51.2K
29

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 7

وہ دونوں ڈنر سے فارغ ہوئے تو واک آؤٹ کیلئے فلیٹ سے باہر نکلے۔۔جب وہ لوگ نازلی کے فلیٹ کے پاس بنے ایک پارک میں داخل ہوئے۔
“””مس آفیسر مجھے کچھ تو گڑبڑ لگ رہی ہے۔۔””””
کیوان کآردال کو محسوس ہوا جیسے کوئی اُنکا پیچھا کر رہا ہے تو وہ چوکنا ہو کر پیچھے مڑا تو اپنے پیچھے تین مشکوک لوگوں دیکھ وہ تیزی سے آگے بڑھا اور نازلی کا ہاتھ مضبوطی سے پکڑکر اُسے لیے سامنے خوبصورتی سے کٹنگ کیے گئے پھولوں کے پیچھے جاکر چھپا اور آہستگی سے اُس سے کہنے لگا۔۔۔
“”””کیا مطلب….؟؟؟؟
نازلی جو آج اُسکی نزدیکیوں سے کچھ الگ فیل کر رہی تھی اُسے دوبارہ اپنے پاس دیکھ سخت سٹپٹا کر پوچھنے لگی۔۔۔
“”””شششش مس آفیسر…””””
اچانک سے کیوان نے اُسکے گلابی ہونٹوں پر اپنی انگلی رکھتے ہوئے کہا۔۔۔اُسکی بے ساختگی پر نازلی کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں اور ڈھرکنے الگ اتھل پتھل ہونے لگیں۔۔۔۔
“””تت۔۔۔تُم پلیز اپنی انگلی ہٹاؤ۔۔۔””””
وہ اپنی اتھل پتھل ہوتی ڈھرکنوں کو سنبھالتی جھجکتے ہوئے کہنے لگی۔۔۔تو کیوان کآردال کی نظریں اپنی انگلی پر پڑیں جو اُسکی بُری طرح سے کانپتے گلابی ہونٹوں پہ سجی تھیں وہ گھبرا کر تیزی سے اپنی انگلی ہٹاتا اُس سے پیچھے ہٹا۔۔۔۔
“”””سس۔۔۔۔سو سوری مس آفیسر مجھے پتہ نہیں چلا۔۔۔۔”””
وہ نظریں نیچے جھکا کر کہنے لگا۔
“””تو تُم لوگ یہاں چھپے ہو۔۔۔۔”””
تبھی ایک آدمی اُنکا پیچھا کرتا اُنکے قریب پہنچا اور اپنے پینٹ کے پیچھے سے اپنا ریوالور نکال کر کہنے لگا تو کیوان کآردال نازلی کو تیزی سے اپنے پیچھے چھپاتا اُسکے آگے ڈھال بن کر کھڑا ہوگیا۔۔۔
“”””کون ہو تُم لوگ اور کس کے کہنے پر تُم ہمارا پیچھا کر رہے ہو۔۔۔۔؟؟؟؟
کیوان سخت نظروں سے اُس آدمی کو گھورتے ہوئے پوچھنے لگا وہ اس وقت اپنی ریوالور بھی نہیں لے کر آیا تھا ورنہ اس وقت وہ شخص زمین پر ڈھیر ہو چکا ہوتا۔۔
وہ اُسے مار تو اپنے ہاتھوں سے بھی سکتا تھا لیکن اس وقت نازلی کی سیفٹی اُسکے لیے زیادہ ضروری تھی۔
شاید وہ یہ بھول گیا تھا جسے وہ بچانا چاہتا ہے وہ ایک اِیول کی بہن تھی جو اُسی کی طرح اپنے دشمنوں کے لیے ایک ظالم اور جلاد حیوان سے کم نہیں تھی۔۔۔
“”””اے ہیرو ہم تمھارا نہیں آفیسر میڈم کا پیچھا کر رہے ہیں تاکہ اپنا بدلا لے سکیں انہوں نے ہمارے باس کو جیل تک پہنچایا ہے ناں اب ہم انہیں قبر تک پہنچانے کے لیے یہاں آئے ہیں۔۔۔””””
وہ آدمی نفرت سے اُسکے پیچھے کھڑی نازلی کو دیکھتے ہوئے کہنے لگا۔۔۔۔
“”””تُم کیسے غنڈے ہو۔۔۔؟؟”””””
نازلی نے جب سامنے کھڑے آدمی کو پہچانا تو شدید غصے سے کیوان کآردال کا رخ اپنی طرف کرتی پوچھنے لگی۔۔۔۔
“”””مس آفیسر میں سمجھا نہیں آپکی اس بات کا مطلب زرا ایکسپلین کر کے مجھے سمجھائیں پلیز۔۔۔۔؟؟؟؟
کیوان نے اُسکے غصے سے سرخ چہرے کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا۔۔۔۔
“””””تُم ایک غنڈے ہو کر کیسے اس سڑک چھاپ غنڈے پر رحم کھا سکتے ہو؟؟جو تُم لوگوں کا نام برباد کر رہا ہے۔۔۔””””
نازلی اُسے یکدم سے سخت غیرت دلاتی ہوئی کہنے لگی۔لیکن کیوان کی نظریں اُسی آدمی کی جانب چوکس تھیں تو اسے ریوالور کا رخ نازلی کی جانب کرتے ہوئے دیکھ وہ نازلی کو دور دھکیل کر اُسکے نام کی گولی کو اپنے سینے پر کھا گیا۔۔۔
“””””کک۔۔۔۔کیوان۔۔۔۔””””””””
گولی کی آواز پر منہ کے بل گری نازلی تیزی سے سر اٹھا کر پیچھے دیکھنے لگی تو کیوان کو نیچے گرتے ہوئے دیکھ وہ چیخ مارتی ہوئی اٹھی اور اُسکی جانب بھاگی تو وہ آدمی نازلی کو کیوان سے لگے دیکھ وہاں سے رفو چکر ہوگیا۔۔۔
“””””تت۔۔۔۔۔تُم نن۔۔۔۔۔۔ نے ااا۔۔۔۔۔ایسا کک۔۔۔۔کی۔۔۔کیوں کی۔۔۔کیا اگ۔۔۔۔۔۔اگر تُمھیں کچھ ہوگیا تو مم۔۔۔۔۔۔میں کیا کروں گی۔۔؟؟””
نازلی روتی ہوئی اُسکے چوڑے سینے سے بُری طرح سے بہتے خون کو ہاتھ سے دبا کر روکتی ہوئی ہچکیوں کے درمیان کہنے لگی۔۔۔۔
“””””م۔۔۔۔مس آف۔۔۔۔۔آفیسر آپ رو کیوں ر۔۔۔رہی ہیں۔۔۔۔؟؟؟؟
کیوان کی آنکھیں بہت زیادہ خون بہنے کی وجہ سے بند ہو رہی تھیں وہ اس وقت اپنے مضبوط اعصاب کی وجہ سے کام لے رہا تھا۔
ورنہ وہ کب کا بیہوش ہو جاتا لیکن نازلی کی سسکیوں کی وجہ سے وہ یکدم سے خود کو بہت کمزور محسوس کرنے لگا اُسکی سسکیوں کی وجہ سے اپنے دماغ کو بہت کوششوں کی وجہ سے بھی اب کنٹرول نہیں کر پا رہا تھا۔۔۔
“””””تُم پلیز کچھ مت بولو اور پپ۔۔۔۔اپنی آنکھیں بند مت کرو میں کسی سے تمھیں اٹھانے کے لیے مدد لیتی ہوں مجھے پتہ ہے تمھیں ہاسپیٹل لے جانا تمھارے لیے ٹھیک نہیں ہے۔۔۔”””
نازلی کہتی ہوئی اٹھنے لگی تبھی کیوان نے ہاتھ سے پکڑ کر اُسے روکا۔۔۔۔
“””نہیں تُم مجھے چھوڑ کے مت جاؤ میں اتنا کمزور نہیں ہوں اسطرح کی گولیاں میں بچپن سے کھاتا آ رہا ہوں اب مجھے عادت ہوگئی ہیں بس میں کچھ دیر اسی طرح لیٹنا چاہتا ہوں تاکہ تمھارے علاج کی وجہ سے میرا دماغ سن نہ ہو جائے۔۔”””
وہ آنکھیں موندے کہنے لگا۔۔۔۔
“””پلیز تُم اپنی آنکھیں بند مت کرنا میں ابھی خدیجہ خالہ سے اُنکی وہیل چیئر مانگ کر یہاں لے کر آتی ہوں پھر میں تمھیں اسی کے ذریعے اپنے فلیٹ تک لے کر جاؤں گی۔۔۔””””
نازلی کو جب وہیل چیئر کا خیال آیا تو وہ اپنی آنکھوں سے بُری طرح سے گرتے آنسو کو صاف کرتی اُسے کندھوں سے پکڑ کر اٹھنے کے لیے کہنے لگی تو وہ اپنی آنکھیں آہستگی سے کھول کر اُسے دیکھنے لگا جو اُسکے اوپر جھکی کہہ رہی تھی۔۔۔
“”””یہ خدیجہ خالہ کون ہے اور وہ کیوں تمھیں اپنی وہیل چیئر دے گی۔۔۔؟؟؟؟
کیوان نے اُس سے پوچھا۔۔۔۔
“”””وہ میری پڑوسن ہیں انکے پاس وہیل چیئر ہے کیونکہ وہ بے چاری معذور ہے۔۔۔””””
وہ خدیجہ خالہ کے بارے میں کہتی آخر میں دکھ سے ان کے بارے میں کہنے لگی تو کیوان اُسے کسی کے لیے ہمدرد دیکھ لبوں پہ مسکراہٹ سجا کر اپنا ایک ہاتھ آگے بڑھا کر اُسکے سرخ گالوں پر بہتے آنسو کو صاف کرنے لگا۔۔۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
“”””خدیجہ خالہ مجھے آپکی وہیل چیئر چاہیے۔۔۔۔”””
وہ خدیجہ خالہ کے فلیٹ کے دروازے کو نوک کر کے ویٹ کرنے لگی اور جب خدیجہ خالہ نے دروازہ کھولا تو وہ نم آواز میں ان سے کہنے لگی تو خدیجہ خالہ اُسکی آنکھوں میں آنسو دیکھ پریشانی سے اسے دیکھنے لگی۔۔۔۔
“”بیٹا کیا ہوا ہے آپ اتنا رو کیوں رہی ہو اور آپکو میری وہیل چیئر کیوں چاہیے۔۔۔؟؟؟
خدیجہ خالہ کے پوچھنے پر وہ سب کچھ انھیں بتانے لگی جسے سن کر خدیجہ خالہ نے اندر رکھے اپنے ایکسٹرا وہیل چیئر کی جانب اشارہ کیا تو وہ تیزی سے اندر بڑھی اور وہ وہیل چیئر لے کر انہیں شکریہ ادا کرتی باہر نکلی۔۔۔
دوسری طرف کیوان کآردال جو اب مکمل ہوش میں آ چکا تھا اپنے مضبوط اعصاب کی وجہ سے تبھی وہ اسے اپنی جانب آتے ہوئے نظر آئی تو وہ مسکرایا اور اپنی آنکھیں موند گیا۔۔۔
“”””کک۔۔۔کیوان۔۔۔۔”””
وہ جب اپنی کار سے باہر نکلی تو اُسے آنکھیں بند کیے دیکھ سخت پریشانی سے آگے بڑھی اور اُسکا کندھا ہلانے لگی تو وہ اپنی آنکھیں کھول کر اُسے دیکھنے لگا۔۔۔۔
“”””مس آفیسر آپ آ گئیں۔۔۔؟؟؟؟
وہ اُسکی جانب دیکھتے ہوئے مسکرا کر پوچھنے لگا۔۔
ہاں میں آگئی لیکن تُم نے اپنی آنکھیں کیوں بند کی تھیں اگر تم بیہوش ہوتے تو میں کیا کرتی ہاں بولو۔۔۔۔”””
وہ غصے سے اُسے گھورتی ہوئی کہنے لگی۔۔۔
“”””مس آفیسر اگر آپ مجھے اسی طرح ڈانٹے گیں تو میں سچ میں بیہوش ہو جاؤں گا۔۔۔””””
کیوان نے اٹھنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا۔
تو نازلی اُسکی جانب تیزی سے بڑھی اور اسے سہارا دینے لگی۔۔۔
“””اچھا اب زیادہ باتیں مت کرو اور آؤ اس وہیل چیئر پر بیٹھو۔۔۔””””
وہ سخت نظروں سے اُسے گھورتی ہوئی بولی تو کیوان اسکی بات پر اسکا سہارا لیتے ہوئے وہیل چیئر پر بیٹھا تو اسکے بیٹھتے ہی نازلی پیچھے کی طرف آئی اور وہیل چیئر کو لیے اپنے فلیٹ کی جانب بڑھی۔۔۔۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
”د۔۔۔دیکھو۔۔۔میں نے کبھی ایسا کام نہیں کیا اس لیے اگر ذیادہ درد ہوا تو پلیز تم بہادر مرد بن کر برداشت کرلینا کیوان مجھے بلیم مت دینا۔۔۔“
وہ اس کے کہنے پر تیز دھار نوکیلا چاقو تو گرم کرچکی تھی مگر اب اس کے قریب بیڈ پر آکر،پھر سے بھل بھل بہتے زخم کو دیکھ خود ہی گھبرا چکی تھی،سو نم آواز میں اسے وارن کرنے لگی۔
دل زوروں سے دھک دھک کرتا مقابل کی تکلیف پر ڈوب رہا تھا۔
“”””ی۔۔یہ شریف بندہ آپ کے حکم کی تکمیل کرنے کو راضی ہے مس آفیسر۔۔ج۔۔جو حکم آپکا۔۔۔۔””
کیوان اس کی نم آنکھیں تکتا ہولے سے مسکراتے ہوئے سر ہلاگیا۔۔۔
بڑھتی تکلیف کیوان کی آنکھیں اور بھی سرخ کرچکی تھی۔
نازلی گولی نکالنے کے لیے اس کے قریب ترین آکر بیٹھی تو اذیت میں بھی کیوان کے ہونٹ مسکرائے۔
“”””””آہہہہہہہہ۔۔۔۔””””””
نازلی نے گرم چاقو کی نوک اُس کے سینے پر بنے خون آلود سوراخ میں بڑے جگرے سے گھسائی تو کیوان ناچاہتے ہوئے درد سے بھی چیخ اٹھا۔
“”””ک۔۔۔کیوان سو۔۔سوری،سوری پلیز میں ایسا نہیں چاہتی تھی کہ تمھیں درد ہو۔۔۔””””
نازلی روہانسی ہوکر بولتی چاقو کی نوک کو سوراخ سے نکالنے ہی والی تھی جب کیوان نے تیزی سے اُس کے ہاتھوں کو تھاما اور سر کو نہ میں ہلاتے ہوئے اُسے گولی باہر نکالنے کا اشارہ کیا۔
نازلی نے بہتے آنسوؤں میں بڑی ہمت سے چاقو پر دباو ڈالا اور سسکتے ہوئے،کیوان کی آہوں کی پرواہ کیے بنا ہی۔۔اندر پھنسی گولی کو باہر نکالنے کی کوشش کرنے لگی۔
نرم بستر کی پھولدار چادر بھی چوڑے سینے سے بہتے ہوئے سرخ خون سے رنگ چکی تھی۔
“”””یا خداااااا۔۔۔۔۔””””
نازلی نے بڑی کوششوں کے بعد بالاآخر جھٹکے سے خون آلود گولی نکال لی تو درد کی شدت سے کیوان کے منہ سے بلند پکار نکلی۔
“””””آہہہہہہ۔۔۔۔”””
گہری تکلیف نے اُس کا چہرہ اور مضبوط جسم دونوں کو ہی پسینے سے نچوڑ ڈالا تھا۔
“”””بس بس بس۔۔۔ہمت کرو کیوان پلیز حوصلہ کرو گولی نکل چکی ہے سب ٹھیک ہے اب پلیز ریلیکس ہوجاؤ۔۔۔”””
نازلی نے فوراً پاس پڑا کپڑا کیوان کے چوڑے برہنہ سینے کے دائیں جانب رکھتے ہوئے فکرمندی سے کہا۔
اور ذرا آگے ہوکر اُس پر جھکنے کی وجہ سے نازلی کے آنسو کیوان کے کندھوں پر گرے تھے۔
“””م۔۔میں ٹھیک ہوں مم۔۔۔مس آفیسر۔۔۔میری ہی طرح بہت بڑا کام کیا ہے آپ نے مجھے بچا کر،اس لیے ذیادہ پریشان مت ہوں میری وجہ سے۔۔۔””””
کیوان نے گہرے سانس لیتے ہوئے ہاتھ آگے بڑھا کر نازلی کے گالوں کو صاف کیا تو نازلی کو اپنی دھڑکنیں اس کے گرم لمس پر تیز سے تیز ہوتی محسوس ہوئیں۔
“””کیسے پریشان نہ ہوں؟تمھارے جذبات مجھے ڈرا رہے ہیں۔تم جیسا غنڈہ میری جان بچانے کے لیے اپنی جان پر کھیل گیا۔اس احسان کو میں کیا سمجھوں؟“
کیوان کے ہاتھ پیچھے کرنے پر نازلی اس کے چہرے پر آئے پسینے کو اپنی آستین سے صاف کرتی ہوئی غصے اور بےبسی کی ملی جلی کیفیت لیے پوچھنے لگی۔
کیوان اُس کے فکر کرتے ہوئے انداز میں غصہ دیکھ کر آہستہ سے ہنس دیا۔
پھر بےباکی سے ایک بازو اُس کی نازک کمر پر حمائل کرتا اپنا درد چھپا گیا۔
“”اگر میں کہوں یہ میرا پیار ہے تو کیا مانو گی۔۔۔؟؟؟
نازلی کا چہرہ قریب آنے پر کیوان گہرے لہجے میں بولا تو نازلی سرخ چہرے پر حیرت لیے بڑی بڑی آنکھوں سے اُسے دیکھتی چلی گئی۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
“”””بابا مجھے واپس لندن جانا ہے مجھے یہاں نہیں رہنا وو۔۔۔۔وہ روحین نے اگر میرے ظلم کے بارے میں اُسے بتایا تو وہ مجھے مارنے کے لیے ضرور واپس آئے
گا بابا مجھے یہاں سے بہت دور بھیج دیں۔۔۔۔۔””””
عروبہ اس حادثے کے بعد بہت زیادہ ڈری ہوئی تھی اب بھی الیاس محمود کو اپنے روم میں داخل ہوتے دیکھ وہ بیڈ سے نیچے اتری اور نیچے بیٹھ کر کہنے لگی۔۔۔
“”عروبہ میری بچی بتاؤ تو سہی آخر اُس دن تمھارے ساتھ کیا ہوا تھا اگر تُم ہمیں تفصیل سے بتاؤ گی تو ہم تمھاری بہن کو اُس سے بچا لیں گے۔۔۔۔””””
الیاس محمود نے اسے اٹھاتے ہوئے پوچھا جو گھٹنوں کے بل نیچے بیٹھی اپنے باپ کی طرف دیکھ رہی تھی۔۔۔
“”””بابا آپ کو اس وقت بھی میری نہیں روحین کی پڑی ہے دیکھیں اُسکی وجہ سے آج میں کس حال میں ہوں اگر آپ مجھے ترکی سے دور نہیں بھیجیں گے تو وہ مجھے جان سے مار دے گا وو۔۔۔۔۔وہ بہت بڑا ظالم ہے۔۔اور روحین کا عاشق۔۔۔۔””””
عروبہ نے نیچے لیٹ کر بچوں کی طرح پیر مارتے ہوئے چیخ کر کہنا شروع کر دیا تو اُسکی بات پر الیاس محمود کی نظریں اپنی لاڈلی بیٹی کے کٹے کندھوں کی جانب بڑھیں تو وہ سختی سے اپنے ہونٹ بھینچ گیا۔۔۔۔
“””””تُمھیں کچھ نہیں ہوگا میری بچی یہ تمھاری حالت جس نے بھی کی ہے میں اُسے ڈھونڈ کر جان سے مار ڈالوں گا۔۔۔۔””””
الیاس محمود نے اُسکے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا۔۔۔۔
“”””بابا آپ اُسے کیسے ڈھونڈیں گے اُسنے تو ماسک پہنا ہوا تھا پورا چہرا کور تھا اسکا اور کالج کے اس ایریا میں کیمرے بھی نہیں لگے تھے۔۔۔۔؟؟؟
عروبہ الیاس محمود کی جانب دیکھتی ہوئی پوچھنے لگی۔۔۔۔
“”””کیا اُسنے ماسک پہنا ہوا تھا۔۔۔”””
ابھی تک اُس شخص کے بارے میں فورسز کو پتہ نہیں چلا تھا جس نے عروبہ اور اس گروپ کے سبھی لوگوں کے ہاتھ پیر کاٹے تھے۔۔۔۔
عروبہ کو اچانک سے پینک اٹیک ہونے لگا تو وہ نیچے گری۔۔۔
“”””عروبہ میری بچی یہ تمھیں کیا ہو رہا ہے۔۔۔؟؟
اور اسے نیچے گرتے ہوئے دیکھ الیاس محمود نیچے جھکا اور اسے تھام کر پریشانی سے پوچھنے لگا۔۔۔
بابا میں اب اُس درد ناک لمحے کو یاد نہیں کرنا چاہتی ہوں آپ پلیز مجھے فورس مت کریں۔۔۔۔”””
عروبہ اُس شخص کے بارے میں اتنے سوال سُن کر اچانک سے اپنا سر نیچے گود میں دبا کر ہزیانی انداز میں چیختی ہوئی کہنے لگی۔۔۔
وہ لمحہ یاد آتے ہی وہ خوفزدہ ہونے لگی۔۔۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
“چار دن پہلے”
“””چلو اندر چل کر اُس ڈرپوک کو دیکھتے ہیں کہ بیہوش ہوگئی ہے یا نہیں ۔۔۔؟؟؟
فرغام سلطان عروبہ کی آواز پر اچانک سے روحین کی گردن کی مخصوص رگ کو دبا کر اُسے بیہوش کرتا آرام سے لیٹا کر خود جاکر کونے میں چھپا۔۔۔۔
“”””یہ تو سچ میں تُمھاری بہن ہے۔۔۔۔””””
وہ سب اندر داخل ہوئے تو سامنے روحین کے بیہوش وجود کو دیکھ کر سب چونک گئے مگر اُس گروپ کے لیڈر کی آنکھیں روحین کے بے داغ چہرے پر پڑیں تو آنکھوں میں ہوس کی چمک لیے یہ کہتا آگے بڑھا۔۔۔۔
“””اس جاہل کو ساتھ میں ڈرپوک بھی کہوں کیونکہ یہ میری سوتیلی بہن بہت بڑی ڈرپوک ہے اور مجھے اُسے ڈراتے ہوئے بڑا مزا آتا ہے ہاں یاد آیا تم نے جو باہر کہا تھا کیا تمھیں یاد ہے کیا اب میں خود کو تمھاری ٹیم کا میمبر سمجھوں۔۔۔۔؟؟؟؟
عروبہ کی بات پر فرغام سلطان کی مُٹھی غصے سے کسنے لگی۔۔۔
“””ایک شرط پر۔۔۔””””
گروپ لیڈر نے خباثت سے مسکراتے ہوئے روحین کے بے داغ چہرے کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔۔
“””کیا مطلب کیسی شرط میں نے تو اپنا چیلنج پورا کر لیا ہے پھر کیسی شرط۔۔۔۔؟؟؟
عروبہ اُسکی نظروں سے انجان سخت لہجے میں پوچھنے لگی۔۔۔۔
“””ہماری ٹیم میں شامل ہونے کے لیے تمھیں کچھ تو قربانی دینی پڑے گی ڈارلنگ۔۔۔۔”””
وہ لیڈر آنکھوں میں خبیث پن لیے عروبہ سے کہنے لگا۔۔
“””کیسی قربانی۔۔۔۔؟””””
عروبہ ناسمجھی سے گروپ لیڈر کی جانب دیکھتی ہوئی بولی۔۔۔
“”””اپنی خوبصورت بہن کی قربانی۔۔۔”””
وہ روحین کے جگر جگر کرتے حسن کو دیکھتے ہوئے کمینگی سے کہنے لگا فرغام سلطان جو اس شخص کی باتوں کا مفہوم سمجھ چکا تھا وہ غصے کی لہروں کو اپنے اندر اٹھتا ہوا شدت سے محسوس کرنے لگا۔۔۔۔
“”””اپنی بہن کی قربانی۔۔۔۔؟؟””””
عروبہ جو ابھی تک اُسکی نظروں اور باتوں کے مفہوم کو نہ سمجھی تھی وہ حیرانی سے لیڈر کی جانب دیکھتی ہوئی پوچھنے لگی۔۔۔۔
“””ہاں قربانی کیا میں تمھیں بتا دوں کہ میں کس طرح کی قربانی کا کہہ رہا ہوں۔۔۔۔””””
وہ شخص معنی خیزی سے کہتا اس وقت فرغام سلطان کو سخت زہر لگا۔۔۔
“””شیور کیوں نہیں میں بہت زیادہ تجسس میں ہوں یہ بات جاننے کے لیے۔۔۔”””
عروبہ لیڈر کو روحین کے قریب بیٹھتے ہوئے دیکھ ہنستی ہوئی بولی تو اُسکی بات پر لیڈر ہنسا اور ہاتھ روحین کی شرٹ کی جانب بڑھانے لگا۔
“”””تُم لوگوں کو قربانی کھیلنے کا بہت شوق ہو رہا ہے ناں میں ابھی تم لوگوں کو یہ کھیل،کھیل کر دیکھاتا ہوں۔۔۔”””
فرغام سلطان جو کونے میں کھڑا یہ دیکھ رہا تھا وہ غصے سے آگے بڑھا اور اس انسان کو پیچھے سے زور سے لات مار کر روحین سے دور کرتا غرایا۔۔۔۔
“””کک۔۔۔۔کون ہو تم۔۔۔؟”””
لیڈر فرغام سلطان کی دہشت طاری کرتی آواز پر خوفزدہ ہو کر اُس سے پوچھنے لگا۔۔۔
“””تُم سب کی موت۔۔۔”””
یہ کہ کر فرغام سلطان نے زور دار ٹھوکر اُس انسان کے چہرے پر ماری جس نے اُسکی ”رو“ پر گندی نظر ڈالنے کی گستاخی کی تھی۔۔۔۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
“””ہمیں چھوڑ دو ہمیں جانے دو۔۔۔”””
عروبہ اور وہ شخص اس وقت ایک کرسی پر بندھے ہوئے تھے وہ اس وقت انہیں اپنے یارٹ پر سمندر کے بیچوں بیچ لے کر آیا تھا روحین یارٹ میں بنے چھوٹے سے روم میں تھی اور اب تک بیہوش تھی شاید صدمے کی وجہ سے۔۔۔
“””سچ میں تُم لوگوں کو یہاں سے جانا ہے۔۔۔۔”””
فرغام سلطان جو انکے سامنے بیٹھا تھا وہ اُن دونوں کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھنے لگا۔۔۔
“””ہاں۔۔۔ہاں۔۔۔””””
دونوں نے زور زور سے سر ہلاتے ہوئے کہا۔۔۔
“””تو پھر ٹھیک ہے پہلے میں تمھیں کھولتا ہوں پھر اسکے بعد اس لڑکی کو۔۔”””
وہ اُس انسان کے پاس آکر اُسے کھولتے ہوئے کہنے لگا تو عروبہ لیڈر کو رسیوں سے آزاد ہوتے دیکھ خوش ہونے لگی مگر اسکی یہ خوشی جلد ہی خوف میں بدل گئی جب اُسنے لیڈر کے خون کو اس یارٹ کی پیروں تلے سفید شفاف زمین کو سرخی میں نہاتے ہوئے دیکھا ۔
“”””آہہہہہہہ۔۔۔۔”””
فرغام سلطان نے اُس کا وہی ہاتھ بُری طرح سے جڑ سے الگ کیا جو روحین کی جانب بڑھا تھا۔۔۔
“””پتہ ہے تمھارے دوست بہت لکی ہیں جنہوں نے اپنی صرف ایک انگلی گنوائی ہے کیونکہ وہ میری رو سے دور تھے اگر تُم دونوں بھی میری رو سے دور ہوتے ناں تو آج اپنے دونوں ہاتھ نہ گنواتے۔۔۔”””
وہ اُس انسان کے دوسرے ہاتھ کو اوپری جڑ سے الگ کرتا خطرناک ترین لہجے میں کہتا ہوا اُسے دھکیل کر عروبہ کی طرف بڑھا جو اُسے اپنی طرف بڑھتے ہوئے دیکھ ہزیانی انداز میں چیخنے لگی۔۔۔۔
“””نہیں میرے قریب مت آنا نہیں مجھے کچھ مت کرنا میرے ہاتھ مت کاٹنا پلیز۔۔۔”””
عروبہ جو بیڈ پر بیہوش پڑی تھی وہ نیند میں بری طرح سے چیخنے لگی پاس ہی الیاس محمود اپنی بیوی کے ساتھ بیٹھا عروبہ کی طرف دیکھ رہا تھا وہ اسے ہزیانی چیخے مارتے ہوئے دیکھ تیزی سے اسکے پاس پہنچا اور اسے اپنے سینے سے لگا کر چپ کرانے لگا۔۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
“”””مما۔۔۔۔۔”””””
اخبار میں لپٹے بریڈ کو نکال کر جب وہ کھانے لگی تو اخبار میں جس تصویر پر اُسکی نظریں پڑیں تھیں،وہ بریڈ ٹیبل پر رکھ کر نم آنکھوں سے اُس تصویر کو دیکھنے لگی۔
تبھی نیچے لکھے لفظوں پر اُسکی نظریں ساکت ہوگئیں وہ یہ لفظ منہ سے نکال کر بُری طرح سے آنسو بہانے لگی۔۔۔۔
“””””اُنکی موت کا زمہ دار بھی فرغام سلطان ہے۔مم۔۔۔۔ میں آپکو کبھی معاف نہیں کروں گی آپ روز آکر مجھے اپنی محبت یاد دلاتے ہیں ناں اب میں آپکو یاد دلاؤ گی اپنی جدائی آپ تڑپ اٹھیں گے بہت زیادہ جب میں یہاں سے بھاگ جاؤں گی ۔۔”””
وہ کرسی سے اٹھتی ہوئی بول کر دروازے کی طرف بھاگی اور دروازہ کھول کر باہر نکلی تو تبھی ایک بلیک جرمن کتے نے آکر اُسے روکا تو وہ ڈر کر پیچھے ہٹی۔۔۔
“””””پلیز ڈوگی مجھے یہاں سے جانے دو پلیز۔۔۔۔””””
وہ کتا شاید اُس ہوٹل کا تھا ورنہ وہ جنگلی ہوتا تو کب کا روحین کو چھیڑ پھاڑ دیتا۔۔۔
روحین نیچے بیٹھ کر ہاتھ جوڑ کر روتی ہوئی کہنے لگی تو وہ کتا خاموشی سے سائیڈ پر جا کر بیٹھا اور دوسری طرف دیکھنے لگا۔۔۔۔
“”””گڈ بوائے۔۔۔۔””””
روحین اُسکے سامنے سے ہٹتے ہی تیزی سے باہر نکلی اور اُسکے قریب بڑھتی ہوئی کہنے لگی تو اُس کتے نے غصے سے اپنے نوکیلے دانت اُسے دیکھائے تو وہ ڈر کر پیچھے ہٹی۔۔۔
“”””لگتا ہے تمھیں بھی وہ ڈیول میری طرح سخت نا پسند ہے اُسی لیے تُم مجھے اتنی خاموشی سے یہاں سے جانے دے رہے ہو مگر مجھے تمھارے لیے ڈر لگ رہا ہے اگر اُسنے تمھیں کیمرے میں مجھے خاموشی سے بھگاتے ہوئے دیکھ لیا تو وہ تمھیں بھی مار دے گا میری مما کی طرح۔۔۔””””
