Ishq E Zulmat By Sumyia Baloch Readelle50177 Episode 15
No Download Link
Rate this Novel
Episode 15
“”””ماضی””””
وہ اپنے باپ کی میت کے سامنے خشک آنکھیں لیے خاموش بیٹھا تھا ابھی تو اُسکی آنکھوں کے نیچے اُن ظالموں کے دئیے گئے زخم بھی تازہ تھے کہ اتنی جلدی اُن ظالموں کی طرف سے اُسے ایک اور زخم ملے گا یہ اُسکے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا۔۔۔
آج بادل بھی اُسکے غم میں رو رہے تھیں۔ مگر اُسکی سرمئی آنکھیں خشک تھیں،اور پورا وجود ساکن۔اِس صدمے نے اُسے پھتر کا بنا دیا تھا۔۔۔
جب جنازہ اٹھایا گیا تب بھی وہ ساکت بیٹھا رہا جب مہرین کآردال کے بڑے بھائی نے اسکا کندھا پکڑ کر اسے اٹھایا تو وہ آگے بڑھا اور اپنے باپ کے جنازے کو کندھا دینے لگا۔۔
اس لمحے اُسکے قدم بھارے ہو رہے تھے تبھی چھپکے سے اُسکی آنکھوں کے گوشے سے ایک قطرہ گرا اور بارش کے پانی کے ساتھ نیچے گرا۔۔۔
شہرِ خموشاں تک وہ خاموش رہا زاور سلطان کو جب قبر میں اتارا گیا تب جب سامنے اُسنے آصف کو اپنے بندوں کے ساتھ آتے ہوئے دیکھا تو اُسکی آنکھوں میں خون اُترا اور لب آپس میں بھینچ گئے مٹھیاں سختی سے کھس گئیں۔۔۔
مہرین کآردال کے بھائی نے جب آصف کو اپنے بندوں کے ساتھ خطرناک تیور لیے سامنے کھڑے دیکھا تو وہ آگے بڑھا اور فرغام سلطان کو اپنے پیچھے کرنے لگا
مگر فرغام سلطان پیچھے بالکل بھی نہیں ہوا وہ
نفرت اور حقارت بھری نگاہوں سے آصف کو دیکھنے لگا۔۔۔
“””جاؤ اُسے لیکر آؤ۔۔۔”””
آصف کے حکم پر اُسکا ایک خاص آدمی آگے بڑھا اور خاموش کھڑے فرغام سلطان کو پکڑ کر اپنے باس کے اگلے حکم کا انتظار کر نے لگا مگر مہرین کآردال نے آصف کے آگے ہاتھ جوڑے۔۔۔
“””اب اور ظلم مت کریں خدا کے لیے اُسے جانے دے آخر اس بچے کا کیا قصور ہے یہ اور اس وقت وہ یہ صدمے میں ہے۔۔۔”””
فرغام سلطان صرف خاموشی سے خود پر یہ ظلم ہوتا ہوا دیکھ رہا تھا۔۔۔
“””اِسکا قصور یہ ہے یہ اُس غدار کی اولاد ہے جس نے میری عزت پر ہاتھ ڈالا جاؤ اُسے گھسیٹ کر لے جاؤ کال کال کھوٹری میں اور اُس پر اتنا ٹارچر کرو کہ یہ اپنے باپ کی طرح غداری کرنے کا نہ سوچیں۔۔۔”””
آصف نے سخت نفرت سے ساکت کھڑے فرغام سلطان کی جانب دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔
“””یہ گناہ مت کریں وہ بچہ ہے۔۔۔””
مہرین کآردال کے بھائی نے اس ظلم پر روتے ہوئے کہا۔۔
مگر ظالم نے کبھی کسی مظلوم کی سُنی ہے جو وہ انکی سُنتا وہ سب فرغام سلطان کو کسی غلام کی طرح وہاں سے گھسیٹتے ہوئے لیجانے لگے۔۔۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
اُسے آصف کے اس قید خانے میں بند آج تیسرا دن تھا۔ جب اُسے آصف کے اُسی خاص بندے نے جس نے اسے یہاں بند کیا تھا اُسے باہر نکال کر کھینچتے ہوئے لیجانے لگا۔۔۔
وہ چہرے پر سرد تاثرات لیے اُسکے کھینچنے پر آگے
بڑھ رہا تھا اس وقت اُسکی آنکھیں نفرت کے باعث
سرخ تھیں۔
وہ آدمی اُسے ایک کھلے میدان میں لاکر اُسے نیچے دھکیل کر پیچھے ہوا تبھی وہاں آصف اپنے کچھ
بندوں کے ساتھ داخل ہوا۔۔۔
اِس وقت موسم کافی سرد تھا طوفانی ہواؤں کے ساتھ ساتھ تیزی سے برف گرکر پوری زمین کو اپنی سفید چادر میں لپیٹ رہا تھا۔۔۔
وہ آصف کو دیکھ اپنی سرخی لیے آنکھیں اس پر ٹکا کر اسے غصے سے دیکھنے لگا جو اسکے عین قریب آگے آکر ایک کرسی لگا کر بیٹھ گیا اور اُسے گھورنے لگا۔۔۔
“”شکیل میرے فالتو کتے کے لیے کھانے کیلئے جو تُم لائے ہو اسے مجھے دینا۔۔۔'””
آصف نے اُسے دیکھتے ہوئے اپنے آدمی سے کہا جو اُسکے پیچھے کھڑا تھا..
“””یہ لے باس۔۔۔””
وہ آدمی آصف کے حکم پر اپنے ساتھ لایا کھانا اپنے اُسے پکڑا کر کہتا واپس جاکر پیچھے کھڑا ہوا۔۔
“”میں آج تُم پر رحم کر رہا ہوں۔ تو سوچا۔زرا ڈھنگ سے کروں۔۔””
آصف نے اُسے دیکھتے ہوئے معنی خیزی سے کہا۔اور پلیٹ کے اندر بھرے سفید چاول کے اوپر تھوکتے ہوئے اُسنے اُسکے آگے پلیٹ ایسے رکھا جیسے وہ کوئی انسان
نہیں جانور ہے۔۔۔
وہ خاموش نظروں سے اُس گیڈر کو دیکھ رہا تھا۔جو کرسی پر بیٹھا اُسے غصہ دلا رہا تھا۔مگر ہاتھ بندھنے کی وجہ سے وہ اُسکا کچھ بھی نہیں کر سکتا تھا۔۔۔
“””خاموش کیوں ہو۔تُم غدار کی اولاد۔اٹھاؤ یہ کھانا اور کھاؤ اُسے۔”””
آصف اُسے خاموش نظروں سے خود کو گھورتے پاکر سخت گیر لہجے میں کہتا زور سے اُسکے چہرے پر مکا مار کر اُسنے پیچھے دھکیل دیا۔۔
“”میں تُم جیسے گیڈر کے پیسوں کا کھانا پسند نہیں کرتا۔یہ کھانا تُم خود کھاؤ۔۔”””
فرغام کے پیچھے کھڑے آدمی نے اُسے اٹھایا تو وہ نفرت بھری نگاہوں سے آصف کو گھورتے ہوئے سرد لہجے میں کہنے لگا۔۔۔
“”کیا تُمھارے کنجر باپ نے تُمھیں تمیز نہیں سیکھائی کہ بڑوں سے بات کیسے کی جاتی ہے۔۔۔”””
آصف اُسکی بات پر سخت چڑتے ہوئے اُسکے باپ کو گالی دیتے ہوئے بولا۔۔۔
“””میرے باپ کو گالی دے کر تُم نے اپنی موت کو بُلاوا دیا ہے۔۔۔”””
فرغام سلطان اُس گھٹیا انسان کے منہ سے اپنے باپ کی گالی برداشت نہ کرسکا۔تو شدید غصے سے اسے دیکھتے ہوئے غرایا۔۔۔
“”تُم مجھے ماروں گے۔۔فالتو کتے مجھے۔۔۔تُم ایک کتے ہو میرے فالتو کتے۔بالکل اپنے باپ کی طرح۔۔۔”””
آصف اُسکی باتیں سن کر سخت بھڑکتے ہوئے بولا۔۔۔
“””زاور سلطان ایک ایماندار شخص تھا۔جو وفاداری کی وجہ سے تُم جیسے گیڈر کے ہاتھوں بے وجہ مارا گیا۔مگر فرغام سلطان۔ایک خونخوار خون کا پیاسا بھیڑیا ہے۔۔جسے تُم نے پھتر مار کر۔اُسے درندہ بننے پر مجبور کیا ہے۔۔اب تُمھیں مجھ سے کون بچائے گا آصف
۔اس بھیڑیے سے جو اب تُمھاری خون کا پیاسا بن چکا ہے۔۔۔”””
وہ اپنی خون آشام نظروں سے اُسے دیکھتے ہوئے خوفناک لہجے میں بولا۔
“””خاموش غدار کی اولاد یہ دھمکیاں کسی اور کو دینا۔ تُمھاری حیثیت کیا ہے۔ میرے سامنے کچھ بھی نہیں میں تُمھیں اپنی جوتے کے برابر بھی نہیں سمجھتا۔۔۔”””
آصف نے سخت تیوریاں چڑھا کر کہا۔۔۔
“””مجھے اپنی حیثیت بنانے میں دیر نہیں لگے گی۔ میں یہاں اپنی ایسی حیثیت بناؤں گا۔ کہ تُم جیسے گیڈر میرے تلوے چاٹنے کے لیے بیتاب ہونگے۔۔۔”””
سرمئی آنکھوں میں نفرت کے ساتھ لہجے میں پختگی لیے وہ اُسے سخت خوفزدہ کر گیا۔۔۔
“””کھڑے کیا تماشا دیکھ رہے ہو۔منہ توڑ دوں اِس غدار کا۔۔”””
اُسکے حکم پر اُسکے آدمی آگے بڑھے تو اُسکی سرمئی آنکھوں میں خون آشام درندے کی جھلک دیکھ وہ وہی رک گئے۔۔۔
“””اگر مجھے ہاتھ بھی لگایا کسی نے تو میں اُسکی سانسیں چھین لوں گا۔۔۔”””
اپنی سُرخ نفرت سے دہکتی ہوئی آنکھیں اُن سب پر ٹکا کر وہ غراتے ہوئے بولا۔۔
اس وقت وہ اپنے شکار کو پھاڑ کھانے والا ایک خونخوار بھوکے شیر کی طرح لگ رہا تھا اُسے اس روپ میں دیکھ آصف کے بندے ڈر کے مارے پیچھے ہٹنے لگے
انہیں پیچھے ہٹتے ہوئے دیکھ آصف نے سخت تیوریاں چڑھا کر اُسے گھورا۔۔۔
“””””تُم خود کو طرم خان سمجھ کر بہت اچھل رہے ہو۔رُوکوں میں تُمھاری یہ ساری بہادری ایک ہی جھٹکے میں ابھی ختم کر دیتا ہوں۔شکیل جاؤ۔اور جاکر اُسے یہاں لیکر آؤں۔۔۔”””
آصف نے اپنے پیچھے کھڑے آدمی سے کہا۔تو وہ خاموشی سے وہاں سے چلا گیا۔
اور جب وہ تھوڑی دیر بعد آیا تو اکیلا نہیں تھا اُسکے ساتھ جو ہستی تھی اُسے دیکھ کر فرغام سلطان غصے سے سامنے کرسی پر بیٹھے آصف کو گھورنے لگا پھر جب اُسنے اُس ہستی کی دلدوز چیخ سُنی تو وہ اپنی نظریں آصف سے ہٹا کر اس ہستی کو دیکھنے لگا جو کوئی اور نہیں مہرین کآردال تھیں جو آصف کے خاص بندے کی گرفت میں بن آب کی مچھلی کی طرح تڑپ رہی تھیں۔۔
