Ishq E Zulmat By Sumyia Baloch Readelle50177 Episode 11
No Download Link
Rate this Novel
Episode 11
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
وہ اُس ڈیول کے روم کا دروازہ بند دیکھ دبے پاؤں اس بڑے سے لاؤنج سے نکل کر اس وائٹ پلیس کے پچھلے حصے کی جانب بڑھنے لگی۔۔۔
اس وقت اُسکا دل زوروں سے ڈھرک رہا تھا آگے پتہ نہیں کیا ہونے والا تھا اُسے پتہ نہیں تھا۔اپنے چہرے پر خوف وہراس لیے آگے بڑھ رہی تھی۔۔۔
کہ تبھی سامنے کے منظر نے اُسکی سانسیں مدھم کر دی۔۔
“””روحِ جان کہاں جا رہی ہو اتنی رات کو۔۔۔۔؟؟؟؟
سامنے وہ اپنے پورے جاہ و جلال کے ساتھ کھڑا اُسے گھور رہا تھا۔
“””وووہ مجھے اندر گرمی لگ رہی تھی تو میں باہر ہوا کھانے کے لیے ج۔۔جا رہی تھی۔۔۔”””
وہ بُری طرح سے اٹکتی ہوئی بولی۔۔
تو فرغام سلطان سنجیدگی سے اپنے قدم اُسکی جانب بڑھانے لگا جو روحین دیکھتی بُری طرح سے لرزنے لگی۔۔۔
“”””روحِ جاناں تُمھیں اتنی سردی میں گرمی لگ رہی ہے کیا تُمھاری طبیعت تو ٹھیک ہے ناں۔۔۔؟؟؟
وہ اُسکے پاس آکر اُسکی پیشانی کو چھوکر فکر مندی سے پوچھنے لگا تو روحین اُسکی اداکاری پر اُسے دل ہی دل میں داد دئیے بغیر رہ نہ سکی۔۔۔
“””مم۔۔میں ٹھیک ہو۔۔۔””””
وہ اپنی پیشانی پر اُسکا ایک ہاتھ محسوس کر اور دوسرا نازک کندھے پر محسوس کر بُری طرح سے لرزی۔تو اُسکی لرزاہٹ پر فرغام سلطان نے اُسکے کندھے پر دباؤ بڑھایا۔۔۔۔
“”””چیک کرنے تو دو مجھے جاناں ابھی پتہ چل جائے گا کہ تُمھاری طبیعت ٹھیک ہے یا نہیں۔۔۔؟؟؟
وہ اُسکی خوف سے پڑتی سفید رنگت کو دیکھ سنجیدگی سے اُسکی خوف کے باعث سرخ ہو رہے گالوں کو اپنے ہاتھ کی پشت سے چھو کر کہنے لگا۔۔۔
“”””میں کہ رہی ہو نا کہ میں ٹھیک ہوں۔۔”””””
وہ گھبراتی ہوئی اُسے خود سے دور کرتی نم آواز میں کہنے لگی۔۔تو فرغام سلطان نے اچانک سے اپنے چہرے کے تاثرات بدل کر اُسے کندھوں سے سختی سے پکڑکر انتہائی نفرت بھری نظروں سے گھورتے ہوئے پوچھا۔۔۔
“””مجھ سے بھاگنے کی کوشش کر رہی تھی نا تُم۔۔۔؟؟؟؟
روحین اپنے کندھوں پر اُسکی سخت گرفت پر بُری طرح سے سسکتی ہوئی خود کو اُسکی تنگ گرفت سے چھڑانے لگی۔۔۔ مگر اُس ڈیول کی گرفت نرم ہونے کے بجائے تنگ ہوتی جا رہی تھیں۔۔۔۔
“””نن۔۔۔نہیں تت۔۔۔۔تو مم۔۔۔۔۔میں تو باہر گرمی کی وجہ سے آئی تھی۔۔۔”””
وہ اٹکتی ہوئی سسک کر بولی۔۔۔
