Ishq E Zulmat By Sumyia Baloch Readelle50177 Episode 29
No Download Link
Rate this Novel
Episode 29
آرزو آنکھیں پھاڑے سامنے اُس دشمن جاں کے مضبوط ہاتھوں میں دبے نازک ہاتھوں کو دیکھ رہی تھیں جو اُسکے دشمن کے تو نہیں تھے۔
وہ تو کیوان کآردال کی بیوی کے تھے مگر کیوں وہ دونوں کس حق سے اس طرح مل رہے تھے ۔؟
آرزو یہ سب سوچتی اپنی سُرخ آنکھوں کو ان پر سے ہٹا گئیں۔
“تُم یہاں کیا کر رہی ہو۔؟؟
فرغام سلطان اُسے دروازے کے بیچوں بیچ دیکھ اٹھا اور سرد لہجے میں اُس سے پوچھنے لگا وہ اس وقت نازلی اپنی بہن کے ساتھ وقت گزارنا چاہتا تھا لیکن اس بے وقوف اور حاسد لڑکی کا چہرہ دیکھ کر اسکے دل میں اسکی لگائی آگ یکدم سے بھڑک اٹھا جو اس نے خود اپنی اصلیت سامنے لا کر لگایا تھا۔
“یہ سوال تو مجھے آپ سے پوچھنا چاہیے سلطان کہ آپ اس لڑکی کے ساتھ رات کے اس پہر اس کمرے میں کیا کر رہے ہیں۔؟
آرزو کو بلکل بھی یقین نہیں آ رہا تھا کہ سامنے کھڑا شخص اس کا سلطان ہے وہ بے یقین نظروں سے اُسے دیکھتی ہوئی نفرت سے نازلی کی جانب انگلی اٹھا کر پوچھنے لگی۔
“زبان سنبھال کر بات کروں لڑکی تُم جانتی ہو تم اپنے اس لہجے کی وجہ سے میرے ہاتھوں مر بھی سکتی ہوں۔
کیونکہ جس لڑکی کے بارے میں تُم کہہ رہی ہو وہ میری بہن ہے اس کا نام اس طرح مت جوڑنا میرے ساتھ جو تُم اس وقت اپنے دماغ میں لیے جل رہی ہو۔”
اُس کی بات نے سلطان کے تن بدن کو جیسے جلا دیا۔
وہ سُرخ نظروں سے اُسے گھورتے ہوئے سرد لہجے میں بولا کم غرایا زیادہ۔
“سلطان یہ آپکی بہن ہے۔”
آرزو اُسکے منہ سے بہن لفظ سنکر پرسکون ہوگئیں مگر صرف چند لمحے کیلئے۔
“ہاں یہ میری بہن ہے…”
فرغام سلطان نے ترچھی نگاہوں سے اُسے دیکھتے ہوئے کہا۔تو وہ پرسکونی سے سانس خارج کرتی مسکرا کر ان دونوں کو دیکھتی فرغام سلطان سے کہنے لگی۔
“آئی ایم سوری مجھے نہیں پتہ تھا کہ یہ آپکی بہن ہے سلطان۔”
فرغام نے اسکے کہنے پر صرف سر ہاں میں ہلایا تبھی روم میں کیوان تیزی سے داخل ہوا اور فرغام سلطان کے قریب آکر اُسکے کان کے قریب جھکا۔
“سلطان بے مجھے پتہ چل گیا ہے اس شخص کے بارے میں جو اس آصف کی بیوی کے ساتھ ملا ہوا ہے۔”
کیوان کآردال کے کہنے پر فرغام سلطان نے غصے سے اپنی مٹھیاں کھسی۔
“کون ہے وہ۔؟؟
فرغام سلطان نے نفرت سے اپنی مٹھیاں کھستے ہوئے پوچھا۔نازلی ماحول کو سنجیدہ دیکھ تیزی سے آگے بڑھی اور آرزو کو کلائی سے پکڑ کر باہر نکلی۔
“میں نے اسکا چہرہ تو نہیں دیکھا ہے سلطان بے ہاں یہ وہی ہے جس نے نازلی کو اس دن آپکے جلتے گھر سے نکالا تھا جس دن اس عورت نے آپکی فیملی کو مارا تھا مجھے اپنے سورس سے پتہ چلا کہ وہ اس وقت اسمگلنگ کے لیے گاؤں میں آیا ہے۔”
