Ishq E Zulmat By Sumyia Baloch Readelle50177 Episode 19
Rate this Novel
Episode 19
وہ نازلی کے ساتھ وائٹ ہاؤس سے نکل رہا تھا
تبھی اُسے سلطان بے کا کال موصول ہوا جسے سُننے کیلئے وہ تھوڑا دور جا کھڑا ہوا جبکہ نازلی سامنے کھڑی اُسے دیکھنے لگی۔
اُسے سر تا پیر گہری نظروں سے دیکھتے ہوئے وہ ایک فیصلہ کر کے اُسکے واپس آنے کا ویٹ کرنے لگی اور جب وہ کال ختم ہوتے اُسکے پاس آیا تو وہ اُسے سنجیدہ نظروں سے دیکھنے لگی۔
“شادی کروں گے مجھ سے۔؟؟
نازلی کے اچانک سے پوچھنے پر وہ بھونچکا رہ گیا۔
“وہاٹ مس آفیسر یہ تُم کیا کہہ رہی ہو۔ زرا پھر سے کہنا کہی میں خواب تو نہیں دیکھ رہا میرے ہاں کہنے سے کہی میں نیند سے اٹھ نہ جاؤں ۔؟
وہ نیلی آنکھیں بڑی کیے اُس سے پوچھنے لگا۔
تو نازلی اُسکی بات پر سختی سے اُسے گھورا۔
“میں نے پوچھا تُم مجھ سے شادی کروں گے۔؟اور تُم بلکل بھی خواب نہیں دیکھ رہے ہو۔میں سچ میں تُم سے پوچھ رہی ہوں۔”
وہ دانت کچکچاتی اُس سے دوبارہ پوچھنے لگی۔
کیوان کآردال اُسکی دوبارہ پرپوز کرنے پر اپنے دل پر ہاتھ رکھتا اُسے دیکھنے لگا کہ آیا وہ خواب تو نہیں دیکھ رہا مگر نہیں وہ تو خواب نہیں دیکھ رہا وہ سچ میں اُسے پرپوز کر رہی ہے۔
“ہائے اللہ یہ سچ ہے۔اگر سچ ہے۔ تو کہی میں مر نہ جاؤں۔”
وہ اپنے سینے پر ہاتھ رکھتا شریر لہجے میں کہنے لگا۔
نازلی اُسکی بات اور سینے پر ہاتھ رکھ کر ڈراما کرتے ہوئے دیکھ سخت گیر نظروں سے اُسے گھورنے لگی۔
“مسٹر مافیا مرنے سے پہلے تُم اس کانٹریک پیپرز کو اچھے سے پڑھ کر سائن کروں۔”
وہ اُسے بیزاری سے دیکھتی ہوئی بولی۔
“کونسے کانٹریک پیپرز۔؟
کیوان کانٹریک پیپرز کا سُن کر حیرت سے اُسے دیکھتے ہوئے پوچھنے لگا۔
تو نازلی نے تندوخو نظروں سے اُسے دیکھا اور اپنے پرس سے کچھ نکالنے لگی۔
“یہ۔۔”
پرس سے ایک لفافہ نکال کر اُسکے سامنے کرتی ہوئی بولی۔تو کیوان نے آگے بڑھ کر اُسکے ہاتھ سے وہ لفافہ لے کر چاک کیا اور اندر سے پیپرز نکال کر ایک ایک
چیز کو پڑھنے لگا جو اس کانٹریک میں لکھا ہوا تھا ایک بات پر تو اُسکی آنکھیں دھنگ رہ گئیں۔
“وہاٹ مس آفیسر تُم مجھ سے شادی خوشی سے نہیں کسی مجبوری سے کر رہی ہو۔”
وہ کانٹریک پیپرز سے نظریں ہٹا کر اُسے دیکھتے ہوئے پوچھنے لگا۔
“ہاں میں تُم سے شادی صرف اپنے بھائی کی وجہ سے کر رہی ہو۔تاکہ اپنے بھائی کے پاس رہوں،اسے قریب سے جانوں۔”
وہ مطمئن نظروں سے اُسے دیکھتی ہوئی بولی۔
تو اُسکی بات پر کیوان کآردال نے پہلی بار اُسے گھورا۔
“مس آفیسر تو تُم میرا استمعال کرنا چاہتی ہو؟
وہ گہری نظروں سے اُسے دیکھتے ہوئے پوچھنے لگا۔
تو نازلی نے مسکرا کر اُسے دیکھا۔
“ہاں میں تُمھیں استعمال کرنے کے لیے تُم سے شادی کرنا چاہتی ہو۔تُمھیں کوئی پروبلم۔؟
وہ سپاٹ لہجے میں بولی۔
تو کیوان کآردال نے سخت تیوریاں چڑھا کر اُسے دیکھا۔
“ہاں مجھے بہت ساری پروبلم ہے۔”
وہ چبا چبا کر اُسے غصے سے دیکھتے ہوئے کہنے لگا۔
نازلی نے اُسے اچھنبے سے دیکھا۔
“وہ کیا۔؟
وہ اُسکی جانب دیکھتی ہوئی پوچھنے لگی۔
“یہ دیکھوں کانٹریک پیپرز پر تُم نے کیا لکھا ہے۔کہ میں تُمھیں ہاتھ بھی نہ لگاؤ۔مس آفیسر یہ بھلا کیسے ہو سکتا ہے۔جب دو جوان ایک کمرے میں ہو اور کوئی گستاخی نہ ہو۔یہ ہو ہی نہیں سکتا۔اس لائن کو کاٹوں اور یہاں لکھوں۔تُم مجھے میرے حقوق دوں گے۔مجھ سے ہر لمحہ پیار کرو گے۔مجھے دن رات چھوؤ گے۔”
کیوان کانٹریک پیپرز پر اُس طرف انگلی رکھتا اُسے دیکھانے لگا جہاں بہت سے رولز لکھے ہوئے تھے جن میں جو سب سے زیادہ سخت کیوان کو لگا وہ یہ
تھا کہ وہ اُسے چھوئے گا نہیں۔اس رول نے تو اُسے شخت آگ بگولہ کر دیا تھا۔وہ کیسے اُس لڑکی کو چھو نہیں سکتا جواُسکی محرم اور محبت بھی ہو۔وہ کیسے اُسکے قریب ہونے پر خود کو روک سکتا ہے۔
“یہ تُم کیا بکواس کر رہے ہو۔”
نازلی اُسکی بات پر سخت چتونوں سے اُسے گھورتی پوچھنے لگی۔
“یہ بکواس نہیں میڈم میری شرطیں ہیں۔ اگر تُم انہیں پورا کروں گی۔تو میں تُمھاری مانوں گا۔ورنہ کون بغیر فائدے کے کچھ کرتا ہے۔ویسے بھی آجکل لے اور دے کا زمانہ ہے۔”
کیوان معنی خیزی سے کہتا آنکھ ونک کرتا اُسے دیکھنے لگا جو اُسکی باتوں پر سلگ کر رہ گئیں تھیں۔
“یہ تُم اپنی گندی شرطیں اپنے پاس رکھوں.”
وہ خونخوار لہجے میں بولی۔
“تو تُم بھی مس آفیسر اپنی یہ آفر اپنے پاس رکھوں۔”
اُسنے سنجیدگی سے اُسکے منہ پر اُسکی آفر کو ٹھکرایا جسکی وجہ سے وہ سخت سلگتی نظروں سے اُسے دیکھنے لگی۔
“وہاٹ تُم میرے منہ پر میرے پرپوزل کو مار رہے ہوں۔”
وہ پھٹی آنکھوں سے اُسے دیکھتی ہوئی بولی۔
“ہاں۔میں تُمھاری ایسی کروڑوں پرپوزل کو تُمھارے منہ پر ماروں گا جس سے مجھے کوئی فایدہ نہ ملے۔”
وہ سنجیدگی سے اُسے دیکھتے ہوئے کہنے لگا۔
“تُم پورے کے پورے پاگل ہو ٹھیک ہے۔ پھر میں جاکر آفیسر جمال سے شادی کرتی ہو۔میں اپنے بھائی کے پاس کسی اور طریقے سے چلی جاؤ گی،مگر تُم میرا یہ پروپوزل ٹھکرا کر بہت بڑی غلطی کر رہے ہوں۔”
نازلی نے ہوشیاری سے اُسکی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھا جس سے وہ سچ میں بلبلا کر رہ گیا۔
“وہاٹ تُم اُس گنجے سے شادی کروں گی۔”
وہ آفیسر جمال کے بارے میں سُن کر سخت جیلس ہو کر کہنے لگا۔
“وہاٹ یہ گنجہ تُم نے کس کو کہاں۔؟؟
نازلی اُسکی بات پر سخت نظروں سے اُسے گھورتی ہوئی بولی۔
تو اُسے آفیسر جمال کی برائی کرنے پر کے غصہ کرتے ہوئے دیکھ وہ بھی سخت غصے سے بھڑک گیا۔
“تُمھارے لالچی دوست اور نقلی باپ کے بیٹے کو اگر تُم نے اُس سے شادی کیا یاد رکھنا۔میں تُمھاری گولڈن نائٹ والی رات آ کر اُس گنجے کو اُس جگہ گولی ماروں گا۔جسکی وجہ سے وہ گنجا تُمھارے ساتھ رات گزارنے کے لائق بھی نہیں رہے گا۔اور وہی تُمھارے سامنے صدمے سے فوت ہو جائے گا۔”
وہ شدید جلیسی کے مارے سخت نظروں سے اُسے گھورتے ہوئے سرد لہجے میں کہنے لگا۔
“آ گئے نا تُم اپنی لائن پر مسٹر مافیا۔”
نازلی تمسخرانہ نظروں سے اُسے دیکھتی ہوئی بولی۔
“تُم ایسی باتیں کروں گی تو میں پٹری سے بھی اترنے میں دیر نہیں لگاؤ گا مس آفیسر۔”
وہ زومعنی انداز میں بولا۔
“میں تُمھیں پٹری سے اترنے ہی نہیں دوں گی۔”
نازلی نے سنجیدگی سے کہا۔
“میرے سامنے تُم ٹھکوں گی بھی نہیں۔میں تُمھیں ایسی سزا دوں گا۔کہ تُم ساری زندگی مجھ سے نظریں ملانے سے گھبراؤ گی۔”
وہ گھمبیر لہجے میں بے باکی سے آنکھ ونک کرتا کہنے لگا۔نازلی اُس کی باتوں کے مفہوم جان کر شرم سے سرخ ہوتی بُری طرح سے لرزی۔
“ہیں تُم میں ہمت مجھے ہاتھ لگانے کی مسٹر مافیا۔؟
وہ چیلنجگ نظروں سے اُسے دیکھتی ہوئی پوچھنے لگی۔
“نکاح ہو جانے دوں،پھر میں تُمھیں اچھے سے بتا دوں گا کہ مجھ میں کتنی ہمت ہیں۔؟
وہ معنی خیزی سے کہتا اُسے سر تا پا شرم سے سُرخ اناری بنا گیا۔
“اوکے دیکھتی ہو.کہ تُم میں کتنی ہمت ہے۔ابھی اور اسی وقت میرے ساتھ کورٹ چلو کورٹ میرج کرنے۔”
وہ اُسکی چیلنج کو ایکسیپٹ کرتی ہوئی بولی۔
“اس وقت۔؟
کیوان کآردال کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئی جب اُسکے منہ سے کورٹ میرج کا لفظ اُسنے سُنا۔
“کیوں ڈر لگ رہا ہے کیا۔؟
وہ طنزیہ انداز میں بولی۔
“ڈر اور مجھے ہاہ میں تُمھیں ایک ہاتھ سے قابو کر سکتا ہوں۔۔۔”
وہ تمسخرانہ نظروں سے اُسے دیکھتے ہوئے کہنے لگا۔
“تو پھر ابھی کیوں نہیں کر رہے۔؟
نازلی نے بغور اُسے جانچتی نظروں سے گھورا۔
“ابھی تُم میرے لیے حرام ہو۔اس لیے۔”
کیوان نے وجہ بتا دیا۔
“تو پھر چلو مجھے حلال کرنے۔”
نازلی نے آرام سے کہا۔تو کیوان اس بات پر زور سے قہقہہ لگا کر ہنسنے لگا۔
“ہاہاہاہا ہاہاہاہا۔”
ہنستے ہنستے وہ اپنا پیٹ پکڑنے پر مجبور ہوگیا جبکہ نازلی اُسے غصے سے ہنستی ہوئی دیکھ رہی تھیں۔
“تُم ہنس کیوں رہے ہو۔؟
وہ سخت لہجے میں پوچھنے لگی۔
“تُمھاری بات پر۔”
کیوان نے ہنستے ہوئے کہا۔
“میں نے کیا کوئی جوک سنایا ہے جو تُم میری بات پر ہنس رہے ہو۔؟
وہ تیکھے لہجے میں یہ سوال پوچھنے لگی۔
“ہاں جوک ہی تو سنایا ہے تُم نے۔چلو چھوڑو اس بات کو۔ آؤ چلتے ہیں کورٹ۔تُمھیں اپنا بنانے کے بعد مجھے تُمھیں اپنی ہمت بھی تو دیکھانی ہیں۔چلو تُم رُک کیوں گئی۔”
کیوان بات کو بڑھتے ہوئے دیکھ آگے بڑھا اور اسے کلائی سے پکڑ کر باہر نکلنے لگا مگر اُسکے آگے نہ بڑھنے پر وہ رکا۔
“پہلے تُم ان کانٹریک پیپرز پر سائن کروں پھر میں چلوں گی تُمھارے ساتھ کورٹ۔”
وہ کانٹریک پیپرز کی جانب اشارہ کرتی ہوئی بولی جو کیوان کے دوسرے ہاتھ میں تھا تو کیوان اُسکی بات پر خاموشی سے اُن پیپرز پر سائن کرنے سے انکار کرتا وہ اُسے سلگا گیا۔
“میں نے کہا نہ جب تُم میری شرطیں مانوں گی میں تب سائن کروں گا۔”
کیوان کآردال نے ٹھہر کر اُسکی سرمئی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا۔
“ٹھیک ہے بتاؤ تُمھاری کیا شرط ہے۔مجھ سے شادی کرنے کے۔؟
نازلی نے سنجیدگی سے پوچھا۔
“اگر تُم شادی کی پہلی رات کو پورا کا پورا خود کو مجھے سونپ گی۔میں تب تُم سے شادی کرنے کیلئے تیار ہو؟
وہ اُسکے سر پر دھماکہ کرتا سنجیدگی سے اُسے دیکھنے لگا۔
“یہ کیسی عجیب شرط ہے تُمھاری مجھے بلکل بھی منظور نہیں ہے۔”
نازلی گلال گالوں کے ساتھ سخت نظروں سے اُسے گھورتی ہوئی بولی۔
“سوچ لو اچھے سے کیونکہ میرے ذریعے تُم اپنے بھائی تک آسانی سے پہنچ سکتی ہو۔؟
کیوان نے اُسکی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے اُسے سوچنے پر مجبور کیا۔
“ٹھیک ہے میں تیار ہو۔”
وہ سوچنے کے بعد بمشکل ہامی میں سر ہلا کر کہتی کیوان کآردال کے ہونٹوں پر مسکراہٹ سجا گئی۔
“منکرو گی تو نہیں نا۔؟
وہ اُسے کہنے لگا۔
“نہیں بلکل بھی نہیں۔”
وہ تیزی سے بولی۔
“ٹھیک بتاؤ کہا سائن کرنا ہے.؟
اور جب اُسنے اسے اس جگہ پر انگلی رکھ کر سائن کر نے کے لیے کہا تو کیوان نے خاموشی سے وہاں سائن کر کے پیپرز اُسے دئیے تو وہ اُسے دیکھتی ہوئی بولی اور اپنے قدم آگے بڑھانے لگی وہ اس وقت وائٹ ہاؤس سے باہر تھے۔اور یہاں سے کورٹ نزدیک ہی تھا اسی لیے وہ دونوں مطمئن تھے۔
ٹھیک ایک گھنٹے بعد وہ دونوں جب کورٹ میں پہنچے تب کورٹ میرج کے بعد وہ جب باہر نکل رہے تھے کہ تبھی نازلی نے اُسکی جانب دیکھا جو خاموش تھا۔
“تُم مجھے کب لیجا رہے ہو.؟
نازلی نے نظریں اس پر سے ہٹاتے ہوئے پوچھا۔
“کہاں۔؟
کیوان نے اُسکی جانب دیکھتے ہوئے سنجیدگی سے کہا۔
“میرے بھائی کے گھر۔”
نازلی نے اُس پر نظر ڈالیں کہا۔
“وہ میرا بھی گھر ہے بیوی۔”
کیوان نے زومعنی انداز میں کہا۔
“لیکن چلا تو میرا بھائی رہا ہے ناں۔”
نازلی نے سنجیدگی سے اُسے دیکھتے ہوئے کہا۔
“تُم مجھے مالک نہیں نوکر سمجھ رہی ہوں کیا۔؟
وہ شاکڈ نظروں سے اُسے دیکھتے ہوئے پوچھنے لگا۔
“نہیں بلکل بھی نہیں میں اچھے سے جانتی ہو فرغام سلطان تُمھیں اپنے بھائی کی طرح چاہتا ہے۔”
وہ سٹپٹا کر بولی۔
“اور مجھے کتنا چاہتی ہو۔”
کیوان نے بے باک نظروں سے اُسکے نازک سراپے کو دیکھتے ہوئے پوچھا۔
“تُم پاگل تو نہیں ہو۔”
وہ اُسکی بات پر سخت نظروں سے اُسے گھورتی ہوئی بولی۔
“ہاں صرف تُمھارا۔”
وہ بوجھل لہجے میں کہتا اُسے مخمور نظروں سے دیکھنے لگا تو نازلی اسکی نظروں سے سٹپٹانے لگی۔
“اففففففففف تُم سے تو بات کرنا ہی فضول ہے۔”
جھنجھلا کر کہتی وہ تیزی سے سیڑھیوں سے نیچے اترنے لگی تو کیوان اُسکی تیزی پر اُسکے پیچھے بڑھا۔
🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥
وہ دونوں کورٹ سے سیدھا اس ہوٹل میں کھانا کھانے کیلئے آئے مگر جب وہ لوگ کھانا کھا کر ہوٹل سے باہر نکلے تو اچانک سے تیز بارش نے انہیں جانے سے روکا
مجبوراً وہ رات اس ہوٹل میں رُکنے کا فیصلہ کرتے
اندر داخل ہوئے۔
“وہاٹ صرف ایک روم۔”
وہ سامنے کاؤنٹر پر کھڑے شخص کی بات پر پھٹی آنکھوں سے اُسے دیکھتی ہوئی بولی۔
کیوان اُسکے پیچھے کھڑا اس ہوٹل میں صرف ایک روم کے خالی کا سُن کر مسکرایا۔
“یس میڈم موسم خراب ہونے کی وجہ سے بہت سارے سیاح نے روم بُک کیے ہیں۔اب ہمارے پاس صرف ایک روم بچا ہے۔”
وہ شخص مسکراتے ہوئے بولا۔تو نازلی کی اُس کے ساتھ ایک ہی روم میں رہنے کا سوچ کے اُسکے پورے جسم میں سنسی خیز لہر دوڑنے لگی۔
کیا اُسنے کانٹریک پیپرز سائن کرنے سے پہلے جو اُسے اپنے ساتھ ایک رات گزارنے کیلئے شرط رکھا تھا کیا اُسکی یہ شرط آج رات پوری ہونے والی ہے۔
یہ خیال ذہن میں آتے ہی اُسکی ہتھیلیاں شرم کے باعث بھیگنے لگی۔
“مگر ہم بلکل بھی ایک روم میں نہیں رہ سکتے۔”
وہ ان خیالوں کو ذہن سے جھٹک کر تیزی سے کہنے لگی۔
“کیا آپ لوگ میاں بیوی ہے سر۔؟
کاؤنٹر کے پیچھے کھڑے شخص نے حیرت سے کیوان کی جانب دیکھتے ہوئے پوچھا۔جو کب سے خاموش کھڑا اُنکی باتیں سُن رہا تھا۔
“ہاں ہم دونوں میاں بیوی ہے۔”
کیوان نے اُس شخص کو دیکھتے ہوئے جواب دیا۔
“تو سر میڈم پھر کیوں الگ روم میں رہنے کیلئے اتنی ضد کر رہی ہے۔آپ دونوں کو تو ایک روم میں رہنا چاہیے۔؟
اُس شخص کی بات پر نازلی نے غصے سے اُسے گھورا تو وہ خاموش ہوگیا۔
“تُم زیادہ باتیں مت کروں اور مجھے روم کی کیز دوں”
وہ پھاڑ کھانے والے انداز میں بول کر اپنا نازک ہاتھ آگے بڑھا کر اُسے دیکھنے لگی۔کیوان اُسکی غصے کی وجہ اچھے سے سمجھ رہا تھا اسی لیے مسکرا رہا تھا۔
“اوکے میڈم یہ لیجئے۔”
اُس شخص نے جلدی سے ایک کارڈ نکال کر اُسکے ہاتھ پر رکھتے ہوئے کہا۔تو نازلی کارڈ پکڑ کر غصے سے اُس جانب بڑھی جہاں وہ روم تھا۔
“تُم نے بہت اچھا کام کیا یہ لو تُمھارا انعام۔”
کیوان نے اس آدمی کو ونک کرتے ہوئے کہہ کر ایک لفافہ اُسکے آگے بڑھایا جس میں کچھ رقم تھے جو اُسنے اس ہوٹل سے دور ایک اے ٹی ایم سے نکالے تھے۔
“تھینکس سر یہ تو کچھ بھی نہیں ہے۔ابھی تو بہت کچھ آپکو دیکھنے کو ملے گا۔”
اُس آدمی نے شریر نظروں سے اُسے دیکھتے ہوئے کہا تو وہ سر ہلاتا نازلی کے پیچھے بڑھا جو سیڑھیاں چڑھ چکی تھی۔
🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥
نازلی روم میں داخل ہوئی تو دروازے پر سُرخ گلاب کی پتیوں نے اُسکے اور کیوان کے قدموں کو چھوا نازلی تو نیچے اتنے سارے گلاب کی پتیوں کو دیکھ دھنگ رہ گئی جبکہ پیچھے کھڑا کیوان اس آدمی کو داد دئیے بغیر نہیں رہ سکا۔
نازلی نے پتیوں سے نظریں ہٹا کر روم میں جلتی بہت ساری موم بتیوں کو دیکھا تو ساکن رہ گئی مطلب اُسکی سوچے سچ ثابت ہونے والی ہے۔
“بیوی تُم اتنے خوبصورت پتیوں کو کیوں ہٹا رہی ہو۔؟
وہ نیچے بیٹھی اور پتیوں کو دونوں جانب کناروں پر کرنے لگی اسے یہ کرتے ہوئے دیکھ کیوان بھی نہیں بلکل اُسکے ساتھ لگ کر بیٹھا اور پتیوں کو ہٹانے کے لیے جب اُسنے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا تو دونوں کے ہاتھ آپس میں ایک دوسرے سے ٹچ ہوگئے۔
“”تُم مم۔مجھ سے پلیز دور ہو کر بات کرو۔اور مجھے ائندہ بیوی کہہ کر مت بلانا۔۔۔اور میں ان پتیوں کو اسی لیے ہٹا رہی ہو۔۔۔ کیونکہ مجھے پھولوں کی پتیوں کو قدموں سے روندنا بلکل بھی پسند نہیں ہے۔”
نازلی اپنے ہاتھ پر اُسکا لمس محسوس کرتی جھٹکے سے
اپنا ہاتھ اُسکے مضبوط ہاتھ سے دور کرتی اٹھتی ہوئی بولتی ہوئی اُس سے دور ہوگئیں۔
“یہ بہت اچھی بات ہے بیوی۔اب سے میں کسی کے پیروں تلے ان خوبصورت پتیوں کو بلکل بھی آنے نہیں دوں گا۔”
وہ بھی اٹھا اور بوجھل لہجے میں کہتا اُسے اپنی گستاخ نظروں سے دیکھنے لگا۔
“تُم نے پھر مجھے بیوی کہا۔”
نازلی اُسکے منہ سے دوبارہ بیوی لفظ سُنتی سخت نظروں سے اُسے گھورتی ہوئی بولی۔
“تو پھر کیا کہوں میں تُمھیں بیوی۔؟
وہ شریر نظروں سے اُسے دیکھتے ہوئے پوچھنے لگا۔نازلی اُسکی گستاخ اپنے وجود کے آر پار ہوتی نظروں سے سٹپٹا کر جاکر بیڈ پر بیٹھی۔
“کچھ بھی نہیں۔”
وہ اُسکی آنکھوں میں جلتے جزباتوں کے شعلوں سے ڈرتی ہوئی کہتی بیڈ پر رکھے سفید کپڑے کو بنا دیکھے اٹھا کر تیزی سے واشروم کی جانب بڑھی۔۔مگر ہوش تو اُسکے واشروم میں پہنچ کر اڑے جب اُسنے وہ ڈریس کھول کر دیکھا تو دھنگ رہ گئی۔
کیونکہ وہ ایک سفید نائٹی تھی جس کا کپڑا بہت زیادہ ہلکا تھا اگر وہ اُسے پہن لے گی تو اسکا پورا جسم آشکار ہو جائے گا۔وہ بے بسی سے اپنے سخت بھیگے کپڑوں کی جانب دیکھنے لگی۔بیمار نہ پڑنے کے ڈر نے اُسے مجبوراً وہ ڈریس پہننے پر مجبور کردیا وہ واشروم کے دیوار پر لگے بڑے سے آئینے میں خود کو دیکھنے لگی تو شرم سے سرخ گلال ہوتی اپنے ڈھرکتے دل کے ساتھ خود کو سفید نائٹی کے گاؤن میں چھپاتی لرزتی ہوئی واشروم کا دروازہ کھول کر باہر نکلی تو اُسے بیڈ پر بیٹھے دیکھ وہ تیزی سے شیشے سے بنے بالکنی سلڈیینگ کی جانب بڑھی۔
“کیا ہوا بیوی تُم یہاں اتنی ٹھنڈ میں کیوں کھڑی ہو۔؟
کیوان اُسکے پیچھے بڑھا اور بالکنی سلڈیینگ کو کھول کر اُسے بُری طرح سے کانپتے ہوئے دیکھ پوچھنے لگا۔وہ جو شرم و حیا سے نمناک آنکھوں سے باہر سیاہ تاریخی میں ڈوبے شہر کو دیکھ رہی تھی۔پیچھے اپنے بے حد قریب اُسکی بھاری آواز پر وہ سٹپٹا کر پیچھے مڑی تو اُسکی ہڑبڑی سے اُسکی نائٹی کا گاؤن کھل کر اُسکے حُسن کے سارے راز پاش کرتا کیوان کی آنکھوں کو ساکت کر گیا۔
کیوان کسی جادوئی لمحے کے زیر اثر بے ساختہ اُسکی
اور بڑھنے لگا۔نازلی اُسے اپنی طرف بڑھتے ہوئے دیکھتی گھبرا کر پیچھے قدم بڑھانے لگی۔
اور اُسی طرح دور اور قریب آنے کے اس کھیل میں وہ دونوں ایک دوسرے کے اتنے پاس آچکے تھے کہ دونوں کی گرم سانسوں نے سرد ماحول میں حشر سا برپا کرکے ماحول
کو تپش زدہ کر دیا۔نازلی جو اُس نظریں ٹکائے پیچھے قدم لے رہی تھیں۔جب وہ بُری طرح سے شیشے کی سلڈیینگ سے ٹکرائی۔تو کیوان نے ایک ہی جست میں اُسکے قریب پہنچ کر بڑی ہی شدت سے اُسکا رخ شیشے کی جانب کیا پھر اُسکے دونوں ہاتھ اُسنے اپنی ایک ہاتھ کی گرفت میں سختی سے جکڑ کر اوپر لگائے۔اور پھر دوسرے سے اُسکی نائٹی کے گاؤن کو کندھوں سے نیچے سرکا دیا جسکی وجہ سے گاؤن پھسل کر نیچے سفید ماربل کے سرد فرش پر جا گرا۔ نازلی کا چہرہ جو ٹھنڈے سلڈیینگ سے لگا تھا۔وہ اپنے کانپتے شولڈر پر اُسکے بے باک ہونٹوں کا لمس محسوس کرتیں اُسکے ہونٹ بُری طرح سے کانپنے لگے۔
“تت۔تم پلیز ابھی یہ مت کرو پلیز مجھے تھوڑا وقت چاہیے اس بارے میں سوچنے کیلئے۔”
وہ اپنی پشت پر جابجا اُسکے لمس محسوس کرتی اپنے ہاتھ اُسکی گرفت سے چھڑانے کیلئے بُری طرح سے اُسکی گرفت میں مچلتی ہوئی گھٹی گھٹی آواز میں کہنے لگی۔
“جاناں میں نے کانٹریک پیپرز پر سائن کرنے سے پہلے تُمھیں کہا تھا میں تُم سے شادی تب کرو گا۔ جب تُم اپنا آپ مجھے شادی کی پہلی رات سونپوں گی۔اور تُم نے ہامی بھی بھری تھیں خود کو مجھے سونپنے کی۔اسی لیے اب ہم میاں بیوی ہے۔اور میاں بیوی میں یہ سب جائز ہے۔”
اُسکا رُخ اپنی جانب کرتا وہ گھمبیرانہ لہجے میں کہتا۔اپنی مخمور نظروں سے اُسکے نازک سراپے کی دلکشی کو سفید نائٹی میں دیکھنے لگا۔
“میں نے ہامی صرف جان چھڑانے کیلئے بھری تھی میرا کچھ بھی ایسا ویسا کرنا کا ارادہ نہیں تھا۔”
“مگر میرا تو اس وقت بہت کچھ کرنے کا ارادہ ہے بیوی۔”
وہ اچانک سے اُسے اپنی باہوں میں بھر کر ایک ہاتھ سے سلڈیینگ ڈور کھول کر اُسے لیے روم کے اندر داخل ہوا اور مڑ کر سلڈیینگ ڈور پیر کی مدد سے بند کرتا اُسے لیے بیڈ کی جانب بڑھا اور اُسے آرام سے لیٹا کر اپنی شرٹ کے
بٹن کھول کر نیچے پھینکتا وہ اُسکے اوپر جھکا اور اپنے اور اُسکے جائز رشتے کو مضبوط کرنے کے لیے اُسکی انگ انگ میں اپنا عقیدت بھرا لمس چھوڑنے لگا۔
🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥
“اب تُم خوش ہو نا اب مجھے ہاتھ بھی مت لگانا دوبارہ ورنہ میں تُمھاری چمڑی ادھیڑ دو گی سمجھے اور میں نے تُم سے شادی صرف اپنے بھائی کو اپنے زندہ ہونے کی خبر بتانے اور اسکے ساتھ رہنے کےلئے کیا ہے۔”
صبح جب دونوں کی آنکھیں کھلی تو نازلی خود کو اُسکی مضبوط باہوں میں سمٹ کر سوتے ہوئے دیکھ شرما کر تیزی سے اُس سے الگ ہوتی ہوئی غرا کر بولی۔
“بیوی تُم کیوں بھول گئی کہ میں نے یہ شرط پورے دو سال تک کیلئے رکھا ہے اب میں جب چاہیں اپنا حق تُم سے لے سکتا ہوں تم مجھے منع نہیں کر سکتی کیونکہ اب سے تُمھارے سارے رائٹ میرے پاس ہے۔”
کیوان اُسکے اٹھنے پر اُسے جھٹکے سے اپنے اوپر گراتا معنی خیزی سے کہتا اُسکی تھوڈی کو پکڑ کر اُسکے ہونٹوں پہ جھکا۔
“میں تُمھیں جان سے مار دوں گی۔اگر پھر تُم نے مجھے چھوا تو۔”
وہ اُسکے چوڑے سینے پر اپنا ایک ہاتھ رکھتی دوسرے ہاتھ کا مکا اُسکے جبڑے پر رسید کرتی غصے سے اسے وارننگ دیتی ہوئی بولی۔
“اب جان سے تو بیوی میں تُمھیں روز ماروں گا۔”
کیوان مکا کھانے کے باوجود بھی معنی خیزی سے کہتا اُسکی پتلی کمر کو پکڑ کر اُسے اپنے بے حد قریب کرتا بے باکی سے بولا۔
“اپنی بکواس بند کرو مسٹر مافیا۔۔”
نازلی سخت گیر نظروں سے اُسے گھورتی چٹخ کر بولی۔
“مسسز مافیا میری یہ بکواس تو اب تُمھیں ساری زندگی برداشت کرنی پڑے گی رو کر یا ہنس کر جب
تک کانٹریک کی مدت ختم نہیں ہو جاتی۔تُم میری بیوی ہو۔اور میں جو چاؤ تمھارے ساتھ کر سکتا ہوں۔”
وہ نازلی کو بیڈ پر لٹا کر خود اُسکے اوپر جھکتے ہوئے گھمبیر آواز میں بولتا اُسکی تھوڈی پر اپنا لمس چھوڑ گیا۔
“شٹ اپ۔”
وہ اُسے دور دھکیل کر غرائی۔
“نو ابھی شٹ اپ نہیں صرف پیار ہی پیار ہوگا بیوی۔”
کیوان نے جھٹکے سے اُسکے دونوں ہاتھوں کو پکڑ کر کہتے ہی اُسکی بولتی بند کردی۔
“تت تُم پھر سے شروع ہوگئے چھ۔چھوڑو مجھے میری ٹرین مس ہو جائے گی۔”
نازلی اُسکی گستاخی کے ڈرامے پھر سے شروع ہوتے ہوئے دیکھ ہڑبڑا کر اُسے سینے پر ہاتھ رکھ کر خود سے دور کرتی ہوئی بولی۔
“وہاٹ ترین۔”
کیوان اُسکے استنبول واپس جانے کا سُن کر ساکت رہ گیا۔
“ہاں میں واپس جا رہی ہو استنبول۔”
نازلی اُسکی گرفت کو کمزور محسوس کر کے تیزی سے اسکی گرفت سے نکل کر نائٹی کو درست کرتی نظریں نیچے جھکا کر بولی۔
“تُم نے ٹرین کے ٹکٹ کب بُک کروائے تھے میں نے تُمھیں کال پر باتیں کرتے ہوئے نہیں دیکھا تو پھر تُم نے ٹکٹ کیسے ہائیر کیے۔؟
کیوان حیرانگی سے اُسے دیکھتے ہوئے پوچھنے لگا کیونکہ جب سے آئی تھی تب سے اُسنے اُسے فون پر کسی سے باتیں کرتے ہوئے نہیں دیکھا تھا بلکہ فون یوز کرتے ہوئے بھی نہیں دیکھا اسنے پھر کیسے اسنے ٹرین کی ٹکٹ بک کرے ہوگی۔