“””جھوٹ مت بولو تُم میری اصلیت جان چکی ہو۔۔۔””””
اُسکی بات پر اچانک ہی وہ بُری طرح سے غرایا تو اُسکی غراہٹ پر روحین کی ٹانگیں بُری طرح لرزنے لگی۔۔۔
“”””کی۔۔۔کیسی اصلیت۔۔۔۔؟؟؟
وہ جانتی تھی کہ وہ کس اصلیت کی بات کر رہا ہے مگر پھر بھی اُسکے آگے انجان ظاہر کرتی ہوئی پوچھنے لگی۔۔
اور یہی بات اُس ڈیول کے سر پر غصہ سوار کرنے کی باعث بنی۔۔۔
“””مجھے پتہ ہے تُم اُس روم میں گئی تھی۔ اب یہ ناٹک بند کروں۔۔۔۔””””
اُسے گردن سے سختی سے پکڑ کر وہ تندوخو لہجے میں کہنے لگا۔۔روحین اُسکی سخت گرفت پر اُسکی باہوں میں بُری طرح سے مچلنے لگی۔۔۔۔
“””””میں اُس روم میں نہیں گئی تھی آپ یقین کریں یا نہ کریں میرا لیکن میں اس روم میں نہیں گئی تھی۔۔۔”””
روحین اپنی جان بچانے کی خاطر آج پہلی بار جھوٹ بولنے پر مجبور ہوئی تھی جبکہ فرغام سلطان کو پتہ تھا اسکے جھوٹ پر سخت غصے سے اُسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اُسے گھورنے لگا۔۔۔
“”””تو تُم آرام سے نہیں مانوں گی۔۔۔”””
وہ یہ کہ کر اُسے یکدم سے اپنی باہوں میں بھرتا اسے لیے وہاں سے نکلنے لگا تو اُسکے خود کو باہوں میں بھرنے پر روحین اسکی باہوں میں تڑپتی مچھلی کی طرح مچل کر نیچے اترنے کی کوشش کرنے لگی مگر بے سود کیونکہ وہ اس لمبے چوڑے مرد کی سخت گرفت سے نہیں نکل سکی۔۔
“””ی ۔۔آپ مجھے کہاں لے کر جا رہے ہیں چھ۔چھوڑیں مجھے نیچے اتارے ۔۔۔”””””
خوفزدہ لہجے میں وہ اُس ڈیول سے پوچھنے لگی جو ناک کی سیدھ پر چل رہا تھا۔۔۔
“””””تُمھارا منہ کھولنے کا بندوست۔۔۔۔”””
سخت لہجے میں کہتا وہ بنا رکے اسے لیے اس وائٹ پلیس کے ایک خفیہ روم میں داخل ہوا تو روحین نے خوفزدہ نظروں سے اس روم کو دیکھا جو کافی بڑا تھا لیکن وہاں کسی بھی سازو سامان کا نام و نشان نہیں تھا وہ روم
بالکل خالی تھا۔۔
“”””کک۔۔۔کیا مطلب۔۔۔؟؟؟
وہ بُری طرح اٹکتی ہوئی نم آواز میں پوچھنے لگی۔۔۔
“”””ابھی پتہ چل جائے گا۔۔۔۔۔۔””””””
فرغام سلطان اُسے ایک کنویں کے سامنے جو اتنا گہرا نہیں تھا اور یہ اس نے اپنے دشمنوں کو مار کر یہاں پھینکنے کے لیے بنایا تھا جو اس خفیہ روم میں اسنے بنایا تھا وہ روحین یہاں لا کر نیچے اتارتے سرد لہجے میں کہنے لگا تو اُسکی بات پر روحین کی ریڑھ کی ہڈی میں ایک سنسنی خیز لہر دوڑ گئی۔