“””آپا۔۔۔”””
فرغام سلطان انہیں تڑپتے ہوئے دیکھ اُنکا نام پکار کر وہ آگے بڑھا تبھی پیچھے کھڑے دو آدمیوں نے اُسے سختی سے پکڑا۔۔۔
تو وہ آنکھوں میں بے بسی اور تڑپ لیے مہرین کآردال کو دیکھنے لگا۔۔۔۔
“””تُمھاری آنکھوں سے لگ رہا ہے۔اسے یہاں دیکھ کر تُم ڈر گئے ہوں لڑکے۔۔۔۔ لیکن یہ تو ابھی ٹریلر ہے۔ پکچر تو ابھی باقی ہے۔۔”””
اُسکی آنکھوں میں بے بسی اور تڑپ دیکھ آصف کو بہت خوشی ہوئی تو اُسنے ہنستے ہوئے کہا۔۔۔
“”کمینے انسان اِنہیں کیوں بیچ میں لا رہے ہو۔تُمھاری دشمنی زاور سلطان کی فیملی سے ہے۔وہ زاور سلطان کی کچھ بھی نہیں لگتی ہے۔تو تُم اُس عورت سے کس بات کی دشمنی نکال رہے ہو۔۔؟؟؟
فرغام کو سخت صدمہ پہنچا مہرین کآردال کو وہاں اس جگہ دیکھ کر یہ جگہ کیسی ہے یہاں کے لوگ کیسے ہیں وہ ان تین دنوں میں جان چکا تھا۔۔۔
یہ لوگ نہ اپنے پاس کام کرنے والوں کی عزت
کرتے ہیں نا کسی بے سہارا عورت کی تو مہرین
کآردال کی یہاں موجودگی اُسے کچھ غلط ہونے کی جانب اشارہ کررہی تھی وہ اٹھارہ سالہ لڑکا اپنے اوپر ہوئے سہتم کی وجہ سے ان باتوں کو سمجھ گیا تھا کہ یہ دُنیا کیا ہے اور اُس میں رہنے والے لوگ کیسے ہیں۔۔۔
“””کیونکہ یہ عورت تُمھاری رہائی کی بھیک مانگ رہی تھی۔مجھ سے رو کر گڑگڑا کر۔ تو مجھے اس پر ترس آ گیا۔ آج میں تُم دونوں کو ایک ساتھ سانسوں کی قید سے آزاد کروں گا۔۔۔”””
آصف نے سخت لہجے میں کہا۔۔۔
“””دیکھتے ہیں کون کس کو کس کی سانسوں کی قید سے آزاد کرتا ہے۔۔۔”””
وہ طنزیہ انداز میں کہتا اُسے سلگا گیا۔۔۔
“”یہ تُم میں آخر کس بات کا گھمنڈ ہے۔جو تُم اتنا پھڈک رہے ہو۔یہ مت بھولو کہ تُم میرے قدموں کے ڈھول کے برابر بھی نہیں ہو۔تُم میرے آگے ایک بیکار اور نالی کے کیڑے ہو۔میں چاہوں تو ابھی تُمھیں مسل کر تُمھیں تُمھاری اوقات یاد دلا سکتا ہوں۔۔۔”””
آصف اب اُسکی باتوں سے سخت غصے سے پاگل ہو رہا تھا۔۔۔
“”مجھے اس بات کا گھمنڈ ہے۔کہ میں ایک مضبوط حساب کا مالک مرد ہو۔جو اتنے ظلم سہنے کے باوجود اب بھی زندہ ہے۔۔صرف تُم جیسے گیڈر کو منہ کے بل گرانے کے لیے۔۔۔”””
مضبوط لہجے میں کہتا وہ اُسے آگ بگولہ کر گیا۔۔۔
“””منہ کے بل پر گرا کر اور بے بس تو میں تُمھیں کروں گا۔وہ بھی ابھی اور اِسی وقت۔۔ شکیل اس عورت کو یہاں میرے پاس لیکر آؤں۔اور اس کمینے غدار کے خون کو سختی سے باندھوں آج یہ اپنی آپا کو اپنی آنکھوں سے لوٹتے ہوئے دیکھے گا۔۔”””
آصف نے اُسے کہہ کر اپنے اُس آدمی کو حکم دیا جسکی گرفت میں مہرین کآردال مچل رہی تھی۔
تو اُسکے حکم پر وہ آدمی مہرین کآردال کو کھینچتے ہوئے اپنے باس کے پاس پہنچ کر اُسے باس کے قریب کرنے کے بعد پیچھے ہوا تو آصف نے مہرین کآردال کو اُسکی گوری کلائی سے پکڑا اور اپنی گود میں بیٹھا
کر اپنے کھردرے ہاتھوں سے اُسکی سرخ گالوں کو چھوتے ہوئے فرغام سلطان سے کہنے لگا۔
فرغام سلطان مہرین کآردال کے ساتھ اُسے زبردستی کرتے ہوئے دیکھ اپنے ہاتھ رسیوں سے آزاد کرنے لگا۔۔۔
“””نہیں مم۔۔۔مجھے چھ۔۔۔چھوڑ دوں خدا کیلئے۔۔۔”””
مہرین کآردال کو اپنے پیٹ پر اُسکے کھردرے ہاتھوں کا احساس ہوا تو وہ تڑپتی چیخنے لگی۔تو فرغام سلطان اسکی چیخیں سن کر غصے سے پاگل ہوکر اپنے ہاتھ کی رسیوں کو ڈھیلا کرنے لگا۔۔۔
“””چپ بالکل چپ۔۔”””
آصف نے زوردار تھپڑ رسید کرتے ہوئے کہ کر اُسکی آستین کو اپنی چاقو کی مدد سے اوپر شولڈر والے حصے سے کاٹنے لگا۔۔۔
مہرین کآردال اپنی رسوائی پر بُری طرح ہاتھ پیر مار رہی تھی چیخ رہی تھی مگر اُسکی چیخوں کا اثر اس ظالم پر نہیں ہو رہا تھا وہ تو اُسے بے لباس کرنے کے درپے تھا۔۔۔
“””آصف میں تُمھاری جان لے لوں گا۔اگر تُم نے آپا کو ہاتھ بھی لگایا تو۔۔۔”””
