمھارے قریب آنا بے حد پسند ہے۔۔۔””””
وہ اُسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اُسے کندھوں سے پکڑ کر بوجھل لہجے میں کہتا اُسکی سانسوں کو اپنی سانسوں میں سمانے لگا۔
“”””دد۔۔۔۔دور ہو جائے پلیز۔۔۔۔””””
روحین کی نظریں اچانک سے اُسکی آنکھوں کے نیچے چھوٹے سے کٹس پر پڑی تو وہ ڈر کے باعث ساکت ہوگئی اور جب اُسے ہوش آیا تو وہ اُسے پیچھے دھکیل کر گہری گہری سانسیں لیتی ہوئی بھاری نم آواز میں کہنے لگی۔۔۔
“”””لیکن کیوں میری روحِ جان۔۔۔۔””””
وہ اُس سے دور آنکھوں میں حیرت لیے اُس سے پوچھنے لگا۔
“”””کیونکہ مجھے یہ آپکا چہرہ بلکل بھی پسند نہیں ہے مجھے اُسے دیکھ کر بہت ڈر لگتا ہے آآ۔۔۔۔آپ پلیز مجھ سے دور ہو جائے مجھے اپنی یہ ڈراؤنی شکل مت دیکھائے وو۔۔ورنہ میں مر جاؤں گی۔۔۔۔””””
روحین اُسکی آنکھوں کے نیچے سالوں سے پرانی چاقو کی مدد سے لگیں کٹس کو دیکھتی شدید ڈرتی پیچھے کھسک کر کہنے لگی۔
“”””روحِ جان میں چاہتا ہوں تُم سے اپنی اس ڈراؤنی شکل کے پیچھے چھپی پوشیدہ راز کو تُم سے شئیر کروں مگر مجھے تُمھاری اس طرح صرف ہمدردی ملے گی محبت نہیں اِسی لیے میں یہ راز تُم سے پوشیدہ رکھنا چاہتا ہوں مجھے ہمدردی نہیں مجھے بدلے میں صرف محبت چاہیے اور محبت کیا ہوتی ہے یہ تُم سے مل کر مجھے پتہ چلا ہے میں وعدہ کرتا ہوں میں ہمیشہ تُم سے اپنی جان سے بھی زیادہ محبت کروں گا تُمھیں کبھی نقصان نہیں پہنچاؤں گا اور نہ ہی پہنچانے دوں گا۔۔۔”””
فرغام سلطان نے اُسکی بات پر شدید غصے سے اپنی مٹھیاں کھسی اور اُسکی جانب اپنی سرخ نظروں سے دیکھتے ہوئے اس نے کہنا شروع کر دیا وہ ہمیشہ سے اپنے چہرے کے کٹس کو خود سے بھی چھپاتا آیا تھا تاکہ وہ ان کٹس کو دیکھ کر وہ سب کچھ دوبارہ سے یاد نہ رکھیں جو ماضی میں اُسکے ساتھ ہوا تھا وہ انہیں کسی راز کی طرح اپنے گھر کے ایک کونے میں دفنا چکا تھا۔
لیکن اُسکے اس راز سے صرف کیوان واقف تھا مگر آج اتنے سالوں بعد اُسے اُسکی محبت نے اِن کٹس کا ذکر کرکے اُسکے پرانے زخموں پر نمک چھڑک دیا تھا۔۔۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
“””یہ کس کی قبر ہے۔۔۔؟؟؟
وہ مسجد سے اُسے سیدھا یہاں اس قبرستان میں لے کر آیا تھا اور جب اُسے ایک قبر کے پاس لا کر اُسنے اسکا ہاتھ چھوڑا تو وہ اُسکی جانب دیکھتے ہوئی پوچھنے لگی۔۔۔
“””میری ماں کا۔۔۔”””
ضبط سے بھاری ہوتی آواز پر روحین نے اپنی آنکھیں سامنے کھڑے شخص پر گاڑ دی جسکا چہرہ جھکا ہوا تھا اور پورا وجود لرز رہا تھا۔۔۔۔
“””آپکی ماں کا۔۔۔”””
وہ حیرت سے پھٹی آنکھوں سے اُسے دیکھتی بڑبڑائی۔
“””ہاں میری ماں کا میری منہ بولی ماں کا قبر ہے یہ روحِ جان جن کے چلے جانے کی وجہ سے میں آج ایک بُرا انسان بن گیا ہوں آج ستائیس مارچ ہے آج کے دن ہی انہوں نے اپنے بچوں کو روتا ہوا چھوڑ کر اس دنیا کو خیر باد کہہ دیا تھا۔۔۔””
وہ ضبط سے سرخ ہوتی آنکھوں کے آگے اُس منظر کو جسکی وجہ سے وہ اپنی اس منہ بولی ماں کو کھو بیٹھا تھا جس نے اسے اسکی سگی ماں سے بھی زیادہ پیار دیا تھا وہ واقعہ نظروں کے سامنے گرزتے ہوئے دیکھ وہ بھاری آواز میں کہنے لگا۔۔
“””وہ کی۔۔۔کیسے۔۔۔”””
وہ سامنے قبر پر نظریں مرکوز کیے اُس سے اسکی ماضی کی بھیانک قصے کے بارے میں پوچھنے لگی۔۔۔
“””یہ بہت لمبی کہانی ہے روحِ جان میں تمھیں پھر کبھی سناؤ گا ابھی تُم اپنی ساس سے ملوں اور جتنا چاہے ان سے میری شکایت لگاؤ میں تمھیں بالکل بھی سزا نہیں دوں گا۔۔۔”””
وہ اپنی سرخ آنکھوں سے نمی صاف کرتا روحین کی جانب دیکھتے ہوئے آخر میں شریر لہجے میں کہنے لگا۔۔
“”””آہہہہہ۔۔۔۔””””
تبھی وہاں کسی نے آکر ان دونوں پر اچانک سے فائرنگ کرنا شروع کر دیا فرغام سلطان نے تیزی سے روحین کو کلائی سے پکڑا اور اسے لیے قبرستان کے دوسری طرف کے دروازے کی طرف بھاگا یہ قبرستان ایک سنسان جگہ میں تھا وہ اسے لیے جب باہر نکلا تو سامنے ایک کھنڈر نما گھر کو دیکھ وہ تیزی سے اس جانب بھاگا۔۔۔۔
“””ڈرؤ مت روحِ جان میں تمھیں کچھ نہیں ہونے دوں گا تُم یہی رہنا باہر مت نکلنا میں ابھی آتا ہو۔۔۔”””
وہ اُسے اس کھنڈر نما گھر میں لاکر محبت سے اسکے رخسار پر ہاتھ رکھ کر کہنے کے بعد واپس مڑا تو روحین نے ہاتھ آگے بڑھا کر جلدی سے اُسے جانے سے روکا۔۔۔
“””آپ اس طرح باہر جائے گے بنا ماسک کے۔۔۔؟؟؟
وہ اُسکی جانب دیکھتی ہوئی پوچھنے لگی۔۔۔
“””کیا میری فکر ہو رہی ہے تُمھیں روحِ جان۔۔۔”””
وہ جانے کے بجائے آگے بڑھا اور اُسکی کمر کے گرد اپنے مضبوط ہاتھ حائل کرتا گھمبیر آواز میں پوچھنے لگا۔۔۔
تو روحین اُس اچانک افحاد پر اُسکی گرفت میں سمٹ کر رہ گئی۔۔۔
“””نن۔۔نہیں تو۔۔”””
وہ اُسکی معنی خیز نظروں سے سٹپٹا کر جلدی سے بولی تو اسکی جلدی پر وہ مسکرا دیا۔۔۔
“””تو پھر یہ تُم رو کیوں رہی ہوں جاناں۔۔۔؟؟؟
وہ ٹمٹماتے گالوں کو لبوں سے چھو کر بوجھل لہجے میں پوچھنے لگا۔۔۔
روحین اُسکی اس گستاخی پر اپنے دل کو تیزی سے ڈھرکتے ہوئے محسوس کرنے لگی۔۔۔
“””میں ڈر کی وجہ سے رو رہی ہو آپ اپنے دل میں یہ پیدا ہو رہی خوش فہمیوں کا گلا دبا دے کیونکہ مجھے آپ سے محبت دور کی بات ہمدردی بھی نہیں ہوگی۔۔””
وہ اُسکی آنکھوں کو اپنی لبوں پر مرکوز دیکھ ڈرتی ہوئی تیزی سے کہنے لگی جبکہ وہ اُسے یوں ہی کمر سے پکڑے کھڑا محبت سے دیکھ رہا تھا اسکا تو دل اسی طرح ہمیشہ کھڑے ہو کر اسے اسی طرح کمر سے پکڑ کر دیکھنے کا چاہ رہا تھا اس وقت شام کے چھ بج رہے تھے وہ باہر فائرنگ کی آوازیں بھول کر اُسے میں کھوتا جا رہا تھا تبھی ایک گولی اس گھر کی ایک کھڑکی پر آکر لگی تو وہ شیشے کے ٹوٹنے پر بُری طرح سے چونکا۔۔
“””دیکھتے ہیں روحِ جان کون جیتتا ہے میری محبت یا تمھاری خوش فہمیاں۔۔۔”””
گولی کھڑکی کو چکنا چور کر گئی تھیں شیشے کے ٹکرے پورے گھر میں بکھر گئے تھے۔۔۔
“”ی..یہ آپ کیا کر رہے ہیں۔۔۔؟؟
وہ اُسے اچانک سے اپنی باہوں میں بھر کر اُسے لیے ایک صاف جگہ ڈھونڈے لگا جہاں وہ ان شیشوں سے محفوظ رہ سکے اور آرام سے یہاں بیٹھ کر اسکا انتظار کر سکے۔۔۔
“””اپنی روحِ جان کی حفاظت۔۔۔”””
وہ اُسے ایک صاف جگہ پر بیٹھا کر اُسکی پیشانی کو چھو کر محبت سے کہنے لگا۔۔۔
“””میں اپنی حفاظت خود کرنا جانتی ہو۔۔۔”””
وہ سخت نظروں سے اُسے گھورتی ہوئی بولی تو وہ اسکی گھوری پر قہقہ لگا کر پیچھے ہٹا۔۔۔
“””یہ اچھی بات ہے فرغام سلطان کی بیوی کو ایسی ہی بہادر ہونا چاہیے۔۔۔”””
ایک بار پھر سے وہ اسکی پیشانی کو چھو کر پیچھے ہٹتے ہوئے کہتا اسے جی بھر دیکھنے کے بعد وہ چہرے پر سنجیدگی سجا کر اس گھر سے باہر نکلتا چلا گیا۔۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
وہ اس کھنڈر نما گھر کے پچھلے حصے سے نکل کر اُس جانب بڑھا جہاں اُسکی گاڑی کھڑی تھی وہ اپنی گاڑی کی جانب بڑھا اور دروازہ کھول کر اندر سے اپنا ماسک اور ریوالور نکال کر آنکھوں میں سرد پن سجاتا اس جانب بڑھا جہاں وہ لوگ موجود تھے جنہوں نے ان پر حملہ کیا تھا۔۔۔
“”””وہاں جانے کی زحمت مت کرو میں یہاں ہوں۔۔۔”””
وہ اپنے دشمنوں کے پیٹھ پیچھے وار کرنے کو بزدلی سمجھتا تھا اسی لیے وہ اُنکے آگے آکر اپنے ڈبنگ لہجے میں انہیں اپنی جانب متوجہ کرنے کے لیے پکارنے لگا۔۔۔
“””فرغام سلطان زحمت تو اب تمھیں دینی پڑے گی اپنی موت کو دعوت دے کر۔۔۔”””
وہ پانچ لوگ تھے ان میں سے ایک آدمی نے اُسکی جانب ریوالور کو ٹان کر شدید نفرت سے کہا۔۔۔
“”تُم جیسے بزدلوں کے ہاتھوں تو میں نہیں مرنے والا بتاؤ کس نے بھیجا ہے تُم لوگوں کو میرے پیچھے تُم لوگوں کے حلیے اور صحت سے یہی لگ رہا ہے کہ تُم لوگ اس الیاس کے تو بندے نہیں ہوسکتے بتاؤ اب
فرید الماس کی طرح کس کو موت کی جلدی ہو رہی ہے۔۔؟؟؟
وہ اُس آدمی کے کندھے پر نشانہ بنا کر سرد لہجے میں پوچھنے لگا تو وہ پانچوں جو اسکے سامنے پہلے بہادری سے کھڑے تھے اسکے گولی سے اپنے ایک بندے کو گرتے ہوئے دیکھ خوفزدگی سے اسکے سینے سے خون کو کسی پھوارے کی طرح بہتے ہوئے دیکھ بُری طرح سے تڑپتے ہوئے ڈر سے دیکھنے لگے۔۔۔
“”بتاؤ کس نے تُم لوگوں کو مجھے مارنے کے لیے بھیجا ہے شک تو مجھے اپنے کسی بندے پر ہے کیونکہ وہی جانتے ہیں کہ میں آج کی تاریخ کو کہاں جاتا ہوں۔۔۔”””
وہ نفرت سے ان لوگوں سے پوچھنے لگا جو اسکے دوسری مرتبہ پوچھنے پر بھی خاموش تھے تو وہ شدید غصے سے ان کو گولیوں سے بھون کر آگے بڑھا اور ان سبھی کی تلاشی لینے لگا تبھی ایک کی جیب سے رنگ ٹون کی آواز پر وہ اس طرف بڑھا جہاں سے رنگ ٹون کی آواز آ رہی تھیں۔۔۔
“””میں نے اور لوگوں کو بھی تُم لوگوں کے پاس بھیجا ہے مجھے پتہ ہے وہ اتنی آسانی سے تم پانچ لوگوں کے ہاتھوں سے نہیں مرے گا۔۔۔”””
اسنے کال اٹھا کر کان سے لگایا تو دوسری طرف موجود شخص کا آواز سن کر وہ شدید غصے سے اپنی مٹھیاں کھسنے لگا۔۔
کیونکہ وہ دوسری طرف موجود شخص کی آواز کو اچھے سے پہچانتا تھا۔۔۔