تبھی فرغام سلطان کے اُس کنویں کے اوپر سے ڈھکن ہٹانے پر ایک ناگوار بو پورے ماحول میں پھیل کر ماحول کو آلودہ کرنے لگا روحین اپنی ستواں ناک پر اپنا اسکارف رکھ کر اس ناگوار بو سے خود کو بچانے لگی جو اسکارف رکھنے کے باوجود بھی اسکی نتھنوں سے ٹکرا رہا تھا۔۔۔۔
“”””آہہہہہہہہ یہ آپ کیا کر رہے ہیں۔۔۔؟؟؟؟
اچانک سے فرغام سلطان کے اٹھانے پر وہ ڈرتی ہوئی چیخنے لگی مگر وہ ڈیول آج شاید اُسے مارنے کا پورا بندوبست کر چکا ہے۔
“”یہ تُمھاری مجھ سے بھاگنے کی سزا ہے۔۔۔”””
فرغام سلطان نے یہ کہ کر اُسے اُس چھوٹے سے کنویں میں پھینکا تو روحین اس کنویں میں جاکر کسی موٹی نرم شے کے اوپر گری جو چپکیلی تھی اور جس سے اسکا پورا جسم دیکھتے ہی دیکھتے نم ہونے لگا۔۔۔
“””مجھے باہر نکالے پلیز مم۔۔۔۔میں وعدہ کرتی ہو م۔میں دوبارہ بھاگنے کی کوشش نہیں کروں گی پلیز مجھے یہاں سے باہر نکالے اس گندی بدبو سے میرا دم گھٹ رہا ہے۔۔۔””””
کنویں سے روحین کی روہانسی آواز سُن کر وہ سگریٹ نکال کر لبوں سے لگا کر سلگانے لگا۔
“”””آہہہہہہہہہہ۔۔۔۔۔””””””
تبھی روحین اُس کنویں میں اپنے پورے وجود پر بہت سے کیڑے مکوڑوں کو رینگتے ہوئے محسوس کرتی بُری طرح سے چیختی ہوئی سسکنے لگی۔۔۔
فرغام اُسکی سسکیوں کی پرواہ کیے بغیر وہاں سے نکلتا چلا گیا جبکہ وہ وہی اپنے وجود پر رینگتے کیڑے مکوڑوں کو ہٹاتی ہوئی ساری رات خوف سے ہٹاتے ہوئی گزارنے پر مجبور ہوگئی تھیں۔۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
“”””مسٹر مافیا مجھے سگریٹ سے سخت نفرت ہے۔تو کیا
تُم اُسے باہر جا کر نہیں پی سکتے ہمممم کب سے مجھے اریٹیٹ کر رہے ہو تُم اپنی ان چرسی نظروں سے اور اپنے اس سگریٹ کے دھوؤ سے واللہ ۔۔”””
نازلی سگریٹ کے دھوئیں سے سخت چڑتی ہوئی بولی۔
کیوان کآردال جو لبوں سے سگریٹ لگائے بغور اُسے اس ویرانے میں ثبوت ڈھونڈتے ہوئے دیکھ گہرے کش لگا رہا
تھا اسکے ٹوکنے پر مسکرایا۔۔۔
“””مس آفیسر آپ کو میرے سگریٹ پینے سے پرابلم ہو رہی ہے یا میری ان چرسی نظروں سے۔۔۔””””
وہ معنی خیزی سے کہتا اُسے سخت سلگا گیا۔۔۔۔
“””شٹ اپ میں یہاں تُمھاری ان بونگیاں سُننے کے لیے نہیں کھڑی ہو مجھے بہت کام ہے پلیز تُم یا تو مجھے اکیلا چھوڑ دو یا یہ سگریٹ پینا۔۔۔”””
وہ اُسے گھورتی ہوئی بولی۔۔۔
“”””مس آفیسر یہ دونوں میرے ناممکن ہے کیونکہ دونوں میرے لیے ایک نشہ ہے سگریٹ میری جان ہے تو آپ میری جندڑی۔۔۔””””
