122.6K
29

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 22

فرغام سلطان کی گاڑی جب ایک سفید بڑی سی حویلی کے آگے آکر رُکی۔ہارون صاحب (کیوان کے مانوں)کی بیٹی ارزو جو ابھی صرف انیس سال کی تھی وہ لان میں بیٹھی اپنے بلیک کلر کے جرمن شیفرڈ سے کھیل رہی تھیں پورچ پر اُس کی گاڑی کو رُکتے ہوئے دیکھ خوشی سے اپنی سفید پیروں کو چھوتے فراک کو پکڑ کر اُس دشمن جاں کی دیدار کیلئے بھاگی۔مگر اُسکی باہوں کے گیرے میں ایک نازک خوبصورت سبز آنکھوں والی پری کو دیکھ اُسکی نیلی شربتی آنکھوں میں نمی تیرنے لگی۔
جسکو وہ دیوانگی کی حد تک چاہتی ہے وہ کسی دن اپنی باہوں میں ایک پری کو لیکر اِس حویلی میں آئے گا یہ اُس دیوانی لڑکی نے کبھی وہم و گمان میں بھی نہیں سوچا تھا۔
“سلطان بے آپ آگئے۔”
اُسے قریب آتے دیکھ وہ مشکل سے خود پر ضبط کرتی اپنے چہرے پر مسکراہٹ سجاکر اُس حسین پری کو دیکھنے لگی جسکے لیے اس وقت اُسکے دل میں صرف ایک جزبہ تھا پیدا ہو رہا تھا شدید نفرت کا جزبہ ۔وہ کیوں اتنی خوش قسمت تھیں۔ جو اُسکی باہوں میں تھیں۔اُسکی کی جزبوں کو کیوں بے مول کر دیا گیا۔کیوں اُسے کسی اور کا ہوگیا کیوں۔ آخر کیا غلطی تھی جو یہ خوش قسمتی اُسکے نصیب میں تھی یہ باتیں سوچتی وہ دل میں آنسوؤں بہانے لگی۔
“ہاں۔یہ نانی جان کہاں ہے۔؟
وہ اُسے دیکھے بغیر کہتا نانی جان کے متعلق پوچھنے لگا۔
ارزو اُس دشمن جاں کی اس ستم پر آنسو کے گھونٹ بھر
کر لبوں پر مسکراہٹ سجا کر اُسے دیکھنے لگی۔
“وہ تو سو رہی ہیں۔”
وہ مسکراتی ہوئی بولی۔
تو فرغام سلطان نانی جان کے اس وقت سونے کا سُن کر سر اٹھا کر اس بار اُسے دیکھنے لگا جسکے چہرے پر کوئی ٹیشن اُسے ڈھونڈنے پر نہیں ملا۔
“اس وقت اُنکی طبیعت تو ٹھیک ہے ناں پہلے تو وہ کبھی اس وقت نہیں سوتی تھیں۔”
وہ سخت پریشانی سے اُس سے پوچھنے لگا۔
“وہ دراصل انہوں نے آج دوائی لی تھی ناں اسی لیے۔”
ارزو نانی جان کیلئے اُسے پریشان ہوتے دیکھ جلدی سے
بولی وہ اُسکے ساتھ چاہیے جتنا بُرا ہو مگر وہ اُسے اپنے سوا کسی اور کیلئے پریشان ہوتا نہیں دیکھ سکتی ہیں۔
“کیوں انہیں کیا ہوا ہے۔ وہ کیوں دوائی لیتی ہیں۔؟؟
اسکے چہرے سے تو اب پریشانی غائب ہوگئی ہے۔مگر لہجے میں وہ پریشانی ابھی بھی محسوس کر سکتی تھی۔
“نہیں اُنہیں کچھ نہیں ہوا ہے۔ وہ بلکل ٹھیک ہے۔
بس آج صبح سے اِنہیں زخام کا مسلہ ہو رہا تھا۔
تو وہ کھانا کھانے کے بعد دوائی لیکر سو گئی تھی۔شاید اب اٹھ گئی ہوگی۔”
وہ سنجیدگی سے کہنے لگی۔اس تمام وقت میں روحین اُسکی باہوں میں خاموش اُس لڑکی کی نظروں کو فرغام سلطان کے چہرے پر مرکوز دیکھ اپنے سینے میں نجانے کیوں شدید جلن محسوس کر رہی تھی۔
