Rate this Novel
Episode 1
⭐⭐⭐
“کتنی عمر میں تُم نے فرغام سلطان کے لیے کام کرنا شروع کیا تھا۔۔؟؟
میز کے دوسری جانب بیٹھا ایک خوبصورت مگر خطرناک گینگ ٹیم کا نوجوان جو اُسے اپنی معنی خیز نظروں سے گھور رہا تھا اُسکی بات پر تھوڑا سا آگے ہوا۔
“اوہ ونڈر فل لیڈی آپ نے کیا یاد دلا دیا شاید میں اُس وقت فرغام بے کے لیے کام کرتا تھا جب مجھے اپنا یہ حسین فیس بھی دھونا صحیح طرح سے نہیں آتا تھا۔۔”
اُسکی بات پر وہ شرارت سے آنکھ ونک کرتا کہنے لگا۔
“شٹ اپ جسٹ شٹ اپ یہ مزاق کا وقت نہیں ہے مت بھولو کے تُم اس وقت کہاں اور کس حال میں ہو تمہاری ایک بے وقوفی تُمھیں موت کے گھاٹ اتار سکتی ہے.”
وہ جانتی تھی سامنے بیٹھا شخص فرغام سلطان کا رائٹ ہینڈ ہے اور ایک نمبر کا شاطر اور شارپ مائنڈ کا مالک،اسی لیے تو سب اُسے شارپ شوٹر کے نام سے جانتے تھے۔۔
“ونڈر فل لیڈی آپ پولیس والے اتنے آدم بیزار کیوں ہوتے ہیں میں یہاں یہ سوچ کر آیا تھا کہ انجوائے کروں گا بٹ یہاں آکر تو میں بور ہو رہا ہوں آپ تو ایک نمبر کی بدمزاج لگ رہی ہیں مجھے ڈارلنگ۔۔اتنی بھی بدمزاجی اور آدم بیزاری ٹھیک نہیں ہے آپکا یہ خوبصورت چہرہ کسی دن مرجھا جائے گا اگر آپ اسی طرح بدمزاج رہیں تو۔۔۔میری مانیں میرے ساتھ کچھ پل انجوائے کریں آپ ہو سکتا ہے میں آپ کے لیے خوش بخت ثابت ہو جاؤں۔۔”
وہ بے باک انداز میں اُسکے نازک سراپے کو دیکھتے ہوئے معنی خیزی سے بولا تو اُسکی نظروں کو اپنے اوپر محسوس کرتی وہ اُسے سخت نظروں سے گھور کر یکدم سے اٹھی۔۔
“لگتا ہے اب تُمھارے ماتھے پر ہراسمینٹ کا بھی ٹیگ لگانا پڑے گا مسٹر فلرٹی باز۔۔”
وہ اُسکے پاس آکر اُسے سختی سے کالر سے پکڑ کر اٹھاتے ہوئے سنجیدگی سے کہنے لگی تو اُسکے بے حد قریب آنے پر وہ شرارت سے اپنی ایک آنکھ کو ونک کرتا اپنے دونوں ہاتھ اُسکی نازک کمر کے گرد لپیٹ کر اُسے مزید اپنے نزدیک کرتا بے باکی سے اُسکے رخساروں کو چھونے کی گستاخی کر بیٹھا۔۔
“یہ تُم کیا کر رہے ہو خبیث انسان چھ۔۔چھوڑوں مجھے۔۔”
وہ اُسے ایک ہاتھ میز کے پاس لے جاتے ہوئے دیکھتی سخت غصے سے جیسے انگارے چباتی ہوئی بولی۔
“ونڈر فل لیڈی ابھی تو کہا تھا میں نے کہ میں یہاں صرف انجوائے کرنے کے لیے آیا ہوں اور اس وقت بھی میں وہی کر رہا ہوں۔۔”
گھمبیر آواز میں کہتا وہ اُسے اچانک جھٹکے سے پیچھے میز کے اوپر گرا کر خود آگے بڑھنے لگا اور وہ اُسکو اپنی طرف آتے ہوئے دیکھتی سخت آگ میں جلنے لگی اور خود کو کوسنے لگی کیونکہ اس وقت وہ اپنے گھر میں تھی اور اپنی ٹیم کو بنا بتاۓ وہ اس خطرناک شخص کو اپنی انڈر کر کے اس سے انوسٹیگیشن کر رہی تھی۔
“خبر دار جو ہوشیاری کرنے کی کوشش کی تُم نے تو میں تُمہارا سر اڑا دو گی۔۔”
اُسے معنی خیز مسکراہٹ لبوں پہ سجا کر ہاتھ دائیں جانب بڑھاتے ہوئے دیکھ وہ محتاط ہوکر جلدی سے اپنا ریوالور نکال کر اُسکے آگے کرتی غرا کر کہنے لگی۔
“ونڈر فل لیڈی فلحال میں کسی ہوشیاری کے موڈ میں نہیں ہوں بس بوریت دور کرنے کے لیے دو سُوٹے لگانا چاہتا ہوں کیا اجازت ہے۔۔؟”
