122.6K
29

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 10

“””یہ آپ مجھے کہاں لے کر آئے ہیں۔۔۔؟؟؟
روحین نے جب اُسے گاڑی کو ایک وائٹ پلیس کے آگے روکتے ہوئے دیکھا تو وہ اسکی جانب دیکھتی ہوئی پوچھنے لگی۔۔۔
“””روحِ جان یہ ہمارا دوسرا گھر ہے آج ہم یہاں آستے کرے گے۔۔۔”””
اُسکا یہ گھر اُس قبرستان سے بہت نزدیک تھا وہ اُسے لیے یہاں آیا تھا تاکہ وہ لوگ انہیں وہاں نا پاکر اس شخص کے پاس چلے جائے۔ جس نے ان پر عملہ کرنے کے ان سب کو اسکے پیچھے بھیجا تھا۔۔۔
وہ اسے تو جلد پکڑ لے گا مگر اس وقت اپنے ساتھ اسکی جان کو خطرے میں نہیں ڈال سکتا تھا۔۔۔
اسی لیے وہ اسے لیے یہاں اپنے اس پلیس میں آیا تھا۔۔۔
“””یہ تو شہر سے بہت دور ہے۔۔۔”””
روحین ڈرتی ہوئی اُس سے کہنے لگی۔۔۔
“””یہ تو اچھی بات ہے روحِ جان ہم دونوں یہاں بنا ڈسٹرب ہوئے وقت گزار پائے گے کیونکہ یہاں سگنلز بھی نہیں ہے اور مجھے تُمھارے ساتھ ہوتے ہوئے کسی کی کال اٹھانے کی بھی فکر نہیں رہے گی۔۔۔”””
وہ مخمور نظروں سے اُسے دیکھتے ہوئے کہنے لگا۔۔
“””کیا میں یہ پورا گھر دیکھ سکتی ہو۔۔۔؟؟؟
وہ اُسکی باتوں سے نروس ہو کر جلدی سے بولی تو اسکی جلدی پر وہ مسکرایا اور اسکے آگے جھک کر اسکی سائیڈ کا دروازہ کھول اُسے باہر نکلنے کا کہنے لگا
تو وہ گاڑی سے جلدی سے نیچے اتری۔۔۔
“””روحِ جان تُم اس طرف جاؤ میں ابھی آتا ہو۔۔۔”””
پارکنگ ایریا اس پلیس کی پچھلی سائیڈ پر تھا وہ سامنے کے ایک دروازے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہنے لگا تو روحین اُسکے اشارہ کرنے پر پیچھے مڑی اور اس مضبوط لکڑیوں سے بنے دروازے کی طرف دیکھنے لگی۔۔۔۔
“”””روحِ جان جاؤ کھڑی کیوں ہو۔۔۔؟؟؟
وہ اُسے اسی طرح کھڑے دیکھ کہنے لگا تو وہ جو دروازے کی خوبصورتی میں کھوئی ہوئی تھی بری طرح سے چونکی۔۔۔
“””ہہ۔۔ہاں میں جا رہی ہو۔۔۔”””
وہ قدم جلدی سے اس دروازے کی طرف بڑھاتی ہوئی بولی تو اُسے اُس دروازے کی طرف بڑھتے ہوئے دیکھ فرغام سلطان کی آنکھیں آگ برسانے لگی۔۔۔۔
جبکہ دوسری طرف وہ فرغام کے اس وائٹ پیلس میں کے اس حصے میں آکر گھومنے لگی اور جب وہ ایک بند روم کے سامنے سے گزر رہی تو ٹھہر گئی۔کیونکہ اُس بند روم سے انتہائی گندی سی اسمیل آ رہی تھی۔۔
تو وہ اپنی عادت سے مجبور ہوکر تجسس کے ہاتھوں بے بس ہو کر اُس روم کے دروازے کے پاس پہنچی اور دروازہ کھول کر جب وہ اندر داخل ہوئی تو اندر داخل ہوتے ہی اُسے روم کے اندھیرے نے ویلکم کیا۔۔۔۔
“”””یہ بدبو آخر کس چیز کی ہے۔۔۔؟؟؟؟
وہ بڑبڑا کر آگے بڑھی اور روم کی لائٹس دیوار پر ہاتھ رکھ کر سوئچ بورڈ ٹٹول کر ڈھونڈنے لگی۔۔۔۔
“”””آہہہہہہہہہہ۔۔۔۔۔۔”””””
روم جب مکمل روشن ہوا تو سامنے دیوار پر لگی تصویروں کو دیکھ وہ بُری طرح سے چیخی۔
کیونکہ ساری تصویریں اُسی کی تھی لیکن اُن تصویروں کی کوالٹی سے لگ رہا تھا وہ بہت ہی پرانی ہے۔۔۔۔
اُن تصویروں پر خون لگا ہوا تھا اور ایسا لگتا تھا چاقو سے چہرے پر کٹ لگا کر جسے کسی نے اپنا غصہ اور نفرت نکالا ہوں وہ اُن سبھی تصویروں کو دیکھ اپنی لرزتی ٹانگوں کو گھسیٹ کر پیچھے کی جانب چلنے لگی۔۔۔۔
“”””روحِ جان تُم اتنی کانپ کیوں رہی ہو۔۔۔۔؟؟؟
جب وہ روم سے باہر نکل کر اس گھر کے لاؤنج میں داخل ہوئی تو سامنے سے آتے فرغام سلطان سے بُری طرح سے ٹکرا گئی تو وہ اُسے پکڑ کر نیچے گرنے سے بچاتے ہوئے نرم لہجے میں اُس سے پوچھنے لگا۔
“””نن۔۔۔۔نہیں میں تو نہیں کانپ رہی آپکو کک۔۔۔۔کوئی غلط فہمی ہو رہی ہے۔۔۔”””””
روحین ڈرکے باعث اُسکی سرمئی آنکھوں میں دیکھنے لگی جہاں محبت تو تھیں مگر سچی تھیں کہ جھوٹی وہ اُسکی آنکھوں سے پتہ نہیں چلا سکی۔
“””””روحِ جان تُم نے وہاں تو ضرور کچھ دیکھا ہوگا۔۔جو تُم اتنی کانپ رہی ہو۔ویسے تُم اُس روم میں تو نہیں گئی تھی نا جہاں جانا سخت منع ہے۔۔۔؟؟؟؟
وہ قریب آکر اُسکی کمر کو پکڑ کر اپنے بے حد قریب کرتے ہوئے اپنی خون آشام نظروں سے اُسکے پسینے پسینے ہو رہے چہرے کو اپنی نگاہوں کی گرفت میں لے کر انتہائی سنگین لہجے میں پوچھنے لگا۔۔۔
“””نن۔۔۔نہیں میں اُس روم میں نہیں گئی تھی م۔۔۔میں نے وہاں ای۔ایک چوہا دیکھا تو ڈر کے مارے وہاں سے بھاگی تھی اسی لیے میں اب کانپ رہی ہوں۔۔۔۔””””
روحین اپنی نازک کمر پر گرفت تنگ محسوس کرکے اپنی سانسوں کو بُری طرح سے حلق سے نکلتے ہوئے محسوس کرتی بُری طرح سے لرزنے لگی۔۔۔۔
وہ اُسے بالکل بھی شک نہیں ہونے دینا چاہتی تھی کہ وہ اُس روم میں گئی تھی اور وہاں اُسنے اپنی جیسی دکھنے والی لڑکی کی تصویر بھی دیکھی تھی کہ وہ ڈر کر وہاں سے بھاگ نکلی تھی وہ اچانک سے اپنی آنکھیں صاف کرتی کہتی ہوئی اُس دور ہو کر کھڑی ہوگئی۔۔۔۔
“”””روحِ جان تُم پہلے تو کہ رہی تھی کہ تُم نہیں کانپ رہی آپکو غلط فہمی ہو رہی ہے اب کہ رہی ہو تُم نے وہاں کوئی چوہا دیکھ کر بھاگی تھی اسی وجہ سے اب تم کانپ رہی ہو۔جاناں سچ سچ بتاؤ کیا تُم نے چوہا دیکھا تھا یا پھر۔۔۔؟؟
وہ اُسکی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے پوچھنے لگا۔۔۔۔
“”””میں سچ کہہ رہی ہو میں نے وہاں چوہا دیکھا ہے مم۔۔۔میں اُس روم میں نہیں گئی تھی۔۔۔””””
نظریں نیچے جھکا کر ٹھہرے اور بھیگے ہوئے لہجے بولی۔
تو فرغام سلطان نے ہاتھ آگے بڑھا کر اُسکی کمر کے گرد اپنے ہاتھ باندھے۔۔۔
“”””ہممممم روحِ جان مجھے پتہ ہے تُم جھوٹ نہیں بول سکتی چلو ساتھ میں ڈنر کرتے ہیں۔۔۔۔””””
وہ اُسکی پیشانی سے پیشانی ٹچ کرتا اپنی آنکھیں بند کرکے گھمبیر آواز میں کہنے لگا۔روحین حیرت سے دنگ کھڑی اُس شخص کو دیکھنے لگی۔ جسکے دو روپ تھے۔
ایک جان لوٹاتا ہمسفر
اور دوسرا نفرت و انتقام میں جلتا ہوا
جلاد نما درندہ۔۔۔۔۔
“”””مم۔۔۔۔مجھے بھوک نہیں ہے آا۔۔۔آپ کھا لیجئے می۔۔۔میں بعد میں کھا لوں گی۔۔۔””””
وہ اِس وقت اس سے بہت دور چلے جانا چاہتی تھی مگر یہ ناممکن تھا اسکے لیے کیونکہ مقابل کھڑا شخص اُس محبت نہیں شاید نفرت کرتا ہے اگر وہ یہاں سے بھاگی تو وہ اُسے دنیا کے کسی بھی کونے سے ڈھونڈ کر نکالے گا اور پھر اس سے آگے سوچ کر اُسکی ٹانگیں بُری طرح سے کپکپانے لگی ۔۔
“”””اوکے مائے جان تُم جا کر سو جاؤ میں ابھی آتا ہو۔۔۔””””
وہ اُسکی پیشانی کو چھو کر اُسے وہاں سے جانے کا کہتا خود مڑا تو روحین اُسکے مڑتے ہی خوف کے مارے وہاں سے بھاگی۔۔
جبکہ دوسری طرف فرغام سلطان جو چہرے پر خطرناک حد تک سُرخی لیے اُس روم کی طرف بڑھ رہا تھا دور سے روم کا دروازہ واں دیکھ وہ اپنی مٹھیاں کھسنے لگا۔۔۔۔
“””تو تُمھاری ہم شکل یہاں سچ میں آئی تھی۔۔۔”””””
فرغام سلطان روم کے پاس پہنچا تو دروازہ کھولا دیکھ وہ چہرے پر پھرتیلے تاثرات سجاکر روم کے اندر داخل ہوتے ہوئے اُس تصویر میں موجود لڑکی سے اپنے ازلی سرد مہر لہجے میں مخاطب ہوا۔۔۔
“”””یہ سب کچھ جان کر تُمھاری ڈپلیکیٹ تُمھاری طرح مرے گی بے درد موت۔۔۔””””
وہ نفرت سے اُس تصویر کو پاس رکھیں ٹیبل کے اوپر رکھے چاقو کو اٹھا کر مارتے ہوئے کہنے لگا۔۔۔۔
“”””ویسے مجھے تُمھاری ڈپلیکیٹ کی یہ بات اچھی لگی ہے کہ وہ تُمھاری طرح بیغیرت نہیں ہے۔۔۔”””
وہ پاس رکھے خون سے بھرے بوتل کو اس تصویر کے اوپر اچھالتے ہوئے کہنے لگا۔۔۔
“”اگر وہ اُس دن ہوٹل میں مجھ سے ٹکرائی نہ ہوتی تو آج مجھ سے محفوظ رہ کر ایک اچھی زندگی گزار رہی ہوتی۔ مگر افسوس وہ اس فریبی چہرے کی وجہ سے مجھ سے ٹکرا کر اپنی موت بلا چکی ہے وہ بہت جلد صرف تُمھاری وجہ سے مرنے والی ہے۔۔”””
وہ اُس تصویر کو اُن سبھی تصویروں کے اوپر پھینکتے ہوئے جنکی حالت اُسنے بہت پہلے اسی طرح کی ہے وہ اس تصویر کو پھینک کر پیچھے ہٹتے ہوئے غرا کر کہنے لگا۔۔۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
نازلی کیوان کو جانے ہی نہیں دے رہی تھیں وہ اسکی جان بچانے کے بدلے میں کیوان کی پورے ایک ہفتے سے اچھے سے تیمارداری کر رہی تھیں۔
“””””””آہہہہہہہہ تت۔۔۔۔تُم میرے روم بنا شرٹ کے کیا کر رہے ہو۔۔۔؟؟؟؟
وہ نا اُسے ہلنے دیتی تھیں نا ہی باہر جانے دیتی تھیں اور نا ہی نہانے لیکن جب کیوان نے آج اُسے گھر سے باہر جاتے ہوئے دیکھا تو وہ اپنی لبوں پہ ایک پرسکون مسکراہٹ سجا کر اُسی کے واشروم میں شاور لینے کے لیے چلا گیا اور جب وہ کچھ دیر بعد ٹاول سے اپنے بال خشک کرتا ہوا واشروم سے باہر نکلا تو نازلی کی چیخ پر وہ سٹپٹا کر تیزی سے پیچھے مڑا تو اسکے پیچھے مڑنے پر نازلی جو اپنے روم کے دروازے پر کھڑی تھی وہ دوبارہ سے چیخنے لگی۔۔
“””””معاف کیجیے گا مس آفیسر میں نے آپکا شاور یوز کیا۔۔””
وہ ٹاول اپنی گردن پر رکھ کر اُسکے قریب آکر معنی خیزی سے کہنے لگا جبکہ نازلی اپنی آنکھوں پر ہاتھ رکھے شرم سے سر تا پیر سرخ اناری ہو گئی تھیں۔۔۔
“””ایک منٹ۔۔۔۔”””””
اُسکے قریب آنے پر نازلی کو اُس سے اپنی ہئیر ریمو کریم کی خوشبو آنے لگی تو وہ اپنی آنکھوں سے ہاتھ ہٹا کر اُسے روکتی ہوئی کہنے لگی جو اُسکے پاس کھڑا تھا۔
“””پہلے جاؤ اپنی شرٹ پہن کر آؤ۔۔۔””””
مگر جب اُسکی نظریں اُسکے سکس پیک پر پڑی تو وہ گلال گالوں کے ساتھ اپنی نظروں کو نیچے جھکا کر وہ تیزی سے بولی۔۔۔
“””جب آپ راستہ دے گی تب ہی تو جا کر میں اپنی شرٹ پہنوں گا ناں مس آفیسر۔۔۔””””
وہ اُسکی جانب جھکتے ہوئے کہنے لگا۔تو اسکے جھکنے سے ایک بار پھر سے نازلی کو اس پر سے اپنی ہئیر ریمو کریم کی خوشبو آنے لگی تو وہ اچانک اپنا ایک ہاتھ اُسکے گھنے بالوں کی جانب بڑھانے لگی تو اُسے یہ کرتے ہوئے دیکھ کیوان نے جھٹکے سے اُسکی ہاتھ کو پکڑا ۔۔۔
“”ی۔۔۔یہ آپ کیا کر رہی ہے۔۔۔”””
اُسے اپنے بالوں کی جانب ہاتھ بڑھاتے ہوئے دیکھ کیوان نے تیزی سے اُسکے ہاتھ کو جھٹک کر اپنے برہنہ سینے کو ٹاول سے ڈھانپتے ہوئے آواز کو خوفزدہ بنا کر کہنے لگا۔۔۔
“””””کیا مطلب۔۔۔۔؟؟؟؟
وہ اُسے ٹاول سے خود کو ڈھانپتے ہوئے دیکھ سخت نظروں سے گھورتے ہوئے پوچھنے لگی۔۔۔۔
“””””آپکی نیت خراب ہوگئی ہے مس آفیسر آپ ایک حسین جوان اور اکیلے مرد کو دیکھ کر آآ۔۔۔۔آپ اُسکا سب کچھ لوٹنا چاہتی ہے۔۔۔””””
وہ ایک آنکھ ونک کرتا معنی خیزی سے کہنے لگا۔
تو نازلی اُسکی بات پر زور سے اُسکے کندھے پر مارتی ہوئی اپنے روم میں داخل ہوئی۔۔۔
“”””بھاڑ میں جاؤ تُم۔۔۔۔””””
وہ بیڈ پر رکھی اسکی شرٹ کو اُسکی پشت پر مارتی شدید غصے سے بولی۔۔۔۔
“”””مس آفیسر جب آپ میرے ساتھ چلے گی نا تو میں خوشی خوشی آپکے پیچھے آ جاؤ گا آپکے بھاڑ میں۔۔۔””””
وہ پیچھے مڑا اور نیچے سے اپنی شرٹ اٹھا کر پہنتے ہوئے معنی خیزی سے کہنے لگا۔۔۔
“”””شٹ اپ اور یہاں سے باہر نکل جاؤ میرے مجرم کی گولی سے تو تُم بچے ہو مگر میری ریوالور کی گولی سے تُم ہر گز نہیں بچوں گے۔۔۔۔””””
وہ اپنی ریوالور نکال کر اُسکے آگے کرتی غصے سے کہنے لگی کیوان بنا ڈرے مزے سے اُسکی بیڈ پر آکر پھیل کر لیٹا اور اُسے معنی خیزی سے دیکھنے لگا پھر اپنی بڑھتی شیو کو چھونے لگا۔۔۔
“””””مس آفیسر اب مجھے بہت الجھن ہو رہی ہے اپنے ان بڑھتے ہوئے جنگلات سے۔۔۔””””
وہ بیڈ پر لیٹا اپنے بڑھتے شیو کی وجہ سے پریشانی سے اُس سے کہنے لگا جو سامنے کرسی پر بیٹھی اسکے لیے سیب کاٹ رہی تھی آج ایک ماہ ہوگیا تھا اُسے بیڈ پر ریسٹ کرتے ہوئے۔
“”””کیا مطلب جنگلات تُم یہ کیا رہے ہو ۔۔۔۔؟؟؟
نازلی سیب کا ایک ٹکرا اُسکے منہ کے قریب لا کر پوچھنے لگی۔۔۔
“”””مس آفیسر میں اپنی شیو کی بات کر رہا ہو جو اب بڑھ چکی ہے اور مجھے الجھن اور بہت تکلیف ہو رہی ہے ان سے ۔۔”””
کیوان نے بیڈ سائیڈ پر رکھی باسکٹ سے سیب اٹھا کر کھاتے ہوئے کا بے چارگی سے کہنے لگا ۔۔۔
“””جس طرح میری ہئیر ریمو کریم یوز کیا ہے جاکر اپنا یہ بالوں کا جنگل بھی سدھار کر آؤ کیونکہ میں تمھاری ملازمہ نہیں ہو۔۔۔”””
نازلی کی نظریں جب اُسکی شیو پر پڑی جو واقعی میں بڑھ چکے تھے مگر وہ اُس ڈھیٹ انسان کی وجہ سے سخت غصے میں تھیں جس نے اسکے واشروم کے ساتھ ساتھ اسکی چیزوں کو بھی یوز کیا تھا۔۔۔۔
“”””وہاٹ ہئیر ریمو کریم۔۔۔”””
وہ سیب باکسٹ میں رکھتا جلدی سے اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرنے لگا تو اپنی ہتھیلی پر اتنے سارے بال دیکھ وہ روہانسا ہو کر نازلی کی جانب دیکھنے لگا جو اُسکی شکل دیکھ اپنی ہنسی کنٹرول نہ کر سکی اور زور سے ہنسنے لگی۔۔۔
“”””ہاہاہا ہاہاہا اب پتہ چلا نا لڑکیوں کے واشروم اور چیزوں کو یوز کرنے کا انجام۔۔۔”””””
نازلی زور زور سے ہنستی ہوئی بولی۔۔۔
“”””یہ سب آپکی وجہ سے ہوا ہے مس آفیسر اگر آپ مجھے نہانے سے منع نہ کرتی تو آج میرے بال سلامت رہتے۔۔۔””””
وہ اپنے دو تین بالوں کو اپنی مضبوط ہتھیلی میں دیکھ غمزدہ لہجے میں کہنے لگا۔۔۔
“””اگر میں نے تمھیں منع کیا تھا تو تُم سیریس ہی نہ لیتے میری باتوں کو اور جا کر نہا لیتے اس گھر کے کسی بھی واشروم کو یوز کرکے۔۔۔””””
وہ منہ بنا کر بولی ۔۔
“”اس گھر میں صرف آپکے روم کا واشروم دستیاب ہے مس آفیسر کیونکہ آپکے روم کے پاس والے روم کو تو آپ نے ایسے لاک لگا ہوا جیسے وہاں آپکے خزانے چھپے ہیں۔۔۔”””
وہ اُسے اُس روم کی بابت بتانے لگا جو وہ جب سے آیا تھا بند تھا کبھی نازلی کو اسنے اس روم کو کھولتے ہوئے نہیں دیکھا تھا۔۔۔
“”وہ روم آفیسر جمال کا ہے تو میں کیسے انکی اجازت کے بنا تمھارے لیے اس روم کو کھول کر تمھیں شاور لینے کے لیے اندر بھیجتی۔۔”””
وہ سخت نظروں سے اُسے گھورتی ہوئی بولی۔
تو آفیسر جمال کا نام سُن کر کیوان سخت جل بن کر رہ گیا۔۔۔
“””کیا مس آفیسر آپکے اس فلیٹ میں آپکے ساتھ ایک غیر مرد بھی رہتا ہے۔۔۔؟؟؟
وہ اپنی سرخ ہوتی آنکھوں سے اُسے دیکھتے ہوئے پوچھنے لگا۔۔۔
“””میرے لیے غیر مرد تو تُم بھی ہو۔۔۔”””
وہ تیکھے لہجے میں اُس سے بولی
“””میری بات الگ ہے مس آفیسر۔۔۔”””
کیوان اُسے گھورتے ہوئے سرد لہجے میں کہنے لگا۔۔۔
“””کیوں تُمھاری بات کیوں الگ ہے کیا تُم میرے لیے ایک نامحرم نہیں ہو۔۔۔؟؟؟
وہ اُسے دیکھتی ہوئی بولی۔۔۔
“””مس آفیسر آپ رات کے اس پہر مجھے اپنا محرم بنانے کے لیے مجبور کر رہی ہے۔۔۔؟؟؟
وہ اُسکی بات پر ترچھی نگاہوں سے اُسے گھورتے ہوئے سرد لہجے میں کہنے لگا ۔
“”””ہیں یہ تُم کیا کہہ رہے ہو۔۔۔”””
نازلی اُسکے اچانک پرپوز کرنے پر شرم سے سرخ ہوتی اُس سے پوچھنے لگی۔۔۔
“””اپنی دل کی بات کہہ رہا ہوں۔۔۔”””
وہ اچانک سے اپنی ٹون بدلتا اُسے مخمور نظروں سے دیکھتے ہوئے کہنے لگا۔۔۔
“””تمھارے دل میں جو بھی ہے اُسے اپنے دل میں دباؤ میں کبھی بھی تُمھاری اظہار کے جواب میں ہاں نہیں کہوں گی اور وجہ تُم جانتے ہو۔۔۔؟؟؟؟
وہ اُسے سختی سے انکار کرتی ہوئی بولی۔۔۔
“””میں آپکو سلطان بے کی سچائی ابھی بتاؤ تو کیا آپ مجھے اور میرے پرپوزل کو ایکسیپٹ کر لے گی کیا۔؟؟؟
وہ امید بھری نظروں سے اُسے دیکھتے ہوئے کہنے لگا۔
“””اگر تمھاری تمھارے بے کی سچائی بتانے کا مقصد مجھ سے شادی کرنا ہے تو میں اُس سچائی سے انجان ہونا پسند کروں گی لیکن ایک غنڈے سے میں کبھی شادی نہیں کروں گی۔۔۔”””
وہ نظریں چُرا کر اُس بولی۔۔۔
“””یہ بات اگر آپ میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولے گی تب میں پیچھے ہٹ جاؤ گا مس آفیسر۔۔۔”””
وہ تھوڑا سا کھسک کر اُسکے چہرے کے قریب جھک کر اُس سے کہنے لگا۔۔۔
“””تُمھیں شیونگ کروانی ہے کہ نہیں۔۔۔؟؟؟
وہ اُسے اپنے قریب دیکھ سٹپٹا کے شیونگ لیزر اُسکی گردن پر رکھ کر کہنے لگی تو کیوان اپنی گردن پر ریزر دیکھ مسکرایا۔۔۔
“”””مس آفیسر شیونگ کے بہانے آپ میری گردن تو نہیں کاٹنا چاہتی ناں۔۔۔۔؟؟
وہ مشکوک نظروں سے اُسے دیکھتے ہوئے پوچھنے لگا
جو سامنے شیونگ کٹ لیے بیٹھی اُسے دیکھ رہی تھی۔۔۔۔
“”””اگر تُم اسطرح کی باتیں کروں گے تو میں سچ میں تمھاری گردن کاٹ لوں گی۔۔۔”””
وہ اُسکی گردن پر سخت دباؤ بڑھاتی ہوئی سخت لہجے میں کہنے لگی تو کیوان خاموشی سے سیدھا ہو کر لیٹ گیا اور اسے خاموشی سے لیٹا دیکھ وہ مسکرا کر اُسکی شیو بنانے لگی۔۔۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
“”””یہ لڑکی اتنی کونفیڈنس کیسے ہو سکتی ہے میری تو یہ خوفناک آوازوں اور اس بھوت بنگلے سے حالت پتلی ہو رہی ہے۔۔؟؟؟؟
وہ آنکھیں پھاڑے اُسے کار سے باہر نکلتے ہوئے دیکھ سامنے اُس ویران بنگلے کو دیکھتے ہوئے بڑبڑایا۔۔۔
وہ رات کے تین بجے اسکے ساتھ اُس وقت اس جگہ پر موجود تھا۔۔
جہاں کل کسی کا قتل کیا گیا تھا اور اس کیس کو نازلی کو ہینڈل کرنے کے لیے دیا گیا تھا جب نازلی اپنے اسی کیس کے سلسلے میں اس جگہ پر جا رہی تھی تو کیوان نے بھی اسے ساتھ لیجانے کے لیے پوچھا تھا کیونکہ آج وہ فرغام سلطان کے پاس جانے والا تھا اور جانے سے پہلے وہ کچھ وقت نازلی کے ساتھ گزارنا چاہتا تھا۔۔۔
مگر یہ جگہ اتنی پرسرار ہوگی اسے یہاں آکر اندازہ ہوا۔
“””تُم نے کچھ کہا۔۔۔۔؟؟؟
وہ اُسکی بڑبڑاہٹ سُن کر واپس کار کے اندر جھکتی پوچھ بیٹھی تو وہ سامنے کی طرف دیکھتا نفی میں سر ہلانے لگا۔
“”””تو پھر اسطرح کیوں بیٹھے ہو باہر نکلوں۔۔۔؟؟؟
وہ اُسکی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھ کر مزے سے سر باہر نکال کر اُس بنگلے کو دیکھنے لگی تو وہ اپنے مضبوط ہاتھوں کی طرف دیکھنے لگا جو آس پاس لومڑیوں کی آواز اور ہورر وائبس کی وجہ سے بُری طرح سے لرز رہیں تھیں۔۔۔۔
“””چلوں۔۔۔۔””””
کار سے باہر نکل کر وہ ٹشن سے اپنا سیاہ چشمہ پہننے لگا۔۔
“”””تُم آگے چلو میں تمھارے پیچھے آتی ہو۔۔۔۔””””
وہ اُسکی طرف مڑ کر کہتی تیزی سے اُسکے پیچھے چلی گئی تو یہ دیکھ وہ اپنے ماتھے کو بھیگتا ہوا شدت سے محسوس کرنے لگا۔۔۔۔
“”””نن۔۔۔نہیں پہلے تُم جاؤ گی کیونکہ تُم لیڈیز ہو اور میں لیڈیز کی بہت زیادہ عزت کرتا ہوں۔۔۔۔”””
وہ اُسکی جانب دیکھتے ہوئے بظاہر مسکراتے ہوئے کہنے لگا مگر اندر سے وہ سخت گھبرا رہا تھا۔۔۔
“””تُم ڈر رہے ہو ناں۔۔۔۔؟؟؟؟
وہ اچانک سے اپنا فون ٹارچ آن کر کے اُسکے چہرے کے قریب کرتی اُس شریر لہجے میں پوچھنے لگی۔۔۔۔
“””نن۔۔۔نہیں تو۔۔۔”””
وہ ٹارچ سے بچنے کے لیے جلدی سے اپنا چہرہ ہوڈی میں چھپا کر اُسے یقین دلانے لگا لیکن وہ لڑکی کونفیڈنس کے ساتھ ساتھ انٹلیجٹ بھی تھی جلد سمجھ گئی کہ یہ سامنے کھڑا لمبا چوڑا مرد جن بھوتوں سے ڈرتا ہے۔۔۔
“”””ہاہاہا ہاہاہا۔۔۔۔””””
اچانک سے وہ چڑیلوں کی طرح قہقہ لگانے لگی جبکہ مقابل جو ہوڈی میں خود کو چھپا رہا تھا ان قہقہوں کو سُن کر جھٹکے سے پیچھے ہٹا۔۔۔
“”””ہوں گاش تت۔۔۔۔تُم پاگل ہو کیا مم۔۔۔۔میں سمجھا۔۔۔”””
وہ تیزی سے ہوڈی سے اپنا چہرہ نکال کر خفگی سے اُسے دیکھتے ہوئے کہنے لگا۔۔۔۔
“”””تُمھیں لگا کوئی چڑیل ہے ناں۔۔۔؟؟؟
وہ شریر لہجے میں اُس سے پوچھنے لگی۔۔۔۔
“””ہاں۔ نہیں میرا مطلب نہیں مجھے بالکل بھی ڈر نہیں لگتا یہ بھی ایک نارمل گھر ہی تو ہے جہاں تُم کچھ ثبوت ڈھونڈوں گی۔۔۔””””
وہ گہری سانس خارج کرتا تیزی سے آگے کی طرف بڑھنے لگا جبکہ وہ وہی کھڑی اُسکی کمزوری سے فائدہ اٹھانے کا سوچ کر شرارت سے اپنے فون میں یوٹیوب ایپلیکیشن آن کرکے پائل کی آواز والی وڈیو ڈھونڈنے لگی۔۔۔۔
“”””چن چن چن چنچنچ۔۔۔۔””””
وہ جو کونفیڈنس کے ساتھ بنگلے کے قریب جا رہا تھا اس آواز پر پیچھے مڑا تو وہ اُسے اپنے پیچھے نہیں ملی تو وہ تیزی سے کار کی جانب بڑھا۔۔۔۔
“”””ہاہاہا ہاہاہا۔۔۔”””””
کار کا دروازہ کھول کر وہ ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھا اور پھر سیٹ کی پشت سے ٹیک لگا کر اپنی ہارٹ بیٹ کو نارمل کرنے لگا تبھی پیچھے سے قہقہے کی آواز سُن کر وہ سٹپٹا کر پیچھے کی طرف دیکھنے لگا تو پیچھے اُسے بیٹھے دیکھ وہ آگے کی طرف رخ کر کے سیٹ کی پشت سے ٹیک لگا کر گہری گہری سانسیں لینے لگا۔۔۔
یہ کیا بچپنا ہے اگر میرا ہارٹ فیل ہو جاتا تو۔۔۔۔”””
وہ پیچھے مڑ کر اُسے گھورتے ہوئے سرد لہجے میں پوچھنے لگا۔۔۔
“”””تُو میں پاس کر دو گی تمھارے ہارٹ کو۔۔۔”””
وہ معنی خیزی سے کہتی اُسکے تن بدن میں آگ گا گئیں۔۔
“”””یہ مزاق لگ رہا ہے تُمھیں ہاں ایک تو سخت ہوررر والی فیلنگز آ رہی ہے اس خونی گھر سے اوپر سے تُم ایک چڑیل کہ فرائض خوب اچھے سے نبھا رہی ہو۔۔۔””””
وہ غصے سے گردن موڑ کر اُسے گھورتے ہوئے سرد لہجے میں کہنے لگا۔۔۔
“”سیریسلی تُمھیں جِن بھوتوں سے ڈر لگتا ہے ہاہاہا ہاہاہا
یہ تُمھیں مافیا مین کس جوکر نے بنایا ہے۔۔””ہنس ہنس کر اُسکے پیٹ میں درد ہونے لگا۔
“”اس میں ہنسنے والی کونسی بات ہے۔۔؟؟وہ اُسے گھورنے لگا۔۔۔
“”ہنسنے والی بات ہے تو میں ہنسو گی نا۔۔””ہنس ہنس کر اُسکی آنکھوں کے گوشے بھیگ چکے تھے۔۔
“””ہنسنے والی بات ہے۔۔اسکی نقل اتارتے ہوئےمیں نے تمھیں کوئی جوک نہیں سنایا ہے اوکے مجھے سچ میں بھوتوں سے ڈر لگتا ہے یہ نیچرلی بات ہے جن بھوتوں سے سب ڈرتے ہیں چاہے وہ میری طرح کا کوئی مافیا مین ہی کیوں نہ ہو سمجھی تُم۔۔”””
وہ غصے سے آنکھیں سکیڑ کر اُسے دیکھتے ہوئے کہنے لگا۔