Ishq E Zulmat By Sumyia Baloch Readelle50177 Episode 14
No Download Link
Rate this Novel
Episode 14
“””ماضی”””
“””فرید انکل بابا کہاں ہے۔۔۔؟؟؟
آج زاور سلطان کے باس کے اس خوبصورت وائٹ ہاؤس زاور سلطان کے باس کی وائف کے غیر قانونی دھندے کو کافی پرافٹ ملنے کی خوشی میں انکے باس نے یہ شاندار پارٹی ارینج کیا تھا۔
اُسے اس ایریا میں سختی سے آنے سے منع کیا گیا تھا مگر آج اُسنے صبح سے اپنے بابا کو نہیں دیکھا تھا تو وہ کہا اب چھین سے بیٹھنے والا تھا۔
وہ اپنے بابا کو ڈھونڈتے ڈھونڈتے جب اس وائٹ ہاؤس کی پارٹی والی جگہ پر آیا تو سامنے اپنے بابا کے دوست فرید کآردال کو دیکھ وہ انکے قریب جاکر اپنے بابا کے متعلق اُن سے پوچھنے لگا۔۔۔
“””بیٹا آپ یہاں کیا کر رہے ہیں۔۔۔؟؟
فرید کآردال نے پریشانی سے فرغام کو ایک کونے میں لانے کے بعد پوچھا۔
“”انکل میں بابا کو ڈھونڈ رہا تھا وہ صبح مجھ سے ملے بغیر گئے ہیں ناں اسی لیے اب میں انکو بہت مس کر رہا ہوں۔۔۔”””
فرغام منہ بنا کر فرید انکل سے کہنے لگا۔۔۔
ان سے دور ایک لیڈیز گروپ میں سے ایک عورت نے فرغام کو دیکھتے ہوئے سب عورتوں کو اس جانب متوجہ کرتے ہوئے کہا جہاں اٹھارہ سالہ فرغام سلطان کھڑا تھا۔۔۔
“””واہ آصف کا بیٹا تو بہت ہی خوبصورت ہے۔۔۔”””
سبکی نظریں فرغام سلطان کے چمکتے سفید چہرے پر پڑتے ہی ساکت ہو کر رہ گئی جبکہ انکے پیچھے نیلوفر اپنی دوست سے باتیں کر رہی تھیں انکی بات پر سامنے دیکھنے لگی جہاں فرغام سلطان کھڑا تھا۔۔۔
“””ہاں بہت زیادہ خوبصورت ہے کاش میری بیٹی بیس سال کی نہ ہوتی تو میں آصف سے اسکے بیٹے کا رشتہ اپنی بیٹی کے لیے مانگتا۔۔۔”””
ایک عورت کی بات پر نیلوفر غور سے فرغام کو دیکھنے لگی جو واقعی میں ایک انتہائی حسین کم عمر کا لڑکا تھا۔۔۔
“””ارے نہیں یہ تو آصف صاحب کا بیٹا نہیں ہے یہ تو آصف صاحب کے ڈرائیور کا بیٹا ہے تُم لوگوں کو پتہ ہے اس لڑکے کا باپ بہت زیادہ ہینڈسم ہے۔ میں تو اسے پہلی نظر میں دیکھ کر بہک گئی تھی مگر وہ بندہ ایک نمبر کا کھڑوس نکلا میرے اتنے اشارہ کرنے پر بھی اسنے مجھے کوئی باؤ نہیں دیا۔اگر میں تُم لوگوں کو آصف صاحب کے بیٹے کے متعلق بتاؤ تو تُم لوگ کسی کو تو کچھ نہیں بتاؤ گی ناں۔۔۔؟؟؟
تبھی ایک عورت نے ان سبھی کی غلط فہمی دور کرتے ہوئے کہا۔
“””نہیں نہیں یار کیا ہم پاگل ہے جو اپنے اوپر مصیبت لاکھڑا کر دے تُم بتاؤ کیا بات ہے اسکا بیٹا بھی نظر نہیں آتا آج بھی اتنی بڑی پارٹی ہے ماں باپ تو نظر آ رہے ہیں لیکن اکلوتا بیٹا ہمیشہ کی طرح آج بھی نظر ہی نہیں آ رہا ضرور کچھ چھپا رہے ہیں یہ دونوں میاں بیوی۔۔۔”””
نیلوفر اپنی دوست سے نظریں ہٹا کر اب اسی جانب متوجہ تھی ان عورتوں کی باتیں سن کر وہ آنکھوں میں انگارے لیے فرغام کو گھور رہی تھیں۔۔۔
“””ہاں نا نجمہ بات سیریس ہے اسی لیے یہ دونوں میاں بیوی پوری دنیا سے چھپاتے پڑ رہے ہیں مگر اس گھر میں میری ملازمہ نیلوفر کی خاص خادمہ ہے مجھے اس سے پتہ چلا ہے کہ اُنکا اکلوتا بیٹا ایک ایب نارمل بچہ ہے اسی ذلت کے ڈر سے وہ اپنے بیٹے کو باہر نکلنے بھی نہیں دیتے ہیں۔۔”””
اُس عورت کی بات پر وہ شدید غصے سے اپنی مٹھیاں کھسنے لگی یہ وہ راز ہے جو وہ اور آصف سب سے چھپاتے آ رہے تھے آج وہ راز انہیں کے گھر میں دنیا والوں کے سامنے صرف اس لڑکے کی خوبصورتی کی وجہ سے فاش ہو گیا صرف اس دو ٹکے لڑکے کی وجہ سے انکے بیٹے عابد کو آج وہ نام مل گیا جو وہ کبھی سُننا چاہتے تھے۔۔۔
“””کیا…””””
اس راز کے کھلتے ہی سبھی عورتوں کے منہ کھلے کے کھلے رہ گئے۔۔۔
“”فرین کیا یہ سچ ہے۔۔۔””
ایک عورت نے ایک بار پھر سُننے کے لیے اس عورت سے پوچھا جس نے کچھ دیر پہلے ان سب کو نیلوفر اور آصف کی اولاد کی سچائی سب کے سامنے کھولا تھا۔۔۔
“””ہاں یہ سچ ہے۔اگر یہ جھوٹ ہوتا تو وہ اس پارٹی میں موجود ہوتا۔۔۔”””
نیلوفر یہ سب باتیں سُن کر شدید غصے سے فرغام سلطان کے پاس جاکر اُسے کالر سے پکڑ کر تقریباً کھینچتے ہوئے گھر کے اندر لیجانے لگی۔
جبکہ فرید کآردال بیگم صاحبہ کو غصے سے فرغام کو اپنے ساتھ لے جاتے ہوئے دیکھ کر سخت پریشانی سے زاور سلطان کو کال ملانے لگا۔۔۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
“”””آصف جو راز ہم نے سب سے پوشیدہ رکھا آج وہی راز اِس منحوس ملازم کے بیٹے کی وجہ سے پوری دنیا کے سامنے پاش ہوگیا میرا تو دل چاہ رہا تھا باہر سب کے سامنے اس لڑکے کی خوبصورتی کو بگاڑ کر سبکے لیے ایک عبرت کا نشان بنا دوں مگر وہاں تُمھارے پارٹنر بھی موجود تھے اسی لیے میں نے خود کو یہ کرنے سے باز رکھا۔۔۔””””
وہ اپنے شوہر آصف سے کہتی سامنے سر جھکا کر کھڑے اٹھارہ سالہ لڑکے کو نفرت سے گھورنے لگی۔
جو انتہا کا حسین تھا اور اُسکی اسی خوبصورتی کی وجہ سے آج کی پارٹی میں اُسکے بیٹے کے بارے میں ان عورتوں نے جو کہا تھا وہ ان باتوں سے سخت غصے سے فرغام کو گھورنے لگی۔۔۔
