122.6K
29

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 16

وہ دونوں جب وائٹ ہاؤس کے خفیہ راستے سے باہر نکلے۔تو سامنے ہرے بھرے جنگل کو دیکھ روحین حیرت سے اُسکی چوڑی پشت کو دیکھنے لگی،مگر اُسکی سفید شرٹ کو پشت سے خون میں بھرے دیکھ وہ تیزی سے آگے بڑھی۔۔۔
“””آپ کی پشت سے بہت زیادہ خون بہہ رہا ہے۔۔””
روحین اُسکی پشت پر نظریں ٹکائے بولی۔۔۔
“””””وہ دیکھوں سامنے میرا گھر ہے۔وہاں جا کر میں ڈریسنگ کر لوں گا۔۔۔”””
سامنے چھوٹے سے گھر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے سنجیدگی سے گویا ہوا۔تو روحین نے سامنے جنگل کے بیچ میں بنے اُس لکڑی اور شیشوں سے بنے خوبصورت گھر کو دیکھا۔۔۔
“”””سسسسی۔۔””””
وہ دونوں اب خاموشی سے آگے بڑھ رہے تھے۔جب فرغام سلطان کے منہ سے ہلکی سے سسکی نکلی تو روحین کی نظریں اُسکی سسکی سُن کر اُسکی جانب بڑھی جو اپنا خون سے بھرا شرٹ نکال کر دور اچھالنے کے بعد نیچے جھکا اور اپنے سنیکیرز سے اوپر چھوٹے سے سرخ نشان کو غور سے دیکھنے لگا۔۔۔
“”‘”کی۔۔۔کیا ہوا۔۔۔؟؟؟
روحین تیزی سے اُسکی جانب بڑھی اور اُسکے سامنے گھٹنوں کے بل پر بیٹھتی پریشانی سے پوچھنے لگی۔
“”””لگتا ہے مجھے کسی کیڑے نے کاٹ لیا ہے۔۔۔””””
وہ آس پاس دیکھتے ہوئے کہنے لگا۔
روحین اُسکے چہرے کو نیلی رنگت میں بدلتے ہوئے دیکھ تیزی سے ہاتھ آگے بڑھی اور اُسکے پاس بیٹھ کر اسکے سنیکیرز نکالنے لگی۔۔
“””یہ مجھے کسی کیڑے کے کاٹنے کا نشان نہیں لل۔۔لگ رہا یہ تو۔۔”””
روحین نے نظریں اوپر اٹھا کر اُسے دیکھا۔
جسکی رنگت کے ساتھ اب آنکھیں بھی بند ہو رہی تھی۔
“””تو پھر کس چیز نے کاٹا ہے مجھے۔۔؟؟؟
وہ بھاری آواز میں کہتا ڈرام سے نیچے گرا تو روحین پھٹی آنکھوں سے اُسے دیکھنے لگی جو نیچے گرا نیلا پڑ رہا تھا وہ تیزی سے تڑپ کر آگے بڑھی اور اُسکے چہرے کو پکڑ کر بغور اُسے دیکھنے لگی۔۔۔
“””آپ کو سس۔۔سانپ نے کاٹا ہے۔پلیز آپ ہمت سے کام لے م۔۔میں زہر نکالنے کی کوشش کرتی ہو۔۔۔””””
وہ اُسکی بند آنکھوں کو کھولتی ہوئی لرزتی آواز میں کہنے لگی۔شاید وہ سانپ بہت زیادہ زہریلا تھا۔یہ اُسے فرغام کی حالت دیکھ کر لگ رہا تھا وہ اُسکے سر کو خشک پتوں پر رکھتی تیزی سے اُسکی پیروں کی طرف بڑھی اور وہ پیر اوپر اٹھا کر نم آنکھوں سے اُس نشان کو دیکھ کر وہ نیچے جھکی اور اپنے دانتوں سے اُس نشان کو زور سے کاٹتی ہوئی زہر اپنے اندر لبوں پہ لے کر آہستہ آہستہ سے نیچے پھینکنے لگی ایسا کرتے ہوئے اُسکی پلکیں بھاری ہونے لگی مگر وہ اپنی پرواہ کیے بغیر اُسکے پیر سے زہر نکالنے لگی۔
“””آ۔۔۔آپ اٹھ کیوں نہیں رہے ہیں. آپکی رنگت سے مجھے لگ رہا ہے۔اب آپ کے جسم میں سانپ کا زہر ختم ہوگیا ہے۔۔”””
جب اُسنے فرغام سلطان کی رنگت کو سرخی میں بدلتے ہوئے دیکھا تو وہ اُسکا پیر نیچے رکھ کر اُسکے چہرے کے پاس جا کر اُسکے چہرے کو چھوتی ہوئی اٹک اٹک کر اُسے پکارنے لگی۔۔۔
“”اٹھیں پلیز۔۔۔”””
وہ اُسے اُسی طرح پڑے ہوئے دیکھ زور زور سے جھنجھوڑ کر ہلاتی ہوئی کہنے لگی۔مگر اُسی وقت اُسے اپنا سر بھاری ہوتا ہوا محسوس ہوا۔۔تو وہ پیچھے ہٹ کر اپنے سر کو تھامنے لگی۔
یہ درد تو کم ہونے کے بجائے اور زیادہ بڑھ رہا تھا جسے وہ سہہ نہیں پا رہی تھی ۔تبھی وہ اچانک سے فرغام سلطان کے چوڑے سینے پر گر گئی۔۔
فرغام کو آہستہ آہستہ سے ہوش آ رہا تھا وہ اپنے اوپر کسی شے کے گرنے پر اپنی بھاری پلکیں آہستگی سے اٹھا کر اپنے سینے کی جانب دیکھنے لگا تو اپنے سینے پر اُسے گرے دیکھ وہ مکمل ہوش میں آتے ہی اٹھا اور اُسی اپنی آغوش میں لے کر اُسکی ڈھرکنوں کو چیک کرنے لگا جو مدھم چل رہی تھیں وہ تیزی سے اُسے اٹھا کر اپنے اسی لکڑی اور شیشوں سے بنے گھر کی جانب بھاگا۔۔۔
جب وہ گھر میں داخل ہوا تو اُسے لیے اِس چھوٹے سے گھر کے اکلوتے بیڈروم کے دروازے کی جانب بڑھا اور ایک ہاتھ سے دروازہ کھول کر اسے لیے اندر داخل ہوا۔۔
اُسے سامنے سُرخ سادہ سے سلکی بیڈ شیٹ سے کوور جہازی سائز بیڈ پر لٹا کر پیچھے ہٹا اور اُسکی نیلے پڑے لبوں کو دیکھنے لگا جو زہر نکالنے کی وجہ سے نیلے ہو گئے ہیں۔
وہ سخت پریشانی سے اپنی پیشانی کو چھوتا تیزی سے ڈریسنگ روم کی جانب بڑھا۔۔۔اور اندر وارڈروب سے اپنا سیل فون نکال کر واپس روم میں آکر بیڈ پر اُسکے بے حد قریب بیٹھتے ہوئے اُسکی سنہری زلفوں کو چہرے پر سے ہٹاتے ہوئے بغور اُسکے بے داغ چہرے کو دیکھتے ہوئے وہ اپنے پرسنل ڈاکٹر کو کال ملانے لگا۔۔۔
“””باس زہر زیادہ نہیں پھیلا ہے۔ بس آپکے جسم سے زہر نکالنے کی وجہ سے یہ بہیوش ہوگئی ہے۔”””
ڈاکٹر اُسکے کال پر سیدھا اُسکے دئیے گئے اڈریس پر پہنچا تو اُسکے ساتھ ایک حسین لڑکی کو دیکھ وہ بہت حیران ہوا پھر اپنی حیرت پر قابو رکھ کر وہ
اُسے دیکھنے لگا۔۔۔
جبکہ وہ فاصلے پر کھڑا اپنے پرسنل میل ڈاکٹر کے ہاتھوں میں دبے اُسکی نازک کلائی کو دیکھ اُسکا دل شدت سے چاہا وہ اُس ہاتھ کو جڑ سے اکھاڑ پھینکیں جس نے اُس لڑکی کو چھوا ہے
مگر وہ سخت ضبط سے سُرخ ہوتا اپنی مٹھیاں کھسنے لگا۔کیونکہ اُسکے پاس اِس وقت برداشت کرنے کے علاؤہ کوئی چارہ نہیں تھا۔ اس وقت وہ اُسے ہاسپٹل لیکر نہیں جاسکتا تھا کیونکہ باہر وہ لوگ اُسکے انتظار میں جال بچھائے بیٹھے تھے جو اُسکے پیچھے لگے ہوئے تھے۔۔۔
“””کب تک ہوش آ جائے گا۔۔؟؟
وہ سُرخ نظروں سے ڈاکٹر کو دیکھتے ہوئے پوچھنے لگا۔تو ڈاکٹر اُسکی سرد آواز پر سخت گھبرا کر اُس حسین لڑکی پر سے اپنی نظریں ہٹا کر اُسے دیکھنے لگا۔جو اُسے ہی گھور رہا تھا۔تو وہ اُسکی غضب ناک نظروں کی ڈر سے تیزی سےروحین سے دور ہوگیا۔۔
“””رر۔۔۔رات تک شاید۔۔”””
وہ گھبراتے ہوئے بولا۔۔۔
“””کوئی خطرے والی بات تو نہیں ہے ناں۔۔؟؟؟
وہ ڈاکٹر کو ترچھی نگاہوں سے دیکھتے ہوئے سرد لہجے میں پوچھنے لگا۔۔۔
“””نن۔۔۔نہیں۔۔”””
ڈاکٹر اُسکی نظروں سے سخت گھبرا کر اُسکے سوال پر ڈرتے ہوئے جواب دینے لگا۔۔۔
“””ٹھیک اب تُم جا سکتے ہو۔۔۔”””
وہ اُسے اس عقوبت خانے سے نکل جانے کیلئے حکم دیتا اُسکی حلق پر اٹکی ہوئی سانس کو بحال کرتا روحین کی جانب متوجہ ہوا جو اُسے موت کے منہ سے نکال کر اب خود بیڈ پر آنکھیں موندے ہوئے پڑی تھیں۔۔۔
وہ ڈیول پاس کھڑا اپنی دل کی حالت سے لاپرواہ اُسے بنا پلکیں جھپکائیں دیکھ رہا تھا۔
وہ آج اپنی رحم دلی کی وجہ سے اُسکے دل کو موم کرکے اپنا مقام اُسکی دل کی سب سے اونچی جگہ پر بنا گئی تھیں۔وہ پری اِس وقت بے خبر اُس ڈیول کی دل کی حالت بہاروں جیسی کر رہی تھیں۔۔
“””تھینک یو باس۔۔۔”””
ڈاکٹر ڈیول کی نظریں اپنے سے ہٹتے دیکھ پرسکون سانس خارج کرتا اپنا سارا میڈیکل کٹ میڈیکل باکس میں رکھ کر باکس اٹھاتے ہوئے کہتا روم سے باہر کی طرف تیزی سے بڑھنے لگا مگر اُسکی بھاری آواز نے ڈر کے مارے اُسکے قدم ٹھہرنے پر مجبور کر دئیے ۔۔
“””کیا یہ دوائی کے بغیر ٹھیک ہوگی۔۔؟؟؟
سخت لہجے میں وہ ڈاکٹر سے پوچھنے لگا تو وہ سٹپٹاتے ہوئے تیزی سے آگے بڑھا اور بیڈ سائیڈ ٹیبل پر اپنا میڈیکل باکس رکھ کر اُس میں سے ایک سیرپ نکالنے لگا۔۔۔
“””نن ۔نہیں یہ اس سیرپ سے وہ جلد صحت یاب ہو جائے گی۔۔””
وہ سیرپ اُسکی جانب بڑھاتے ہوئے ڈرتے ہوئے کہنے لگا تو فرغام نے وہ سیرپ پکڑا اور غور سے دیکھنے لگا وہ اپنے معاملے میں ہر انسان پر بھروسہ نہیں کرتا تھا۔ چاہے وہ کیوان کآردال ہی کیوں نہ ہو۔۔
“”اوکے اب تُم جا سکتے ہو۔۔””
مطمئن ہو کر وہ ڈاکٹر کو جانے کا کہتا روحین کے قریب جاکر بیٹھا اور اُسکے اوپر جھک کر اُسے بغور دیکھنے لگا۔
تو ڈاکٹر اُسے مکمل اُس لڑکی کے چہرے پر جھکتے ہوئے دیکھ تیزی سے اس بیڈ روم سے بھاگنے والے
انداز سے باہر نکلا۔۔
🌋🌋🌋🌋🌋🌋🌋🌋🌋🌋🌋🌋🌋🌋🌋
اُسکی جب آنکھیں کھلی تو اپنا بھاری سر تھامتی بیڈ سے نیچے اتری۔تو تبھی اُسکی نظریں پورے بیڈروم کے چکر کاٹنے لگی۔جو بہت بڑا اور خوبصورت تھا۔ خاص کر انٹیریئر ڈیزائن جو کمال کا تھا۔
سیاہ رنگ کی دیواریں سُرخ اور سیاہ رنگ کی بھاری پردے جو کھڑکی پر گرے ہوئے تھے اور سامنے شیشوں سے بنا بالکنی سلڈیینگ۔
what happened???
وہ بالکنی سلڈیینگ کو دیکھ رہی تھی کہ زور سے بجلی چمکنے کی وجہ سے لرز کر اپنی نظریں سلڈیینگ سے ہٹا کر جھٹکے سے پیچھے بیڈ کراؤن سے لگ کر اپنے ہاتھوں کو گھٹنوں پر رکھ کر آیت الکرسی کا ورد کرنے لگی اسی پل بیڈروم کا دروازہ کھول کر وہ اندر داخل ہوا تو اُسے سر گھٹنوں پر گرائے بُری طرح سے لرزتے ہوئے دیکھ وہ تیزی سے آگے بڑھا اور اُسے اپنی آغوش میں بھر کر مخاطب ہوا۔
“””جواب دو کیوں ڈر رہی ہو۔؟؟؟
اُسے اسی طرح گھٹنوں میں چہرہ چھپائے لرزتے ہوئے دیکھ وہ سخت لہجے میں کہتا اُسکے چہرے کو اوپر اٹھا کر دیکھنے لگا جو آنسوؤں سے بھیگا ہوا تھا۔۔۔
اُسکا دل نجانے اُن سبز آنکھوں میں آنسوؤں دیکھ تڑپ اٹھا تو اچانک سے وہ آگے بڑھا اور اُسکی نم پلکوں کو چھونے لگا۔
تو وہ رونا بھول کر خاموش نظروں سے اُسے دیکھنے لگی جو اُسے ہی بغور دیکھ رہا تھا۔۔۔
“””خاموش کیوں ہو۔۔۔؟؟؟
روم میں ائیر فریشنز کی خوشبو اور کھڑکیوں پر پردے گرنے کی وجہ سے ماحول خواب ناک بن گیا تھا۔
وہ دونوں ایک دوسرے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے آہستہ آہستہ سے اس لمحے کی سحر میں گرفتار ہوتے جا رہے تھے۔۔۔
“””آپکی وجہ سے۔۔۔”””
وہ اُسکی آنکھوں میں دیکھتی ہوئی بولی۔