وہ مخمور نظروں سے اُسکے سراپے کو دیکھتے ہوئے گھمبیر آواز میں کہتا اُسے سٹپٹانے پر مجبور کر گیا۔۔۔
“”””تُم۔۔۔””””
کیوان نے بیچ میں آکر اپنے منہ سے دھواں نکال کر اُسکی منہ کے آگے چھوڑ کر اُسکی بات کو کاٹا تو وہ اُسکی اس حرکت پر سلگ کر زور زور سے کھانستی ہوئی اُسے بری طرح سے گھورنے لگی۔۔۔
“ہاں مس آفیسر پتہ ہے میں بہت بڑا کمینا الو کا پٹھا ہو۔۔۔”””
وہ ڈھیٹ پن سے ہنستے ہوئے اُس سے کہنے لگا۔۔۔۔
“”””تُم کمینے اور الو کے پٹھے کے ساتھ ساتھ ایک نمبر کے ٹھرکی بھی ہو میری سانسیں اکھاڑ کر رکھ دی تُم نے ظالم انسان۔۔۔””””
نازلی اُسکی بات پر غصے سے کہتی اپنی آنکھیں سختی سے میچ کر اپنے غصے کو کنٹرول کرنے لگی۔۔۔
“””””مس آفیسر ابھی تو سانسیں بھاری اور اکھاڑنے کے لیے میرے پاس کوئی سرٹیفیکیٹ نہیں ہے تو بھلا میں نے آپکی سانسوں کو اکھاڑنے کی گستاخی کیسے کر سکتا ہوں۔۔۔””””
وہ معنی خیزی سے اُسے تنگ کرتے ہوئے کہنے لگا۔۔۔۔
“”””تُم ایک نمبر کے وہیات بیغیرت انسان ہو۔۔۔”””””
نازلی اُسے سخت نظروں سے گھورتی ہوئی غصے سے کہنے لگی۔۔۔۔
“””اسی بات کا تو میں گھمنڈ نہیں کرتا مس آفیسر۔۔۔”””
وہ بڑے ہی فخر سے اپنی کالر درست کرتا ہوا کہنے لگا۔۔۔
تُم مسٹر ٹھرکی مافیا ابھی کے ابھی میری نظروں کے سامنے سے ہٹ جاؤ ورنہ میں تمھاری یہ ہیڈ لائٹس توڑ دوں گی۔۔۔””
نازلی چڑ کر اپنی انگلی سے دروازے کی طرف اشارہ کرتی ہوئی بولی۔۔۔۔
“””اوکے اوکے میں چلتا ہوں۔۔۔””””
وہ شریر نظروں سے اُسے دیکھتے ہوئے ایک آنکھ کو ونک کرتا کہنے لگا جبکہ نازلی کو اسکا وہاں سے جانے کا کوئی ارادہ نظر نہیں آیا تو وہ شدید غصے سے اسے دیکھنے لگی۔
“””ہاں جاؤ دفاع ہو جاؤ اور پھر کبھی اپنی یہ منحوس شکل مجھے مت دیکھانا ورنہ میں تمھاری جان لے لونگی۔۔۔””””
وہ کھا جانے والی نظر اُس پر ڈالتی ناگواری سے بولی۔۔۔
“””مس آفیسر اتنی بھی بڑی سزا اب اپنے اس اکلوتے عاشق کو تو نہ دے ورنہ یہ آپکا اکلوتا عاشق آپکی جدائی کے غم میں اس دنیا سے کوچ کر جائے گا۔۔”””””
کیوان اُسکی سنگدلی پر اپنے ہاتھ سینے پر رکھ کر اپنی آواز کو غمزدہ بناتے ہوئے آنکھوں میں مصنوعی آنسو لا کر کہنے لگا جبکہ بہت زیادہ کوششوں کے باوجود بھی اسکی آنکھوں سے مصنوعی کیا اصلی آنسو بھی نہ نکلے۔۔۔۔
“””تو کوچ کر جائے میری بھلا سے۔۔۔””””