“”””میری جان تُم فکر کیوں کرتی ہو۔میں ہو ناں میں اُسے ہمارے بیٹے کے راز کو پاش کرنے کی سزا اسے ایسی دوں گا کہ آج کے بعد اِسکی یہ خوبصورتی ہمارے بیٹے کیلئے کبھی مصیبت نہیں بنے گی۔۔””
آصف فرید نے اپنی بیوی سے کہ کر سامنے کھڑے اٹھارہ سالہ لڑکے کے قریب جاکر اپنے جیب سے ایک چاقو نکال کر اُسکی دونوں آنکھوں کے نیچے سے کٹ لگاتا وہ چاقو کو نیچے کی طرف لیجانے لگا۔۔۔
وہ اٹھارہ سالہ لڑکا درد محسوس کرنے کے باوجود بھی بنا آفف کیے اُس ظلم کو سہتا رہا اُسکی سرمئی آنکھیں نیچے اپنے سفید پیروں پر گرتے اپنے سُرخ خون پر جمی تھیں۔۔۔
“””باس میرے بچے کو چھوڑ دے اگر اُسنے کوئی غلطی کی ہے تو آپ اُسکی سزا مجھے دے لیکن میرے بیٹے کو معاف کر دے۔۔””
زاور سلطان جب وہاں آیا تو سامنے اپنے بیٹے کی حالت دیکھ وہ تیزی سے آگے بڑھا اور اپنے باس کے آگے ہاتھ جوڑ کر کہنے لگا۔
وہ اپنے باپ کو کسی کے آگے ہاتھ جوڑتے ہوئے دیکھ اس لڑکے کی آنکھوں میں خون کی نمی کے ساتھ ساتھ غصے کی آگ بھی دہکنے لگا۔۔۔۔
جبکہ نیلوفر کی آنکھیں سامنے کھڑے شخص کے بے تحاشا وجاہت سے ساکت ہو کر رہ گئیں۔
وہ زاور سلطان کو کھوئی کھوئی سی دیکھنے میں مشغول تھیں کہ اپنے شوہر کی پاٹ دار آواز سے بُری طرح سے چونکی اور اپنے شوہر کو دیکھنے لگی جو زاور سلطان کے آگے اُسے بدصورت لگ رہا تھا۔۔۔
“”””زاور تُمھارے بیٹے کی وجہ سے آج میرا بیٹا پارٹی میں نظر انداز ہوا ہے وہ اس گینگ کا نیا بننے والا لیڈر ہے ناکے تُمھارا یہ بیٹا۔۔”””””
آصف نے سخت تیوریاں چڑھا کر زاور سلطان سے کہا جو بے بسی سے اپنے بیٹے کے آنکھوں کے نیچے گہرے کٹ دیکھ رہا تھا۔۔۔
“””آصف آپ بھی ہمارے بیٹے کو کس سے ملا رہے ہیں کہاں اس ملک کے طاقتور مافیا کا بیٹا اور کہاں یہ ہمارے ٹکروں میں پلنے والے گندی نالی کے کیڑے۔۔۔”””
وہ اپنے شوہر سے کہتی حقارت سے زاور سلطان اور اُسے گھورنے لگی جو سر جھکائے اپنے خون کو فرش پر پھیلتے ہوئے دیکھ رہا تھا۔۔۔
“””میڈم اب آپ زیادتی کر رہی ہیں میں نے اس گینگ کے لیے کیا کیا نہیں کیا ہے اپنی بیوی تک کو چھوڑا ہے صرف یہ گینگ نہ چھوڑنے کے لیے اور آپ میری قربانی کا یہ صلہ دے رہی ہیں مجھے اور میرے بیٹے کو ۔۔”””
زاور سلطان اپنے بیٹے کے لیے یہ الفاظ برداشت نا کر سکا اور آج پہلی بار اپنے باس کی محبوب بیوی سے لڑ پڑا مگر
اسکی یہ لڑائی اُسکے باس نے گولی چلا کر اُسکی سانسیں چھین کر آخری ثابت کر دی۔۔۔
ٹھاہ۔۔۔۔””””
گولی زاور سلطان کے کندھے کو چھیڑ کر پیچھے دیوار پر جا کر لگی تو وہ اپنے باپ کو دیکھ اپنی آنکھوں کی جلن کو بھول کر روتا ہوا آگے بڑھا۔۔
“””بابا۔۔۔۔”””
ان باپ بیٹے کو وہاں اکیلا چھوڑ کر وہ دونوں میاں بیوی وہاں سے چلے گئے انکے جانے کے بعد زاور سلطان اٹھا اور اپنا کندھا پکڑ کر اپنے زخمی بیٹے کو اٹھا کر اُسے لیے وہاں سے نکلنے لگا۔۔۔
“””زاور بھائی یہ آپکے کندھے پر گولی کیسے لگی اور فرغام کی آنکھوں کے نیچے یہ کٹ۔۔۔”””
جب وہ کواٹر میں پہنچے تو فرید کی بیوی مہرین جو اپنے بڑے بیٹے کیوان کے ساتھ باہر نکل رہی تھیں انہیں اس حالت میں دیکھ پریشانی سے زاور سلطان سے پوچھنے لگی۔
کیوان جو فرغام سے دو سال چھوٹا تھا وہ فرغام کی آنکھوں سے خون بہتا ہوا دیکھ کر ڈر کے مارے اپنے ماں سے چپک گیا۔۔
“””بھابھی میں ٹھیک ہوں فرید کہاں ہے کیونکہ فرغام ابھی بچہ ہے اسے تکلیف ہو رہی ہوگی ہمیں اسے جلد ہاسپٹل لے جانا ہوگا۔۔۔”””
زاور سلطان انہیں کہتے ہوئے آخر میں فرید کے بارے میں پوچھنے لگا۔۔
“””زارو بھائی وہ تو کب سے وہیں پر تھے ابھی تک واپس نہیں لوٹے ہیں۔۔۔”””
انکی بات پر زاور سلطان سخت پریشان ہو گئے اور فرغام سلطان کو انکے حوالے کر کے وہ اسی جانب بھاگے جہاں آصف اور نیلوفر نے کچھ دیر پہلے فرغام کے اوپر ٹارچر کیا تھا۔۔۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
“”وہ دونوں دو دن سے غائب ہے بھائی۔۔۔”””
جب فرید کآردال اور زاور سلطان کا کچھ پتہ نہیں چلا تو فرید کی بیوی مہرین کآردال نے اپنے آبائی گاؤں سے اپنے بڑے بھائی کو بلایا تھا وہ اس وقت انکے سامنے بیٹھی کہہ رہی تھیں۔۔۔
“””مہرین اُن دونوں کے باس وہ کیا کر رہے ہیں کیا وہ انہیں ڈھونڈ رہے ہیں۔۔۔؟؟؟
مہرین کآردال کے بھائی یوسف نے آصف صاحب کے بارے میں پوچھا۔۔۔
“”کہاں بھائی اسے تو اس بارے میں پتہ بھی نہیں ہے اور میں اکیلی عورت کیسے ایک ایسے عیاش آدمی کے پاس جاکر اپنے شوہر اور اسکے دوست کے متعلق پوچھتی اسی لیے میں نے آپکو بلایا ہے۔۔۔
مہرین کآردال نے سخت بے بسی سے کہا۔۔۔
“”مہرین تُم فکر مت کرو میں انہیں جلد ڈھونڈ لوں گا تم بس ان بچوں کا خیال رکھوں خاص اس بچے کا ویسے مہرین یہ اس کا پورا چہرہ زخمی کیسے ہوا ہے۔۔””
یوسف نے اسکے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے دلاسا دیتے ہوئے کہ کر فرغام سلطان کی آنکھوں کے نیچے بنے کٹ کی جانب دیکھتے ہوئے پوچھا تو مہرین نے نم آنکھوں سے فرغام سلطان کی آنکھوں کے نیچے دیکھا جہان رونے کی وجہ خون کی لکیر بن چکی تھیں۔۔۔
“”بھائی یہ چھوٹی سی بات پر آصف صاحب
نے کیا ہے۔۔۔”””
مہرین کآردال کی بات پر یوسف صاحب افسردگی سے سر ہلانے لگی جبکہ فرغام سلطان نفرت سے اپنی مٹھیاں کھسنے لگا۔۔۔
“””مہرین یہ آصف صاحب تو بہت بے رحم ہے تُم نے اچھا کیا جو مجھے یہاں بلایا فرید اور زاور سلطان کے ملتے ہی ہم لوگ اپنے گاؤں واپس چلے جائے گے کیا تم نے زاور سلطان کی بیوی کو آگاہ کیا ہے ۔۔؟؟
یوسف نے آصف صاحب کے متعلق کہتے ہوئے آخر میں زاور سلطان کی بیوی کے بارے میں پوچھا تو فرغام اتنے دنوں بعد اپنی ماں کا ذکر سن کر غصے سے اپنے ہونٹ بھینچنے لگا۔۔۔
“”ہاں بھائی میں نے اسے پیغام پہنچایا تھا مگر وہ پتہ نہیں کیوں نہیں آئی ہے۔۔۔”””
مہرین کآردال نے کہا۔۔۔
“”آپا وہ عورت میرے بابا سے نفرت کرتی ہے اسی لیے وہ نہیں آئی اگر انہیں ان سے پہلی کی طرح محبت ہوتی نا تو وہ یہاں بھاگی چلی آتی ۔۔”””
فرغام سلطان شدید غصے سے کہ کر وہاں سے اٹھا اور دوسرے کمرے کی طرف بڑھا جہاں وہ اور کیوان ایک ساتھ رہ رہے تھے۔۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
“””دروازہ کھولو۔۔۔۔”””
اُسکی آنکھیں کھلی تو خود کو ایک نرم و ملائم بستر پر پاکر وہ تیزی سے اٹھا اور دروازے کی طرف بڑھا اور زور زور سے دروازہ پیٹتے ہوئے آوازیں دینے لگا تبھی اپنے سر پر درد محسوس کرتا وہ پیچھے ہٹا اور واپس جا کر بیڈ پر بیٹھا اور اس وقت کو سوچنے لگا جب وہ فرید کآردال کو ڈھونڈنے اس جگہ گیا تھا جہاں فرغام کو آصف صاحب اور اسکی بیوی نے ٹارچر کیا تھا جب اسے وہاں فرید نہ ملا تو وہ جانے کے لیے مڑا کہ تبھی پیچھے سے کسی نے آکر اُسکے سر پر زور سے مار کر اُسے بیہوش کیا تھا اور وہ کون تھا بیہوش ہونے کی وجہ سے اسے پتہ نہ چل سکا لیکن اب اُسے لگ رہا تھا کہ اسے بیہوش کرنے والا ضرور آصف صاحب کا خاص بندہ ہوگا کیونکہ آصف صاحب کبھی اپنے شکار کو بخشتا نہیں تھا تو پھر اسے اور اسکی فیملی کو وہ اب کیسے جانے دے سکتا ہے یہ سب سوچ کر زاور سلطان سخت پریشانی سے بیڈ سے اٹھا اور دروازے کی جانب بڑھا۔۔۔
“””آصف صاحب پلیز مجھے چھوڑ دے میں وعدہ کرتا ہوں میں اپنے بیٹے کو لے کر یہاں سے بہت دور چلا جاؤ گا آپکو اپنی اور اپنے بیٹے کی شکل نہیں دیکھاؤ گا۔۔۔”””
وہ دوبارہ سے دروازہ پیٹتے ہوئے آوازیں دینے لگا تبھی باہر سے کسی نے دروازہ کھولا تو وہ تیزی سے پیچھے ہٹا۔۔۔
“””ڈارلنگ اگر تُم مجھ سے دور چلے گئے۔ تو میری خواہش کو کون پوری کرے گا۔۔؟؟