وہ اُس کتے کی جانب دیکھتی ہوئی اپنی ماں کو سوچ کر آخر میں رونے لگی تو وہ کتا اچانک سے اٹھا اور اُس پر غرانے لگا تو وہ ڈر کے مارے پیچھے ہٹنے لگی۔۔۔۔
“”””ہوں تو تُم چاہتے ہو میں یہاں سے نکل جاؤں ہاں مجھے بھی لگتا ہے اب مجھے یہاں سے جانا چاہیے ورنہ وہ ڈیول کسی بھی وقت آ سکتا ہے۔۔۔۔”””””
وہ کتا اُسے سیدھا ہوٹل کے گیٹ کے باہر لاکر اُسے اپنی بڑی بڑی آنکھوں سے دیکھتے ہوئے اپنی گردن دوسری طرف کرکے اُسے ہوٹل کے دائیں سائیڈ پر واقع جنگل کی طرف بھاگنے کا اشارہ کرنے لگا تو وہ اُس کی ہوشیاری سمجھ کر سمجھدار کتے کو پیار سے دیکھتی ہوئی اسکے سر پر ہاتھ پھیر کر پھر پیچھے مڑتی اُس جنگل کی جانب تیزی سے بھاگی۔۔۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
“””””سویٹ گرل کیا تُم اندر ہو۔۔۔۔؟؟؟؟
فرغام سلطان جب ہوٹل میں آیا تو اُسے روم میں ناپاکر واشروم کا دروازہ نوک کرتے ہوئے پوچھنے لگا مگر جب روحین کی جانب سے اُسے کوئی آواز نہیں ملی تو اسکی حیرت غصے میں ڈوبی۔۔۔
“”””رو میری جان تُم نے بھاگ کر اچھا نہیں کیا۔۔۔۔””””
وہ واشروم کا دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا تو سامنے صرف شاور کو چلتے ہوئے دیکھ وہ غصے سے مکا بنا کر سامنے دیوار پر لگے شیشے پر مار کر چیختے ہوئے کہنے لگا۔۔
پھر اپنی زخم کی پرواہ کیے بغیر وہ واشروم سے باہر نکلا اور ہوٹل کے منیجر کو ڈھونڈنے لگا۔۔۔
“”””سر کیا ہوا ہے آپ اتنا چیخ کیوں رہے ہیں۔۔۔؟؟؟؟
منیجر اُسکی آواز پر جلدی سے اُسکے پاس آکر کہنے لگا۔۔۔۔
“”””میری ہونے والی بیوی اندر نہیں ہے۔۔۔۔””””
وہ مینیجر کو کالر سے پکڑ کر سخت گیر لہجے میں کہنے لگا۔۔
“””سر وہ یہی کہیں ہوگی کہاں جا سکتی ہے۔۔۔؟””””
منیجر اُسکا کالر پکڑنے پر سخت ڈرتے ہوئے کہنے لگا۔۔۔۔
“”””وہ کہیں پر بھی نہیں ہے میں نے سب جگہ دیکھ لیا ہے۔۔۔””
وہ سخت غصے سے اُسے گھورتے ہوئے کہنے لگا۔۔۔۔
“”””سر تو پھر ہمیں سی سی ٹی وی فوٹیج دیکھنی چاہیے۔۔۔۔”””
منیجر سخت پریشانی سے اسے کہنے لگا تو وہ اُسے چھوڑتا تیزی سے ہوٹل کے سیکورٹی روم کی جانب بڑھا اور اسکے پیچھے منیجر بھی بڑھا۔۔۔۔
جب اسنے سی سی ٹی وی فوٹیج میں ایک سیاہ رنگ کے کتے کو روحین کو ہوشیاری سے بھگاتے ہوئے دیکھا تو وہ سرخ آنکھوں کو اوپر اٹھا کر منیجر کی جانب دیکھنے لگا۔۔۔۔
“”””میری ہونے والی بیوی اس کتے کی وجہ سے بھاگی ہے کہاں ہے یہ کتا اس وقت۔۔۔؟””””
سرد لہجے میں وہ کتے کے بارے میں پوچھنے لگا۔۔۔۔
“”””سر وہ میڈم اس جنگل میں گئی ہے پہلے ہمیں انہیں ڈھونڈنا چاہیے کیونکہ وہاں خطرناک جنگلی جانور ہیں۔۔۔”””
منیجر اُسکی خطرناک حد تک سرخ ہوتی آنکھوں سے ڈرتے ہوئے جلدی سے کہنے لگا تو وہ اپنی جگہ سے اٹھا اور تیزی سے اس روم سے باہر نکلا۔۔۔
تو اُسکے باہر نکلتے ہی منیجر کی سانس میں سانس آئی۔۔