122.6K
29

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 26

“چٹاخ۔”
وہ مضبوط قد کاٹھ اور کسرتی جسم کا مالک انسان کو بے قابو ہوتے ہوئے دیکھ بیڈ پر گری خوفزدگی سے دیکھ رہی تھی جب وہ اپنے چہرے کے قریب اُسکے چہرے کو آتے ہوئے دیکھ گھبراہٹ کے مارے وہ زور سے اُسکے چہرے پر تھپڑ مار کر اُسے دیکھنے لگی۔
“تُمھاری اتنی ہمت مجھے اے این کو تھپڑ مارا تُم نے۔”
وہ بے لگام شخص زوردار تھپڑ پڑتے ہی مزید بے لگام ہوکر اُسے نازک کندھوں سے سختی سے پکڑ کر غراتے ہوئے پوچھنے لگا۔
“آہہہہہ چھ۔چھوڑیں مجھے۔”
مقابل نازک جان اپنے کندھوں پر اُسکی مضبوط انگلیوں کو اپنے کندھوں پر دھنستے ہوئے شدت سے محسوس کرتی کراہ کر خود کو اُسکی مضبوط گرفت سے چھڑانے لگی۔
“مجھے اُن لوگوں سے سخت نفرت ہے ڈاکٹر صاحبہ۔جو دوسرے کو کم اور خود کو اُنکے آگے اونچی شے سمجھتے ہیں۔تُمھارا یہ تھپڑ مجھے اُنہیں لوگوں کی یاد دلا گئی ہے۔ اب میں تُمھیں ہرگز نہیں چھوڑوں گا جان لے لونگا میں تُمھاری تُم نے مجھ پر ہاتھ اٹھا کر اچھا نہیں کیا ہے۔”
وہ اُسکے بُری طرح سے ہلنے پر اپنی گرفت میں اور زیادہ سختی لاکر آنکھوں میں قہر کی سُرخی لیے تندوخو لہجے میں کہتا وہ اپنی قربت اور دہشت سے اُسکی پیشانی کو خوف کے باعث عرق آلود کر رہا تھا۔
جبکہ وہ شخص دوبارہ اُس نازک خوفزدہ وجود سے اُسی دشمن جاں کی خوشبو سے اپنے ہوش کھوتا بے خودی سے اُسکے گلابی ہونٹوں پر جھکنے لگا۔
پتہ نہیں کیوں اُس حسینہ کے چہرے پر اس وقت اُسے وہ نظر آ رہی تھیں جسکے لیے وہ تین سال تڑپ رہا تھا۔جس سے اس کے آس پاس رہنے والوں نے اُسکے وجود کے کبھی
نہ ہونے کا اعتراف کیا تھا اُسے پاگل قرار دیا تھا یہاں تک وہ اُسکی وجہ سے لوگوں کیلئے سنکی بھی بن گیا تھا مگر آج تین سال بعد کسی اور وجود پر اُسکا عکس دیکھ وہ بے قابو ہو رہا تھا اُسکے محسن کی ساری محنت کو مقابل بیڈ پر لیٹی لڑکی نے اُس دیوانے کی زندگی میں قدم رکھنے کی وجہ سے ایک ہی دن میں اُس انسان کی محنت کو خراب کر دیا تھا جسکی وجہ سے آج وہ ایک سنکی سے بزنس ولڈ کا بے تاج بادشاہ بن چکا ہے۔
“یہ تُم کیا کر رہے ہو۔؟
وہ آنکھیں پھاڑے جو اُسے اپنے اوپر جھکے ہوئے دیکھ رہی تھی اُسکو بے خودی سے اپنے نازک لبوں پر جھکتے ہوئے دیکھتی تڑپ کر اُسکے چوڑے سینے پر ہاتھ رکھ کر اُسے خود سے دور کرتی ہوئی بولی۔
“اپنی زندگی کا چوتھا ق تل۔”
آنکھوں میں خوفناک تاثر لیے وہ بوجھل لہجے میں کہتا بے خودی سے اُسکی لمبی پلکوں پہ اپنا لب رکھ کر اُس نازک وجود میں کھلبلی مچا گیا۔
“چچ۔چوتھا ق تل۔”
لبوں پہ زبان پھیرتی وہ خوف سے پھیلی آنکھوں کو مزید پھیلا کر اُس سے دور ہونے کی کوشش میں سرگرداں اُسکی گرفت میں مچلتی ہوئی گھٹی آواز میں بولی۔
“ہاں۔”
وہ گھمبیر لہجے میں کہتا اُسکے رخسار پر جھکنے ہی والا تھا کہ وہ تڑپ کر اپنا چہرہ جلدی سے اُسکی دسترس سے دور کر گئی۔
دوسری طرف ڈاکٹر راکیش اور ڈاکٹر روبرٹ جو اندر ہو رہے ہاتھا پائی سے شدید خوفزدہ باہر کھڑے تھے اُس سنکی کو اپنی حد سے باہر نکلتے ہوئے دیکھ وہ تڑپنے لگے اندر وہ جا بھی نہیں سکتے تھے کیونکہ ڈاکٹر سنبل کی وجہ سے اُس نے چیلنج ایکسیپٹ صرف اس لیے کیا تھا کہ وہ اس
پیشنٹ کے پاس صرف اکیلی جائے گی کوئی اسکے ساتھ اس روم میں نہیں آئے گا اور اگر وہ پیشنٹ بگڑا بھی تب بھی کوئی اندر نہیں آئے گا اور ڈاکٹر راکیش نے یہ ساری شرطیں مان کر اپنے پیروں پر خود کلہاڑی مار دیا یہ جانتے ہوئے بھی کہ وہ لڑکی اس ہاسپٹل کے انچارج کی لاڈلی منہ بولی بیٹی ہے پھر بھی اسنے اُس ضدی لڑکی کو اکسایا صرف اس لیے کیونکہ وہ ہر کسی سے بات منوانا خوب جانتی ہے۔
“ڈاکٹر راکیش جاؤ اُسے روکو ورنہ وہ سنکی پیشنٹ آپکی اسٹوڈنٹ اور ڈاکٹر خان کی چہیتی بیٹی کو مار دے گا۔”
ڈاکٹر روبرٹ مسٹر اے این کو ڈاکٹر سنبل پر جھکے دیکھ ڈرتے ہوئے کہنے لگے۔
“ڈاکٹر روبرٹ میں کک۔کیسے اکیلے روک سکتا ہوں آپ بھی چل کر میرے ہلیپ کرے۔”
ڈاکٹر راکیش سنجیدگی سے اُسے دیکھتے ہوئے بولے۔
“اوکے۔”
ڈاکٹر راکیش سے کہتے ہوئے اُنکے پیچھے چلنے لگے تبھی دونوں کو اپنے پیچھے ڈاکٹر خان کی رعب دار آواز سنائی دیا تو وہ جھکٹے سے پیچھے مڑے اور اپنے سامنے وجاہت کے شہکار چالیس سالہ بارعب ڈاکٹر زوریز خان کو دیکھ
وہ خوفزدہ ہوکر رہ گئے۔
“ڈاکٹر راکیش ڈاکٹر روبرٹ آپ دونوں یہاں کیا کر رہے ہیں اور یہ اندر شور کیسا ہے۔؟
ڈاکٹر زوریز خان پر اعتماد چال چلتے اُنکے قریب آ کھڑے ہوگئے اور سنجیدہ نظروں سے اُنکے ہوائیاں اڑاتے چہروں
کی جانب دیکھتے ہوئے اپنے بارعب ازلی سرد لہجے میں پوچھنے لگے۔
“ڈڈ۔ڈاکٹر خان آا۔آپ۔”
وہ دونوں ہکلاتے ہوئے ایک ساتھ گویا ہوئیں۔
“ہاں میں آپ دونوں اس وی آئی پی پیشنٹ کے روم کے باہر کیا کر رہے ہیں اور اندر کون ہے۔؟؟
وہ دونوں کو ترچھی نگاہوں سے گھورتے ہوئے پوچھنے لگے تو اُنکی تفتیش کرنے پر وہ دونوں ہڑبڑا کر ایک دوسرے کو دیکھنے لگے۔
“ڈاکٹر خان وو۔وہ ڈاکٹر سس۔سنبل۔”
ڈاکٹر روبرٹ نے ہمت کرتے ہوئے بلآخر کہہ دیا۔
اپنی بیٹی کا نام سُن کر وہ ساکت رہ گئیں۔
“وہاٹ آر یو میڈ اُسے کیوں اُس پیشنٹ کے پاس اکیلے بھیجا وائے آپ لوگ جانتے بھی تھے کہ وہ ابھی پروفیشنل نہیں ہے ابھی وہ صرف ایک اسٹوڈنٹ ہے پھر بھی آپ لوگوں نے اُسے ایک سنکی پیشنٹ کے پاس بھیجا اینڈ میک شیور اُسنے اس پیشنٹ کے کیس کو اسٹڈی بھی نہیں کیا ہوگا ایم آ رائٹ ڈاکٹرز۔”
وہ ہوش میں آ کر اُن دونوں پر بھڑکتے ہوئے سرد لہجے میں کہنے لگے جبکہ وہ تینتیس سالہ ڈاکٹرز اپنے سینئر کی ڈانٹ سر جھکا کر سننے لگے۔
“یف.”
دونوں نے یک زبان ہوکر کہا جسے سن کر ڈاکٹر زوریز کے غصلات مزید تن گئے وہ اُنہیں سرد نگاہوں سے گھورنے لگے۔
“ہوں شٹ میں اندر جاکر اس پیشنٹ کو قابو کر کے اپنی بیٹی کو باہر نکالو پھر میں دیکھوں گا آپ دونوں کو ڈاکٹرز میرے روم میں جاکر میرا ویٹ کریں۔”
اُن دونوں کو سرد لہجے میں کہتے تیزی سے وہ اے این کے روم میں داخل ہوئے تو ڈاکٹر راکیش اور ڈاکٹر روبرٹ انکی بات پر ڈر سے بُری طرح سے کپکپانے لگے کیونکہ وہ صرف نام کے سخت نہیں تھے بلکہ وہ اصل میں ایک ہٹلر قسم کے انسان تھے اپنے ہاسپٹل میں اتنی لاپرواہی وہ کبھی برادشت نہیں کرتے تھے آج تو بات انکی چہیتی بیٹی کی تھی تو وہ کیسے اُن دونوں کو بخشتے۔
“ہوں نو ڈاکٹر راکیش میں نے آپ سے کہا تھا ڈاکٹر سنبل کو مت چیلنج کرے دیکھ لیا آپ نے اپنی لاپرواہی کا نتیجہ اب مجھ بے قصور کو بھی ڈاکٹر خان کی ڈانٹ سننے ہوگی۔”
ڈاکٹر زوریز خان کے جاتے ہی وہ بُری طرح سے خوفزدہ ہوگئے ڈاکٹر روبرٹ بلاوجہ اپنے پھنسنے پر آگ بگولہ ہو کر ڈاکٹر راکیش کی جانب دیکھتے ہوئے کہنے لگے۔
🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥
رات کے ٹھیک دو بجے جب فرغام سلطان نے ہر سوں خاموشی محسوس کیا تو وہ اٹھا اور اپنی چٹائی کے نیچے سے ایک چھوٹا سا چاقو نکال کر خاموشی سے واپس اُسی جگہ پے جاکر بیٹھا اور لبوں پہ پرسرار مسکراہٹ سجا کر سامنے لگے سیکورٹی کیمرے کی جانب دیکھنے لگا جو بلکل اسی جانب تھا جہاں وہ بیٹھا تھا۔
“گڈ بائے مائے سویٹ اینمی۔”
کیمرے کی جانب دیکھتے ہوئے وہ لبوں کو جنبش
دیتے ہوئے ہلکی آواز میں کہہ کر اپنی کلائی پر چاقو کو بے دردی سے پھیر گیا تو دیکھتے ہی دیکھتے سیاہ فرش اُسکے خون سے رنگنے لگا اُسکے نیلے کپڑے سرخ ہونے لگے۔
“ہوں نو یہ کیا کر دیا تُم نے مجنوں کی اولاد۔”
جب ایک مجرم پانی پینے کیلئے اٹھا تو ہلکی زرد روشنی میں فرش پر خون کو دیکھ پھٹی آنکھوں سے اُسے دیکھتے ہوئے اپنے پاس تھوڑی دور سوئے ساتھی کو اٹھا کر کہنے لگا۔
“کیا ہوا تُم اتنی رات کو پاگلوں کی طرح چیخ کیوں رہے ہو.؟
شاکر نامی مجرم اپنی آنکھوں کو ملتے ہوئے اٹھا اور ناگواری سے اپنے ساتھی کو دیکھتے ہوئے پوچھنے لگا۔
“شاکر اس مجنون نے مجھے پاگل بنانے پر مجبور کیا ہے اسنے اپنے دونوں کلائیوں کو کاٹا ہے جاؤ یار جلدی سے حولدار کو آواز دوں جلدی ورنہ یہ پاگل مر جائے گا۔”
شاکر کی بات پر اُسکا دوست غصے سے فرغام سلطان کی جانب دیکھتے ہوئے کہنے لگا جبکہ فرغام سلطان چہرے پر پھرتیلے تاثرات سجا کر اچانک سے اٹھا اور انکے آگے چاقو کرتا غصے سے انہیں گھورنے لگا۔
“خبردار اگر تُم نے کسی کو بلایا تُم دونوں کی گردن
کی ساری رگے کاٹ کر تُم لوگوں کی زندہ رہنے کی ساری امیدیں توڑ دوں گا۔”
وہ دونوں چاقو کا رخ اپنی طرف دیکھ خوفزدہ ہو کر پیچھے ہٹنے لگے۔
“پلیز نیچے کروں چاقو کو ہم کسی کو نہیں بلا رہے۔”
شاکر نے ڈرتے ہوئے کہا تو وہ چاقو پیچھے کرتا اپنی بوجھل آنکھوں کو بمشکل کھولتے ہوئے انہیں گھورنے لگا جو اسکی دہشت کی وجہ سے ڈر رہے تھے۔
“ہاہاہاہاہاہاہا سب کے سب ڈرفوک ہے کوئی بھی میری ٹکر کا آج تک میرے سامنے نہیں آیا ہے میرے مرنے کے ٹائم بھی افسوس ہو رہا ہے بے وقوفوں کے سامنے مرتے ہوئے خود کو دیکھ کر۔”
وہ اُن دونوں کی حالت پر زور سے قہقہہ لگاتے ہوئے آخر میں اچانک سے چاقو کو غصے سے دور اچھالتے ہوئے کہنے لگا تبھی انکی شور مچانے پر دو آفیسر نے اندر آکر اٗسے پکڑا جو ہزیانی انداز میں چیخ رہا تھا
اور اسکی چیخے کیمرے میں محفوظ ہو رہی تھیں۔
🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥
“ناظرین ایک اہم خبر سے آپکو آگاہ کیا جاتا ہیں کہ فرغام سلطان خودکشی کرنے کی کوشش کرکے اپنی جان لینے کی کوشش کی ہے بتایا جا رہا ہے کہ اُسکی حالت بہت سریس ہے۔”
ایک نجی چینل پر یہ خبر چل رہی تھی آج شاید سب خوش تھے ایک ظالم کے چلے جانے سے جبکہ کچھ لوگ بلکل بھی خوش نہیں تھے بلکہ یہ خبر انکے اوپر کسی پہاڑ کی طرح گرا ہے۔ان لوگوں میں نازلی بھی تھی جو روم سے نکلی تو یہ خبر سن کر وہ جو سیاہ کپڑوں میں ملبوس تھی پاگلوں کی طرح گھر کے مین دروازے کی طرف بڑھنے لگی۔
“سوگ منانے جا رہی ہو نا تُم اپنے بھائی کی حالت کا۔؟
کیوان کآردال جو ٹی وی لاؤنج میں صوفے پر بیٹھا ٹی وی پر چل رہیں فرغام سلطان کے متعلق خبر سن رہا تھا۔
جب نازلی کو سیاہ کپڑوں میں گھر سے باہر نکلتے ہوئے اُسنے دیکھا تو وہ کھاٹ دار لہجے میں بولا۔
“پلیز کیوان آج نن۔نہیں پلیز میں آج تُم سے بحث نہیں کرنا چاہتی آج میں ایک ایسی تکلیف میں ہو جسکا شاید تُمھیں اندازہ نہیں پلیز مجھے خاموشی سے جانے دو۔”
سرمئی آنکھوں میں نمی دیکھ کیوان کآردال کے دل کو درد ہوا مگر وہ اسی طرح ظالم بنا اپنے زہریلے تیروں سے اُسے لہو لہان کر رہا تھا۔
جسکی وجہ سے نازلی تڑپ کر اپنے دونوں ہاتھ جوڑتی ہوئی بولی۔
“ان سیاہ کپڑوں میں تُمھیں میں نہیں جانے دوں گا۔”
وہ آگے بڑھا اور غصے سے اُسے اپنے اور اُسکے روم کی جانب لیجاتے ہوئے سرد لہجے میں کہنے لگا۔نازلی اُسکی مضبوط گرفت میں مچلتی ہوئی اُسکے کھینچنے پر اُسکے پیچھے چل رہی تھی جب روم میں پہنچ کر کیوان کآردال نے کہہ
کر اُسے بیڈ پر دکھا دیا۔
تو وہ تڑپ کر نم آنکھوں سے اُسے دیکھنے لگی۔
“کیوان یہ تت۔تُم کیا کہہ رہے ہو۔؟
وہ بیڈ پر گری اُسکی جانب دیکھتی ہوئی تڑپتی آواز میں بولی۔کیوان کآردال نے آگے بڑھ کر اُسے سختی سے کندھوں سے پکڑ کر بیڈ سے اٹھایا۔
“جاؤ ڈریس چھینج کر کے آؤں تُم اپنے بھائی کو ہاسپٹل میں دیکھنے سُرخ کپڑوں میں جاؤں گی اور ساتھ میں میک اپ بھی کروں گی اگر تُم نے یہ سب نہیں کیا تو میں تُمھیں جانے کی اجازت نہیں دوں گا۔”
اُسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر نفرت انگیز لہجے میں کہتا نازلی کو اپنی سنگدلی پر رولا گیا۔
“کک۔کیوان کآردال تُم اتنے سنگدل کیسے بن گئے ہو اُس انسان کیلئے جسنے تُمھارے خاندان کی وجہ سے خودکشی کرنے کی کوشش کی ہے اپنی جان لینے کی کوشش کی ہیں”
وہ آنسوؤں کو صاف کرتی غصے سے اُسکے ہاتھوں کو اپنے کندھوں سے ایک ہی جھٹکے سے ہٹاتی ہوئی سپاٹ لہجے میں پوچھنے لگی۔
“خبردار میرے خاندان کا نام بیچ میں مت لاؤں تُم تُمھارا بھائی اِسی لائق ہے۔ اگر وہ پھر بھی بچ گیا ناں تو میں اُسے خود اپنے ہاتھوں سے مار دوں گا۔”
وہ اُسے خود دور دھکا دیتا غراتے ہوئے اُسے وارننگ کرتی نگاہوں سے دیکھتے ہوئے تنبیہ کرنے لگا۔نازلی سپاٹ نظروں سے اُسے دیکھ رہی تھی اُسکی بات پر طنزیہ ہنسی ہنسنے لگی۔
“تُم سچ میں ظالم ہوں کیوان کآردال ایک مرے ہوئے انسان کو تو بخش دو خدارا۔”
وہ ہنستے ہنستے اچانک روتی ہوئی بولی۔
“نہیں ہرگز نہیں میں تو بددعا دیتا ہوں جس نے میری چھوٹی معصوم بہن کو مارا ہے وہ جہنم کی آگ میں جلے اور اپنے ساتھ اپنوں کو بھی جلائے۔”
کیوان کآردال نے تو انتہا کر دی اُس انسان کو بددعا دیا اُسنے جس نے بڑا بھائی بن کر ساری زندگی اُسکی کئیر کی اُسکی چھوٹی بہن کو اپنی بہن کی طرح چاہا۔
آج اُسکی ان سب چیزوں کا صلہ اُسنے بددعا کی صورت میں اُسے دیا۔
🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥
وہ تین سال سے ہارون صاحب اور اپنی نئی ماں کے ساتھ بیلجیم میں رہ رہی تھیں اس وقت وہ اپنے روم میں اپنی دوستو کے ساتھ پارٹی انجوائے کر رہی تھی کہ اُسکے موبائل کی میسج ٹون کی بیپ سنایا دیا تو وہ جو وسکی کا گلاس لبوں سے لگائے اپنی دوست سے باتیں کر رہی تھی موبائل اسکرین روشن کر کے دیکھنے لگی تو وہاں ایک ای میل آنے کا نوٹیفیکیشن دیکھ وہ تیزی سے صوفے سے اٹھی اور روم سے باہر نکلی۔
“وہاٹ نن۔نہیں یہ نہیں ہوسکتا وہ ایسا نہیں کر سکتا بابا وہ مجھے چھوڑ کر نہیں جا سکتا کبھی نہیں میں اسے کچھ نہیں ہونے دوں گی ہر گز نہیں اسے میرے لیے صحیح ہونا پڑے گا میں نے اتنا کچھ کیا ہے صرف اسے پانے کیلئے میں سب کچھ ایسے رایگاں نہیں جانے دوں گی ۔”
وہ وڈیو میں فرغام سلطان کو اپنی کلائی کاٹتے ہوئے دیکھ زور سے چیختی ہوئی اپنا موبائل دور اچھال کر پورا گھر سر پر سوار کرتی ہزیانی انداز میں یہی سب بار بار جنونی انداز میں دورانے لگی۔
ہارون صاحب اپنی بیٹی کی ہزیانی چیخے سن کر روم سے اپنی دوسری بیوی کے ساتھ باہر نکلے اور اسکی جانب بڑھ کر اسے سنبھالتے ہوئے اٹھا کر صوفے کی جانب بڑھے۔
“کیا ہوا آروز بیٹا تُم رو کیوں رہی ہوں۔؟؟
وہ اُسکے گالوں پر ہاتھ رکھتے ہوئے پیار سے اُس سے پوچھنے لگے تو وہ اپنی نم آنکھوں کو اوپر اٹھا کر انہیں دیکھنے لگی۔
“بابا اُسکی جان خطرے میں ہے مم۔مجھے ترکی جانا ہے ابھی اور اسی وقت۔”
وہ اُنکے سینے سے لگتی ہوئی نم آواز میں کہنے لگی تو اُسکی بات پر ہارون صاحب کو شاک لگا۔
“بیٹا یہ ناممکن ہے اب ہم وہاں نہیں جا سکتے ہیں اُسے میں نے تمھارے کہنے پر اسکے آگے بھیک مان کر اسکی زندگی کی بھیک مانگی تھی اگر تُم واپس چلی گئی تو وہ لوگ اُسے جان سے مروا دیں گے۔”
وہ اپنی بیٹی کو ان لوگوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہنے لگے جنکی وجہ سے آج وہ ایک اچھی زندگی گزار رہے تھے فرغام سلطان سے چھپ کر اگر آج وہ زندہ تھے تو صرف ان لوگوں کی وجہ سے تھے۔
“نن۔نہیں بابا مجھے جانا ہے وو۔ورنہ وہ مر جائے گا۔”
وہ ضدی لہجے میں کہنے لگی کہ تبھی اُسکی بیوی نے پیچھے سے اُسکی گردن پر زور سے ایک انجیکشن پویست کیا جسکی وجہ سے وہ ہارون صاحب کے سینے سے لگ کر بہیوش ہوگئی جبکہ ہارون صاحب سامنے غصے میں جلتی سبز آنکھوں کو خوفزدگی سے دیکھ رہے تھے۔
🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥
“ڈاکٹر زوریز خان وہ اس حالت میں پھر سے کیوں چلا گیا ہے وہ ٹھیک ہو رہا تھا اچانک سے اُسنے یہ کیا وائے کیا اسکی ٹریٹمنٹ ابھی رہتی ہے یا صحیح سے کیا نہیں گیا ہے۔؟
مجیب چوہدری نے سامنے بیٹھے ڈاکٹر زوریز خان کی جانب دیکھتے ہوئے کہا جو کسی گہری سوچ میں ڈوبے ہوئے تھے۔
انکی آواز پر چونکے۔
“چوہدری صاحب آخر وجہ کیا ہے جو مسٹر اذان کو دورے پڑتے ہیں وہ اچھا بھلا انسان کیوں اس حال میں پہنچا ہے آخر اسکے ساتھ ایسا کیا ہوا ہے کہ وہ انسان سے جنگلی جانور بن گیا ہے۔؟
وہ اپنی بارعب آواز میں مجیب صاحب کو اپنی جانب متوجہ کرتے ہوئے بولے۔
“ڈاکٹر یہ میرے سوال کا جواب تو نہیں ہے۔”
مجیب صاحب نے سنجیدگی سے انکی جانب دیکھتے ہوئے پوچھا۔
“پتہ ہے یہ آپکے سوال کا جواب نہیں ہے مگر آج جو ہوا ہے وہ ہمارے لیے کسی شاک سے کم نہیں ہے مجیب صاحب.”
ڈاکٹر زوریز خان نے بھی سنجیدہ نظروں سے انکی جانب دیکھتے ہوئے سنجیدگی سے کہا۔
“کیوں ایسا کیا ہوا ہے ڈاکٹر صاحب.؟
مجیب صاحب نے ترچھی نگاہوں سے انہیں دیکھتے ہوئے پوچھا۔
“چوہدری صاحب وہ پہلے ہمارے لیڈی ڈاکٹر کو قریب بھی آنے نہیں دیتا تھا گر آج میری بیٹی کو نہ صرف اسنے اپنے قریب آنے دیا بلکہ اُسنے میری بیٹی کے ساتھ زبردستی کرنے کی کوشش بھی کی اسی لیے اب میں نے فیصلہ کیا ہے مسٹر اذان کو اس ہاسپٹل میں ہم اب نہیں رکھ سکتے ہیں آپ اسکا علاج کئی اور جاکر کرے کیونکہ مجھے اپنے لیڈی اسٹاپ اپنے ہاسپٹل کے رولز سے بھی زیادہ عزیز ہے۔”
وہ سپاٹ لہجے میں انکی آنکھوں میں اپنی آنکھیں گاڑتے ہوئے کہنے لگے۔
“ہوں آئی ایم ریلی سوری یہ اُسنے ایسا کیوں کیا مجھے بلکل پتہ نہیں ہے مگر اب سے میں اسکے پاس دو تین گارڈ رکھوں گا اب ایسا کچھ بھی نہیں ہوگا۔”
مجیب صاحب انکی بات پر شرمندگی سے نظریں جھکا کر ان سے سوری کرتے ہوئے کہنے لگے۔
“نہیں مسٹر چوہدری یہ اس مسلے کا حل نہیں ہے وہ یہ سب پھر بھی کرے گا مجھے پکا یقین ہے آپ یا تو کئی اور جاکر اسکا علاج کرائے یا پھر میرے ہاسپٹل کے کسی میل ڈاکٹر سے اسکا علاج اُسکے گھر میں کروائے یہ سبکے لیے بھتر ہوگا۔”
ڈاکٹر زوریز خان سرد لہجے میں انہیں ایک صلاح دیتے ہوئے کہنے لگے تو مجیب صاحب یکدم سے انکی بات سن کر اٹھے اور ان سے ہاتھ ملانے لگے۔
“اوکے ڈاکٹر زوریز خان میں یہی کرتا ہوں اسکا علاج اسی کے گھر میں خاموشی سے کرواتا ہوں یہ بات میں نہیں چاہتا باہر نکلے کیونکہ اسکا بزنس عورتوں کی سیفٹی کیلئے ہیں اگر اسنے ایسا ویسا کچھ کیا تو وہ بدنام ہو جائے گا۔”
مجیب صاحب اچھے سے سمجھ گئے تھے کہ ڈاکٹر زوریز خان کیا کہنا چاہتے ہیں اسی لیے وہ بنا کچھ کہے ان سے یہ سب کہہ کر تیزی سے انکے روم سے باہر نکلے جبکہ وہ اپنی کرسی پر بیٹھے انہیں باہر
جاتے ہوئے دیکھنے لگے۔
🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥
رات کا نجانے کونسا پہر تھا تاریکی ہر سوں پھیلی ہوئی تھی سب گہری نیند میں سو رہی تھیں جبکہ وہ اس وقت سلاخوں پیچھے اکیلا بیٹھا ہلکی روشنی میں اپنی خالی ہتھیلیوں کو دیکھ رہا تھا۔
اسی وقت سلاخوں کی مضبوط سیاہ لوہے پر آفیسر کے زور سے اسٹک مارنے پر وہ اپنی نظریں اوپر اٹھا کر اس طرف دیکھنے لگا تو سلاخوں کے باہر اُس ہستی کو دیکھ جسکی وجہ سے وہ تین سال سے سلاخوں کے پیچھے تھا وہ اُسے تین سال بعد پہلی بار اپنے سامنے دیکھ استہزایہ مسکراہٹ لبوں پہ سجاتا اٹھا۔
“آخر کار تُم آ ہی گئی۔”
وہ اس وقت وہ دیوانہ بلکل بھی نہیں لگ رہا تھا جو ہر وقت کھویا کھویا سا رہتا تھا وہ وہی پہلے والا ظالم سلطان بے لگ رہا تھا جسکے چہرے پر اپنے دشمنوں کیلئے دہشت ہوتا تھا آنکھوں میں ایک بھڑکتا ہوا آگ ہر وقت دہکتا تھا۔
مقابل کہ نازک جسم میں اُن سرمئی کانچوں میں سلگتی آگ کو دیکھ بُری طرح سے کپکپی طاری ہونے لگی اور خوبصورت آنکھوں میں ڈر جما ہونے لگا جہنیں دیکھ فرغام سلطان کی آنکھوں میں اس
وجود کے لیے قہر بڑھتا چلا گیا۔
“سلطان بے مجھے آنا پڑا کیونکہ تُمھیں یہاں ڈالا میں نے ہے مگر اس لیے نہیں کہ تُم خودکشی کی کوشش کروں اس لیے ڈالا ہے تاکہ تُم میرے بن جاؤ۔”
وہ بیقراری سے آگے بڑھ کر اُسکے چہرے پر ہاتھ رکھنے والی تھی کہ فرغام سلطان نے نفرت سے اُسکے ہاتھ کو خود سے جھٹکا۔
“ہنہہہہہ تُمھاری وجہ سے میں اس سیاہ سلاخوں کے پیچھے ہو بہت اچھا مزاق ہے تُم اپنی یہ غلط فہمی کو اپنے دل و دماغ سے نکال دوں تو بھتر ہے کیونکہ میں یہاں صرف تُمھیں تُمھارے بِل سے باہر نکالنے کے لیے آیا تھا اب تُم نکل گئی ہو تو تُمھیں یہی اسی جگہ پر سب مجرموں کے سامنے ماروں گا کیونکہ میں اپنے دشمن کا انجام اپنے ان دشمنوں کو دیکھانا چاہتا ہوں جو مجھ سے چھپ کر بیٹھے ہیں سب کو میں اچھے سے جانتا ہوں اور کہاں چھپے ہوئے ہیں یہ بھی میں اچھے سے جانتا ہوں کیوان کآردال باہر نکلو کب تک اپنی اصلیت اپنی کزن سے چھپاتے رہوں گے کہ تُم اُسکے ساتھ نہیں بلکہ اپنے بے کے ساتھ ہو میری بہن کو تکلیف بھی تُم میرے حکم سے دے رہے تھے۔”
وہ طنزیہ انداز میں مسکرا کر اُسکے بے بس چہرے کی طرف دیکھتے ہوئے سرد لہجے میں کہتا کیوان کآردال کو آواز دینے لگا جو مسکراتی نازلی کو اُسکی نازک کمر سے پکڑے اچانک سے اس ہستی کے پیچھے آن کھڑا ہوا۔
“وہاٹ سلطان بے تُم یہ کیا کہہ رہے ہوں کیوان بب۔بھائی تُمھارے ساتھ۔”
آرزو کو تو شدید جھٹکا لگا کیوان کا نام سن کر تبھی اپنے پیچھے کسی کی موجودگی کا جب اسے احساس ہوا تو وہ جھکٹے سے پیچھے مڑی تو اپنے سامنے کیوان کآردال اور نازلی کو مسکراتے ہوئے دیکھ وہ شاک میں چلی گئی۔
“ہاں میں کل بھی سلطان بے کے ساتھ تھا اور آج بھی ہو تُم جیسی ق اتل کا ساتھ دینا میری مجبوری تھیں میں تین سال سے صرف سلطان بے کے حکم پر چل رہا تھا تُمھیں سلطان بے کے اِس خفیہ کال کوٹھری تک لانے کیلئے۔”
کیوان کآردال نے سامنے کھڑی اپنی ماموں زاد بہن کو شدید نفرت سے گھورتے ہوئے سرد لہجے میں کہا تو آرزو پھٹی آنکھوں سے اُسے دیکھنے لگی۔
“دروازہ کھولوں۔”
فرغام سلطان ان دونوں شخص کو اشارہ کرنے لگا جو پولیس فورسز کے یونیفارم میں ملبوس باہر کھڑے تھے جو اسکے خاص بندے تھے۔
“یہ سلطان بے کا خفیہ کال کھوٹری ہے۔؟
آرزو یہاں ہارون صاحب سے چھپ کر آئی تھی صرف اپنے سلطان کو دیکھنے کیلئے مگر وہ یہاں آکر بُری طرح سے سلطان کے جال میں پھنسے گی اسے اندازہ نہیں تھا۔
🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