دروازہ کھول کر آنے والا آصف صاحب نہیں ان کی بیوی ہوگی یہ اسنے سوچا نہیں تھا جب اُسکی نظریں نیلوفر کے نامناسب نائٹی پر پڑی تو وہ نظریں نیچے جھکا گیا۔۔۔
“””آپ۔۔۔”””
وہ نظریں نیچے جھکا کر پیچھے ہٹتے ہوئے کہنے لگا۔۔۔
“””آپ نہیں ڈارلنگ جانِ زاور کہوں مجھے میں اب سے تُمھاری جانِ زاور ہو۔۔۔”””
نیلوفر سیاہ نائٹی کے گاؤن کی ڈوریاں کھولتی ہوئی قدم اسکی جانب بڑھاتی ہوئی بولنے لگی۔۔۔
“””یہ آاپ کیسی باتیں کر رہی ہے اور مجھے یہاں کیوں بند کر کے رکھا ہے آپ نے نکالے مجھے ۔۔۔؟؟؟
وہ اُسے اپنے قریب آتے ہوئے دیکھ پیچھے بیڈ کی جانب پہنچ کر رکتے ہوئے پوچھنے لگا۔۔
نیلوفر اسکے قریب آکر اپنی انگلی اسکے چوڑے سینے پر رکھ کر اُسے بیڈ پر گرا کر اپنی نائٹی کی گاؤن اتار کر نیچے پھینک کر وہ اُسکے اوپر آکر اُسکے چہرے کو چھونے کے لیے اپنے ہاتھ بڑھانے لگی تبھی زاور سلطان نے اپنا چہرہ دوسری طرف کیا تو وہ مسکرا کر اسے دیکھنے لگی ۔۔
“”ڈارلنگ اگر میں نے تُمھیں اپنی قید سے نکالا تو میرا کام کون کرے گا۔۔۔؟؟؟
وہ اُسکا چہرہ پکڑ کر اپنے چہرے کے قریب کرتی ہوئی بولی۔۔۔
“””کی۔۔۔کیا مطلب۔۔۔”””
زاور سلطان اُسکی حرکت پر شاکڈ کی کیفیت میں اپنا وجود ہلا بھی نہیں پا رہا تھا۔۔
“””مطلب مجھے تُمھارے بیٹے فرغام سلطان کی طرح کا ایک خوبصورت بیٹا چاہیے جو ڈارلنگ صرف ہمارا خون ہو ہماری پہنچان ہو۔۔۔”””
اپنی انگلی اُسکے عنابی ہونٹوں پر رکھ کر پھیرتی ہوئی وہ زاور پر اپنی گھٹیا خواہش ظاہر کر گئی جسے سن کر زاور سلطان سخت گھبرا کر اسے اپنے اوپر سے ہٹا کر بیڈ سے اٹھنے لگا مگر نیلوفر واپس اُسے دھکا دے کر بیڈ پر گرا کر اُسکے اوپر جھک کر اُسکے ہونٹوں پر جھکی۔۔۔
“””آپ یہ کی۔۔۔کیا کر رہی ہے آپکو یہ سب کرتے اور کہتے ہوئے اپنے شوہر کو دھوکا دیتے ہوئے شرم آنی چاہیے۔۔”””
زاور سلطان اپنے ہونٹوں پر نرم ہونٹوں کے لمس پر تڑپ کر اُسے خود سے دور دھکیل کر کہنے لگا ۔۔
“”اس میں شرم کی کیا بات ہے میں بھی ایک انسان ہو
مجھے بھی ایک خوبصورت بچہ اور ایک ہینڈسم چاہنے والا شوہر اگر مجھے یہ سب حاصل کرنے کے لیے اس آصف کو دھوکا بھی دینا پڑا نا تو میں اسے دوں گی ویسے بھی مجھے اس موٹے کالے شخص سے اصل میں تھوڑی محبت ہے میں اسکے ساتھ صرف ایک مجبوری کی وجہ سے رہ رہی ہو اسکے پاس میری ایک نازیبا وڈیو ہے جس کی وجہ سے اسنے مجھے بلیک میل کرکے مجھ سے شادی کی تھی اب میں اس وڈیو کو لے کر اسے مار کر اپنا بدلا لینا چاہتی ہو اگر تم میرا ساتھ دوں گے تو میں اسکی جگہ پر تمھیں بیٹھا کر تُمھیں راج کرواؤں گی۔۔۔”””