میز پر رکھے سگریٹ کے ڈبے کو اٹھا کر شرارت سے ایک آنکھ ونک کرتا وہ مسکراتے ہوئے کہنے لگا۔
“بکواس بند کرو یہاں میرے گھر میں سگریٹ پینے کی اجازت کسی کو نہیں ہے سمجھے اور تُم جیسے جاہل اور بدتمیز انسانوں کے لئے میں نے دیوار پر نوٹ بھی لگایا ہے تاکہ انہیں پتہ چل سکے کہ سگریٹ صحت کے لیے۔۔”
وہ اُسے ڈھیٹوں کی طرح سگریٹ لبوں سے لگا کر آنکھیں موند کر مزے سے کش لگاتے ہوئے دیکھتی غصے سے سامنے دیوار کی طرف اشارہ کرتی ہوئی بولی۔۔
“وہی لکھا ہوگا جو ہر جگہ لکھا ہوتا ہے مائے ونڈر فل لیڈی کہ سگریٹ پینا یہاں سخت منع ہے یہ صحت کے لیے مُضر ہے مگر ڈینجرس لیڈی اس وقت تو مجھے تُم میری صحت کے لیے مُضر لگ رہی ہو۔۔”
سگریٹ کے کش لگاتے ہوئے وہ اُسکے آگے جھکا اور دھواں اُسکے حسین چہرے پر چھوڑ کر معنی خیزی سے کہنے لگا۔
تو اُسکی حرکت پر وہ سخت چتونوں سے اُسے گھورنے لگی۔
“ونڈر فل لیڈی تمھیں کس بے وقوف نے اتنا بڑا آفیسر بنایا ہے چچ چچ چچ افسوس ایک بہادر پولیس لیڈی ایک سڑک چھاپ غنڈے سے ڈر گئی۔۔۔”
وہ اُسکے آگے رکھے سگریٹ کو اٹھا کر بولا جو کچھ دیر پہلے ہی اُسے گرفتار کرتے ہوئے اُسنے اسکی تلاشی کے وقت لیا تھا۔
“ہنہہہہہ تُم اور سڑک چھاپ غنڈے۔۔۔” وہ اُسے غصے سے گھورتی ہوئی بولی۔۔
“ونڈر فل لیڈی شکر کرو اس وقت میں صرف ایک سڑک چھاپ غنڈے کا کردار ادا کر رہا ہوں اگر میں شارپ شوٹر کے روپ میں آگیا ناں تو آپ فرش پر گری ہوتیں اور یہاں بلکل یہاں ایک گول سوراخ ہوتا۔۔”
وہ میز پر کہنیوں کے بل بیٹھی اٹھنے کی کوشش کر رہی تھی کہ اُسے اپنے دائیں اور بائیں جانب ہاتھ رکھ کر اوپر جھکتے ہوئے دیکھ وہ سٹپٹا کر واپس نیچے گری۔۔تو وہ اپنی انگلی اسکی پیشانی کے بیچ میں رکھ کر معنی خیزی سے بولا۔
“”یہ دھمکیاں کسی اور کو دینا میں ایسی دھمکیوں سے نہیں ڈرنے والی سیدھے طریقے سے بتا دو تمھارا باس اس وقت کہاں چھپا ہے؟ورنہ۔۔””
وہ اُسکی انگلی کو اپنی پیشانی سے ہٹا کر سختی سے مڑورتی ہوئی پوچھنے لگی تو وہ اس حملے پر طنز یہ مسکرایا پھر ایک ہی جھٹکے میں اُسے میز پر گرا کر وہ اُسکے اوپر جھکا۔۔۔
“”ونڈر فل لیڈی جیسے تُم سرکار کی وفادار ہو اسی طرح میں اپنے بے کا وفادار ہوں تُم نے اگر مجھے مار بھی دیا ناں تو میں تب بھی تمھیں اپنے بے کا پتہ نہیں بتاؤں گا۔۔””
اُسکے ہاتھوں کو سختی سے اپنے ایک ہی ہاتھ میں پکڑ کر وہ اپنے پینٹ کے جیب سے انجکشن نکال کر سنجیدگی سے کہنے لگا۔۔۔
“یہ تُم کیا کر رہے ہو چھ۔۔۔چھوڑو مجھے۔۔۔””
اُسکے ہاتھوں میں انجیکشن دیکھ وہ غصے سے ہاتھ پیر مارتی ہوئی چیخنے لگی مگر وہ اپنے اصل روپ میں آ چکا تھا
شارپ شوٹر کے روپ میں۔۔۔
وہ ایک ظالم ڈیول تھا۔
اُسے کسی معصوم انسان۔۔
کسی جانور۔
کسی عورت۔
کسی بچے پر رحم کرنا نہیں آتا تھا۔
تو بھلا وہ ایک خوبصورت لیڈی آفیسر پر کیسے رحم کھا سکتا تھا۔۔
وہ بے دردی سے انجیکشن اُسکے کندھے پر مار کر پیچھے ہٹا تو اُسکے پیچھے ہٹتے ہی وہ اپنی آنکھوں کو بھاری ہوتا ہوا محسوس کرنے لگی پھر دیکھتے ہی دیکھتے وہ ہوش کی دنیا سے بے بہرہ ہوگئی۔۔۔
🌚🌚🌚🌚🌚🌚🌚🌚🌚🌚🌚🌚🌚🌚🌚🌚
“””آہہہہہہ….”””
اُسے پانچ آدمیوں نے پکڑا ہوا تھا کیوں کہ وہ فرغام سلطان کا ایک طاقتور آدمی تھا اُسے ہینڈل کرنا فرغام سلطان کو آتا تھا اور اس وقت اُسے مشکل سے وہ پانچوں آدمی سنبھال رہے تھے جو انکی گرفت سے نکلنے کے لیے خود کو چھڑوا رہا تھا۔۔
“”””کیوان کآردال تُم ایک لڑکی سے ہار کر بے شرموں کی طرح یہاں مرنے کے لیے کیوں آئے ہو بتاؤ اب میں تمھیں
کیا سزا دوں ہممممم۔۔۔۔؟؟؟
سامنے تھری پیس سوٹ میں ملبوس کھڑا شخص اپنا کوٹ نکال کر پیچھے کھڑے آدمی کو پکڑا کر اپنے کف لنکس کھولتے ہوئے سرد لہجے میں پوچھنے لگا۔۔۔
“”””سلطان بے وہ لڑکی معمولی لڑکی نہیں ہے وہ ایک آفیسر ہے آپ کیسے اپنے منہ بولے بھائی کو سزا دے سکتے ہیں۔۔؟؟
کیوان کآردال نے درد کی پرواہ کیے بغیر چلاتے ہوئے کہا۔۔
“””تُم میرے اگر سگے بھائی بھی ہوتے ناں تب بھی میں تمھیں سزا دینے سے نہیں گھبراتا کیوان کآردال۔۔۔””
وہ اُسکے قریب پہنچ کر اُسے گردن سے پکڑ کر غرایا تو اُسکے قریب آنے پر وہ پانچوں آدمی کیوان کآردال کو چھوڑ کر دور ہوگئے تھے کیونکہ فرغام سلطان ڈی بلیک مون اِیول کیوان کآردال کو ایک ہی ہاتھ سے ہینڈل کرنا جانتا تھا اُسے کسی کی ضرورت نہیں تھی اپنے آدمی کو سنبھالنے کے لئے وہ خود ہی کافی تھا۔۔۔
“”سچ میں آپ ایک بلیک مون اِیول ہے سلطان بے۔۔۔””
کیوان کآردال نے اُسکی سرمئی دہشت طاری کرتی آنکھوں میں آنکھیں گاڑ کر کہا۔۔۔
“””تُم جانتے تھے تو پھر کیوں ایک لڑکی کے ہاتھوں پکڑے گئے ہاں۔۔۔؟؟؟
اُسکی شہ رگ کو زور سے دباتے ہوئے وہ خطرناک لہجے میں اُس سے پوچھنے لگا۔۔
“””میں نے کہا ناں سلطان بے وہ لڑکی ایک آفیسر ہے ڈرپوک معصوم لڑکی نہیں ہے جسے میں ڈرا کر آرام سے اُسکی انفارمیشن لے کر آپ کے پاس لوٹتا وہ ایک سخت مزاج آفیسر ہے اسی لیے میں پکڑا گیا لیکن میں آپکا رائٹ ہینڈ ہوں تو کیسے
آپکے بارے میں اُسے بتاتا اسی لیے موقع ملتے ہی میں نے اُسے بے ہوش کر دیا لیکن آپ تو مجھے سزا دے رہے ہیں اپنے منہ بولے بھائی کو سلطان بے یہ تو غلط ہے پلیز مجھے ان رسیوں سے آزاد کر دیں پلیز۔۔۔””
کیوان کآردال اُسے سب کچھ بتا کر آخر میں رسیوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہنے لگا تو اُسکی بات سُن کر فرغام سلطان نے اُسکے ایک ہاتھ کو سختی سے پکڑا اور اپنا دوسرا ہاتھ پیچھے کھڑے آدمی کے سامنے کر کے اسے اشارہ کرنے لگا۔وہ سمجھ کر تیزی سے پیچھے رکھے ہتھیاروں میں سے ایک چاقو اٹھا کر اُسکے ہاتھ پر رکھتا پیچھے اپنی جگہ پر جا کھڑا ہوا،تو فرغام سلطان نے اُس چاقو پر گرفت سخت کی اور بغور کیوان کآردال کی جانب دیکھا جو حیرت سے پھٹی آنکھوں سے چاقو کو دیکھ رہا تھا۔۔۔
“”کیوان کآردال تُم نے یہ نظر انداز کر کے غلطی کر دی تھی کہ وہ آفیسر ایک عورت تھی تُم اُسے آسانی سے مار سکتے تھے لیکن تُم نے اُس پر رحم کیا اگر تُم نے رحم نہیں کیا ہوتا ناں تو شاید آج تم اپنی ایک انگلی کو نہ گنواتے۔۔۔””
بے دردی سے اُسکی چھوٹی انگلی کو کاٹتے ہوئے وہ بے رحم لہجے میں کہتا اُسکی کٹی انگلی کو دور اچھالتا ہوا چاقو نیچے پھینک کر پیچھے مڑا اور اپنے منہ بھولے بھائی کی چیخوں کی پرواہ کیے بنا سامنے ہتھیاروں کے پاس رکھے اپنے سیاہ دستانے اٹھا کر اپنی دہشت وہاں چھوڑ کر نکلتا چلا گیا۔۔۔
“”س۔۔سلطان بے تُم سچ میں ایک اِیول ہو تمھارے دل میں کسی کے لیے رحم نہیں ہے یہ میں آج اچھے سے جان گیا ہوں لیکن میری پھر بھی ایک دعا ہے کہ تمھیں جلد ایک ایسی عورت سے عشق ہو جائے جو تمھیں بدل کر رکھ دے۔۔””
کیوان کآردال کو جب اُن پانچوں آدمیوں نے کھولا تو وہ نیچے گر کر اپنی کٹی انگلی کو دیکھتا ضبط سے اپنے درد کو چھپا کر اپنے دل میں کہتا آخر میں دعا کرنے لگا۔۔۔
جو شاید جلد پوری ہونے جا رہی تھی اُس ڈیول کو ایک ایسی لڑکی سے عشق ہونے والا تھا جو ایک نازک اندام سی معصوم لڑکی تھی۔۔۔
🌚🌚🌚🌚🌚🌚🌚🌚🌚🌚🌚🌚🌚🌚🌚🌚
“”روحین میم آپ گھبرا رہی ہیں۔۔؟؟
آئینے میں نظر آتے حسین شہزادی کے چہرے پر گھبراہٹ دیکھ بالوں پر کنگی کرتے ہاتھ رک گئے تب ہی اُس شہزادی کی آنکھیں اوپر اٹھیں اور آئینے میں اپنے پیچھے کھڑی کنیز پر جاکر رکیں جو پریشانی سے اُسے ہی دیکھ رہی تھی۔۔
“نینی کیا وہ سچ میں آ رہی ہے۔۔۔؟؟
اسکی بھوری آنکھوں میں چھپا ڈر پیچھے کھڑی اُسکی کنیز صاف محسوس کر سکتی تھی۔۔
“جی روحین میم وہ آج شام لندن کے فلائیٹ سے سیدھا ترکی ہمیشہ ہمیشہ کیلئے واپس آ رہی ہے۔۔””
اُسکی کنیز نے واپس سے اُسکی سنہری زلفوں کو سنوارتے ہوئے کہا اُسکی بات پر اُسنے ڈر سے اپنے گلابی ہونٹوں کو بھینچا۔۔
“”نینی آج بابا جان بہت خوش ہوں گے ناں اُسکے آنے کی خوشی میں۔۔۔؟؟
وہ پیچھے مڑ کر اپنی کنیز کے ہاتھ تھام کر تکلیف سے پوچھنے لگی۔۔
“”””روحین میم آپ یہ سب مت سوچیں آپ بس اپنے آنے والے وقت کو سوچیں کل آپکا کالج میں پہلا دن ہے ناں تو آپ اُس بارے میں سوچیں۔۔۔”
نینی کی بات پر وہ اٹھی اور اپنی نم آنکھوں کو صاف کرتی اچانک سے مسکرانے لگی کیونکہ وہ اچھے سے جانتی تھی کہ نینی اُسے کتنا چاہتی ہے اگر وہ اسی طرح پریشان رہی تو اسے دکھ ہوگا اور وہ یہ نہیں چاہتی تھی۔
بھلے اس گھر میں وہ ایک شہزادی کی سی زندگی گزار رہی تھی مگر حقیقت میں اس گھر کی شہزادی تو صرف وہ تھی جو آج پورے چار سال بعد واپس آ رہی تھی۔۔
“”نینی آپ پلیز مما کو مت بتائیے گا کہ میں رو رہی تھی ورنہ وہ اپنے سارے کام چھوڑ کر بابا سے لڑنے آ جائیں گی آپ جانتی ہیں ناں وہ کتنا چاہتی ہیں مجھے۔۔””
وہ آئینے کی طرف رخ کر کے کھڑی ہو کر اپنی آنکھوں سے آنسو صاف کرنے لگی تو نینی اُسکی بات پر مسکرانے لگی تبھی بیڈ کے سائیڈ ٹیبل پر رکھا اُسکا فون چیخ اٹھا۔۔
“”ہیلو واٹ یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ وہ تو اوکے میں ابھی آتی ہوں آپ پلیز اُسکا دھیان رکھیں میں وہاں پہنچتی ہوں۔۔۔””
نینی کے فون تھامنے پر وہ فون کان سے لگا کر دوسری طرف موجود شخص کی باتیں سُن کر حیرت کے عالم میں چیخ اٹھی۔۔
“”نینی آپ جاکر ڈرائیور سے کار نکالنے کا بولیں مجھے کہیں ارجنٹ جانا ہے۔۔””
وہ چہرے پر سخت پریشانی لائے اور آنکھوں میں ڈر لیے نینی سے بولی۔۔
“روحین میم آپ کہاں جا رہی ہیں وہ بھی رات کے دو بجے؟اگر فرقان صاحب کو پتہ چلا تو وہ غصہ کریں گے۔””
نینی اُسکے رات کے دو بجے باہر نکلنے پر سخت پریشان ہوگئی تھی۔۔
نینی مجھے جانا ہوگا ورنہ وہ بابا کو میرے خلاف ورغلائے گی اگر میں آج اُسکے پاس نہیں گئی تو۔۔۔آپ فکر مت کریں میں جلد لوٹ کر آجاؤں گی۔۔۔””
وہ اِنہیں کہہ کر تیزی سے روم سے باہر نکل گئی پیچھے نینی اُسے آوازیں دیتی رہ گئی مگر وہ رکی نہیں اور اس محل نما گھر سے باہر نکل کر اپنی کار کی جانب بڑھی۔۔۔
🌚🌚🌚🌚🌚🌚🌚🌚🌚🌚🌚🌚🌚🌚🌚🌚🌚🌚
“واہ سلطان بے کیا شراب ہے جب بھی میں تمھیں بُلاتا ہوں تُم کچھ نہ کچھ لے کر آتے ہو آج یہ جام لا کر تُم نے تو اس دنیا کی باتوں پر ایک زور دار تھپڑ مار دیا۔۔۔””
یہ ترکی کے ایک عالیشان ہوٹل کے وی آئی پی روم کا منظر تھا ڈنر ٹیبل پر دس کے قریب آدمی بیٹھے تھے اور اُن میں صرف وہ نمایاں نظر آ رہا تھا۔۔
وہ سیاہ تھری پیس میں ملبوس ہمیشہ کی طرح چہرہ ماسک سے ڈھکے ہوئے تھا اُسکی صرف بڑی بڑی خمدار پلکوں والی خواب ناک آنکھیں نظر آ رہی تھیں دائیں آنکھ کے نیچے ایک گہرا کٹ تھا جو اُسکی خوبصورتی کو چھپا کر اُسکی دہشت کو اجاگر کر رہا تھا۔۔۔
“”فرید صاحب سلطان بے کیوں دنیا کو تھپڑ ماریں گے آپ بھی نہ بہت مذاق کرتے ہیں بھلا سلطان بے دنیا کو صرف تھپڑ کیوں ماریں گے وہ تو دنیا کو آگ بھی لگا سکتے ہیں اُنکی دہشت سے شاید اب تک انجان ہیں آپ۔۔۔””
اُسکا رائٹ ہینڈ شارپ شوٹر جو اُسکے پیچھے کھڑا تھا وہ غصے سے سامنے بیٹھے فرید الماس کو گھورتے ہوئے سرد لہجے میں کہنے لگا۔۔۔
“”بس…”””
یکدم سے روم کی فضا میں ایک دہشت طاری کرتی آواز گونجی تو شارپ شوٹر خاموش ہوگیا اور ہاتھ باندھ کر اُسکے آگے جا کھڑا ہوا۔۔۔
“”ہم جس کام کے لیے یہاں آئے تھے وہ کرو یہ بےکار کی باتیں بند کر دو ورنہ میں کیا کرنے کی اہلیت رکھتا ہوں یہ تُم سے بہتر کوئی نہیں جانتا ۔۔۔””
سرمئی آنکھیں فرید الماس کو گھور رہی تھیں جن سے وہ سخت بے چین ہو کر پہلو بدلنے لگا ۔۔
“”اوکے باس۔۔۔””
اُسکا رائٹ ہینڈ اُسکے آگے سے ہٹا اور روم سے باہر نکلا۔۔۔
“سلطان بے یہ ڈنر پارٹی میں نے صلح کیلئے ارینج کی ہے میں اب خون خرابہ نہیں چاہتا تمھارا کیا خیال ہے ہمیں یہ جنگ بند کر دینی چاہیے یا یونہی جاری رکھنی چاہیے۔۔۔؟؟
فرید الماس نے اپنے چہرے سے پسینہ صاف کرتے ہوئے کہا جو مقابل کے ڈر کی وجہ سے بہہ رہا تھا۔۔۔
“”اتنی جلدی ڈر گئے تُم فرغام سلطان کی دہشت سے۔۔۔””
طنزیہ انداز میں کہتا وہ اپنے سیاہ دستانے نکالنے لگا۔۔۔
“”میں تُم سے کیوں ڈروں گا اور یہ تمھارے ہاتھوں پر خون کیوں لگا ہے کیا تُم ہر وقت اسی طرح قتل کر کے گھومتے ہو۔۔۔؟؟
جب فرید الماس کی نظریں اُسکے سفید ہاتھوں پر لگے خون پر پڑیں تو وہ دہشت کے مارے لرزتے ہوئے کرسی سے اٹھا اور ڈرتے ہوئے انگلی اُسکے ہاتھوں کی طرف کرکے پوچھنے لگا۔۔
“”مجھے پسند ہے اس طرح گھومنا پوچھو گے نہیں فرید الماس کہ یہ کس کا خون ہے۔۔؟؟؟
اپنے دونوں ہاتھ اوپر اٹھا کر اُسے دیکھتے ہوئے وہ خطرناک لہجے میں پوچھنے لگا۔۔۔
“”کک۔۔۔کس کا۔۔۔؟؟؟
فرید الماس تو خون دیکھ کر سمجھ چکا تھا کہ یہ کس کا خون ہو سکتا ہے اسی لیے وہ لرزتے ہوئے اُس سے پوچھنے لگا۔۔۔
“”کیوان کآردال۔۔جانتے ہو ناں یہ کس کا نام ہے فرید الماس۔؟؟
یہ نام سُن کر فرید الماس حیرت سے اُسے دیکھنے لگا۔۔
“”شارپ شوٹر۔۔۔””
فرید الماس کے منہ سے یہ نام نکلا تو ماسک کے پیچھے چھپے اُسکے ہونٹ مسکرا اٹھے۔اُسکی سرمئی آنکھوں میں بھی وہ مسکراہٹ صاف فرید الماس کو نظر آئی۔۔
“”ہاں میرا رائٹ ہینڈ شارپ شوٹر۔۔یہ خون اُسی کا ہے۔۔۔””
فرید الماس کو گھورتی آنکھیں اب پُراسرار انداز میں چمکنے لگیں اور قدم فرید الماس کے قریب تر ہونے لگے فرید الماس اُسے اپنے قریب آتے ہوئے دیکھ ڈر کر پیچھے کی طرف بڑھنے لگا۔۔
“”اے رک جاؤ ہمارے باس کے پاس پہنچنے سے پہلے تمھیں۔۔””
فرید الماس کے خاص بندے نے اٹھتے ہوئے لرزتے قدموں کو بمشکل اٹھاتے ہوئے اُس تک پہنچ کر بیٹھی ہوئی آواز میں کہا،
جبکہ باقی لوگ ڈر کی وجہ سے اپنی اپنی جگہوں پر بیٹھے تھے کیونکہ فرغام سلطان کی دہشت سب پر طاری ہو چکی تھی بھلا وہ کیسے ہمت کرتے اسکے پاس جانے کی جو ایک چلتا پھرتا طوفان تھا۔۔
“”تو اب مجھے ایک معمولی سا دو ٹکے کا کمزور گارڈ روکے گا۔۔۔؟؟””
وہ اُسے دیکھتے ہوئے سرد لہجے میں کہتا تیزی سے آگے بڑھا اور نفرت سے اُسکی آنکھ میں اُسنے وہ نوک دار چاقو گھسایا جو وہ اپنے ساتھ لایا تھا۔۔
وہی چاقو جس سے اسنے کیوان کی انگلی کاٹی تھی۔۔۔
“”سلطان بے نن۔۔۔نہیں میرے قریب مت آؤ۔۔۔””
فرید الماس کا آدمی نیچے گر کر بُری طرح سے تڑپتا ہوا اپنے ضائع ہوچکی خون ابالتی آنکھ کو مسل کر چیخنے لگا اور اسکے اسطرح مسلنے کی وجہ سے گرم خون آنسوؤں کی طرح اُسکے گالوں پر گر رہا تھا۔۔۔
جبھی فریدالماس سمیت دوسرے بندے اس کا انجام دیکھ اندر تک لرز چکے تھے۔
“”فرید الماس لڑکیوں کی طرح رونا بند کرو تُم ایک مافیا ہو اور اس لائن میں مرنا تو ہر کسی کو پڑتا ہے آج تم مر رہے ہو کل کو ہو سکتا ہے میری موت بھی آجائے۔۔۔””
وہ چاقو ہاتھ سے صاف کرتے ہوئے سرد لہجے میں کہتا نظریں اس پر ڈالے بغیر آگے بڑھنے لگا۔۔۔
“””سلطان بے مم۔۔۔۔مجھے جانے دوں۔۔۔۔””
فرید الماس فرغام سلطان کے نزدیک آنے پر اپنے دونوں ہاتھ جوڑ کر بُری طرح سے رو کر لرزتے ہوئے اُس کے آگے اپنی موت کی بھیک مانگنے لگا۔۔۔
“”فرید الماس تمھاری موت تمھیں مبارک…”””
مگر اُس اِیول نے کیوان کآردال جیسے طاقتور گینگ کے خاص آدمی کو معاف نہیں کیا تھا تو فرید الماس کس گنتی میں آتا تھا بھلا۔۔۔
اچانک سے اس نے چاقو فرید الماس کی شہ رگ میں گھسایا تو فرید الماس کی گردن سے خون فوارے کی صورت میں اُسکے ماسک سے ڈھکے چہرے پر آگرا۔۔۔
“”چچ چچ چچ جس شراب کا تُم پوچھ رہے تھے اُسکی قیمت تُم یہ چکاؤ گے فرید الماس تمھیں بلکل بھی پتہ نہیں تھا۔۔۔ اور تم جانتے ہو تمھارے لیے یہ شراب میں کہاں سے لایا تھا۔۔۔؟؟
وہ اُسے نیچے گرا کر اذیت سے تڑپتا ہوا دیکھ کر پیچھے ٹیبل سے ٹیک لگا کر کھڑا ہوا پوچھنے لگا۔۔۔ اور پھر اپنے خون آلود ہاتھوں سے اُس چمکتے گلاس کو اٹھاکر بغور دیکھا جس میں کچھ دیر پہلے اُسکی لائی شراب فرید الماس کے لیے ڈالی گئی تھی
“”””یہ شراب۔۔۔جو دنیا میں ریڈ وائن کے نام سے مشہور ہے۔۔ تمھارے اُسی جاسوس کے خون سے میں نے تمھارے لیے اور تمھارے ان آدمیوں کے لیے خاص بنائی تھی
جو تُم لوگوں نے بڑے ہی آرام سے پی بھی لی ہے۔۔۔””
اُسکے کہنے پر وہاں موجود فرید الماس کے آدمیوں کی حالت بُری ہونے لگی وہ سب اپنے معدوں کی عجیب ہلچل پر بُری طرح سے قے کرنے لگے اور یہ منظر دیکھ کر اچانک سے فرغام سلطان کی آنکھیں آگ اگلنے لگی۔۔۔
“”آہہہہہہہہہہ۔۔۔۔۔”””
روحین جو اپنی سوتیلی بہن کے دئیے گئے روم نمبر کے اندر داخل ہوئی، سامنے کا منظر دیکھ کر وہ پوری قوت سے چیخ اٹھی۔۔۔
“”نن۔۔۔۔نہیں۔۔۔””
روحین سفید فرش پر خون دیکھ کر صدمے کی حالت میں پیچھے کی طرف بڑھتی ہوئی اپنا سر نفی میں ہلاتی یہی کہہ رہی تھی۔۔۔
“اللہ مجھ پر رحم کریں مجھے اس ظالم قاتل سے بچائیں۔۔۔””
روحین کی نظریں جب اُس ظالم دیو پر جاکر ٹھہریں جسکے چہرے پر بھی خون لگا تھا دونوں ہاتھ خون سے رنگے ہوئے تھے یہ دیکھ کر تو وہ اور زیادہ ڈرنے لگی تھی تبھی وہ اللہ کا نام لے کر روم سے باہر بھاگی تو اپنے پیچھے ایک سرد آواز سُن کر وہ اپنے پورے وجود میں ایک سنسنی خیز لہر کو شدت سے ڈورتے ہوئے محسوس کرنے لگی۔۔۔
“”کیوان کآردال۔۔۔””
جب کیوان کآردال وہاں نہیں آیا تو وہ سپاٹ آنکھوں سے فرید الماس کے مردہ جسم کو دیکھ زور سے اُسکے وجود کو لات مار کر غصے سے اُس لڑکی کے پیچھے بھاگا۔۔۔
“””سلطان بے آپ یہاں اس حالت میں کیا کر رہے ہیں؟؟
وہ زخمی شیر۔۔۔درندے کی طرح پورے ہوٹل میں اُس لڑکی کو ڈھونڈ رہا تھا ہوٹل کے تیسرے منزل پر کیوان کآردال کو دیکھ کر وہیں رک گیا جو اُسے خون میں رنگے دیکھ سخت پریشانی سے آگے بڑھا۔۔
وہ پاگل انسان کسی سے نہیں ڈرتا تھا اسی لیے اس حلیے میں باہر آیا تھا لیکن کیوان کآردال ایک حساس شخص تھا سو وہ اسکے لیے پریشان ہوگیا کیونکہ اگر کوئی اسے اس حالت میں دیکھتا تو پولیس کو ضرور بلاتا اور یہ فرغام سلطان کے لیے ٹھیک نہیں تھا کیونکہ ترکی کی پولیس اور فوج ویسے بھی اسکے پیچھے
پڑی ہوئی تھی اگر اسکی یہاں موجودگی کا انہیں پتہ چل جاتا تو ہو سکتا تھا وہ آج ہی اُسے جان سے مار ڈالتی۔۔
“کیوان کآردال کہاں مر گئے تھے تُم۔۔۔؟؟؟
وہ اُسکے قریب پہنچ کر اُسکی وہی زخمی حصہ سختی سے پکڑ کر دباتے ہوئے خشک لہجے میں پوچھنے لگا۔تو اپنی کٹی ہوئی انگلی پر تکلیف محسوس کرتا بری طرح سے تلملا اٹھا۔۔
“”سلطان بے میں یہی تھا کہیں نہیں گیا تھا۔۔””
وہ درد سے چلا کر کہنے لگا۔۔۔
“””مجھے ابھی اور اسی وقت اُس روم کی سی سی ٹی وی فوٹیج چاہیے کیوان کآردال۔۔۔””
وہ دانتوں کو کچکچا کر اُسے اپنی سرمئی آنکھوں میں غصہ سموئے گھورتے ہوئے۔۔۔اسکی انگلی کو آخری بار زور سے دباتے ہوئے چھوڑ کر کہتا اُسے پیچھے دھکیل کر خود بھی پیچھے ہٹا۔۔۔
“”سلطان بے وہ کیوں کیا کوئی گڑبڑی ہوئی ہے۔۔۔؟؟؟
کیوان کآردال اپنے زخم حصے کو آزاد دیکھ ضبط کی گہری سانس خارج کرتا اُسے دیکھنے لگا جو اُسے سرد نگاہوں سے گھور رہا تھا۔۔۔
“””تُم سے جتنا کہا ہے اتنا کرو مجھے سی سی ٹی وی فوٹیج لاکر دو اگر زبان کٹوانے کا بھی شوق ہو رہا ہے تو بتا دو مجھے میں ابھی یہ کام کر لیتا ہوں ویسے بھی ابھی میری خونی بھوک نہیں مٹی ہے۔۔۔””
اچانک سے چاقو اُسکی گردن پر رکھ کر وہ خطرناک لہجے میں اُسے دھمکاتا ہوا مزید قریب ہوا تو وہ اُسکی بات پر خود کو اسکی گرفت سے نکال کر اپنے منہ پر ہاتھ رکھ کر الٹے قدموں سے سر نفی میں ہلا کر وہاں سے جانے لگا۔۔۔
