Ishq E Zulmat By Sumyia Baloch Readelle50177 Episode 18
No Download Link
Rate this Novel
Episode 18
“ڈیم اٹ پک اپ دا فون رنیم .”
وہ ریسٹورنٹ کے کچن میں کھڑا کب سے رنیم کو فون ملا رہا تھا جو اتنی رنگ پر بھی نہیں اٹھا رہی تھی تبھی سخت غصے سے وہ سامنے بڑے سے فریج پر ہاتھ مار کر کہنے لگا۔
گویا رنیم اُسکے سامنے کھڑی اُسے سن رہی ہوں۔
“اذان بیٹا اُس ٹیبل پر کب سے کافی مانگ رہے ہیں۔ جاؤ دے کر آؤں شاباش۔۔”
کلیم بابا اندر داخل ہو کر دروازہ تھوڑا کھول کر باہر ایک ٹیبل کی جانب اشارہ کرتے ہوئے اُس سے کہنے لگے جو غصے سے اپنا سر نیچے جھکائے پشت پیچھے پلڑ سے لگائے کھڑا پیروں سے نیچے اکڑے فرش کو کرچ رہا تھا۔
“”کلیم بابا وہ پتہ نہیں کیوں میرا کال ریسیو نہیں کر رہی ہیں۔ ملیحہ آپا بھی تو وہاں گھر میں اس وقت اس کے پاس نہیں ہے۔مجھے بہت ٹینشن ہو رہی ہیں۔۔”
وہ کلیم بابا کی آواز پر اپنا سر اوپر اٹھا کر اُن سے سخت پریشانی میں کہنے لگا۔تو کلیم بابا اُسکی اپنی بیوی کے لیے فکر دیکھ مسکرائیں۔
“بیٹا پریشان نہ ہوں شاید وہ بچی اس وقت دواؤں کے زیر اثر سو رہی ہوں اسی لیے تمھاری کال ریسیو نہیں کر رہی۔”
کلیم بابا نے اسے سمجھاتے ہوئے کہا۔
“نہیں کلیم بابا میرا دل گھبرا رہا ہے ایسا لگ رہا ہے۔ جیسے کچھ ہونے والا ہے یا ہو چکا ہے۔”
وہ کب سے اپنے دل میں اٹھتے وسوسوں کو زبان دیتے ہوئے کہنے لگا۔صبح سے اُسے ہونے کا اشارہ مل رہا تھا اور اب رنیم کے کال نہ اٹھانے پر وہ ڈر رہا تھا۔کہ کہی اُسکے ساتھ کچھ غلط نہیں وہ اس سے آگے نہیں سوچ سکتا تھا۔
اب اور اذیتیں وہ اپنے اور رنیم کی زندگی میں آنے نہیں دے گا۔
“بیٹا تُم کیوں فکر کرتے ہوں میری ابھی ملیحہ سے بات ہوئی تھی۔وہ سو رہی ہے اسی لیے تو ملیحہ یونیورسٹی کے لیے نکلی ہے ورنہ آج وہ خود اس بچی کی حالت کے پیش نظر نہیں جانا چاہتی تھی مگر میں نے اسے منع کیا تب وہ چلی گئی کیونکہ اسکے آخری سمسٹر چل رہے ہیں اسی لیے اسکا جانا بے حد ضروری ہے۔”
ملیحہ کلیم بابا کی اکلوتی بیٹی تھی وہ دونوں امریکہ میں اکیلے تھے۔مگر اب انکی زندگی میں اذان اور رنیم آگئے تھے۔تو ان کے آنے سے دونوں باپ بیٹی کی زندگی سے اپنوں کی کمی کا احساس ختم ہوگیا تھا۔
“اٹس اوکے کلیم بابا میں سمجھتا ہوں ملیحہ آپا آجکل بہت مصروف رہتی ہے۔ پھر بھی وہ اپنا وقت نکال کر رنیم کا خیال رکھ رہی ہے میں انکا بے حد مشکور ہوں کہ وہ میری بہت مدد کر رہی ہے لیکن اس وقت میں جب تک خود اپنی آنکھوں سے رنیم کو نہ دیکھ لو مجھے چھین نہیں ملے گا۔”
وہ اب انسانوں کی مجبوریاں سمجھنے لگا تھا یہ زندگی نام ہی مجبوریوں کا ہے۔یہاں ہر کوئی اپنی مجبوریوں میں گرا ہوا ہے۔تو وہ بھلا کیوں اُن دونوں باپ بیٹی کو رنیم کی زمہ داری دے کر اپنی غربت کی تکلیفوں کی وجہ سے پریشان کرتا وہ بھی تو پریشانیوں میں گرے ہوئے تھے۔
“ٹھیک ہے بیٹا تُم جاؤ اور جاکر دیکھوں رنیم بیٹی کو.”
