Ishq E Zulmat By Sumyia Baloch Readelle50177 Episode 27
No Download Link
Rate this Novel
Episode 27
“ہاں یہ میری خفیہ کال کھوٹری ہے تُمھیں کیا لگا سلطان بے کو تُم نے بند کیا ہے.
تو تُم سب سے بڑی بے وقوف ہو تُم ان تین سالوں سے بے وقوف بن رہی تھیں میرے ہاتھوں کی کھٹ پٹلی بن کر ناچ رہی تھیں۔
اور تُمھیں کچھ سمجھ میں بھی نہیں آیا کہ میں نہیں تُم میرے اشاروں پر ناچ رہی ہوں۔”
سرد لہجے میں کہتا وہ آرزو کو خوفزدہ کر گیا پھٹی آنکھوں سے صرف اُسے دیکھ رہی تھی جو سامنے کھڑا شاید اُسے دیکھنا بھی کوئی گناہ سمجھ رہا تھا۔
“وو۔وہ نیوز چینل اس پر سلطان بے تُمھاری خودکشی کی خبر کیا وہ بھی جھوٹ تھا۔؟
وہ اُسکی جانب دیکھتی ہوئی اُن سب چیزوں کے بارے میں پوچھنے لگی جس کی وجہ سے وہ شاید دھوکا کھا چکی تھی۔
“ہاں سب کچھ فریب تھا تُمھیں جال میں پھنسانے کیلئے میں نے اور مسٹر مافیا نے یہ جال بچھایا تھا تُم تین سال سے ہمارے ساتھ رہ رہی تھی تُمھیں زرا سا بھی شک ہونے نہیں دیا تھا ہم نے کہ ہم تُمھیں اپنے سونے کے پنجرے میں قید کرنے کیلئے یہ سب کر رہے ہیں نفرت کا ڈراما صرف تُمھیں دھوکا دینے کیلئے مسٹر مافیا اور میرے پلان کا حصہ تھا ورنہ ہم آج بھی پہلے کی طرح ایک دوسرے کو چاہتے ہیں۔”
استہزایہ نظروں سے اُسے دیکھتے ہوئے ازلی سرد مہر لہجے میں کہنے لگا۔
“ہاہاہاہاہاہاہا سلطان بے تُم اپنی بیوی کی موت کا بدلا مجھ سے لینا چاہتے ہو۔”
” تو آؤ اور مجھے جان سے مار دوں کیونکہ تُمھارے ہاتھوں سے مرنا تو میری خوش قسمتی ہے کسی اور کے ہاتھوں مرنے سے زیادہ سکون محبوب کے ہاتھوں سے مرنے سے زیادہ ملتا ہے۔”
وہ اچانک سے زور سے ہنستے ہوئے کہنے لگی فرغام سلطان اُسکی بات پر آگ بگولہ ہو کر آگے بڑھا مگر پھر کچھ سوچ کر ٹھہر کر اُسے بغور دیکھنے لگا۔
“شٹ اپ میری بیوی کا نام مت لینا وہ زندہ ہے مجھے یقین ہے لیکن میں تُمھیں سزا تو دے کر رہوں گا مگر اپنے ہاتھوں سے تُمھیں کبھی موت نہیں دوں گا۔
بلکہ میں تُمھیں ہاتھ بھی نہیں لگاؤں گا کیونکہ میں تُمھاری اس خوش قسمتی کو بد قسمتی میں بدلنا چاہتا ہوں۔”
“تُمھاری موت سکون سے نہیں بے سکونی سے ہوگی اتنا تڑپوں گی تُم کہ خود تُم خود کو پاگل بن کر مارنے کیلئے دن رات بے چین رہوں گی۔”
خطرناک لہجے میں کہتا وہ اپنی سرمئی آنکھوں میں وہی تاثر لیے جو وہ اپنے دشمنوں کے لئے اپنی آنکھوں میں لاتا تھا آرزو کو تڑپا کر رکھ گیا۔
