122.6K
29

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 3

“”پلیز میرا پیچھا چھوڑ دو پلیز۔۔۔۔”””
وہ اُسے قدم آگے بڑھاتے ہوئے دیکھتی چیخ کر بولی۔۔
فریدہ یزدان جو اُسے ہی دیکھ رہی تھی وہ اُسے بُری طرح سے جھنجھوڑنے لگی۔۔۔
“””روحین بیٹا۔۔۔”””
فریدہ یزدان کے بُری طرح سے جھنجھوڑنے پر وہ اپنی سبز روئی روئی آنکھوں کو دروازے کے سامنے سے ہٹا کر اِنہیں دیکھنے لگی جو پریشانی سے اُسکو دیکھ رہی تھیں۔۔۔
“””مما وہ وو۔۔۔۔درندہ مجھے مار دے گا آپ مجھے چھپائے مما وہ مجھے مار ڈالے گا۔۔۔”””
وہ ہچکیاں لیتی ہوئی بولی۔۔۔
“””بیٹا کون تمھیں مارے گا بتاؤ مجھے میں اُسے نہیں چھوڑو گی۔۔؟؟
فریدہ یزدان اُسکے ریشمی بالوں پر ہاتھ رکھتی سامنے کھڑی عروبہ محمود کو سخت نفرت سے گھورتی ہوئی بولیں۔۔۔
“””””وہ مما وہاں دیکھے وہ میرے پاس آ رہا ہے اُسکے ہاتھوں میں وہی چاقو ہے جس سے اُسنے اُن لوگوں کو مارا تھا۔۔۔””
وہ سامنے کی جانب اشارہ کرتی ہوئی بولی تو فریدہ یزدان نے اُس جانب دیکھا تو انہیں وہاں کوئی نظر نہیں آیا،عروبہ جو سخت بیزاری سے ماں بیٹی کو گھور رہی تھی روحین کی بات طنزیہ ہنسنے لگی۔۔۔
“”””مبارک ہو مس فریدہ یزدان تمھاری بیٹی پاگل ہوگئی ہے تُم تو سنبھالو اپنی پاگل محنوس بیٹی کو میں زرا یہ خوش خبری اپنی موم اور تمھارے ایکس ہزبینڈ کو تو دو۔۔۔”””
عروبہ کی طنزیہ انداز پر فریدہ یزدان روحین کو چھوڑ کر سخت غصے سے اٹھی اور ایک زور دار تھپڑ عروبہ کے گالوں پر مار کر نفرت سے کہنے لگی۔۔۔
“”””میری بیٹی پاگل نہیں ہے سُنا تُم نے پاگل ہوگی تُم اور تمھاری ماں اور وہ آدمی جس نے تُمھاری ماں کو اور تمھیں سر پر چڑھایا ہے وہ بھول چکا ہے کہ روحین صرف فریدہ یزدان کی نہیں اُسکی بھی بیٹی ہے۔۔۔”””
سخت نظروں سے عروبہ کو گھورنے لگی۔۔
نرس جو وہی کھڑی یہ سارا تماشا دیکھ رہی تھی وہ روحین کی حالت دیکھ اُن دونوں کو گھورتی ہوئی تیزی سے آگے بڑھی اور اُسے بے ہوشی کا انجکشن لگا کر اُسے لیٹا کر اُنکی جانب بڑھی جو اب چیخ چیخ کر لڑ رہی تھیں۔۔۔
“””آپ لوگ ہاسپٹل سے باہر جاکر لڑے پلیز یہاں مریضوں کو ڈسٹرب مت کریں دیکھے آپ دونوں کی وجہ سے مریض کی حالت خراب ہو گئی ہے اگر آپ اسی طرح یہاں لڑتی رہیں تو وہ شاید صدمے کی وجہ سے کومہ میں چلی جائے۔۔۔”””
نرس اُن دونوں کو باہر کا رستہ دکھا کر سخت لہجے میں ان سے کہنے لگی تو عروبہ مس فریدہ یزدان کو گھورتی ہوئی باہر نکلی،
“”””””سوری مجھے بلکل بھی خیال نہیں رہا کہ میں ہاسپٹل میں ہو اور میری بیٹی ایڈمٹ ہے مگر وہ لڑکی میری سوتیلی بیٹی ہے اور آج میری بچی اُسی کی وجہ سے اس حالت میں ہیں اسی لیے میں اپنا سارا غصہ اس پر نکال رہی تھی۔۔۔””
فریدہ یزدان نے نرس کی جانب دیکھتے ہوئے کہا تو وہ نرس اُنہیں ڈسپلن کا کہہ کر وہاں سے چلی گئی تو وہ اپنی بیٹی کے پاس جا کر اُسے نم آنکھوں سے دیکھنے لگی آج اپنی بیٹی کو ہاسپٹل کے بستر پر دیکھ کر صحیح معنوں میں انہیں اپنی غلطی کا احساس شدت سے ہوا اگر وہ اپنی بیٹی کو اپنے ساتھ لے جاتی تو آج نوبت یہاں تک نہ پہنچتی وہ روحین کے بالوں میں انگلیاں چلاتی ہوئی روتے ہوئے یہی سوچ رہی تھیں۔۔
🌚🌚🌚🌚🌚🌚🌚🌚🌚🌚🌚🌚🌚🌚🌚
“””اُس آفیسر کی انفارمیشن فائل کہا ہے۔۔۔۔؟؟
وہ اس وقت سلطان مینشن کے ایک روم میں تھا اور اُسکے ہمیشہ کی طرح کیوان کآردال بھی موجود تھا۔۔۔
اچانک سے اُسے آفیسر نازلی کا خیال آیا تو وہ کیوان کآردال کی جانب دیکھتے ہوئے پوچھنے لگا۔۔۔
“”””سلطان بے وہ فائل۔۔۔۔”””
کیوان کآردال اُس بات پر اپنی کنپٹی سے نکلتے پیسنے کو اپنی انگلی سے چھو کر صاف کرتے ہوئے کہنے لگا۔۔
اس وقت وہ نازلی کی انفارمیشن اُس سے چھپانا چاہتا تھا وہ نازلی کی سچائی سے آگاہ ہو چکا تھا وہ نہیں چاہتا تھا کہ فرغام سلطان نازلی کے متعلق جانے،مقابل بھی فرغام ڈی ایول تھا اُسے بات اگلوانا اچھے سے آتا تھا وہ تو ایک فائل تھا تو کیسے وہ کیوان کآردال سے نہ نکلواتا۔۔۔
“”””وہ فائل کہا ہے کیوان کآردال تُم اُسے مجھ سے چھپا رہے ہو اگر ایسا ہے تو تُم جانتے ہو میں بات اگلوانا اور چیزیں نکلوانا اچھے سے جانتا ہوں۔۔۔”””
وہ اپنی جگہ سے اٹھا اور اُسکے قریب آکر زور سے اُسکی اُس زخمی انگلی کے حصے کو زور سے دبانے لگا جو اس وقت پٹیوں میں جکڑا ہوا تھا۔۔۔
تو اُسکے زخمی حصے کو زور سے دبانے پر سفید پٹی سرخ رنگ میں بدلنے لگا۔۔۔۔
“”””وہ فائل وہی گر گیا تھا سلطان بے جب میں اُس آفیسر کے روم کی کھڑکی سے باہر نکلنے کے لیے کھود رہا تھا فائل تب نیچے گرا تھا اور اندھیرے کی وجہ سے وہ مجھے نہیں ملا تھا بے میں سچ کہہ رہا ہوں میرا یقین کریں۔۔۔””””
درد سے آنکھیں میچ کر کیوان کآردال بولا۔۔۔۔
“”””اُس لڑکی کے بارے میں بتاؤ آج اُسنے کیا کیا ہے کون اس سے ملنے آیا تھا ہاسپٹل میں اور اسکا بیک گراؤنڈ کیا ہے پتہ چلا لیا یا نہیں۔۔؟؟؟؟
لبوں پر جان لہوا مسکراہٹ سجا کر وہ اب روحین کے بارے میں اُس سے پوچھنے لگا،
کیوان کآردال اُس کے سوال کا جواب دینے کے لیے اپنے لب واں کرہی رہا تھا کہ وہاں ایک لڑکی نے آکر اچانک سے فرغام سلطان کے چہرے پر اپنے چھوٹے ہاتھ رکھ لیے۔۔۔۔
“”””عائشہ گل…..”””””
دوسری جانب کیوان کآردال کی آنکھیں اپنی چھوٹی بہن کو اُس بلیک مون ایول کے بے حد قریب دیکھ خوف اور دہشت کے مارے پھٹی کی پھٹی رہ گئی۔۔۔
“”””””تھینک یو سلطان بھائی۔۔۔۔”””””
عائشہ گل فرغام سلطان کے ماسک کے پیچھے چھپے چہرے کی طرف محبت سے دیکھتی ہوئی چھو کر بولی۔۔۔
“””””یہ تُم کیا کر رہی ہو چھوڑو بے کو اور بے سے دور ہو جاؤ۔۔۔””””
فرغام سلطان کے چہرے کے پھرتیلے تاثرات دیکھ کر فرغام سلطان کے چھوڑنے پر تیزی سے آگے بڑھا اور اپنی بہن کو اپنی آغوش میں لے کر پریشانی سے فرغام سلطان کی جانب دیکھنے لگا جو خاموش کھڑا تھا تبھی وہ اُسے ڈانٹتے ہوئے کہنے لگا۔۔۔
“”کیوان بھائی میں تو بس اس کے لیے سلطان بھائی سے تھینکس کہنے آئی تھی۔۔۔۔””””
سترہ سالہ عائشہ گل منہ بناتی ہوئی چاکلیٹ کا ایک ڈبہ آگے کرتی ہوئی بولی۔۔
“”تمھیں کیا لگتا ہے یہ شریفوں والا کام میرا ہے، تو لڑکی تُم خوش فہمی میں ہو میں تحفے میں صرف موت دیتا ہوں یہ سویٹ نہیں ۔۔۔”””
فرغام سلطان جو دونوں بہن بھائی کو سخت غصے سے گھور رہا تھا چاکلیٹ کے ڈبے کو دیکھ غصے سے آگے بڑھا
اور وہ ڈبہ اُس بچی کے ہاتھ سے لے کر نیچے پھینک کر اپنے پیروں تلے کر کے بری طرح سے کچلنے لگا۔۔
“””””نہیں سلطان بھائی میں نے خود آپکو دیکھا ہے رات کو آپ نے ہی میرے بیڈ سائیڈ ٹیبل پر یہ چاکلیٹ کٹ رکھا تھا آپ ایسے کیوں بات کر رہے ہیں آپ میری کئیر کرتے ہیں تو پھر کیوں یہ بات آپ چھپاتے ہیں ہم سے، آپ جتنے باہر سے سخت نظر آتے ہیں آپ اندر سے اتنے ہی نرم ہے میں اچھے سے جانتی ہو آپ نے اپنے اوپر سختی کا جو یہ قول چڑھایا ہوا ہے نا دراصل آپ ایک پیار کرنے والے انسان ہے آپ فیلنگز کو اچھے سے جانتے سمجھتے ہیں اب آپ اظہار نہیں کرنا چاہتے ہیں یا آپکو اظہار کرنا نہیں آتا یہ میں سمجھ نہیں پا رہی ہوں۔۔۔”””
عائشہ گل کی بات پر کیوان کآردال شاکڈ رہ گیا جبکہ فرغام سلطان غصے سے اُس چھوٹی سی لڑکی کے قریب آکر اُسکے گلے کو پکڑ کر سختی سے دبانے لگا۔
کیوان کآردال یہ دیکھ سخت ڈر گیا اور آگے بڑھ کر اُسے پکڑ کر پیچھے کھینچنے لگا مگر وہ غصے سے اُسے ہاتھ مار کر پیچھے کرتا غرایا۔۔۔
“”نہیں ہو میں ایک پیار کرنے والا معصوم انسان، نہیں ہو میں کئیرنگ کرنے والا احساس انسان،میں صرف درد دینا جانتا ہوں مجھے بنایا ہی صرف درد دینے کے لیے ہیں۔۔۔۔”””
اُسکے بے جان وجود کو پیچھے دھکیل کر وہ غصے سے وہاں سے نکلا۔
“””””””””میری معصوم بہن وہ ایک آگ ہے کیوں کیوں وہ سب کچھ دیکھ کر تُم خوش ہو گئی صرف مجھے اور تمھیں پتہ ہے وہ احساس کرنے والا نرم دل انسان ہے لیکن اسے اس بات کا بلکل بھی احساس نہیں ہے وہ ایک بے احساس انسان ہے تُم نے اُسے کیوں احساس دلایا کیوں۔۔۔۔””””
کیوان کآردال اپنی بہن کو بے جان دیکھ ڈرتے ہوئے تیزی سے آگے بڑھا اور دھڑکتے دل کے ساتھ اسے سیدھا کر کے اسکی نبض کو دیکھنے لگا جو مدھم چل رہا تھا وہ روتے ہوئے کہنے لگا۔۔۔۔
🌚🌚🌚🌚🌚🌚🌚🌚🌚🌚🌚🌚🌚🌚🌚
“”””آفیسر نازلی ہوٹل کی انتظامیہ سے ہمیں پتہ چلا ہے جس وقت فرغام سلطان قتل کر رہا تھا وہاں عین واردات کے مقام پر ایک لڑکی بھی آئی تھی جسے دیکھ کر فرغام سلطان اُسکے پیچھے بھاگا تھا اُس وقت اُس لڑکی نے فرغام سلطان کا چہرہ دیکھا ہو اگر ایسا ہوا تو وہ ہمارے بہت کام آ سکتی ہے۔۔۔””
آفیسر جمال سامنے بورڈ پر روحین کی فوٹو پر مارکر سے گول دائرہ بنا کر سامنے بیٹھی نازلی سے کہنے لگا نازلی کی نظریں بورڈ پر ایک فوٹو پر تھی جس میں فرغام سلطان چہرہ دھندلا تھا صاف نظر نہیں آ رہا تھا۔
“””آفیسر جمال تصویر بنانے کا کوئی فائدہ نہیں فرغام سلطان ہمیشہ ماسک پہنے ہوئے رہتا ہے اُسی لیے آج تک اُسے کسی نے نہیں دیکھا ہے وہ کیسا ہے یہ کسی کو معلوم نہیں ہے مجھے بھی نہیں تو اُس لڑکی کو کیسے معلوم ہو سکتا ہے اور ویسے بھی وہ اس وقت بہت ڈری ہوئی ہے مے بی اُسنے اُسے خون کرتے ہوئے دیکھا ہوگا اسی لیے وہ ابھی تک صدمے سے نہیں نکلی ہے ۔۔۔””””
نازلی فرغام سلطان کے دھندلی فوٹو سے نظریں ہٹا کر سنجیدگی سے آفیسر جمال سے کہنے لگی۔۔۔
“”””تو نازلی اب ہم کیا کریں وہ اتنا شارپ ہے اور اُسکا وہ رائٹ ہینڈ بھی،وہ قتل کرکے ایک چھوٹا سا بھی ثبوت پیچھے نہیں چھوڑتا۔۔۔”””
آفیسر جمال نے سخت نفرت سے فرغام سلطان کی دھندلی فوٹو پر مکا مارتے ہوئے کہا۔۔۔
“”””وہاٹ ایک منٹ۔۔۔””””
نازلی جو توجہ سے آفیسر جمال کی باتیں سُن رہی تھی اُسکی بات پر جھٹکے سے اپنا سر اٹھا کر اُسے دیکھنے لگی۔۔۔
“””کیا ہوا نازلی آپ مجھے اس طرح کیوں گھور رہی ہے۔۔۔؟؟؟
آفیسر جمال اُسکی گھورتی نظروں کو دیکھ سخت ہڑبڑاتے ہوئے اُس سے پوچھنے لگا۔۔۔
“””””آفیسر جمال آپ نے بات ہی ایسی کی ہے کہ میرا گھورنا بنتا ہے۔۔۔”””
نازلی نے اسے دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔
آفیسر نازلی آپ اتنا سسپنس کیوں کری ایٹ کر رہی ہے مجھے ڈرا کر پلیز بتا دیں کیا چل رہا ہے اس وقت آپ کے دماغ میں۔۔۔؟؟؟
آفیسر جمال نے اُسے دیکھا جو گلابی ہونٹوں میں پینسل دبائے سامنے بورڈ پر لگی روحین کی فوٹو کو مسکراتی نظروں سے دیکھ رہی تھی۔۔۔
“”””آفیسر جمال فرغام سلطان ہمیشہ قتل کرنے کے بعد پیچھے کوئی ثبوت نہیں چھوڑتا تو اُسنے اس بار اس لڑکی کو کیوں چھوڑا ہوگا۔۔۔؟؟؟ یہ سوچنے والی بات ہے۔ایسا کیا ہوا ہوگا جو اُسنے اس لڑکی کو زندہ چھوڑ دیا ہے۔۔۔؟؟؟
نازلی کی بات پر آفیسر جمال بھی سوچنے پر مجبور ہوگیا۔۔۔
“””واقعی میں یہ تو سوچنے والی بات ہے آفیسر نازلی آخر اُس درندے نے اس لڑکی کو کیوں چھوڑا ہوگا جبکہ وہ ہمیشہ اپنے ثبوت صفائی سے مٹاتا ہے پیچھے ایک چھوٹا سا ثبوت بھی پیچھے نہیں چھوڑتا پھر وہ لڑکی ایلیویٹر میں زندہ کیوں ملی ہے ہوٹل کی سیکورٹی کو یہ تو بہت سریس معاملہ ہے ہمیں پتہ کرنا چاہیے۔۔”””
آفیسر جمال کے کہنے پر نازلی سوچ میں گم ہوگئی۔کہ فرغام سلطان جسکے دل میں صرف بے رحمی کی فیلنگز ہے وہ کیسے اتنا نرم دل ہو سکتا ہے اُسے جتنا وہ جانتی تھی اتنا شاید اُسکا وہ رائٹ ہینڈ کیوان کآردال بھی نہیں جانتا تھا ضرور کچھ چل رہا ہے فرغام ڈی بلیک مون ایول کے دل میں اُس لڑکی کے لیے جو اُس لڑکی کے لیے بہت بُرا تھا نازلی کو اُس لڑکی کے اوپر یکدم سے یہ سب سوچ کر رحم آنے لگا کہ اگر سچ میں وہ بیسٹ اُسے چاہنے لگا تو وہ پھول جیسی لڑکی شاید کسی دن اُس ایول کی پھتر دلی کی وجہ سے مرجھا جائے۔
🌚🌚🌚🌚🌚🌚🌚🌚🌚🌚🌚🌚🌚🌚🌚
سیاہ ہوڈی پہنے وہ اُس بنگلے کے ایک روم کی کھڑکی کھول کر اندر داخل ہوا اس وقت اُس روم میں نائٹ بلپ روشن ہونے کی وجہ سے پورے روم میں خواب ناک ماحول بنا ہوا تھا۔۔۔۔
وہ اپنی ہوڈی اتار کر اور سیاہ شرٹ کے بٹن کھول کر شرٹ نیچے پھینک کر فلور پر گرنے والے انداز میں لیٹا روم میں ایک دلفریب خوشبو پھیلی ہوئی تھی وہ آنکھیں بند کر کے اُس خوشبو کو اپنے نتھنوں میں گھستے ہوئے محسوس کرتا اپنے اندر جلتے آگ کو کم ہوتا ہوا محسوس کرنے لگا۔۔۔
تبھی اُسے کچھ خیال آیا تو وہ اٹھا اور اُس روم سے باہر نکلا یہاں آنے سے پہلے وہ اس بنگلے کے نقشے سے اس بنگلے کے کونے کونے سے واقف ہو گیا تھا اب وہ اپنی مطلوبہ جگہ کی جانب بڑھ رہا تھا اور جب وہ اس بنگلے کے ایک چھوٹے سے بار کے پاس پہنچا تو آنکھوں میں چمک لیے آگے بڑھا اور اپنی من پسند
جام کا بوتل اٹھا کر واپس اس روم کی جانب بڑھا۔۔۔۔
جب وہ اس روم میں داخل ہوا تو اسکی نظریں بیڈ کی جانب بڑھی جہاں وہ معصوم لڑکی سو رہی تھی جسنے کل اُسے فرید اور اسکے لوگوں کو قتل کرتے ہوئے دیکھا تھا مگر پتہ نہیں کیوں آج اسے دیکھ کر وہ اس وقت اتنا سکون کیوں محسوس کر رہا تھا۔۔۔۔
وہ نیچے فلور پر بیٹھ کر ماسک سے اپنا چہرہ آزاد کرکے جام لبوں سے لگا کر اپنی آنکھیں اُس مومی مجسمے پر جما کر پلکیں جھپکائے اسے دیکھنے لگا۔۔۔۔
“””کیا وہ آج اُسے مار پائے گا ہزاروں لوگوں کے خون سے رنگے اپنے اِن گناہ گار ہاتھوں سے۔۔۔؟؟؟
وہ اپنے لبوں سے جام لگائے بیڈ پر بے ہوش پڑی اُس معصوم لڑکی کو دیکھتے ہوئے جام کے گھونٹ اپنے حلق میں اتار رہا تھا اور ساتھ ہی یہ سب باتیں بھی سوچ رہا تھا۔
“””مجھے اُن لوگوں سے شدید نفرت ہے جو مجھے قتل کرتے ہوئے دیکھ کر بھاگتے ہیں۔۔۔””
اس وقت وہ بنا ماسک بنا شرٹ کے نیچے فلور پر بیٹھا اُسے ہی دیکھ رہا تھا تبھی روحین کی بڑبڑاہٹ اُسے سنائی دی تو وہ فلور سے اٹھا اور بیڈ کی جانب بڑھنے لگا اور جب بیڈ کے قریب پہنچا تو روحین کے چہرے کو دیکھنے لگا۔۔
“””سویٹ گرل آج میرا دل بھی مجھے تُمھاری جان لینے سے نہیں روکے گا۔۔۔””
روحین کی بھاری نم پلکیں آہستہ آہستہ سے واں ہونے لگی تو وہ اُسکی پلکوں کو اٹھتے ہوئے دیکھ بیڈ پر اُسکے اوپر جھکا اور سامنے پڑے اُسی کے اسکارف کو وہ سختی سے اُسکے گلے پر لپیٹنے لگا۔۔۔۔
“””سسسسی۔۔۔۔”””
روحین اپنے وجود پر کسی وزنی شے کو محسوس کرتی جھٹکے سے اپنی آنکھیں کھول کر سامنے دیکھنے لگی تو سامنے ایک اجنبی شخص کو دیکھ وہ سسکتی ہوئی زور زور سے بیڈ پر اپنے ہاتھ پیر مارنے لگی۔۔۔
“””کک۔۔۔۔کون ہو تُم۔۔۔۔؟؟؟
اُس وقت فرغام سلطان ماسک کے بغیر تھا اسی لیے وہ اسے بغیر ماسک کے پہنچان نہ سکی۔۔۔۔
“”””اتنی جلدی بھول گئی تُم مجھے سویٹ ہارٹ یاد کروں کل رات کو تو اچھے سے پتہ چل جائے گا کہ میں کون ہوں۔۔۔”””
وہ اُسکی گردن پر دباؤ بڑھا کر اُسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر خطرناک ترین لہجے میں کہنے لگا۔۔۔
“””تت۔۔۔۔تُم۔۔۔۔”””
وہ یہ آواز کیسے بھول سکتی تھی جو صبح سے اُسکی خوابوں میں آکر اُسے ڈرا رہی تھی بھلا وہ کیسے اس خطرناک شخص کو بھول سکتی تھی لیکن اس وقت وہ اُسکا چہرہ دیکھ کر اس سے اور بھی زیادہ ڈرنے لگی۔۔۔
“”””فرغام سلطان۔۔۔””””
اُسکی نظریں بُری طرح سے لزرتے اُسکی گلابی ہونٹوں پر آکر ٹھہر گئی یہ منظر دیکھ وہ بے ساختگی سے اُسے دیکھتے ہوئے اُن گلابی ہونٹوں پر جھکنے لگا۔
روحین یہ دیکھ کر خوفزدہ سی ہو کر اُسے خود سے پیچھے کرنے لگی۔۔۔۔
“””””چھوڑ۔۔۔۔چھوڑیں مجھے آپکے دل میں فیلنگز نام کی چیز نہیں ہے کیا،،،،اخر آپ کیوں میرے پیچھے پڑے ہیں مجھے چھوڑیں ناں۔۔”””
وہ اُسکے چوڑے سینے پر ہاتھ رکھ کے روتی ہوئی کہنے لگی فرغام سلطان اپنے سینے پر نرم انگلیوں کے لمس پر پیچھے ہٹا۔۔۔
وہ دل جو ہمیشہ لڑکیوں سے دور بھاگتا تھا آج کیوں ایک لڑکی کی قربت کے لیے اتنا مچل رہا ہے وہ احساس سے عاری شخص اس وقت اُس لڑکی کے بے حد قریب یہ سب احساسات محسوس کرتے ہوئے اپنے دل میں سوچ رہا تھا۔۔۔
“””فرغام سلطان کی ڈراک سائیڈ دیکھنے کے جرم میں تُم ملوث ہو تو میں تمھیں کیسے چھوڑ سکتا ہوں،ہاں ایک شرط پر میں تمھیں چھوڑ سکتا ہوں، اگر آج رات تم مجھے خوش کرنے میں کامیاب ہوگئی تو۔۔۔”””
اُسکی نازک کمر کے گرد اپنے مضبوط ہاتھوں کو جکڑ کر وہ مدہوشی سے کہتا اُسکی صراحی دار گردن میں اپنا چہرہ چھپانے لگا وہ غلط راہ پر چلنے والا شخص اُسے بھی اُسی راہ پر چلنے کے لیے کہہ رہا تھا بھلا وہ نیک لڑکی کیسے اس راہ پر چلنے کے لیے راضی ہوتی بُری طرح سے روتی ہوئی خود کو اُس شخص کی باہوں
سے چھڑانے لگی۔۔۔۔
“”””نن۔۔۔۔۔نہیں پلیز یہ گناہ مت کرو پلیز۔۔۔۔””””
وہ اُس سے دور ہونے کی کوشش میں اپنی دونوں ہاتھ زخمی کر بیٹھی تھی مگر وہ ظالم شاید اس سے ناجائز تعلق بنا کر عائشہ گل کی باتوں سے پیچھا چھڑانا چاہ رہا تھا۔۔۔۔
“”””لگتا ہے تُمھیں موت سے زیادہ اپنی عزت پیاری ہے سویٹ ہارٹ۔۔۔”””
اُسکے بھیگے رخسار کو انگلی سے چھو کر وہ سرسراتے لہجے میں کہنے لگا۔۔۔۔
“””‘ہاں مجھ جیسی لڑکیوں کو موت سے زیادہ عزت عزیز ہوتی ہے جو تُم جیسا درندہ صفت شیطان کبھی سمجھ نہیں سکتا۔۔۔۔”””
وہ اُسکے مضبوط وجود کو دور کرنے کی کوشش میں ہانپتی ہوئی نفرت سے کہنے لگی۔۔۔
“”””آئی لائک اٹ تُمھارا یہ ڈر اور یہ خوبصورت چہرہ مجھے کل سے اپنی طرف کھینچ رہا ہے،شاید میں تم سے مل کر یہ فیلنگز کو سمجھنے لگا ہو،شاید تُم میرے لیے جلد خاص بن جاؤ،اس وقت تو میں تمھیں چھوڑ رہا ہوں، لیکن جس دن مجھے اس فیلنگز کا نام بھی پتہ چلا نا تو میں تمھیں بلکل بھی نہیں چھوڑو گا،بلکہ یہاں سے اٹھا کر لے جاؤ گا ۔۔۔۔”””
وہ اُسے خود سے دور کرتا اُسکی نم آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر سنجیدگی سے کہنے لگا روحین اُسکی بات پر ساکت رہ گئی تو وہ اُسے ایسے ہی چھوڑ کر جیسے خاموشی سے آیا تھا ویسے ہی وہاں سے خاموشی سے چلا گیا۔۔۔۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