“ہارون صاحب وہ کہاں ہے۔؟
فرغام سلطان نے سنجیدگی سے اُسکے باپ کے بارے میں پوچھا۔
“بابا تو کھیت میں ہوتے ہیں اس وقت۔”
ارزو اُس سے بولی۔
“اور عائشہ گل۔”
اب وہ عائشہ گل کے بارے میں پوچھنے لگا۔
“وہ اندر اپنے روم میں ہے۔”
ظالم ستم گر کبھی میرے بارے میں بھی پوچھ لیا کرے یہ وہ بولنے کی ہمت بلکل بھی نہیں کر سکتی تھی اُسکے غصے کے ڈر سے۔وہ بس اتنا بول سکی۔
“آہہہہہ میرا پاؤں۔”
روحین اُن نیلی آنکھوں میں فرغام سلطان کے لیے جزبوں کو سمجھ کر فرغام سلطان کو جلدی سے اپنی جانب متوجہ کرتی کہنے لگی۔
“کیا ہوا روحی جاناں۔”
اُسکی کراہ پر فرغام سلطان پریشانی سے مکمل اُسکی طرف متوجہ ہوتے ہوئے پوچھنے لگا۔
ارزو ہارون یہ منظر اپنی جلتی آنکھوں سے دیکھنے لگی۔
“ٹھیک ہے میں اپنے پورشن میں جا رہا ہوں۔ نانی جان اٹھ جائے تو مجھے بتا دینا۔”
روحین کو اُس سے ملائے بغیر اپنے ساتھ لیے اپنے پورشن کی جانب بڑھا۔اس بڑی سی حویلی میں اُسکا پورشن الگ تھا۔کیونکہ اُسے زاور سلطان کی موت کے بعد سے تنہائیوں سے لگاؤ ہونے لگا تھا۔
مگر اب روحین سے عشق کی وجہ سے وہ تنہائیوں کو بھول کر روحین کی قربت کا دیوانہ ہوگیا تھا۔۔
جبکہ وہ اس پاگل لڑکی کی جانب سے مطمئن تھا۔کیونکہ اسنے اور عائشہ گل نے ابھی تک نیلوفر کو نہیں دیکھا تھا ورنہ اگر اس پاگل لڑکی نے نیلوفر کی تصویر بھی دیکھ لی ہوتی نا تو وہ نیلوفر کی وجہ سے روحین سے اسکے سامنے اس سے بنا ڈرے اپنی نفرت کا اظہار کر دیتی۔اُسے ویسے بھی اِس بے وقوف لڑکی سے زیادہ باتیں کرنا بلکل بھی پسند نہیں کیونکہ وہ اُسکی نظروں میں اپنے لیے بہت کچھ بہت پہلے دیکھ چکا تھا۔اسی لیے وہ یہاں بہت کم آتا تھا۔
جب اپنے پورشن میں پہنچا تو اُسے لیے اپنے بڑے سے شاندار بیڈروم کی طرف بڑھا اور دروازے پر پہنچ کر ایک ہاتھ سے دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا اور اسے لیے بیڈ کی جانب بڑھا اسے بیڈ پر بیٹھا کر خود نیچے بیٹھ کر اُسکے اُس پیر کو اٹھا کر دیکھنے لگا جس پر گلاب کا کاٹنا چُبھا تھا۔
“سسی۔”
اُسکی ایڑی پر دباؤ ڈالنے پر وہ بُری طرح سے سسکی۔
“درد ہو رہا ہے۔”
اُسکی سسکی پر وہ اُسکی جانب دیکھنے لگا جو آنکھیں سختی سے میچے بیڈ پر بیٹھی بیڈ شیٹ کو سختی سے تھامے لرز رہی تھی۔
“ہاں بہت۔”
وہ اُسی طرح آنکھیں میچے بولی۔
“اب۔”
بے ساختہ وہ اپنے لبوں کو اُسکی ایڑی پر اُس جگہ جہاں شدید اب بھی خون بہہ رہا تھا رکھ کر گھمبیر لہجے میں پوچھنے لگا۔
“ہاں ابھی بھی ہو رہا ہے۔”
وہ اپنی ایڑی پر اُسکے لبوں کو محسوس کرتی بیڈ شیٹ
پر گرفت اور مضبوط کرتی بولی۔
“اب نہیں ہوگا جاناں۔”
وہ کہتا اُسے چھوڑ کر اٹھا اور روم سے باہر نکلا کچھ دیر بعد جب آیا تو ایک چھوٹے سے اسکائی بلیو رنگ کے ٹپ کو ہاتھوں میں پکڑے اُسکے پاس آکر بیٹھا ٹپ میں ٹھنڈا پانی تھا جس میں اُسنے روحین کے دونوں گورے پیروں کو اندر ڈال دئیے تو روحین جلن کو کچھ کم ہوتا محسوس کرتی آنکھیں کھول کر اُسے دیکھنے لگی جو نیچے ٹپ میں اُسکے گورے پیروں کو دیکھ رہا تھا۔وہ سوچنے لگی۔
ایک سفاک ڈیول کیسے کسی عورت کو اتنا چاہ سکتا ہے جو اپنا مقام بھول کر اُس عورت کے قدموں میں بیٹھ کر اُسکی تیمارداری کرے اور اُسکے صرف ایک گلاب کے کانٹے کی وجہ سے تکلیف پہنچنے پر وہ اُس پورے گلاب کے کھیت کو جڑ سے اکھاڑنے پر اتر آئیں۔مگر پھر اس لیے رُک جائیں کیونکہ اس عورت کو گلاب کے پھولوں سے بے فناہ عشق ہے۔کیا یہ قدرت کا کوئی کرشمہ تھا یا اُس ڈیول کو سدھارنے کا ایک موقع۔
مگر جو بھی تھا اُس پری کو یہ بہت پیارا لگ رہا تھا۔
“جاناں ایسی گستاخیاں کروں گی۔ تو میرا جان لینے کو من بن جاتا ہے۔تُم ائندہ کبھی بے خیالی میں بھی یہ غلطی مت کرنا ورنہ میں بے شرم بں کر جان لے لونگا تُمھاری۔ “
وہ بے ساختگی میں آگے بڑھی اور اُس ڈیول کے فورہیڈ پر اپنے لب رکھ کر تیزی سے پیچھے ہٹی اور سُرخ چہرے کو شرم کے مارے اپنے نازک ہاتھوں کے ہالے میں چھپا کر اپنی بے ساختگی پر خود کو کوسنے لگی کہ یہ اُسنے کیا کر دیا۔مگر اُسکی اس حرکت پر وہ ڈیول بہک گیا اور اُسے شانوں سے پکڑ کر اُسے بیڈ پر لیٹا کر سنجیدگی سے اُسکے اوپر جھکا اور اُسکے چہرے پر رکھے اُسکے نازک ہاتھوں کو ہٹا
کر اُسے اپنی مخمور نظروں سے دیکھنے لگا جسکے رخسار شرم کے باعث گلال ہورہیں تھیں وہ گھمبیر لہجے میں کہتا اُسکے لبوں کو اپنی لبوں کی گرفت میں لے کر اپنا شدت
بھرا لمس چھوڑنے لگا۔
🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥
“اذان۔”
رنیم کی آنکھوں کے آگے اندھیرا چھا رہا تھا۔
سر الگ سے پھٹ رہا تھا اور اذان فرید کی سُرخ خمار آنکھیں رنیم کی سُرخ ناک اور گالوں پہ مرکوز تھیں وہ ڈگمگاتے قدموں کو اُسکی جانب بڑھانے لگا۔
“ہمممم جی جانِ اذان۔”
اذان فرید کے ڈگمگاتے قدم رنیم کے پاس آکر رُک گئے۔
وہ رنیم کی لرزتی آواز پر وہ اپنے لزرتے ہاتھوں کو اُسکی پشت پر رکھ کر اُسے اپنے سینے سے لگاتا اور اُسکی گوری سُرخی مائل گالوں کو چھوتا رنیم کے لزرتے دل کو مٹھی میں لیتا۔ اُسے باہوں میں بھر کر سامنے بڑے سے گول بیڈ کی جانب بڑھا۔
“ا۔اذان۔آ آج میں وہی سکون محسوس کر رہی ہو۔ جو وو۔وہاں میں محسوس کیا کرتی تھیں۔میں بلکل اِسی طرح ہواؤں میں خود کو اڑتا ہوا محسوس کر رہی ہو۔”
دونوں عیجب بہکی نظروں سے ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے دونوں کی آنکھوں میں ایک نشہ اُنہیں کچھ غلط کرنے کو اکسا رہا تھا۔
“م۔مجھے۔ پ۔پھر س۔سے و۔وہ ج۔جوس چ۔چاہیے ا۔اذان ج۔جو ہ۔ہم ن۔نے اب۔ابھی پیا تھا۔”
وہ اچانک سے لہراتی ہوئی اذان فرید کے گریبان سے پکڑ کر اُسے اپنے اوپر گراتی نشیلی آواز میں اٹک اٹک کر کہنے لگی۔
“جانِ اذان ا۔ابھی لاتا ہوں۔”
اذان فرید اُسکے اوپر سے اٹھتے ہوئے لڑکھڑاتے قدموں کے ساتھ اس روم سے بڑبڑاتے ہوئے باہر نکلنے کیلئے آگے بڑھنے لگا تبھی اچانک سے پیچھے سے رنیم نے آکر اُسے بیک ہگ کیا اور اپنا چہرہ اُسکی پشت پر رکھ کر وہ بری طرح سے رگڑنے لگی۔
“ن۔نہیں اذ۔اذان ہ۔ہم دونوں س۔ساتھ جاتے ہیں اُس جوس کو لینے۔”
وہ اُسکی پشت سے سر اٹھا کر لڑکھڑاتی ہوئی اُسکے سامنے آکر اٹک اٹک کر ہنستی ہوئی کہنے لگی۔
“ن۔نہیں جانِ اذان می۔میں لاتا ہوں ناں۔”
اذان فرید نشے سے بھری آنکھوں کو بند کرتے ہوئے اپنے سینے پر مارتے ہوئے اُسے سائیڈ پر کرتا باہر کی طرف بڑھنے لگا مگر رنیم کے آگے بڑھ کر پیچھے سے پکڑنے پر وہ رُک گیا۔
“نہیں مجھے بھی آنا ہے۔”
رنیم اُسے پیچھے سے پکڑے منہ بنا کر بولی تو اذان پیچھے مڑ کر اُسے اوپر اٹھا کر اُسکی بالوں کو جکڑ کر پیچھے اسی طرح لیے بیڈ کی جانب بڑھا اور اُسنے اُسے زور سے بیڈ پر گرا دیا۔
اب ڈرگز نے اُن دونوں کو جانوروں کی طرح خونخوار بنا دیا تھا وہ ہوش بھلائے بلکل جانوروں کی طرح بے ہیو کرنے لگے۔
“آہہہہہ۔”
“اذان تُم مجھے مار رہے ہو۔؟
رنیم بیڈ پر زور سے اُسکے گرانے پر کراہ کر خونخوار نظروں سے اُسے گھورنے لگی۔اذان بھی اُسے اپنی سرخ نشیلی آنکھوں سے دیکھتا جارحانہ انداز میں اُسکی کلائیوں کو ایک ہاتھ سے جکڑتا اُسکی تھوڈی کو سختی سے دوسرے ہاتھ سے پکڑتا اُسکے چہرے پر جھکا اور شدت بھرا لمس اُسکے چہرے پر چھوڑنے لگا۔
“نہیں جاناں تُمھیں پیار کر رہا ہوں۔”
اُسکی لبوں کو آزاد کرکے کہتا اُسے دیکھنے لگا جو اُسے ہی گھور رہی تھی البتہ وہ ابھی تک تھوڈی سے پکڑے اسکے اوپر جھکا ہوا تھا۔
وہ اچانک سے اُسکی نازک کمر کو پکڑ کر اُسے اوپر کرتا اپنے ہاتھ پیچھے لیجا کر اُسکی بیک پر لٹکی ڈوری کو ُاُسنے کھینچا پھر دوسرے ہاتھ سے نازک شولڈرز سے اُسکی سیاہ فراک کو ہٹانے لگا۔
“سسسسی۔۔۔”
رنیم اپنی گردن پر جلن محسوس کرتی سسکی اور شدت سے اذان کے بالوں کو پکڑ کر اُسکا چہرہ اپنی گردن سے ہٹا گئیں۔
“اذ۔ان ۔”
وہ سے بھاری ہوتی آنکھیں کھولنے کی کوشش کرتی ہوئی بولی۔
دونوں کیا کر رہے تھے صحیح کر رہے تھے یا غلط یہ انہیں بلکل بھی پتہ نہیں تھا کیونکہ انکی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کو اس ڈرگز نے ختم کر دیا تھا اور وہ دونوں اس وقت ہوش میں نہیں تھے۔
“ہاں ا.ذان ک.کی ج۔جان.؟
اذان نے اپنی بھاری پلکوں کو اوپر اٹھانے کی کوشش کرتے ہوئے پوچھا۔
“مجھے وہ جوس پینا ہے ابھی آ۔آپ مجھے بھی ج۔جانے ن۔نہیں دے رہے اا۔اور خود بھی نہیں جا ر۔رہے۔”
رنیم نے سختی سے اُسکے بالوں کو جکڑتے ہوئے بچوں کی طرح ضد کرتے ہوئے کہا۔اذان اپنے بال اسکی مٹھی میں محسوس کرتا ڈرگز کی وجہ سے اچانک سے وہ ایک خونخوار درندہ بنا اور پھر اُسنے اُسکی بالوں کو سختی سے اپنی مٹھیوں میں لیکر نشے سے سرخ اور بند ہو رہے آنکھوں سے دیکھنے لگا۔
“اذان کی جان اگر میں جوس نہیں لاوُ تو تُم کیا
کروں گی۔؟
سرد لہجے میں پوچھتا وہ رنیم کو بھی خونخوار شیرنی بنا گیا۔
“ت۔تو میں آپکو مار دوں گی۔”
اُسکی گردن پر اپنے دانت گاڑھتے ہوئے سرد لہجے میں کہنے لگی۔اپنی گردن پر جلن محسوس کرتا وہ سرخ آنکھوں سے اُسے دیکھتے ہوئے اُسے اپنی مضبوط گرفت میں لیکر وہ اُسکے لبوں پر جھکا اور جارحانہ انداز میں وہاں اپنا لمس چھوڑنے لگا۔
“میں اتنی جلدی مار کھانے والوں میں سے نہیں ہوں اذان کی جان۔”
رنیم کے انگ انگ میں وہ اپنی مہریں ثبت کرنے لگا رنیم بھی ڈرگز کی وجہ سے بھوکی شیرنی کی طرح اُس پر حملہ کر رہی تھی۔دونوں نشے میں یہ سب کر کے اپنی آنے والی زندگی میں ایک اور طوفان لا
رہے تھے۔
🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥
فائرنگ کی آوازیں قریب سنتے ہی وہ اُسے سینے میں بھینچے نیچے جھکا جب فائز کی آوازیں آنا بند ہوئی تو وہ اٹھا اور اُسکا رُخ اپنا جانب کرتا اُسے دیکھنے لگا جو سپاٹ نظروں سے گھور رہی تھی۔
“میں نے کہاں تھا نا کہ جلدی نکلو وہ لوگ کسی بھی وقت آ سکتے ہیں مگر تُم۔”
وہ غصے سے لال نان اسٹاپ بولے جا رہی تھی۔کہ تبھی اچانک سے کیوان نے اپنا ہاتھ اُسکے سر کے پیچھے لیجا کر اُسے جھٹکے سے اپنے قریب کیا۔اور غصے سے لرزتے نازک لبوں پہ اپنے لب رکھ کر اُسکی سانسوں کو اپنی سانسوں کی لپیٹ میں لیکر وہ اُسکی بولتی بند کرتا اُسے ساکت نظروں سے خود کو گھورنے پر مجبور کر گیا۔
“تُم دور رہوں مجھ سے ایسی خراب صورتحال میں بھی تُمھیں رومینس سوجھتی ہیں۔فائرنگ کی آواز
بند ہوگئی ہے تو اسکا یہ مطلب نہیں کہ خطرہ ٹلا ہے۔
وہ لوگ نیچے ہے ہماری سر پر موت رقص کر رہی ہے۔ بھاگنے کے بارے میں سوچنے کے بجائے تُم کھلے عام
یہ سب کر رہے ہو۔”
اُسے غصے سے خود سے دور کرتی وہ چیختی ہوئی بولی۔تو اُسکے دھکے سے صرف ہلکا سا ہلا مگر اسکے دور نہیں ہو سکا۔
“بیوی سوچنا کیا ہے نیچے کھودتے ہیں۔”
اُسکی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہنے لگا۔
