122.6K
29

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 4

“””””وہ غنڈہ ہمارے ملک میں قبضہ کرنا چاہتا ہے ہمارے ملک کی جڑے کاٹ کر اُسکی وجہ سے نجانے کتنے معصوم لوگ مرے ہیں آپ لوگ ڈر کر بیٹھے ہیں اور اُسکا مقصد بھی یہی ہے کہ اس ملک کی ساری عوام اس سے ڈب کر رہے،
آپ لوگ ابھی نہیں اٹھے گے، تو وہ کل کو آپکی بیوی بچوں کو بھی مار سکتا ہے، میری اس ملک کی عوام سے اپیل ہے کہ اٹھے اور اپنے حق کے لیے لڑے اور اُس جلاد کو ختم کرنے میں ہمارا ساتھ دیں۔۔۔””””
یہ ایک نجی نیوز چینل کا دفتر تھا جہاں پرائم منسٹر کی سیکٹریری سنجیدگی سے کیمرے کے آگے بیٹھی چیخ چیخ کر کہہ رہی تھی۔۔۔
“”””میم اگر وہ غنڈہ اتنا خطرناک ہے تو گورمنٹ ابھی تک کیوں خاموش ہے کیوں کوئی اسٹیپ نہیں لیا جا رہا اُس کریمنل کے خلاف۔۔۔؟؟؟
نیوز اینکر نے پرائم منسٹر کی سیکٹریری کو دیکھتے ہوئے پوچھا۔۔۔
“”””وہ اس لیے۔۔۔۔”””
پرائم منسٹر کی سیکٹریری اینکر کے سوال کا جواب دینے ہی والی تھی کہ تبھی وہاں سیاہ کپڑوں میں ملبوس دس لوگ داخل ہو کر توڑ پھوڑ کرنے لگے۔۔۔۔
“”””کون ہو تُم لوگ اور یہ کیا کر رہے ہو کس کے کہنے پر تُم لوگ توڑ پھوڑ کر رہے ہو۔۔۔؟؟؟
پرائم منسٹر کی سیکٹریری ڈر کے مارے کرسی سے اٹھتی ہوئی بظاہر دبنگ لہجے میں اُن سے پوچھنے لگی۔۔۔۔
“”””یہ سب ہم سلطان بے کے کہنے پر کر رہے ہیں سیکٹریری صاحبہ۔۔۔””””
اُن میں سے ایک آدمی نے کہا تو چینل کی سبھی کیمرے اُن سب لوگوں کے آگے ہوگئے اور یہ سب لائف ٹیلی کاسٹ پوری عوام دیکھنے لگی۔۔۔
“”””””دیکھا آپ سب نے سلطان بے کی ہمت آج وہ ہمارے ملک کی ایک نجی نیوز چینل پر اپنے آدمی بھیج رہا ہے کل کو وہ آپ کے گھروں پر بھی اپنے آدمی بھیج سکتا ہے آخر کب تک آپ سب خاموش رہ سکتے ہیں کب تک ابھی وقت نہیں بگڑا اٹھے اور اُس شیطان کو ختم کرنے میں ہماری مدد کریں۔۔۔”””
پرائم منسٹر کی سیکٹریری اُس آدمی کی بات پر کیمرے کے آگے آکر زور زور سے کہنے لگی۔۔۔
“”””””سیکریٹری صاحبہ تُم سلطان بے کے خلاف آواز اٹھا کر غلط کر رہی ہو،شاید تُم اپنے اُن لوگوں کو بھول چکی ہو جنہوں نے بے کے خلاف اسی طرح آواز اٹھایا تھا اور بے نے انہیں بری موت مارا ہے تمھارا بھی ہم حشر ان لوگوں کی طرح کرے گے اگر تُم پیچھے نہیں ہٹی ناں تو۔۔۔۔”””
اُسی آدمی نے شدید نفرت سے اُسے گھورتے ہوئے کہا۔
یہ نیوز کیوان کآردال بھی دیکھ رہا تھا وہ پرائم منسٹر کی چال پر طنزیہ انداز میں مسکرایا۔۔۔
“”””””””””نائٹس پلانر مگر بے کو تُم لوگ ابھی اچھے سے نہیں جانتے ہو بہت بُرا ہونے والا ہے تُم لوگوں کے ساتھ چچ چی چچ چی۔۔۔””””””
وہ تھوڑے فاصلے پر ڈائننگ ٹیبل پر کاپی کے گھونٹ بھرتے اُس ایول کی جانب دیکھتے ہوئے دل میں کہنے لگا جبکہ اُس ایول کی شیر جیسی خونخوار نظریں اُس عورت پر تھی جو چیخ چیخ کر اس ملک کی عوام کو اُسکے خلاف بھڑکا رہی تھی ۔۔۔۔
“””””””ٹرک میں بارود بھروں جلدی سے کیوان کآردال۔۔۔۔”””””
کافی کی اخری شپ لے کر کپ ٹیبل پر سختی سے پٹک کر وہ ٹیبل پر رکھا اپنا ریوالور اٹھا کر خطرناک ترین لہجے میں کہتا تیزی سے باہر کی جانب بڑھا۔۔۔۔
“””””””””” ہوں نو کیا ٹرک میں بارود بے آپ ہوش میں تو ہے وہ ایک عورت ہے اُسے تو بخشیں۔۔۔۔”””””””
کیوان کآردال اُسکی بات پر ٹی وی کا ریموٹ صوفے پر پھینک کر اُسکے پیچھے بھاگتے ہوئے کہنے لگا۔۔۔۔
“””””بخشوں اُس عورت کو میں، وہ میرے لیے ایک فتنہ ہیں، اُسے اگر آج چھوڑا تو یہ کل کو مجھے قبر تک پہنچا کر دم لے گی، اسی لیے میں اُسے بارود سے اڑا دینا چاہتا ہوں۔۔۔۔”””
وہ سگریٹ کا ڈبہ پینٹ کی جیب سے نکال کر ایک سگریٹ اپنے لبوں سے لگا کر سپاٹ لہجے میں کہنے لگا اس گھر میں صرف وہ اور کیوان کآردال عائشہ گل رہتے تھے۔۔۔۔
کیونکہ ایول دوسروں سے زیادہ صرف اُن لوگوں پر بھروسہ کرتا ہے،اسی لیے اس گھر میں اسکے ساتھ صرف وہ دونوں بھائی بہن رہتے ہیں،
رہی بات اس گھر کی سیکورٹی کی کیجائے تو اس گھر کی سیکورٹی پرائم منسٹر کے گھر کی سیکورٹی سے بھی زیادہ سخت ہے یہاں کے درودیوار صرف کیوان کآردال اور فرغام سلطان کو پہنچانتے ہے کسی اجنبی کو نہیں اگر فرغام یا کیوان چوروں کی طرح اس گھر کی دیوار پھلانگ بھی لے تو وہ آسانی سے کامیاب ہو سکتے ہیں اور اگر یہی طریقہ کوئی اجنبی کرے تو اس گھر میں جتنی بھی الارم ہے وہ الرٹ ہو جاتی ہے اور اسطرح وہ اجنبی پکڑا جاتا ہے ۔
“”””ٹھیک ہے آپکو جو ٹھیک لگے آپ وہی کرے، لیکن میں آپ کو اس طرح ملک کی پوری عوام کے سامنے نہیں جانے دوں گا سلطان بے۔۔۔۔”””””””
کیوان کآردال کی بات پر وہ اُسکے اوپری جیب سے نظر آتے اُسکے سیاہ ماسک کو نکال کر پہننے لگا۔۔
“”””””ٹرک تیار ہے۔۔۔۔””””””
ماسک پہننے کے بعد وہ اُسکے کندھے پر اپنا بھاری ہاتھ رکھ کر زور سے دباؤ بڑھاتے ہوئے سرد لہجے میں پوچھنے لگا۔۔۔۔
“””””””جی ہاں سلطان بے تیار ہے۔۔۔۔”””””””
کیوان کآردال کے اُسے جواب دینے پر وہ اُسے چھوڑتا گھر سے باہر نکلا اور گھر کے قریب بنے اپنے گودام کی جانب بڑھا۔۔
🌚🌚🌚🌚🌚🌚🌚🌚🌚🌚🌚🌚🌚🌚🌚🌚🌚
“”””روحین بیٹا میں تمھیں خود چھوڑ دیتی ہو تُم اس طرح بسوں کے دھکے کھاتی ہوئی مجھے اچھی نہیں لگوں گی۔۔۔۔”””
فریدہ یزدان اپنی بیٹی کے لیے ہمیشہ فکر مند رہتی تھی اسے اپنے سابقہ شوہر کے پاس چھوڑ کر بھی وہ پریشان تھی اور اب بھی وہ پریشان ہے اسے اسطرح بسوں کے دھکے کھاتے ہوئے دیکھ کر مگر انکی خوددار بیٹی شاید ان سب کی عادی تھی۔۔۔
“”””موم آپ کو بھی تو آفس جانا ہوتا ہے آپ اگر مجھے کالج چھوڑنے آئے گی تو آپ لیٹ ہو جائے گی۔۔۔”””
وہ ایک نجی نیوز چینل پر جاب کرتی ہے روحین جانتی تھی کہ انکی باس بہت سخت ہے اسی لیے
وہ انہیں منا کر رہی ہے ورنہ وہ تو خود بھی چاہتی تھی کہ اسکی ماں اور وہ ایک ساتھ وقت گزارے اسکی پچھلی زندگی کی یادیں وہ کھونا چاہتی تھی مگر کیسے وہ یہ سمجھ نہیں پا رہی تھی،
وہ یہ سب اپنی موم سے شئیر بھی نہیں کر سکتی تھی،کیونکہ وہ اس سے بہت محبت کرتی تھیں، اگر ماضی کی وہ بری باتیں انہیں بتاتی تو انکو دکھ کے ساتھ ساتھ انکی اپنے سابقہ شوہر سے نفرت اور زیادہ بڑھ جاتی۔۔۔۔
“”””اتنا بھی لیٹ نہیں ہو رہا بیٹا۔۔۔””””
وہ اُسے دیکھتی ہوئی بولیں۔۔۔
“”””””موم آپ فکر کیوں کر رہی ہے میں اب وہاں واپس نہیں جاؤ گی۔۔۔”””””
روحین اپنی ماں کے ساتھ بس اسٹاپ تک جا رہی تھی کالج میں آج اسکا پہلا دن تھا اگر وہ حادثہ اسکا ساتھ نہ ہوا ہوتا تو شاید اسکا آج کالج میں تیسرا دن ہوتا۔۔۔۔
“”””میں تمھیں جانے بھی نہیں دو گی اس دوذخ میں میری بچی، اب میں پچھتا رہی ہو کہ میں نے تمھیں تمھارے باپ اور تمھاری سوتیلی ماں کے پاس کیوں لالچ میں آکر چھوڑا تھا اگر آج تُم میرے پاس ہوتی تو تمھارے ساتھ یہ سب نہ ہوتا۔۔۔۔””””
فریدہ یزدان اُسکی ریشمی بالوں پر ہاتھ پھیرتی ہوئی کہنے لگی۔۔۔تو روحین اپنی ماں کی بات پر مسکرانے لگی۔۔۔۔
“”””””اوکے موم میں چلتی ہو۔۔۔۔””””””
روحین بس کو آتے ہوئے دیکھ اُنہیں گلے لگاتی ہوئی بولی۔۔۔
“””””بیٹا اپنا خیال رکھنا اور بھوک لگے تو کینٹین سے کچھ کھا لینا اوکے۔۔۔۔۔””””””
فریدہ یزدان کی فکر مندی پر وہ مسکرا اٹھی۔۔۔۔
“”””””موم آپ ایسے فکر کر رہی ہے جیسے میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے آپ سے دور ہونے جا رہی ہو،میں کالج سے واپس آ جاؤ گی آپ فکر مت کریں۔۔۔۔”””””
وہ انکے ہاتھ پکڑتی محبت سے بولی،اور جب وہ مطمئن ہوگئی تو وہ تیزی سے بس کی جانب بڑھی جو جانے کے لیے تیار کھڑی تھی۔۔۔۔
“””””بیٹا اب تُم میرے پاس ہو مجھے تمھارا خیال رکھنا چاہیے اور تُم میری اکلوتی بیٹی بھی ہو تو بھلا میں کیسے تمھارے معاملے میں لاپرواہی برتوں گی۔۔۔۔””””
فریدہ یزدان اسکے بس پر سوار ہونے سے پہلے چیخ کر کہنے لگی،روحین انکی بات پر مسکرا کر انہیں کچھ کہے بغیر بس کے اندر چڑھ گئی۔۔۔۔
🌚🌚🌚🌚🌚🌚🌚🌚🌚🌚🌚🌚🌚🌚🌚🌚
فرغام سلطان سیاہ ٹرک سے اُس نجی نیوز چینل کے دروازے کو جھٹکے سے توڑتا ہوا اندر گھسا اور سامنے کھڑی اس نیوز چینل کی ایک گاڑی کو اڑا کر وہ ٹرک سامنے روکتا،
اپنی دہشت طاری کرتی نگاہوں سے سامنے کھڑے اُن سیاہ کپڑوں میں ملبوس دو لوگوں کو گھور کر دیکھنے لگا جنہوں نے اُسکا نام لے کر یہاں توڑ پھوڑ کیا تھا اور اب یہاں وہ اُن لوگوں کو یہ بتانے کے لیے آیا تھا کہ فرغام سلطان خطرناک درندوں کا بھی باپ ہے وہ ایک ایول ہے جسے صرف موت کی فیلنگز کا پتہ ہے باقی کسی فیلنگز کا نہیں ۔۔۔
“”””کیوان کآردال میرے آنے تک اِن میں سے کوئی بھی نہیں بچنا چاہیے۔۔۔”””””
کیوان کآردال جو اُسکے ساتھ بیٹھا تھا وہ اُسکے حکم پر آنکھوں میں غصہ لیے پاس رکھی ایک لوہے کی اسٹک اٹھا کر وہ دروازہ کھول کر نیچے اتارا۔۔۔۔
“”””فرغام سلطان کو خطرناک آپ سبکی خاموشی نے بنایا ہے اگر آپ لوگ اپنی خاموشی ختم نہیں کرے گے وہ اور شیر ہوتا چلا جائے گا پلیز ابھی بھی وقت ہے۔۔۔”””
پرائم منسٹر کی سیکٹریری کیمرے کے سامنے کھڑی پیچھے کھڑے سیاہ کپڑوں میں ملبوس لوگوں کی جانب اشارہ کرتی ہوئی کہہ رہی تھی ۔۔۔
فرغام سلطان اندر داخل ہوکر کیمرا مین کے ہاتھوں سے وہ کمیرہ لے کر اُس پرائم منسٹر کی سیکٹریری کے منہ پر زور سے مار کر پیچھے رکھی کرسیوں میں سے ایک کرسی اُس سیکٹریری کے بلکل پاس لگا کر وہ شان بے نیازی سے بیٹھ کر خون سے شرابور اُس عورت کو دیکھنا لگا جو صبح سے کیمرے کا سہارا لے کر عوام کو اُسکے خلاف بھڑکا رہی تھی۔
وہ اپنا ایک پیر اُسکی کلائی پر رکھ کر زور سے دبانے لگا جسکی وجہ سے وہ عورت تڑپ کر رہ گئی ۔۔۔۔
“”””””آہہہہہہہ۔۔۔۔۔۔””””””
پرائم منسٹر کی سیکٹریری درد کے مارے بُری طرح سے چیخ رہی تھی اور دوسری طرف باغی بن چکی عوام کے دل میں یہ منظر دیکھ کر فرغام سلطان کے پھر سے خوف پیدا ہونے لگا۔
“””فرید الماس کی موت کا بدلہ تُم لوگ مجھ سے اس طرح عوام کو میرے خلاف جھوٹی کہانیاں سُنا کر لوں گے،مجھے اندازہ نہیں تھا اگر ہوتا تو میں فرید الماس سے پہلے تُم لوگوں کا صفایا کرتا۔۔۔۔””””
پرائم منسٹر کی سیکٹریری تڑپ رہی تھی لیکن وہ بے حس انسان اُسکی کلائی پر پیر رکھے دباؤ بڑھائے جا رہا تھا۔۔
“”””کیمرہ کے سامنے معصوم بننے کا نتیجہ دیکھ لیا نہ تُم نے معزز محترم پرائم منسٹر صاحب،،،، اگر دوبارہ میرے راستے پر اپنے چمچے بھیجے ناں، تو میں خود تمھارے گھر میں گھس کر تمھیں جان سے مار دوں گا۔۔””
وہاں کیمرہ آن ہونے کی وجہ سے وہ پورے ملک کی کوریج کا حصہ بنا ہوا تھا پرائم منسٹر الیاس محمود جو مزے سے اپنے عالیشان گھر کے ٹی وی لاؤنج میں بیٹھا اپنی سیکٹریری کی نیوز میں جھوٹی کہانیوں سے لطف اندوز ہو رہا تھا کہ فرغام سلطان کے آنے پر وہ
سخت بدمزہ ہوگیا اور زور سے اپنے ملازم کو آوازیں
دینے لگا۔۔۔
“”””کہاں مر گئے ہو تُم سب کے سب یہاں آؤ اور میری بات سنوں۔۔۔۔””””
الیاس محمود اپنے ملازمین کو پکار رہا تھا تبھی وہاں انکی محبوب بیوی آکر اسکے گلے لگ گئی تو وہ غصے سے اُسے ہٹا کر اٹھا۔۔۔
“”کیا ہوا الیاس آپ نے مجھے کیوں خود سے دور کیا۔۔۔؟؟
اُسکی بیوی نے بچوں کی طرح منہ بسورتے ہوئے کہا۔۔۔
“””تُم کب بڑی ہوگی اب ہماری دونوں بیٹیاں جوان ہے کچھ تو لحاظ کروں زہرا بیگم۔۔۔۔””””
وہ کسی کو کال ملاتے ہوئے کہنے لگا۔۔۔۔
“”””الیاس صاحب میری صرف ایک ہی بیٹی ہے عروبہ وہ منحوس آپکی سابقہ بیوی کی بیٹی ہے آپ یہ کیوں بھول جاتے ہیں ہاں۔۔۔۔؟؟؟
وہ سخت غصے سے الیاس محمود کو گھورتی ہوئی بولی۔۔۔
“””””اپنی بکواس بند کرو روحین بھی ہماری ہی بیٹی ہے وہ بھی عروبہ کی طرح میرا خون ہے تُم مانوں یا نہ مانوں سمجھی اور اس وقت مجھے اکیلا چھوڑ دو اس وقت میری ملک کو سخت ضرورت ہے اگر میں نے اس نجی نیوز چینل کے دفتر پر فورسز نہیں بھیجا تو وہ کریمنل پھر سے ہمارے ہاتھوں سے نکل جائے گا۔۔۔”””
الیاس محمود سخت نظروں سے اپنی بیوی کو گھورتے ہوئے کہتا تیزی سے باہر نکلا تو پیچھے وہ سخت غصے سے چیخنے لگی۔۔۔۔
“””””ہوں اچھا تو وہ آپکی بیٹی ہے تو پھر آپ اسکی خیریت پوچھنے ہاسپٹل میں کیوں نہیں گئے تھے جب اُسکے ساتھ اتنا بڑا حادثہ ہوا تھا الیاس صاحب۔۔۔۔؟؟؟
اُسکی بیوی نے غصے سے چلاتے ہوئے کہا۔۔۔
“”””کیونکہ اُس وقت استنبول میں نہیں تھا زہرا بیگم اور اب مجھے جانے دو ورنہ وہ غنڈہ سب کچھ تباہ کر دے گا۔۔””””
الیاس محمود نے غضب ناک ہو کر کہا۔۔۔۔
“””الیاس صاحب وہ غنڈہ آپکی فورسز بھیجنے پر بھی سب کچھ تباہ کر لے گا،کیونکہ آپ ایک گھر کو ٹھیک سے سنبھال نہیں سکتے، خاک ایک ملک کو ایک غنڈے سے بچا پائے گے۔۔۔۔”””
زہرا بیگم نے یکدم سے انہیں آئینہ دیکھا دیا تو وہ شدید غصے سے اپنا فون نیچے مار کر انہیں دیکھنے لگا جو ڈر کر پیچھے کھڑی ہو کر انہیں دیکھنے لگی۔۔۔
“””ہوگیا آپکا زہرہ بیگم کیا اب میں چل سکتا ہوں اپنا فرض نبھانے۔۔۔””
سرد لہجے میں وہ اپنی بیوی کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر پوچھنے لگا تو اسے خاموش دیکھ وہ کچھ بھی کیے بغیر تیزی سے وہاں سے نکلا۔۔۔
“”””الیاس محمود صاحب میں اچھی طرح سے جانتی ہو تُم اس ملک کے کیسے سیاست دان ہو،بڑے آئے اس ملک کی فکر میں ہلکے ہونے والے ہنہہہہہ۔۔۔۔””””
وہ غصے سے پیر پٹکتی ہوئی اپنی روم کی جانب بڑھی ان دونوں میاں بیوی کو اپنی بیٹی کی بلکل بھی پرواہ نہیں تھی جو لندن سے آکر روز کئی نہ کئی آوارہ گردی کرنے نکل جاتی تھی آج بھی وہ صبح سویرے اپنے آوارہ دوستوں کے ساتھ نکلی ہے جسکا پتہ شاید ان میاں بیوی کو نہیں تھا۔۔۔
🌚🌚🌚🌚🌚🌚🌚🌚🌚🌚🌚🌚🌚🌚🌚🌚🌚
“””یہ یہاں پولیس اور فوج کیا کر رہی ہے۔۔۔؟؟؟
فریدہ یزدان جب اپنے دفتر کے پاس پہنچی تو سامنے پولیس اور فوج کی گاڑیوں کو دیکھ وہ سخت حیرت زدہ رہ گئی کیونکہ روحین کے لیے ناشتہ بنانے کی وجہ سے انہوں نے نیوز نہیں دیکھا تھا۔۔۔۔
“”””مجھے اندر جانا چاہیے یا نہیں۔۔۔۔””””
وہ اپنی کار میں بیٹھی سوچ رہی تھی کہ تبھی اُنکے پاس انکی باس کی کال آنے لگی۔۔۔۔
“”””ہیلو۔۔۔۔””””
وہ فون کان سے لگا کر دوسری طرف موجود اپنی باس کو ہیلو کہنے لگی وہ اپنی باس کی کال پر سخت ڈر گئی تھیں۔۔
“”””فریدہ اگر تُم پہنچ گئی ہو تو پیچھے کے راستے سے اندر آنا ۔۔۔۔””””
باس کی بات پر وہ گہری سانس خارج کر گئی۔۔۔۔۔
“”””اوکے میم میں ابھی آتی ہو۔۔۔””””
وہ کہتی فون رکھ کر کار وہی پارک کر کے باہر نکلی اور بھاگنے والے انداز میں بلڈنگ کی پچھلی سائیڈ کی جانب بڑھی۔۔۔
دوسری طرف نازلی کو جب فرغام سلطان کی یہاں موجودگی کا پتہ چلا تو وہ بھی یہاں پہنچی۔۔۔۔
“””آفیسر نازلی آپ اندر نہیں جا سکتی۔۔۔”””
اُسے جب سامنے کھڑے ایک آفیسر نے اسے اندر جانے سے روکا تو وہ خاموشی سے وہاں سے نکل کر اس بلڈنگ کی پچھلی جانب بڑھی۔۔۔
“مگر کیوں آفیسر میں کیوں اندر نہیں جا سکتی۔۔۔؟؟؟
نازلی نے اُس آفیسر سے پوچھا۔۔۔۔
“”””کیونکہ آفیسر نازلی آپ اس وقت آن ڈیوٹی پر نہیں ہے اسی لیے یہاں صرف ڈیوٹی آفیسران کی اجازت ہے۔۔۔۔””””
وہ آفیسر اُسے کہتا سنجیدگی سے سامنے کی جانب متوجہ ہوا۔۔۔
“”””لیکن آفیسر یہ تو غلط بات ہیں،آپ مجھے اندر جانے کی اجازت نہیں دے رہے ہیں،جبکہ میں بھی ایک آفیسر ہو میرا بھی فرض بنتا ہے اس وقت اپنی ٹیم کے ساتھ مل کر اُس کریمنل کو پکڑنے کا آپ اس طرح مجھے میرے فرض سے پیچھے نہیں ہٹا سکتے۔۔۔””””
نازلی نے سخت تیوریاں چڑھا کر کہا۔۔۔
“آفیسر نازلی یہ میرا نہیں یہ سینئیر آفیسرز کا فیصلہ ہے ۔۔۔””””
آفیسر کی بات پر وہ خاموش ہوگئی اور پیچھے ہٹنے لگی۔پھر نظریں اُس بلڈنگ کی جانب بڑھا کر چاروں طرف دیکھنے لگی جہاں اس وقت وہ اپنی پوری دہشت کے ساتھ موجود تھا جسے وہ کسی قیمت پر بھی یہاں سے بھاگنے نہیں دینا چاہتی تھی۔۔۔
وہ دماغ میں منصوبہ بنا کر کے فرغام سلطان کو کیسے پکڑنا ہے یہ پلان بنا کر وہ تیزی سے بلڈنگ کی پچھلی سائیڈ کی طرف بڑھی۔۔۔
“”””آج مجھے کوئی بھی نہیں روک سکتا اُس شیطان کو ختم کرنے سے میرے ساتھی بھی نہیں۔۔۔”””
وہ دل میں کہتی نفرت کے جذبات لیے دیوار پھلانگ کر اندر داخل ہوگئی،،، فریدہ یزدان جو فائرنگ کی آوازوں سے سخت خوفزدہ ہو رہی تھی اور ڈرتی ہوئی آگے بڑھ رہی تھی کہ دیوار سے نازلی کے نیچے کھودنے پر وہ سخت گھبرا کر چیخ مار کر نیچے گری۔۔۔۔
🌚🌚🌚🌚🌚🌚🌚🌚🌚🌚🌚🌚🌚🌚🌚🌚
روحین کافی نروس ہو رہی تھی آج کالج میں اُسکا پہلا دن تھا وہ بیگ پر گرفت سخت کیے کالج گیٹ کے اندر داخل ہوئی تو پریشانی سے آنکھوں کو پورے کالج میں ڈورہا کر وہ قدم آگے بڑھانے لگی، تبھی وہ کسی چٹان نما شخص سے بُری طرح سے ٹکرا گئی۔۔۔
“”””یار وہ لڑکی تو شکل سے ہی بے وقوف لگ رہی ہے کیوں نہ پہلے اسے پکڑتے ہیں۔۔۔۔”””
عروبہ جو سینئر کے سامنے کھڑی ریکنگ کا شکار ہو رہی تھی اُن میں سے ایک لڑکے کی بات پر وہ پیچھے دیکھنے لگی تو سامنے روحین کو دیکھ طنزیہ انداز میں مسکرانے لگی اسنے یہاں ایڈمیشن صرف اسے تنگ کرنے کے لیے لیا تھا تو پھر وہ کیوں ان لوگوں کی ریکنگ برداشت کر رہی تھی۔۔۔۔۔
“””یہ لڑکی شکل سے لگتی نہیں بلکہ یہ اصل میں بے وقوف معصوم اور ایک نمبر کی ڈرپوک ہیں، اگر تُم لوگ مجھے اپنی ٹیم میں شامل کر لوں گے،،، تو میں تمھیں بتاؤ گی اس لڑکی کو کون کون سی چیزوں سے ڈر لگتا ہے۔۔۔””””
عروبہ نے طنزیہ انداز میں کہا۔۔۔۔
“”””لڑکی تُم پاگل تو نہیں ہو یا ہمیں پاگل بنا رہی ہوں تم ایسے اس لڑکی کے بارے میں بتا رہی ہو جیسے وہ تمھاری بہن ہے،اور تُم نے کیا ہمیں بے وقوف سمجھ کر رکھا ہے جو تم کہوں گی ہم وہی کرے گے۔۔۔””””
اُس گروپ کے لیڈر نے عروبہ کی بات پر اٹھتے ہوئے کہا۔۔
“””””میں تُم لوگوں کو بے وقوف نہیں بنا رہی وہ میری سوتیلی بہن ہے اور میں اسکے بارے میں بہت اچھے سے جانتی ہو کہ اُسے کن کن چیزوں سے ڈر لگتا ہے، تم لوگ مجھ پر یقین نہ کرکے صرف اپنا اور میرا وقت برباد کر رہے ہو اگر میں تم لوگوں کی جگہ ہوتی نا تو اب تک اُسے ڈرا چکی ہوتی ۔۔۔”””””
عروبہ سخت نظروں سے ان سب کو دیکھتی ہوئی بولی۔۔۔
“”””ٹھیک ہے اگر وہ بے وقوف لڑکی تمھاری سوتیلی بہن ہے،تو اُسے ڈرا کر ہمیں یقین دلا دوں کہ وہ سچ میں تمھاری سوتیلی بہن ہے۔۔۔”””
اُس ٹیم کے لیڈر نے عروبہ کو سنجیدگی سے دیکھتے ہوئے کہا تو وہ لبوں پہ شاطرانہ مسکراہٹ سجا کر پیچھے مڑ کر روحین کو دیکھنے لگی جو گھبراہٹ کے مارے پورے کالج کو دیکھ رہی تھی۔۔۔۔
🌚🌚🌚🌚🌚🌚🌚🌚🌚🌚🌚🌚🌚🌚🌚🌚🌚
“”””اے لڑکی تُم کون ہو۔۔۔۔؟؟؟
فریدہ یزدان اپنی پیر پر زخم دیکھ سامنے کھڑی نازلی کو غصے سے گھورتی ہوئی پوچھنے لگی تو نازلی نے اپنا کارڈ آگے کرتے ہوئے انہیں دیکھایا تو وہ مطمئن ہوگئی کہ وہ اس وقت ایک آفیسر کے ساتھ ہے کسی گینگسٹر کے ساتھ نہیں۔۔۔۔
“”””آپ کو یہاں نہیں آنا چاہیے تھا،،یہاں بہت خطرہ ہے، آئے میں آپکو باہر چھوڑ کر آتی ہوں آنٹی ۔۔۔””””
نازلی نے آگے بڑھ کر انہیں اٹھاتے ہوئے پوچھا۔۔۔۔
“””بیٹا یہ تو میری جاب میں چلتا رہتا ہے،مجھے ان سب کی اب تو عادت سی ہوگئی ہے جب تک میں گولی کی آواز نہ سنو پتہ ہے مجھے نیند نہیں آتی ہے ۔۔”””
وہ نازلی کے ساتھ آگے بڑھتی ہوئی ہنس کر بولیں۔۔۔
“”آنٹی کبھی یہ گولیاں ہماری جان بھی لے سکتی ہے آپکو اس بری عادت سے جلد چھٹکارا پانا چاہیے ورنہ آپکو کچھ ہوگیا تو آپکے پیاروں کو بہت تکلیف ہوگی۔۔””
نازلی اُنکا ہاتھ پکڑ کر اُنہیں سنجیدگی سے سمجھاتی ہوئی آگے بڑھ رہی تھی ….
“””میرا اور میری بیٹی کا میرے علاؤہ اس دنیا میں کوئی بھی نہیں ہے میری بیٹی بلکل تمھاری عمر کی ہے لیکن بیٹا تُم دونوں میں زمین آسمان کا فرق ہے وہ ایک ڈرپوک لڑکی اور تم ایک نڈر لڑکی۔۔۔””””
فریدہ یزدان مسکرا کر روحین کو یاد کرتی ہوئی بولیں۔۔۔۔تبھی فائرنگ کی آوازیں قریب سے آنے لگی تو وہ دونوں تیزی سے ایک سائیڈ پر چھپنے کے لیے بھاگی مگر۔۔۔۔
شاید خدا کو کچھ اور ہی منظور تھا۔۔۔۔