کیوان کآردال نے سنجیدگی سے کہا۔
اسے سچ میں ابھی تک یہ پتہ نہیں ہے کہ وہ شخص کون ہے جس نے نازلی کو رمیز کے پاس چھوڑا تاکہ وہ بڑی ہو تو وہ شیطان اسکو اپنی ہوس کا نشانہ بنائیں۔
اسے اس شیطان کے بارے میں صرف یہ پتہ چلا ہے کہ وہ آج رات کو کچھ معصوم لڑکیوں کو اسمگل کر کے انہیں یہاں سے امریکہ لیکر جا رہا ہے۔
“لگتا ہے اس خونی کا آج آخری دن ہے جو وہ خود میرے پاس چل کر آ رہا ہے میرے ہاتھوں مرنے کے لیے میں اُس خونی کا نام اس دنیا سے اسی طرح مٹاؤں گا جسطرح اسنے میرے پورے خاندان کو مٹایا ہے۔”
غصے سے سرخ آنکھوں کو کیوان پر ٹکا کر وہ سرد لہجے میں کہنے لگا آرزو اُسے اتنے غصے میں دیکھ کر خوفزدہ ہو کر تیزی سے اس روم سے باہر نکلی نازلی جو کب سے اسکے چہرے کے تاثرات دیکھ رہی تھی اسکے تیزی سے باہر نکلنے پر وہ کندھے اچکا کر
فرغام اور کیوان کی جانب متوجہ ہوئیں۔
جو شاید کوئی پلان بنا رہے تھے۔
🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥
“میں آخری بار پوچھ رہا ہوں نیلوفر خاتون اس ڈیل کے بارے میں تمھیں منظور ہے کہ نہیں۔؟؟
ہارون صاحب اپنے سامنے چہرے کو نقاب سے اچھے سے چھپائیں بیٹھی سامنے اس عورت کو دیکھ رہے تھے۔
جو مہرین کآردال کی قاتل تھیں اور آج وہ اتنے مجبور تھے کہ اس سے ایک ڈیل کرنے پر مجبور ہوگئے تھے۔
صرف اس سلطان کو مٹانے کیلئے جس نے پہلے اسکے اپنوں کو چھینا تھا اب اسکے خاندانی دولت کو وہ چھپننے والا تھا جو انہیں کسی طور منظور نہیں تھا۔
“ہاں مگر ہارون صاحب میری ایک شرط ہے۔”
نیلوفر خاتون نے اپنی خوبصورت سبز آنکھوں سے ہارون صاحب کی جانب دیکھتے ہوئے کہا۔
“کیسی شرط۔؟؟
ہارون صاحب نے سنجیدگی سے پوچھا۔
“شادی ہارون صاحب تُمھیں مجھ سے شادی کرنی ہوگی تبھی میں اس ڈیل کے لیے ریڈی ہو جاؤ گی۔”
نیلوفر خاتون نے بھی سنجیدگی سے کہا۔
“شادی۔”
ہارون صاحب نے ترچھی نگاہوں سے اُسے دیکھتے ہوئے کہا وہ اس بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا عمل کرنا تو پھر دور کی بات تھیں۔
“کیوں کیا ہوا ڈر لگ رہا ہے تُمھیں ہارون صاحب کے کئی تُمھاری اصلیت اس سلطان کو پتہ نہ چل جائے کہ تم نے میرے ساتھ ہاتھ ملایا ہیں۔”
نیلوفر خاتون اسکی نظروں کو اپنے اوپر جمے دیکھ طنزیہ انداز میں مسکرا کر پوچھنے لگی۔
“نہیں میں اس سے نہیں ڈرتا تُمھاری وجہ سے میں یہ بات نہیں مان سکتا کیونکہ میں ابھی بھی تم سے اتنا نفرت کرتا ہوں جسے پہلے کرتا آ رہا تھا یہ صرف میں اس فرغام سلطان کو ختم کرنے کیلئے کر رہا ہوں کسی لالچ کے لیے نہیں۔”