کلیم بابا نے اُسکے مضبوط کندھوں پر ہاتھ رکھ کر اپنے ازلی نرم لہجے میں کہا جو انکا خاصہ تھا۔
“شکریہ کلیم بابا۔”
اذان ایک گہری سانس خارج کرتا اُنکی رحم دلی کا شکریہ کرتا مسکرایا۔
“اس میں شکریہ کی کیا بات ہے بیٹا۔ میں تُمھیں اپنا بیٹا سمجھتا ہوں اور میرے نزدیک کام سے زیادہ انسانیت اہم ہے جاؤ اور گھر پہنچ کر مجھے رنیم بچی کی خیریت کے متعلق فون کر کے ضرور بتانا۔وہ بچی اس وقت جس مشکل گھڑی سے گزر رہی ہے۔ اس سے نکلنا ایک باہمت لڑکی کے لیے بھی نکلنا بہت مشکل ہے۔وہ تو پھر چھوئی سی معصوم لڑکی ہے اسے ٹائم لگے گا سنبھلنے میں مگر تُم جیسا ہم سفر ساتھ ہو تو اُس بچی کے زخم جلد بھر جائے گے اچھا اذان بیٹا اب تُم جاؤ ورنہ تُمھیں میٹرو بس چار بجے ملے گی۔”
کلیم بابا کو اسکا شکریہ کہنا بلکل بھی پسند نہیں آیا تو وہ اُسکے کندھے پر ہاتھ رکھ اُسے رنیم کی اب کی حالت کے متعلق بتانے لگا۔
“ٹھیک ہے کلیم بابا اللہ حافظ۔”
اُنکی بات ختم ہوتے ہی وہ احترام سے سر جھکا کر ایک ہاتھ سینے پر رکھ کر کہنے لگا۔تو وہ اُسکی پیٹھ کو تھپکی دے کر مسکراتے ہوئے اسے دیکھنے لگے۔
“اللہ حافظ بیٹے آرام سے جاؤ اور مجھے فون کرکے اپنی خیریت سے گھر پہنچنے کے لیے فون کرنا۔”
اُسے باہر تک رخصت کرتے ہوئے وہ نرم لہجے میں کہنے لگے تو وہ انکی جانب دیکھتے ہوئے ہاتھ ہلانے کے بعد اپنی گرم ہوڈی کو پہن کر خاموشی سے اُس سنسان گلی کی جانب بڑھا جہاں سے میٹرو اسٹیشن کا راستہ نکلتا تھا۔
💥💥💥💥💥💥💥💥💥💥💥💥💥💥💥💥
وہ طوفان کے بعد اِس چھوٹے سے گھر کی حالت دیکھتی اپنی صفائی پسند طبیعت کے ہاتھوں مجبور ہو کر بالٹی میں پانی بھر کر سبھی شیشوں کے دروازوں اور کھڑکیوں کو صاف کرنے لگی۔فرغام سلطان جو روم میں گہری نیند میں سو رہا تھا باہر کھٹ پٹ کی آواز پر اٹھا اور روم سے باہر نکلا۔
“روحی جاناں میری نیند میں خلل پیدا کرنے کی گستاخی کیلیئے تُمھیں سزا دوں یا اس ویکیوم کو۔؟؟
وہ کلینر ویکیوم سے کارپٹ صاف کر رہی تھیں۔ تبھی فرغام سلطان نے آگے بڑھ کر کلینر ویکیوم کا تار کھینچا اور اُسکی کمر پر وہ تار رکھ کر اُسے اپنی طرف کرتا سونے کی وجہ سے سرخ ہوتیں اپنی مخمور آنکھیں اُس پر ٹکا کر بوجھل لہجے میں کہنے لگا۔
“سزا۔”
خوف سے سرخ اناری لب بُری طرح سے پھڑپھڑائے۔تو مقابل اُن لبوں کی پھڑپھڑاہٹ پر نیچے جھکا اور اُنکی نشیلے جام اپنے کو لبوں سے لگا کر مدہوش ہونے لگا۔
“ہاں میری جان سزا۔”
لبوں سے دور ہو کر چمکتی سرمئی آنکھوں کو سبز نم کانچ میں گاڑ کر کہتا اُسکی نازک کمر پر اپنا گرفت بڑھا گیا۔
“آپ اتنے ظلم کیوں کر رہے ہیں چھ۔چھوڑیں مجھے۔”
وہ اُسکے چوڑے سینے پر مکا مارتی ہوئی بولی۔
“تو تُم اپنی معصومیت سے میرے ساتھ شررات کیوں کرتی ہو۔؟
ایک ہاتھ سے اُسکی نازک کمر کو پکڑے اور دوسرے سے اُسکی کلائی پکڑ کر گھمبیرانہ لہجے میں بولا۔جسے سُن کر روحین کی پورے جسم میں ایک سنسنی سی ڈور گئی۔
“مم۔میں نے کب کیا ہے آپکے ساتھ شرارت۔؟
آنکھیں پوری کھولے وہ اُس سے پوچھنے لگی۔
“ابھی کیا تھا تُم نے روحی جاناں مجھے جگا کر۔”
وہ بوجھل لہجے میں کہتا اُسکے سر پر دھماکہ کر گیا۔
“کیا میں نے نہیں بلکل بھی نہیں آپ جھوٹ بول رہے ہیں۔میں تو روم میں نہیں تھیں میں تو یہاں کی صفائی کر رہی تھی پھر میں نے آپکے ساتھ کیسے شرارت کیا ہے.؟
وہ سخت اچھنبے سے اُسے دیکھتی ہوئی پوچھنے لگی۔
“غلط تُم ابھی روم میں میرے ساتھ بلینکٹ کے اندر میرے ساتھ شرارت کر رہی تھیں۔”
فرغام سلطان نے اچانک سے اُسکے دونوں ہاتھ اُسکی کمر پر رکھ کر اپنے ہاتھوں کی گرفت میں جکڑ کر جھٹکے سے اُسے اپنی نزدیک کرتا اُسکی کان کی لُوں کو چھوتا سرگوشیانہ انداز میں کہتا اُسے سٹپٹانے پر مجبور کر گیا۔
“ی۔ی۔یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں وہ میں نہیں تھی پلیز مجھے خوفزدہ مت کریں پلیز”
وہ اُسکی پرسرار بات پر آنکھوں میں نمی لیے ڈرتی ہوئی کہنے لگی تو وہ اُسکی رخساروں پر پھسلتے اشکوں کو لبوں سے چُن کر ہاتھ پیچھے لیجا کر اُسکی پشت پر رکھ کر اُسے دیکھنے لگا جو ڈر کی وجہ سے کانپ اور آنسوؤں بہا رہی تھی۔
“وہ تُم ہی تھی بیوی کیونکہ تُمھارے علاؤہ اِس ڈیول کے قریب آنے کی کسی میں ہمت نہیں ہے۔”
وہ اچانک سے دوسرے ہاتھ سے اُسکی گردن میں ہاتھ ڈال کر اُسکے بُری طرح لرزتے لبوں پہ جھکا اور شدت سے اپنا لمس خوف سے نیلے لڑتے لبوں پر چھوڑنے لگا۔
“یہ آا۔آپ کیسی بہکی بہکی باتیں کر رہے ہیں۔پلیز مجھے ڈرائے تو نہیں ناں۔”
وہ اُسکے چہرے پر سے ہٹتے ہی گہری گہری سانسیں لیکر اُسکے سینے پر سر رکھتی پہلی بار اُس سے خفگی سے کہنے لگی۔
“روحی جاناں ڈر لگ رہا ہے۔؟
اُسکی ریشمی بالوں ہاتھ پھنسا کر اُسکا چہرہ اپنے سینےکے اوپر سے ہٹا کر سبز روئی روئی خوبصورت آنکھوں گاڑ کر پوچھنے لگا۔
“ہاں بہت زیادہ۔”
وہ سرمئی جزبوں کی آنچ دیتی آنکھوں میں دیکھتی کہنے لگی۔
“تو یہاں میرے پاس میرے بےحد قریب میری تحفظ فراہم کرتیں مضبوط پناہوں میں آؤں میں تُمھیں تمھارا ڈر بھولا کر پیار کروں گا روحی جاناں۔”
گھمبیرانہ لہجے میں کہتا وہ اُسکے نازک وجود کو اٹھا کر اُسے لیے سامنے رکھے صوفے پر جاکر بیٹھا۔
“نن۔نہیں مجھے نہیں آنا۔”
وہ اُسکی قربت سے سٹپٹاتی ہوئی بولی۔
“سوچ لو۔”
فرغام سلطان نے سنجیدہ نظروں سے اُسے دیکھتے ہوئے پوچھا۔
“سوچ لیا۔”
وہ اُسکی نظروں کی گستاخ پیغاموں سے نظریں چُراتی ہوئی بولی۔
“ٹھیک ہے بیوی جیسے تُمھاری مرضی میں نے سُنا ہے اس جنگل میں ایک چڑیل ساری رات گھومتی ہے۔ اور میں نے نوکروں کی زبانی یہ بھی سُنا ہے وہ ہمارے گھر کے اندر بھی گھومتی ہوئی نظر آئی ہے میں تو آج رات اس جنگل سے باہر میلوں دور ایک ہوٹل میں گزاروں گا چچ چی چی پتہ نہیں سویٹ ہارٹ تُمھارا کیا ہوگا کیسے یہ ساری رات میری تنگ باہوں کے بغیر اُس چڑیل کے ساتھ گزاروں گی۔”
وہ شریر لہجے میں کہتا اُسے سٹپٹانے پر مجبور کر گیا وہ اُسکی بات پر چیختی ہوئی اُسکے سینے سے لگ کر بُری طرح سے لرزنے لگی۔
“نہیں پلیز مجھے ڈرائے مت میں مر جاؤ گی۔”
وہ اُسکی شرٹ کو سختی سے دبوچے سر اُسکے سینے میں چھپائے روتی ہوئی بولی۔تو فرغام سلطان اُسکے نزدیک آنے پر اُسکے بال پیچھے گردن سے ہٹا کر اُسکی پشت پر اپنے لب رکھ کر اور اپنے دونوں ہاتھ دائیں بائیں جانب رکھے اُسکے دونوں پیروں پر رکھ کر اُسے اپنے بے حد قریب کرتا اُسکا چہرہ اپنے سینے سے ہٹا کر رخسار پر چپکے بالوں کو ہٹانے لگا۔
“اگر اُسی طرح میری باہوں میں تحفظ ڈھونڈھتی رہوں گی روحی جاناں تو میں کبھی تُمھیں مرنے نہیں دوں گا۔۔””
وہ گھمبیر لہجے میں کہتا تھوڈی سے پکڑ کر اُسکی لبوں کے کناروں کو چھونے لگا پھر اُسے خود سے الگ کرتا وہ اٹھا اور محبت و عقیدت بھرا لمس اُسکی پیشانی پر چھوڑتا وہ اُسے ناشتہ لگانے کا کہتا فریش ہونے کیلئے روم کی جانب بڑھا۔
💥💥💥💥💥💥💥💥💥💥💥💥💥💥💥
اذان فرید جب فلیٹ میں داخل ہوا تو اُسے چھوٹے سے لاؤنج اور اُسکے بیڈ روم میں ناپاکر اُسے ڈھونڈنے کے لیے کچن کی طرف بڑھا اور جب وہ وہاں پہنچا تو اندر اُسے نیچے فرش پر پورے جھکے ہوئے فرش پر گرے خشک
دودھ کو جانوروں کی طرح چاٹتے ہوئے دیکھ وہ دھنگ
رہ گیا۔
“رنیم یہ تُم کیا کر رہی ہو۔؟؟
وہ خود پر سنبھالتا ہوا آگے بڑھا اور اُسے شانوں سے پکڑ کر اُسکے سیاہ لباس پر جگہ جگہ پر لگے خشک دودھ کو صاف کرتے ہوئے پوچھنے لگا۔
“اا۔اذان پلیز مجھے وہ چاہیے۔یہ دیکھوں میرا سینا بُری طرح سے جل رہا ہے۔م۔میرا پورا جسم مجھے کاٹ رہا ہے۔ پلیز مجھے وہ لاکر دے پلیز۔”
وہ جنونی انداز میں اپنی شرٹ کے گلے کو پھاڑتی ہوئی ہزیانی انداز میں کہنے لگی۔تو اذان اُسے جنونی انداز میں دیکھ اور اُسکی شرٹ کی حالت پر نظریں دوسری طرف کرتا اپنا ہوڈی نکال کر جلدی سے اُسکے بُری طرح سے لرزتے جسم پر کرتا نظریں دوسری طرف سے ہٹاکر اُسے دیکھنے لگا۔جسکی رنگت تڑپنے اور رونے کی وجہ سے کافی سرخی میں بدل چُکی تھی۔
“ہاں رنیم میری جان بولو تو صحیح تُمھیں کیا چاہیے۔مجھے بتاؤ میں تُمھارے لیے وہی چیز لاتا ہوں۔جو تُمھیں چاہیے۔چاہے وہ چیز مہنگی ہی کیوں نہ ہو۔ مگر میں تُمھارے لیے وہ ضرور لیکر آؤں گا۔ بس جان تُم نام تو لو۔؟
اُسکے بھکرے وجود کو اپنی مضبوط پناہوں میں لیکر وہ نم آواز میں اُس سے پوچھنے لگا۔
“ا۔اذان مجھے وہ چاہیے آپ اس طرح کیوں بیٹھے ہیں۔ جائے نا جاکر لیکر آئے۔پلی۔۔۔۔ پلیز میرا دل بند ہو رہا ہے۔ پلیز کچھ کرے اور مجھے وہ لاکر دے پلیز۔”
وہ اُسکے سینے پر سر رکھتی سسک سسک کر پاگلوں کی طرح کہنے لگی۔ اس وقت وہ پتہ نہیں کیا مانگ رہی تھی جسکی وجہ سے اسنے اپنی حالت اتنی بری کی ہے۔
“ہاں یم میری جان تُم نام تو لو میں تُمھارے لیے دُنیا کے کسی بھی کونے سے وہ سب کچھ لیکر آؤں گا جو تُم چاہتی ہوں”
وہ اُسکے کانپتے وجود کو پکڑتے ہوئے کہنے لگا۔
“میں تُمھیں کہہ رہی ہو نا مجھے وہ چاہیے تو تُمھیں سمجھ میں کیوں نہیں آ رہا ہاں میں مر جاؤ گی تُمھیں تب سمجھ میں آئے گا کیا۔؟
وہ سامنے کاؤنٹر پر رکھے چھری کو پکڑ کر اپنی کلائی پر رکھ کر جنونی انداز میں اُسکی شرٹ کو پھاڑ کر ہزیانی انداز میں کہنے لگی۔
“کیوں رُکی کیوں ہو کاٹوں نا اپنی نس، اور ختم کر دوں خود کو اور خوش کر دو اپنے دشمنوں کو۔”
شدید غصے سے اُسے تیز دار چھری پکڑے دیکھ وہ آگے بڑھا اور غراتے ہوئے کہنے لگا۔
۔”پلیز مجھے ایک بار وہ لاکر دے پلیز میں پھر کبھی نہیں مانگو گی پلیز۔”
وہ نیچے گر کر تڑپتی ہوئی اُس چیز کو مانگنے لگی جسکے بارے میں اذان کو بلکل بھی پتہ نہیں تھا کہ وہ کس چیز کے بارے میں کہہ رہی ہے۔اُس سے کیا مانگ رہی ہے۔
“یم میری جان مجھے ایسے کیسے پتہ چلے گا کہ تُم مجھ سے کیا فرمائش کر رہی ہو۔؟
وہ اُسکی حالت دیکھ اب نرم پڑ گیا۔مگر صرف کچھ دیر کیلئے۔
“مجھے نہیں پتہ کہ وہ کیا ہے۔ مگر اُسے استمعال کرنے سے میں بہت سکون محسوس کرتی تھیں وہاں پر اور وہ مجھے وقت پر دیتے تھے اس چیز کو مگر تُم نے مجھے کل سے نہیں دیا ہے کیوں بولو کیوں۔۔”
وہ دیوانوں کی طرح اُسکے سینے پر مکا مارتی ہوئی چیخ کر کہنے لگی تو اذان شدید غصے سے آگے بڑھا اور اسکی گرفت سے چھری لیکر غصے سے اسے گھورنے لگا۔
“زندگی کو کھیل سمجھ کر رکھا ہے ناں تُم نے تُمھارا جب جی چاہے تُم اپنی کلائی پر چھری پھیر کر اپنی جان کے ساتھ کھیلوں۔مگر اب میرے ہوتے ہوئے تُم کچن میں بلکل بھی قدم نہیں رکھوں گی سُنا تُم نے اگر مرنے کا اتنا ہی شوق ہے مجھے بتا دو میں تُمھارا گلا گھونٹ کر ایک ہی بار میں تُمھیں ختم کر دوں گا۔”
سخت نظروں سے اُسے گھورتا اُسے گردن سے پکڑ کر تندوخو لہجے میں کہنے لگا۔
ہاں ہاں مجھے مارئیے مجھے اس وقت ویسے بھی میرا دماغ اور دل مجھے خودکشی کرنے کے لیے اکسا رہا ہے اگر مجھے وہ نہیں ملا تو میں سچ میں خودکشی کرلوں گی۔”
وہ پاگلوں کی طرح نیچے گری اپنے بالوں کو نوچنے لگی۔
“یم میری جان کون تُمھیں دیتا تھا۔؟
وہ اُسکے چہرے کو پکڑ کر اُسکی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے پوچھنے لگا تو وہ اپنی بند آنکھوں سے اُسکی سرمئی آنکھوں میں دیکھتی ہوئی اچانک سے وہ اُسکے لبوں پر جھک کر اُسکی لبوں پر اپنے دانت رکھ کر بُری طرح سے وہاں کاٹ بیٹھی پھر اپنی بھاری پلکوں کو بمشکل کھولتی وہ اپنے لرزتے ہاتھ اُسکے سینے پر رکھ کر اُسے پیچھے دھکیل کر وہ اُسکے اوپر چڑھی جو اپنے لبوں پر انگلی رکھ کر اُسے شاکڈ نظروں سے دیکھ رہا تھا اُسے اپنے اوپر آتے ہوئے دیکھ پیچھے کھسکنے لگا اس وقت اذان فرید کو اُس چھوٹی سی لڑکی کی آنکھوں میں ایک حیوانیت سے جھلکتی ہوئی نظر
آئی۔
“یم میری جان ہوش میں آؤ یہ تُم کیا کر رہی ہو کیوں تُم خونخوار جانوروں کی طرح بی ئیو کر رہی ہو۔؟
وہ اُسکے اوپر سے ہوتی فرش پر گرے خشک دودھ کی جانب بڑھی اور دوبارہ سے جانوروں کی طرح فرش کو چاٹنے لگی۔
اذان سے جب رہا نہیں گیا اسکو جانوروں کی طرح حرکتیں کرتے ہوئے دیکھ وہ غصے سے آگے بڑھا اور اُسے شانوں سے سختی سے پکڑ کر غراتے ہوئے پوچھنے لگا۔
“ا۔اذان مجھے چاٹنے دو مجھے سکون مل رہا ہے ایسا کرتے ہوئے پلیز مجھے چھوڑ دوں پلیز ورنہ میں تڑپ کر مر جاؤ گی۔”
اذان کے دماغ میں یکدم سے اپنے دوست جوزف کا خیال آیا جو ڈرگز نہ ملنے کی وجہ سے بلکل رنیم کی طرح کرتا تھا تو کیا رنیم کو بھی اُن لوگوں نے ڈرگز کا عادی بنا دیا ہے اور اتنا زیادہ بنا دیا ہے کہ ڈوز نہ ملنے کی صورت وہ انسان سے جانور بن جاتی تھیں۔
وہ تو اسکی قسمت اچھی تھی کہ وہ میڈیکل کا اسٹوڈنٹ تھا اُسنے کل ہی کالج میں ڈرگز لینے والی پیشنٹ کے متعلق لیکچر اٹینڈ کیا تھا۔اور انہیں ہینڈل کیسے کرنا ہے اُسنے کل ہی لیکچر کے دوران یہ سب کچھ نوٹ کر کے اپنی ڈائری میں لکھ کر رکھا تھا۔
“سٹاپ اٹ رنیم تُم دیکھ رہی ہو نا کہ میں ضروری
کام کر رہا ہوں۔”
وہ اُسے اپنی باہوں میں بھر کر اپنے بیڈ روم کی جانب بڑھا اور اُسے بیڈ پر لیٹا کر بیڈ پر رکھے اپنے مفلر کی مدد سے سختی سے باندھ کر وہ سامنے کے ٹیبل کی جانب بڑھا جہاں اسکا بیگ رکھا تھا وہ بیگ اٹھا کر
بیڈ کی جانب بڑھا اور اُسکے بے حد قریب بیٹھ کر
اپنا ڈائری بیگ سے نکالنے لگا تبھی رنیم نے غصے سے اُسے اپنے پیروں سے مارنا شروع کر دیا۔
“میری تکلیف سے زیادہ تُمھیں اپنی کام پیاری ہے ہاں
مجھے کھولو اور بیڈ سے نیچے اتارو مجھے باہر جانا ہے۔”
اذان اپنی ڈائری میں سے اپنے نوٹ کیے لیکچر میں اہم پوائنٹ کو پڑھنے کے بعد اچانک سے اُسکے اوپر جھکا اور اُسکے پیروں کو اپنے پیروں کی مدد سے اپنی قید میں لیتا اُسے ہلنے جلنے سے روکنے لگا۔
“نہیں بلکل بھی نہیں تُم ایسی ہی ٹھیک ہو جانور بنی ہو پوری کی پوری اگر میں نے تُمھارا علاج نہیں کیا تو تُم مجھے اپنی نشہ نہ ملنے کی صورت میں مار دوں گی۔۔”
اُسکے وحشی بنے نازک جسم کو اپنے مضبوط ہاتھوں سے قابو کرنے کے بعد وہ سخت لہجے میں کہتا اُسے دیکھنے لگا جو بھوکی شیرنی بنی اُسے گھور رہی تھی اُسکے دیکھنے پر اُسی جگہ اُسکے سینے پر بُری طرح سے کاٹنے لگی۔جبکہ اذان فرید ضبط سے اُسکے حملوں کو سہہ رہا تھا وہ اسے اسطرح اس لیے جکڑے ہوئے
تھا تاکہ وہ لڑ لڑ کر آخر میں اسکا جسم تھک جائے گا اور انسان جب تھکتا ہے تو وہ آرام کرنے کیلئے نیند میں چلا جاتا ہے اور رنیم کے ساتھ بھی کچھ دیر بعد یہی ہونے والا تھا۔
اور واقعی میں ایسا ہی ہوا وہ نازک وجود پہاڑ جیسے وجود کے نیچے دب کر بھوکی شیرنی بنی اُس پہاڑ جیسے وجود رکھنے والے شخص پر حملہ کرتے کرتے آخر میں تھک کر آنکھیں موند کر گہری نیند میں چلی گئی تھی اذان فرید جو اُسے ہی دیکھ رہا تھا اُسکے حرکت کرتے دانتوں کو کوئی حرکت کرتے ہوئے نہ محسوس کرکے وہ پیچھے ہٹا تو اُسے سوتے دیکھ وہ پرسکون سانس خارج کرتا اُس سے دور ہوا۔
“یم میری جان میں تُمھاری بربادی تُمھاری وقار اور معصومیت کے چھیننے کا بدلا اپنی ماں سے ضرور لوں گا۔”
وہ اپنے گریبان کو پھٹے اور گردن اور سینے چہرے پر دانتوں کے نشان دیکھنے لگا۔جن میں سے خون رس رہا تھا۔پھر نم آنکھوں سے اُس معصوم کے پرسکون وجود کو دیکھنے لگا۔جو اتنی جنگ کے بعد اب جا کر سکون سے سو رہی تھی