“نہیں سلطان تُم مجھے ماروں اپنے ہاتھوں سے تُم میرے نہیں ہو سکتے تت۔تو میرا تُمھارے ہاتھوں سے مرنا ہی صحیح رہے گا۔”
“میں نہ اپنے دشمنوں کو کبھی موقع دیتا ہوں اور نہ کبھی ان سے اُنکی خواہشات پوچھتا ہوں میں ایک بے رحم درندہ ہو۔”
“میں ظالموں کیلئے ایک خطرناک مونسٹر بن جاتا ہوں تُم نے اپنی ہوس کی وجہ سے ایک معصوم لڑکی جو میرے اس پھتر دل میں آکر بس چُکی ہے ،تُم نے اُسے اپنی ہوس کی وجہ سے ہرٹ کیا اُسے کئی بار نقصان پہنچایا۔”
” کبھی پول میں پھینکا تو کبھی آگ میں جھونکا تھا یہاں تک تُم نے ہمیں جدا کرنے کیلئے ہم پر جادو کروایا تو میں تُمھیں کیسے آسان موت دوں ہممممم۔؟
“تُم تو بے سکونی سے تڑپ تڑپ کر مروں گی مگر میرے ہاتھوں سے نہیں بلکہ اُسی بھٹی میں جل کر تُم مروں گی جس میں تُم نے میری روحی کو دکھا دیا تھا۔”
وہ تین سال پہلے ہوئے حادثے کو سوچتے ہوئے شدید نفرت سے کہنے لگا آرزو پھٹی آنکھوں سے اُسے دیکھ رہی تھی کیونکہ یہ سب اُسنے بڑی چالاکی اور
احتیاط سے کیا تھا تو سلطان بے کو کیسے پتہ چلا ان سب کے بارے میں۔
“تُم یہی سوچ رہی ہوگی نا کہ یہ سب مجھے کیسے
پتہ چلا۔؟چلو میں تُمھیں تین سال پہلے جو ہوا تھا
وہ سب ایک ایک کر کے بتاتا ہوں اور یہ سب مجھے کیسے پتہ یہ بھی تُمھیں پتہ چل جائے گا۔”
وہ اُسکی جانب دیکھتے ہوئے کہنا شروع ہوگیا اور
تین سال پہلے جو اُسنے کیا تھا نفرت سے اُسے بتانے
لگا۔آرزو خوف سے کانپتی اُسکی باتیں سُننے لگی
اُسنے شاید اُسے ہلکے میں لیا تھا وہ بھول گئی تھی
جسکے ساتھ وہ یہ گیم کھیل رہی ہے وہ ایک ظالم انسان ہے اگر اُسے اس گیم کے بارے میں پتہ چلا تو وہ اُسے زندہ نہیں چھوڑے گا۔
🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥
وہ سچ میں مر رہی تھی سانسیں بُلبلے کی صورت میں پول میں اُس طرف اوپر جا رہیں تھیں جہاں وہ ڈوب رہی تھی سبز آنکھوں کے آگے اندھیرا چھا رہا تھا۔
دوسری طرف فرغام سلطان گاؤں سے ابھی باہر نہیں نکلا تھا کہ اُسے کسی اُنہونی کا شدت سے احساس ہونے لگا اپنے دل کو وہ یکدم سے تیزی سے ڈھرکتے ہوئے محسوس کرنے لگا تو اپنا سیل فون جیب سے نکال کر وہ حویلی کا نمبر ڈائل کرنے لگا۔
مگر تین چار بیل کی بعد بھی کسی نے کال ریسیو نہیں کیا تو وہ سخت پریشانی سے کار واپس موڑ کر رش ڈرائیونگ کرتا حویلی کی جانب بڑھا۔
“روحی جاناں تُم کہاں ہوں۔”
فرغام سلطان جب اپنے پورشن میں داخل ہو کر زور زور سے روحین کو آوازیں دینے لگا جب کوئی جواب ناپاکر وہ تیزی سے اپنے اور اُسکے روم کی جانب بڑھا مگر وہاں اُسے ناپاکر وہ روم سے باہر نکلا اور ڈھرکتے دل کے ساتھ اُسے پوری حویلی میں ڈھونڈنے لگا۔
جب سوئمنگ پول ایریا میں پہنچا تو سوئمنگ پول میں بلبلے بنتے ہوئے دیکھ وہ جہاں کھڑا تھا وہی ساکت کھڑا کا کھڑا رہ گیا پھر ہوش میں آتے ہی وہ تیزی سے آگے بڑھا اور سوئمنگ پول کے اندر کھود کر ماہر تیراک کی طرح تیراکی کرتے ہوئے اُس جانب بڑھا جہاں وہ شاید مشکل سے سانس لے رہی تھی۔
وہ پانی کی گہرائی کو چھیڑتا جب اُسکے پاس پہنچا تو اُسے کسی قیمتی اثاثے کی طرح کندھوں سے پکڑ کر اُسکی بند آنکھوں کو دیکھنے لگا جو شاید گھٹن کی وجہ سے بند ہوگئے تھے اور یہ اُسکے لیے بلکل بھی ٹھیک نہیں تھا تبھی یکدم سے یہ خیال آتے ہی اُسکا دل خوف کے باعث تیزی سے ڈھرکنیں لگا کہ اگر اُسے کچھ ہوگیا تو وہ اُسکے بنا کیسے جیے گا یہ سب سوچتے سوچتے اُسکی سرمئی آنکھیں نم ہونے لگی۔ وہ ڈیول جو کبھی کسی سے نہ ڈرتا تھا آج ایک لڑکی کی سانسوں کو دھیمے چلتے ہوئے دیکھ ڈر گیا تھا اُسکے مضبوط جسم میں جیسے رونگھٹے کھڑے ہو گئے تھے۔ دل میں اُسے کھونے کے ڈر سے ایک طوفان سا اٹھنے لگا تھا آنکھیں نم ہوکر سُرخی میں بدل گئی تھیں تبھی اچانک سے وہ اُسکے ساکن لبوں پہ جھکا اور اُسے سی پی آر کی مدد سے جگانے کی کوشش کرنے لگا۔
جب اُسے اُسی طرح بہیوش دیکھ وہ تیزی سے اُسے لیے اوپر کی طرف بڑھا اور اُسے پول سے باہر نکال کر اُسے پھر سے سی پی آر دینے لگا ابکی بار اُسکی پلکیں ہلنے لگی۔
“روحِ جان تُم ٹھیک ہو۔؟
اور یہ جب تُمھیں تیرنا نہیں آتا تو تُم کیوں سوئمنگ پول میں گئی تھی ہاں اگر تُمھیں کچھ ہو جاتا ڈیم اٹ تو میرا کیا ہوتا ہاں۔؟
جب اُسکی آنکھیں کھولی تو وہ اُسکے نازک وجود کو اپنی مضبوط باہوں میں بھر کر اُسے سینے میں بھینچ کر وہ بے خودی سے اُسکی پیشانی کو چھو کر اُسے پکارنے لگا۔
“میں پول میں سوئمنگ کیلئے نہیں گئی تھی سلطان۔”
روحین ارزو کی سچائی چھپا کر نظریں نیچے جھکا کر بولی وہ نہیں چاہتی تھی کہ اُسکا سلطان اُس لڑکی کے پاس جائے۔
وہ اُسے خطرے کی گھنٹی لگی تھی اسکی نظروں سے ایسا لگ رہا تھا یا تو وہ خود کو برباد کرے گی یا پھر اُسے۔
“تو پھر روحی جاناں تُم پول میں کیا کر رہی تھی۔؟
فرغام سلطان نے اُسکے رخسار پر ہاتھ رکھ کر پوچھا۔
سس۔سلطان میں گر گئی تھی مم۔مجھے تو لگتا ہے ہماری محبت کو کسی کی نظر لگ چکی ہے۔”
وہ نظریں اوپر اٹھا کر اُسے دیکھتی ہوئی بولی تو اسکی بات پر فرغام سلطان زور سے قہقہہ لگا اٹھا۔
“ہوں کم آن مائے ڈارلنگ یہ نظر وظر کچھ نہیں ہوتا یہ تُمھارا وہم ہے تم پھسل کر گری ہو جاناں ڈس یور فالٹ کسی کی نظر نہیں لگی۔”
وہ ہنستے ہوئے اُسکی جانب دیکھتے ہوئے کہنے لگا تو وہ اسکی بات پر ہاں میں سر ہلانے لگی۔
“ہمممم شاہد آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں سس۔سلطان ویسے آپ واپس کیوں آئے ہیں۔
آپکا تو وہاں جانا بے حد ضروری ہے۔”
روحین اُسے اپنے اوپر جُھکے دیکھ حیرت سے آنکھوں کو پھیلا کر اُسے دیکھتی ہوئی پوچھنے لگی۔
“روحی جاناں تُم نے آواز دیا تھا مجھے تو میں کیسے واپس چلا جاتا ہمممم۔؟
“اور میری یہاں موجودگی کی اصل وجہ یہ میری ڈھرکنیں ہے جو مجھے کچھ غلط ہونے کی سگنلز دے رہیں تھیں اور شاید تُمھاری سانسوں کی ڈوری نے مجھے اپنی جانب کھینچا ہے جو میں یہاں ہو تُمھارے پاس۔”
وہ اُسکی نم لبوں کو چھوتا گھمبیر آواز میں گویا ہوا۔
“کک۔کیوان وہ آپکے لیے اہم نہیں ہے کیا۔؟
وہ اُسکی حرکت پر اٹکتی ہوئی پوچھنے لگی۔
“سب سے پہلے تُم ہو جاناں میری زندگی میں اور کسی کا مقام یہاں نہیں ہے۔”
مخمور نظروں سے اُسے دیکھتے ہوئے اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر بوجھل لہجے میں کہنے لگا تو روحین اُسکی بات پر اور نظروں میں جزبوں کی گرماہٹ پر سٹپٹاتی ہوئی نظریں چرانے لگی۔
“پھر بھی سل۔”
وہ اُسکی جانب دیکھنے سے گریز کرتی ہوئی بول رہی تھی کہ اچانک اُسکے لبوں پر انگلی رکھنے پر وہ چپ ہوگئی۔
“ششششش جانم زیادہ باتیں مت کروں تُمھاری سانسیں ابھی بھی درست نہیں چل رہی چلو میں تُمھیں اندر لیکر چلتا ہوں تُم شاید اندر کچھ بھتر فیل کر سکوں۔”
وہ انگلی سے اب اُسکے لبوں پہ پول کے پانی کو صاف کرتے ہوئے گھمبیرانہ لہجے میں کہتا اُسے اپنی باہوں میں بھر کر اٹھاتے ہوئے اُسے لیکر پول ایریا سے باہر نکلا دوسری طرف آرزور جو وہی یہ دیکھنے معلوم کرنے کیلئے آ رہی تھی کہ
وہ مر گئی ہے یا ابھی تک زندہ ہے مگر سامنے سے اُس دشمن جاں کے مضبوط باہوں کے حلقے میں روحین کے نازک وجود کو دیکھ وہ نفرت سے اپنی مٹھیاں کھسنے لگی اُنکے قریب آنے پر وہ جلدی سے چھپ گئی اور اپنی سرخ آنکھوں سے انہیں گھورنے لگی۔
🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥
“اماں یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں ہوش میں تو ہے آپ یہ کیسی بچکانہ باتیں کر رہی ہے آپ اس دولت میں اُسے کس خوشی میں حصہ دے رہی ہیں.؟
جبکہ اس پوری دولت پر صرف کیوان عائشہ گل اور میری بیٹی کا حصہ ہے پھر آپ یہ نا انصافی کیوں کر رہی ہیں وہ باہر کا ہے۔”
اپنی ماں کی بات پر ہارون صاحب نے سفاکیت سے آج اپنے چہرے پر لگے اچھائی کا ماسک ہٹا کر اپنی ماں کو شاکڈ کر دیا وہ پھٹی آنکھوں سے اپنے بیٹے کو دیکھنے لگی جو غصے سے لال پیلا ہوکر سامنے بیٹھا انہیں ہی دیکھ رہا تھا۔
دولت نے اُسے لالچی بنا دیا تھا یا وہ پہلے سے ہی لالچی تھا یہ وہ اندازہ نہیں لگا پا رہی تھی ہاں انکے چہرے پر فرغام سلطان کےلئے نفرت دیکھ وہ ڈرنے لگی۔
“ہارون بچے یہ تُم کیسی باتیں کر رہے ہو وہ بھی ہمارا بچہ ہے خون الگ ہونے سے اسکا یہ مطلب نہیں وہ باہر کا ہوا ہمارے لیے وہ میرے لیے تُم لوگوں سے بھی بڑھ کر ہے۔”
” پتہ ہے وہ کیوں میرے لیے تُم لوگوں سے بڑھ کر ہے۔ کیونکہ تُم صرف نام کے بیٹے اور بھائی ہو وہ پرایا ہو کر مجھے اپنی سگی نانی مانتی ہے۔
تُمھاری بہن کو وہ اپنی سگی بہن کی طرح چاہتا ہے اُسکے مرنے کے بعد وہ پورے ایک سال تک سنبھلا نہیں تھا۔
آج وہ اتنا ظالم ہے تو صرف اپنی آپا کی موت کی وجہ سے اور اپنے پورے خاندان کے بکھرنے کی وجہ سے ہے۔ ہنہہہہہ تُم کہتے ہو وہ باہر کا ہے۔
وہ میرے لیے میرے نواسے میرے بیٹے کی طرح ہے بلکہ ان رشتوں سے بھی بڑھ کر ہیں۔”
ہارون بچے تُم نے آج اپنی لالچ کی وجہ سے اپنے چہرے پر لگی یہ اچھائی کا ماسک اتار کر بتا کر اچھا کیا ورنہ مجھے کبھی پتہ نہیں چلتا کہ میرا بیٹا کتنا بڑا گھٹیا انسان ہے۔”
وہ ٹھہر ٹھہر کر ہارون صاحب سے کہنے لگی جو بیزاری سے یہ سب سننے لگا ایسا لگ رہا تھا اسے فرغام سلطان کا نام اسکی باتیں سخت ناگوار گز رہی ہیں۔
“میں کچھ نہیں جانتا ماں یہ دولت صرف کیوان عائشہ گل اور میری بیٹی کو ملنا چاہیے کسی غیر کو اس میں حصہ داری مجھے منظور نہیں ہے۔”
وہ یکدم سے اپنی جگہ سے اٹھتے ہوئے بولے فرغام سلطان جو اندر داخل ہو رہا تھا وہ اندر کی باتیں سن چکا تھا وہ اندر داخل ہونے کے بعد نانی کی جانب دیکھنے لگا جو دکھ سے اپنے بیٹے کو دیکھ رہی تھیں وہ آگے بڑھا اور انکے کمزور بوڑھے ہاتھوں کو پکڑ کر وہ انکی نم آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہنا شروع ہوگیا۔
“مجھے دولت کی چاہ نہیں ہے آپ میرے سر پر اسی طرح سایہ بن کر رہیں میں بس یہی چاہتا ہوں۔
رہی دولت کی بات تو میرے پاس اس سے بھی زیادہ
ہے مجھے اور کا حوس نہیں ہے ہارون صاحب کی طرح نانی جان آپ یہ کیوان کآردال اور عائشہ گل اور انکی بیٹی کو دے دیں مجھے اس جائیداد سے کوئی غرض نہیں ہے۔”
وہ ہارون صاحب کی جانب دیکھتے ہوئے اپنے ازلی سرد مہر لہجے میں کہنے لگا۔
جنکی وجہ سے اس بوڑھی اور عزیز ہستی کو تکلیف پہنچی جسے وہ بہت زیادہ چاہتا ہے یہ سوچ کر اسکا خون کھولنے لگا اسکا دل چاہنے لگا کہ سامنے کھڑے شخص کا گلا گھونٹ دے۔
“سلطان بچے میں یہ اپنی خوشی سے آپکو دینا چاہتی ہو پتہ ہے آپکے پاس سب کچھ ہے لیکن میں پھر بھی آپکو وہ سب دینا چاہتی ہو جو میں اپنے سب بچوں کو دے رہی ہو۔”
وہ فرغام سلطان کی جانب دیکھتی ہوئی کہنے لگی۔
ہارون صاحب اُنکی بات پر پھٹی آنکھوں سے اُنہیں دیکھنے لگے۔
“اماں۔”
ہارون صاحب کو یکدم سے لگا کہ یہ جائیداد انکے ہاتھوں سے نکلنے والا ہے اسی لیے وہ اپنی ماں کو مخاطب کر بیٹھے۔
“ہارون بچے مجھے کچھ نہیں سننا۔”
اُنہوں نے سخت تیوریاں چڑھا کر ہارون صاحب کو خاموش کروایا۔
“نانی جان آپکی محبت میرے لیے میری دولت ہے مجھے سچ میں کچھ نہیں چاہیے دولت کی مجھے سچ میں چاہ نہیں ہے.”
یہ دولت انسان کا سب سے بڑا دشمن ہے اگر آپ نہیں چاہتی ہے کہ میرے اور ہارون صاحب کے درمیان اس دولت کی وجہ سے دشمنی پیدا ہو تو آپ اب یہ دولت کا قصہ نہیں چھیڑے گی۔”
وہ اُنکا ہاتھ چھوڑ کر خفگی سے اُن سے گویا ہوا تو وہ خاموشی سے اُسے دیکھنے لگی جبکہ ہارون صاحب نفرت سے اسکی چوڑی پشت کو دیکھ رہے تھے اور جب انکی نظریں اپنے بیٹے پر پڑی تو وہ ہار گئی۔
“فرغام سلطان اگر آپ مہرین اور ہمیں اپنا سمجھتے ہیں تو آپ انکار نہیں کرے گے اگر آپ نے انکار کیا تو میں سمجھوں گی آپ ہمیں چاہتے نہیں ہے یہ بس وقتی لگاؤ ہے یا ہمدردی جو آپ ہم پر ظاہر کرتے ہیں۔”
اُنکی بات پر فرغام سلطان بے بس نظر اُن پر ڈال کر نا چاہتے ہوئے بھی اپنا سر ہاں میں ہلا گئے ہارون صاحب یہ دیکھ غصے سے وہاں سے نکل گئے یہی سے اُنکے دل میں فرغام سلطان کیلئے نفرت پیدا ہوا لالچ نے انکے دل و دماغ پر ایسا قبضہ کیا کہ انکا دل فرغام سلطان کو اپنے راستے سے ہٹانے کیلئے مچلنے لگا۔
🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥
رات کے بارہ بجے آرزو سب سے چوری چھپے حویلی سے
باہر نکلی سلطان روحین کو یہاں آئے ہوئے ایک ہفتہ ہوگیا ہے اور اس بیچ آرزو نفرت میں سلگتی اپنے گاؤں کی بدنام زمانہ عورت کے پاس زیادہ وقت گزارنے لگی تھی۔
“آرزو ڈارلنگ تُم اس وقت یہاں خیریت۔”
اپنے گھر میں رات کے بارہ بجے اُس خوبصورت لڑکی کو دیکھ کر وہ سخت حیران رہ گئی جس سے اسکی دوستی کو ابھی صرف ایک ہفتہ ہوا ہے۔
“عاصمہ میرا دل جل رہا ہے دماغ اُن دونوں کو دیکھ پھٹنے کے قریب ہے میں اب اُنہیں ایک ساتھ نہیں دیکھ سکتی ہو یار بتاؤ میں ایسا کیا کروں وہ میرا ہو جائے۔”
آرزو اُسکے ساتھ والی کرسی پر بیٹھ کر بے بسی سے اپنے دل کو مسلتی ہوئی بولی۔
جبکہ اتنی جلدی اپنے شکار کو خود جالی میں پھنسنے
کیلئے بیتاب ہوتے ہوئے دیکھ وہ عورت دل ہی دل میں خوش ہوگئی جو اس گاؤں میں ایک آوارہ عورت کے نام سے مشہور تھی وہ لگ بھگ تیس سال کی عورت تھی جو اسی طرح نوجوانوں کو ورغلا کر اپنے کام نکلواتی ہے۔
“آرزو ڈارلنگ تُم کس کی بات کر رہی ہو مجھے کچھ بھی سمجھ میں نہیں آ رہا ہے ہماری دوستی کو ایک ہفتہ ہوگیا ہے مگر میں تُمھارے بارے میں۔ زیادہ نہیں جانتی اسی لیے مجھے بتاؤ وہ کون ہے جس کے لیے تُم اتنا تڑپ رہی ہوں ۔؟؟
وہ خود کو ایسے دیکھانے لگی جسے اِس دنیا میں آرزو کی ہمدرد صرف وہی ہے۔
“سلطان میرا عشق میری اولین چاہت جسے مجھ سے وہ چھین رہی ہے جو مجھ سے بلکل بھی برداشت نہیں ہو رہا۔”
آرزو جزباتی انداز میں کہنے لگی۔
“ہوں یہ عشق کا معاملہ ہے۔”
چلو میرے ساتھ میں تُمھیں ایک ایسی جگہ لیکر چلتی ہو جہاں سے تُم خالی ہاتھ نہیں نکلوں گی۔”
عاصمہ اچانک سے اٹھتی ہوئی بولی تو آرزو اپنی جگہ پر بیٹھی اُسے پھٹی آنکھوں سے دیکھنے لگی جو سامنے کھڑی اسے اٹھنے کیلئے کہہ رہی تھیں۔
🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥
“کیا یہ درست ہے جو میں کرنے جا رہی ہو۔؟؟
آرزو دل میں اپنے رقیب کیلئے نفرت لیے عاصمہ کی باتوں کو سوچنے کے بعد اب وہ رات کے دو بجے اُسکے ساتھ چوری چھپے اپنے گاؤں کے ایک بلیک میجک کروانے والے بابا ٹائم آدمی کے پاس آئی تھیں۔
وہ اس وقت جس جگہ پر کھڑی تھی وہاں کافی تاریک تھیں وہ عاصمہ کے ساتھ اس غار میں داخل ہوئی تو ایک لمحے کو اسکی ٹانگوں نے اُسکا ساتھ نہیں دیا۔
“کیا ہوا آرزو ڈارلنگ تُم رُک کیوں گئی۔
کیا تُم اپنی دشمن سے پیچھا نہیں چھڑانا چاہتی ہو۔؟؟
عاصمہ کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر پوچھنے پر وہ بُری سے چونکی۔
“ہاں میں چاہتی ہوں کیا یہ کرنا ٹھیک ہے۔؟
وہ ابھی کشمکش میں تھی اُسے سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ اُسے آگے بڑھنا چاہیے یا سلطان کو بھول کر موؤ آن کرنا چاہیے۔
“ڈارلنگ پیار کو پانے کیلئے سب کچھ جائز ہے۔یہ تو پھر
ایک چھوٹی سی کوشش ہے اگر تُم ہار مان کر پیچھے ہٹ جاؤ گی تو وہ جیت جائے گی۔
کیا تُم اپنے سلطان کو کھونا چاہتی ہو۔؟؟
وہ اُسکے چھوٹے سے کچے زہن میں اپنی شاطرانہ باتوں کے زہر انڈیلنے لگی۔
“نہیں بلکل بھی نہیں۔”
وہ اُسکی بات پر تڑپ کر جلدی سے بولی۔
“تو پھر کیوں تُم اپنا وقت ضائع کر رہی ہوں صحیح غلط سوچ کر وہ اُسے لیکر چلی جائے گی اگر تُم نے یہ کر کے اُسے نہیں روکا نہ تو ڈارلنگ وہ ہمیشہ کیلئے اُسکا ہو کر رہ جائے گا تُم اس بارے میں جب تک سوچو میں اندر سے ہوکر آتی ہو۔”
وہ مزید اُسے ورغلاتی ہوئی بولی تو وہ سوچ میں پڑھ گئی اور عاصمہ اُسے سوچ میں چھوڑ کر تیزی سے غار کے اندر چلی گئی۔
“ہوں آج بڑے لوگ ہمارے چھوٹے سے غریب خانے میں آئے ہیں ۔”
جب وہ غار کے اندر داخل ہوئی تو سامنے بیٹھے شخص نے اُسے دیکھ کر اپنے رال ٹپکاتے ہوئے کہا۔
“ششششش بدبخت میں اپنے اور تُمھاری ہوس کو پورا کرنے کیلئے ایک نئی شکار کے ساتھ آئی ہو اگر تُمھاری بات اُسنے سن لیا تو وہ ہمارے ہاتھوں سے نکل جائے گی۔”
عاصمہ شدید غصے سے آگے بڑھی اور اُسکے منہ پر سختی سے اپنے ہاتھ جماتی ہوئی اُسے ہلکی آواز میں کہنے لگی۔
“ٹھیک ٹھیک ہے میں زور سے نہیں بولتا ویسے اس بار تو تُم نے کسی حسین بلا کو پھنسایا ہے نا اور کم عمر تو ہے ناں وہ اگر وہ ایک تیس سال کی پکی عمر کی عورت نکلی ناں تو میں تُمھاری اصلیت اُسے بتا دونگا کہ تُم کیا چیز ہو۔”
وہ آدمی اُسکی بات پر ہلکی آواز میں بولا پھر یہ سوچ کر اُسکے منہ سے رال ٹپکنے لگا کہ آج پھر اُسکی رات رنگین ہونے والی ہے۔
“خود دیکھ لو کہ اس بار میں نے کس بلا کا شکار کیا ہے۔”
وہ ایک آنکھ خباثت سے دبا کر بولی۔
“ٹھیک ہے دیکھ لیتے ہیں جاؤ اُسے اندر لیکر آؤں۔”
وہ آدمی کمینگی سے کہتا اُسے باہر جانے کا کہتا خود
سامنے بیٹھ گیا۔
“کمینے بڑے بے صبرے ہو رہے ہو۔”
عاصمہ کمینگی سے آنکھ دباتی ہوئی بولی اور پھر تیزی سے باہر نکلی پھر تھوڑی دیر بعد اُسکے ساتھ ایک کم عمر بلا کی حسین لڑکی کو آتے ہوئے دیکھ اُس آدمی کی آنکھیں اُس حسین بلا سے ہٹنے سے انکاری ہوگئی عاصمہ کے گلا کنہار نے پر وہ تیزی سے سیدھا ہو کر بیٹھا۔
“روحین مجھ سے میرے سلطان کو چھینا ہے نا تُم نے اب میرا سلطان خود تُمھیں خود سے دور کرے گا تُم تڑپوں گی اُسکے لیے اور تڑپ تڑپ کر مر جاؤ گی۔
جبکہ آرزو سلطان کو آنکھوں میں بسائے یہ دیکھیں بغیر کہ سامنے بیٹھا شخص اُسکے نازک سراپے کو کس زاویے سے دیکھ رہا ہے روحین کو اپنے دل میں مخاطب کرتی ہوئی نفرت سے کہنے لگی۔
🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥
