122.6K
29

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 28

“یہ کیا بکواس کر رہے ہیں۔؟؟
آرزو کو جس چیز کےلئے کہا اُس شخص نے وہ سن کر پھٹی آنکھوں سے اُسے دیکھنے لگی جو اُسے ہی دیکھ رہا تھا اب جاکر آرزو کو ان نظروں کے زاویے نظر آنے لگے وہ اچانک سے اٹھی اور غرا کر بولی۔
لگتا ہے بی بی تُمھیں اُس آدمی سے محبت نہیں ہے جو تُم یہ عمل کرنے سے ڈر کر انکار کر رہی ہو اگر تُمھاری محبت سچی ہوتی تو تُم یہ ضرور کرتے۔”
اُسے غصے سے لال ہوتے دیکھ وہ شخص استہزایہ مسکراہٹ ہونٹوں پر سجاتا معنی خیزی سے بولا۔
“آرزو ڈارلنگ صحیح کہہ رہے ہیں بابا تُمھیں اگر اپنے سلطان سے سچا عشق ہے تو تم کسی بھی حد تک جا سکتی ہو اُسے پانے کیلئے۔کیونکہ اگر تُمھاری محبت ایک جھوٹ ہے تو تُم کسی بھی عمل کو کرنے سے ڈرؤ گی۔”
عاصمہ اُسے بگڑتے ہوئے دیکھ اور اُس آدمی کے نظروں ہی نظروں میں اسے بھڑکانے کے لیے اشارہ کرتے ہوئے دیکھ وہ آگے بڑھی اور آرزو کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اُسے اپنی باتوں کے جال میں پھنسانے لگی۔
اور وہ بے وقوف عشق میں اندھی لڑکی اُسکی باتوں میں پھنس کر اپنے ہی ہاتھوں سے اپنے لیے گڑھا کھودنے کیلئے تیار ہو گئیں۔
“نہیں مجھے سچ میں سلطان سے بے پناہ عشق ہے مم میں تیار ہو بتاؤ مجھے کیا کیا کرنا پڑے گا۔؟؟
اپنی جنون سے بھری نظروں کو ان دونوں پر ٹکا کر
وہ نم آواز میں کہنے لگی۔
“کچھ بھی نہیں جو کروں گا بی بی میں کروں گا بس تُم یہ پی کر یہاں آکر لیٹ جاؤ باقی کا کام میں خود کروں گا۔”
وہ آدمی اُس دیوانی کے اتنی جلدی بے وقوف بن جانے پر دل ہی دل میں خوش ہوتا اُسکے آگے ایک گلاس بڑھا کر سامنے بچھے قالین پر لیٹنے کیلئے کہنے لگا۔
“”یہ کیا ہے اور میں اسے کیوں پیؤ۔؟؟
آرزو گلاس میں سیاہ زنگ کی مشروب دیکھ حیرانگی سے اس شخص سے پوچھنے لگی۔
“بی بی لگتا ہے تُم ابھی تک اس کشمکش میں ہو کہ تُمھیں یہ عمل کرنا چاہیے یا نہیں اگر اسی طرح کرتی رہی تو میرا وقت برباد ہو جائے گا۔”
اُسکے پھر سے سوال پر وہ شخص سخت گیر لہجے میں کہنے لگا تو عاصمہ جلدی سے آگے بڑھ کر اُسکے لبوں سے گلاس لگا کر اسے وہ عیجب و غریب مشروب پینے پر مجبور کر گئی۔
تھوڑی دیر بعد آرزو اُس مشروب کے پیتے ہی اپنا سر یکدم سے بھاری ہوتا شدت سے محسوس کرتی خود بخود قالین پر لیٹ گئی۔
“چل اب اس سے پہلے کے کوئی آ جائے جلدی سے اپنی حوس کو مٹاؤ مگر اس سے پہلے میں اسکی تلاشی لیتی ہو مجھے بھی تو اپنے کئے کا پھل ملنا چاہیے۔”
اُسے صرف آنکھیں کھول کر ساکن لیٹے دیکھ عاصمہ اس شخص سے کہتی خود جلدی سے اُسکے پاس جاکر بیٹھتے ہی اسکی تلاشی لینے لگی آرزو ہوش میں تھی مگر پتہ نہیں کیوں وہ اپنے ہاتھ پیروں کو ہلا نہیں پا رہی تھی وہ اپنے ساتھ اتنا غلط ہوتا ہوا دیکھ اپنے دل میں ڈر کے بجائے غصے کا ابال اٹھتا ہوا محسوس کر رہی تھی۔
“عع۔عاصمہ۔”
اس شخص کی نظریں اچانک سے آرزو کے ہلتے ہاتھ پر پڑی تو وہ چہرے پر خوف لیے عاصمہ کو لرزتے ہوئے مخاطب کرکے کہنے لگا۔
“کیا ہے۔؟؟
عاصمہ اس کے مخاطب کرنے پر پھاڑ کھانے والے انداز میں بولی۔
“اسکے ہاتھ۔”
وہ آرزو کے ہاتھ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہنے لگا۔
“ہاں کیا ہوا اسکے ہاتھوں کو۔؟
عاصمہ نے بھی آرزو کی ہاتھوں کی جانب دیکھتے ہوئے پوچھا مگر اسے آرزو اسی طرح لیٹی ہوئی نظر آئی۔
“عاصمہ اسکے ہاتھ پیروں کو میں نے ابھی ہلتے ہوئے دیکھا ہیں۔”
اس شخص کی بات پر عاصمہ شدید غصے سے اس شخص کو گھورنے لگی۔
“کیا یہ تم کیا بکواس کر رہے ہو یہ مشروب تو انسان کو سن کرنے کیلئے ہے تو یہ کیسے ہل سکتی ہے۔”
شدید غصے سے وہ بولی۔
“عاصمہ مجھے لگتا ہے اسکے دل و دماغ میں ڈر کی جگہ نفرت پیدا ہو رہی ہیں ہمارے لیے ۔”
عاصمہ اور وہ شخص آرزو کو ہی دیکھ رہے تھے کہ تبھی اسے ہلتے ہوئے دیکھ وہ دونوں ڈرنے لگے۔جبکہ اس شخص کی بات سے عاصمہ جو پہلے بہت غصہ کر رہی تھی اب بری طرح سے لرز رہی تھی۔
کیونکہ وہ آرزو کے خاندان کو اچھے سے جانتی تھیں کہ وہ کتنے خطرناک ہے مگر لالچ نے اسے اتنا اندھا کر دیا تھا کہ وہ یہ بات فراموش کر گئی تھیں ۔
“تُم ایک پڈی سی لڑکی سے ڈر رہے ہو مرد بنوں مرد۔”
وہ اپنے چہرے سے پیسنے کو صاف کرتی اپنے ڈر کو ظاہر نہ کرتی اس شخص سے بولی۔
تبھی وہاں ایک شخص غصے سے بولتے ہوئے داخل ہوا جسے دیکھ کر عاصمہ کے ساتھ کھڑا شخص شاکڈ رہ گیا۔
“مرد کے لائق چھوڑے گے تب ہی یہ مرد بنے گا نہ ہمارے دھندے کو خراب کر دیا ہے لوگ اصل کے بجائے نقل کے پاس جا رہے ہیں میں تم لوگوں کے ساتھ وہ کروں گا تم لوگ پچھتاؤ گے۔”
وہ آنے والا شدید نفرت سے عاصمہ اور اسکے ساتھ کھڑے شخص کو دیکھتے ہوئے انہیں صاف دھمکی دیتے ہوئے کہنے لگا۔
“تُم یہاں کیسے پہنچے یہ تو میرا خفیہ ھدا ہے۔؟
اس آنے والے شخص سے وہ بلیک میجک کروانے والے شخص نے پوچھا۔
“پورے ایک ماہ سے میں تمھارا پیچھا کر رہا ہوں تمھارے ٹھکانے کا اچھے سے پتہ تھا مگر میں اس موقعے کی تلاش میں تھا کوئی آئے گا تمھارے پاس
تب تم پر حملہ کروں گا۔””
اس کی بات پر آنے والے شخص نے تیز نظروں سے اسے گھورتے ہوئے کہا۔
“کیا تم ہماری جاسوسی کر رہے تھے۔”
پھٹی آنکھوں سے اس شخص سے عاصمہ نے پوچھا۔
“ہاں کر رہا تھا تم لوگ فراڈ کر رہے ہو اور میرے دھندے کو برباد کر رہے ہو میرے نام کو خراب کر رہے ہو سب جانتے ہیں تم میرے بھائی ہو اسی لیے آج تمھیں سبق سیکھانے یہاں آیا تھا۔”
وہ شخص شدید غصے سے کہتا ان دونوں پر کچھ پڑھ کر پیچھے ہٹا تو عاصمہ اپنا منہ کو ٹھیڑا ہوتا ہوا اور اپنے ساتھ کھڑے شخص کے ہاتھوں کو مڑتے ہوئے دیکھ کر پھٹی آنکھوں سے سامنے کھڑے شخص کو دیکھنے لگی۔
جبکہ ساتھ کھڑا شخص عجیب طرح سے آوازیں نکال رہا تھا۔
“ہہہ۔”
عاصمہ کچھ بولنے کے لیے اپنا منہ کھولنے لگی مگر جب اس سے ایسا نہ ہوسکا تو وہ زور زور سے آوازیں نکالنے لگی۔
“تم دونوں کو یہ اٹیک بتائے گا کہ تم لوگوں نے کس سے پنگا لیا ہے زندگی بھر ایسے رہوں گے علاج کرواؤ گے تب بھی کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔”
آنے والے شخص نے آرزو کو اپنی پوٹلی سے ایک نیلے رنگ کا مشروب نکال کر پلایا تو وہ اپنے جسم کو موو کرنے لگی جبکہ وہ شخص اٹھ کر نفرت سے عاصمہ اور اس شخص سے کہتا تیزی سے اس غار سے باہر نکلا۔
آرزو نے کچھ دیر پہلے اس شخص کو کچھ پڑھ کر ان دونوں پر پھونکتے ہوئے دیکھا تھا اور پھر تھوڑی دیر بعد ان دونوں کی حالت بگڑنے پر وہ سخت شاکڈ رہ گئ تھی یہ سب دیکھ کر وہ سمجھ چکی تھی یہی شخص اسکی مدد کر سکتا ہے وہ اسکے غار سے باہر نکلتے ہی تیزی سے اس شخص کے پیچھے بھاگی۔
🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥
“ایک منٹ رکو تم یہ سب جانتے ہو نا تم فراڈ نہیں ہو ان دونوں کی طرح مجھے پتہ چل گیا ہے تو کیا تم میرا ایک کام کروں گے۔”
آرزو غار سے نکل کر اس شخص کو آوازیں دیتی اس کی پیچھے بھاگنے لگی جو اس سے بہت دور تھا۔
“بی بی مجھے یہاں سے جلد نکلنا ہے بتاؤ کیا کام ہے اگر پیسے دوں گی تو میں جو تم کہوں گی وہی کروں گا۔”
وہ شخص جلدی میں لگ رہا تھا اسی لیے اسے دیکھے بنا تیزی سے کہتا سنبھل سنبھل کر بڑے پھتروں پر پیر رکھ رہا تھا۔
آرزو بھی اسکے پیچھے سنبھل سنبھل کر چل رہی تھی۔
“مجھے کسی کو اپنا بنانا ہے بتاؤ کتنے پیسے لگے گے میں دینے کو تیار ہوں۔”
وہ اچانک سے اس شخص کے آگے آکر بولی۔
تو وہ شخص ٹھہر کر کچھ دیر اسے گھورنے لگا۔
“بی بی پورے دو لاکھ لگے گے اس کام کے۔”
وہ اپنی قیمت بتا کر سائیڈ پر ہوکر پھر سے چلنے لگا۔
“ٹھیک ہے مجھے منظور ہے.””
وہ ہانپتی ہوئی بولی چل چل کر اب اسکے پیر درد کر رہے تھے مگر سلطان کو پانے کی چاہ اسے تھکنے ہی نہیں دے رہی وہ جوش سے اپنے ہوش کھو بیٹھی تھی اسی لیے ایسی گھٹیا کام کرنے کیلئے اتنے پیسے دینے کو تیار ہوگئی تھیں۔
“ٹھیک ہے مجھے اس کے بارے میں ایک ایک چیز بتانا میں آج سے ہی عمل شروع کرتا ہوں۔”
وہ شخص اسے کہنے لگا۔
“یہ لو پورے دو لاکھ کا ہے مگر تمھیں یہ ابھی کرنا ہوگا میں چاہتی ہوں وہ لڑکی میرے سلطان سے جلدی دور ہو جائے۔”
آرزو نے اپنے گلے سے سونے کی لاکٹ کا چین نکال کر اس شخص کے آگے بڑھا کر اسکی قیمت بتاتے ہوئے کہا۔
“ٹھیک ہے میں ابھی شروع کرتا ہوں۔”
وہ شخص لاکٹ لیکر اپنی پوٹلی میں رکھنے کے بعد کہتا وہی بیٹھ گیا تو آرزو بھی اسکے سامنے بیٹھی اور فرغام سلطان کے بارے میں ایک ایک چیز بتانے لگی۔
🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥
فرغام سلطان کل رات سے اپنے سر کو بھاری محسوس کر رہا تھا ابھی بھی اسکا سر پھٹ رہا تھا وہ سر پر ہاتھ رکھے کیچن میں ملازمہ سے اپنے لیے کافی کا کہنے کے لیے داخل ہوا مگر اندر ملازمہ کے بجائے روحین کو دیکھ وہ آگے بڑھا اور یکدم سے اُسے پیچھے سے پکڑ کر اسکی گردن پر اپنے لب رکھ کر سکون تلاش کرنے لگا۔۔
مگر اُسکی قربت میں پتہ نہیں کیوں اسے سخت بے چینی سی ہونے لگی تو وہ اُسکا رخ اپنا جانب کرتا سر پھٹنے کی وجہ سے سرخ ہوتیں اپنی آنکھیں اس کے چہرے پر گاڑ کر اُسے دیکھنے لگا۔
“سس۔سلطان چھ۔چھوڑیں یہ آپ کیا کر رہے ہیں مجھے درد ہو رہا ہے۔”
وہ اُسکی گرفت کو اپنے گرد تنگ ہوتا محسوس کرتی آنکھوں میں آنسوؤں لیے نم آواز میں کہنے لگی۔
“ششش روحی جاناں اسی طرح کھڑی رہوں مجھے ایسا لگ رہا ہے میرا سر پھٹ جائے گا اور پتہ نہیں کیوں آج مجھے تمھارے قریب آنا بلکل بھی اچھا نہیں لگ رہا بے چینی سی ہو رہی ہے یہ سب کیوں ہو رہا ہے میں نہیں جانتا مگر اچھا نہیں لگ رہا ایسا ہوتا ہوا دیکھ کر مجھے جاناں۔”
فرغام سلطان نے اُسکے ہلتے لبوں پر اپنا انگوٹھا رکھتے ہوئے تیز آواز میں کہا اور عیجب عیجب باتیں کرنے لگا جہنیں سنتی روحین پھٹی آنکھوں سے اُسے دیکھنے لگی۔
“سلطان یہ آپ کیسی باتیں کر رہے ہیں۔”
روحین پھٹی آنکھوں سے اُسے دیکھتی ہوئی پوچھنے لگی وہ اُسے آج کچھ بدلا ہوا محسوس کرنے لگی۔
“ششششش کہاں نہ خاموش کھڑی رہوں کچھ مت بولو تمھاری آواز سے میرا سر بھی پتہ نہیں کیوں پھٹنے کے قریب ہو رہا ہے جاناں مجھے کچھ بھی اچھا نہیں لگ رہا دماغ کہہ رہا ہے تمھیں خود سے دور کروں اور دل تمھیں سینے میں بھینچ کر اسی طرح کھڑے ہو کر تمھاری خوشبو کو محسوس کرنے کا چاہ رہا ہے۔”
اُسکے لبوں پر سختی سے اپنا انگوٹھا جما کر وہ سخت لہجے میں اسے تنبیہ کرتا کہنے لگا۔
“سلطان مجھے سچ میں آپکی سخت پکڑ سے تکلیف ہو رہی ہے پلیز مجھے چھ۔چھوڑ دے پلیز۔”
روحین اپنی کمر پر اُسکی گرفت تنگ ہونے پر اپنی کمر پر سخت تکلیف محسوس کرتی سسک کر کہنے لگی۔
“جاناں تکلیف تو اس وقت مجھے ہو رہا ہے تُمھاری قربت سے تمھارے چہرے سے تمھاری آواز سے مگر یہ سب دل کو بلکل بھی اچھا نہیں لگ رہا ہے تُم سے دوری اختیار کرنے کے لیے دماغ بہت چاہ رہا ہے مگر دل کو یہ منظور نہیں ہو رہا کہ تم مجھ سے دور چلی جاؤ۔”
وہ اُسکی کمر پر گرفت کو مضبوط کرتا بھاری آواز میں کہنے لگا روحین کی تو سانسیں اسکی سخت اور ظالمانہ گرفت پر بری طرح سے اٹکنے لگی۔
تبھی فرغام سلطان کو پتہ نہیں کیا ہوا وہ چہرے پر سختی لاکر اُسکی گردن پر جھکا اور سختی سے اسکی گردن کو کاٹ کر روحین کی سسکیوں کو حلق سے نکالنے کے بعد پیچھے ہٹا۔
“آہہہہہہ سلطان میری گردن۔”
روحین بری طرح سے سسکتی ہوئی اپنی گردن پر اس جگہ ہاتھ جہاں اسکے دانت کے نشان بن چکے تھے رکھ کر روتی ہوئی کہنے لگی۔
تو اسے روتے ہوئے دیکھ وہ جیسے ہوش میں آیا کچھ دیر پہلے اسکے سر پر جیسے ایک شیطان کا قبضہ تھا وہ روحین کو اپنا جانی دشمن سمجھ کر اسے آرام سے ہرٹ کر رہا تھا اب ہوش میں آتے ہی وہ روحین کے آنسوؤں دیکھ تڑپ رہا تھا۔
“نہیں یہ میں نے کیا کر دیا روحی جاناں تُم ٹھیک ہوں۔؟
وہ اسکی سفید گردن پر اپنے دانتوں کے نشانوں کو دیکھ آگے بڑھا اور اسکی گردن پر اپنے لب رکھ کر اُسے اپنے سینے سے لگاتے ہوئے پوچھنے لگا۔
“”نہیں میں ٹھیک نہیں ہو مجھے آپ جانوروں کی طرح کیوں کاٹ رہے ہیں ایسا لگ رہا ہے آپ میرے پیارے سلطان نہیں بلکہ کوئی درندہ ہے۔”
وہ اُسے دور کرتی سسک سسک کر کہنے لگی تو فرغام سلطان نے اُسے پھر سے اپنے سینے سے لگا کر بھینچا تو
وہ اسکے سینے سے لگ کر اپنی گردن پر جھلن محسوس کرتی اسکی کالر کو شدت سے پکڑ کر رونے لگی۔
🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥
“بیٹا کیا سلطان تم پر ظلم کرتا ہے۔؟
وہ فرغام سلطان کے ساتھ ڈائننگ ٹیبل پر بیٹھی
ناشتہ کر رہے تھی کہ نانی جان کی نظر اسکے پیلے پڑتے چہرے پر پڑی اور گردن پر سرخ شان پر تو وہ سنجیدگی سے فرغام سلطان کی جانب دیکھتی ہوئی روحین سے پوچھنے لگی۔
“نن۔نہیں تو نانی جان وہ تو مجھ سے بے حد محبت کرتے ہیں۔”
روحین انگی گہری نظروں سے سخت سٹپٹا کر جلدی سے کہنے لگی جبکہ فرغام سلطان نے ٹیبل کے نیچے سے اسکے نازک ہاتھ کو مضبوطی سے پکڑا۔
وہ کل رات سے ڈر رہی تھی اور فرغام سلطان اس وقت بھی اسکے چہرے پر خوف دیکھ سکتا تھا اسی لیے اپنا ہاتھ اسکی نازک ہاتھ پر رکھ کر وہ اسے اپنا احساس کرانے لگا۔
مگر اسے چھوتے ہی وہ پھر سے وہی محسوس کرنے لگا جو کل رات وہ محسوس کر رہا تھا اسکے سامنے آرزو بیٹھی اسے ہی دیکھ رہی تھی اسکے چہرے پر سرخی اور سختی پھیلتے ہوئے دیکھ دل میں خوش ہونے لگی کہ اس بار وہ ہاری نہیں ہے بلکہ اس بار وہ جیتے گی اپنے سلطان کو پاکر۔
“تو پھر بیٹا یہ آپکا چہرہ اتنا پھیکا کیوں ہے اس طرح عورت تب نظر آتی ہے جب مرد ان پر ظلم کر رہا ہوں۔”
نانی جان کی پریشان آواز پر آرزو بری طرح سے چونک کر انکی جانب دیکھنے لگی جو سخت پریشانی سے روحین سے پوچھ رہی تھی۔
“نانی جان فرغام بھائی آپکے بعد اپنی محترمہ سے عشق کرتے ہیں وہ انکے معاملے میں بلکل بھی ظالم نہیں ہوسکتے کیوں بھابھی کیا میں ٹھیک کہہ رہی ہو نا۔؟؟
عائشہ گل آرزو کے ساتھ بیٹھی شرارت سے روحین کے چہرے کو گھبراہٹ کے مارے سرخ ہوتے ہوئے دیکھ رہی تھی شریر لہجے میں کہنے لگیں۔
تبھی کیوان کآردال نازلی کا ہاتھ مضبوطی سے پکڑے ڈائننگ ہال میں داخل ہوا فرغام سلطان نازلی کو پیار سے دیکھتے ہوئے مسکرایا۔
کیونکہ تین دن پہلے کیوان کآردال نے اسکے پاس کال کر کے بتا دیا تھا نازلی کے بارے میں اور یہ بھی کہ نازلی تمھاری سگی بہن ہے جو اب اسکی بیوی بھی ہے۔
“ہیلو ہیوری ون کیا ہو رہا ہے نانی جان ہماری گڑیا کیا کہہ رہی ہے۔”
کیوان کآردال نے نازلی کے ہاتھ کو چھوڑتے ہوئے چہک کر نانی جان اور باقی سب کی جانب دیکھتے ہوئے آگے چل کر عائشہ گل کے بالوں کو چھیڑتے ہوئے پوچھنے لگا۔
“ا گئے تم نالائق اور یہ کس کو اٹھا کر لائے ہو ہاں۔؟
نانی جان نے سخت تیوریاں چڑھا کر نازلی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے اس سے اسکے بارے میں پوچھا۔
“نانی جان بیوی کے سامنے تو عزت کا جنازہ مت نکالے۔”
نازلی جو نانی جان کی بات پر چہرہ جھکا کر مسکرانے لگی تو اسکو مسکراتے ہوئے دیکھ کیوان نے منہ بناتے ہوئے کہا۔
“کیا بیوی یہ تم کیا کہہ رہے ہو کب نکاح کیا ہے تم نے بے شرم ہاں سب اپنی کر رہے ہیں مجھ بڈھی کو تو کوئی ارمان پورے کرنے کا حق تو دوں جسے دیکھوں اپنے ساتھ عورت باندھ کر گھر میں آ رہا ہے اب مجھے لگتا ہے میرا بیٹا بھی یہ کارنامہ جلد انجام دینے والا ہے۔”
نانی جان اسکی بات پر صدمے سے اسکی جانب دیکھتی ہوئی بولی۔
انھیں سچ میں فرغام اور کیوان کی شادی کا بہت سارے ارمان تھے مگر ان دونوں کی حرکتوں کی وجہ سے وہ آج بہت افسردہ ہوگئی تھیں۔
“نانی جان تو اب پورے کر لے نا آپ اپنے ارمان سلطان بے کے ساتھ میری بھی شادی کی رسومات دھوم دھام سے کر لے سمپل۔”
کیوان انکے چہرے پر افسردگی دیکھ آگے بڑھا اور
انکے کمزور وجود کو اپنے مضبوط ہاتھوں میں لیکر مسکراتے ہوئے کہنے لگا۔
“مشورہ دینے کیلئے بہت شکریہ مگر بیٹا سزا تو تمھیں ملے گی وہ بھی آج رات کو بلکہ دونوں سپوتوں کو دوں گی آج پوری رات تم اور سلطان باہر رہوں گے اپنی بیوی کے آس پاس بھی نہیں بھٹکوں گے سمجھے.”
انھوں نے زور سے مکا مارتے ہوئے غصے سے اسے دیکھتے ہوئے کہا۔
نازلی اسے انکے ہاتھوں مار کھاتے ہوئے اور سزا کا سن کر وہ اپنی ہنسی کا گلا گھونٹنے لگی اور کیوان کآردال اسے خوش ہوتے ہوئے دیکھ سخت تیوریاں چڑھا کر اسے گھورنے لگا۔
“کیا نانی جان اس نالائق کی غلطی کی سزا مجھے کیوں دے رہے ہیں میں تو مر جاؤں گا اپنی بیوی کے بغیر۔”
سزا تو فرغام سلطان کو بھی سخت برا لگا اسی لیے وہ سنجیدگی سے انکی جانب دیکھتے ہوئے کیوان کآردال کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہنے لگا۔
“کوئی نہیں مرتا تم دونوں گیسٹ روم میں سوؤں گے بس بات ختم۔”
وہ صاف لفظوں میں کہہ کر خاموشی سے سر نیچے جھکا کر ناشتہ کرنے لگی تو فرغام سلطان بے بسی سے روحین کی کلائی کو سہلانے لگا اور کیوان کآردال نازلی کو کندھوں سے پکڑ کر تیزی سے ڈائننگ ہال سے باہر نکلا اس وقت وہ نازلی کے ساتھ گزارنا چاہتا تھا کیونکہ جانتا تھا نانی جان آج رات اسکے روم کے باہر کسی ملازمہ کو ضرور چوکیداری کیلئے کھڑا کرے گی۔
🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥
آرزو اپنے روم میں آکر شیشے کے سامنے کھڑی ہوکر خوشی سے اپنے لمبے بالوں کو کھول کر گنگی کرنے لگی کیونکہ آج رات دادی جان نے اس دشمن جاں کو سزا دیکر اسکا راستہ صاف کر دیا تھا وہ مسکراتی ہوئی اپنی الماری کی جانب بڑھی اور اندر سے اپنی سیاہ نائٹی نکال کر واشروم کی جانب بڑھی۔
یہ نائٹی اسنے شہر سے منگوایا تھا ٹی سی ایس کے ذریعے وہ صرف اسی موقع کی تلاش میں تھیں جب فرغام سلطان اس لڑکی سے دور ہوگا۔۔۔۔
اور اج اسے وہ موقع مل گیا تھا آج وہ اس چیز کو چیک کرنے کیلئے یہ کرنے جا رہی تھیں کہ کیا اسکا
دوسرا عمل فرغام پر چل چکا ہے یا نہیں۔۔
پہلا عمل روحین سے بیزاری کا چل چکا ہے وہ ابھی تھوڑی دیر پہلے روحین کے پیلے چہرے کو دیکھ کر اندازہ لگا چکی تھی۔
وہ تیار ہو کر اپنے آپکو ایک بڑی سی سیاہ چادر میں اچھے سے چھپا کر روم سے باہر نکلی اس وقت رات کے بارہ بج رہے تھے۔۔
سب اپنے اپنے کمروں میں سو رہے تھے وہ گیسٹ روم کی جانب بڑھ رہی تھی تبھی کیوان کآردال کو گیسٹ روم کے دروازے کے پاس کھڑے ناک کرتے ہوئے دیکھ تیزی سے پلر کے پیچھے جا چھپی۔
دو تین ناک کے بعد جب کسی نے دروازہ نہیں کھولا تو کیوان کآردال وہاں سے جانے کے لیے مڑا اور تیزی سے وہاں سے باہر نکلا۔
تو کیوان کآردال کے وہاں سے جاتے ہی وہ پلر کے پیچھے سے نکل کر اپنے چہرے پر ایک شاطرانہ مسکراہٹ سجا کر دبے پاؤں گیسٹ روم کے دروازے کی جانب پہنچی اور ہاتھ آگے بڑھا کر دروازہ چیک کرنے لگی کہ وہ لاک ہے یا نہیں۔
مگر ہاتھ لگنے کی وجہ سے دروازہ تھوڑا سا کھلا تو مسکرا کر اسنے زور سے دھکا دیکر جب اسنے دروازہ پورا کھولا تو سامنے کے منظر کو دیکھ اُسکی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں