No Download Link
Rate this Novel
Episode 6
“”””آفیسر نازلی آپکو میں نے کہا تھا آپ اس کیس سے دور رہیں گی پھر آپ یہاں کیوں آئی تھیں،آپکو پتہ ہے ناں کہ وہ غنڈہ آپکی سچائی جان چکا ہے کہ آپ کون ہیں، اور یہ کون ہے۔۔۔۔؟؟؟
آفیسر جمال کیوان کآردال کے بازوؤں میں نازلی کو زخمی حالت میں دیکھ کر تیزی سے آگے بڑھا اور سختی سے کہنے لگا۔۔۔
کیوان کآردال جو اس وقت بنا ماسک کے تھا۔سامنے کھڑے آفیسر کے سلطان بے کے بارے میں خیالات سُن کر مسکرانے لگا کیونکہ فرغام سلطان کے بندوں کو آج تک کسی نے نہیں دیکھا تھا کہ وہ کس طرح دکھتے تھے۔۔
اور کیوان کآردال اس وقت اس بات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے نازلی کو لیے اپنا سینا تان کر فورسز کے سامنے سر اٹھا کر کھڑا تھا۔۔۔
“”””آفیسر جمال اُسے پتہ نہیں ہے کہ میں کون ہوں آپ فکر مت کریں اور آج میں یہاں اکیلی نہیں آئی تھی یہ میرا دوست ہے میں اس کے ساتھ یہاں آئی تھی۔۔۔”””
نازلی کیوان کآردال کو نظروں ہی نظروں میں نیچے اتارنے کا کہتی آفیسر جمال سے گویا ہوئی۔۔۔
“””یہ آپکو کیسے پتہ چلا کہ فرغام سلطان آپکی سچائی سے ناواقف ہے۔۔۔؟؟؟
آفیسر جمال کیوان کآردال سے شاید مطمئن ہو گیا تھا جو آرام سے اسکے سامنے نازلی سے یہ پوچھنے لگا۔۔۔
“”””کیونکہ میں آج اُسکے سامنے گئی تھی آفیسر جمال وہ مجھے دیکھ کر چونکا نہیں تھا اس نے بس یہ کہا تھا کہ میں آفیسر نازلی ہوں، اس کا مطلب ہے وہ میرے بارے میں ابھی تک انجان ہیں۔۔۔”””
نازلی نے آفیسر جمال کی جانب دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔
“””اوکے نازلی اب میں چلتا ہوں مجھے ایک ضروری کام یاد آگیا ہے ہماری ملاقات رات کو ہوگی۔۔۔”””
کیوان کآردال بیچ میں انہیں روکتا کہنے لگا۔۔۔
“””ٹھیک ہے میں بعد میں تمھیں کال کرتی ہوں۔۔۔”””
وہ سنجیدگی سے کیوان کآردال کی جانب دیکھتی ہوئی بولی۔۔
“””اس کی ضرورت نہیں ہے میں خود نازلی آپکے پاس آؤں گا پھر بیٹھ کر بہت ساری باتیں کریں گے اپنی بچپن کی۔۔۔”””
وہ ایک آنکھ ونک کرتا وہاں سے چلا گیا اور نازلی اسکے فری ہونے پر وہی کھڑی سخت نظروں سے اُسے گھورنے لگی۔۔۔
“””آفیسرز۔۔۔””””
نازلی ایک جونئیر آفیسر کی چیخ پر پیچھے مڑی تو سامنے فریدہ یزدان کی لاش کو دیکھ وہ تیزی سے آگے بڑھی۔۔۔
نازلی جو آگے بڑھ رہی تھی یکدم سے رکی اور ہاتھ آگے بڑھا کر آفیسر جمال کو بھی روک کر کچھ دیر کیوان کآردال کے کہے لفظوں کو یاد کرنے لگی جو کسی کام کا کہہ کر یہاں سے گیا تھا۔۔۔
“””آفیسر سب کو جلدی سے باہر نکالو جلدی یہاں بم فکس کیا گیا ہے اس لیے جلدی کرو ورنہ جو لوگ اندر ہیں وہ مر جائیں گے ہماری لاپرواہی کی وجہ سے۔۔۔”””
نازلی آفیسر جمال کو کہتی تیزی سے آگے بڑھی،تو آفیسر جمال بھی اُسکے پیچھے بھاگا۔۔۔
لیکن اب بہت دیر ہو چکی تھی نازلی اور باقی آفیسر عمارت کے اندر داخل ہوتے اس سے پہلے ہی ایک زور دار دھماکے کے ساتھ ہی پوری عمارت زمین بوس ہوگئی تھی۔۔۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
“””سلطان بے آپ کہاں ہیں۔۔۔؟؟؟
کیوان باہر نکلا تبھی اُسکے فون پر فرغام سلطان کی کال آئی تو وہ جلدی سے کال ریسیو کرتا پریشانی سے پوچھنے لگا۔۔۔
“کیوان کآردال اُس عورت کو ختم کر دیا کہ نہیں۔۔۔؟؟
دوسری جانب سے سرد آواز پر کیوان کآردال منہ بنانے لگا۔۔۔
“””جی ہاں بے میں نے اُسے مار دیا ہے اور اُسکے پیٹ پر وہ بم فکس کر دیا ہے جو آپ فکس کرنے والے تھے بس تھوڑی دیر بعد یہ عمارت ملبے میں تقسیم ہونے والی ہے۔۔””
کیوان نے سنجیدگی سے کہا۔۔
“””ویری گڈ اُس پرائم منسٹر کو اب پتہ چلے گا فرغام سلطان کا نام استعمال کرنے کا انجام کیا ہوتا ہے۔۔۔”””
فرغام سلطان نے دہشت زدہ لہجے میں کہا۔۔
“”بے آپ نے یہ تو بتایا ہی نہیں کہ آپ اس وقت کہاں ہیں۔۔۔؟؟
کیوان ایک بار پھر اسکی لوکیشن پوچھنے لگا تو وہ اُسے اپنی لوکیشن بتانے لگا جو شہر سے باہر تھا۔۔۔۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
“””لائیں میں کر دیتا ہوں۔۔۔”””
نازلی اپنی کار میں بیٹھی اپنے سر کے زخم کو صاف کرنے کی کوشش کر رہی تھی کہ تبھی کار کی کھڑکی سے اپنا سر اندر ڈال کر کیوان کآردال نے کہا۔
“”””کوئی ضرورت نہیں مجھے اپنے دشمنوں کا احسان بالکل بھی نہیں لینا ہے۔۔۔”””
نازلی اُسکے ہاتھ پٹی کی جانب بڑھانے پر تیزی سے پیچھے کی طرف کھسکتی ہوئی شدید غصے سے کہنے لگی۔۔۔
“””مس آفیسر اس میں احسان لینے والی کیا بات ہوئی بھلا اور آپ اب اتنی بے رخی سے کیوں پیش آ رہی ہیں مجھ سے میں تو بس آپکی ہلیپ کرنا چاہتا ہوں۔۔”””
کیوان کآردال نے سخت تیوریاں چڑھا کر دروازہ کھولتے ہوئے اندر بیٹھ کر کہا۔۔۔
“””””یہ تُم اندر کیوں آئے ہو باہر نکلو۔۔۔”””
نازلی اُسکی ڈھٹائی پر سخت غصے سے اُس سے دور ہوکر دوسری سائیڈ سے جاکر لگی۔۔۔
“””نہیں بالکل بھی نہیں جب تک آپ مجھے اپنی بینڈیج کرنے نہیں دیں گی میں تب تک یہی بیٹھا رہوں گا۔۔”””
کیوان کآردال نے ضدی لہجے میں کہا۔۔۔
“””میں کیوں تُم جیسے سنگدل انسان سے بینڈیج کرواؤں بولو ہاں جواب دو مجھے تُم جس نے ابھی اتنے معصوم لوگوں کی جانیں صرف اپنے باس کے کہنے پر لی ہیں۔۔؟؟؟
وہ عمارت کا سوچ کر یکدم سے آگے بڑھی اور اُسے کالر سے پکڑ کر شدید غصے سے جھنجھوڑ کر پوچھنے لگی۔۔۔
“””میں نے بے کے کہنے پر کسی معصوم کی جان نہیں لی ہے جو آپ مجھ پر اتنا بڑا الزام لگا رہی ہیں۔۔۔سمجھیں۔۔۔۔”””
وہ اپنے کالر کو سختی سے دبوچے ہوئے اسکے نازک ہاتھوں کو پکڑ کر سرد لہجے میں کہنے لگا۔۔۔
“””میں تُم پر الزام نہیں لگا رہی ہوں جو میں نے ابھی دیکھا ہے وہی کہہ رہی ہوں تمھارا بے ایک ظالم انسان ہے اُسے بچانے کے لیے اب اتنے جھوٹ مت بولو سمجھے تُم۔۔۔”””
نازلی شدید نفرت سے اپنے بھائی کا نام لیتی ہوئی بولی۔۔۔
“””سلطان بے ظالم نہیں ہے اُسے ظالم بنانے والا آپ لوگوں کا باپ ہے سمجھیں آپ اور یہ لائیں مجھے دیں۔۔۔”””
وہ سرد لہجے میں کہتا اُسکے ہاتھ سے فرسٹ ایڈ باکس چھین کر زبردستی اُسے فرسٹ ایڈ دینے لگا۔۔
“””یہ تُم کیا بکواس کر رہے ہو میں نے ماما سے تو سُنا تھا کہ بابا ایک نرم دل انسان تھے۔۔۔”””
نازلی شاک کی حالت میں کیوان کآردال کی جانب دیکھتی ہوئی پوچھنے لگی جو اُسکے سر پر بینڈیج باندھنے کے بعد کلائی پر باندھ رہا تھا۔۔
“”””بے کی والدہ اپنے بڑے بیٹے کو کھونے کے بعد اپنے چھوٹے بچوں کو ایک قابل انسان دیکھنا چاہتی تھیں اسی لیے انہوں نے آپ سے اور آپکے بھائی سے یہ جھوٹ بولا تھا
ورنہ حکمت صاحب کیسے تھے یہ آج بھی پوری دنیا جانتی ہے۔۔۔۔”””
وہ اُسکی کلائی کو ہلاتے ہوئے ماضی کی کچھ باتیں اُسے کہنے لگا جس سے نازلی سچ میں بے خبر تھی یا شاید ماما فرغام سلطان کے بُرا بننے پر اسے اور بھائی کو بے خبر رکھنا چاہتی تھی۔۔۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
“””اُس غنڈے نے تُم لوگوں کی موجودگی میں ہمارے بہت سارے لوگوں سمیت میری سیکڑیٹری کو میری سابقہ بیوی کے ہمراہ بم سے اڑایا ہے اور تُم لوگ یہاں کھڑے صرف یہ تماشا ہوتے ہوئے دیکھتے رہ گئے۔۔””
الیاس محمود کو عمارت پر بم پھٹنے کا پتہ چلا تو وہ سیدھا وہی پر آیا اور جب یہاں آکر اُسے فریدہ یزدان کی لاش ملی تو وہ میڈیا کی موجودگی کی وجہ سے اپنی آنکھوں میں جھوٹ موٹ کے آنسو لا کر ساری فورس کو لیڈ کرتے آفیسر پر بھڑکتے ہوئے کہنے لگا۔۔۔
“””کیا سر وہ عورت جو ہمیں اندر سے مردہ حالت میں ملی ہے وہ آپکی بیوی ہے ۔۔؟؟؟
اُس آفیسر نے حیرت سے اُسکی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا ۔۔
“”ہاں وہ میری سابقہ بیوی ہے اور میری ایک بیٹی بھی اُس سے،میں نے اپنی فیملی کو اسی وجہ سے دور رکھا ہوا ہے تاکہ کوئی انہیں نقصان نہ پہنچا دے اور آج وہی ہوا جس کا مجھے ڈر تھا اور اسکے ذمے دار اس غنڈے کے ساتھ ساتھ تم لوگ بھی ہو۔۔”””
الیاس محمود نے غصے سے سبھی آفیسرز کی جانب دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔
“””سر اُس نے کھیل ہی ایسا کھیلا تھا کہ ہم لوگ سمجھ ہی نہیں سکے۔۔۔””
آفیسر نے اسے دیکھتے ہوئے کہا۔تبھی ایک جونئیر آفیسر نے وہاں آکر جو روح فرساں خبر اُن سب کو سنائی اسے سن کر سب یکدم سے اپنی اپنی جگہ سے اٹھ گئے۔۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
“”””””تُم۔۔۔۔؟؟؟؟
ڈور بیل کی آواز پر وہ دروازے کی جانب بڑھی تو سامنے کھڑے شخص کو دیکھ وہ سخت نظروں سے اُسے گھورتی ہوئی بولی۔۔۔۔
“””””وہ دراصل مجھے آپ کو تھینکس کہنا تھا میری جان بچانے پر۔۔””
سامنے کیوان کآردال اپنے لمبے قد کے ساتھ دروازے کے باہر کھڑا اپنا ایک ہاتھ اپنے بالوں پر پھیرتے ہوئے کہنے لگا۔۔۔
“””میں نے تمھیں صرف اپنے لیے بچایا تھا اوکے، اینڈ تُم نے مجھے تھینکس کہہ دیا ناں تو اب تُم یہاں سے تشریف لے کر جا سکتے ہو۔۔۔”””
نازلی کہتی سختی سے دروازہ بند کرنے لگی،کیوان کآردال جو باہر کھڑا اُسے دیکھ رہا تھا اُسکے دروازے بند کرنے پر تیزی سے اُسنے اپنا ایک پیر دروازہ بند ہونے سے پہلے بیچ میں رکھ دیا۔۔۔۔
“”””کیا آپ نے مجھے اپنے لیے بچایا تھا کسی ہمدردی کے تحت یا اپنے مقصد کے لیے میں تو سمجھا آپ مجھے پکڑتے ہوئے دیکھنا نہیں چاہتی تھیں،کیونکہ میں بے کا رائٹ ہینڈ جو ہوں آپ نے اسی لیے مجھے اُن سے بچایا ہوگا لیکن آپ نے تو میری خوش قسمتی کو خوش فہمی میں بدل دیا ۔۔””””
کیوان کآردال اِس بات پر پھٹی آنکھوں سے اُسے دیکھنے لگا،تو نازلی کی سرمئی آنکھیں اُسکی اِس بات پر اٹھیں اور جھکنا بھول گئیں،کیونکہ مقابل کھڑے شخص کی آنکھوں میں ایک ایسا جادو تھا جس کے سحر میں وہ مبتلا ہو گئی تھی۔۔۔۔
“”””ہیلو۔۔۔۔””””
وہ اُسکے زور سے چٹکی بجانے پر چونکی ۔۔۔
“”””تت۔۔۔۔ہاں تُم کیا کہہ رہے تھے۔۔۔۔؟؟؟؟
نازلی اپنی نظریں اور ڈھرکنیں سنبھالتی ہوئی بولی ۔۔
“”””کچھ بھی نہیں مس آفیسر۔۔۔۔””””
وہ اُسکی غائب دماغی پر سخت چڑتے ہوئے کہتا واپس جانے کے لیے مڑا تو نازلی اُسے مڑتے ہوئے دیکھتی سٹپٹا کر تیزی سے آگے بڑھ کر اُسے کندھوں سے پکڑ کر رکنے کا کہنے لگی۔۔۔۔
“””””تُم مجھے تھینکس کہنے اِس طرح خالی ہاتھ آئے ہو۔۔۔؟؟
نازلی کا دل پتہ نہیں کیوں اُس سے کچھ دیر اور باتیں کرنے کا چاہ رہا تھا تو وہ اُسے کندھوں سے پکڑکر اندر کھینچتی ہوئی کہنے لگی۔۔۔۔
“”””ہوں سو سوری وہ دراصل میں کل سے پلان بنا رہا تھا کہ مجھے آپکو تھینکس کس طرح کہنا چاہیے ،تو میں اسی چکر میں آپ کے لیے کچھ لانا بھول گیا ہوں۔””””
کیوان کآردال نے اپنے کندھے پر مضبوطی سے رکھی گئیں اُسکی نازک انگلیوں کو دیکھا جو اُسکی بے چینی کو کیوان کآردال کے اوپر سخت ظاہر کر رہی تھی،کہ وہ اس وقت کتنی بے چین ہو رہی ہے۔۔۔
“””””کوئی بات نہیں تُم مجھے یہ بتاؤ،میں تو تمھارے بے کی نمبر ون دشمن ہوں، تو اُس دن تُم نے مجھے فرسٹ ایڈ کیوں دیا تھا تُمھارے پاس موقع تھا تُم مجھے مار سکتے تھے پھر تُم نے کیوں مجھے نہیں مارا تھا،کیوں میری جان بچائی تھی اُس وقت تُم نے۔۔؟؟؟؟
وہ اُسکی نظروں کو اپنی انگلیوں پر مرکوز دیکھ شرم سے سرخ ہوتی تیزی سے اپنا ہاتھ اُسکے مضبوط کندھے سے ہٹا کر اُس سے پوچھنے لگی۔۔۔۔۔
“”””مس آفیسر آپ سلطان بے کی دشمن نہیں بہن ہو اور یہ بات جاننے کے بعد میں اس وجہ سے آپکی بہت عزت کرنے لگا ہوں،میں اس وقت بے حد شرمندگی محسوس کر رہا ہوں گفٹ نہ لانے کی وجہ سے کیا آپ مجھے بتا سکتی ہیں،آپکا کچن کس طرف ہے۔۔۔۔؟؟؟
کیوان کآردال اپنا سیاہ لانگ کوٹ اتارتے ہوئے کہنے لگا۔
نازلی اُسے اپنا کوٹ اتارتے ہوئے دیکھ تیزی سے پیچھے مڑی۔۔
“”””وو۔۔۔۔وہاں اُس طرف۔۔۔۔””””
وہ اُس سے رخ موڑے کھڑی اپنی لزرتی انگلی سے اُس جانب اشارہ کرنے لگی،جہاں پر اُسکا کچن تھا،
تو کیوان اُسکے اشارہ کرنے پر اپنا کوٹ سامنے رکھے صوفے پر پھینکتا اُسکے پاس سے گزرا تو نازلی کی نظریں اچانک سے اٹھیں اور اُسکی سیاہ بنیان سے جھانکتے اُسکے مضبوط مسلز پر آکر رک گئیں۔۔۔
“”””تت۔۔۔یہ تُم کیا کر رہے ہو۔۔۔۔؟؟؟؟
نازلی اپنے چھوٹے سے کچن میں داخل ہوئی تو اُسے فریج سے چکن نکالتے ہوئے دیکھ وہ تیزی سے آگے بڑھتی ہوئی اُس سے سختی سے پوچھنے لگی۔۔۔
“””تھینکس۔۔۔””””
کیوان اُسکے تیزی سے آکر گوشت کے پیکٹ کو پکڑنے پر اپنے لبوں پر ایک خوبصورت مسکراہٹ سجا کر گوشت پیکٹ واپس اُس سے کھینچ کر پھر اُسے خود سے دور کرتا بس اتنا ہی بولا۔۔۔
“””””تھینکس کس بات کے لیے میں تُم سے یہ پوچھ رہی ہوں کہ تُم یہاں کیا کر رہے ہو،میں کہتی ہو ابھی کے ابھی نکلو باہر ورنہ میں تمھیں جان سے مار ڈالوں گی۔۔۔””””
نازلی آگے بڑھ کر اُسکے گلے سے ائپرن اتارنے لگی تو وہ اُسے کندھوں سے پکڑ کر فلرٹی انداز میں مسکرانے لگا،تو نازلی اُسکی اس مسکراہٹ پر ائپرن چھوڑتی تیزی سے پیچھے ہٹی۔۔
“””مس آفیسر اگر اب آپ نے مجھے ڈسٹرب کیا ناں تو میں آپکو بہت بڑی پنشمینٹ دوں گا۔۔۔”””
کیوان ایک آنکھ معنی خیزی سے ونک کرتا ائپرن درست کرتا واش بیشن کی جانب بڑھا اور گوشت صاف کرنے لگا۔۔۔
“”””کک۔۔۔کیسی پنشمینٹ۔۔۔۔؟؟؟؟
نازلی اٹکتی ہوئی اُس سے پوچھنے لگی۔۔۔۔
“”””ایسی پنشمنٹ دوں گا جسکی وجہ سے آپ مجھے میرا کام ہونے تک بالکل بھی تنگ کرنے کی جرات نہیں کر سکے گئیں۔۔۔””””””
وہ اُسکی جانب دیکھتے ہوئے معنی خیزی سے کہنے لگا تو نازلی اُسکی بات پر سخت نظروں سے اُسکی چوڑی پشت کو گھورنے لگی۔۔۔۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
“””میری بڑی بیٹی کی حالت ایسی کس نے کی ہے اور میری دوسری بیٹی کہاں ہے جاؤ سی سی ٹی وی سے پتہ کرواؤ کس نے میری چھوٹی بیٹی کو اغوا کیا ہے۔۔۔؟؟؟
کالج انتظامیہ سر جھکائے الیاس محمود کے آگے کھڑا تھا کیونکہ صبح مالی کو کالج کی پچھلی سائیڈ پر عروبہ کے ساتھ وہ آوارہ گروپ کے لڑکے اور لڑکیاں بُری حالت میں بے ہوش پڑے ملے تو وہ ڈرتے ہوئے پرنسپل کے آفس کی جانب بھاگا تھا اور اب الیاس محمود کے آنے پر کالج انتظامیہ کو انکے پاس بلایا گیا تو وہ سخت غصے سے اس سے پوچھنے لگا۔۔۔
“””سر وہ سی سی ٹی ٹی وی کیمرہ سالوں سے خراب ہے۔۔۔””
کالج انتظامیہ نے سخت شرمندگی سے سر مزید جھکاتے ہوئے کہا۔۔۔
“””کیا مطلب کیمرہ سالوں سے خراب ہے میری بیٹی غائب ہوئی ہے یہاں سے اور تُم کہہ رہے ہو کیمرہ خراب ہے تُم آخر یہ فنڈ کس چیز کے لیے لیتے ہو حکومت سے جب تُم یہاں کچھ بھی سہولت کی چیزیں فراہم نہیں کرتے ہو اسٹوڈنٹس کے لیے ہاں بولو۔۔؟؟؟
وہ سخت غصے سے اٹھتے ہوئے کالج انتظامیہ کو کالر سے پکڑتے ہوئے پوچھنے لگا۔۔۔
“””ناظرین دیکھ رہے ہیں آپ پرائم منسٹر کی بیٹی کی بُری حالت کو جو ہمیں ذرائع سے پتہ چلا ہے یہ ناکامی اور انتقام کی آگ میں جل کر فرغام سلطان نے کیا ہے۔”
ہر نیوز چینل کی ہیڈلائنز پر عروبہ کی بُری طرح سے کٹی دونوں ہاتھوں کی تصویر لگا کر یہ خبر شائع کی جا رہی تھی۔۔۔
دوسری طرف روحین جو اُس ہوٹل کے روم میں بند سخت بور ہو رہی تھی وہ شخص اسے چھوڑ کر پتہ نہیں کہاں چلا گیا تھا۔۔۔
“””آہہہہہہہہ نن۔۔۔۔نہیں۔۔۔۔”””
وہ اپنی بوریت دور کرنے کے لیے سامنے لگی ایل ای ڈی کو چلا کر دیکھنے لگی تو سامنے نیوز پر یہی خبر اور اُس شخص کا نام سن کر بُری طرح سے ڈرتی ریموٹ دور اچھال کر چیخ مارتی ہوئی بیڈ پر صدمے سے بے ہوش ہو کر گر گئی۔۔۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
“””تُم نے مجھے چھوڑنے کے بارے میں سوچا بھی کیسے۔؟؟؟
آواز میں جنونیت اور آنکھوں میں شرارے لیے وہ اُسکے اوپر جھکا یہ سوال پوچھ رہا تھا۔
روحین جو ڈر اور گھبراہٹ کی وجہ سے اپنا چہرہ دوسری جانب کیے دیکھ رہی تھی،اُسکی انگلیوں کو بُری طرح سے اپنے کندھوں میں دھنستے ہوئے محسوس کرتی بُری طرح سے آنسو بہانے لگی۔۔
“””مم۔۔۔۔مجھے ی۔۔۔۔یہاں نہیں رہنا۔۔۔۔”””
وہ اُسکی قربت کی وجہ سے بُری طرح سے اٹک اٹک کر بولی اُسکی گرم سانسوں کے تھپیڑوں سے وہ اپنی ہارٹ بیٹ کو تیز چلتے ہوئے محسوس کر رہی تھی۔۔۔
“””کیوں نہیں رہنا چاہتی ہو میرے پاس۔۔؟؟؟؟
اس بات پہ وہ یہ سوال پوچھ کر اُسکے چہرے کے اور بھی قریب آکر اپنا دوسرا ہاتھ اُسکے سرخ رخسار پر کسی چاقو کی تیز دھار کی طرح رکھ کر۔۔۔پھر اُس پر ایک دل دہلا دینے والا احساس چھوڑتا سنجیدگی سے ایک لکیر کھینچتا ہوا نیچے اُسکے کٹاؤ دار لبوں کی جانب بڑھا۔
“””آپ سے ڈڈ۔۔۔۔ڈر لگتا ہے مجھے۔۔۔۔””””
روحین اپنے لبوں کے درمیان میں اُسکی مضبوط انگلی کو حرکت کرتے ہوئے دیکھ اپنی پیشانی پر پسینے کے چھوٹے چھوٹے قطرے پھوٹتے ہوئے شدت سے محسوس کرنے لگی۔۔۔
“”””کیوں۔۔۔؟؟؟؟
اُسکی انگلی اُسی طرح اُسکے لبوں کے درمیان میں حرکت کر رہی تھی،
روحین کو اپنی سانسیں اُسکی انگلی کی حرکت پر بُری طرح سے اٹکتی ہوئی محسوس ہو رہی تھیں۔۔۔
“””آپ بہت بُرے ہیں اُسی لیے مم۔۔۔مجھے آپ سے ڈر لگتا ہے۔۔۔”””
روحین ہڑبڑا کر اُسکے سوال کے جواب میں اتنا بولی۔
“”””کیا میں اتنا زیادہ ڈراؤنا ہو۔۔؟؟ جو تُم مجھ سے اتنا ڈرتی ہو۔۔۔”””
فرغام سلطان اُسکے جواب پر اپنے لہجے میں خونخواری لیے اپنی انگلی کو جو اُسکے لبوں کے درمیان میں حرکت کر رہی تھیں ،جھٹکے سے اُسکی زبان کو کھینچتے ہوئے پوچھنے لگا تو تکلیف کے باعث روحین کی چیخے بلند ہونے لگیں۔۔۔۔
“”””آہہہہہہہ۔۔۔۔””””
اُسکی چیخیں بھی فرغام سلطان کے غصے کو موم نہیں کر پا رہی تھیں،وہ اُسی طرح اپنی دہشت سے اُسے ڈرا رہا تھا۔
“””بولوتُم مجھ سے ڈرتی نہیں ہو۔۔۔۔؟؟
اپنے ازلی سرد مہر لہجے میں کہتا وہ اُسے حکم دینے لگا۔۔۔
“”””مم۔۔۔میں آپ سے ڈرتی ہوں۔۔۔”””
روحین روتی ہوئی بولی۔۔۔
“”””یہ نہیں میری سویٹ ہارٹ یہ بولو کہ تُم فرغام سلطان سے نہیں ڈرتی ہو بلکہ تُم اُس سے محبت کرتی ہو۔۔۔”””
اپنے ایک ہاتھ سے نرمی سے اُسکے بالوں کو سہلاتا وہ اپنا دوسرا ہاتھ اُسکی زبان سے جدا کرتا اپنے بھاری آواز میں کہنے لگا۔۔۔۔
“”””آہہہہہہہہ۔۔۔۔””””
وہ چیخ مار کر جھٹکے سے اٹھی اِس وقت اُسکا چہرہ ڈر کی وجہ سے سرخ ہو رہا تھا اور گردن پیسنے کی وجہ بھیگ رہا تھا۔۔۔
“”””کیا ہوا سویٹ گرل تُم ڈر کیوں رہی ہو۔۔؟؟؟
فرغام جو ابھی ابھی باہر سے آیا تھا اُسے بُری طرح سے چیختے ہوئے دیکھ تیزی سے آگے بڑھا اور کندھوں سے پکڑ کر اُس سے پوچھنے لگا۔۔
“””دور رہے آپ مم۔۔۔مجھ سے آاپ ایک ظالم انسان ہے آپ نے ایک۔۔۔لڑکی کے ہاتھ کاٹیں اور اا۔اب آپ میرے بھی ہاتھ کاٹیں گے۔۔”””
روحین اُسے دیکھتی اور بھی زیادہ تڑپتی ہوئی خود کو اُس سے چھڑوانے لگی۔۔۔۔
“”نہیں سویٹ گرل میں تمھارے ساتھ ایسا نہیں کروں گا میں تُمھیں اپنی جان سے بھی زیادہ چاہنے لگا ہوں بھلا میں تمھارے ہاتھ کیوں کاٹوں گا اور میں نے اُسے اپنے سامنے تم پر ظلم کرتے ہوئے دیکھ کر صرف اُسکے ہاتھ کاٹیں ہیں اگر اُسنے تمھیں میری غیر موجودگی میں تنگ کیا ہوتا نہ تو میں اسکی گردن کاٹ دیتا۔”””
وہ اُسے اپنے سینے سے لگا کر نرمی سے کہنے لگا۔
رو کو وہ اُس خواب سے اس وقت بالکل مختلف لگ رہا تھا مگر ڈر ابھی بھی پنکھ پھیلائے اُسکے دل پر ڈیرہ ڈالے بیٹھا تھا۔۔۔
“”””دور رہو تُم مجھ سے تُم کسی دن میرے بھی ہاتھ کاٹو گے عروبہ کی طرح کیونکہ تُم ایک بے رحم انسان ہو تمھارے دل میں کوئی بھی احساس نہیں ہے تُم صرف ایک پھتر ہو۔۔۔”””
وہ خوف سے اُسے خود سے دور کرتی ہوئی اپنے سنہرے لمبے بالوں کو مٹھی میں لے کر بُری طرح سے نوچ کر چیخ چیخ کر کہنے لگی۔۔۔
“””کول ڈاؤن مائے گرل کول ڈاؤن۔۔۔”””
وہ اُسکے ہاتھوں کو پکڑ کر اُسکے قریب آکر نرم لہجے میں کہنے لگا تو وہ واپس بے ہوش ہو کر اُسکے چوڑے سینے سے جا لگی۔۔۔
