Ishq E Zulmat By Sumyia Baloch Readelle50177

Ishq E Zulmat By Sumyia Baloch Readelle50177 Last updated: 22 August 2025

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ishq E Zulmat By

Sumyia Baloch

"""""وہ غنڈہ ہمارے ملک میں قبضہ کرنا چاہتا ہے ہمارے ملک کی جڑے کاٹ کر اُسکی وجہ سے نجانے کتنے معصوم لوگ مرے ہیں آپ لوگ ڈر کر بیٹھے ہیں اور اُسکا مقصد بھی یہی ہے کہ اس ملک کی ساری عوام اس سے ڈب کر رہے، آپ لوگ ابھی نہیں اٹھے گے، تو وہ کل کو آپکی بیوی بچوں کو بھی مار سکتا ہے، میری اس ملک کی عوام سے اپیل ہے کہ اٹھے اور اپنے حق کے لیے لڑے اور اُس جلاد کو ختم کرنے میں ہمارا ساتھ دیں۔۔۔"""" یہ ایک نجی نیوز چینل کا دفتر تھا جہاں پرائم منسٹر کی سیکٹریری سنجیدگی سے کیمرے کے آگے بیٹھی چیخ چیخ کر کہہ رہی تھی۔۔۔ """"میم اگر وہ غنڈہ اتنا خطرناک ہے تو گورمنٹ ابھی تک کیوں خاموش ہے کیوں کوئی اسٹیپ نہیں لیا جا رہا اُس کریمنل کے خلاف۔۔۔؟؟؟ نیوز اینکر نے پرائم منسٹر کی سیکٹریری کو دیکھتے ہوئے پوچھا۔۔۔ """"وہ اس لیے۔۔۔۔""" پرائم منسٹر کی سیکٹریری اینکر کے سوال کا جواب دینے ہی والی تھی کہ تبھی وہاں سیاہ کپڑوں میں ملبوس دس لوگ داخل ہو کر توڑ پھوڑ کرنے لگے۔۔۔۔ """"کون ہو تُم لوگ اور یہ کیا کر رہے ہو کس کے کہنے پر تُم لوگ توڑ پھوڑ کر رہے ہو۔۔۔؟؟؟ پرائم منسٹر کی سیکٹریری ڈر کے مارے کرسی سے اٹھتی ہوئی بظاہر دبنگ لہجے میں اُن سے پوچھنے لگی۔۔۔۔ """"یہ سب ہم سلطان بے کے کہنے پر کر رہے ہیں سیکٹریری صاحبہ۔۔۔"""" اُن میں سے ایک آدمی نے کہا تو چینل کی سبھی کیمرے اُن سب لوگوں کے آگے ہوگئے اور یہ سب لائف ٹیلی کاسٹ پوری عوام دیکھنے لگی۔۔۔ """"""دیکھا آپ سب نے سلطان بے کی ہمت آج وہ ہمارے ملک کی ایک نجی نیوز چینل پر اپنے آدمی بھیج رہا ہے کل کو وہ آپ کے گھروں پر بھی اپنے آدمی بھیج سکتا ہے آخر کب تک آپ سب خاموش رہ سکتے ہیں کب تک ابھی وقت نہیں بگڑا اٹھے اور اُس شیطان کو ختم کرنے میں ہماری مدد کریں۔۔۔""" پرائم منسٹر کی سیکٹریری اُس آدمی کی بات پر کیمرے کے آگے آکر زور زور سے کہنے لگی۔۔۔ """"""سیکریٹری صاحبہ تُم سلطان بے کے خلاف آواز اٹھا کر غلط کر رہی ہو،شاید تُم اپنے اُن لوگوں کو بھول چکی ہو جنہوں نے بے کے خلاف اسی طرح آواز اٹھایا تھا اور بے نے انہیں بری موت مارا ہے تمھارا بھی ہم حشر ان لوگوں کی طرح کرے گے اگر تُم پیچھے نہیں ہٹی ناں تو۔۔۔۔""" اُسی آدمی نے شدید نفرت سے اُسے گھورتے ہوئے کہا۔ یہ نیوز کیوان کآردال بھی دیکھ رہا تھا وہ پرائم منسٹر کی چال پر طنزیہ انداز میں مسکرایا۔۔۔ """"""""""نائٹس پلانر مگر بے کو تُم لوگ ابھی اچھے سے نہیں جانتے ہو بہت بُرا ہونے والا ہے تُم لوگوں کے ساتھ چچ چی چچ چی۔۔۔"""""" وہ تھوڑے فاصلے پر ڈائننگ ٹیبل پر کاپی کے گھونٹ بھرتے اُس ایول کی جانب دیکھتے ہوئے دل میں کہنے لگا جبکہ اُس ایول کی شیر جیسی خونخوار نظریں اُس عورت پر تھی جو چیخ چیخ کر اس ملک کی عوام کو اُسکے خلاف بھڑکا رہی تھی ۔۔۔۔ """""""ٹرک میں بارود بھروں جلدی سے کیوان کآردال۔۔۔۔""""" کافی کی اخری شپ لے کر کپ ٹیبل پر سختی سے پٹک کر وہ ٹیبل پر رکھا اپنا ریوالور اٹھا کر خطرناک ترین لہجے میں کہتا تیزی سے باہر کی جانب بڑھا۔۔۔۔ """""""""" ہوں نو کیا ٹرک میں بارود بے آپ ہوش میں تو ہے وہ ایک عورت ہے اُسے تو بخشیں۔۔۔۔""""""" کیوان کآردال اُسکی بات پر ٹی وی کا ریموٹ صوفے پر پھینک کر اُسکے پیچھے بھاگتے ہوئے کہنے لگا۔۔۔۔ """""بخشوں اُس عورت کو میں، وہ میرے لیے ایک فتنہ ہیں، اُسے اگر آج چھوڑا تو یہ کل کو مجھے قبر تک پہنچا کر دم لے گی، اسی لیے میں اُسے بارود سے اڑا دینا چاہتا ہوں۔۔۔۔""" وہ سگریٹ کا ڈبہ پینٹ کی جیب سے نکال کر ایک سگریٹ اپنے لبوں سے لگا کر سپاٹ لہجے میں کہنے لگا اس گھر میں صرف وہ اور کیوان کآردال عائشہ گل رہتے تھے۔۔۔۔ کیونکہ ایول دوسروں سے زیادہ صرف اُن لوگوں پر بھروسہ کرتا ہے،اسی لیے اس گھر میں اسکے ساتھ صرف وہ دونوں بھائی بہن رہتے ہیں، رہی بات اس گھر کی سیکورٹی کی کیجائے تو اس گھر کی سیکورٹی پرائم منسٹر کے گھر کی سیکورٹی سے بھی زیادہ سخت ہے یہاں کے درودیوار صرف کیوان کآردال اور فرغام سلطان کو پہنچانتے ہے کسی اجنبی کو نہیں اگر فرغام یا کیوان چوروں کی طرح اس گھر کی دیوار پھلانگ بھی لے تو وہ آسانی سے کامیاب ہو سکتے ہیں اور اگر یہی طریقہ کوئی اجنبی کرے تو اس گھر میں جتنی بھی الارم ہے وہ الرٹ ہو جاتی ہے اور اسطرح وہ اجنبی پکڑا جاتا ہے ۔ """"ٹھیک ہے آپکو جو ٹھیک لگے آپ وہی کرے، لیکن میں آپ کو اس طرح ملک کی پوری عوام کے سامنے نہیں جانے دوں گا سلطان بے۔۔۔۔""""""" کیوان کآردال کی بات پر وہ اُسکے اوپری جیب سے نظر آتے اُسکے سیاہ ماسک کو نکال کر پہننے لگا۔۔ """"""ٹرک تیار ہے۔۔۔۔"""""" ماسک پہننے کے بعد وہ اُسکے کندھے پر اپنا بھاری ہاتھ رکھ کر زور سے دباؤ بڑھاتے ہوئے سرد لہجے میں پوچھنے لگا۔۔۔۔ """""""جی ہاں سلطان بے تیار ہے۔۔۔۔""""""" کیوان کآردال کے اُسے جواب دینے پر وہ اُسے چھوڑتا گھر سے باہر نکلا اور گھر کے قریب بنے اپنے گودام کی جانب بڑھا۔۔ 🌚🌚🌚🌚🌚🌚🌚🌚🌚🌚🌚🌚🌚🌚🌚🌚🌚