اسکی بات پر وہ فرغام سلطان کے بارے میں سوچتے ہوئے شدید نفرت سے کہنے لگا۔
“لالچ ہارون صاحب لالچ نے ہی تو آج تمھیں یہاں تک پہنچایا ہے اگر اسے مٹانا چاہتے ہو تو تمھیں مجھ سے نکاح کرنا ہوگا ورنہ یہ بات بھول جاؤ کہ میں تمھاری مدد کروں گی۔”
نیلوفر خاتون نے استہزایہ چمک آنکھوں میں لیتے ہوئے ہنس کر کہا۔
“ٹھیک ہے مجھے منظور ہے بس وہ مر جانا چاہیے مجھے جتنا نفرت تم سے ہے اتنا فرغام سلطان سے ہے تم دونوں میرے لیے کسی ناسور سے کم نہیں ہو۔”
ہارون صاحب اسکی بات پر گہری سانس خارج کرتے ہوئے آخر کار ہار مانتے ہوئے کہنے لگا تو نیلوفر خاتون اسکے مان جانے پر مسکرائی۔
“ہارون صاحب تُمھیں آج ہی خوشخبری مل جائے گی اُسے تُم آج ہارتے ہوئے اپنی آنکھوں سے دیکھوں گے اور تمھاری فیملی بھی اس سے نفرت کرے گی۔”
نیلوفر خاتون نے مسکراتی نظروں سے سامنے دیکھتے ہوئے کہا تو ہارون صاحب اسکی الجھی ہوئی باتوں سے اُسے حیرانگی بھری نظروں سے دیکھنے لگا۔
🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥
“فرید کآردال تُم یہ اسمگلنگ کینسل کردو اور اسی وقت واپس چلے جاؤ ورنہ تُمھیں تُمھارا بیٹا تُمھاری اصلیت جان کر تُمھیں مار دے گا۔”
رات کے چار بچ رہے تھے وہ اُن لڑکیوں کو لیکر اپنی منزل کی جانب بڑھ رہا تھا تبھی ایک گاڑی نے آکر اسکی گاڑی کو روکا تو وہ غصے سے دروازہ کھول کر باہر نکلا تو اس گاڑی سے نیلوفر خاتون کو اور جس شخص کو نکلتے ہوئے اسنے دیکھا وہ دھنگ رہ گیا۔
“کیوں کینسل کروں تم ہوتی کون ہو مجھے روکنے والی یہ میرا ذاتی بزنس ہے تمھارا نہیں اور مس نیلوفر یہ ہارون تُمھارے ساتھ کیا کر رہا ہے ۔”
شدید غصے سے وہ کہنے لگا وہ اسکی بات پر سخت سلگ کر رہ گئیں۔
“مجھے پتہ ہے یہ تمھارا ذاتی بزنس ہے ڈیم اٹ مگر اس وقت تمھارا سیو رہنا زیادہ ضروری ہے اگر زندہ رہوں گے۔
تب ہی یہ بزنس کر سکوں گے اس فرغام سلطان کو پتہ چل گیا ہے کہ کوئی اسکے گاؤں میں اسمگل کرنے والا ہے اسے ابھی تک یہ پتہ نہیں کہ کون کرنے والا
ہے اور یہ تمھارا سالا میرے ساتھ اس لیے ہیں کیونکہ یہ بھی اس فرغام سلطان سے نفرت کرتا ہے اسی وجہ سے اس نے مجھ سے ہاتھ ملا لیا ہے۔”
وہ پریشانی سے اس سے سخت چڑتی ہوئی بولی تو اسکی بات پر طنزیہ انداز میں مسکرایا۔
“نیلوفر خاتون یہ اتنے آرام سے تمھارے ساتھ کیسے مل گیا یہ تو اس فرغام سے زیادہ تم سے نفرت کرتا تھا وہ نفرت کہاں گئی اس کی ہاں جب اسکی بہن تمھارے شوہر کے ہاتھوں مری تھیں مجھے یہ سب ڈراما لگ رہا ہے کوئی پلان ہے ان سبکا حیرت ہے کہ تم اتنی جلدی کیسے اس کے جال میں آ گئی نیلوفر خاتون۔۔؟؟
وہ ہنستے ہوئے بولنے لگا تو اسکی بات پر نیلوفر کا غصہ کے مارے پورا جسم بری طرح سے لرزنے لگا۔وہ سرخ آنکھوں سے اُسے دیکھتی ہوئی آگے بڑھی۔مگر ہارون صاحب کی آواز پر وہ وہی رک گئی۔
“شٹ اپ تم جیسے کمینے کی وجہ سے مری ہے میری بہن جتنا نیلوفر خاتون کے شوہر زمہ دار تھے اتنے تم بھی ہو فرید کآردال تمھارے حسد اور نفرت نے بھی اسکا قتل کیا ہے۔
اور نیلوفر خاتون تو وجہ یہ تھیں ہمارے نکاح کی تُم اس آدمی کا سچ سامنے لانا چاہتی تھیں ہیں نا میں درست کہہ رہا ہوں نہ یہ ہمشیہ سے دھوکا دے رہا تھا ہم سبکو اور اپنے بچوں کو جو اسکے گم ہونے پر بہت بڑے غم سے آج بھی گزر رہے ہیں۔”
ہارون صاحب ایک تو فرغام سلطان کی وجہ سے غصے میں تھے اوپر سے فرید کآردال کی بات نے اسے شیخ پا کر لیا وہ غصے سے مٹھیاں کھستے ہوئے غرایا۔
“بکواس بند کرو ہارون جیسے میرے دل میں تمھاری بہن کے لیے کبھی محبت نہیں تھا اسی طرح میرے دل میں اس کے لیے کبھی نفرت نہیں کرتا تھا میں اس سے اُسکی موت کا زمہ دار زاور سلطان کا بیٹے ہے اگر وہ اپنی ماں کے پاس ہوتا تو آج اتنا کچھ نہ ہوتا سب کچھ اسی کی وجہ سے ہوا ہے۔
دونوں باپ بیٹے کی خوبصورتی کی وجہ سے سمجھے تُم مجھے صرف اس بات کا جلن ہے کہ میں بھی تو ان کی طرح بہت خوبصورت ہو پھر مجھے کیوں سب نے نظر انداز کیا خاص کر غزل نے اس نے مجھے چھوڑ کر اس زاور سلطان کو کیوں چُنا اور تمھاری بہن اس نے اپنے بیٹے کو نظر انداز کر کے اس کے بیٹے کو اپنے بیٹے کی طرح پیار کیا کیوں کیوں سب نے میرے ساتھ ایسا کیا کیوں میں بھی تو خاص بن سکتا تھا پھر یہ سب کیوں مجھے ملا کیوں۔”
فرید کآردال نے سخت نفرت سے گھورتے ہوئے یاروں سے سرد مہری سے کہا۔
جبکہ نیلوفر پاس کھڑی اس کی باتیں سن رہی تھی زور سے ہنسنے لگی۔
“ہاہاہا ہاہاہا تم اور خوبصورت وہ بھی کس سے مقابلہ کر رہے ہو تُم زاور سلطان سے جو وجاہت کا منہ بولتا ثبوت تھا۔
اور تم کسی کرائے کے دو نمبری ایکٹر اس سے خود کو ملا رہے ہوں پتہ ہے سب اس پر کیوں مرتی تھیں کیونکہ وہ ایک شریف مرد تھا کسی دوسرے کی بیوی پر غلط نظر ڈالنا دور وہ انہیں دیکھنا بھی پسند نہیں کرتا تھا اسی وجہ سے سب اسکی دیوانیاں تھیں تم خوبصورت ضرور ہو لیکن تمھارا دل بلکل میری طرح سیاہ ہے بلکہ مجھ سے بھی زیادہ۔”
نیلوفر کی دیوانگی کو سن کر وہ غصے سے پاگل ہونے لگا وہ ہمیشہ سے یہی سب کچھ سنتا آ رہا تھا زاور سلطان کے بارے میں مرنے کے بعد بھی وہ اُسکا پیچھا نہیں چھوڑ رہا تھا یہی چیز اُسے سخت غصہ دلا رہا تھا۔
“شٹ اپ مس نیلوفر وہ کسی ریاست کا بادشاہ نہیں تھا جو تم اس کے حسن کے بارے میں اتنی تعریف کر کے میرا دل جلا رہی ہوں۔
وہ بھی میری طرح تمھارے سابقہ مرے ہوئے شوہر کا ایک معمولی سا ڈرائیور تھا جسے تم نے اپنی شیطانی دماغ کی وجہ سے بدنام کرنے کے بعد اپنے شوہر کے ہاتھوں مروا دیا تھا۔
تم ایک شیطان اور ایک ڈائن عورت ہو جس نے اپنے بیٹے کو اپنی ہوس اور ایک خوبصورت بیٹے کی چاہ نے اپنے ہاتھوں سے مارا جو ایک نا سمجھ اور معصوم تھا اور اتنا ہی نہیں تم نے تو اپنے خوبصورت بیٹے کو بھی مارنا چاہا ہے مگر اسکی خوش قسمتی ہے۔
جو وہ بچ نکلا اگر وہ نہ بچتا تو ضرور تمھارے ہاتھوں وہ بھی مارا جاتا مجھے تو لگتا ہے تمھاری موت بہت بھیانک طریقے سے ہوگی وہ بھی تمھارے ان سب کے ہاتھوں جن کو تم نے برباد کیا ہے۔”
وہ غصے سے اتنی تعریف سن کر آخر کار پھٹ گیا اور غصیلی آواز میں کہنے لگا۔
“تم بھی تو اپنے خاندان کو دھوکا دے رہے ہو فرید کآردال یہاں چھپ کر مجھے کہنے سے پہلے تُم اپنے گریبان میں ضرور جھانکنا اچھے سے پتہ چل جائے گا کہ تُم کیا ہوں۔”
نیلوفر نے اسکی بات سننے کے بعد اسے اسکی اصلیت دکھا کر ہارون صاحب کو اشارہ کیا اور قدم اپنی کار کی جانب بڑھانے لگی ہارون بھی اسکے پیچھے تیزی سے بڑھا اور فرید کآردال انکے جاتے ہی غصے سے پاگل ہونے لگا۔
🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥
“کیوان کآردال کیا تُمھیں سچ میں درست انفارمیشن ملی ہیں کہ آج وہ لوگ یہاں اسمگلنگ کرنے والے ہیں۔؟
وہ اپنے لوگوں کے ساتھ اس سنسان سڑک پر کھڑا نیلوفر خاتون کے بندوں کا انتظار کر رہا تھا پورے دو گھنٹے ہوچکے تھے ان سب کو یہاں کھڑے ہوئے اتنا ٹائم لگنے پر فرغام سلطان نے شدید غصے سے کیوان کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا نازلی کو اُسنے روحین اور سب گھر والوں کی حفاظت کے لیے وہاں چھوڑا تھا وہ کسی بھی قیمت پر اپنی فیملی کو مصیبت میں نہیں ڈال سکتا تھا آج وہ نیلوفر نامی عورت کا کھیل ختم کرنا چاہتا تھا۔
“یس باس۔”
کیوان کآردال نے سنجیدگی سے کہا۔
“تو وہ لوگ ابھی تک یہاں کیوں نہیں پہنچیں ہمممم کیا وہ عورت ہمارے ساتھ کوئی گیم تو نہیں کھیل رہی ہے جلدی سے حویلی فون کرکے پتہ کروں مجھے کچھ گڑبڑ کی بو آ رہی ہیں۔”
فرغام نے شدید غصے سے اپنی مٹھیوں کو کھستے ہوئے کہا۔
“باس ابھی وقت ہے وہ لوگ ابھی پہنچنے والے ہیں میرے مخبر نے کہا ہے اور وہ جھوٹ نہیں بول رہا “
کیوان نے اُسے پرسکون کرنے کے لیے آرام سے کہا مگر وہ کہاں سکون سے بیٹھ سکتا تھا اسکا سب سے بڑا دشمن اسی کے علاقے میں یہ غلط کام کرنے والا تھا تو وہ کیسے پرسکون رہ سکتا تھا وہ اس وقت سخت بے چین اور غصے سے پاگل ہو رہا تھا۔
“تُمھارا مخبر اگر وہ ہمارے ساتھ کھیل رہا ہے تو وہ زندہ بلکل نہیں بچے گا کہہ دینا اُسے سلطان اسے موت سے بھی بدتر سزا دے گا اگر اسنے غداری کی تو۔”
سرخ آنکھوں سے سامنے کی جانب دیکھتے ہوئے وہ کیوان کآردال سے سنجیدگی سے کہتا غصے سے ادھر ادھر چکر کاٹنے لگا۔جبکہ کیوان اسکی بات پر جلدی سے اپنے مخبر کو کال ملانے لگا۔
لیکن دور سے جب دو تین گاڑیوں کو تیزی سے اپنی جانب بڑھتے ہوئے دیکھ وہ موبائل کان سے ہٹا کر
انہی گاڑیوں کی جانب دیکھنے لگا۔
“کیوان کآردال سنبھل کر یہ تُم کیا کر رہے ہو مرنا ہے کیا تُمھیں ان خبیثوں کے ہاتھوں۔”
وہ ساکت کھڑا سامنے والی گاڑی میں اپنے باپ کو دیکھ رہا تھا جو اس گاڑی میں مطمئن انداز میں بیٹھا جسے غیر قانونی لڑکیوں کو اسمگل کرنے سے روکنے کے لیے وہ اس گاڑی کو اڑانے کے ارادے سے آئے تھے کیوان شاکت کھڑا اپنے باپ کو دیکھ رہا تھا کہ فرغام سلطان نے تیزی سے آگے بڑھ کر اُسے اس گاڑی کے سامنے سے ہٹایا۔
“سلطان بے وہ میرے بابا ہی تھے ناں۔؟؟
کیوان کآردال شاکت نظروں سے فرغام سلطان کی جانب دیکھتے ہوئے پوچھنے لگا۔
“ہاں کیوان کآردال۔”
فرغام سلطان نے ضبط سے سرخ انگارہ بنی اپنی آنکھیں اس پر سے ہٹاتے ہوئے کہا۔تو کیوان کآردال بیقراری سے تیزی سے اس گاڑی کی جانب بڑھا اس
سے پہلے وہ اس گاڑی کے آگے آتا فرغام سلطان نے آگے بڑھ کر اسے روکا۔
“یہ تم کیا کر رہے ہو کیوان کآردال پاگل ہوگئے ہوں
اگر ابھی میں نے تمھیں پکڑا نا ہوتا تو تم گاڑی کے نیچے آکر مر جاتے ڈیم اٹ۔”
فرغام سلطان نے اسے سختی سے پکڑتے ہوئے غصے سے کہا۔
“سلطان مجھے لگتا ہے وہ کسی مصیبت میں ہیں وہ عورت انہیں شاید دھمکا رہی ہے اسی لیے تو وہ اتنے سالوں سے غائب تھے میں جا رہا ہوں انہیں بچانے اس وقت انہیں میری سخت ضرورت ہوگی ورنہ یہ شیطان ماں کی طرح میرے بابا کو بھی مار دیں گی۔؟؟
کیوان کآردال سخت بیچینی سے کہتا واپس آگے بڑھا لیکن فرغام سلطان کے سرد لہجے نے اسے آگے بڑھنے سے روکا۔
“کیوان کآردال ہوش میں آؤں وہ تمھارا باپ ضرور ہے لیکن وہ اس وقت اس دشمن کے ساتھ ملا ہوا ہے کیا یہ تمھیں نظر نہیں آ رہا ہاں اتنے سال وہ کہاں غائب تھا ہاں یہ تم نے کبھی جاننے کی کوشش نہیں کی بس اسے ڈھونڈتے رہے جبکہ وہ اس عورت کے ساتھ مل کر میرے خاندان اور تمھاری ماں کا قاتل بن چکا ہے تم اتنا اعتماد کیوں کرتے ہو میرے یار اس بے ضمیر انسان پر ہممممم میری مانو تو اسے آج کے دن ہی ختم کر کے ہم سب کا بدلا لوں کیونکہ وہ تُمھیں تمھاری بہن کو اور میری بہن کو بھی نقصان پہنچا سکتا ہے کیونکہ وہ اس وقت ایک باپ نہیں بلکہ ایک شیطان ہے تمھارے لیے ہم سب کے لیے میرے بھائی۔”
فرغام سلطان نے ضبط سے سرخ ہوتے ہوئے کہا۔جبکہ وہ ابھی تک یقین نہیں کر پارہا تھا کہ اسکا باپ دھوکے باز ہے۔
“یہ سچ نہیں ہوسکتا سلطان اور اگر یہ سچ ہوا نہ کہ میرا باپ ایک قاتل ہے تو میں مر جاؤں گا دعا کروں یہ جھوٹ ہو ورنہ میں اپنی نظروں میں گر جاؤں گا کیونکہ جس شخص کیلئے میں نے اتنے آنسوؤں بہائے تھے وہ میری ماں کا قاتل ہے یہ بات میرے لیے باعث شرمندگی بن جائے گا سلطان دعا کروں یہ جھوٹ ہو۔”
کیوان کآردال نے بے بس نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے کہا۔
“کیوان کآردال یہ سچ ہے مجھے پورا یقین ہے کہ تمھارا باپ اس عورت کے ساتھ ملا ہوا ہے کیونکہ اگر اس کام کے لیے اس عورت نے زبردستی کی ہوتی تو وہ اس گاڑی میں آگے والی سیٹ پر یوں شان سے نہ بیٹھا ہوا ہوتا۔”
فرغام سلطان نے ایک بار پھر سے اسے یقین دلانا چاہا۔
مگر وہ یقین نہیں کر پارہا تھا لیکن تبھی اپنے باپ کو گاڑی سے نیچے اتر کر سلطان کی جانب ریوالور کا رخ کرتے ہوئے دیکھ وہ فرغام سلطان کی باتوں کا یقین کرگیا کہ اس کا باپ سچ میں ایک شیطان ہے۔
“سلطان نیچے جھکو۔”
فرغام سلطان کو بچانے کے چکر میں گولی اسکے کندھے کو چھو کر گزری مگر وہ اپنی اس جسمانی تکلیف کو بھول کر تکلیف دہ نظروں سے اپنے باپ کی طرف دیکھنے لگا جو سامنے کھڑا اپنی اولاد کو تڑپتے ہوئے دیکھ کر مسکرا رہا تھا۔
🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥
تُم دوسروں سے حسد کرنا کب چھوڑوں گی مجھے بتاؤ اگر تُم یہ نہیں چھوڑ سکتی تو میں تُمھاری مدد کرتی ہو۔”
روحین نظریں اُس پر ٹکائے سخت لہجے میں اس سے پوچھنے لگی جو سامنے کھڑی اُسے ہی گھور رہی تھیں۔
“اور تُم کب میرے سلطان سے دور ہوگی۔؟؟
وہ دونوں اس وقت سلطان کے پورشن کے اس ایریا میں کھڑی تھیں جہاں ٹرائینگل کی صورت میں بنا
ایک جلتا تندور تھا
جس میں سلطان اپنے دشمنوں کو پھینک کر انہیں ہمیشہ کی نیند سلا دیتا تھا اس وقت وہ تندور جل رہا تھا اور اسکے پاس ایک بت بھی پڑا ہوا تھا اور بھی نجانے کیا کچھ رکھا ہوا تھا جو آرزو اس شخص کے پاس سے لے کر آئی تھی جلانے کیلئے مگر روحین نے یہ سب دیکھ لیا تو وہ غصے سے اس سے یہ پوچھنے لگی جسکی وجہ سے آرزو اب اس سے سخت گھبرانے اور ڈرنے لگی۔
“یہ سب تُم کیا کہہ رہی ہوں تُم حوش میں تو ہو وہ تُمھارا نہیں میرا شوہر ہے جو تم مجھ سے اُسکے بارے میں اسطرح بات کر رہی ہو۔”
روحین نے بت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا جو آرزو کے ہاتھ میں تھا۔
“نہیں وہ تُمھارا نہیں ہے وہ صرف میرا ہے سنا تُم نے مجھے اگر تُمھیں اس سے دور کرنے کیلئے تمھارا قتل کرنا پڑا تو میں وہ بھی کروں گی۔”
