122.6K
29

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 23

“سلطان بچے یہ یہاں کیا کر رہی ہیں۔۔؟
ڈائننگ ہال میں ڈائننگ ٹیبل پر بیٹھے سب ڈنر کر رہے تھے تبھی فرغام سلطان اُسکا ہاتھ پکڑیں جب وہاں آیا تو ثریا خاتون (کیوان کآردال کی نانی جان) کی نظریں روحین کے چہرے پر پڑی تو ساکت رہ گئیں وہ روحین کو دیکھ کر اُسے نیلوفر سمجھ کر یکدم سے نفرت سے اپنی جگہ سے اٹھی اور غصے سے روحین کی طرف اشارہ کرتی فرغام سلطان سے پوچھنے لگیں۔
“نانی جان یہ وہ نہیں ہے۔یہ میری بیوی ہے۔اور آپ زرا غور سے دیکھے یہ جوان ہے اسکے چہرے کو دیکھے یہ کہی سے بھی پچاس سال کی بوڑھی عورت نہیں لگ رہی آج اسکا برتھڈے بھی ہے اور یہ آج بیس سال کی ہوئی ہیں۔ ہاں اس عورت کے ساتھ اسکا قریبی رشتہ ہے لیکن یہ ان لوگوں کی طرح لالچی اور گھٹیا نہیں ہے یہ معصوم ہے اور یہی معصومیت سے ہی تو میں پگھلا ہوں۔”
روحین اپنی برتھڈے کا سن کر حیرت سے اُسے دیکھنے لگی مطلب وہ ڈیول اس سے اتنا پیار کرتا ہے کہ اُسکی چھوٹی سی چھوٹی چیزوں کو معلوم کر رہا ہے اب اور کیا سرپرائز ہیں جو وہ اسے دینے والا ہے۔
جبکہ آرزو سلطان کے ہاتھ میں اُسکا ہاتھ دیکھ غصے سے پاگل ہونے لگی مگر بظاہر وہ وہاں نارمل بیٹھی اُس دشمن جاں کو اپنی دادی سے باتیں کرتے ہوئے دیکھ رہی تھی۔
“سلطان بچے یہ ہم سے نہیں ہوگا۔اُس عورت کی وجہ سے میری اکلوتی بیٹی مری میرا داماد غائب ہوا تمھارا باپ مرا تُمھاری ماں بھائی اور بہن مرے تو ہم کیسے اُسکی ہمشکل کیلئے اپنے دل کو نرم کریں کیسے۔؟
ثریا خاتون نے واپس کرسی پر بیٹھتے ہوئے سپاٹ لہجے میں کہا۔
“نانی جان اس میں روحی کی تو کوئی غلطی نہیں
ہے بلکہ اُس عورت کی وجہ سے میری روحی نے اپنے باپ کی نفرت کو سہا اپنی ماں سے دور رہنا پڑا اپنی بہن کے ظلم سہے صرف اُس ڈائن عورت کی وجہ سے اب آپ بھی اُسکے ساتھ وہی کرے گی تو یہ میری فیملی سے خوفزدہ رہے گی مجھ سے ڈری گی اور یہ میں بلکل بھی برداشت نہیں کرسکتا کہ میری روحی مجھ سے ڈرے۔”
فرغام سلطان نے روحین کو اپنے سے لگاتے ہوئے اُسکی جانب دیکھتے ہوئے کہا۔ آرزو جو اُسے ہی دیکھ رہی تھی اُس اب برداشت نہ ہو سکا تو وہ اٹھی اور غصے سے وہاں سے چلی گئی۔
“ہارون بچے مجھے ہمارے روم میں چھوڑ آؤں یہ
لڑکی یہاں رہے گی تو ہم سے کھانا نہیں کھایا جائے گا،اس شکل کو دیکھ کر اگر ہم نے اس کے ساتھ کچھ غلط کیا تو سلطان بے بلکل اپنے دشمنوں کی طرح مجھے گولی مار کر ختم کر دے گے۔”
ثریا خاتون اچانک سے اٹھتی ہوئی ہارون صاحب سے کہنے لگیں۔