تو فرغام سلطان تھوڑا سا آگے کھسکا تو وہ سٹپٹا کر پیچھے ہونے لگی اور اس طرح دونوں کے آگے پیچھے ہونے کی وجہ سے روحین سیدھا جاکر بیڈ کراؤن سے ٹکرائی۔
“””کیوں۔۔۔؟؟؟
فرغام سلطان اُسکے پیچھے بیڈ کراؤن سے ٹکرانے کی وجہ سے اُسکے اوپر آکر جھکا اور اُسکے ایک ہاتھ کو اپنے ایک ہاتھ سے پکڑ کر دائیں اور دوسرے ہاتھ سے اُسکی دوسرے ہاتھ کو بائیں جانب رکھتا خاموش نظروں سے بغور اُسکے چہرے کو شرم کے باعث سُرخ ہوتے ہوئے دیکھنے لگا۔۔
“”کیونکہ آپ ظالم ہے۔”””
روحین بیڈ کراؤن سے لگی اپنے دونوں ہاتھ اُس ڈیول کے ہاتھوں کی گرفت میں جکڑے دیکھ آنکھوں کو اُس پر ٹکائے بولی۔
اس لمحے اُن دونوں کے بیچ خاموشی چھائی تھیں۔
صرف دونوں کی سانسوں کی شور روم میں سُنائی
دے رہی تھیں۔۔۔
“”صرف ظالم۔۔۔”””
اُسکی اپنے بائیں گرفت میں دبی نازک ہاتھ پر دباؤ بڑھا کر وہ سنجیدگی سے بولا۔
اپنی کلائی کو جلتے ہوئے محسوس کرتی وہ سسکی۔۔۔
“”نہیں آپ ایک بے رحم درندے بھی ہیں۔۔۔”””
وہ گرفت مضبوط ہونے کی وجہ سے سسکتی ہوئی بولی۔
فرغام سلطان اُسکی جانب دیکھ رہا تھا اُسکے گالوں پر سُرخی دیکھ کھو سا گیا اور بے ساختگی میں اُسکے بائیں گال پر جھک کر اپنے لب رکھ گیا ۔۔
“”تو تُم مجھ سے دور کیوں نہیں ہوتی۔بار بار میرے سامنے کیوں آتی ہوں۔مجھ سے اور میری پرچھائی سے کیوں نہیں چھپتی ہو تُم۔ کیوں میرے ظلم سہتی ہوں ہمیشہ ہممممم۔۔؟؟؟
اُسکی ٹھوڈی سے پکڑ کر وہ سبز آنکھوں میں اپنی سرمئی جزبوں کی گرمی لیے آنکھوں کو ڈال کر بوجھل لہجے میں پوچھنے لگا۔۔۔
“”آپ نے مجھے قید کیا ہے۔تو میں کیسے آپ سے چھپ سکتی ہو ہاں بولیں اور میں آپکے ظلم ڈر کی وجہ سے سہتی ہو۔۔؟؟؟
وہ نم آواز میں بولی۔۔۔
اُسکی نزدیکیوں سے اُسکی کمدار پلکیں بُری طرح سے ہل رہی تھیں۔اٗسکی گستاخیوں کی ڈر سے لب لرز کر الگ حشر برپا کر رہے تھے۔۔۔
“””تُم میری قید سے نکلنا چاہتی ہوں۔۔۔؟؟؟
وہ اُسکی ٹھوڈی پر پکڑ سخت کرتا تندوخو لہجے میں پوچھنے لگا۔روحین اُسکی سخت پکڑ پر سسکی۔۔۔
“”””ہاں۔۔۔”””
لرزتی ہوئی آواز میں بولی۔۔۔
“””ٹھیک ہے۔تُم آج اور ابھی سے میرے آس پاس نظر نہیں آؤں گی۔اگر مجھے تُمھارا سایہ بھی نظر آیا نہ تو میں تُمھیں اپنی اس قید سے رہائی بالکل بھی نہیں دوں گا جاؤ اس روم سے نکل جاؤ۔۔۔”””
سرد مہری سے کہتا وہ اُسے غصے سے خود سے دور کرتا اُسکی شرم کے باعث مدھم چلتی سانسوں کو بحال کر گیا۔۔
اس سے پہلے کے وہ ڈیول اپنا ارادہ بدلتا وہ اپنی اتھل پھتل ڈھرکنوں کو سنبھالتی ہوئی تیزی سے بیڈروم سے باہر بھاگی۔۔۔
“””روحی تُمھاری یہ دوری شاید اب مجھے یا تو مار دے گی یا پاگل کر دے گی۔”””
فرغام سلطان اُسکے نکلتے ہی وہ تکیہ جس پر وہ ابھی لیٹی ہوئی تھیں اپنے چہرے پر رکھ کر اُسکی خوشبو کو محسوس کرتے ہوئے کہنے لگا۔۔۔
🌋🌋🌋🌋🌋🌋🌋🌋🌋🌋🌋🌋🌋🌋🌋
“””تُم اگر اپنے لیے ناشتہ بنا رہی ہو تو میرے لیے بلیک کافی بنا کر میرے روم میں لیکر آؤں۔۔؟؟
ایک ہفتے سے اوپر ہو گیا تھا انہیں یہاں استے کرتے ہوئے اور اس بیچ اُسے اُسکی خاموشی اور خود کے نزدیک آتے ہی دور ہونا سخت ناگوار لگ رہا تھا۔
تو آج جب صبح سویرے اُسے اٹھ کر کچن میں جاتے ہوئے اُسنے دیکھا تو وہ بھی اسکے پیچھے کچن میں جا پہنچا اور اُس سے بات چیت کرنے کے بہانے یہ پوچھنے لگا۔۔۔
“میں تُم سے کچھ کہہ رہا ہوں۔۔۔؟؟؟
اُسکے خاموشی سے باہر نکلنے پر وہ اُسکے پیچھے بڑھا اور سخت لہجے میں پوچھنے لگا۔روحین اُسے بنا جواب دئیے اسی طرح آگے بڑھنے لگی ۔۔
فرغام سلطان غصے سے لال ہو کر بیچ میں آکر اُسے اپنی باہوں میں بھر کر اٹھاتے ہوئے سامنے لاؤنج میں رکھے صوفے کی جانب بڑھا ۔
اور اُسے صوفے پر پٹک کر خود اُسکے اوپر جھک کر اسے اپنے سینے سے لگاکر اُسے بُری طرح سے لرزنے پر مجبور کر گیا۔۔۔
“تُم مجھے ایوائڈ کر رہی ہو۔؟؟
وہ اُسکے اتنے دنوں سے خود سے گریزاں ہونے پر آج اُسکے بھاگنے سے پہلے ہی اُسے پکڑ کر اپنے سینے سے لگا کر اُسکی آنکھوں میں ایک کالی پٹی اور دونوں ہاتھوں کو سختی سے پکڑ کر رسیوں سے باندھ کر وہ اُسے خود میں سختی سے بھینچتے ہوئے سرگوشیانہ انداز میں پوچھنے لگا۔۔
“نہیں تو۔۔”
وہ اُس دشمن جاں کی مضبوط باہوں میں
سمٹی ہوئی منمنا کر بولی۔
“تو پھر مجھ سے بھاگ کیوں رہی ہو.؟؟
وہ اُسکی نازک کمر پر انگلی سے ایک لکیر کھینچتا بوجھل لہجے میں پوچھنے لگا۔وہ اپنی کمر پر اُسکی لمس سے تڑپتی ہوئی اتھل پھتل ڈھرکنوں کی ساز سے پریشان ہوکر ہڑبڑا کر مضبوطی سے اُسکی شرٹ کو دبوچ گئی۔
“مم۔میں آپ سے بھاگ نہیں رہی۔آا۔آپکے کہنے پر آپ سے دور رہنے کی کوشش کر رہی ہو۔”
“”کیوں کر رہی ہو. مجھ سے دور رہنے کی کوشش. اب سے تُم یہ کوشش کرنا بند کر دوں جانم۔کیونکہ مجھے تُمھارے سائے سے بھی اب بے پناہ عشق ہے۔””گلاب بنے رخسار پر اپنے لب رکھتا وہ گویا ہوا۔”اب تُم جتنا مجھ سے اِجتناب برتوں گی جاناں،میں اُتنا تُمھارے قریب آتا جاؤں گا۔گھمبیر لہجے میں کہتا وہ اُسکی ٹھوڈی پر اپنا محبت بھرا لمس چھوڑ کر اوپر سے اُسکی شولڈر سے نیچے تک اپنے ہاتھ کی پشت سے چھوتا وہ یکدم سے اُسکی ٹھوڈی کو شدت سے پکڑکر اپنے لبوں سے اُسکی گلابی لبوں کو چھوتا۔ اُسے بُری طرح سے اپنی آغوش میں کسمسا نے پر مجبور کر گیا۔۔۔
“””اگر جاناں تُم نے مجھ سے دور جانے کا کبھی سوچا بھی نہ تو۔یاد رکھنا اگر میں تُمھارے قریب آگیا نہ تو تُم پر اپنی شدتیں نچھاور کر کے میں تُمھاری جان لے لونگا۔۔اور پھر میں تُمھاری اور اپنی اِس دوری کو مٹا کر اپنی ساری حدیں پار کرکے تُمھیں اپنی جنونیت دیکھا دوں گا۔اور تُمھاری یہ نشہ طاری کرتی سانسوں پر اپنا قبضہ جما کر میں تُمھیں ہمیشہ کیلئے اپنے ساتھ باندھ لوں گا۔۔۔””
وہ گھمبیر آواز میں اُسکی مومی ہاتھوں کو سختی سے جکڑ کر اپنے لب اُسکی ہاتھ کی پُشت پر رکھ کر باری باری چھومتا ہوا وہ دوبارہ اُسکی سانسوں پر قابض ہو کر اُسے اپنی جنون اور دیوانگی کی داستان کے متعلق اچھے سے سمجھانے لگا۔۔
“””ہممممم چھوڑیں مجھے۔۔۔”””
آنکھوں پر پٹی ہونے کی وجہ سے وہ صرف اُسے محسوس کر رہی تھیں اسکی بڑھتی بے باکیت سے وہ سخت گھبرا کر اُسکی سخت گرفت سے نکلنے کیلئے مچلتی ہوئی گھٹی گھٹی آواز میں کہنے لگی۔
سانسیں اُسکی سانسوں سے مل کر متفرق ہوگئی تھیں اور آنکھیں نم ہوکر سیاہ پٹی کو مکمل بھگو چکی تھی۔
“””اب سمجھ میں آگیا ہوگا جاناں تُمھیں کے میں نفرت سے زیادہ عشق کے معاملے میں خطرناک ہو۔۔۔”””
وہ ایک ہاتھ سے اُسکی کمر پر اپنا گرفت تنگ کرتا اور دوسرے سے اُسکی آنکھوں سے پٹی ہٹاتا بوجھل لہجے میں کہنے لگا ۔۔
“””آپ ایک بے درد انسان ہے۔۔”””
پٹی ہٹتے ہی وہ آنکھوں میں نمی لیے بولی۔
تو فرغام سلطان اُسکی آنکھوں میں نمی دیکھ نیچے جھکا اور اُسکی رخسار پر پھسلتے موتیوں کو ایک ایک کر کے چُننے لگا۔
روحین کو جب اپنی گالوں پر گرم لمس کا احساس ہوا تو وہ شدت سے اُسکی شرٹ دبوچ کر سسکی۔۔
“””روحی تُم بھی ایک بے درد اور سنگدل بیوی بن گئی ہو۔تو میں پھر سے ایک بار بے درد سجن نہیں بن سکتا کیا۔اور میں نے تُمھیں خود سے چھپنے کیلئے کیا حکم دے دیا۔ تُم تو اُسے سچ مان کر پوری کرنے چلی گئی۔ کیوں تُم میرے سوئے ہوئے درندے کو جگا رہی جاناں۔اگر یہ جاگ گیا نہ تو اس پرانے والے سے زیادہ خطرناک ثابت ہوگا تُمھارے لیے سو بی کئیر فل ڈارلنگ۔۔”””
وہ رخساروں کو چھو کر گھمبیر لہجے میں کہتا۔اُس سے دور ہوا اور اُسے دیکھنے لگا جو آنکھیں سختی سے میچے بُری طرح سے لرز رہی تھیں۔۔۔
“””آنکھیں کھولو روحی۔ابھی تو یہ صرف۔ تُمھاری مجھے نظر انداز کرنے کی پنشمنٹ میں نے تُمھیں دیا ہے۔جب میرا دل چاہا نا۔ تو میں تُمھیں اپنی اس پھتر دل میں تُمھارے لیے اچانک سے جو چاہت جاگی ہے ناں تُمھاری اس معصوم صورت اور نرم دلی کی وجہ سے۔۔۔تب میں اپنی دیوانگی میں انتہا کر دوں گا۔اپنی عشق کی جلتی آنچ میں تُمھیں پگھلا کر میں تُمھیں خود سے عشق کرنے پر مجبور کروں گا۔۔۔”””
وہ مسکرا کر انگلی سے اُسکے رخسار کو چھو کر اُسے آنکھیں کھولنے پر مجبور کرتا کہنے لگا مگر وہ اُسی طرح آنکھیں میچے بری طرح سے لرز رہی تھیں تبھی وہ نیچے جھکا اور اُسے اٹھا کر باہر کی جانب بڑھا تو روحین خود کو اُسکی باہوں میں محسوس کرتی لرز کر اپنی آنکھیں کھول کر اُسے دیکھنے لگی جو اُسے باہوں میں لیے اس طوفانی بارش میں گھر سے باہر لیجا رہا تھا۔۔
“””آپ یہ کی۔۔۔کیا کہہ رہے ہیں مجھے نیچے اتارے آپ باہر کیوں لیکر جا رہے ہیں مجھے۔۔۔؟؟؟
گھر سے باہر نکل کر اُسے لیے وہ سامنے کھڑی ایک گھنے درخت کے نیچے لیجا کر نیچے اتارتے ہوئے بغور اُسے سر تا پیر دیکھنے لگا۔
“””اپنی محبت کا اظہار کرنے میں تُمھیں باہر لیکر جا رہا ہوں۔۔۔”””
وہ گھمبیر لہجے میں کہتا اُسے دیکھنے لگا جو سُرخ رنگ کے کپڑوں میں اُسکے سامنے چھوئی موئی سی لگ رہی تھیں۔۔
“”کیا آپکو سردی نہیں لگ رہی مجھے تو بہت زیادہ لگ رہی ہیں۔۔۔؟؟؟
بارش کی وجہ سے وہ دونوں مکمل بھیک چکے تھے فرغام کی نظریں وہ اپنے بھیگے وجود پر بھٹکتے ہوئے دیکھ کر تیزی سے اپنے دونوں ہاتھ کندھوں پر رکھ کر اُسکی نظروں سے بچنے کیلئے وہ مجبوراً مسکراتی ہوئی پوچھنے لگی۔۔۔
“”نہیں مجھے بالکل بھی سردی نہیں لگ رہی تُمھاری محبت کی گرمی نے تو میرے لیے اس سرد موسم کو بھی گرم بنا دیا ہے کیا تُمھیں لگ رہی ہے۔۔۔؟؟
وہ اُسکے پاس آکر اُسے نیچے بیٹھا کر پوچھنے لگا اور خود اسکے ساتھ لگ کر بیٹھا اُسے دیکھنے لگا۔۔۔
تو روحین اُسکی نظروں سے سٹپٹا کر اُس سے دور ہو کر لرز کر کہنے لگی۔۔۔
“””آپ کو بارش پسند ہے۔۔۔۔؟؟؟؟
وہ بارش کی بوندوں سے کھیلتی ابکے اُس سے دوستانہ لہجے میں پوچھنے لگی۔
جبکہ وہ اُسکی سرخ فراک کو اُسکی نازک جسم سے چپکے ہوئے دیکھ بہک رہا تھا۔۔
“”””پہلے میں بارش اور سُنو فال کے موسم سے سخت نفرت کرتا تھا۔ مگر اب احساس ہوگیا ہے، کہ یہ دونوں موسم بہت ہی دلفریب اور رومنٹک ہے۔۔””””
جنگل کی طوفانی بارش اور سامنے معصوم لڑکی کی قربت ڈیول کے بھڑکتے جزبات اُسے بغاوت کرنے پر اُکسا رہی تھیں آوارہ لب تو الگ سامنے بیٹھی ہوئی معصوم لڑکی کی گلزار لبوں کو چھوکر اپنی گرم سانسوں کی لپیٹ میں لینے کیلئے بیتاب ہو رہی تھیں۔۔۔۔
“”وہ بھلا کیوں آپ کیوں بارش۔ اور سنو فال کے موسم سے نفرت کرتے ہیں۔۔۔؟؟؟
وہ اُسکی گہری نظروں سے گھبراتی ہوئی اُس سے پوچھنے لگی۔۔۔
“””اُن دو موسم میں میں نے اپنی دو عزیز ہستیوں کو کھویا ہے۔اسی وجہ سے میں ان دونوں موسم سے سخت نفرت کرتا تھا۔مگر اب لگ رہا ہے۔کہ یہ نفرت اس طوفانی بارش میں بھیگتے ہوئے آہستہ آہستہ سے ختم ہوتا جا رہا ہے ۔۔۔”””
وہ اُسکے چہرے پر بارش کی بوندوں کو گرتے ہوئے دیکھ کر اُن بوندوں سے جلنے لگا۔جو اُس حسین مہ جبین کے چہرے پر بڑے ہی استحقاق سے گر رہے تھے۔۔۔
“””””ہوں ڈیس نائیس یہ تو بہت اچھی بات ہے۔کہ آپکا اس خوبصورت موسم سے نفرت ختم ہوتا جا رہا ہے۔ویسے وجہ کیا ہے۔ اس تبدیلی کا۔۔۔۔؟؟؟
وہ مسکراتی ہوئی ہاتھ میں بارش کی بوندیں لے کر اپنے چہرے پر ڈال کر آنکھیں موند گئی۔۔۔
تو اُسکی اس حرکت پر وہ یکلخت اپنا ہاتھ اپنے سینے کی جانب لیجانے لگا۔۔۔
“””آا۔۔۔۔آپ اپنی شرٹ کیوں اتار رہے ہیں۔۔۔۔؟؟؟؟
اُسی طرح سیدھی لیٹی اپنے اوپر بارش کی موٹی بوندیں گرتے ہوئے محسوس کرتی خوشی سے اُس سے باتیں کر رہی تھیں۔خشک پتوں پر اُسکی قدموں کی آواز پر اپنی نظریں دوسری طرف پھیر کر اُسے دیکھنے لگی جو اپنے شرٹ کی بٹن کھول رہا تھا۔تو یہ دیکھ اُسکی ڈھرکنیں بُری طرح سے اتھل پھتل ہونے لگی۔
وہ بُری طرح سے اُسکی گہری نظروں اور بارش کی وجہ سے مضبوط جسم پر چپک چکی شرٹ پر ہاتھوں کی حرکت پر سخت شرم و حیا سے سر تاپا سُرخ ہوتی اپنے ڈھرکتے دل کو سنبھالتی ہوئی اُس سے گویا ہوئی۔۔۔۔
“”””تُمھیں ایک بڑی پنشمنٹ دینے کے لیے۔کیونکہ آج تُم نے مجھ سے اتنے سوال وجواب پوچھنے کی جرات کی ہیں۔۔۔”””
اپنی سفید شرٹ نیچے کچھ بھیگے اور کچھ سوکھے پتوں پر پھینک کر تیزی سے اُسکی جانب بڑھ کر اُسے پیچھے کی طرف دھکا دے کر تناور درخت کے ساتھ پن کرتا ہونٹوں کو نرم و گلزار ہونٹوں سے لگا کر شدت سے اپنا جنونی لمس اُن خوبصورت کٹاؤ دار ہونٹوں پر چھوڑنے لگا۔۔۔
“”””امممممم مجھے چھ۔۔۔۔چھوڑیں۔۔۔””””
ہونٹوں پہ جھلن محسوس کرتی وہ اُسکی گرفت میں بُری طرح سے مچلتی ہوئی گھٹی گھٹی آواز میں کہنے لگی۔۔۔
“””ایک اور گستاخی تُم مجھے جتنی ہمت دیکھاؤ گی۔ میں تُم پر اُتنی شدتیں لٹا کر تُمھیں پنشمنٹ دیتا رہوں گا ۔۔”””
وہ اُسکی رخسار پر چپکے بالوں کو پیچھے کرتا اُسکے پھول جیسے رخساروں پر اپنے ہونٹوں سے باری باری اپنا عقیدت بھرا لمس چھوڑتا اُسکی ہتھیلیاں شرم کے باعث نم کرتا چلا گیا۔۔۔۔
“””آپ ایک بب۔۔۔۔بہت بڑے ظالم ہے۔۔۔””””
وہ نم آنکھوں سے بولی۔۔۔
تو فرغام سلطان نے اُسکے آنسوؤں کو صاف کیا اور باری باری اُسکے بھیگے پلکوں کو چھونے لگا۔۔۔۔
“””غلط روحی جاناں تُمھاری میری جان بجانے کی وجہ سے اب میں تُمھارے لیے صرف اور صرف تُمھارے لیے نرم ہو گیا ہوں۔ مجھے تو لگتا ہے۔مجھے تُم سے عشق ہوتا جا رہا ہے۔۔۔؟؟؟
دونوں ہاتھوں سے اُسکے رخساروں کو پکڑکر وہ اپنی مخمور نظروں سے اُسے دیکھتا اُسکی ہونٹوں پر ایک اور جسارت کر کے اُسے مچلنے پر مجبور کر گیا۔
روحین اُسکی شدتوں اور گستاخی پر خشک پتوں پر ہاتھ رکھ کر بُری طرح سے سسکنے لگی۔۔۔
“”پلیز مجھے چھ۔۔۔چھوڑ دے پلیز۔۔۔””
وہ اُسکی بڑھتی ہوئی نزدیکیوں اور گستاخیوں پر لرزتی ہوئی نم آواز میں کہنے لگی۔
“””کیوں روحی جاناں تُمھیں اچھا نہیں لگ رہا میرا تُمھاری میرے دئیے گئے زخموں پر پیار سے مرہم رکھنا ہمممم۔۔۔؟؟؟
وہ اُسے پوچھتا اچانک سے اُسکی فراک کو کندھوں سے سرکا کر اپنے لب جابجا اُسکی گوری مرمری شولڈر پر چھوڑتا مدہوشی سے نیچے کی جانب سفر کرنے لگا بارش اُسکی بڑھتی شدتوں کے ساتھ ساتھ تیز شدت اختیار کرتی جا رہی تھیں ۔۔
“”نہیں ایسی مرہم نہیں چاہیے پلیز مجھے چھوڑ دے پلیز۔۔۔”””
وہ اُسے اپنے سینے سے نیچے سفر کرتے ہوئے محسوس کرتی اُسکی پشت کو شدت سے پکڑ کر منمناتی ہوئی بولی۔۔۔
“””روحی جاناں اب یہ ناممکن ہے کیونکہ اس وقت میرے سر پر صرف تُمھیں مکمل اپنا بنانے کا جنون منڈلا رہا ہے۔۔۔”””
وہ کہتا ہوا اُسکے تڑپتے مچلتے وجود کو اٹھا کر یکدم سے اٹھا اور اُسے لیے واپس گھر کی طرف بڑھا اور جب گھر کے اندر داخل ہوا۔
تو اُسے لیے اپنے بیڈ روم کی جانب بڑھا۔اور بیڈ روم میں داخل ہوکر وہ اسے لیے بیڈ کی جانب بڑھا اور اُسکے گیلے وجود کی پرواہ کیے بغیر وہ اُسے جہازی سائز بیڈ پر لیٹا کر خود اُسکے اوپر جھکا اور ہاتھ سائیڈ ٹیبل پر رکھے لیمپ کی جانب بڑھا کر لیمپ کو بجھانے کے بعد وہ روم میں اندھیرے کا فائدہ اٹھا کر اُسے اوپر اٹھا کر ہاتھ پیچھے لیجا کر اُسکی فراک کی زپ کو کھولنے لگا۔روحین اپنی پشت پر سرد انگلیوں کو محسوس کرتی کپکپانے لگی۔۔
“””جاناں تُم نے مجھے سانپ کے زہر سے بچا کر بہت بڑا گناہ کیا ہے۔ اب اُسکی سزا تو تُمھیں بھگتنی پڑے گی۔۔۔”””
اُسکی گیلی فراک کو کندھوں سے نیچے کرتا وہ بوجھل آواز میں کہتا اُسکی سردی اور شرم کے باعث کانپتے لبوں پر اپنے لب رکھ کر دونوں ہاتھوں کو اپنی مضبوط گرفت میں لیکر جکڑتے ہوئے وہ اُسکی لبوں سے لب ہٹا کر مدہوش لمس کبھی ٹھوڈی کبھی آنکھوں تو کبھی صراحی دار گردن پر چھوڑ کر وہ اُسی طرح اُس پر اپنی شدتیں نچھاور کرتے ہوئے اُسے اپنی پیار کی بارش میں بھگو کر اسے ٹرپنے اور مچلنے پر مجبور کرتے ہوئے اُسکی انگ انگ میں اپنی مہریں ثبت کرنے لگا۔۔