نازلی بیزاری سے کہتی واپس مڑی اور نیچے جھک کر اس جگہ کچھ ڈھونڈنے لگی جہاں لاش کو گرایا گیا تھا۔مگر کیوان کآردال کہاں آج اُسے کچھ بھی کرنے دینا چاہتا تھا
وہ اُسکے قریب آکر اُسے اٹھاتے ہوئے اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اُسے بیقرار نظروں سے دیکھنے لگا۔۔۔۔
“”””قسم سے آپ بہت ظالم ہے۔۔۔۔”””””
وہ اُسکی سرمئی آنکھوں میں اپنے آپکو دیکھتے ہوئے بوجھل لہجے میں کہتا نازلی کی ڈھرکنیں بُری طرح سے اتھل پھتل کر گیا۔۔۔
تھوڑی دیر بعد جب نازلی کو ہوش آیا تو وہ غصے سے اُسے خود سے دور کرتی سخت گیر نظروں سے دیکھنے لگی۔۔۔
“”””تُم جیسے غنڈوں کے لیے میں ظالم سے بھی بدتر ہو سمجھے اب یہاں سے اپنی شکل گم کروں۔۔۔””””
اُسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر وہ سخت لہجے میں گویا ہوئی۔۔۔تو اُسکی بات پر کیوان نے آگے بڑھ کر اُسے گلے سے لگایا نازلی اسکی اس گستاخی پر سٹپٹا کر رہ گئی۔
“”اچھا اچھا جاتا ہوں اب اتنا غصہ کرکے اپنی شکل تو نہ بگاڑے ورنہ۔۔۔””””
نازلی نے اُسے سختی سے خود سے دور کیا اور اُسے اپنی سخت گھوریوں سے نواز کر وہ اپنا ریوالور نکال کر ریوالور سے اُسے وہاں سے جانے کا اشارہ کرنے لگی تو اسکے ہاتھ میں ریوالور دیکھ وہ کھسیانی ہنسی ہنستا وہاں سے جانے کے لیے مڑا تو اّسکے مڑنے پر نازلی نے ایک پرسکون سانس لی۔۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
صبح جب فرغام سلطان وہاں آیا تو اُسے بیہوش دیکھ اُسے اٹھا کر کنویں سے باہر نکال کر اُس روم میں لے کر آیا جہاں وہ رہ رہی تھی۔۔۔
وہ اُسکے نڈھال وجود کو واشروم میں لا کر باتھ ٹب میں لیٹا کر سنجیدگی سے اُسکے اوپر ہینڈ شاور لاکر شاور آن کر اسے ہوش میں لانے لگا۔
“””آپ اا۔۔۔ایسا کیوں کر رہے ہیں بتا دیں آخر میرا قصور کیا ہے جو آپ مجھ پر ظلم کر رہے ہیں۔۔۔”””
ٹھنڈا پانی روحین کے چہرے پر گرا تو وہ اپنی آنکھوں کو آہستگی سے کھولنے لگی تو اُسے اپنے اوپر جھکے دیکھ وہ خوف کے باعث سٹپٹا کر جلدی سے اٹھی۔۔۔
“””بتا دو گا وقت آنے پر کہ تُمھارا قصور کیا ہے۔۔۔”””
وہ ہینڈ شاور اُسکے اوپر پھینکتے ہوئے سفاکیت سے کہتا پیچھے ہٹا تو روحین کی نظریں جب اپنے وجود پر پڑی تو وہ سٹپٹا کر رہ گئی کیونکہ اسکے کپڑے پورے بھیگنے کی وجہ سے اسکے جسم پر چپک کر
سب کچھ آشکار کر رہے تھے وہ تڑپ کر اپنے ہاتھوں
سے خود کو ڈھانپنے لگی۔
“”””میں ظالم ضرور ہو لیکن عزت لوٹنے والا لوٹیرا نہیں۔۔۔”””
اُسے خود کو ڈھانپنے پر وہ سخت نظروں سے اُسے دیکھتے ہوئے سرد لہجے میں کہنے لگا۔۔۔۔
“”””وو۔۔۔وہ اُس روم میں جو تصویر میں لڑکی ہے وہ کون ہے۔۔۔”””
وہ اسکی بات پر نظریں نیچے جھکا کر اب اُس لڑکی کے متعلق پوچھنے لگی جسکا نام سُن کر فرغام سلطان کے ہونٹ بھینچ گئے۔۔۔۔
“””اپنے باپ سے پوچھو کہ وہ لڑکی کون ہے۔۔۔””””
وہ نفرت سے سخت لہجے میں گویا ہوا۔۔۔
“””یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں میں بھلا کیوں اپنے بابا سے پوچھو میرے بابا سے اُس لڑکی کا اخر کیا تعلق ہے جو آپ ایسا کہہ رہے ہیں۔۔۔؟؟؟
وہ اچنبھے سے اُسکی جانب دیکھتی ہوئی پوچھنے لگی۔
“””بہت گہرا تعلق ہے تمھارا اور تمھارے باپ کا اس لڑکی سے جسکی حرکت کی وجہ سے شاید تُمھارا باپ اسے دنیا والوں سے چھپا رہا ہے لیکن تُمھاری اس شکل کی وجہ سے وہ اپنے اس تعلق کو مجھ سے نہیں چھپا پایا۔۔۔”””
وہ اُس پر ایک راز آشکار کرتا اُسے وہی چھوڑتا وہاں سے باہر نکلا جبکہ وہ باتھ ٹب میں بیٹھی اس لڑکی
کے متعلق سوچنے لگی کہ اُس لڑکی کا اس سے اور اسکی فیملی سے آخر کیا تعلق ہو سکتا ہے جسکے نام سے بھی وہ نا واقف تھی۔۔۔۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
“”””میری باس کہاں ہے۔۔۔؟؟؟
کیوان جب سلطان مینشن میں آیا تو فرغام کو وہاں ناپاکر پاس کھڑی میری سے پوچھنے لگا۔۔۔
“””وہ تو میم کے ساتھ کہی گئے ہیں۔۔۔”””
میری کی بات پر وہ حیرت سے اسے دیکھنے لگا۔۔۔
“””کیا مطلب تُم کس میم کی بات کر رہی ہو۔۔۔؟؟؟
وہ میری کی بات پر سخت حیران ہوا تھا کیونکہ فرغام سلطان نے اُسے کسی لڑکی کے بارے میں نہیں بتایا تھا اور نا ہی یہ کہ وہ اس وقت کہاں ہے۔۔۔
“””حیرت ہے کیوان سر آپ کو باس نے نہیں بتایا میم کے بارے میں۔۔۔؟؟؟
اب میری بھی اسکے انجان ہونے پر حیرت سے اسے دیکھتی ہوئی کہنے لگی۔۔۔
“””نہیں انہوں نے مجھے اس بارے میں نہیں بتایا اور وہ میم کیسی دکھتی ہے مجھے یہ بتاؤ ضرور کچھ گڑبڑ ہے ورنہ سلطان بے کبھی بھی مجھ سے کچھ بھی نہیں چھپاتے ہیں۔۔۔”””
کیوان کآردال سخت سنجیدگی سے ابکے میری سے اس بابت پوچھنے لگا کیونکہ اب اسے شدت سے کچھ گڑبڑی کا احساس ہونے لگا تھا۔۔۔
“””کیوان سر وہ بہت زیادہ خوبصورت ہے اور اُنکی آنکھیں بالکل سبز رنگ کی ہے اور پتہ ہے باس نے نکاح کے لیے انکے لیے ایک خاص برائڈل ڈریس بھی منگوایا تھا۔۔۔”””
میری روحین کی خوبصورتی کی تعریف میں کہنے لگی مگر کیوان تو برائڈل ڈریس کا سُن کر ہکا بکا رہ گیا۔۔۔
“””وہاٹ نکاح کے لیے برائڈل ڈریس۔۔۔””””
وہ پھٹی آنکھوں سے میری کی جانب دیکھتے ہوئے پوچھنے لگا۔۔
“””جی کیوان سر نکاح کے لیے۔۔۔””””
میری مسکراتی ہوئی بولی۔۔
“””میری تُم مجھے اُس وقت کال کر کے یہ سب نہیں کہہ سکتی تھی جب سلطان بے نے وہ ڈریس منگوایا تھا۔۔۔”””
کیوان اُسے سخت گھورتے ہوئے سرد لہجے میں کہنے لگا تو میری اُسکی سخت گھوریوں سے سخت گھبرا کر رہ گئی۔۔۔
“””کیوان سر میں کیسے بتاتی باس نے مجھے منع کیا تھا کسی سے بھی اس بارے میں ذکر کرنے کے لیے تو میں کیسے انکی حکم عدولی کر کے آپکو بتاتی۔۔۔”””
کیوان کآردال کی نظروں سے وہ خوفزدہ فرغام سلطان کے حکم کے بارے میں جلدی سے اسے آگاہ کرنے لگی کیونکہ جب فرغام روحین کو یہاں لے کر آیا تھا تب فرغام نے اسے سختی سے منع کیا تھا روحین کے متعلق کسی سے بھی ذکر کرنے سے تو بھلا وہ اپنے باس کی حکم کے خلاف جاکر کیسے کیوان کو روحین کے بارے میں بتاتی۔۔۔
“”اچھا ٹھیک ہے تُم جاؤ میں خود ہی ان سے اس بارے میں پوچھتا ہوں۔۔۔”””
کیوان سخت پریشانی سے اُسے وہاں سے جانے کے لیے کہتا یہ سوچنے پر مجبور ہوا کہ سلطان نے آخر کیوں اس سے یہ بات چھپائی اسکے دماغ میں اس وقت کیا چل رہا ہے اور وہ لڑکی کون ہے جس سے اسنے نکاح کیا ہے۔۔۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
“””یہاں آؤ۔۔۔””””
روحین کی آنکھیں وحشت کے مارے پھٹی کی پھٹی رہ گئی اُس ظالم کی بات پر جو سامنے اُس سور کے بچے کے سر پر ہاتھ پھیر رہا تھا۔۔۔
“”””کی۔۔۔۔کیوں۔۔۔؟؟؟
وہ اُسکی جانب دیکھتی ہوئی اپنے لبوں پہ زبان پھیرتی ہوئی خوفزدہ ہوکر اُس سے پوچھنے لگی۔
جو خون سے شرابور تھا اُسکی بات پر غصے سے اُس سور کے بچے کے سر پر سختی سے دباؤ بڑھا رہا تھا۔۔
“””مجھے سوال پوچھنے والی لڑکیوں سے سخت نفرت ہے سنائی نہیں دیتا تُمھیں کیا بہری ہو میں نے کہا یہاں آؤ۔۔”””
سرد لہجے میں کہتا وہ غرایا تو وہ اُسکی شیر جیسی غراہٹ پر بُری طرح سے کانپنے لگی ۔۔
“””میں نے آپکا کیا بگاڑا ہے آپ ایسا کیوں کر رہے ہیں۔۔؟؟
وہ سسکتی ہوئی بولی تو اُسکی بات پر فرغام سلطان کی پیشانی کی رگیں غصے سے اُبھری۔۔۔
“””””اس چہرے نے میرا سب کچھ بگاڑا ہے مجھ سے میری خوبصورتی میری پہنچان میرے بابا میری سگی ماں اور منہ بولی ماں اور میرے چھوٹے بھائی کو مجھ سے چھینا ہے اور سننا چاہتی ہو کہ تُمھارے اس خوبصورت چہرے نے میرا کیا کچھ بگاڑا ہے۔۔۔””””
وہ آگے بڑھ کر اُسے دونوں کندھوں سے پکڑ کر بُری طرح سے جھنجھوڑتے ہوئے سرد لہجے میں کہنے لگا۔
روحین کی سانسیں اُسکی ظالم سخت پکڑ پر گلے میں اٹکنے لگی۔۔۔
“”””می……….میں نے آپ کے ساتھ یہ سب کب کیا ہے۔ میں نے تو آپکو پہلی بار اُس ہوٹل میں دیکھا تھا۔۔پھر آپ مم۔۔۔مجھ پر اتنا بڑا الزام کیوں لگا رہے ہیں۔۔۔؟؟؟
وہ اُسکی گرفت میں بُری طرح سے مچلتی ہوئی پوچھنے لگی۔۔
“”جب تُم یہ دنیا چھوڑ کر چلی جاؤ گی تب تمھیں پتہ چل جائے گا کہ تُم کیوں مرے تھی۔۔”””
وہ سنگین لہجے میں کہتا اُسے لرزنے پر مجبور کر گیا۔
“””میری پیاری روحِ جان یہاں آ کر یہ چاقو پکڑو۔۔۔”””
وہ اُسکے نازک لرزتے وجود کو سخت حقارت بھری نگاہوں سے دیکھتا اپنے ہاتھ میں تھمی چاقو کو آگے بڑھا کر سرد لہجے میں کہنے لگا۔۔۔
“””کی۔۔۔کیا چاقو۔۔۔””””
وہ چاقو کا سُن کر نم آنکھیں اوپر اٹھا کر اُسے دیکھنے لگی جو سامنے کرسی پر بیٹھا چاقو اُسکے آگے پھیلا کر اُسے بُری طرح سے گھور رہا تھا۔۔۔
“””ہاں میری پیاری روحِ جان چاقو۔ اگر تُمھیں ابھی زندہ رہنا ہے تو میری جان یہاں آکر اس چاقو کو پکڑو اور اِس سور کا گلا کاٹوں۔۔۔۔”””
کرسی کی پشت سے ٹیک لگا کر وہ اپنی خون آشام نظروں سے سامنے کھڑے اُس سور کی جانب اشارہ کرتے ہوئے اُسے سخت نظروں سے گھورتے اپنے ازلی خطرناک لہجے میں کہنے لگا۔
“”””سس۔۔۔۔سور کا گگ۔۔۔۔گلا کی۔۔۔۔کاٹوں۔۔۔۔”””””
روحین کی سانسیں اُسکی بات پر بُری طرح اکڑنے لگی وہ اُسے اسطرح ڈرا کر آخر کس چیز کی سزا دے رہا ہے۔ اس سے وہ بالکل انجان تھی۔۔۔
“””میری پیاری روحِ جان تُم میرے سامنے اس سور کا گلا کاٹوں گی۔یہ تُمھاری میری سچائی جاننے کی سزا ہے۔کیونکہ میں تُمھیں تُمھاری بے خبری میں سزا دینا چاہتا تھا۔مگر تُم نے میری سچائی جان کر اپنی زندگی کے ایک ایک دن اور گذرتے ایک ایک پل کو مشکل بنا دیا ہے۔۔اب تُم روز اُسی طرح میرے ظلم سہہ کر جیوں گی بھی اور مروں گی بھی۔۔۔ “”””
وہ کرسی سے اٹھا اور ہاتھ میں تھمی چاقو کو زبردستی اُسکی نازک ہاتھ پر رکھ کر سرد مہری سے کہنے لگا۔ روحین بُری طرح سے لرزتی ہوئی اپنی آنکھیں پھاڑے اُس چاقو کو اپنی ہتھیلی پر دیکھنے لگی۔۔۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