“نانی جان یہ آپ کیا کہہ رہی ہیں میں بھلا ایسا کیوں کروں گا۔ اور مجھے پتہ ہے آپ نفرت ضرور کرے گی لیکن نقصان اسے نہیں پہنچائے گی۔ اسی لیے تو میں اسے یہاں چھوڑ کر جا رہا ہوں۔”
فرغام سلطان نے بُرا مانتے ہوئے کہا۔آخر میں اُنہیں اپنے جانے کے متعلق بھی بتانے لگا جسے سن کر وہ اپنا سارا غصہ بھول کر اُسکی جانب پھٹی آنکھوں سے دیکھنے لگیں۔
“سلطان بچے تت۔تُم کہاں جا رہے ہو۔؟
وہ اُسے دیکھتی ہوئی پوچھنے لگی۔
“مجھے پتہ تھا۔ آپ میری یہ بات سُن کر اپنا سارا غصہ بھول جائے گی۔۔میں کسی ضروری کام سے جا رہا ہوں کل صبح نکلوں گا۔”
فرغام سلطان روحین کو چھوڑ کر اُنکی جانب بڑھا اور انکے کمزور بوڑھے ہاتھوں کو پکڑ کر آنکھوں سے لگاتے ہوئے کہنے لگا۔
“سلطان بچے تُمھیں اتنی جلدی جانے کی کیا ضرورت ہے کوئی نہیں کام ہوتے رہیں گے تم کہی نہیں جا رہے ہو سمجھے۔”
وہ خفگی سے کہتی آخر میں اسے حکم دینے لگیں۔
“نانی جان یہ کام میرے لیے یہاں رہنے سے بھی زیادہ اہم ہے۔”
فرغام سلطان نے بے بسی سے کہا۔
“اچھا ٹھیک ہے لیکن آج کی رات تُم ہمارے پاس رہوں گے اُس لڑکی کے پاس نہیں سُنا تُم نے۔”
اُنہوں نے پیچھے کھڑی روحین کی جانب غصے سے دیکھتے ہوئے فرغام سلطان کو ایک اور حکم دیا جسے سن کر فرغام سلطان نے شریر نظروں سے اُنہیں دیکھا۔
“نانی جان کیا آپکو نواسے نواسیوں کو کھلانے کا شوق نہیں ہے۔جو آپ مجھے ساری رات ہمیں ہماری بیوی سے دور کرنے کا پلان بنا رہی ہے۔ ؟
فرغام سلطان نے شریر نظروں سے اُنہیں دیکھتے ہوئے کہا۔
“چل بدمعاش یہ لڑکی واقعی میں ایک خوش بخت لڑکی ہے جس نے تُمھیں بدل دیا ہے تُمھیں ہنسنا شرارت کرنا سیکھایا ہے اور اسی بات کی وجہ سے میں اس سے اپنے باقی بچوں کی طرح پیش آؤں گی۔۔”
اُنہوں نے اُسکی بے باک بات پر اُسکے مضبوط
کندھوں پر مارتے ہوئے کہا تو وہ ہنسنے لگا۔
🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥
کیوان اس گھر کے دروازے سے نکل کر یاٹ کی جانب بڑھا اور یاٹ کے اندر گھسا اور جاکر پائلٹ کے روم میں داخل ہوا اور پیچھے سے اسے مار کر اُسے بہیوش کرنے کے بعد اُسنے اُسے یاٹ سے باہر پھینکا گھر کی طرف دیکھنے لگا۔۔ جہاں یاٹ میں موجود سبھی لوگ جن میں عورتیں بھی تھیں نازلی کے ہلیپ مانگنے کی وجہ سے وہاں بھاگ رہے تھے۔
دوسری طرف نازلی اُن لوگوں کو گھر کی طرف بھاگتے ہوئے دیکھ جلدی سے پانی میں چھلانگ لگا کر تیرتی ہوئی یاٹ کی جانب بڑھنے لگی۔
تاریکی کی وجہ سے وہ صحیح سے دیکھ نہیں پا رہی تھی تبھی اُسے دیکھتے ہوئے یاٹ کے اندر سے کیوان نے پانی میں چھلانگ لگا کر اُسکی جانب بڑھ کر اُسے کمر سے پکڑا اور یاٹ پر لٹکے موٹی رسی کی مدد سے وہ اُسے لیے اوپر بڑھنے لگا۔
“یاہو مسٹر مافیا ہم وہاں سے نکلنے میں کامیاب ہوگئے “
جب وہ دونوں یاٹ کے اندر پہنچے تو نازلی نے اچھلتے ہوئے زور سے نعرہ لگا کر چیختے ہوئے کیوان کآردال کی جانب دیکھتے ہوئے کہا۔
“بیوی کیا تُم اسطرح اپنی خوشی کو سیلبریٹ کروں گی۔؟
کیوان کآردال اُسے خوشی سے اچھلتے ہوئے دیکھ آگے بڑھ کر معنی خیز نظروں سے اُسکے نازک سمندر میں کھودنے کی وجہ بھیگے وجود کی جانب دیکھتے ہوئے کہا۔
“پھر کس طرح کروں۔؟
نازلی اُسکی جانب حیرت سے دیکھتی ہوئی پوچھنے لگی۔
“اس طرح۔”
کیوان کآردال اُسکے پوچھنے پر آگے بڑھا اور اُسکے سر کے بالوں کو سختی سے پکڑ کر اسکا چہرہ اپنے چہرے کے بے حد قریب کرتا وہ اُسکے لبوں پر اپنے لب رکھ کر شدت سے اُسکی سانوں کو منتشر کرنے لگا۔
“بے ہودہ انسان ہر وقت تُمھارے سر پر صرف یہ سب کیوں سوار رہتا ہے ہاں میری جان کب چھوڑوں گے تُم۔”
اُسکی سانسوں کو نڈھال کر وہ اُسے چھوڑتا اپنے لبوں پہ لگے نازلی کے لپ اسٹک کو ہٹاتا وہ بے باک نظروں سے اُسے دیکھنے لگا تو نازلی شدید غصے سے اُسے گھورتی ہوئی کہنے لگی۔
“یہ سب کچھ تُمھیں اپنے قریب دیکھنے کی وجہ سے میرا سر پر سوار ہوتا ہے اور چھوڑنے کی ضد فضول ہے بیوی کیونکہ مجھ سے جدائی تُمھیں میری موت ہی دلا سکتا ہے ۔”
اُسکی بے باک نظریں اُسکے چپکے کپڑوں پر مرکوز تھی جہنیں محسوس کرتی نازلی نے جلدی سے اپنے دونوں ہاتھ اپنے سینے پر رکھتے ہوئے اُسے گھورا۔
“بیوی اب خود کو چھپانے کا کیا فائدہ میں نے تو اُس
رات سب کچھ دیکھ لیا تھا اب تُم جتنی کوششیں کیوں نہ کر لو یوں خود کو اس طرح ساتھ پردوں میں چھپانے کی مجھے سب اچھے سے یاد ہے۔”
کیوان کآردال نے اُسکے خود کو چھپانے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے دیکھ کر معنی خیزی سے کہا۔
“بے شرم انسان۔”
وہ شدید غصے سے کہتی یاٹ کے اندر بنے روم کی جانب بڑھی شاید وہاں جاکر اُسے کچھ پہننے کو مل جائے۔جبکہ کیوان کآردال اُسے وہاں سے جاتے ہوئے
کھڑا دیکھنے لگا۔
نازلی جب روم میں داخل ہوئی تو سامنے بنے چھوٹے سے کپبورڈ کی جانب بڑھی اور وہاں لٹکے دو مختلف رنگ اور ڈیزائن کے ڈریس کو دیکھ وہ بلیو رنگ کے ڈریس کو اٹھا کر بیڈ کی جانب بڑھی کیونکہ وہ سرخ رنگ کا دوسرا ڈریس نامباسب تھا اور وہ اس بے ہودہ شخص کی موجودگی میں تو وہ اس ڈریس کو پہننے سے رہی اسی لیے وہ دوسری ڈریس لیکر اسی روم میں بنے واشروم کی جانب بڑھی۔
وہ سمندری پانی کی وجہ سے اپنے جسم میں کھجلی سے پریشان اپنے گیلے کپڑے نکال کر وہ شاور لینے کی غرض سے آگے بڑھی اور جب اُسنے شاور کھولا شاور سے جب پانی نہ گرا تو وہ منہ بناتی ہوئی اسی طرح بنا شاور لیے وہ بلیو ڈریس پہن کر روم میں آئی اور بیڈ کو دیکھ کر پورے دو راتوں کی تھکی ہاری وہ بیڈ پر گر کر آنکھیں موند گئی۔
رات ایک بجے یاٹ کو روک کر جب وہ دبے پاؤں اس روم میں داخل ہوا تو اُسے بیڈ پر سوتے ہوئے دیکھ وہ اپنا چہرہ بلکل اُسکے چہرے کے قریب لاکر اُسے پیار سے دیکھنے لگا کہ تبھی یاٹ کے زور سے ہلنے پر اسکے لب سیدھا جا کر اُسکے لبوں سے ٹچ ہوگئے تو اُسکے لبوں پہ لگے سمندری نمکین پانی کو محسوس کر وہ اپنے لبوں سے انہیں صاف کرنے لگا۔
پھر اُسکے رخسار کی جانب بڑھا اور وہاں پر بھی لگے نمکین پانی کو صاف کرنے لگا اسی طرح پیشانی پر بھی اپنے لب رکھ کر نمکین پانی کو محسوس کرنے لگا پھر دوسری بار یاٹ کے جھٹکے پر وہ تیزی سے اس سے دور ہوا اور روم سے باہر کی جانب نکلا۔
🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥
ہلوں مت بیوی۔”
رات کی تاریکی کی وجہ سے کیوان یاٹ کو سمندر کے بیچ میں رُوک کر باہر نکلا تو اُسے سمندر کے پرسکون لہروں کو دیکھ کر وہ آگے بڑھا۔
نزدیک پہنچتے ہی یکدم سے اُسے کل رات کا منظر یاد آیا تو وہ مسکرایا اور اُسکے قریب پہنچ کر اُسکے آگے کھڑا ہوگیا اور اُسے متوجہ کرتے ہوئے پیچھے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے اُسے ہلنے سے منع کرنے لگا۔
“کیوں۔”
نازلی اُسکے آکر اپنے سامنے کھڑے ہونے پر اور پیچھے کی طرف اشارہ کرنے پر وہ تیکھی نظروں سے اُسے دیکھتی ہوئی پوچھنے لگی۔
“کیونکہ تُمھارے پیچھے ایک بڑا سا سانپ ہیں۔”
کیوان نے سنجیدگی سے کہا۔
تو نازلی اپنے پیچھے سانپ کا سُن کر دھنگ رہ گئیں۔
“وہاٹ سانپ۔”
پھٹی آنکھوں سے اُسے دیکھتی ہوئی پوچھنے لگی۔
“ہاں سانپ۔”
کیوان نے اُسی سنجیدگی سے کہا۔
“تُم میرے ساتھ کھیل رہے ہوں ناں۔؟؟؟
وہ تیوریاں چڑھا کر اُس سے پوچھنے لگی۔تو کیوان سرمئی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے ہنسا۔
“ہاہاہاہاہاہاہا بیوی تُم ہاتھ لگانے نہیں دیتی ہو۔”
گھمبیرانہ لہجے میں کہتا وہ اُسے دیکھنے لگا جو اب سخت نظروں سے اُسے گھور رہی تھیں۔
“شٹ اپ سچ بتاؤ کیا سچ میں میرے پیچھے سانپ ہیں۔؟
نازلی نے آنکھوں کو ترچھی کرتے ہوئے اُسکے چہرے کو دیکھا جو کافی سنجیدہ لگ رہا تھا۔
“بیوی کیا تُم ڈر رہی ہوں۔؟
اُسکے سوال پر وہ اچانک چہرے پر شرارت سجا کر پوچھنے لگا۔
“ڈر مائے فٹ میں تُمھیں اُس سانپ کو گردن سے پکڑ کر ابھی دیکھاتی ہو۔”
وہ شدید غصے سے کہتی اُسے کہنے لگی۔
اس وقت بلکل بھی ڈر اُسکے چہرے پر رقم نہیں تھا اُسکی جگہ اگر کوئی کمزور لڑکی ہوتی تو سانپ کا نام سُن کر اسی وقت بہیوش ہو جاتی لیکن وہ آفیسر نازلی تھی۔
ایک خطرناک گینگسٹر کی ضدی اور خونخوار بہادر بہن۔
“ہاں پھر دیکھاؤ نا بیوی کھڑی کیوں ہو۔”
کیوان کآردال نے اُسے اُکساتے ہوئے کہا۔
تو اسکی بات پر وہ جھٹکے سے پیچھے مڑی اور نیچے دیکھنے لگی تو وہاں اُسے صرف یاٹ کا چمکدار سفید فرش نظر آیا۔
“کہاں ہے یہاں سانپ جھوٹے انسان۔”
وہ پوری جگہ ڈھونڈتی ہوئی کہنے لگی۔
“سرمئی آنکھوں والی حسینہ کو دیکھ کر بھاگ گیا ڈارلنگ۔”
کیوان اُسے نیچے جھکے دیکھ کہتے ہوئے آگے بڑھا اور ایک سیاہ پٹی جیب سے نکال کر جو اُسے اس یاٹ کے ایک روم سے ملا تھا اور ایک پتلی مگر مضبوط رسی بھی جسے وہ پیچھے سے نازلی کو پکڑ کر وہ پہلے اُسکے ہاتھ باندھنے لگا پھر آنکھوں پر پٹی نازلی جو نیچے جھکی سانپ کو ڈھونڈ رہی تھی اس اچانک افحاد پر وہ اُسکی مضبوط باہوں میں دولنے لگی۔
“مسٹر تُم یہ میری آنکھوں پر پٹی اور ہاتھوں کو کیوں رسیوں سے باندھ رہے ہو چھ۔چھوڑوں مجھے۔؟
وہ اپنی آنکھیں پٹی کی قید میں محسوس کرتی خود کو اس وقت اندھی تصور کرنے لگی تو اُسکی مضبوط باہوں میں بُری طرح سے محترک ہوگئی۔
“بیوی تُم کُھلی آنکھوں اور بغیر بندھے ہاتھ پیروں سے مجھے کچھ کرنے ہی نہیں دیتی ہوں۔تو میں یہ سب
کرنے میں مجبور ہوگیا ہوں۔”
وہ اُسے باندھنے کے بعد اُسکا رُخ اپنی جانب کرتا بھاری لہجے میں کہنے لگا۔
“م۔مطلب کک۔کیا کرنے نہیں دیتی ہو میں تُمھیں۔؟
اُسکی مضبوط باہوں کی سخت گرفت میں وہ سمٹی پھاڑ کھانے والے انداز میں پوچھنے لگی۔
“بہت کچھ۔”
بوجھل لہجے میں کہتا اچانک اُسے باہوں میں بھر کر لیے سامنے چھوٹے سے بنے پول کی جانب بڑھا۔
نازلی خود کو اُسکی باہوں میں محسوس کرتی لرز اٹھیں۔
“ی۔یہ تُم نے مجھے اوپر کیوں اٹھا رہے ہو۔؟
وہ کپکپاتی آواز میں اُس سے پوچھنے لگی۔
“بیوی سمندری پانی میں کھودنے کی وجہ سے تُم پوری نمک کی کان بن گئی ہوں۔جب کل رات تین بجے تُم سو رہی تھیں تو میں نے تُمھاری بے خبری کا فائدہ اٹھایا اور مجھے بدلے میں مجھے سزا کے طور پر تُمھارے گال پیشانی نمکین ملے۔”
پول کے پاس پہنچ کر نظریں اُسکے غصے سے ٹمٹماتے چہرے پر مرکوز کرنا معنی خیزی سے کہنے لگا۔
“کیا تُم نے میری نیند کا فائدہ اٹھایا اتنی ہمت تُمھاری۔”
وہ اُسکی گستاخیوں کی داستان سُن کر سخت سُلگتی ہوئی شدید غصے سے بولی۔
“بیوی ہمت دیکھانے کیلئے۔مجھے پہلے تُمھیں نمک کے کان سے شوگر فیکٹری میں تبدیل کرنا پڑیں گا پھر میں تُمھیں اچھے سے اپنی ہمت سے ملواؤں گا۔”
معنی خیز نظروں سے اُسکے سفید ڈریس میں چھپے نازک سراپے کو دیکھتے ہوئے اچانک سے اُسے سوئمنگ پول میں اُسنے اُسے پھینک دیا تو آنکھیں پٹی میں جکڑنے اور ہاتھ رسیوں سے باندھنے کی وجہ سے وہ سوئمنگ پول میں ڈوبنے لگی۔
“ہوں شٹ اپ اور یہ تُم نے مجھے پول میں کیوں پھینکا مجھے باہر نکالوں ۔”
بمشکل اپنا سر باہر نکالنے میں کامیاب ہو کر وہ غصے سے چیختی ہوئی اُسے حکم دینے لگی۔
“بیوی تُم کہوں تو میں ابھی اس سوئمنگ پول میں آکر تُمھیں شوگر فیکٹری بننے میں ہلیپ کرتا ہوں۔”
کیوان نے معنی خیزی سے کہا۔
تو وہ اُسکی بات پر سلگ کر رہ گئیں۔
“جاہل بدتمیز میری آنکھیں کھولوں مجھے کچھ بھی نظر نہیں آ رہا میں ڈوب جاؤں گی۔”
وہ ڈوبنے لگی تو سر باہر نکال کر اُس سے کہنے لگی جو اُسے ڈوبتے اور مشکل سے سانسیں لیتے ہوئے دیکھ سوئمنگ پول کے اندر گیا اور اُسکے پیچھے جاکر اُسکی بھیگی نازک کمر کو پکڑ کر اوپر اٹھا کر اُسکا رخ اپنی جانب کرتا اُسکے سردی کی وجہ سے کپکپاتے بدن اور لبوں کو اپنی گستاخ نظروں سے دیکھنے لگا۔
“فکر ناٹ بیوی میں ہو نا تُمھیں ڈوبنے نہیں دوں گا۔”
گھمبیرانہ لہجے میں کہتا وہ اُسکی سردی کے باعث کانپتے لبوں پہ جھکا اور اپنے لبوں کی حرارت شدت سے محسوس کراتا اُسے اب شرم کے مارے کپکپانے پر مجبور کرنے لگا۔
“ڈونٹ ٹچ می اپنے ہاتھوں کو کنٹرول کروں ورنہ میں اُنہیں کاٹ کر شارک کو کھلا دوں گی۔”
وہ اُسکے چہرے کے دور ہٹتے ہی خونخوار لہجے میں بولی۔
“بیوی یہ ہاتھ تُمھاری نزدیکی پر خودبخود آؤٹ آف کنٹرول ہو جاتے ہیں تو کنٹرول کرنے کا کوئی فائدہ نہیں یہ تُمھارے مامعلے میں بے لگام ہیں۔”
کیوان نے جھٹکے سے اُسے کمر سے پکڑ کر اپنے اوپر گرایا
اور اُسکی نم پیشانی کو چھونے کے بعد سفر نیچے رخساروں کی جانب کرتا بوجھل لہجے میں کہنے لگا نازلی شدید سردی کے باعث اُسکی گرم باہوں میں سمٹی اُسکے سہارے کھڑی تھیں۔
🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥
اُسکی آنکھیں اپنے پیٹ پر سخت بوجھ محسوس کرنے کی وجہ سے کُھلی تو اذان فرید کی باہوں میں خود کو اُسنے جس حال میں پایا وہ زور زور سے سر نفی میں ہلاتی ہوئی نہیں نہیں کی گردان کرتی ہوئی اُسکی باہوں میں مچلنے لگی۔
“رنیم۔”
اُسکے مچلنے پر اذان فرید کی آنکھیں کُھلی تو پہلے وہ ناسمجھی سے اُس روم کو دیکھنے لگا۔پھر ہزیانی انداز میں چیختی ہوئی رنیم کی جانب متوجہ ہوا جو رو رہی تھی بُری طرح سے اور اُسکے نازک وجود میں اپنے دئیے گئے زخم دیکھ وہ ساکت رہ گیا۔
مطلب اُسنے بھی اُن درندوں کی طرح اُسکے ساتھ وہ سب کیا جس سے وہ اب تک خوفزدہ اور صدمے میں تھیں۔
“نام مت لو میرا تُم اذان فرید کیونکہ تُم بھی اُنکی طرح نکلے جہنوں نے مجھے لوٹا تھا تُم نے بھی مجھے انہیں کی طرح میرے جسم کو نوچا۔”
وہ اپنے نازک وجود کو چادر میں چھپانے لگی کیونکہ اُسکی فراک جگہ جگہ سے پھٹی ہوئی تھی وہ بیڈ سے نیچے اترتی ہوئی اذان کی طرف نفرت سے دیکھتی ہوئی بولی۔
“نن۔نہیں رنیم جو ہوا وہ نشے کی حالت میں ہوا تھا میں نے یہ سب جان بوجھ کر تُمھارے ساتھ نہیں کیا۔”
اذان نے کہہ کر اپنے بغیر شرٹ کی پرواہ کیے بغیر بیڈ سے نیچے اترتے ہوئے اسکے پاس پہنچ کر وہ اُسے شانوں سے پکڑنے کیلئے آگے بڑھا تو رنیم نے نفرت سے قدم اس سے دور کیے۔
“اب کیا فائدہ میرا ایک بار پھر سے وقار عزت و آبرو سب کچھ لٹ گیا وہ بھی تُم نے لوٹا۔ اذان فرید یہ سب کرتے ہوئے تُم نے بتا دیا کہ سبھی مرد ایک جیسے ہوتے ہیں۔”
وہ روتی ہوئی اُسی حالت میں اُس روم سے اور پھر بار سے باہر نکلی تو اذان فرید بھی اپنی حالت کی پرواہ کیے بغیر اُسکے پیچھے بھاگا۔
“رنیم پلیز میری بات سُنو پلیز رک جاؤ۔”
اذان فرید اُسکے پیچھے اُسے پکارتے ہوئے بھاگ رہا تھا۔
“نہیں مجھے نہیں سُننا پلیز چلے جاؤ چلے یہاں سے مجھے اکیلا چھوڑ دو تُم نے مجھے اچھے سے سمجھا دیا ہے کہ میرا اِس دنیا میں کوئی نہیں ہے۔مم۔ میں تب بھی اس دنیا میں تنہا تھی جب میرے والدین ایک ایک کر کے مرے تھے اب اپنی عزت گنوا کر بھی تہنا ہو اذان فرید۔”
مین روڈ پر پہنچ کر وہ غصے سے اُسے پلٹ کر دیکھتی ہوئی الٹے قدموں سڑک کے بیچوں بیچ چلنے لگی۔ تو اذان فرید کی نظریں سامنے سے آتے ٹرک پر پڑی تو وہ شدت سے چیخا اور اُسکی جانب بڑھا۔
ٹرک نے آکر اُن دونوں کو دور اچھالا اور وہاں سے بھاگ نکلا دو معصوم لوگوں کی زندگیوں کو اندھیرے میں ڈوبا کر تبھی آسمان بھی اُن دونوں کے ظلموں پر رونے لگی۔
مضبوط ہاتھ سڑک پر اُس نازک وجود کی
جانب بڑھ رہے تھے جبکہ سر سے نکلتے خون کی وجہ سے اُسکے ہاتھ سڑک پر ہونے کی وجہ سے خون سے بھر چُکے تھے۔سرمئی آنکھیں جو بارش کی وجہ سے کھل اور بند ہو رہی تھیں۔ وہ سامنے گرے نازک وجود کی مرکوز جانب تھے۔تبھی اُسکے سامنے کوئی آ کھڑا ہوا اور اُس نازک وجود کے اوپر کچھ پھنکنے لگا۔
جسکی وجہ سے نازک وجود کی دلدوز چیخے اُسکی سماعتوں سے ٹکرائی تو وہ ان چیخوں سے سمجھ گیا کہ وہ آنے والا شخص اسکے اوپر کیا پھینک رہا ہے وہ بُری طرح سے کراہتے ہوئے اپنے مضبوط وجود کو ہلانے کی کوشش کرنے لگا۔
اور آنکھیں سر بھاری ہونے کی وجہ سے بند ہونے باوجود بھی وہ اپنے وجود کو آگے اس شخص کی جانب بڑھانے لگا جو رنیم کے چہرے پر شاید تیزاب پھینک رہا تھا۔
وہ رنیم کی تکلیف دہ آواز پر اپنی آنکھیں کھولنے کی کوشش کر رہا تھا مگر کمزوری کی وجہ سے وہ نہ ہل پا رہا تھا نہ ہی اپنی آنکھیں کھول پا رہا تھا اب اُسکی سماعتوں میں صرف سسکاریاں گونج رہی تھیں۔ جہنیں بہت دیر تک وہ بے بسی سے سنتا اپنی آنسوؤں سے بھری آنکھیں بند کرتا بہیوشی کی وادی میں چلا گیا۔
🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