وہ اپنے سامنے ایک معصوم عورت کی عزت لوٹتے ہوئے دیکھ وہ پھٹ پڑا اور خود کو رسیوں اور ان آدمیوں کی گرفت سے چھڑانے لگا۔جو اُسکے راستے کے بیچ کانٹا بَنے ہوئے تھے۔۔۔
“””آصف چھوڑوں کمینے میری آپا کو۔۔۔”””
اُسکی پکاریں اور مہرین کآردال کی تیز سسکاریاں ماحول کو بھی سخت افسردہ بنا گئی تھیں وہ شیطان معصوم عورت کو بے بس کر چکا تھا مگر تبھی فرغام کی ہاتھوں کی رسیاں زیادہ کھولنے کی کوشش میں کھل گئے۔ تو رسیوں سے خود کو مکمل آزاد کرنے کے بعد اپنے پاس کھڑے آدمی کی پینٹ کے اوپر لٹکے ریوالور کو نکال کر نفرت سے اُسنے فائر آصف پر کھول دیا۔۔۔
تو آصف مہریں کآردال کے اوپر گرا۔
فرغام تیزی سے اٹھا تو آصف کے بندے جو اُسکے پاس کھڑے تھے وہ ڈر کر پیچھے ہوئے ایک تو آصف پر فائر ہوتے ہوئے دیکھ کب کا بھاگ چکا تھا۔۔
فرغام آگے بڑھا اور آصف کی باڈی کو مہرین کآردال کے اوپر سے ہٹا کر نیچے گرتے ہوئے انہیں دیکھنے لگا جنکی اور آنکھیں بند ہو رہی تھی اور سانسیں تھم رہی تھیں۔وہ انہیں اٹھاتے ہوئے تیزی سے باہر کی جانب بڑھا۔۔۔وہ جب کال کوٹھری سے باہر نکل کر کواٹر میں پہنچا تو وہاں مہریں کآردال کے بھائی کو پریشان دیکھ دروازے پر رُکا۔۔۔
“””یہ مہرین کو کیا ہوا ہے تم نے اسے اس طرح کیوں پکڑا ہوا ہے ۔؟؟؟
وہ اپنی بہن کو اس لڑکے کے ہاتھوں میں دیکھ تیزی سے آگے بڑھے اور اس سے پوچھنے لگے۔۔۔
“””انکل آپا ۔۔”””
وہ نم آواز میں اپنی بات کو ادھورا چھوڑ کر رونے لگا آج وہ یہ غم سہہ نہ سکا۔۔۔ کیونکہ یہ عورت وہ تھیں جس نے اُسے دوبارہ عورت پر اعتبار کرنا سیکھایا تھا آج اُسکے ساتھ ہوئے سانحہ کو سوچ کر وہ اُسکے بے جان وجود کو نیچے احترام سے رکھ کر گرتے ہوئے سسک سسک کر رونے لگا۔۔۔
پاس کھڑے ہارون صاحب اپنی بہن مہرین کآردال کی ابتر حالت سے اندازہ لگا چکے تھے کہ انکی بہن کے ساتھ بہت بڑا سانحہ ہوا ہے تو وہ اچانک سے گرتے ہوئے چیخ چیخ کر رونے لگے۔۔۔
زاور سلطان کی ابھی قبر کی مٹی بھی خشک نہیں ہوئی تھیں کہ فرغام کو ایک اور اذیت ملی۔جب ہارون صاحب کے ساتھ وہ اس گھر کے پاس پہنچا جس گھر کو اُسنے اپنے باپ کے لیے ٹھکرایا تھا۔
اُس گھر کو آگ کی لپیٹ میں دیکھ وہ آگے کی طرف بھاگا مگر ہارون صاحب کے پکڑنے پر وہ انکی گرفت میں بری طرح سے خود کو چھڑانے لگا۔۔۔
“””چھوڑیں مجھے اپنی ماں اور اپنے بہن بھائی کو باہر نکالنا ہے چھوڑیں مجھے ۔۔”””
وہ اُنکی گرفت میں روتے ہوئے چیخ چیخ کر کہنے لگا۔۔۔
“””بیٹا اب سب کچھ جل گیا ہے آپ اندر نہیں جا سکتے ہیں۔۔۔”””
ہارون صاحب کے کہنے پر وہ اُنہیں خود سے دور کرتا پاگلوں کی طرح آگے بڑھا مگر آگے پولیس کے آفیسر نے اسے پکڑا اور اسے اندر جانا سے منع کیا تو وہ ان کی گرفت سے نکل کر زور زور سے چیخنے لگا۔۔۔
“”کیوں مجھے اندر جانے نہیں دے رہے ہو آپ سب ہاں کیوں اندر میری فیملی ہے۔۔۔۔۔۔ میری ماں اور چھوٹے بہن بھائی۔۔۔”””
وہ آفیسر کی گرفت سے نکلنے کی کوشش کرتے ہوئے زور سے چیختے ہوئے کہنے لگا۔۔۔
“””اندر جتنے بھی لوگ تھے ہم نے اُنکی ڈیڈ باڈی نکال لی ہیں ۔کوئی بھی نہیں بچا ہے۔۔۔””
آفیسر کے منہ سے ڈیڈ باڈی سن کر وہ ساکت رہ گیا۔۔
“””نن۔۔نہیں یہ نہیں ہو سکتا ۔میری ماں بہن بھائی نہیں اب میں اور غم سہہ نہیں پاؤ گا نہیں م۔۔مجھے اندر جانے دے شاید وہ ابھی بھی اندر ہو۔۔۔”””
وہ اس آفیسر کی گرفت میں تڑپتے ہوئے اچھل اچھل کر کہنے لگا۔۔
“””نہیں وہ اندر نہیں ہے ہم نے ان دونوں کی ڈیڈ باڈی نکال لی ہیں ۔۔۔”””
آفیسر کی دوسری بات پر وہ شاکڈ کے مارے اس کی گرفت میں اچھلنا بند کرتا ساکن نظروں سے آگ میں جلتے اپنے گھر کو دیکھنے لگا ۔۔
‘”کیا۔۔۔؟ اندر صرف دو لوگ تھے میری بہن نازلی وہ کہاں ہے وہ اتنی چھوٹی ہے خود کہی نہیں جا سکتی وو۔۔وہ ابھی بھی اندر ہے یہ آپ لوگ کیا کر رہے ہیں وہ اندر ہے مجھے جانے دے میں خود اپنی بہن کو بچاؤ گا پلیز مجھے اندر جانے دے ۔۔۔”””
اچانک سے وہ جنونی انداز میں خود کو چھڑاتے ہوئے کہنے لگا کہ اسی پل پیچھے سے ایک آفیسر نے اُسکی مخصوص رگ پر ہاتھ رکھ کر اُسے بہیوش کیا۔۔۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
“””اُسے کیوں مارا تُم نے ہاں کیوں ہمارے درمیان یہ ڈھیل نہیں ہوا تھا …؟؟؟؟
نیلوفر سگریٹ کے کش لے رہی تھیں کہ اسی پل روم میں وہ غصے سے دندناتے ہوئے داخل ہوا اور اُسے گھورتے ہوئے سرد لہجے میں پوچھنے لگا۔۔۔
“””ہنہہہہہ کیسی ڈھیل یہ کاروبار تو اس دن ہمارے درمیان سے ختم ہوا تھا۔ جب میرا پیارا زاور ہمیشہ ہمیشہ کیلئے مجھ سے جدا ہوا صرف تُمھاری لاپرواہی کی وجہ سے۔۔”
سگریٹ بُری طرح سے ایش ٹرے میں مسلتے ہوئے وہ طنزیہ انداز میں مسکراتی ہوئی بولی۔
“” تُمھارا شوہر اُس دن اچانک سے بنا بتاۓ وہاں ٹپکا تو اس میری کیا غلطی تھی ہاں جو تُم نے میری محبت کو مجھ سے جدا کیا ہاں بولوں جواب دوں۔۔؟؟؟
فرید کآردال نے سخت تیوریاں چڑھا کر کہا۔
اُسنے نیلوفر سے ہاتھ اسلیے ملایا تھا تاکہ وہ غزل کو حاصل کر سکے مگر نیلوفر کے انتقام کی وجہ سے وہ غزل کو ہار گیا۔
“””ہنہہہہہ تُمھاری محبت تُم یہ کیوں بھول جاتے ہو فرید کآردال کہ وہ عورت تُم سے نہیں بلکہ اپنے شوہر سے محبت کرتی ہیں۔””
نیلوفر جو اُسکی اصلیت اچھے سے جانتی تھی کہ وہ کس طرح کا انسان ہے اُسکی بات پر طنزیہ انداز میں مسکرا کر اسے دیکھتی ہوئی بولی۔۔۔
“””کون محبت کے بارے میں کہہ رہی ہے مجھے۔ جو ہوس کا نام لے کر محبت کرتی ہیں۔۔۔”””
فرید کآردال استہزایہ مسکراہٹ لبوں پر سجا کر بولا ۔
“””تُمھاری یہ جو محبت ہے۔ وہ بھی تو ایک طرح کا ہوس ہی تو ہے۔مجھے پتہ ہے۔ تُم اپنی بیوی کو دھوکا صرف اس لیے دے رہے تھے کیونکہ زاور سلطان کی بیوی تُمھاری بیوی سے زیادہ حسین ہے اور تُمھاری پرانی حسرت بھی اور تُم نے زاور سلطان کو اور اُسکے بچوں کو برباد صرف اپنی جلن کی وجہ سے کیا ہے ۔وہ بچہ جسے میں اپنا بیٹا بنانے والی تھی تُم نے چھپ کر اس کے دل میں میرے لیے جو زہر گھولا ہے یہ اُسکی سزا ہے۔۔”””
نیلوفر نے نفرت سے اُسے دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔
“”اُس بچے کو اتنی بڑی اذیت دے کر تُم کہ رہی ہو۔کہ تُم اُسے اپنا بیٹا بنانے والی تھی۔ہنہہہہہ کیسی چال باز عورت ہو تُم۔۔۔”””
فرید کآردال سخت گیر لہجے میں بولا ۔۔
“”چال باز تو تُم بھی ہو فرید کآردال۔۔”””
آج ناکامی پر وہ دونوں ایک دوسرے کو اپنی اصلیت سے آگاہ کر رہے تھے۔۔۔
“””ہاں ہو میں چال باز کیا بگاڑ لوں گی تُم میرا ہاں۔؟؟
فرید کآردال جو اپنی اکڑ میں یہ بھول چکا تھا کہ مقابل عورت کوئی کمزور عورت نہیں ہے وہ ایک چال باز اور شیطان ذہنیت کی مالک ہے وہ اسے فرش سے عرش تک لا سکتی ہے تو عرش سے فرش پر پٹک بھی سکتی ہے۔۔۔
“””بگاڑ تو بہت کچھ سکتی ہو۔۔۔”””
وہ استہزایہ انداز میں بولی۔۔۔
“””تُم مجھے چھو بھی نہیں سکتی ہو۔دھوکے باز عورت۔۔”””
فرید کآردال کو خود پر بہت زیادہ بھروسہ تھا شاید جو وہ نیلوفر جیسی ڈائن عورت سے بنا ڈرے یہ سب کہ رہا تھا۔۔۔
“””دھوکے باز تو تُم ہو اپنے دوست اور اپنی بیوی کی فیملی کو دھوکا دے کر تُم اپنی بیوی اور دوست کو مروانے کے بعد اب چھپنا چاہتے ہو۔ تو یہ تُمھاری بھول ہے۔کیونکہ یہ میں نہیں ہونے دوں گی۔اور اگر تُم نہیں چاہتے کہ تُم پکڑے جاؤں تو تُم میرے اور زاور سلطان کے بچے کو اپنا نام دو اور میرے ساتھ امریکہ چلو۔ورنہ میں سب کو بتا دوں گی تُمھاری اصلیت۔۔۔”””
وہ دھمکاتی ہوئی بولی تو وہ صدا کا ڈرفوک اُسکی دھمکی پر مان گیا اور ٹھیک ایک ماہ بعد ساری کارروائی کے بعد وہ اور فرید کآردال امریکہ کیلئے روانہ ہوگئے انکے ساتھ فرید کآردال کا چھوٹا بھائی اور اُسکی بیوی بھی تھیں۔جو انہیں فرید نیلوفر کے کہنے پر اپنے ساتھ لے کر جا رہا تھا۔۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
“””کیوان کآردال تُمھیں پتہ ہے۔مجھے یہ سب پسند نہیں ہے۔۔۔”””
سامنے سجی ٹیبل پر چاکلیٹ کیک کو جس کے اوپر انگلش میں 30 سالگرہ مبارک لکھا ہوا تھا۔دیکھ وہ ناگواری سے کیوان کآردال کی جانب دیکھتے ہوئے غرا کر کہنے لگا۔
ان پانچ سالوں میں اسنے کبھی اپنا برتھڈے سیلبریٹ نہ خود کیا اور نہ ہی کسی اور کو کرنے دیا تھا وہ اتنے سال گزرنے کے باوجود بھی اپنی فیملی کا غم بھولا نہیں تھا تو کیسے یہ دن سیلبریٹ کرتا۔۔۔
“””سلطان بے یہ میں نے نانی کے کہنے پر کیا ہے۔۔۔”””
کیوان کآردال نے منہ بناتے ہوئے کہا۔۔۔
تبھی وہاں ایک نورانی چہرے والی ایک بوڑھی عورت آتے ہوئے کہنے لگی۔۔۔
“”ہاں بچے یہ ہم نے کہا تھا کیوان کو کیونکہ ہماری زندگی میں اتنے سانحے ہوئے ہیں کہ ہم کبھی خوشی محسوس نہیں کرتے لیکن اپنے بچوں کی یہ خوشی تو ہمیں منانے دے کیوں آپ خود کو اور ہمیں تکلیف دے رہے ہیں فرغام بچے۔آپ ہمیں کیوں تکلیف دے رہے ہیں یہ سب بھول کیوں نہیں جاتے آپ ۔۔””
وہ جب یہاں اس گھر میں پہلی بار آیا تھا۔۔ تب بہت خاموش رہتا تھا لیکن پھر آہستہ آہستہ سے وہ مہر خاتون کے قریب چلا گیا اسی لیے وہ انکی احترام کرتا تھا انکی کوئی بات نہیں ٹالتا تھا ان پانچ سالوں میں فرغام سلطان صرف انکی وجہ سے سنبھالا تھا ورنہ تو پہلے اسکا دل خود کو مارنے کا چاہتا تھا۔۔۔
“”نانی جان ہم کیسے بھولیں ان سبکو جن سے میرا خون کا رشتہ تھا اور جن سے اجنبیت کے باوجود بھی ایک اپنائیت کا رشتہ تھا جو اتنے قریب تھے اس دل کے انکے کھونے سے اب یہ دل پھتر کا ہوگیا ہے۔۔۔”””
وہ سنجیدگی سے کہنے لگا۔وہ بھی کیوان اور عائشہ گل کی طرح انہیں نانی جان کہ کر بلاتا تھا۔
“”بچے یہ سب اُس ڈائن عورت کی وجہ سے ہوا ہے۔اگر کبھی زندگی میں وہ ہمارے سامنے آئی۔تو ہم اسکی جان لے لینگے۔۔۔””
وہ نیلوفر کے بارے میں نفرت سے کہنے لگی۔کیونکہ ان سب کو پتہ چل گیا تھا کہ زاور سلطان اور مہرین کآردال کی موت کی ذمہ دار نیلوفر ہی ہے اسی لیے وہ اس عورت سے بہت نفرت کرتے تھے۔۔۔
“””نانی چلے اب سلطان بے کو کیک کاٹنے کے لیے کہے ورنہ یہ کیک خراب ہو جائے گا۔۔۔”””
کیوان جانتا تھا کہ ابھی اُسکی ماں اور بابا کے ساتھ زاور انکل کا ذکر ہوگا اور جب بھی انکی بات ہوتی تھی تو وہ بہت تکلیف محسوس کرتا تھا اسی لیے ہنس کر وہ ماحول کو خوشگوار بناتے ہوئے کہنے لگا۔
تو نانی کی خوشی کیلئے فرغام سلطان نے وہ کیک کاٹا اور بنا کھائے وہاں سے چلا گیا اور اسکے پیچھے منہ بنا کر کیوان کیونکہ وہ کیک کھانا چاہتا تھا
مگر اسے بنا کھائے وہاں سے جاتے ہوئے دیکھ اسے بھی اسکے پیچھے جانا پڑا۔۔۔
“””کیوان کآردال پتہ چلا کچھ فرید انکل کے متعلق اور اُس عورت کے بارے میں تُمھیں۔۔۔”””
جب وہ دونوں گھر سے باہر تھوڑے فاصلے پر موجود اپنے کھیتوں میں گئے تو فرغام سلطان نے سنجیدگی سے کیوان کآردال سے پوچھا۔۔۔
“””نہیں سلطان بے بابا کے بارے میں آج بھی مجھے کچھ پتہ نہیں چلا۔پانچ سال ہوگئے ہیں وہ پتہ نہیں کہاں ہونگے پتہ نہیں کیسے ہونگے۔اور اس عورت کا بھی پتہ نہیں چل رہا کہ وہ کہاں گئی ہیں۔۔۔”””
کیوان جو اپنے باپ کو روز ڈھونڈتا تھا اور ساتھ نیلوفر کو بھی لیکن آج تک اسے ان دونوں کے متعلق کچھ پتہ نہیں چلا اپنے باپ کی طرف سے گم شدگی کیوان کو توڑ رہی تھی تو دوسری طرف نیلوفر کی نہ ملنے کی خبر فرغام سلطان کی نفرت کو اور بھی زیادہ گہرا کر رہی ہیں وہ دن بہ دن انتقام کی آگ میں جل رہا ہے اور کیوان انتظار کی آگ میں۔۔
“””جلد پتہ چل جائے گا ہمیں فرید انکل کے بارے میں بھی۔ اور اس عورت کے بارے میں بھی اور کام کیسا چل رہا ہے کوئی گڑبڑ تو نہیں کر رہا نہ اب۔۔۔”””
وہ کیوان کے چہرے پر مایوسی دیکھ اسکی چوڑی پشت پر تھپکتے ہوئے کہنے لگا پھر اپنے ان کاموں کے متعلق پوچھنے لگا جو پہلے آصف کے انڈر تھا جسے وہ موت کے گھاٹ اتارنے کے بعد اپنے قبضے میں لے چکا تھا اب وہی آصف کی گینگ ہو لیڈ کر رہا تھا۔۔
“””سلطان بے سب کچھ درست چل رہا ہے۔۔”””
کیوان کآردال اسے کہتے ہوئے بادلوں سے صاف آسمان کو دیکھنے لگا جبکہ فرغام سلطان سنجیدگی سے اپنے فالتو کتوں کو دیکھنے لگا جو اس کھیت پر ایک بڑے سے جالی میں بند تھے۔۔۔
دوسری طرف امریکہ میں ایک تیرہ سالہ اذان اپنے گھر میں اتنے مردوں کو دیکھ اپنی سرمئی آنکھوں میں غصہ لیے گھر سے باہر نکلا۔
اُسنے جب سے جوانی کی دہلیز پر قدم رکھا تھا تب سے اپنے گھر میں وہ چیزیں اور وہ حرکتیں دیکھ چکا تھا کہ اپنی عمر کے لڑکوں کی طرح لائف کو انجوائے منٹ سمجھ کر گزارنے والا نہیں بلکہ وہ ایک سمجھدار اور میچور بن چکا تھا اپنی حالات کی وجہ سے۔۔۔
روز ایک نئے آدمی کے ساتھ اسکی ماں اپنے کمرے کے اندر جو کھیل کھیلتی تھیں وہ صرف مٹھیاں کھس کر رہ جاتا ہے کہ آج پھر اسکی ماں اسے نظر انداز کرے گی ساری رات۔ اسکی ماں اور وہ مرد اندر کیا کرتے ہے۔
وہ سب کچھ جانتا تھا یہ سب کچھ اس ملک میں عام تھا یہاں تیرہ چودہ سال کے بچے بھی اس چیز سے واقف تھے تو بھلا وہ کیسے ان چیزوں سے انجان رہتا اسے بہت غصہ آتا تھا روز اپنی ماں کو کسی نئے مرد کے ساتھ اکیلے کمرے میں بند ہوتے ہوئے دیکھکر مگر وہ کچھ بھی نہیں کر سکتا تھا۔۔
اور باپ اسے اپنے باپ سے بالکل بھی انسیت نہیں تھیں۔جب بھی وہ فرید کآردال کو دیکھتا تھا تو وہ گرم جوشی اسکے اندر نہیں جاگتی تھی۔ جو باپ کو دیکھ کر بچے کے اندر جاگتا ہے وہ صرف خاموشی سے اپنے باپ کو اپنی ماں سے کرتے لڑتے ہوئے دیکھتا رہتا تھا۔۔۔
“””کہاں ہو تُم نیلوفر رانی ۔۔”””
ابھی اسکی ماں کمرے میں ایک مرد کے ساتھ گئی تھی کہ اسی پل گھر کے اندر فرید کآردال داخل ہو کر نشے کی حالت میں زور زور سے چیختے ہوئے۔
نیلوفر کو پکارنے لگا۔جو اسکی آواز پر غصے سے کمرے سے باہر نکلی تو اذان اپنی ماں کو اتنے نامباسب لباس میں دیکھ ساکت رہ گیا۔۔۔
“”کیا ہوا ہے تُمھیں پاگل انسان۔۔؟؟
نیلوفر سخت غصے سے اُس شخص کو دیکھنے لگی۔جسے یہاں لاکر اب وہ بہت زیادہ پچھتا رہی تھیں۔
“””مجھے پیسے دو بازاروں عورت یا مجھے ترکی میں بھیج دوں۔۔۔۔۔اب میں تُمھارے ساتھ بالکل بھی نہیں رہ سکتا میں یہاں۔کیونکہ میں یہاں تُم جیسی عورت کے ساتھ اپنا دماغ اور زندگی خراب کر رہا ہوں اور وہاں تمھارے محبوب کا بیٹا میری بیوی کی فیملی کے ساتھ خوشحال رہ رہا ہے یہ میں کیسے برداشت کر سکتا ہوں مجھے جانے دو تاکہ میں اسکا بھی قتل اسکے باپ کی طرح کر کے اسے اپنی زندگی سے ہمیشہ ہمیشہ کیلئے ہٹا دوں۔اور اگر تُم نے مجھے جانے نہیں دیا نہ تو میں تُمھارے اور زاور سلطان کے اس بیٹے کو جان سے مار دوں گا یا کسی انگریز کے ہاتھوں میں اسے بھیج دوں گا۔۔”””
تیرہ سالہ اذان یہ سچائی سُن کر ساکت رہ گیا جبکہ وہ دونوں بلند آواز میں اپنی اپنی اصلیت سامنے لا رہے تھے جہنیں سُن کر شدید نفرت سے وہ ان دونوں کو دیکھتا تیزی سے اس گھر سے باہر بھاگا اور جب نیلوفر کو احساس ہوا تو وہ فرید کآردال کو نفرت سے گھورتی ہوئی اسکے پیچھے بھاگی۔۔۔
“”اذان میرے بچے رک جاؤ۔۔۔”””
نیلوفر اسے بھاگتے ہوئے دیکھتی چیختی ہوئی اسے رکنے کے لیے کہنے لگی۔۔۔
“”مجھے آج کے بعد بیٹا کبھی مت بلائے گا اور میرا پیچھا بھی مت کرئیے گا ورنہ میں اپنی جان لے لونگا۔۔”””
وہ ابھی صرف تیرہ سال کا تھا مگر اتنا بڑا غم ملنے کی وجہ سے وہ آج تیرہ سال سے زیادہ کا لگ رہا تھا وہ شدید نفرت سے اپنی ماں سے کہتا آگے بڑھا۔۔۔
“””بیٹا وہ سب جھوٹ ہے وہی تُمھارا سگا باپ ہے وہ اس وقت نشے میں ہے۔۔۔”””
نیلوفر اسے صفائیاں دیتی ہوئی کہنے لگی۔۔۔
“””جھوٹ وہ نہیں آپ بول رہی ہے نیلوفر خاتون کیونکہ وہ اگر سچ میں میرے بابا ہوتے تو کبھی مجھے نفرت کی نگاہ سے نہ دیکھتے اور نہ آپ کبھی انکی جگہ کسی اور کو دیتے۔۔۔”””
وہ شدید نفرت سے اسے گھورتے ہوئے کہ کر اپنے قدم آگے کی طرف بڑھانے لگا تو نیلوفر آگے بڑھی اور اسے کندھوں سے پکڑ کر روکتی ہوئی نم آنکھوں سے اسے دیکھنے لگی اسے پہلے اپنے سوا کسی سے محبت نہیں تھی مگر اب وہ اپنے اس بیٹے سے بہت زیادہ محبت کرتی تھیں اسکی دوری برداشت بھی نہیں کر سکتی تھی تو اسے کیسے خود سے دور ہونے دیتی۔۔۔
“””بیٹا مجھے چھوڑ کر مت جاؤ ہاں وہ شخص تُمھارا باپ نہیں ہے۔۔۔تُمھارا باپ تو زاور سلطان ہے۔ جو میرے شوہر کا ڈرائیور تھا۔بیٹا تُم بالکل اپنے باپ کی طرح خوبصورت اور غصے کے تیز ہو۔مگر ایک دن میرے شوہر کو زاور اور میرے چکر کا پتہ چلا۔ تو اسنے تمھارے باپ کو مار دیا۔ بیٹا تمھارا باپ مجھ سے بے حد محبت کرتا تھا۔۔۔”””
اذان فرید اپنی ماں کی آنکھوں میں جھوٹ دیکھ وہ استہزایہ انداز میں ہنسا وہ اب اتنا سمجھدار ہو چکا تھا کہ اسے لوگوں کی آنکھیں اور چہرہ پڑھنا آگیا تھا۔۔
“””جھوٹ پھر جھوٹ اور کتنا جھوٹ بول کر مجھے غلط ثابت کرے گی اب میرے راستے میں آپ آئی نہ تو میں بھول جاؤ گا کہ آپ میری ماں ہے۔۔۔؟؟؟
وہ شدید نفرت سے کہتا اُسے دیکھے بغیر تیزی سے سامنے سے آتی بس پر چڑھ گیا نیلوفر وہی ساکت نظروں سے ہارے ہوئے انداز میں اپنے بیٹے کو ہمشیہ کیلئے خود سے دور جاتا ہوا دیکھنے لگی۔۔۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
“””حال””””
“””اتنا سب کچھ ہوا میری فیملی کے ساتھ اور میں انجان رہی میرے دل میں میرے بھائی کےلئے نفرت بھی اس نے ڈالی جس نے میری پرورش کی۔ جس نے مجھے ایک کامیاب آفیسر بنایا۔ تو کیا وہ بھی انہیں لوگوں کے ساتھ ملا تھا۔جس نے میرے مما بابا اور بھائی کو مارا ہے۔کیا وہ بھی۔ اس عورت کے ساتھ ملا ہوا تھا۔۔؟؟؟
کیوان کآردال نے جب ماضی کی باتوں سے نکل کر نازلی کی جانب دیکھا جو سب کچھ سننے کے بعد
روتی ہوئی بولی۔۔۔
“””ہو سکتا ہے مس آفیسر کیونکہ وہ عورت بہت بڑی شاطر کھلاڑی ہیں اور تُمھیں کس نے اتنے سالوں اپنے پاس رکھا ہے۔۔۔؟؟؟
کیوان کآردال نے کہا اور آخر میں اس شخص کے متعلق پوچھنے لگا جس نے نازلی کو اس گھر سے باہر نکالا تھا۔۔۔
“””آفیسر جمال کے بابا نے۔۔۔”””
نازلی کے کہنے پر کیوان کآردال کو لگا کچھ تو گڑبڑ ہے کیونکہ آفیسر جمال کا نازلی کے آس اور رہنا اور اسکے فلیٹ میں رہ رہنا کیوان کآردال کو اب اسے سمجھ میں آ رہا ہے کہ وہ کیوں رہ رہا ہے۔
“””مس آفیسر پتہ کروں کہ آفیسر جمال کے باپ نے ایسا کیوں کیا تھا مجھے پکا یقین ہے یہ بھی ملا ہوگا اگر ایسا ہے تو آپکا اس فلیٹ میں رہنا خطرے سے خالی نہیں ہے۔۔”””
وہ سنجیدگی سے نازلی کو کہتا آخر میں فکر مندی سے کہنے لگا۔۔۔
“””میں پتہ کر لوں گی اس وقت تُم میرے بھائی کے بارے میں پتہ کرو وہ کہاں ہے۔۔؟؟؟
نازلی نے کہا تو کیوان کآردال نے اسے دیکھا۔۔۔
“””سلطان بے کی مجھے فکر نہیں ہے مجھے فکر اُس لڑکی کی ہے جو ان کے ساتھ ہے پتہ نہیں وہ کس حال میں ہوگی اور وہ لوگ کون ہے انکے بارے میں ہمیں پتہ کرنا چاہیے اس وقت کیونکہ سلطان بے اپنا خیال خود رکھنا جانتا ہے۔۔۔”””
کیوان کآردال کے لہجے میں فرغام سلطان کے لیے محبت اور فکر تھی جسے نوٹ کر کے نازلی یہ سوچ کر مسکرائی کہ چلو اتنے سال اسکا بھائی اکیلا تو نہیں تھا اتنے سارے پرخلوص لوگ تھے اسکی زندگی میں جن سے وہ محبت کرتا ہے اور وہ لوگ اس سے کرتے ہیں۔۔