آرزو ہزیانی انداز میں چیختی ہوئی کہنے لگی۔
“شٹ اپ۔”
روحین سخت غصے سے اسے گھورتی پیچھے دھکیل کر کہنے لگی۔
“کیا تُم نے مجھے دھکا دیا مجھے کیا تم مجھ سے لڑنا چاہتی ہو۔؟
آرزو اسکے دھکیلنے پر پیچھے جا کر گری تو اسے پھٹی آنکھوں سے دیکھتی ہوئی نفرت سے کہنے لگی۔
“ہاں اپنے سلطان کیلئے مجھے یہ کرنا ہی پڑے گا ورنہ تم جیسی پاگل لڑکی کی ان بچکانہ حرکتوں سے اسے بھی نقصان پہنچے گا۔”
روحین سخت نظروں سے اُسے دیکھتی ہوئی بولی۔
“میں انہیں نقصان پہنچاؤ گی میں، تمھاری اتنی ہمت مجھ پر اتنا بڑا الزام لگانے کی ہاں میں تُمھیں آج نہیں چھوڑوں گی مار دوں گی آج میں یہ قصہ یہی ختم کر دوں گی۔”
وہ شدید غصے سے نیچے سے اٹھی اور آگے بڑھ کر اُسے پیچھے کی طرف دھکیلنے لگی روحین جو تندور سے تھوڑا آگے کھڑی تھی اسکے دھکیلنے پر وہ تندور کے دیوار سے ٹکرا گئیں۔
“آہہہہہ.”
اپنی پشت پر تپش محسوس کرتی وہ اسے دیکھتی ہوئی سسکی۔
“تُمھیں پتہ ہے یہ ایک جان لہوا تندور ہے جو سلطان اپنے دشمنوں کو مارنے کیلئے اکثر استعمال کرتا رہتا ہے لیکن آج میں اسے استعمال کروں گی کیونکہ تُم بھی مجھے سلطان کی دشمن سے کم نہیں لگتی ہو۔”
آرزو اُسے شدید نفرت سے گھورتی ہوئی بول کر اُسے تندور میں پھینکنے کیلئے آگے بڑھنے لگی کہ تبھی عائشہ گل آگے بڑھی جو روحین کو ڈھونڈتی یہاں تک پہنچی تھیں ارزو کو اسے تندور میں پھینکتے ہوئے دیکھ وہ تیزی سے آگے بڑھی اور روحین کے آگے کھڑی ہوگئیں۔
“آرزو آپی یہ آپ کیا کر رہی ہیں بھابھی مر جائے گی آپ جانتی ہے یہ کتنا خطرناک ہے۔”
عائشہ گل پھٹی آنکھوں سے اُسے بے یقینی سے دیکھتی پوچھنے لگی۔
“پیچھے ہٹو عائشہ گل اُسے جل کر مارنا پڑے گا تبھی ہماری زندگی اچھی ہوگی۔”
آرزو ہزیانی انداز میں کہتی عائشہ گل کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہنے لگی تو عائشہ گل اُسے شدید حیرت سے دیکھنے لگی۔
“آرزو آپی آپ اتنی سنگدل کب سے ہوگئی ہے پہلے تو آپ ایسی نہیں تھی۔”
وہ حیرت سے اُسے دیکھتی ہوئی بولی تو آرزو نے غصے سے اپنا ہاتھ آگے بڑھا کر اسے پیچھے دھکا دیا تو عائشہ گل اپنا توازن برقرار نہ رکھ سکی سیدھی پیچھے جاکر اس تندور کے اندر گر گئیں روحین جو سائیڈ پر تھی وہ یہ دیکھ کر زور سے چیخ اٹھی جبکہ آرزو آنکھوں میں سرخی لیے ساکت کھڑی تندور کے اندر عائشہ گل کو دیکھ رہی تھیں جو جلن کی وجہ سے بُری طرح سے چیخ رہی تھیں۔
روحین آنکھوں میں آنسوؤں لیے اس چھوٹی سی لڑکی کو جلتے ہوئے دیکھ رہی تھی تبھی کسی کے پیچھے سے سر پر وار کرنے پر وہ اپنا سر پکڑ کر نیچے بیٹھتی چلی گئی۔
🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥
