Ishq E Zulmat By Sumyia Baloch Readelle50177 Episode 12 & 13
No Download Link
Rate this Novel
Episode 12 & 13
Episode 12
“”””اس سور کا گلا کاٹوں۔۔۔”””
اُسکی بات پر خوف و ہراس سے اُسکا پورا جسم لرزنے لگا۔۔۔
“”””میں کی۔۔۔کیسے کاٹوں۔۔؟؟؟
وہ بُری طرح سے اٹکتی ہوئی بولی نظریں سامنے کھڑے سور پر مرکوز تھیں۔۔۔
“””جیسے میں لوگوں کی کاٹتا ہوں۔۔۔”””
فرغام سلطان سخت سفاکیت سے کہنے لگا اور اسکی سفاکیت بے حسی پر روحین کی آنکھیں نم ہونے لگی اس وقت اسے اپنی حالت اس جانور کی طرح لگی جسے بنا قصور کے مارا جا رہا تھا۔۔۔
“””آپ تو ایک غنڈے ہے۔۔۔”””
وہ لرزتی ہوئی بولی۔۔۔
“””زیادہ باتیں مت کروں اور آگے بڑھ کر جلدی سے اسکا گلا کاٹوں۔””
وہ اُسکی جانب سخت نظروں سے گھورتے ہوئے سرد لہجے میں کہنے لگا مگر اسے اسی طرح کھڑے دیکھ وہ غصے سے آگے بڑھا اور اسکے ہاتھوں میں زبردستی چاقو پکڑا کر سور کے پاس لیجا کر اسنے اسکا چاقو والا ہاتھ آگے بڑھا کر اس جانور کے گلے میں پھیرا۔
تو خون کا پھوارے کی طرح روحین اور اسکے چہرے پر جا کر لگا۔۔۔
“””آہ۔۔۔۔ہہہ۔۔۔۔ہ۔۔۔ہ”””””
روحین اپنے چہرے پر نمی محسوس کرتی وہ بُری طرح سے ہچکیاں لیکر رونے لگی جبکہ وہ ڈیول چہرے پر سختی لیے اس جانور کی گردن کو جڑ سے الگ کرتا اسکی کلائی کو سختی سے پکڑ کر اسے لیے اس روم کی جانب بڑھا۔۔
جہاں اس عورت کی بیشمار تصویریں تھیں جس سے وہ اس دنیا میں سب سے زیادہ نفرت کرتا تھا اتنا نفرت کرتا تھا کہ اُسکی ہم شکل کو دیکھ کر وہ اسے مارنے کے لیے پاگل ہوگیا تھا۔۔۔
“”””یہ عورت تُمھاری کیا لگتی ہے۔۔۔؟؟؟
وہ اُسے اس تصویر کے سامنے لاکر کھڑے کرتے ہوئے اس سے سوال پوچھنے لگا جسکا جواب اس کے پاس نہیں تھا۔۔۔
“””مجھے نہیں پتہ۔۔۔””””
وہ خوف سے بولی۔۔۔
“””مجھے پتہ تھا اس الیاس محمود نے اپنی عزت بچانے کی خاطر اپنی اولاد سے بھی یہ راز چھپا کر رکھا ہوگا چلو کوئی بات نہیں میں تھمارے خاندان کے اس راز سے خود ہی پردہ اٹھا لیتا ہوں یہ گھٹیا عورت تُمھاری سگی پھپھو ہے اسکی حیثیت تُمھارے خاندان میں ایک شرمندگی کے سوا کچھ بھی نہیں ہے یہ ضدی اور ایک بے لگام لڑکی تھی محمود خاندان کی۔ اور اپنی اسی مزاج کی وجہ سے اسنے اپنا اتنا بڑا رئیس خاندان چھوڑا صرف اپنے غنڈے عاشق کے لیے۔۔۔”””
وہ تصویر میں موجود روحین کی ہم شکل کو نفرت سے دیکھتے ہوئے کہنے لگا جبکہ روحین اتنے بڑے راز کو سن کر سکتے میں چلی گئی۔۔۔
“”ی۔۔۔یہ آپ کو کیسے پتہ چلا کہ یہ میری پھپھو ہے۔۔۔؟؟؟
وہ اپنی سبز آنکھوں کو اوپر اٹھا کر اُسے دیکھتی ہوئی پوچھنے لگی۔۔
“””میرے لیے تمھارے اس غدار خاندان کا ایک ایک اہم بات معلوم کرنا اتنا مشکل نہیں ہے ہاں تُمھاری پھپھو کو ڈھونڈا میرے لیے مشکل ہوگیا ہے کیونکہ وہ ایک شاطر عورت ہے پتہ نہیں مجھ سے ڈر کر کہاں جا کر چھپی ہوئی ہے۔۔۔”””
وہ اُسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر سرد لہجے میں کہنے لگا تو اسکی بات پر اُسکی سبز آنکھیں بھیگنے لگی تو تو فرغام سلطان ان بھیگی سبز آنکھوں کو غور سے دیکھنے پر مجبور ہوگیا۔۔
کیونکہ اس عورت کی اور اسکی آنکھیں ملنے کی وجہ سے پہلی نظر میں وہ اسے بھی اسکی پھپھو کی طرح شاطر لگی تھی۔۔۔
مگر اس وقت اسے اس بیس سالہ لڑکی کی آنکھوں میں چالاکی تیزی کی جگہ ایک پاکیزگی سی چھلکتی ہوئی نظر آنے لگی تو وہ ان سبز آنکھوں کو دیکھتا ہی رہ گیا چونکا تو وہ تب جب اسکی سماعتوں میں اسکی سسکیاں گونجی تو وہ نظریں اٹھا کر اُسے دیکھنے لگا جو اسکے ہاتھوں میں تھمی اس جانور کی گردن سے ٹپکتے خون کو دیکھ رو رہی تھی۔۔۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
“”””آصف سبکی نظریں ہمارے خوبصورت بیٹے پر نہیں اِس منحوس ملازم کے بیٹے کی خوبصورتی پر تھی مجھے بہت غصہ آ رہا تھا اس وقت میرا دل چاہ رہا تھا سب کے سامنے اس لڑکے کی خوبصورتی کو بگاڑ کر سبکے لیے ایک عبرت کا نشان بنا دوں مگر وہاں تُمھارے پارٹنر بھی موجود تھے اسی لیے میں نے خود کو یہ کرنے سے باز رکھا۔۔۔””””
وہ اپنے شوہر آصف سے کہتی سامنے سر جھکا کر کھڑے اٹھارہ سالہ لڑکے کو نفرت سے گھورنے لگی۔
جو انتہا کا حسین تھا اور اُسکی خوبصورتی کی وجہ سے آج کی پارٹی میں اُسکے بیٹے نظر انداز کر دیا گیا تھا۔۔۔
“”””میری جان تُم فکر کیوں کرتی ہو۔میں ہو ناں میں ایسا درد دوں گا اِسے کہ آج کے بعد اِسکی یہ خوبصورتی ہمارے بیٹے کیلئے کبھی مصیبت نہیں بنے گی۔۔””
آصف فرید نے اپنی بیوی سے کہ کر سامنے کھڑے اٹھارہ سالہ لڑکے کے قریب جاکر اپنے جیب سے ایک چاقو نکال کر اُسکی دونوں آنکھوں کے نیچے سے کٹ لگاتا وہ چاقو کو نیچے کی طرف لیجانے لگا۔۔۔
وہ اٹھارہ سالہ لڑکا درد محسوس کرنے کے باوجود بھی بنا آفف کیے اُس ظلم کو سہتا رہا اُسکی سرمئی آنکھیں نیچے اپنے سفید پیروں پر گرتے اپنے سُرخ خون پر جمی تھیں۔۔۔
“””باس میرے بچے کو چھوڑ دے اگر اُسنے کوئی غلطی کی ہے تو آپ اُسکی سزا مجھے دے لیکن میرے بیٹے کو معاف کر دے۔۔””
زاور سلطان جب وہاں آیا تو سامنے اپنے بیٹے کی حالت دیکھ وہ تیزی سے آگے بڑھا اور اپنے باس کے آگے ہاتھ جوڑ کر کہنے لگا۔
جبکہ اپنے باپ کو کسی کے آگے ہاتھ جوڑتے ہوئے دیکھ اس لڑکے کی آنکھوں میں خون کی نمی کے ساتھ ساتھ غصے کی آگ بھی دہکنے لگا۔۔۔۔
“”””زاور تُمھارے بیٹے کی وجہ سے آج میرا بیٹا پارٹی میں نظر انداز ہوا ہے وہ اس گینگ کا نیا بننے والا لیڈر ہے ناکے تُمھارا یہ بیٹا۔۔”””””
آصف نے سخت تیوریاں چڑھا کر زاور سلطان سے کہا جو بے بسی سے اپنے بیٹے کے آنکھوں کے نیچے گہرے کٹ دیکھ رہا تھا۔۔۔
“””آصف آپ بھی ہمارے بیٹے کو کس سے ملا رہے ہیں کہاں اس ملک کے طاقتور مافیا کا بیٹا اور کہاں یہ ہمارے ٹکروں میں پلنے والے گندی نالی کے کیڑے۔۔۔”””
وہ اپنے شوہر سے کہتی حقارت سے زاور سلطان اور اُسے گھورنے لگی جو سر جھکائے اپنے خون کو فرش پر پھیلتے ہوئے دیکھ رہا تھا۔۔۔
“””میڈم اب آپ زیادتی کر رہی ہیں میں نے اس گینگ کے لیے کیا کیا نہیں کیا ہے اپنی بیوی تک کو چھوڑا ہے صرف یہ گینگ نہ چھوڑنے کے لیے اور آپ میری قربانی کا یہ صلہ دے رہی ہیں مجھے اور میرے بیٹے کو ۔۔”””
زاور سلطان اپنے بیٹے کے لیے یہ الفاظ برداشت نا کر سکا اور آج پہلی بار اپنے باس کی محبوب بیوی سے لڑ پڑا مگر
اسکی یہ لڑائی اُسکے باس نے گولی چلا کر اُسکی سانسیں چھین کر آخری ثابت کر دی۔۔۔
ٹھاہ۔۔۔۔””””
گولی زاور سلطان کے کندھے کو چھیڑ کر پیچھے دیوار پر جا لگی تو وہ اپنے باپ کو دیکھ اپنی آنکھوں کی جلن کو بھول کر روتا ہوا آگے بڑھا۔۔
“””””””بابا۔۔۔۔””””””
وہ شدت سے چیختے ہوئے اٹھا ہمیشہ کی طرح آج بھی اُسکی ماضی کی یہ اذیت ناک مناظر اسکی آنکھیں بند کرتے ہی بند آنکھوں میں چلنے لگی تو وہ آنکھیں کھول کر اٹھ بیٹھا اور اپنی جلتی آنکھوں کو سامنے گھڑی کی جانب کرتا وقت دیکھنے لگا اس وقت رات کے تین بج رہے تھے۔
وہ اپنی شرٹ اتار کر بیڈ سے نیچے اترا اور واشروم میں جا کر اپنے جلتے وجود کو شاور سے گرتے ٹھنڈے پانی کے نیچے کھڑا کیے وہ اپنے آگ بنے پورے وجود کو پرسکون کرنے لگا۔
مگر اُسکے پورے وجود پر جلتی یہ نفرت کی آگ کم ہونے کے بجائے اور زیادہ بڑھتی جا رہی تھیں سینے میں لگی آگ شاور سے گرتے ٹھنڈے پانی سے بھی کم نہیں ہوا تو وہ بنا شرٹ کے اپنے روم سے باہر نکلا اور اُس لڑکی کے روم کی جانب بڑھنے لگا۔۔
جسکی صورت اُسکے باپ کے قاتل کی بیوی سے ملتی ہیں جسے ہوٹل میں دیکھ کر وہ نفرت کی آگ میں جل کر اُسے ختم کرنے کے لیے پاگل ہوا تھا۔۔۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
“”خیریت تو ہے آج اتنے سالوں بعد میرے بڑے بھائی کو اپنی اکلوتی بہن کی یاد کیسے آئی جو مجھ سے ملنے ترکی سے سیدھا یہاں واشنگٹن میں آیا ہے۔۔۔”””
یہ امریکہ کے شہر واشنگٹن کے ایک خوبصورت گھر کے ڈرائنگ روم کا منظر تھا جہاں الیاس محمود چہرے پر سختی سجائے صوفے پر بیٹھے سامنے کے سنگل صوفے پر بیٹھی عورت کو نفرت سے گھور رہے تھے۔۔۔
جبکہ اس عورت کا چہرے ماسک سے چھپا ہوا تھا بس اسکی آنکھیں نظر آ رہی تھیں جو ہوبہو روحین کی آنکھوں کی طرح بڑی بڑی اور سبز تھیں۔۔۔
“”کسی خوش فہمی میں نہ رہنا تُم نیلوفر خاتون میں آج بھی میں تُم سے اتنی ہی زیادہ نفرت کرتا ہوں جتنا اس دن سے کرتا آ رہا ہوں جس دن تم ہماری خاندان کی عزت کو نیلام کر کے اپنے غنڈے عاشق کے ساتھ بھاگی تھی۔۔””
الیاس محمود نے سخت تیوریاں چڑھا کر نفرت سے کہا۔
“”مجھے بھاگنے پر بھی آپ لوگوں نے مجبور کیا تھا۔۔۔”
نیلوفر آصف بھی جوابأ اُسے گھورتی ہوئی بولی۔۔۔
“”ہوں اچھا ایک غنڈے کے لیے ہم تُمھاری ناجائز بات مانتے اور تُمھاری شادی ہنسی خوشی ترکی کے اس مافیا سے کرتے جسکا اس وقت ذکر بچے بچے کی زبان پر تھا۔”””
الیاس محمود اسکی بات پر استہزایہ نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے کہنے لگا۔۔۔۔
“””الیاس محمود اب پرانی باتوں کو دورانے کا کوئی فائدہ نہیں ہے آپکو جو کام ہے وہی بات کرے تو آپکے لیے بھتر ہوگا ۔۔”””
اچانک سے وہ اس بات کی طرف آئی جسکے لیے الیاس محمود اتنی نفرت کے باوجود بھی آج اتنے سالوں بعد اسکے پاس آیا تھا مگر آخر میں وہ اسے دھمکی دینا بالکل بھی نہیں بھولی کیونکہ وہ اپنے بھائی کی رگ رگ سے اچھی طرح واقف تھیں۔۔۔
“””تُم مجھے دھمکی دے رہی ہو نیلوفر خاتون مجھے ترکی کے پرائم منسٹر کو ایک شاطر کھلاڑی کو۔ اگر میرا دماغ گھوم گیا نہ تو نیلوفر خاتون میں ابھی اور اسی وقت اُس فرغام سلطان کو تمھارا پتہ بھیج دوں گا پھر امریکہ کے علاؤہ تُم اس سے کہاں جا کر چھپو گی کیونکہ تمھارا بیٹا تو تمھارا بالکل بھی ساتھ نہیں دے گا وہ تُم سے سخت نفرت کرتا ہے حیران مت ہو یہاں آنے سے پہلے میں نے تمھارے بارے میں ایک ایک چیز کا پتہ کیا ہے اور تم یہاں امریکہ میں فرغام سلطان کے ڈر کی وجہ چھپی ہوئی ہوں۔۔۔”””
الیاس محمود تو اسکی دھمکی پر سخت چڑا اور جوابأ وہ اسے فرغام سلطان کی دھمکی دیتے ہوئے کہنے لگا جسکا نام سُن کر نیلوفر آصف بُری طرح سے لرز اٹھیں۔۔
“””ٹھیک ہے ٹھیک ہے الیاس محمود صاحب تُمھیں جو کام ہے وہ بتاؤ میں منع نہیں کروں گی۔۔۔”””
وہ واقعی میں اس کی اس دھمکی پر ڈر کر رہ گئی تھیں اسی لیے آرام سے اسکی بات ماننے کے لیے تیار ہوگئی۔۔۔
الیاس محمود اسکی اتنی جلدی مان جانے پر
شاطرانہ مسکراہٹ چہرے پر سجا کر مسکرایا اور پھر اسے عروبہ کے متعلق بتانے لگا جسے سن کر نیلوفر کے
نقاب کے پیچھے چھپا چہرا خوف کے مارے سفید
پڑنے لگا۔۔۔
“””یہ تت۔۔۔تُم مجھے اپنی بیٹی کے بارے میں کیوں بتا رہے ہو۔۔۔؟؟؟
وہ لرزتی آواز میں پوچھنے لگی۔۔۔
“””کیونکہ میں اسے یہاں تُمھارے پاس بھیجوں گا مجھے پتہ ہے تُم پیسوں کے لیے مان جاؤ گی اور اسکی دیکھ بھال اچھی طرح سے کروں گی۔۔۔”””
الیاس محمود نے ایک چیک آگے بڑھا کر اُسے دیکھتے ہوئے کہا جسکی نظریں چیک کو دیکھ چمک رہی تھیں۔۔۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
“””””ایک کروڑ۔۔۔۔”””””
سامنے سر جھکا کر کھڑی سیاہ پیروں کو چھوتے فراک میں ملبوس اُس حسین لڑکی کی آج اس حُسنِ بازار میں اُسکی بے پناہ حسن کی وجہ سے بولی لگ رہی تھیں۔۔
“”””دو کروڑ۔۔۔””””
ہر کوئی اُسکی قیمت لگا رہا تھا اور وہ سوگوار آنکھوں میں نمی لیے سر جھکائے خود کو رونے سے روک رہی تھیں۔۔۔
“””””یہ نیلوفر خاتون کے کوٹھے کی سب سے زیادہ حسین کم عمر اور ان چھوئی لڑکی ہے۔ آج تک کسی مرد نے اُسے چھوا تک نہیں ہے تو سوچ سمجھ کر بولی لگائے۔۔۔””””
نیلوفر کی خاص خادمہ نے سب عیاش مردوں کی جانب سنجیدگی سے دیکھتے ہوئے کہا۔
رنیم اپنے بارے میں سُن کر ضبط سے اپنی فراک کو سختی سے پکڑنے لگی۔۔
“”””دو سو کروڑ۔۔۔””””
ایک شخص کی اتنی زیادہ قیمت لگانے پر سبکی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئی جبکہ وہ شخص بڑے ہی فخر سے اٹھا اور رنیم کی جانب بڑھا۔۔۔
“”””صمد صاحب سوچ سمجھ کر بولی کی قیمت لگائے ورنہ کہی ایسا نہ ہو کہ آپکو پچھتانا پڑے۔۔۔””””
نیلوفر خاتون جو چہرے کو نقاب سے چھپائے سامنے گاؤ تکیے سے ٹیک لگائے بیٹھی تھیں اپنی سبز آنکھوں کو اوپر اٹھا کر صمد نامی شخص سے کہنے لگی۔
جو رنیم کے پاس کھڑا اُسکی برف جیسے سفید گوری باہوں کو دیکھ اُسے ہاتھ لگانے سے ڈر تھا۔کہ کہیں اُسکے ہاتھ لگانے سے وہ حسن کی دیوی داغ دار نہ ہوں۔۔
جبکہ اُسکی ہوس بھری نگاہوں سے وہ حسن کی دیوی داغ دار ہو رہی تھیں اُسکی نظریں اُسکے کومل جیسے وجود کو جیسے جھلسا رہی تھی اور یہ اُس عیاش مرد کو بالکل بھی اندازہ نہیں ہو رہا تھا۔۔
وہ اُسے للچائی نظروں سے گھور رہا تھا جبکہ نیلوفر خاتون اُسکی نظروں کو دیکھ مسکرائی اور ہاتھ میں تھمی گلاس جو شراب سے بھری ہوئی تھی پیتی ہوئی کہنے لگی۔۔۔۔
“”””نیلوفر خاتون دو سو کروڑ کی کیا اہمیت ہے اس حُسن کی دیوی کے آگے میں تو اُس پری کیلئے اپنی ساری جائیداد بھی لوٹا سکتا ہوں۔۔۔””””
وہ اچانک سے رنیم کے مزید قریب آتے ہوئے معنی خیزی سے کہنے لگا مگر رنیم ڈر کر اُس سے دور ہوگئی۔۔۔۔
تبھی ایک زور دار دھماکہ ہوا اور اُس کوٹھے کا دروازہ دو حصوں میں تقسیم ہو کر نیچے گرا۔ ۔
“”نیلوفر بیگم آپ نے اس بولی کی تقریب میں ہمارے بلاوے کے لیے رقعہ کیوں نہیں بھیجا تھا۔ ہم بھی تو آپکے خاص بے حد قریبی لگتے ہیں پھر یہ ستم کیوں کیا ہم پر ہمممممم۔۔۔۔؟؟؟؟
ایک خوبصورت نوجوان آنکھوں میں غصے کی وجہ سے آگ کی تپش لیے سامنے گاؤ تکیے سے ٹیک لگائے بیٹھی نیلوفر خاتون سے سرد لہجے میں مخاطب ہوا جو اُس نوجوان کو دیکھ آنکھوں میں حیرت لیے اب اسے دیکھ رہی تھیں۔۔۔
“”””اذان فرید۔۔۔””””
نیلوفر بیگم کی لبوں سے یہ نام نکلا۔۔۔
“”””شکر ہے آپ کو میرا نام یاد ہے نیلوفر بیگم۔۔۔”””
وہ نوجوان استہزاء نظروں سے سامنے کھڑی خوبصورت عورت کو دیکھتے ہوئے سرد لہجے میں بولا۔۔
تو نیلوفر اُسکی بات پر تڑپی اور اُس نوجوان کی جانب بڑھ کر اُسے ہاتھ لگانے والی تھی لیکن وہ نوجوان ایسے پیچھے ہٹا جیسے وہ عورت نہیں کوئی وائرس ہے۔۔۔
“””اذان میرے بیٹے۔۔۔۔””””
نیلوفر خاتون آبیدہ لہجے میں بولیں۔۔۔۔
“”””خبردار مجھے بیٹا مت کہے نہیں ہو میں ایک بازاری کاروباری عورت کا بیٹا مر چکی ہیں آپ اُس دن سے میرے لیے جس دن آپ نے اس حُسنِ بازار میں قدم رکھا تھا۔۔””””
وہ سخت گیر نظروں سے نیلوفر خاتون کو دیکھتا غضب ناک لہجے میں بولا۔رنیم جو پہلے سے ہی ڈری ہوئی تھیں اُس نوجوان کے غصے کی وجہ سے اور بھی زیادہ لرزنے لگی۔۔۔
“””””نیلوفر خاتون کون ہے یہ بدمعاش۔۔ جو آپ سے اتنی بدتمیزی سے پیش آ رہا ہے آپ بولے تو میں اپنے بندوں سے اسکی اچھی طرح سے مرمت کرواؤں۔۔؟؟؟
صمد رنیم سے دور ہوکر اُس نوجوان کو گھورتے ہوئے نیلوفر خاتون سے کہنے لگا۔تو اُسکے قریب آنے پر اُس نوجوان نے شدید غصے سے اُسکے چہرے پر مکا مارا تو وہ دور جا گرا۔۔
“”””بڈھے مرمت تو میں تُمھاری کروں گا۔ اپنی بیٹی کی عمر کی لڑکی کے اوپر بولی لگاتے ہوئے تُجھے زرا سی بھی شرم نہیں آئی ہاں بڈھے اس لڑکی کو خریدتے ہوئے۔۔۔””””
وہ صمد نامی شخص کو کالر سے پکڑ کر اٹھا کر غصے سے اُسے مارتے ہوئے سرد لہجے میں پوچھنے لگا۔۔۔
“”””میری بیٹی کا نام اس فاحشہ لڑکی کے ساتھ مت ملاؤں اس فاحشہ لڑکی کی حیثیت صرف میرے بستر تک ہے اور میں نے قیمت لگائی ہے اس فاحشہ لڑکی پر تو اب میں جو مرضی اِسکے ساتھ کر سکتا ہوں تُم ہوتے کون ہو مجھے شرم دلانے والے۔۔۔”””
صمد اذان فرید کے سامنے کھڑا اپنے ہونٹوں سے رستے خون کو صاف کرتے ہوئے کہنے لگا۔اسکی بات پر وہ آپے سے باہر ہوتا اسکو نیچے گرا کر اپنی ٹھوکروں پر کرتا بری طرح سے مارنے لگا۔۔۔۔
“””پہلی بات یہ فاحشہ نہیں ہے میرے خاندان کی عزت ہے دوسری بات اُسکی حیثیت تُمھاری بیٹی سے کئی گنا زیادہ ہے کیونکہ کمینے بڈھے یہ اذان فرید کی منگیتر ہے اور میں کسی کے معاملات میں مداخلت کرنا بالکل بھی پسند نہیں کرتا مگر جب بات میری عزت پر آجائیں تو میں غصے کے مارے پاگل ہو جاتا ہوں۔۔۔۔۔”””
اُسکے چہرے کو اپنے ٹھوکروں سے زخم زخم کرتے وہ نفرت سے اُسے گھورتے ہوئے سرد لہجے میں رنیم کی حیثیت اُسے بتانے لگا۔۔۔۔
“””اذان میرے بچے چھوڑو اُسے وہ مر جائے گا۔۔۔۔””””
نیلوفر خاتون تیزی سے اذان کے پاس بھاگی اور صمد صاحب کو اُسکے چنگل سے نکالنے لگی جو ناممکن تھا ایک تو وہ مضبوط قد کاٹھ کا مرد تھا اوپر سے اس وقت غصے میں تھا۔۔۔۔
“”””نیلوفر بیگم آپ اچھے سے جانتی تھیں کہ رنیم میری منگیتر ہے۔تو کیوں آپ نے اُسے اپنی اس بازاری کاروبار میں شامل کیا ہاں بولے کیوں اُسے ان عیاش مردوں کے سامنے لا کھڑا کیا جواب دے مجھے۔۔؟؟؟؟
وہ اُس عیاش مرد کو چھوڑ کر اب اُس عورت سے پوچھنے لگا جسکی کوکھ سے اسنے جنم لیا تھا۔ مگر وہ ماں کم اور اسکے لیے ڈائن زیادہ تھیں۔
کیونکہ وہ ہمیشہ سے اُسکی خوشیاں کھاتی آ رہی تھیں مگر آج تو اُس عورت نے اُسکی عزت پر ہی وار کر دیا تو بھلا وہ کیسے یہ برداشت کر سکتا تھا۔۔۔
“””اذان میرے بچے مجھے لگا تُم اپنے باپ کے بھائی کی بیٹی کو نہیں اپناؤ گے اِسی لیے میں ۔۔””””
نیلوفر خاتون کی بات کو بیچ میں کاٹ کر وہ گویا ہوا۔۔۔
“””اسی لیے آپ نے اس معصوم کو لاوارث سمجھ کر اُسکی ماں کا جنازہ اٹھنے کے ٹھیک دو گھنٹے بعد اپنے آدمی چھوٹے چاچا کے گھر بھیج کر اُسے اٹھوایا تاکہ آپکا یہ کاروبار اور زیادہ چمکے کیونکہ آپ کو لگا وہ اب اکیلی ہوگئی ہے میں تو شاید اپنے باپ سے نفرت کی وجہ سے انکے بھائی کی بیٹی سے شادی نہیں کروں گا مگر آپ شاید یہ بھول چکی ہیں کہ میں آپ سے اور اپنے باپ سے نفرت کرتا ہوں ناکہ اپنے چھوٹے چاچا سے اپنی منگیتر سے کرتا ہوں جسے میں اس دنیا میں آپ جسے شیطانوں کے رحموں کرم پر چھوڑ دوں گا۔۔۔۔”””
اپنی ماں کے لیے اُسکی آنکھوں میں نفرت کی آگ جل رہی تھیں وہ نیلوفر خاتون کو اچھے سے باور کرا کر یہاں سے جانا چاہتا تھا کہ اگر دوبارہ اسنے اسکی
عزت پر اپنی کاروباری نظریں ڈالی تو وہ اسے کبھی بخشے گا نہیں کیونکہ وہ اس جیسی عورت کو اپنی ماں نہیں سمجھتا تھا۔۔۔
“”””چلو رنیم ۔۔”””
وہ نیلوفر خاتون سے نظریں ہٹا کر اُس سولہ سالہ لڑکی کو دیکھنے لگا جو آج کے دن اتنی اذیتوں سے گزری تھیں جو اس وقت خوفزدگی سے لرز رہی تھیں۔۔۔
وہ اُسکے قریب جاکر اُسے کلائی سے پکڑ کر اسے یہاں سے چلنے کے لیے کہنے لگا تو وہ اپنی بڑی بڑی آنکھیں اٹھا کر اُس نوجوان کو دیکھنے لگی جو اُسکا چچا زاد تھا اور منگیتر بھی۔۔۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
“”””دروازہ کھولو۔۔۔۔””””
وہ اُسکے روم کے دروازے پر دستک دیتا زور زور سے اُسے پکارنے لگا جو بیڈ پر اپنے پورے بدن پر ان کیڑے مکوڑوں کے کاٹنے کی وجہ سے تکلیف کے باعث کروٹ بدل رہی تھیں
دروازہ زور زور سے پیٹنے اور اس ڈیول کی غصیلث آواز پر وہ خوفزدہ ہو کر خود میں سمٹنے لگی۔۔۔
“””میں بے سکون ہو تو تُم کیسے سو سکتی ہو میں نے کہا دروازہ کھولوں آئی سے اوپن ڈا ڈور ڈیم اٹ۔۔۔؟؟؟
اندر سے کوئی آواز نہ پاکر کر اُسنے شدید غصے سے دروازہ اپنی ٹھوکروں پر رکھ کر زور زور سے مارنا شروع کر دیا۔۔۔۔
روحین کی خوف سے حالت بُری ہوتی چلی جا رہی تھیں اُسکا پورا جسم الگ جلن کے مارے جل رہا تھا وہ روتی ہوئی بیڈ سے نیچے اتری تو تبھی باہر سے کھٹ کے ساتھ دروازہ کھول کر وہ ڈیول اندر داخل ہوا تو اُسے بنا شرٹ کے دیکھ وہ خوف سے سفید پڑ گئی۔۔۔
“””پلیز مجھ پر اور ظلم مت کریں پلیز مجھ پر رحم کرے پلیز۔۔”””
اُسے اپنے قریب آتے ہوئے دیکھ وہ قدم پیچھے لیجاتی ہوئی سسک کر کہنے لگی مگر اس پر اُسکی آنکھوں سے بہتے آنسو کا کوئی اثر نہیں ہوا وہ سپاٹ چہرے کے ساتھ اُسکے قریب پہنچا تو وہ اُسکے اتنے پاس ہونے کی وجہ سے وہ چیختی پیچھے بیڈ پر جا کر گری۔۔
وہ اُسکے بیڈ پر گرنے کی وجہ سے اپنی سرخ آنکھوں سے اُسکے وجود کو دیکھنے لگا جو اُسکی موجودگی اور خوف کی وجہ سے بُری طرح سے لرز رہا تھا۔۔۔
“”رحم تُمھاری اُس ہم شکل نے مجھ پر بھی نہیں کیا تھا تو میں کیوں کروں تُم پر ہاں بولو ۔۔”””
وہ اُسکے اوپر جھک کر اُسکے دونوں ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں جکڑ کر اوپر لیجاتے ہوئے سرد لہجے میں کہتا اٹھا اور اُسے کلائی سے پکڑ کر بیڈ سے نیچے اتار کر وہ اسے وہاں سے گھسٹتے ہوئے لیجانے لگا۔۔۔۔
“””پپ۔۔۔پلیز مجھے چھ۔۔۔چھوڑیں پلیز مجھے جانے دے۔۔۔””””
وہ اُسکے کھینچنے پر اُسکے پیچھے گرتی پڑتی چلی جا رہی تھیں تڑپ کر نم آواز میں کہنے لگی مگر وہ اُسکی بات کو مکمل نظر انداز کرکے اسے لیے اس وائٹ پلیس کے پیچھے بنے پرندوں کے بہت بڑے پنجروں کی جانب بڑھا۔۔۔
“””جب تک میرے وجود میں جلتی نفرت کی یہ آگ ختم نہیں ہو جاتی میں تُمھیں بالکل بھی یہاں سے جانے نہیں دوں گا۔۔۔””””
وہ نفرت سے اُسے دیکھتے ہوئے کہنے لگا۔۔۔
“””آپ نے وعدہ کیا تھا کہ آپ مجھے کبھی نقصان نہیں پہنچائے گے تو پھر اب آپ وعدہ خلافی کیوں کر رہے ہیں۔۔۔؟؟؟
روحین یکدم سے اُسے وہ وعدہ یاد کروانے لگی جو نکاح کے وقت اُسنے اس سے کیا تھا۔۔۔
“”””میں اپنا وہ وعدہ نبھا رہا ہوں نہ تُمھیں نا مار کر۔۔”””
وہ اُسے سختی سے دونوں کندھوں سے پکڑ کر سردمہری سے کہتا اُسےسامنے رکھے بڑے سے نیلے رنگ کے باکس کی جانب دھکا دیا تو وہ بُری طرح سے لڑکھڑا کر اُس باکس کے اوپر جا گری۔۔۔
“”””چلو اس باکس کو کھولو۔۔۔۔””””
وہ سامنے رکھے ایک کرسی کو اٹھا کر بیچ میں رکھتے ہوئے اس پر بیٹھنے کے بعد اُسے سپاٹ لہجے میں حکم دینے لگا۔۔۔
“”””کی۔۔۔۔کیا۔۔۔۔”””””
وہ باکس کے اوپر سے اٹھی تو اُسکی بات پر اُسے پھٹی آنکھوں سے دیکھنے لگی جو اُسے اس وقت سنجیدہ اور سخت بے رحم لگ رہا تھا۔۔۔۔
“””باکس کو کھولو۔۔۔””””
سخت تندوخو لہجے میں وہ اُسے دوبارہ حکم جاری کرنے لگا تو وہ اسکی سخت نظروں سے سہم کر اس باکس کو کھولنے لگی۔۔۔
“”””آہہہہہہہہہہ۔۔۔۔۔”””””
اسنے جب لرزتے کانپتے ہاتھوں سے اس باکس کھولا تو اندر بہت سے قسم کی کیڑے مکوڑوں کو دیکھ وہ ڈر کر چیخ مارتی پیچھے ہٹی۔۔۔۔
“””کیا ہوا روحِ جان ڈر گئی یہ تو ابھی شروعات ہے آگے ڈرنے کا ایک اور بہت بڑا ذریعہ ہے جسے دیکھ کر تُم ضرور بیہوش ہو جاؤ گی مگر چلو اس دھماکے سے پہلے ہم دونوں ان کیڑوں کے ساتھ کھیلتے ہیں ۔۔۔”””
وہ کرسی سے اٹھا اور اسکے پیچھے جاکر ایک ہاتھ آگے اسکی پیٹ پر رکھ کر جھٹکے سے اُسے اپنے قریب کرتا دوسرے سے اُسکی نازک ہاتھ کو پکڑ کر سپاٹ لہجے میں کہتا اس باکس کے اندر ڈالنے لگا جبکہ وہ خوف سے کھڑی پھٹی آنکھوں سے باکس میں رینگتے کیڑوں کو ایک دوسرے کے اوپر چلتے ہوئے دیکھ رہی تھیں۔۔۔
“””آہہہہہہہ۔۔۔””””
جب روحین نے اپنے ہاتھ کو باکس کے اندر دیکھا تو وہ اپنا ہاتھ باکس سے باہر نکالنے لگی جو اس ڈیول کی گرفت میں جکڑا ہوا تھا وہ ناکام ہوئی تو زور زور سے چیخنے لگی۔۔
Episode 13
“””کل رات تُم نے بیہوشی کا ڈراما کیا تھا یا سچ میں تُم بیہوش ہوئی تھی روحِ جان ۔۔۔؟؟؟
کل رات اُسکے اُن کیڑوں کے باکس میں زبردستی ہاتھ ڈالنے کی وجہ سے وہ ڈر کے مارے بیہوش ہوگئی تھی اب صبح جب اُسکی آنکھیں کھولی تو اُسے اپنے سامنے دیکھ وہ سہم کر اٹھی۔۔
اور خود کو کمبل میں چھپانے لگی تو وہ اُسکے اوپر سے کمبل ہٹا کر اپنے ازلی سرد مہر لہجے میں پوچھنے لگا۔۔۔
“””جواب دو۔۔۔”””
اُسے خاموش سہمی ہوئی نظروں سے اپنی جانب تکتے پا کر وہ سخت گیر لہجے میں دوبارہ پوچھنے لگا تو وہ ڈر کر سر ہاں میں ہلانے لگی۔۔۔
“”ویری گڈ۔۔۔”””
وہ اُسکی رخسار پر ہاتھ رکھ اُسے سپاٹ نظروں سے دیکھنے لگا۔جبکہ اُسکی لمس پر اُسکی سانسیں بُری طرح سے کانپنے لگی۔۔
“””مم۔۔۔مجھے واشروم جانا ہے۔۔۔”””
وہ اُسکے سامنے سے ہٹ جانا چاہتی تھی اسی لیے اُسے واشروم کا کہنے لگی تو وہ اسکی بات پر اُس سے پیچھے ہوا۔۔۔
“””اوکے جاؤ لیکن تیار ہوکر مجھے سیدھا ڈائننگ ٹیبل پر ملنا اگر تُم وہاں نہیں آئی تو جو کام کل ادھورا ہوا تھا آج میں اُسے تُم سے پورا کرواؤں گا۔۔۔”””
وہ بیڈ سے اٹھتے ہوئے سنجیدگی سے اُسے حکم دیتا آخر میں وارن کرنے لگا تو اسکی وارننگ کرتی نگاہوں سے ڈر کر وہ جلدی سے بیڈ سے نیچے اتری۔۔۔
“””ہممممم مم۔۔۔میں ابھی آتی ہو۔۔۔”””
نظریں نیچے جھکا کر وہ لرزتی آواز میں کہنے لگی تو اسکی تابعداری پر وہ استہزایہ مسکراہٹ لبوں پر سجا کر اسے دیکھنے لگا۔۔۔۔
“”گڈ گرل اسی طرح اگر میری بات مانتی رہوں گی تو سزا کم ملتی رہے گی تُمھیں روحِ جان ڈارلنگ۔۔۔”””
آگے بڑھا کر اُسکے ٹھوڈی سے پکڑ کر اُسکا چہرہ اوپر اٹھا کر اُسے دیکھتے ہوئے کہنے لگا جبکہ اُسکے اسطرح چہرہ اٹھانے پر وہ اپنی آنکھیں سختی سے میچ گئی تھیں۔۔۔
“””پلیز مجھے چھوڑ دے من۔۔۔مجھے واشروم جانا ہے۔۔””
وہ اُسکی اپنی ٹھوڈی پر گرفت مضبوط ہوتے ہوئے محسوس کرتی ڈر کی وجہ سے زور سے بولی۔
تو اُسکی زور دار آواز پر اُسنے اُسےجھٹکے سے چھوڑا تو وہ پیچھے جاکر بیڈ پر گری۔۔
وہ بیڈ پر گری بُری طرح سے لرز رہی تھی جب وہ اُسکے اوپر اچانک سے جھکا اور سختی سے اُسکے دونوں ہاتھوں کو جکڑ کر اُسکے بری طرح سے لرزتے لبوں پہ جھکا اور اپنی شدتوں بھرا لمس اُسکے گلاب جیسے لبوں پہ چھوڑنے لگا وہ اس اچانک افاد پر بُری طرح سے اُسکی باہوں میں مچلنے لگی۔۔۔
“””””آئندہ مجھ سے سوچ سمجھ کر اونچی آواز میں
بات کرنا روحِ جان ورنہ اگلی بار اس سے بھی بڑی سزا دوں گا ۔۔۔”””
اُسکے لبوں سے اپنے لبوں کو ہٹا کر وہ تندوخو لہجے میں کہتا اُسے دیکھنے لگا جو سرخ چہرے کے ساتھ آنکھیں سختی سے موندے بُری طرح سے لرز رہی تھیں۔
“””آپ نے ثابت کر دیا کہ آپ ایک ظالم اور درندہ صفت شیطان ہے۔۔۔”””
وہ اسی طرح آنکھیں سختی سے موندے لرزتی ہوئی کہنے لگی تو اُسکی بات پر وہ سخت غصے سے اسے گھور کر اُسے ٹھوڈی سے پکڑ کر کہنے لگا۔۔۔۔
“”””””‘ابھی ثابت کہاں کیا ہے روحِ جان ابھی تو یہ شروعات ہے میں تُمھارے ساتھ بُرا اس لیے کر رہا ہوں تاکہ تُمھاری پھپھو کا بدلا لے سکوں لیکن مجھے تُم پر ظلم کرتے ہوئے پتہ نہیں کیوں یہاں یہاں تکلیف ہوتی ہے اسی لیے میں اس تکلیف کو مٹانے کیلئے تُمھارے ساتھ اب وہ کروں گا جو ایک درندہ کرتا ہے۔۔۔”””
وہ اُسے چھوڑتا پیچھے ہٹا اور اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر جنونی انداز میں کہنے لگا۔
سچ میں جب بھی وہ اُس پر ظلم کرتا ہے تو اُسکے دل میں درد اٹھنے لگتا ہے اسے بالکل بھی اچھا نہیں لگ رہا اسکے ساتھ یہ سب کرتے ہوئے اب وہ اسکے ساتھ وہ سلوک رکھنا چاہتا ہے جو ایک درندہ اپنے شکار کے ساتھ رکھتا ہے۔۔۔
روحین جو بیڈ پر لیٹی آنکھیں موندے ہوئے تھیں جبکہ وہ سنجیدگی سے پاس ہی کھڑا اُسکے خوف سے سفید پڑتے معصوم چہرے کو دیکھ رہا تھا۔
اس وقت بھی وہی درد اُسکے سینے میں اٹھ رہا تھا جو اُس پر ظلم کرتے وقت اٹھتا تھا وہ آنکھوں میں جلن محسوس کرتا اُسے وہی اکیلا چھوڑ کر خاموشی سے روم سے باہر نکلا جبکہ وہ خوف کے باعث آنکھوں کو میچے بری طرح سے لرز رہی تھی اسکے باہر جاتے ہی اپنی آنکھیں کھول کر روتی ہوئی تیزی سے واشروم کی جانب بڑھی۔۔۔۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
“” یہاں آکر بیٹھو۔۔۔۔”””
جب وہ تیار ہو کر سہمی سہمی سی ڈائننگ ہال میں پہنچی تو وہ اُسے اپنے گھٹنوں پر ہاتھ رکھ کر بیٹھنے کا حکم دینے لگا تو وہ سخت سٹپٹا گئی۔۔۔۔
“””مم۔۔۔میں ی۔۔۔یہاں کیسے بیٹھ سکتی ہو۔۔۔”””
وہ اُسکے گھٹنوں سے نظریں ہٹا کر لرزتی ہوئی بولی۔۔۔۔
“””تُم شاید زبردستی کی زبان زیادہ سمجھتی ہو روحِ جاناں۔۔”””
وہ اپنی ریوالور نکال کر اُسکے آگے کرتا سخت سرد مہری سے بولا۔۔۔
“””آپ پلیز گگ۔۔۔گولی مت چلائیں می۔۔۔میں بیٹھتی ہو۔۔””
وہ ریوالور کو دیکھ ڈرتی ہوئی بول کر تیزی سے آگے بڑھی اور لرزتی ہوئی اُسکے گھٹنے پر جاکر بیٹھنے لگی تبھی پیچھے سے فرغام نے اُسکی کمر کے گرد ہاتھ ڈال کر اُسے اپنی جانب کھینچا تو اُسکی پشت سیدھے جاکر فرغام کے چوڑے سینے سے لگی۔۔۔
“””شاباش سامنے رکھے پلیٹ کو اٹھاؤ۔۔۔”””
سامنے بہت ساری ہری مرچوں سے بھری اُس پلیٹ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے وہ اُسے ایک نیا حکم دینے لگا۔۔۔
“””کی۔۔۔کیوں۔۔؟؟؟
وہ اُسکے نئے حکم پر گھبرا کر اُس سے پوچھنے لگی۔۔۔
“”کیوں میں مجھے آپ سے ڈر لگتا ہے یہ لفظ وافر مقدار میں تُمھارے پاس ہے لیکن عقل نام کی چیز بالکل بھی نہیں ہے پلیٹ اٹھانے کا مطلب ہوتا ہے ان سب مرچوں کو ختم کروں گی تُم ورنہ اس سے بھی بڑی پنشمنٹ تُمھیں دوں گا۔۔۔”””
وہ پیچھے سے اُسے اُسکی گُدی پر ہاتھ رکھ کر اُسکا سر پیچھے لا کر سخت لہجے میں کہنے لگا وہ اُسکی سرمئی آنکھوں میں ڈرتی ہوئی دیکھ رہی تھیں
تبھی باہر اچانک سے فائرنگ کی آواز آنے لگی تو وہ اُسے اٹھا
کر خود بھی اٹھا اور اپنا ریوالور اٹھانے لگا۔۔
اور پھر سپاٹ چہرے کے ساتھ سامنے بند بڑی سی کھڑکی کی جانب بڑھا تو باہر انہی لوگوں کو دیکھ کر غصے سے اپنی مٹھیاں کھسنے لگا وہ اتنے سارے ہتھیاروں سے لیس لوگوں کو دیکھ روحین کی فکر میں تیزی سے اُسکی جانب بڑھا۔۔
تبھی وہ بند کھڑکی ایک چناکے کے ساتھ ٹوٹا تو تیزی سے فرغام سلطان نے روحین کو اپنے سینے سے لگا کر اپنی پشت اس کھڑکی کی جانب موڑا۔۔
جسکی وجہ سے پورا شیشہ اُسکی پشت پر آکر لگا تو وہ درد سے اپنا حصار روحین کے گرد سخت سے سخت کرتا چلا لگا۔۔
“””چلو پیچھے کے راستے سے نکلتے ہیں یہاں تُم سیو نہیں ہو۔۔۔””
وہ بھاری آواز میں کہتا سختی سے اُسکی کلائی کو اپنی گرفت میں لے کر اُسے اپنے پیچھے کرتا آگے بڑھنے لگا تو روحین اُسکی سفید شرٹ کو پیچھے سے سرخی میں بدلتے ہوئے دیکھ سخت ڈر کر آگے بڑھی اور اُسکی پشت کو چھو کر کہنے لگی ۔۔
“””آاپ کو تو بہت چوٹ لگی ہے اور یہ لوگ کون ہیں جو ہمارے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑے ہیں۔۔۔”””
وہ اُسکی اپنی پشت پر ہاتھ رکھنے پر وہ یکدم سے پیچھے مڑا اور اُسے شانوں سے پکڑ کر دیوار سے لگا کر اُسے دیکھنے لگا۔۔
وہ اس وقت وائٹ ہاؤس کے ایک خفیہ راستے سے اُسے لیے باہر نکل رہا تھا یہ جگہ زمین کے نیچے فرغام نے اسی طرح کے سچویشن کے لیے بنایا تھا اور اس طرح کے راستے اسکے دوسرے گھروں میں بھی بنے ہوئے تھے۔
“””اس وقت میری چوٹ سے ضروری ہمارا یہاں سے باہر نکلنا سب سے زیادہ اہم ہے اور یہ لوگ ہمارے نہیں صرف میرے پیچھے پڑے ہیں اور ہونگے میرے دشمنوں میں سے کوئی کیونکہ اس ملک میں میرے بہت سارے دشمن ہے اول نمبر تُم ہو۔۔”””
وہ ریوالور اُسکی پیشانی سے نیچے لیجا کر اُسکے کپکپاتے لبوں پر رکھ کر پھیرتے ہوئے کہنے لگا تو روحین اپنے لبوں پہ ریوالور کی نوک کو محسوس کرتی سختی سے اُسکی شرٹ کو دبوچنے لگی۔۔۔
“””پلیز۔۔۔”””
وہ اُسکے چہرے کو اب اپنے چہرے کے پاس آتے ہوئے دیکھ سٹپٹا کر بولی۔۔۔
“”ششششش۔۔۔”””
وہ اُسکی بات بیچ میں اپنی ریوالور کو اُسکے لبوں پر رکھ کر روکتے ہوئے اُسے خاموش کروا کر کہنے لگا۔۔۔
“”اگر یہاں سے زندہ نہیں نکلنا چاہتی ہو تو بتا دو میں تُمھیں اپنی ریوالور کی گولی سے اڑا کر تُمھاری یہ خواہش ضرور پوری کروں گا۔۔۔”””
اُسکے دھمکی دینے پر وہ لرزنے لگی اور اُسکے جسم کو بری طرح سے لرزتے ہوئے محسوس کرتا وہ زیر لب مسکرا اٹھا۔
“””نن۔۔۔نہیں مجھے یہاں سے سیو نکلنا ہے۔۔۔”””
وہ اٹک اٹک کر بولی۔۔۔
“””تو پھر چپ چاپ میرے پیچھے آؤ۔۔۔”””
اُسکی بات پر فرغام سلطان اُسے خود سے دور کرتا آگے بڑھنے لگا تو وہ بھی خاموشی سے اُسکے پیچھے چلنے لگی۔۔۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
“”عائشہ گل بچہ ضد نہیں کرتے آپکو نانی بلا رہی ہے سلطان بے اور میں بہت جلد آ جائے گے وہاں پر آپ فکر مت کریں بس ہمارے کچھ کام ہے جنہیں نبٹا کر ہم آئے گے۔۔۔”””
کیوان عائشہ گل کو نانی کے پاس اپنے آبائی گاؤں بھیجنا چاہتا تھا لیکن وہ بار بار منع کر رہی تھیں آخر تھک کر وہ اسے سمجھانے لگا۔۔۔
“””نہیں بھائی جب تک سلطان بے سے میں نہیں ملتی میں کہی نہیں جاؤ گی۔۔۔۔”””
عائشہ گل ضدی انداز میں بولی۔۔۔
“””عائشہ گل وہ ابھی یہاں نہیں ہے اور پتہ نہیں وہ کب واپس لوٹے اور مجھے پتہ بھی نہیں ہے کہ وہ اس وقت کہاں ہے۔۔۔”””
کیوان نے بے چارگی سے کہا۔
وہ اُن سبھی ٹھکانوں پر فرغام سلطان کو دیکھنے گیا تھا جن میں اسکا زیادہ پایا جانے کا امکان ہے مگر وہ وہاں جاکر مایوس ہوا تھا کیونکہ وہ ان سبھی جہگوں پر نہیں تھا اب بچا اس کا وائٹ ہاؤس تھا جو شہر سے کافی دور تھا جہاں جانے سے پہلے وہ اپنی بہن کو اس گھر سے دور اپنے آبائی گاؤں بھیج رہا تھا تاکہ وہ سکون سے اس وائٹ ہاؤس کے لیے نکل سکے ۔۔
“””تو بھائی پتہ کرے کئی سلطان بے کسی مشکل میں تو نہیں ورنہ وہ ہمیشہ جہاں جاتے ہیں آپکو کال ضرور کرتے ہیں۔۔۔”””
اپنے بھائی کی بات پر وہ سخت پریشانی سے کہنے لگی۔۔
“””عائشہ میرے بچے اسی لیے تو میں آپکو نانی کے پاس گاؤں بھیج رہا ہوں تاکہ میں یہاں آپکی غیر موجودگی میں انہیں ڈھونڈ سکوں۔۔۔”””
کیوان اسے اب ساری بات بتانے لگا کہ وہ کیوں اُسے نانی کے پاس جانے کے لیے کہ رہا ہے اور وہ اب اسکی بات سمجھ کر گاؤں جانے کے لیے ریڈی ہونے کا کہ کر اپنے روم کی جانب بڑھی تو کیوان اسکے مان جانے پر ایک گہری سانس خارج کرتا باہر ڈرائیور کو ہدایت دینے کے لیے نکلا کیونکہ گاؤں کا سفر بہت لمبا تھا اور وہ اپنی بہن کی سیفٹی کے لیے اسے کچھ ضروری باتیں سمجھانا بھی چاہتا تھا۔۔۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
“””سلطان بے یہاں نہیں ہے تو اُس لڑکی کو لے کر وہ کہاں جا سکتے ہیں۔۔۔؟؟؟
کیوان کآردال جب وائٹ ہاؤس میں پہنچا تو وہاں فرغام سلطان کو ناپاکر سخت ٹینشن میں خود سے کہنے لگا۔۔۔
“”یہاں تو ایک ملازم بھی بے نے نہیں رکھا ورنہ مجھے ان ہی سے پتہ چل جاتا کہ وہ اس لڑکی کے ساتھ کہاں گئے ہونگے۔۔۔”””
اس گھر میں فرغام نے ایک بھی ملازم نہیں رکھا تھا کیونکہ وہ اپنے اس خفیہ گھر کو پوشیدہ رکھے ہوئے تھا۔۔۔
“”یہ کیا ہیں۔۔۔”””
وہ جب باہر نکل رہا تھا تو سامنے دروازے پر سوراخ دیکھ آگے بڑھا اور اُس سوراخ کو چھوتے ہوئے کہنے لگا تبھی اپنے جوتوں تلے کچھ محسوس کر کے وہ نیچے جھکا اور اس چیز کو اٹھا کر بغور اسے دیکھنے لگا جو ایک گولی تھا۔۔۔
تبھی وہ یکدم سے الرٹ ہو کر اپنی جیب سے پستول نکال کر چاروں اطراف میں دیکھنے لگا مگر وہاں جب اُسے کچھ نہیں ملا تو وہ تیزی سے گھر سے باہر نکلنے سے پہلے وہ گھر کی سبھی لائٹ آن کرنا نہ بھولا۔۔
باہر آکر وہ پورے گھر کو دیکھنے لگا تو ساری کھڑکیوں کے شیشے گولی چلنے کی وجہ سے ٹوٹ چکے تھے اور دیواروں پر بڑی بڑی سوراخ بن گئی تھیں وہ یہ سب دیکھ فورا سے نازلی کو کال ملانے لگا۔۔۔
“””مس آفیسر پلیز کچھ مت بولے اس وقت میں سخت ٹینشن میں ہو مجھے کچھ بھی سمجھ میں نہیں آ رہا پلیز تُم جلد یہاں پہنچوں پلیز۔۔۔”””
وہ اُسکے چیخنے سے پہلے ہی سخت سنجیدگی سے گویا ہوا تو دوسری طرف موجود نازلی خاموش ہو کر اُس کی باتیں سُننے لگی۔۔۔
“””تُم مجھے ایڈریس سینڈ کروں میں ابھی آتی ہوں۔۔۔”””
وہ دوسری طرف سے بولی ۔۔
“””نہیں میں آفیسر جلد بازی مت کرنا یہ جگہ بہت دور ہے آپ ایک کام کریں ٹرین سے آئے۔۔۔”””
کیوان اُسکی تیزی پر جلدی سے بولا کیونکہ بھلے ہی وہ اس وقت سخت ٹینشن میں تھا مگر وہ اُسے اُسکی جلد بازی پر روکنا نہ بھولا۔۔۔۔
“””اوکے میں ٹرین سے آؤ گی تُم فکر مت کرو مسٹر مافیا۔۔””
نازلی اُسے یقین ڈالتی ہوئی بولی اور فون رکھ کر تیار ہونے کے لیے چلی گئی جبکہ کیوان اسکے فون رکھنے کے بعد تیزی سے اس گھر سے باہر نکلا اور اپنی کار میں اس کا ویٹ کرنے لگا۔۔۔
“”””مسٹر مافیا۔۔۔۔”””””
نازلی جب وہاں تین گھنٹے بعد پہنچی تو وہ ریلوے اسٹیشن سے سیدھا اس کے دیئے گئے اڈریس پر پہنچ کر اُسے ڈھونڈتی ہوئی اس کار کی جانب بڑھی۔۔
جہاں کیوان پورے تین گھٹنے سے اُس کا بے صبری سے ویٹ کر رہا تھا جب اسنے کار کی ونڈو پر ناک کیا تب کیوان چونک کر ونڈو سے باہر دیکھنے لگا تو اسے وہاں پاکر وہ تیزی سے باہر نکلا۔۔۔
“””شکر مس آفیسر آپ آ گئیں قسم سے میرا ٹینشن کے مارے سر پھٹ رہا تھا۔..””””
وہ اُسے وہاں دیکھ اب تھوڑا ریلکس فیل کرنے لگا جبکہ سلطان کو لے کر اسکے دماغ میں بہت ساری وسوسوں نے گھیرا کر رکھا تھا۔۔۔
“”ایسی کیا بات ہے مسٹر مافیا جو تُم آج اتنے پریشان لگ رہے ہو۔۔۔؟؟؟
نازلی اُسکے چہرے پر پریشانی دیکھ پوچھنے لگی۔۔۔
“””میں سلطان بے کی وجہ سے پریشان ہو۔۔۔”””
وہ ایک گہری سانس خارج کرتا کہنے لگا۔۔۔
“””کیوں اب اسنے کیا نیا کارنامہ کیا ہے جو تُم اتنے پریشان ہوگئے ہو۔۔۔؟؟؟
نازلی اپنے بھائی کے متعلق سُن کر سخت ناگواری سے کیوان کآردال سے پوچھنے لگی ۔۔
“””وہ ایک لڑکی کو اغوا کرکے اس گھر میں لے کر آیا تھا مگر یہاں کی حالت دیکھ کر مجھے ایسا لگ رہا ہے وہ دونوں کسی مصیبت میں ہے۔۔۔”””
کیوان کآردال نے کہہ کر اس وائٹ ہاؤس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے نازلی سے کہنے لگا تو وہ بھی اس وائٹ ہاؤس کی جانب دیکھنے لگی جسکی خوبصورتی گولیوں کی وجہ سے اب ماند پڑ چکی تھیں۔۔
“”وہاٹ ایک لڑکی وہ تو مجھے شکل سے ایسا نہیں لگتا وہ ایک پکا بے رحم انسان یہ عشق والا معاملہ نہیں ہے ضرور کچھ اور معاملہ ہے پھر تو ہمیں جلدی سے انہیں ڈھونڈنا چاہیے۔۔”””
نازلی سخت حیرت بھری نظروں سے کیوان کی جانب دیکھتی ہوئی بولی۔۔۔
تو کیوان کو اسکی بات پر اُس عورت کا خیال آیا جسکی تصویریں فرغام سلطان کے سبھی گھروں کے ایک خفیہ روم میں موجود تھے۔۔۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
“””ماضی”””
“””غزل۔۔۔”””
زاور سلطان بے بس ہو کر اپنی بیوی کا نام پکار بیٹھا۔
“”””بس زاور سلطان بس مجھے تُمھارا صرف جواب سُننا ہے تُمھیں اپنا کام عزیز ہے یا پھر اپنے بیوی بچے۔۔۔”””
غزل معمول کی طرح آج بھی اپنے شوہر کے اس کام کی وجہ سے تیز اونچی میں لڑ رہی تھیں اور اٹھارہ سالہ فرغام جو اندر روم میں اپنے چھوٹے بہن بھائی کے پاس تھا اپنی ماں کی چیخ پر اپنے چھوٹی بہن کے رونے پر غصے سے اپنی مٹھیاں بھینچنے لگا۔۔۔
“”””غزل تُم کیوں الگ ہونا چاہتی ہو جبکہ تُم مجھ سے بے پناہ محبت کرتی ہو پھر کیوں خود کو ہمیشہ کے لیے درد دے رہی ہو مجھ سے جدا ہو کر ۔۔۔؟؟؟
زاور سلطان آگے بڑھا تو غزل تیزی سے پیچھے ہٹی۔۔۔
“”تُم جیسے ایک غنڈے کے ڈرائیور کے ساتھ رہنے سے بھتر ہے میں یہ درد عمر بھر کیلئےاپناؤ زاور سلطان۔۔””
غزل اُسکی جانب ہوئی غصے سے چیخ کر بولی۔۔۔
“”ٹھیک ہے تُم جیسا چاہتی ہو ویسا کروں اور جو میں چاہتا ہوں غزل بیگم میں ویسا کروں گا۔۔”””
اب تو زاور سلطان بھی اس روز روز کے تماشے سے تنگ آ چکا تھا اسی لیے وہ کچھ بھی سوچے سمجھے بغیر سخت لہجے میں اپنی بیوی غزل سے کہنے لگا۔
“””کیا مطلب۔۔۔”””
غزل پھٹی آنکھوں سے اُس شخص کو دیکھنے لگی جس نے زندگی میں کبھی اس سے اس لہجے میں بات کرنا بھی گناہ سمجھا تھا آج اُسکی علیحدگی کا سُن کر بپھر گیا کر اس سے نرم لہجے میں بات کرنے والا آج سخت لہجے میں بات کر رہا تھا ۔۔
“””مطلب میں تُمھیں طلاق نہیں دوں گا غزل بیگم تُم ساری زندگی میرے نام کے ساتھ اس چھت کے نیچے ہمارے بچوں کے ساتھ رہوں گی۔۔”””
زاور سلطان کی بات پر غزل اُسے دیکھتی کی دیکھتی رہ گئی۔۔۔
“”نہیں ہرگز نہیں تُم مجھے ابھی اور اُسی وقت طلاق دوں مجھے یہاں تُمھارے اس گھر میں بالکل بھی نہیں رہنا سنا تُم نے زاور سلطان۔۔۔”””
وہ ہٹ دھرمی سے چیخ کر بولی۔۔۔
یہی وہ لمحہ تھا جب ایک اٹھارہ سالہ لڑکا اُس عورت کی وجہ سے عورت لفظ سے نفرت کرنے پر مجبور ہوا تھا جسکی کوکھ سے اُسنے جنم لیا تھا۔۔
“””غزل بیگم طلاق کو تُم بھول جاؤ تُم یہی رہوں گی بس بات ختم۔۔۔”””
زاور سلطان سخت لہجے میں اپنا فیصلہ سُنا کر غزل کو سخت صدمہ پہنچا گیا۔۔۔
“””کیوں آخر کس خوشی میں،میں تُمھارے نام پر ساری زندگی بیٹھی رُہوں ہاں۔۔۔؟؟؟
غزل نے غصے سے اُسے کالر سے پکڑ کر بُری طرح سے جھنجھوڑ کر پوچھا۔۔۔
“””کیونکہ مجھے اپنی چیزوں کو شئیر کرنا پسند نہیں ہے تُم تو میری بیوی ہو غزل بیگم تو میں کیسے تُمھیں کسی اور کا ہونے دوں ہاں تُم چاہے میرے ساتھ رہوں یا نہ رہوں مگر میرا نام ہمیشہ تُمھارے ساتھ رہے گا۔۔۔”””
وہ سخت نظروں سے اُسے گھورتے ہوئے کہنے لگا۔۔۔
“”مجھے نہیں رہنا اس نام کے ساتھ سُنا تُم نے زاور سلطان۔۔۔”””
وہ چیخی تبھی فرغام سلطان روم سے باہر نکلا۔۔۔
“””بابا مجھے بھی آپکے ساتھ جانا ہے یہاں اس گھر میں مجھے نہیں رہنا نفرت سی ہونے لگی ہے اس جگہ سے یہاں کے لوگوں سے آپ مجھے بھی اپنے ساتھ لے چلے۔۔۔”””
وہ اپنی ماں کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنے باپ سے کہنے لگا غزل اُسکی بات پر ساکت نظروں سے اپنے بڑے بیٹے کو دیکھنے لگی جو اُسکی جانب دیکھ بھی نہیں رہا تھا۔۔۔
“”فرغام۔۔۔”””
وہ آگے بڑھ کر اُسے پکار بیٹھی تو وہ تیزی سے پیچھے ہٹا تو غزل اپنے بیٹے کو اس طرح خود سے دور ہوتے ہی حیرت سے دیکھنے لگی ۔۔
“””مجھے اپنے بابا کے ساتھ جانا ہے جہاں میرے بابا کی عزت نہیں میں وہاں نہیں رہوں گا۔۔۔”””
وہ اپنی ماں سے نظریں نیچے جھکا کر کہنے لگا تو غزل نے زاور سلطان کی جانب استہزایہ نظروں سے دیکھا۔۔۔
“””دیکھا زاور سلطان تمھارے اِس کام کی وجہ سے آج میرا بیٹا بھی مجھ سے نفرت کرنے لگا ہے میرے ساتھ رہنا نہیں چاہتا ہے۔۔۔”””
نم آنکھوں سے اُسے دیکھتی ہوئی اپنے شوہر سے کہنے لگی۔۔۔
“””بیٹا تُم اپنی ماں کے پاس رہنا انکا خیال رکھنا اپنے چھوٹے بہن بھائی کا ایک زمہ دار بھائی بن کر خیال رکھنا بیٹا میں تُمھیں اس جگہ اپنے ساتھ نہیں لے کر سکتا وہاں بہت خطرہ ہے۔۔”””
زاور سلطان اُسکے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اُسے
سمجھاتے ہوئے کہنے لگا وہ خود بھی یہی چاہتا تھا کہ اسکا بیٹا اپنی ماں کے پاس رہے ان تینوں کا خیال رکھیں۔۔۔
“””نہیں بابا مجھے آپکے ساتھ رہنا ہے اُنکے ساتھ نہیں جو آپکو سمجھتے نہیں رہنا چاہتی ہے مجھے پتہ ہے یہ بہت اچھی طرح سے جانتی ہے کہ آپ وہاں صرف ایک ڈرائیور ہے خونی نہیں ہے پھر بھی یہ ایسا کر رہی ہے اور کیوں آپکو ہم سے الگ کر رہی ہے ڈرائیور کا کام کوئی غلط کام تو نہیں ہے یہ تو ہر کوئی کرتا ہے ۔۔”””
وہ اٹھارہ سالہ ہوشیار لڑکا تھا اچھے سے جانتا تھا کہ اسکا باپ وہاں مافیا کے پاس ضرور کام کرتا ہے لیکن آج تک انہوں نے کسی کا قتل نہیں کیا وہ صرف انکے یہاں ڈرائیور ہے پھر اسکی ماں اس جاب کو لے کر اتنا کیوں شور مچا رہی ہے۔۔۔
“””بیٹا۔۔۔”””
اب اسے یہاں بہت گھوٹن سی محسوس ہو رہی تھیں اس گھر سے غزل کی آواز پر وہ انکو نظر انداز کرتا تیزی سے زاور سلطان کا ہاتھ پکڑ کر انہیں کھینچتے ہوئے اُس گھر سے ہمیشہ ہمیشہ کیلئے باہر نکلا۔
“””زاور سلطان تُمھیں خدا پوچھے میرے بیٹے کو مجھ سے نفرت کرنے پر مجبور کرنے پر تُم جہنم کی آگ میں جلو تُمھیں بہت بُری موت ملے۔۔۔”””
پیچھے غزل زاور سلطان کو بددعائیں دیتی چیختی چلاتی رہ گئی جبکہ انہوں نے خود اپنے بیٹے کو مجبور کیا تھا خود سے دور جانے کے لیے اب وہ انکے جاتے ہی فرش پر گری اور زور زور سے رونے لگی۔۔۔