نیلوفر بے باکی سے اس کے بارے میں کہتی آخر میں اپنے شوہر کے متعلق نفرت سے کہتی ہوئی مصنوعی آنسو اپنی آنکھوں میں لاکر آگے بڑھ کر اچانک سے آگے بڑھ کر اُسکے چوڑے سینے سے لگ کر ڈرامائے انداز میں روتی ہوئی بولی۔۔
“””اپنے یہ آنسو بہانا بند کرو کیونکہ میں تُم جیسے بے غیرت عورت کے جال میں پھنسنے والوں میں سے نہیں ہو۔۔۔”””
زاور سلطان اسکی اصلیت جاننے کے بعد اب اس عورت کو اچھے سے پہنچان چکا تھا اسی لیے وہ اس کے رونے پر بھی نہ پگھلا۔۔۔
“””ڈارلنگ مجھے لگتا ہے تُمھیں اپنا دوست پیارا نہیں ہے۔۔۔؟؟؟
نیلوفر اسے اپنی جال میں نہ آتے ہوئے دیکھ اب اُسے اسکے دوست کا نام لے کر دھمکی دینے لگی۔۔۔
“””کیا مطلب۔۔۔؟؟؟
وہ دوست کا سُن کر اُس سے پوچھنے لگا۔۔۔
“”” فرید کآردال تُمھارے ہی دوست کا نام ہے نا۔۔۔؟؟؟
نیلوفر فرید کآردال کا نام لیکر اُسے دیکھنے لگی جو فرید کا نام سن کر چہرے پر تفکر کی پرچھائیاں لیے نیلوفر کو مسکرانے پر مجبور کر گیا۔۔۔
“””ذلیل عورت تُم فرید کے نام پر مجھے بلیک میل کرنا چاہتی ہو تو اپنی کان کھول کر سُن لو میں اپنی جان تو لے لوں گا لیکن تُمھاری اس بلیک میلنگ میں نہیں آؤں گا تُمھیں جو کرنا ہے جا کر کروں ۔۔۔”””
وہ اپنی سوچو سے باہر نکل کر نفرت سے اُسے دیکھتے ہوئے غرایا۔۔۔
“””افسوس ڈارلنگ میں جو بھی کام کرتی ہو وہ بغیر کسی بلیک میلنگ کے کرتی ہو میں تُمھیں ہر حال میں حاصل کرکے رہوں گی چاہے مجھے اس کے لیے تُمھاری بیوی تُمھارے بچوں کو تُمھارے دوست کو اگر مجھے راستے سے ہٹانا پڑا نا تو میں ان لوگوں کو بھی ہٹاؤں گی تُم دیکھنا میں تُمھاری باہوں میں کل یا کسی یا پرسوں ضرور آؤں گی۔ کیونکہ میں ایک خوبصورت بچے کے لئے کچھ بھی کر سکتی ہو کسی بھی حد تک جا سکتی ہو۔۔۔ “””
وہ نیچے سے اپنی گاؤن اٹھا کر پہنتی ہوئی بے باکی سے کہتی ایک آنکھ ونک کرکے اسے روم میں اکیلا چھوڑ کر باہر نکلی اور دروازہ باہر سے لاک کرنا نہ بھولی۔۔۔
اُس شیطان عورت نے اپنی اس گھٹیا مانگ کو پورا کرنے کے لیے سب کچھ پہلے سے پلان کیا تھا اسی لیے اسنے زاور سلطان کی فیملی کے ساتھ اُسکے دوست فرید کو بھی بلیک میل کرنے کے لیے ٹارگٹ کیا زاور سلطان یہ سب سوچتا غصے سے بیڈ پر گر سا گیا۔۔۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