“جب تُم نے کال کر مجھے یہاں بلایا تھا میں نے اسی وقت آنے اور جانے کیلئے ٹکٹ بک کروائے تھے۔”
نازلی نے سنجیدگی سے کہا۔
“ٹھیک ہے اب تُم استنبول اکیلی جاؤ گی میرے ساتھ نہیں۔؟
کیوان بھی اب سنجیدگی سے اُسے دیکھتے ہوئے پوچھنے لگا۔
“ہاں میں وہاں پہنچتے ہی اپنے بابا کے پاس جاؤ گی کیونکہ ہر اتوار اور ہفتے کے دن میں وہاں چکر لگاتی ہو۔”
وہ اُسے دیکھنے سے اجتناب کرتی ہوئی بولی تو کیوان اسکے باپ کا سن کر تیزی سے بیڈ سے نیچے اترا اور اسکے پاس آکر اسے کندھوں سے پکڑ کر دیکھنے لگا۔
“بیوی مجھے تُمھارے اس نقلی باپ پر بلکل بھی اعتبار نہیں ہے تُم بھی کبھی اس پر بھروسہ مت کرنا۔ کیونکہ مجھے لگتا ہے اس نے تُمھاری پرورش صرف لالچ کی خاطر کیا ہے۔”
نازلی کی جانب دیکھتے ہوئے وہ رمیز کے بارے میں بتانے لگا جس نے نازلی کو اسکی ماں باپ بھائی کے مرنے کے بعد سنبھالا تھا۔جسے نازلی اپنا باپ بلکہ سب کچھ سمجھتی تھی۔
“تُم بنا جانے ان پر الزام کیسے لگا سکتے ہو۔”
وہ سخت نظروں سے اُسے گھورتی ہوئی بولی۔
“بیوی میں نے کب کہا میں اسے نہیں جانتا۔میں اچھے سے جانتا ہوں اس غدار رمیز کو فرغام سلطان کی وجہ سے مجھے اس ملک کے سبھی غداروں کا نام پتہ ہے کون دودھ کا دھلا ہے اور کون نہیں ہم اچھے سے جانتے ہیں۔”
کیوان نے سختی سے اُسکے کندھوں پر گرفت بڑھاتے ہوئے کہا۔تو نازلی اُسے دھکا دیتی پیچھے ہوئی۔
“تُم مجھے ڈسٹرب مت کرو میں فریش ہو کر نکلتی ہو دن کے دو بجے میری ٹرین نکلے گی۔”
وہ خود کو سنبھالتی کہتی ہوئی تیزی سے واشروم کی جانب بڑھی کیونکہ اس وقت اسے اس شخص کا بلکل بھی سامنا کرنا اچھا نہیں لگ رہا تھا وہ جب جلدی سے ریڈی ہو کر واشروم سے باہر نکلی تو اسے مخاطب کیے بغیر تیزی سے روم سے باہر نکلی۔
کیوان کآردال نے اسے خاموشی سے روم سے بھاگتے ہوئے دیکھا تو وہ اُسکے پیچھے بھاگا مگر جب وہ باہر نکلا تو وہ اُسے روم کے باہر نظر نہ آئی اور نہ ہی ہوٹل کے آخر وہ اتنی جلدی کہاں چلی گئی وہ غصے سے یہ سوچتا۔۔
غصے سے استنبول جانے کیلئے فرغام سلطان کے ہوائی اڈے کی جانب بڑھا اس وقت اسے صرف اور صرف نازلی کی فکر تھیں۔کیونکہ وہ رمیز کے بارے میں اچھے سے پتہ کر چکا تھا۔
کہ وہ کسی کے کہنے پر نازلی کو اپنے پاس رکھے ہوئے تھا مگر اسے ابھی تک پتہ نہیں چلا کہ وہ شخص کون ہوسکتا ہے جس نے نازلی کو رمیز کے حوالے کیا تھا اسکے گھر کو جلانے کے بعد۔
🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥
“نازلی اُن سب لڑکے لڑکیوں کی زندگی کا سوال ہے۔آپکو جمال کے ساتھ اُس اجتماعی شادی میں دلہن بن کر جمال کے ساتھ جانا ہوگا۔ورنہ وہ لوگ اُن لڑکوں اور لڑکیوں کو غلط کام کیلئے اسمگل کر کے لیجائے گے۔”
رمیز یحییٰ جو ایک آفیسر بھی تھے۔ جنہوں نے نازلی کو ماں اور بھائی کی موت کے بعد سنبھالا تھا اُنہوں نے نازلی سے کہا۔
نازلی آج اُن سے ملنے اس گھر میں آئی تھی جس میں اسنے اپنا بچپن گزارا تھا وہ روز اتوار یا ہفتے والے دن یہاں آتی تھی ڈنر کے لیے اور ان سے ملنے کیلئے وہ اس وقت اپنے بیٹے جمال کے ساتھ رہتے ہیں انکی بیوی کو دو سال ہوگئے ہیں یہ دنیا چھوڑے ہوئے۔
وہ تینوں اس وقت ڈائننگ ٹیبل پر بیٹھے کھانا کھا رہے تھے۔نازلی جو خاموشی سے کھانا کھا رہی تھیں۔ انکی بات پر اپنا سر اٹھا کر انہیں اور آفیسر جمال کو دیکھنے لگی۔
“سر کیا آپ نے آگے بریفننگ دی ہے اس کیس کے بارے میں کہ میں اور آفیسر جمال اسے ہینڈل کرے گے۔؟
نازلی نے سنجیدگی سے اُنکی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا۔
اُنکی اچانک سے کسی کیس پر اُسے اپنے بیٹے کے ساتھ بھیجنے پر یکدم سے اُسے کیوان کی بات یاد آئی کہ مجھے تمھارے پرورش کرنے والے باپ پر شک ہے تُم بھی کبھی اس پر یقین مت کرنا۔
“نازلی بچے اس وقت ٹیم کو بتانے سے بھتر ھمیں اُن بچوں کی جان بچانی چاہیے۔جو غریب اور یتیم ہے۔جنکا اس دنیا میں کوئی نہیں ہے۔”
رمیز صاحب نے اُسے سنجیدگی سے دیکھتے ہوئے کہا تو نازلی کو اُنکی باتوں کو سُن کر کیوان کآردال کے کہے لفظ سچ لگنے لگے۔
“نازلی بابا صحیح کہہ رہے ہیں ہمیں اس وقت صرف اُن لوگوں کے متعلق سوچنا چاہیے نہ کہ اپنی ٹیم کے بارے میں اگر ان میں سے کوئی ایک بھی مرا تو ذمے دار ہم ہونگے۔”
آفیسر جمال جو نازلی کے دائیں جانب کی کرسی پر بیٹھا ہوا تھا اُسکے چہرے کے بدلتے تاثرات دیکھ وہ جلدی سے کہنے لگا۔
“آفیسر جمال آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں پھر تو ہمیں ابھی اور اسی وقت چلنا چاہیے ورنہ دیر نہ ہو جائے۔”
نازلی یکدم سے اپنے چہرے کے ایکسپرین چھپاتی ہوئی اُن دونوں باپ بیٹے کو دیکھتی ہوئی بولی تو آفیسر جمال اسکی بات پر اٹھا تو وہ بھی اٹھ کھڑی ہوئی اور رمیز سے مصافحہ کرنے کے بعد آفیسر جمال کی جانب دیکھنے لگی۔
“آفیسر نازلی آئیے کھڑی کیوں ہے وہاں۔؟؟
آفیسر جمال اُسکے ایسے کھڑے ہونے پر آگے چل کر اُسے چلنے کا کہتا خود دروازے کی طرف بڑھا۔
“اوکے۔”
نازلی اُسکے آگے بڑھنے پر اُسکے پیچھے چلنے لگی اور جب وہ دونوں گھر سے باہر نکلے تو سامنے کھڑی کار کی جانب بڑھے جو آفیسر جمال کا تھا۔
“آہہہہہ۔۔۔۔”
وہ ابھی کار تک نہیں پہنچے تھے کہ آفیسر جمال کو کسی نے پیچھے سے آکر زور سے اسکے سر پر مارا تو وہ کراہ کر نیچے جا گرا۔
“تُم۔”
نازلی جو سر جھکائے اُسکے پیچھے چل رہی تھی۔ اسکی کراہت سُن کر اپنا سر اٹھا کر سامنے کے منظر کو دیکھنے لگی تو دھنگ رہی گی کیونکہ سامنے کیوان کآردال شدید غصے سے کھڑا اُسے گھور رہا تھا۔
“ہاں میں بیوی میں نے کہا تھا نا اُس رمیز پر اور اُسکے اِس گنجے بیٹے پر یقین مت کرنا۔پھر کیوں میری بات مانے بغیر اس کے ساتھ جا رہی ہو ہاں۔”
وہ آگے بڑھ کر اُسے سختی سے کندھوں سے پکڑ کر بُری طرح سے جھنجھوڑ کر پوچھنے لگا۔
“جاہل انسان یہ تُم کیا کیا کر رہے ہو چھ۔چھوڑوں مجھے درد ہو رہا ہے۔میں اپنے ایک ضروری مشن کیلئے آفیسر جمال کے ساتھ جا رہے تھیں۔ اب میں کس کے ساتھ جاؤ گی۔”
نازلی اُسکی کل رات والی حرکت سے اب تک اُس غصہ تھی۔اب اُسکی اس حرکت پر وہ غصے سے آگے بڑھی اور اُسکے پاس پہنچ کر پوچھنے لگی۔
“بیوی میں کس مرض کی دوا ہو ہاں تُم میرے ساتھ چلو۔”
تو کیوان نے اُسے کمر سے پکڑ کر اپنے نزدیک کیا اتنا نزدیک کیا کہ نازلی کو اُسکی سانسوں کی تپش اپنے چہرے اور گردن پر پڑتی ہوئی محسوس ہونے لگی۔
“نہیں ہرگز نہیں تُم جلدی سے آفیسر کو ہوش میں لاؤ ورنہ میں تُم پر گولی چلا دوں گی۔آفیسر کو بہیوش کرنے کی وجہ سے۔”
نازلی نے شدید غصے سے کہتے ہوئے اپنا ریوالور نکال کر اسکے اوپر ٹان کر کہا۔تو کیوان اسکی جانب دیکھتے ہوئے قدم آگے بڑھا کر ریوالور کو اپنی شکنجے میں لیکر نیچے پھینکتے ہوئے اسے کمر سے پکڑ کر اپنی سرخ آنکھوں سے دیکھنے لگا۔
“مس آفیسر تُم اس دھوکے باز کے لیے مجھ پر گولی چلاؤ گی مجھ پر ۔ضدی لڑکی میں کہہ رہا ہوں نہ یہ لوگ اعتبار کے قابل نہیں ہے تُم ایک بار میری بات مان کر مجھے اپنے ساتھ لیکر چلو پھر آگے جو ہوگا ہم دونوں اسے سنبھال لے گے ۔”
وہ اُسکی غصے سے بُری طرح سے لرزتے ہونٹوں پر نظریں فوکس کرتا گھمبیر آواز میں کہنے لگا۔
نازلی کے رخسار اُسکی اُسی کل رات والے گستاخ موڈ کو دیکھ شرم سے گلال ہونے لگی۔
“تُم لگتے کون ہوں میرے جو میں تُمھیں اپنی ہر بات بتاؤ ہمممممم۔تُم صرف میرے بھائی کے رائٹ ہینڈ ہو۔میرے نہیں سو میری فکر کرو اوکے۔”
وہ اُسکی گرفت میں سمٹ کر نقوت سے پوچھنے لگی۔
شرم جھجک کے باوجود بھی وہ اُس سے سختی سے پیش آ رہی تھیں۔
“ڈیم اٹ میں تُمھارا شوہر ہو۔کل ہی تو تُم نے مجھ سے نکاح کیا۔ اور اب تُم کہہ رہی ہو۔کہ میں تُمھارا کیا لگتا ہوں۔”
وہ اُسکی کمر پر گرفت کو سخت تنگ کرتا غصے سے گہری نگاہوں سے اُسے دیکھتا ہوا بولا۔
نازلی کی منہ سے اُسکی تنگ گرفت کو اور زیادہ تنگ ہونے کی وجہ سے سسکاری نکلی۔
“یہ نکاح صرف میں نے اپنے بھائی کے قریب رہنے کیلئے تُم سے کیا ہے۔ناکہ تُمھاری حسرتوں کو پورا کرنے کیلئے سمجھے تُم۔”
وہ اُسکی گرفت میں کسمسا کر بولی۔
“لیکن میں نے تُمھیں اپنا مان کر نکاح کیا ہے اب تُم میری ہو۔تو میں کیسے تُمھیں اپنی منمانی کرنے دو۔”
کیوان کآردال اُسکی سنگدلی پر سلگ کر رہ گیا اور بنا اُسکی غصے کی پرواہ کیے وہ اُسکے چہرے کو جکڑ کر اُسکی غصے سے لرزتے ہونٹوں پر جھکا۔
“یہ تت۔تُم کیا کر رہے ہو چھ۔چھوڑو مجھے مافیا کے بچے۔”
اُسکا لمس اب ہونٹوں سے ہوتا نیچے ٹھوڈی کی جانب بڑھا۔تو وہ اُسکی گرفت میں بُری طرح سے پھڑپھڑاتی ہوئی زخمی شیرنی کی طرح ڈھار اٹھی۔
“بیوی ابھی تو میں نے کچھ کیا ہی نہیں ہے۔۔اگر میں نے اس سے آگے تُمھارے ساتھ کچھ کیا ناں تو تُمھاری جان حلق تک آ جائے گی۔”
وہ گھمبیر بوجھل لہجے میں کہتا اُسے شرم سے سر تا پا اناری کرتا معنی خیزی سے مسکرایا۔وہ دونوں جو ایک دوسرے میں کھوئے تھے۔تبھی پیچھے سے کسی
نے آکر کیوان کے سر پر زور سے مارا تو کیوان اپنا سر پکڑ کر پیچھے مڑا تو سامنے چھ آدمیوں کو اپنی طرف خباثت بھری نظروں سے دیکھتے پاکر وہ شدید غصے سے اپنا ہاتھ آگے بڑھا کر انہیں پکڑنے کیلئے آگے بڑھنے لگا۔
نازلی جو اسکے پیچھے کھڑی یہ سب دیکھ رہی تھی اسکے پیچھے ایک کو ڈنڈا لیے بڑھتے ہوئے دیکھ وہ آگے بڑھی اور اسے ایک مکا مار کر دور کر گئی ان آدمیوں نے نازلی کو لڑنے کے موڈ میں دیکھ نازلی کی جانب بڑھ کر اسکے بھی سر پر مار کر اسے بہیوش کر کے سامنے کھڑی کار کی جانب بڑھ کر اسے کار میں ڈالنے کے بعد کیوان کے بہیوش وجود کو اٹھا کر کار میں ڈال کر انہیں لیکر وہاں سے چلے گئے۔
🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥
جب اُنکی آنکھیں کھلی تو دونوں خود کو ایک لکڑی کے بڑے سے کوفن میں دیکھ ساکت نظروں سے ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے۔
دونوں کوفن میں بند ہونے کی وجہ سے پیسنے سے شرابور ایک دوسرے کے اتنے پاس تھے۔کہ دونوں کی ناک اور لب ایک دوسرے سے ٹچ ہو رہے تھے۔اور سانسیں اتنی نزدیکی اور گھٹن کی وجہ سے حلق کو آ رہی تھیں۔
“تُمھیں اگر سانس لینے میں دشواری ہو رہی ہے وائفی۔تو میں کچھ ہلیپ کر دوں۔؟؟
وہ جو پہلے سے اُسکی کمر کو پکڑے ہوئے تھا۔اُسکی اتنی نزدیکی پر دل کے مچلتے جزبات سے مجبور ہوکر اُس سے اپنی دل کی بات کہنے لگا۔
جسے سُنتی وہ سخت نظروں سے اُسے گھورنے لگی۔
“تُ۔تمھیں اس وقت بھی م۔مزاق سوجھ رہا ہے۔یہاں میری سان۔۔”
اُسکی بولتی کو روک کر اُسکی سانسوں کو اپنی گرفت میں لیکر اُسکی ڈھرکنوں کو اتھل پھتل کرتا اُسے کوفن میں پھڑپھڑانے پر مجبور کر گیا۔۔
“وائفی میں تُمھارے قریب ہو تو فکر کس بات کی ہے ہمممممم۔۔”
اُسکی سانسوں کو اپنی قید سے آزاد کرتا وہ گھمبیر لہجے میں کہنے لگا۔
“یہی تو فکر والی بات ہے۔کہ تُم اِس وقت میرے اتنے پاس ہو۔”
تیز نظروں سے گھورتی ہوئی بولی۔
“وائفی اس وقت ہمیں صرف اپنی سانسوں کے بارے میں سوچنا چاہیے۔ہمیں ایک دوسرے کو آکسیجن دینا چاہیے تاکہ یہ کوفن کھلے اور ہم زندہ صحیح سلامت باہر نکلے۔”
وہ اُسکی سفید پڑتی رنگت سے پریشان ہوتا ابکے سنجیدگی سے کہنے لگا۔
“آکسیجن وہ ہم کیسے ایک دوسرے کو دے گے۔یہاں تو اکیسجن ماسک بھی نہیں ہے. اور نا ہی کوئی میڈیکل کٹ۔”
وہ حیرت سے آنکھیں پھاڑے اُس سے پوچھنے لگی۔
“وائفی ہمارے پاس قدرتی آکسیجن ماسک ہے۔کیوں نہ ہم اُس سے فایدہ اٹھا لیں۔”
وہ اپنی آنکھوں میں شرارت لیے معنی خیزی سے کہنے لگا۔تو اُسکی بات پر وہ اُسے حیرت سے دیکھنے لگی۔
“مطلب۔”
اُسکی آنکھوں میں دیکھ رہا تھا اسکی بات پر شریر انداز میں مسکرایا۔
“مطلب ہم سی پی آر سے خود کو سیو کر سکتے ہیں۔”
زومعنی انداز میں کہتا اُسے شرم سے سُرخ اناری کرتا اُسکی کمر پر گرفت سخت کر گیا تو وہ اُسکی باہوں میں کسمسانے لگی۔
“”اففففففففف ہوں یہ تُمھیں ہر وقت رومینس کیوں سوجھتی ہے سچویشن دیکھو تُم نے اگر کچھ دیر اسی طرح غصے سے میرا تنفس تیز کیا تو میں اس کوفن میں مر جاؤ گی۔”
وہ اُسکی گستاخ نگاہوں سے نروس ہوتی چٹخ کر بولی۔تو اُسکی بات پر وہ اچانک سے اُسکی شرم سے سُرخ ہوتے گالوں کو چھونے کی گستاخی کر گیا نازلی اُسکی حرکت پر دھنگ رہ گئی۔
“اتنی حسین و جمیل بیوی جب اتنے قریب اتنے پاس ہو تو شیر بھی خودبخود رومانٹک ہو جاتا ہے۔میں تو پھر ایک بھولا بھالا سا انسان ہو ڈارلنگ۔”
وہ اُسکی سرمئی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر گھمبیر لہجے میں کہتا اُسکی پیشانی کو چھوکر اُسے ساکن کر گیا۔تبھی اتنی جلدی باہر سے اچانک کوفن کو کھولا گیا۔
تو کیوان اور نازلی کو ایک دوسرے کے اوپر جھکے دیکھ باہر کھڑے رمیز کے لوگ شاکڈ ہو گئے۔ کیوان کآردال ہوش میں آتے ہی نازلی کو چھوڑ کر باہر نکلا۔
“ک۔کیوان۔۔”
یکدم سے نازلی گھٹن شدت سے محسوس کرتی کیوان کے سینے پر ہاتھ رکھتی اٹک اٹک کر کہنے لگی۔
“ناز۔تت۔تُمھاری سانسوں کو یہ کک۔کیا ہو رہا ہے۔اور یہ تُم نیلی کیوں پڑ رہی ہو۔پلیز ہمت سے کام لو پلیز۔”
وہ بھی محسوس کر رہا تھا کہ وقت گزرنے کے ساتھ کوفن کے اندر سانس لینے میں دشواری ہو رہی ہے مگر وہ دشوار سانسوں کے درمیان نمی سے بھری آنکھوں سے اُسکے بری طرح سے کپکپاتے وجود کو پکڑ کر اٹکتے ہوئے کہنے لگا۔
🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥
