No Download Link
Rate this Novel
Episode 5
“””آنٹی ھمیں یہاں سے جلد از جلد نکل جانا چاہیے۔.””
نازلی فائرنگ مسلسل ہوتے دیکھ فریدہ یزدان سے کہنے لگی۔۔۔۔۔۔۔ جو اُسکے ساتھ ایک بہت بڑے سے درخت کے پیچھے چھپی تھیں۔
“””نہیں بیٹا میں باہر نہیں نکل سکتی،اندر باس میرا ویٹ کر رہی ہوگی۔۔۔”””
فریدہ یزدان نے چہرے پر آئے پیسنے کو پونچھتے ہوئے کہا۔۔۔
“آنٹی آپکی زندگی امپورٹڈ ہے یا آپکے باس کا حکم۔۔؟؟
نازلی نے سنجیدگی سے اُن کی جانب دیکھتے ہوئے پوچھا ۔۔
“””بیٹا اس وقت باس کا حکم میرے لیے زیادہ اہم ہے، اور ایک صحافی کے لیے اپنا ملک زیادہ امپورٹڈ ہے جان نہیں۔۔۔”””
فریدہ یزدان نے محب وطن ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے کہا۔۔۔
“””آنٹی جس طرح آپ اس وقت اپنا فرض نبھا رہی ہے،اسی طرح میں بھی اپنا فرض نبھانا چاہتی ہو،پلیز میرے ساتھ باہر چلے اگر میرے ہوتے ہوئے آپ کو کچھ ہوا تو میری بہادری پر سوال اٹھایا جائے گا میری لاپرواہی پر لوگ نفرت کرنے لگے گے مجھ سے پلیز آنٹی اپنی بیٹی کی خاطر میرے ساتھ باہر چلے۔۔۔”””
نازلی نے انہیں سمجھاتے ہوئے کہا۔۔۔
“”””بیٹا اس وقت تو یہاں بہت فائرنگ ہو رہی ہے، ہم کیسے باہر نکل سکتے ہیں۔۔۔؟؟؟
فریدہ یزدان فائرنگ کی آوازیں قریب سنتے ہوئے کہنے لگی۔۔۔
“””آنٹی آپ فکر مت کریں میں کوئی نہ کوئی راستہ دیکھ لوں گی۔۔۔”””
نازلی کہتی اپنے اردگرد دیکھنے لگی۔۔۔
“”””تُم یہاں کیا کر رہی ہو۔۔۔۔”””””
کیوان کآردال جو ایک آدمی کو مارنے کے لیے اُس آدمی کے پیچھے یہاں آیا تھا سامنے نازلی کو کسی عورت کے ساتھ دیکھ کر وہ اس آدمی کو آگے بڑھ کر نازلی اور فریدہ یزدان کے سامنے ہی گردن پکڑ کر بُری سے مڑور کر آدمی کو نیچے پھینک کر شدید غصے سے آگے بڑھتے ہوئے نازلی کو فریدہ یزدان سے دور کرتے ہوئے پوچھنے لگا۔۔۔
“”””تُم جیسے غنڈوں کو اس دنیا سے مٹانے کے لیے یہاں آئی ہو۔۔۔”””
نازلی ایک زور دار پنچ دوسرے ہاتھ سے کیوان کآردال کے گال پر مارتی ہوئی غرا کر بولی۔۔۔۔
“””بکواس بند کرو تُم مجھے پتہ ہے تُم یہاں صرف بے کو نقصان پہنچانے کے لیے آئی ہو،میں اچھے سے جان چکا ہوں کہ تُمھارا اور بے کا کیا رشتہ ہے۔۔”””
کیوان کآردال نے دوبارہ اُسے اپنی مضبوط گرفت میں جکڑتے ہوئے شدید غصے سے کہا۔۔۔
“”””میرا اُس جانور سے کوئی رشتہ نہیں ہے سمجھے وہ میرے لیے صرف ایک مجرم ہیں اس سے آگے کچھ بھی نہیں مانتی میں اُس جانور کو چھو۔چھوڑو مجھے تُم اسکے پالتو کتے ہو،پہلے میں تمھیں ماروں گی،تاکہ وہ کمزور ہو جائے۔۔۔”””
نازلی اُس سے اپنا آپ چھڑاتی ہوئی نفرت سے بولی۔۔
وہ دونوں بُری سے لڑ رہے تھے کہ تبھی پولیس کی جانب سے ہوائی فائر شروع ہوگئی تو کیوان کآردال اسکی کلائی پر پکڑ اور بھی زیادہ مضبوط کرتا قدم آگے بڑھانے لگا۔۔۔
“”””چھوڑ۔۔۔چھوڑوں مجھے یہ تُم مجھے کہاں لے کر جا رہے ہو آنٹی تو وہی ہے پاگل انسان انہیں اگر کچھ ہوا نہ تو میں تمھارے جان نکال لونگی ۔۔۔؟؟؟
نازلی اُسکے پیچھے کٹی پتنگ کی طرح گرتی پڑتی آگے بڑھ رہی تھی تبھی فریدہ یزدان کا خیال آتے ہی وہ زور سے چیختی ہوئی کہنے لگی۔۔۔۔
“””ہوں میں تو اُس عورت کو بھول گیا تُم یہی پر میرا ویٹ کروں میں ابھی انہیں لے کر یہاں آتا ہو۔۔۔”””
کیوان کآردال ایک روم میں آکر جلدی سے اُسے کہتے ہوئے تیزی سے باہر کی طرف بھاگا۔۔۔۔
دوسری طرف فریدہ یزدان جو وہی کھڑی تھی وہ اُسی نوجوان کو اپنی جانب بڑھتے ہوئے دیکھ ڈر کر پیچھے ہٹنے لگی،،، کیونکہ اُسکے چہرے پر لگے ماسک پر فرغام سلطان کا نام موٹے عرف سے لکھا ہوا تھا،اور یہ ماسک صرف فرغام سلطان کے خاص بندے پہنتے تھے۔۔۔۔
“””””آپ گھبرائیے مت ہم کسی بے گناہ کو بلکل بھی نقصان نہیں پہنچاتے ہیں،میں یہاں صرف آپکی جان بچانے کے لیے آیا ہوں چلے میرے ساتھ میں آپکو آفیسر نازلی کے پاس چھوڑ آتا ہوں۔۔۔”””
فریدہ یزدان کی ساکت نظریں صرف اُس نام پر تھی جو کیوان کآردال کی ماسک پر لکھی ہوئی تھی۔وہ سخت گھبراہٹ کے عالم میں اپنے قدم پیچھے کی جانب لے رہی تھیں۔۔
کہ تبھی ایک گولی اُنکے سر کو چیرتی ہوئی نکل گئی تو وہ بُری طرح سے چیخ مار کر نیچے گر گئی۔تو فاصلے پر کھڑا کیوان کآردال انکی چیخ پر تیزی سے آگے بڑھا جو نیچے گر کر بری طرح سے تڑپ رہی تھی۔۔۔۔
🌚🌚🌚🌚🌚🌚🌚🌚🌚🌚🌚🌚🌚🌚🌚
“””””تُم لوگ مجھے چیلنج تو ایسے کر رہے ہو،جیسے تُم لوگوں کو یقین ہے،میں اُس ڈرپوک لڑکی کو جانتی نہیں ہو بس تم لوگوں سے بچنے کے لیے یہ کہہ رہی ہو کہ میں اس لڑکی کو جانتی ہو۔۔اگر میں تُم لوگوں کی یہ غلط فہمی دور کر دوں، تو کیا تُم لوگ مجھے یہاں سے جانے دو گے۔۔۔۔؟؟؟
عروبہ اُس سینئر گروپ کو دیکھتی ہوئی بولی۔۔۔
“””””ہاں اگر تُم نے یہ ثابت کر دیا کہ تُم اُس لڑکی کو سچ میں جانتی ہو تو ہم تمھیں یہاں سے جانے دے گے اور اگر تُم ناکام ہوئی تو ہم تمھیں بہت بڑی سزا دے گے ۔۔۔””
اُس گروپ کے لیڈر نے سنجیدگی سے عروبہ کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔
“””ٹھیک ہے مجھے منظور ہے۔۔۔”””
وہ مسکراتی ہوئی اپنا نازک ہاتھ آگے کرتی ہوئی کہنے لگی۔۔۔
“””پہلے جاکر یہ بات ثابت کروں پھر میں خود دوستی کا ہاتھ بڑھاؤ گا۔۔۔”””
لیڈر نے سنجیدگی سے اُسکے بڑھے ہاتھ کو دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔
“””اوکے تو پھر مجھے کالج کے ایک ایسی جگہ کے بارے میں جلدی سے بتاؤ،جہاں زیادہ اندھیرا ہو،اور
وہ جگہ سنسان اور کافی ڈراؤنا بھی ہو،”””
عروبہ نے اُس گروپ کے لیڈر سے پوچھا۔۔
“””وہ کیوں۔۔۔۔؟؟؟
اس گروپ کے لیڈر نے اچھنبے سے اُسکی جانب دیکھتے ہوئے پوچھا۔۔۔
“””یہ ایک راز کی بات ہے میں بعد میں بتاؤ گی،جب ہم سب دوست ہونگے تب۔۔۔”””
عروبہ شاطرانہ مسکراہٹ چہرے پر سجا کر اُس ٹیم کے لیڈر سے کہنے لگی۔۔۔
“”””ہوں مطلب تُم کچھ بُرا اور بڑا کرنے والی ہو۔۔۔””””
سبھی گروپ ٹیم ممبر اپنی لیڈر کی بات پر چہرے پر ایک شیطانی مسکراہٹ سجا کر ایک دوسرے کو دیکھنے لگے جسے دیکھ کر عروبہ اور بھی زیادہ شیر ہوگئی ۔۔
🌚🌚🌚🌚🌚🌚🌚🌚🌚🌚🌚🌚🌚🌚🌚
“””یہ انہیں کی۔۔۔۔کیا ہوا ہے۔۔۔؟؟؟
نازلی اُسکے بازوؤں میں فریدہ یزدان کے نیم مردہ وجود کو دیکھ سکتے میں آگئی اور آگے چل کر نم آواز میں اس سے پوچھنے لگی۔
اس وقت اُسے فریدہ یزدان میں اپنی ماں نظر آنے لگی جو اسی طرح اُسے چھوڑ کر چلی گئی تھی صرف اُس درندے کی وجہ سے اور آج ایک بار پھر سے اُس درندے کی وجہ سے کوئی اور معصوم اپنی جان سے جانے والا ہے۔۔۔
“””انہیں سر پر گولی لگی ہے اور مجھے لگتا ہے یہ۔۔”””
کیوان کآردال اُسکی آنکھوں میں نمی دیکھ بیچ میں ہی رک گیا۔۔۔
“”‘چپ کیوں ہوگئے ہاں بتاؤ کہ یہ اُس جانور کی وجہ سے اپنی سے ہاتھ دھو بیٹھی ہے۔۔۔اخر انکی کیا غلطی تھی ہاں بولو کیا غلطی تھی ۔۔؟؟؟
نازلی اُسے ایک زور دار تھپڑ مار کر غصے سے چیختی ہوئی پوچھنے لگی۔۔۔
“””یہ سلطان بے کی گولی کا شکار نہیں ہوئی ہے،یہ اس ملک کے محافظوں کی گولی کا شکار ہوئی ہے،تُم کیسے اتنی بدگمان ہو سکتی ہو ہاں وہ تمھارے۔۔۔۔”””
کیوان کآردال فریدہ یزدان کے مردہ جسم کو سامنے رکھے ٹیبل پر لیٹا کر نازلی کی جانب مڑ کر چیختے ہوئے کہنے لگا۔۔۔۔
“””وہ میرا کچھ نہیں لگتا ہے۔وہ صرف اس ملک کا دشمن ہے اور میرا اور ان آنٹی کی بیٹی کا مجرم ہے میں اسے نہیں چھوڑو گی میں اُسے جان سے مار ڈالوں گی۔۔۔”””
نازلی کہتی ہوئی غصے سے اس روم سے باہر نکلنے کے لیے اپنے قدم دروازے کی طرف بڑھانے لگی تو اسے باہر جاتے ہوئے دیکھ کر کیوان کآردال نے ایک ہی جست میں آگے بڑھ کر اُسے اپنے گھیرے میں لے لیا۔۔۔
“””آفیسر نازلی وہ تمھارا بھائی ہے سگا بھائی تمھارے انکار کرنے سے تمھارا اور بے کا رشتہ کبھی ختم نہیں ہوگا سمجھی، اور اگر تم نے انہیں تکلیف پہنچانے کا سوچو بھی نہ تو میں تمھیں جان سے مار ڈالوں گا۔۔۔””
کیوان کآردال نے آنکھوں میں غصے کی سرخی لیے سخت لہجے میں اسے وارننگ کرتے ہوئے کہا۔۔۔
“””نہیں ہے وہ میرا بھائی،وہ صرف میری ماں کا قاتل ہے،میرے بڑے بھائی کا قاتل ہے،وہ ایک خطرناک غنڈہ ہے۔اس ملک کو برباد کرنے والے میرے کبھی میرے کچھ نہیں لگتے ہیں سنا تم نے۔۔۔”””
نازلی غصے سے اسے کالر سے پکڑ کر جھنجوڑ کر سرد لہجے میں کہنے لگی۔۔۔
“””تُمھیں اصل سچائی کا پتہ نہیں ہے نازلی میڈم،اُسے خطرناک کسی اور نے نہیں اس قوم نے بنایا ہے،اس قوم کی حیوانیت نے اسے ایک حیوان بنایا ہے۔وہ اپنی ماں اور بھائی کا قاتل نہیں ہے،بلکہ یہ پورا معاشرہ اسکی ماں بھائی کا قاتل ہے،اسی لیے وہ فیلنگز کو بھول چکا ہے،اسکے دل میں صرف نفرت بھری گئی ہے،اس ملک کے خلاف اب اگر تم اسکے سامنے جاؤ گی،اور اُس سے نفرت سے ملو گی،تو وہ اس پوری عمارت کو بم سے اڑا دے گا۔۔”””
کیوان کآردال شاید فرغام سلطان کی ماضی واقف تھا جو نازلی سے کہہ رہا تھا۔نازلی اسکی بات پر خاموش کھڑی تھی اسکے خاموش ہوتے ہی قدم پیچھے لیتی ہوئی کہنے لگی۔۔۔
“””اپنی بکواس بند کروں،تُم اُسے بچا رہے ہو یہ بے تکی باتوں سے کیونکہ تُم ہمارے ماضی کے بارے میں کچھ بھی نہیں جانتے ہو میں جا رہی ہو اُس شیطان کو ختم کرنے کے لیے جس نے مجھے میرا بچپن محرمیوں میں گزارنے پر مجبور کیا تھا۔۔۔”””
نازلی روم سے نکل کر اُس جانب بڑھی تھی جہاں نیوز کوریج شوٹ کیا جاتا تھا کیوان کآردال فریدہ یزدان کے بے جان جسم کو افسردگی سے دیکھنے لگا کیونکہ وہ ایک بے گناہ معصوم شہری تھی جو انجانے میں فوج کی گولی کا نشانہ بن چکی تھی۔۔۔
دوسری طرف اس عمارت کو فوج نے اپنے گھیرے میں کر لیا تھا فرغام سلطان ہرائم منسٹر کی سیکٹریری کے پاس کرسی لگا کر بیٹھا تھا سامنے کھڑے نیوز اینکر کو ہاتھ سے باہر نکلنے کا اشارہ کرنے لگا۔۔۔
وہ اینکر تیزی سے باہر کی جانب بھاگا تو اسکے پیچھے اسکی پوری ٹیم بھی بھاگی جبکہ وہ سیکٹریری روتی ہوئی تڑپ تڑپ کر اپنا ہاتھ اُسکے جوتوں تلے سے نکالنے کی کوشش کر رہی تھی۔۔۔
“””سلطان مجھے بھی اُن لوگوں کی طرح جانے دو خدا کے لیے۔۔۔”””
پرائم منسٹر کی سیکٹریری ان سبھی کے نکلتے ہی خوفزدہ ہو کر اُس سے گڑگڑا کر کہنے لگی۔۔
“”””کس بنیاد پر میں تمھیں جانے دو سیکٹریری صاحبہ۔۔؟؟؟
اپنے جوتوں سے اُسکے زخمی حصے پر دباؤ بڑھاتے ہوئے سرد لہجے میں پھنکارتے ہوئے کہنے لگا۔۔۔
“””سلطان بے میں پرائم منسٹر کی غلام ہو،وہ جو بھی کام کہتے ہیں، میں وہ کرتی ہو،آج آپکے خلاف عوام کو بھڑکانے کا کام بھی انہوں نے مجھے سونپا تھا۔می۔۔۔میں مجبور ہو۔پلیز آپ مجھے کچھ مت کریں پلیز۔۔۔”””
سیکٹریری بُری طرح سے روتی ہوئی کہہ رہی تھی جو کیمرہ آن ہونے کی وجہ سے پوری عوام پھٹی آنکھوں سے فرغام سلطان کو دیکھ رہی تھی پرائم منسٹر کی سیکٹریری کی بات پر اب وہ غم و غصے سے کمیرے میں نظر آتی سیکٹریری کو شدید غصے سے گھورنے لگے جو نیچے گری بری طرح سے رو رہی تھی۔۔۔
“””تُم سب لوگ باہر کھڑے کیا کر رہے ہو،اڑا دو پوری بلڈنگ کو وہ آج بچنا نہیں چاہیے۔۔”””
محمود الیاس جو بلڈنگ کے باہر اپنی گاڑی میں بیٹھا لیپ ٹاپ کے ذریعے نیوز دیکھ رہا تھا جسے اب فرغام سلطان ہینڈل کر رہا تھا اپنی سیکٹریری کی بات پر شدید غصے سے لیپ ٹاپ سامنے پھینک کر گاڑی سے باہر نکلتے ہوئے سامنے کھڑے اسپیشل فورس کی ٹیم کو جو آفسر لیڈ کر رہا تھا اُسے حکم دینے لگا۔۔۔
“””لیکن سر اندر بہت سارے معصوم لوگ بھی ہے ہم بمباری نہیں کر سکتے ہیں۔۔۔”””
اُس آفسر نے سے کہا۔۔۔
“””میں کچھ نہیں جانتا مجھے وہ مرا ہوا ملنا چاہیے رات ہونے سے پہلے مجھے یہ جگہ کلیئر ملنی چاہیے سمجھے تم لوگ۔۔۔””””
محمود الیاس خود کی سچائی چھپانے کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتا تھا یہ دیکھ کر سامنے کھڑا آفیسر سخت افسوس سے اُسے دیکھنے لگا۔۔۔
نازلی جب اُس روم میں داخل ہوئی تو سامنے زخموں سے چور نیچے گری اُس عورت کو دیکھ وہ نفرت سے اُس درندے کو دیکھنے لگی جس نے عورت سمجھ کر اس پر رحم کرنا بھی گوارہ نہیں کیا تھا۔۔۔
“””””فرغام سلطان آئی ول کل یو۔۔۔۔۔”””
وہ اپنا ریوالور نکال کر شدید غصے سے کہتی فرغام سلطان کے سینے پر نشانہ بنا کر اس پر گولی چلا گئی۔
“”””ہاہاہا ہاہاہا نائس شوٹ۔۔۔””””
فرغام سلطان اپنے کندھے کو پکڑ کر جس سے خون بُری طرح سے بہہ رہا تھا کرسی سے اٹھ کر ہنستے ہوئے کہتا نازلی کی جانب بڑھنے لگا۔۔۔
“آگے مت بڑھنا ورنہ اس بار میرا نشانہ تمھاری پیشانی پر ہوگا سمجھے تُم حیوان۔۔۔”””
نازلی کو اُسے اپنے قریب بڑھتے ہوئے دیکھ یکدم سے اپنی آنکھوں کے آگے اپنی ماں کی خون سے لٹ پٹ لاش نظر آنے لگی تو اُسکا ریوالور والا ہاتھ بری طرح سے کانپنے لگا۔۔۔۔
“”””مجھے تمھارے تیور دیکھ کر پتہ چل گیا ہے کہ تُم ہی اسپیشل فورسز کی آفیسر نازلی ہو،لیکن اس وقت میں بلکل بھی لڑنے کے موڈ میں نہیں ہو آفیسر،مجھے امید ہے ہماری ملاقات جلد دوبارہ ہوگی۔۔۔”””
فرغام سلطان اپنے کندھے سے تیزی سے بہتے خون کو دوسرے ہاتھ کی مدد سے زور سے دبا رہا تھا وہ نازلی کے قریب آکر اُسے زور سے دھکا دے کر باہر کی جانب بڑھا۔۔۔۔
🌚🌚🌚🌚🌚🌚🌚🌚🌚🌚🌚🌚🌚🌚🌚
“””کیا آپ کا آج کالج میں پہلا دن ہے۔۔۔؟؟؟
روحین اپنی کلاس ڈھونڈ رہی تھی تبھی اسے ایک لڑکی نے روکتے ہوئے مسکرا کر پوچھا۔۔۔
“””جج۔۔۔جی۔۔۔”””
روحین اپنی سبز آنکھوں میں معصومیت لیے اُس لڑکی کو دیکھتی ہوئی اٹک کر بولی۔۔۔
“”””تو آپ یہاں کیا کر رہی ہے آپکی تو کلاس شروع ہونے والی ہے۔۔۔۔”””
وہ لڑکی کافی دوستانہ انداز میں اُس سے کہنے لگی۔۔۔۔
“””وہ ایکچولی مج۔۔۔۔مجھے کلاس نہیں مل رہی۔۔۔””
روحین ہاتھوں کو آپس میں جوڑتی ہوئی نظریں نیچے جھکا کر شرمندگی سے کہنے لگی۔۔۔
“””ارے آپ شرمندہ کیوں ہو رہی ہے پہلے دن ایسا تو ہر اسٹوڈنٹس کے ساتھ ہوتا ہے،،، آپ ایک کام کرے میرے پیچھے آئے۔۔۔”””
وہ لڑکی آگے بڑھ کر اُسکے ہاتھوں پر اپنا ہاتھ رکھ کر اُس سے نرمی سے کہنے لگی۔۔۔
“””اوکے۔۔۔”””
روحین تو ہمیشہ سے اتنی معصوم تھی کہ ہر کسی پر بھروسہ کرتی تھی، اس لڑکی پر بھی بھروسہ کر کے اُسکے پیچھے چلنے لگی۔۔۔۔
🌚🌚🌚🌚🌚🌚🌚🌚🌚🌚🌚🌚🌚🌚🌚
“””آفیسر نازلی آپ ٹھیک تو ہے اور یہ بے کہاں ہے۔؟؟”
کیوان کآردال اُسکا پیچھا کرتا جب یہاں پہنچا تو اُسے سامنے دیوار سے ٹیک لگائے دیکھ وہ گھبرا کر تیزی سے آگے بڑھا، اور اُسے شانوں سے پکڑ کر بیقراری سے اُسکا نام پکارنے لگا۔۔
“””وہ ایک بار پھر بھاگنے میں کامیاب ہوگیا ۔۔۔”””””
نازلی فرغام سلطان کے زور سے دھکا دینے کی وجہ سے دیوار سے بُری طرح سے ٹکرانے کی وجہ سے وہ اب بُری طرح زخمی تھی۔۔۔۔
“”””””آخر وہ اپنا کام ادھورا چھوڑ کر کہاں جا سکتے ہیں۔۔۔”””
کیوان کآردال اُسکی باتوں کو نظر انداز کرتے ہوئے خود سے کہنے لگا۔۔۔
“””تُم لوگوں کو کسی کو قتل کرنا ایک جرم نہیں کام لگتا ہے کیسے بے حس انسان ہو تُم لوگ ایک عورت کو بھی تُم نے نہیں بخشا۔۔۔””””
نازلی اُسکی بڑبڑاہٹ سُن کر نفرت سے غراتی ہوئی بولی۔۔۔
“”””یہ اس حالت کی خود زمہ دار ہے۔۔۔”””
کیوان کآردال نے سخت نفرت سے سامنے بُری طرح زخمی پرائم منسٹر کی سیکٹریری کو تڑپتے ہوئے شدید غصے سے دیکھتے ہوئے کہا ۔۔۔۔
“””کیوں ایسا کی۔۔۔کیا کر دیا تھا اُسنے جسکی سزا اُسے اُس ظالم حیوان نے دیا ہے۔۔۔؟؟؟
نازلی اُسکے ہاتھوں کو جھٹک کر نفرت سے پوچھنے لگی۔۔۔
“””بے کا نام اپنے باس کے کہنے پر عوام کے سامنے خراب کر رہی تھی یہ غلطی ہے اُسکی اور بے غلطی کرنے والوں کو کبھی نہیں بخشتا چاہے پھر وہ ایک عورت ہی کیوں نہ ہو۔۔۔””
کیوان کآردال نے شدید نفرت سے پرائم منسٹر کی سیکٹریری کو گھورتے ہوئے سرد لہجے میں کہا۔۔۔۔
“””واہ کیا بات ہے میں تُمھاری باتوں پر ہنسو یا اس عورت کے اوپر تُمھارے بے کی حیوانیت پر روؤ۔۔۔۔۔”””
نازلی پیچھے دیوار سے ٹیک لگا کر بیٹھی شدید نفرت سے اُسے دیکھتی ہوئی بولی۔۔۔
“””وہ بے حس ہے لیکن حیوان نہیں ہے اُسکی فیلنگز کو تم لوگوں کے باپ نے اپنی حیوانیت کی وجہ سے اُس سے چھینے تھے،تُم ساری سچائی سے بے خبر ہو،تو مہربانی کر کے انکو نقصان پہنچانے سے پہلے جاکر اپنی فیملی کے بارے میں معلوم کروں کہ تُم کس فیملی سے بی لانگ کرتی ہو،اگر تمھیں اپنی فیملی کی سچائی کے بارے میں جاننا ہے،تو کل مجھے اس نمبر پر کال ملا دینا میں تمھارے فلیٹ پر آ جاؤ گا، فلحال میرا اس وقت یہاں سے نکل کر تمھارے ظالم بھائی کو ڈھونڈنا ہے کیونکہ وہ آج پہلی بار اپنے مقصد میں ناکام ہو کر اس جگہ سے باہر نکلا ہے مجھے ڈر ہے کہ وہ کسی پر اپنا غصہ نہ نکال دیں تُم اُن آنٹی کی ڈیڈ باڈی کے ساتھ باہر نکلوں گی کیونکہ میں اُنکا ادھورا کام پورا کر کے تب ہی نکلوں گا ۔۔۔”””
اُسے باہوں میں اٹھا کر باہر لے جاتے ہوئے وہ سنجیدگی سے کہنے لگا نازلی اسکی پرسرار باتوں پر خاموشی سے صرف اسکی جانب دیکھنے لگی۔۔
🌚🌚🌚🌚🌚🌚🌚🌚🌚🌚🌚🌚🌚🌚🌚
“” تُم کیوں مسلسل تین دن سے میری آنکھیں بند کرنے پر چلی آتی ہو، مجھے اریٹیٹ کرنے اب اس وقت آکر تُم مجھے چین سے مرنے بھی نہیں دو گی ، اب تو مجھے بہت افسوس ہو رہا ہے کہ میں نے کیوں تمھیں اُس دن جان سے نہیں مارا تھا اگر میں نے تمھیں مارا ہوتا ناں تو تُم آج مجھے اس طرح اریٹیٹ نہ کر رہی ہوتی۔؟؟؟
اس وقت ایک کالج کی پچھلی سائیڈ پر تھا جو کئی سالوں سے بند پڑا ہوا تو وہ ایک خستہ حال کمرے میں ٹوٹی کرسی پر بیٹھا اپنا سر پشت سے لگائے ہوئے تھا کہ تبھی معمول کی طرح جب اُسنے اپنی آنکھیں بند کی تو وہ لڑکی اپنی تمام تر معصومیت کے ساتھ نمودار ہوگئی۔۔۔
“”””آہہہہہہ۔۔۔۔۔”””””
ایک تو وہ آج پہلی بار کسی کی وجہ سے ہارا تھا اوپر سے اب وہ لڑکی اِس وقت آکر اُسکے غصے کو اور بھی زیادہ بڑھا رہی تھی وہ جب بھی اپنی آنکھیں بند کرتا تو وہ اُسکی بند آنکھوں کے آگے آ کھڑی ہو جاتی تیسری بار جب اسکے ساتھ ایسا ہوا تو وہ غصے سے اس کرسی سے اٹھا اور کرسی کو ٹھوکر مار کر زور سے چیخا۔۔۔۔
“””کاش تُم اس وقت میرے سامنے ہوتی تو میں تمھیں جان سے مار دیتا۔۔۔۔”””
وہ غصے سے اس روم کے دروازے کی جانب بڑھتے ہوئے کہنے لگا۔تبھی یکدم سے کسی نے آکر اس روم کا دروازہ کھولا تو وہ تیزی سے پیچھے ہٹا۔ مگر روم میں اندھیرا ہونے کی وجہ سے وہ آنے والوں کو صحیح سے دیکھ نہیں پایا ہاں انکی آواز سے اسے پتہ چل چکا کہ آنے والی لڑکیاں ہے۔۔۔
ایک لڑکی کی آواز اُسے روحین کی آواز کی طرح لگی جسے سُن کر اُسے شدت سے اپنا دل تیزی سے دھڑکتا ہوا محسوس ہوا تو وہ اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر توجہ سے اُسکی آواز سننے لگا۔۔۔۔
جو کافی سہمی ہوئی لگ رہی تھی۔۔
جبکہ دوسری لڑکی کی آواز سے اُسے پتہ چلا کہ وہ ایک شاطر اور ماسٹر مائنڈ لڑکی ہے۔
جو اُس لڑکی کو تکلیف پہنچانے والی ہے جس کی وجہ سے وہ پورے تین دن بے چینی سے گزار رہا ہے،جس لڑکی کو وہ نقصان نہیں پہنچا سکا تھا تو کوئی اسکی موجودگی میں کیسے اسے نقصان پہنچانے کا سوچ سکتا ہے، یہ سوچ کر شدید غصے سے اسکی آنکھیں جلنے لگی اور مٹھیاں کھسنے لگی۔۔۔
“””یہاں اتنا اندھیرا کیوں ہے اور یہاں اسٹوڈنٹس کی۔ کیوں نظر نہیں آ رہے آپ ی۔یہ آپ مجھے کہاں لے کر آئی ہے۔۔۔۔؟؟؟
وہ لڑکی روحین کو کالج کے اُس ایریا میں لے کر آئی تھی جو کئی سالوں سے بند پڑا ہے روحین نے وہاں مکمل اندھیرا دیکھ کر سخت گھبراتے ہوئے اُس لڑکی سے پوچھا۔۔۔
“” یہ جگہ تمھارے لیے پرفیکٹ ہے، کیونکہ کالج کے اس ایریا میں میں نے سنا ہے بہت جیئنیس پروفیسر پڑھاتے ہیں۔۔۔”””
وہ لڑکی اُسکی نازک کلائی پکڑ کر مسکراتی ہوئی کہنے لگی۔۔۔
“”کیا سچ میں یہاں جیئنیس پروفیسر پڑھاتے ہیں۔۔۔؟؟
وہ لڑکی اب اُسکی معصومیت پر سخت غصے سے اپنے دل میں اُسے بری بری گالیاں دینے لگی،مگر بظاہر وہ مسکراتی ہوئی سر ہاں میں ہلانے لگی۔۔۔
“”””ہاں اس ایریا کے بارے میں صرف مجھے اور میری گروپ ٹیم کو پتہ ہے تُم اندر جاؤ، میں بھی تھوڑی دیر میں اپنی گروپ ٹیم کے ساتھ آتی ہو۔۔۔”””
وہ لڑکی اُسے دروازے کے اندر کرتی بولی تو روحین مڑی تبھی اُس لڑکی نے تیزی سے دروازہ بند کر دیا اور زور زور سے ہنسنے لگی۔۔۔
“””کام ہوگیا۔۔۔؟؟؟
روحین یکدم سے وہاں اندھیرا دیکھ جھٹکے سے اپنی آنکھیں بند کرتی آگے بڑھی اور روتی ہوئی دروازہ کھولنے کی کوشش کرنے لگی۔۔۔
لیکن باہر سے آتی آواز پر اُسکے ہاتھ ساکت ہو کر نیچے ہوگئے۔۔۔
“””ہاں ہوگیا سچ میں تُم نے جو اس کے بارے میں کہاں تھا یہ ویسے ہی ہے ایک نمبر کی ٹرسٹ کرنے والی اور ایکسٹرا معصوم پلس ڈرپوک ہاہاہا ہاہاہا۔۔۔””””
“””میری ہارٹ بیٹ کو تیز کرنے والی میری سویٹ گرل یہ بھی کیا اتفاق ہے ناں،میں ابھی تمھیں ہی یاد کر رہا تھا۔۔۔””
روحین ساکت کھڑی باہر سے آتی باتیں سُن رہی تھی تبھی کسی نے پیچھے سے آکر اچانک سے اُسے اپنی آغوش میں بھر کر اُسے ٹائٹلی ہگ کیا اور اُسکی گردن پر اپنا چہرہ رکھ کر نرمی سے اُسکی کان کی لُوں کو بائٹ کرتا اپنی آواز سے اُسکی ساری توجہ باہر کھڑی عروبہ اور اُس ٹیم کے لوگوں سے ہٹا کر اپنی جانب کرا گیا۔۔
“”آا۔۔۔۔۔۔آپ ۔۔۔؟؟؟
روحین اُس آواز کو کیسے بھول سکتی تھی جسکی وجہ سے وہ اب بھی راتوں کو اٹھ کر بری طرح سے ڈر کر ساری رات جاگ کر گزارتی ہے اور آج پورے تین دن بعد وہ اُسے ایک بار پھر سے اپنے سامنے اپنے بے حد قریب دیکھ کر ڈر کے مارے بے ہوش ہو کر سیدھا جاکر اُسکی مضبوط باہوں کے گھیرے میں جا گری۔۔۔۔
🌚🌚🌚🌚🌚🌚🌚🌚🌚🌚🌚🌚🌚🌚🌚
“”””سویٹ گرل تُم اٹھ گئی،تمھیں پتہ ہے تُم وہ پہلی خوش نصیب انسان ہو جسے ڈیول نے مارنے کے بجائے بچایا ہے ۔۔۔””
روحین کی آنکھیں جب کھلی تو وہ خود کو کالج کے بجائے ایک آرام دہ بستر پر دیکھ سٹپٹا کر تیزی سے اٹھ بیٹھی،تبھی اس گھمبیر آواز نے اُسکا چین بُری طرح چھین لیا۔۔
“””آپ ی۔۔۔۔یہ کہاں لے کر آئے ہیں مجھے۔۔۔۔؟؟؟
روحین سامنے صوفے پر
“یہاں آؤ میرے پاس سویٹ گرل۔۔”
کالج یونیفارم میں ملبوس بیڈ پر بیٹھی وہ سر نیچے جھکا گئی کیونکہ وہ کچھ دور فاصلے پر رکھے صوفے پر اس سیاہ کپڑوں میں ملبوس شخص کو جسکا چہرہ ماسک کی وجہ سے چھپا ہوا تھا دیکھنا نہیں چاہتی تھی تبھی اسکی دہشت طاری کرتے لہجے پر وہ اپنا سر اوپر اٹھا کر اُسے دیکھنے لگی جو ہاتھ کے اشارے سے اُسے اپنی طرف بلا رہا تھا۔
“نن۔۔۔نہیں۔۔”
وہ اپنا سر اسی طرح اوپر اٹھائے نفی میں سر ہلانے لگی تو اُسکی سبزی مائل خوبصورت روئی روئی آنکھوں کو دیکھ وہ ساکت ہو کر رہ گیا اسے ابھی ایسا لگا کہ اگر اُسنے اُس پر سے اپنی نظریں نہیں ہٹائی تو یہ خوبصورت آنکھیں اُسکی کمزوری بن جائے گی، وہ خود کو ایسی ہی کمزوریوں سے بچانا چاہتا تھا، مگر وہ اُس وقت خود کو اس کمزوری کے جال میں پھنستا ہوا شدت سے محسوس کر رہا تھا۔۔۔
“ڈرؤ مت سویٹ ہارٹ میں اپنی جان کو کچھ نہیں کروں گا یہاں آؤ اور ناشتہ کروں۔۔”
جن آنکھوں میں دوسروں کیلئے صرف درندگی جھلکتی تھی اُن میں آج سامنے بیڈ پر بیٹھی چھوئی موئی سی لڑکی کے لیے نرمی جھلک رہا تھا۔۔
“نن۔۔نہیں مجھے نہیں کھانا۔۔”
آنکھوں کو صاف کرتی وہ سسک کر بولی ۔
“یقین کرو جاناں اگر تُم اچھے بچوں کی طرح ناشتہ نہیں کروں گی میں تُمہارے پورے کالج کو آگ لگانے کے لیے حکم دوں گا اپنے بندوں کو اور فرغام سلطان کی بات ماننا انکے لیے بہت اہم ہیں اور حکم پر عمل کرنا انکا فرض۔۔”
اُسکی سرسراتی آواز پر وہ سخت گھبرا کر تیزی سے آگے بڑھی اور دوسرے صوفے پر بیٹھ کر جلدی جلدی سے ناشتہ کرنے لگی اور اسے اسطرح ناشتہ کرتے ہوئے دیکھ وہ مسکرا دیا۔۔
“پلیز اب تو مجھے جانے دے ناں میرے دوست میرا ویٹ کر رہے ہوگے اور میری فیملی کو اب تک پتہ چل چکا ہوگا کہ کالج میں کیا ہوا ہے پلیز مجھے یہاں نہیں رہنا میری فیملی پریشان ہو رہی ہوگی۔”
دو لقمہ لینے کے بعد وہ نم آنکھوں کو اوپر اٹھا کر اپنے ہاتھ جوڑ کر کہنے لگی لیکن مقابل کی عقاب جیسی نظریں اُسکی گوری کلائی پر پڑی تو وہ غصہ سے پاگل ہو کر صوفے سے اٹھا۔۔
“سویٹی یہ کس نے کیا ہے۔۔؟؟
وہ نرمی سے اُسکی کلائی پر لگی چوٹ کو چھو کر اُس سے پوچھنے لگا جو بہت پرانا تھا۔
“کک۔۔۔کسی نے نہیں پلیز چھ ۔۔چھوڑیں مجھے۔۔”
وہ اُسکی گرفت سے اپنی کلائی کو چھڑانے کی کوشش کرتی ہوئی بولی۔
“بتاؤ مجھے یہ کس نے کیا ہے۔۔؟؟
وہ اُسکی بات پر مطمئن نہیں ہوا تو اس سے سخت لہجے میں پوچھنے لگا۔
“یہ میرا فیملی بزنس ہے آپ پلیز مجھے بس یہاں سے جانے دے پلیز ورنہ میں مر جاؤ گی۔۔”
وہ آنکھوں میں ڈر اور نمی لیے بولی۔
“پہلے مجھے لگتا تھا کہ مجھ جیسا ظالم بندہ صرف فوج یا پولیس کے ہاتھوں گرفتار ہوگا کسی لڑکی کے عشق میں نہیں لیکن آج ایک معصوم لڑکی کے عشق میں گرفتار ہو کر اندازہ ہوگیا ہے کہ میں فرغام سلطان پورا کا پورا ایک ڈرفوک لڑکی کے عشق میں گرفتار ہو چکا ہوں اب تُمہیں چھوڑنا ممکن نہیں ہے میں اس قید سے نہ خود کو نہ تمہیں رہائی دو گا۔۔”
اُس لڑکی کی بات پر وہ گھمبیر لہجے میں یہ سب کہتا پیچھے مڑا اور فرسٹ ایڈ باکس لاکر اُسے کندھوں سے پکڑ کر صوفے پر بیٹھا کر خود نیچے گھنٹوں کے بل پر بیٹھا اور اسکی کلائی کو پکڑ کر نرمی سے مرہم لگانے لگا۔۔
“پلیز مجھے میری زندگی میں لوٹنے دے اگر میں یہاں رہی نہ تو مر جاؤ کیونکہ آپکے کپڑوں میں سے آتی یہ خون کی ناگوار بو میرے لیے زہر سے کم نہیں ہے۔۔”
وہ اُسے خاموشی سے مرہم پٹی کرتے ہوئے دیکھتی رو کر کہنے لگی تو اُسکی بات پر وہ اپنی آنکھوں کو اوپر اٹھا کر اُسے دیکھنے لگا تو اُن خوبصورت کمدار پلکوں کے پیچھے چھپے حسین سرمئی آنکھوں میں عشق کی چمک دیکھ وہ اپنے دل میں اٹھتے طوفان کو محسوس کر کے بُری طرح سے لرزنے لگی۔۔
“تُم بس میری بن جاؤ تو میں اپنے وجود میں رچی اس بو کو نوچ پھینکوں گا، بس تُم مجھ جیسے خطرناک شخص کو محبت میں فنا ہو جانا سیکھا دو جاناں۔۔”
آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر وہ گھمبیر آواز میں کہتا نرمی سے اُسکے نازک ہاتھوں کو اپنی مردانہ مضبوط گرفت میں لے کر سہلانے لگا۔۔