“وہاٹ تُم پاگل ہو.کیا تُمھیں پتہ ہے ہاں تُم نے جا کر دیکھا ہے کہ چھت اور زمین کے درمیان کتنا فاصلہ ہے ہاں جو تم پاگلوں جیسی باتیں کر رہے ہو۔؟
نازلی اُسکی کھودنے والی بات سُن کر ساکت رہ گئی۔
“کہاں میں نے تو ابھی تک نہیں دیکھا۔کہ زمین اور چھت کے درمیان کیا فاصلہ ہے۔ہاں بیوی ابھی چل کر دیکھ لیتے ہیں کہ کتنا فاصلہ ہے تو ہمیں پتہ چل جائے گا آؤں میرے ساتھ دیکھتے ہیں اگر تھوڑا فاصلہ ہے تو کھود جائے گے اگر نہیں تو ان لوگوں کو مار کر سیدھے راستے سے نکل جائے گے۔کیونکہ ہمارا یہاں رہنا سیو نہیں ہے وہ شخص اپنی دشمنی نکالنے کیلئے کسی بھی وقت یہاں آکر حملہ کر سکتا ہے۔ “
کیوان کہتا اُسکی کلائی کو پکڑ کر آگے بڑھا اور چھت سے نیچے دیکھنے لگا تو نیچے سمندر کے پانی کو دیکھ وہ خوش ہو کر اُسکی جانب دیکھنے لگا جو کب سے خاموش اُسی کی باتیں سوچ رہی تھی اُسکے ہلانے پر وہ اسکی جانب دیکھنے لگی۔
“ہاں یہ تُم ٹھیک کہہ رہے ہو۔ ہمیں چیک کرنا چاہیے کیونکہ وہ سب یہاں پہنچ جائے گے اس روم کا دروازہ کھولا چھوڑ کر گئے ہیں مطلب وہ اتنے چالاک نہیں ہے ہم انہیں آسانی سے ہارا سکتے ہیں۔”
اُس نظریں ٹکا کر وہ اُس روم کی جانب اشارہ کرنے لگی جس میں انہیں قید کیا گیا تھا۔
“ہاں تُم صحیح کہہ رہے ہو وہ تمھارے نقلی باپ کے بندے ہیں تو بے وقوف تو ہوگے ان سے چالاکی امید رکھنا بیکار ہے۔”
کیوان نے طنزیہ لہجے میں رمیز کے بارے میں کہا۔
تو نازلی انکا نام سُن کر دکھی ہوگئی کیونکہ اس نے
ان کو کبھی بھی غیر نہیں اپنا سمجھا تھا اور انہوں
نے اسکی محبت کا اُسے یہ صلہ دیا۔
کیوان کآردال اُسکے چہرے پر دکھ دیکھ اُسے اپنی جانب متوجہ کرنے کیلئے اُسے اپنے حصار میں لیا وہ اچھے سے جانتا تھا ایک یہی طریقہ ہے جس سے وہ ان سب باتوں کو اس وقت بھولا سکتی ہیں۔
“بیوی نیچے دیکھوں خوش قسمتی سے ہم کھود سکتے ہیں کیونکہ یہ چھت بھلے ہی بہت زیادہ اونچا ہے مگر ہم یہاں سے کھودے گے تو سیدھا سمندر کے پانی میں جا گرے گے اور یہاں سے مجھے پانی اتنا گہرا نہیں لگ رہا ہے ہمیں کوئی نقصان نہیں ہوگا۔ اور ہماری قسمت دیکھو کہ ہمیں اس ہائی لینڈ سے نکلنے کیلئے قدرت نے ہمارے لیے ایک راستہ اس یاٹ کی صورت نکالا ہے۔
بیوی مجھے لگتا ہے یہ یاٹ ان لوگوں کا ہے۔یہ سب میرے خیال سے یہاں پارٹی کرنے کے لیے آئے ہیں۔ اور یہ فائر انہیں لوگوں نے کیا ہے۔مطلب رمیز کے آدمی ابھی تک نہیں آئے ہیں۔میں کھود کر اس یاٹ کے پائلٹ کو بہیوش کرنے جا رہا ہوں۔ تم یاٹ کے اندر سے ان سب لوگوں کو باہر اپنی جانب متوجہ کرنا تاکہ وہ سب تمھاری ہلیپ کیلئے باہر نکل کر یہاں اس گھر کی جانب بھاگے۔اور تم انہیں یاٹ سے نکلتے دیکھتے ہی کھود جانا۔”
کیوان اُسے اپنی حصار میں لیے سامنے سفید بڑی سی یاٹ کو دیکھ ایک پلان بناتے ہوئے اسے دیکھنے لگا۔تو نازلی اُسکا پلان سن کر طنزیہ نظروں سے اُسے دیکھنے لگی۔
“مسٹر مافیا تُمھیں یاٹ چلانی آتی ہیں۔جو تُم اتنی بہادری سے یہ پلان بنا رہے ہو۔؟
نازلی طنزیہ انداز میں بولی۔تو کیوان نے اُسے کمر سے پکڑ کر اپنے نزدیک کرتے ہوئے اُسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھا۔
“بیوی میں یاٹ کیا ہیلی کاپٹر بھی چلا لیتا ہوں۔”
اُسکی کمر پر اچانک سے گرفت سخت کرتا وہ بوجھل لہجے میں کہنے لگا۔نازلی تنگ گرفت میں غصے سے خود کو چھڑانے لگی۔
“وہاٹ آ جوک۔”
وہ اُسکی تنگ گرفت میں اُسکی بات پر طنزیہ انداز میں ہنستی ہوئی بولی۔تو کیوان کآردال کو سخت
غصہ آگیا اسکی بے یقینی پر۔
“کب یقین آئے گا تُمھیں مجھ پر بیوی.؟
نیلے کانچ سرمئی نگینوں پر ٹک گئی عنابی لب اپنی بے بسی پر پھڑپھڑانے لگے۔
جبکہ اُس ستم گر کے رخسار پر حیا کی لالی دیکھ اُسکا دل گستاخی کرنے کے لیے مچل مچل کر اُسے آگے بڑھ کر جسارت کرنے کیلئے اُکسا رہا تھا۔
“تُم یقین کے قابل ہی نہیں ہوں۔تو میں کیسے تُم پر یقین کروں تُم نے ہر چیز پر اپنا حکم چلایا ہوا ہے۔شادی میں نے اپنے بھائی کے قریب رہنے کیلئے تُم سے کی،اور تُمھاری شرطیں میں نے کیا مان لی۔تُم تو مجھے میرے وجود کو اپنی جاگیر سمجھنے لگے۔”
شدید غصے سے اُسے دیکھتی اُسکے حصار کو توڑتی
وہ پچھے ہٹی۔مگر اُسکے اپنی جانب کھینچنے پر وہ اُسکی باہوں میں کٹی ڈھالی کی طرح آ گری۔
“ہاں تُم میری جاگیر ہو۔۔میں جب چاہے۔ جیسے چاہے۔ تُمھارے ساتھ کچھ بھی کر سکتا ہوں۔کیونکہ تُم میری بیوی ہو۔تُم پر صرف میرا حق ہے۔صرف میری نظروں کو حق ہے تُمھیں دیوانہ وار دیکھنے کا تُمھیں چھونے کا تُمھیں درد دینے کا حقدار صرف میں ہوں۔”
اُسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر وہ سخت طیش سے کہتا اُسکی پھڑپھڑانے کی پرواہ کیے بغیر اُسکے لبوں کی جانب بڑھنے لگا اور یہ دیکھ نازلی سٹپٹاتی ہوئی تیزی سے اُسکے چوڑے سینے پر ہاتھ رکھ کر اُسے دور کرنے لگی۔
“ٹھیک ہے میں تُم پر یقین کر کے دیکھ لیتی ہو کہ تُم پر یقین کرنا درست ہے کہ نہیں۔”
اُسے اور آگے نہ پھیلنے کے ڈر سے وہ اُسے دور کرنے
میں کامیاب ہو کر کہتی سامنے کھڑی یاٹ کے اندر پارٹی کرتے لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے کیلئے چھت پر ادھر ادھر گھوم کر کچھ ڈھونڈنے لگی۔
اُسے یہ کرتے ہوئے دیکھ کیوان اپنا غصہ بلا کر مسکرانے لگا۔
🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