Ishq E Junoon By Iqra Sheikh Readelle50202 Last Episode
No Download Link
Rate this Novel
Last Episode
” فنکشن کافی دیر تک چلا تھا ”
” یاسر صاحب نے بہت ساری دعائے دیکر اپنی بیٹی کو رخصت کیا اور نمرہ بیگم نے منال کو ”
” یوں ان دونوں کی خوائش بھی پوری ہو گئی تھی”
” گھر آکر نمرہ بیگم رضوا کو اسکے بیڈروم میں چھوڑکر آرام کرنے کی ہدایت دیتی واپس آ گئی تھی ”
” وہ دھڑکتے دل کے ساتھ بیٹھی کاوش کا انتظار کر رہی تھی ..
آج اسکو ایک الگ ہی جھجھک محسوس ہو رہی تھی”
” وہ بیٹھی ہی تھی جب کاوش دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا تھا ”
” گلاب کی خوشبو اسکی ناک سے ٹکرائی تھی یہ وہی خوشبو تھی جب وہ پہلی بار رضوا سکو دیکھنے گیا تھا ”
” مگر اس وقت وہ دنیا سے بےخبر سو رہی تھی اور آج اسکے انتظار میں بیٹھی تھی ”
” اس پر نظر پڑتے ہی کاوش کی مسکراہٹ گہری ہوئی تھی”
” وہ دروازہ لاک کرتا اسکی طرف بڑھا تھا ”
” اسکو اپنی طرف بڑھتا دیکھ رضوا خود میں سمٹی تھی اسکا جھکا سر مزید جھک گیا تھا ”
” کیا بات ہے اج میری جاناں کو کچھ زیادہ ہی شرم آ رہی ہے”
” وہ اسکے قریب بیٹھ کر اسکا چہرہ اوپر کرتا ہوا بشوخ لہجے میں بولا ”
” پتہ نہیں کیوں رضوا میں ہمت نہیں ہو رہی تھی اسکی طرف دیکھنے کی ”
” پتہ ہے رضوا میرے لئے یہ سب ایک خواب کی طرح ہے کیونکہ میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ سب یس طرح سے بھی ھو جائے گا ”
” وہ اسکے مہندی سے سجے ہاتھوں پر اپنے لب رکھتا ہوا محبت سے بولا تو رضوا کے ہونٹوں پہ شرمیلی سی مسکراہٹ آئی تھی ”
”اس نے بھی کہا سوچا تھا کہ یہ سب ‘
” جس طرح سے وہ اسکو لیکر چلا گیا تھا اسکے بعد تو یہ سب ممکن ہی نہیں تھا ”
” یار میں ہی بول رہا ہوں تم بھی کچھ بولو نہ ”
” اسکو خاموش دیکھ کر وہ پھر سے بولا ”
” میں کیا بولوں ?
” بہت آہستہ آواز میں جواب دیا گیا تھا ”
” اپنی محبت کا اظھار ہی کر دو ویسے بھی تم نے اب تک بتایا نہیں کہ تم مجھ سے کتنا پیار کرتی ہو ”
” وہ بہت نرمی سے اسکا رخسار سہلاتا ہوا بولا آنکھوں میں اس وقت اس سے بہت کچھ سننے کی چاہ تھی ”
” اظھار کرنا ضروری ہے کیا آپکو میری آنکھوں میں اپنے لئے میری محبت نہیں نظر آتی ”
” اس بار وہ اسکی آنکھوں میں دیکھ کر بولی تو کاوش کھل کر مسکرایا تھا ”
” ہاں ضروری ہے اگر وہ اظھار عملی ھو تو ”
” وہ اسکے سر سے دوپٹہ ہٹا کر اسکو سائیڈ پر رکھتا ہوا بولا”
” رضوا کو اپنے ہاتھوں میں کپکپاہٹ سی محسوس ہوئی تھی’
”’ کیا ھوا جاناں میں انتظار کر رہا ہوں ”
” وہ اسکے ریڈ لپ سٹک سے سجے ہونٹوں پر نظریں جمائے بولا ”
” اسکی بات سوں کر رضوا تیزی سے دھڑکتے دل کے ساتھ مزید اسکے قریب ہوئی اور جھک کر اپنے کپکپاتے ہوئے لب اسکے سینے پر رکھ دئے تھے ”
” اسکے اتنے خوبصورت اظھار پر کاوش کی مسکراہٹ گہری ہوئی اور اس نے رضوا کو اپنی باہوں میں بھر لیا تھا ”
” تمہارا ہر ایک انداز میں اپنا دیوانہ بناتا ہے رضوا مجھے لگتا ہے خ میں تمہارے عشق میں پاگل نہ ہو جاؤں ”
” وہ خمار آلودہ لہجے میں کہتا اسکی گردن پر اپنے لب رکھ چکا تھا ”
” کاوش ”
” اسکا نرم گرم لمس محسوس کر کے رضوا نے بہت ہی آہستہ آواز میں اسکو پکارا تھا ”
” اور جب تم مجھے ایسے پکارتی ہو تو مجھے خود پر قابو پانا مشکل ہو جاتا ہے …بہت مشکل ”
” وہ مزید اس پر جھکتا چلا گیا تھا ”
” رات بھر وہ اسکی پیار کی بارش میں بھیگتی رہی تھی ”
💕💕
” وہ جیسے ہی کمرے میں داخل ہوا تو سامنے کا منظر دیکھ کر اسکا منہ کھلا کا کھلا ہی رہ گیا تھا ”
” منال بڑی آرام سے ڈریسنگ کے سامنے کھڑی اپنی جیولری اتار رہی تھی ”
” یہ کیا کر رہی ہو تم’
” وہ تیزی سے اسکی طرف بڑھا تھا ”
” کیا کرتی سخت گرمی لاگ رہی ہے مجھے ان سب چیزوں میں اس لئے اتار رہی ہوں ”
” منال اسکے چہرے کی حیرانی کو نظرانداز کرتی اپنی چوڑیاں اتارتی ہوئی بولی ”
” جبکہ اسکا جواب سن کر حیدر کہ دل کیا کہ اپنا سر پیٹ لے”
” یار کم از کم میرے آنے تک کا تو انتظار کر لیتی میں نے تو ٹھیک سے دیکھا بھی نہیں تھا تمھیں ”
” اسکا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ منال کو اچھا سبک سکھاتا اسکی اس کروائی سے ”
” کتنا خوش تھا وہ مگر اس پاگل لڑکی نے اسکی خوشی پل میں ختم کی تھی ”
” کیا ٹھیک سے نہیں دیکھا تم نے ہزار بار کا دیکھا ہوا ہے مجھے آج ایسی کیا خاص بات تھی ”
” وہ لاپرواہی سے کہتی اپنی ساری جیولری اتار چکی تھی ”
” حیدر بس خاموش نظروں سے اسکو دیکھتا رہا ”
” ہاں مجھے یاد آیا تم نے اب تک مجھے منہ دکھائی بھی نہیں دی ہے لاؤ میری منہ دکھائی دو آج تو حق بنتا ہے تمہارا دینے کا ”
” منال کے یکدم سے یاد آنے پر وہ اسکی طرف پلٹی اور اپنا ہاتھ اسکے سامنے کیا تھا ”
” کیسی منہ دکھائی ہزار بار کا تو دیکھا ہوا ہے تمہارا چہرہ”
” وہ بھی بلکل اسی کے انداز میں بولا تو منال اسکا منہ دیکھ کر رہ گئی تھی ”
” کتنے کنجوس ہو تم حیدر ایک تحفہ بھی نہیں دے سکتے مجھے ”
” وہ اس انداز میں بولی کہ اسکی شکل دیکھ کر حیدر کی ہنسی نکل گئی تھی ”
” تحفہ تو میں دوں گا تمھیں لیکن پہلے اپنا بدلہ تو لے لوں بہت ہنس رہی تھی نہ تم اس دن ”
” وہ منال کو ایک جھٹکے میں اپنی طرف کھینچتا ہوا بولا تو وہ سیدھا اسکے سینے سے آ لگی تھی ”
” جبکہ اسکی بات سن کر منال کو اس دن منظر یاد آتے ہی اپنی ہنسی روکنا مشکل ہو گیا تھا ”
” ویسے اس دن تمہاری حالت دیکھنے والی تھی ”
‘ وہ پھر سے اسکا مذاق بنا رہی تھی ”
” تم بہت بولنے لگی ہو آج تمہارا علاج کرنا ہی پڑے گا اچھے سے ”’
” وہ اسکو اپنی باہوں میں اٹھاتا ہوا شرارت سے بولا تو منال کو اب اپنی غلطی کا احساس ہوا تھا ”
” پہلے میرا تحفہ تو دو مجھے ”
” منال کو پھر سے اپنے تحفے کا خیال آیا تھا ‘ ‘
” وہ تو تم اب صبح کو لینا کیونکہ اب میں صرف تمھیں اپنی محبت دینا چاہتا ہوں ”
” وہ آنکھوں میں تپیش لئے اسکی طرف دیکھ کر بولا اور بیڈ کی طرف بڑھا تھا ”
” منال نے شرما کر اسکے سینے پر اپنا سر رکھ لیا وہ جانتی تھی فرار کی رہ اب ممکن نہیں ہے ”
💕💕
(پانچ سال بعد )
” رضوا تم نے سنا نہیں میں کیا کہہ رہا ہوں فورا سے یہاں آؤ ”
” ورنہ میں وہاں آ گیا تو اچھا نہیں ہوگا ”
” کاوش سخت نظروں سے بارش میں بھیگتی رضوا کو دیکھ کر غصّے سے بولا تھا ”
” مگر وہ تھی کہ اس پر کوئی کوئی اثر نہیں پڑ رہا تھا ”
” نہیں مجھے نہیں آنا آپ بھی آ جایں نہ کاوش دیکھیں کتنی اچھی بارش ھو رہی ہے ..
” وہ کاوش کی گھورتی نظروں کو نظرانداز کئے کھڑی بڑے آرام سے بارش کا مزہ لیتے ہوئے بولی ”
” اسکا جواب سن کر کاوش کو یکدم سے غصّہ آیا تھا وہ تیزی سے آگے بڑھا اور اسکے بھیگے وجود کو اپنی باہوں میں اٹھا کر اندر کی طرف بڑھا تھا ”
” کاوش یہ کیا کر رہے ہیں مجھے نیچے اتاریں ڈر لگ رہا ہے مجھے ..
” رضوا تھوڑا ڈرتی ہوئی بولی مگر وہ اسکی بات کو ان سنی کرتا اپنے بیڈروم میں لے آیا تھا ”
” تمھیں ایک بات جو سہی سے سمجھ نہیں آتی ہے اس لئے اپنا طریقہ اپنانا پڑتا ہے مجھے ”
” بارش میں بھیگ کر تمھیں کیا ملے گا اپنا نہیں کم از کم اپنے اندر موجود اس ننھی سی جان کا تو خیال کر لو ”
”وہ اسکو بیڈروم میں لاکر نیچے اتارتا ہوا بولا اور وارڈراب کی طرف بڑھا تھا ”
” وہ دوسری بار ایکسپیکٹ کر رہی تھی مگر اپنا ذرا بھی خیال نہیں رکھتی تھی ”
” اسکی یہی باتیں کاوش کو غصّہ دلاتی تھی لیکن وہ اسکو کچھ کہہ بھی نہیں سکتا تھا ”
” پچھلے پانچ سالوں میں کاوش کی محبت نے اسکو پوری طرح سے بدل دیا تھا ”
” اب وہ ڈری سہمی رضوا سے ضدی رضوا بں چکی تھی اور کاوش کبھی کبھی اسکی اس عادت سے بری طرح پریشان ہو جاتا تھا مگر کیا کر سکتا تھا اسکو ایسا بنانے میں اسکا پورا پورا ہاتھ جو تھا ”
” آرام سے بولیں نہ کاوش سدرہ اٹھ جائے گی ”
” وہ ایک نظر بیڈ پر سوئی اپنی بیٹی کی طرف دیکھ کر محبت سے بولی جو تین مہینے بعد پورے چار سال کی ہونے والی تھی .
اسکی بات سے کاوش کو یکدم سے اپنی غلطی کہ احساس ہوا تھا ‘
” تم کام ہی ایسے کرتی ھو یار سچ میں کبھی کبھی میں بہت پریشان ہو جاتا ہوں ..
کیا ضرورت تھی تمھیں ایسے بارش میں بھیگنے کی”
” وہ اسکو اپنے ساتھ صوفہ پر بیٹھا کر ٹاول سے اسکے بال خشک کرتا ہوا بولا ”
” اسکی اتنی فکرمندی پر رضوا ہولے سے مسکرائی تھی ”
” آپ جو ھیں میرا ہر وقت خیال رکھنے کے لئے تو مجھے کیا ضرورت خود کا خیال رکھنے کی ”
” اس نے کاوش کہ دوسرا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں تھام لیا تھا ”
” ہاں لیکن میں چاہتا ہوں ان دنون تم خود بھی اپنا خیال رکھو میں ھر وقت تو ساتھ نہین رح سکتا تمہارے اور خالہ کی بھی طبیعت ٹھیک نہیں رہتی ہے اس لئے میری جان میرے لئے کر لیا کرو تھوڑا سا ”
” وہ پتہ نہیں کتنی بار اسکو یہ بات سمجھا رہا تھا ”
” تو میں اس لئے تو کہتی ہوں آپ کچھ دن کے لئے جانے دیں نہ مجھے ڈیڈ کے پاس کچھ دن آپ بھی سکون سے رہ لینا ”
” وہ پھر سے اپنی بات منوانا چاہ رہی تھی جو کاوش ہرگز ماننے کو تیار نہیں تھا ”
” رضوا میں کتنی بار کہہ چکا ہوں اور اب بھی کہہ رہا ہوں میں تمھیں اتنے دن کے لئے خود سے دور نہیں کر سکتا ”
” میں جب بھی آفس سے واپس آؤ تو میری یہی خوائش ہوتی ہے کہ سب سے پہلے تمھیں اور اپنی بیٹی کو دیکھوں ”
” وہ ایک نظر بیڈ پر لیٹی اپنی چار سالہ بیٹی کی طرف محبت سے دیکھ کر بولا ”
” میرا دن تمھیں دیکھ کر شروع ہوتا ہے اور تمہیں دیکھ کر ختم اس لئے میں تمھیں نہیں بھیج سکتا چاہے تمہاری وجہ سے آفس بھی جانا چھوڑ دوں ”
” اس بار اسکی بات پر رضوا کھل کر مسکرا دی تھی ”
” ویسے تمھیں کیا لگتا ہے اس بار ہمارے گھر کون آئے گا بیٹا یہ بیٹی ”
” وہ اسکی طرف دیکھتا ہوا شرارت سے بولا ”
” میں تو چاہتی ہوں بیٹا ہی آئے کیونکہ بیٹی تو آپکی دیوانی ہے کم از کم میرا بیٹا تو مجھ سے محبت کرے گا ”
” وہ منہ بناتی ہوئی بولی تو کاوش کو اسکا چہرہ دیکھ کر ہنسی آ گئی تھی ”
” کیونکہ وہ سچ ہی تو کہہ رہی تھی سدرہ اس سے زیادہ کاوش کے پاس رہتی جب وہ آفس سے واپس آتا تو وہ اسکے پاس آتی بھی نہیں تھی ”
” اور رضوا اسکے اس طرح سے بدل جانے پر بس اسکو دیکھتی رہ جاتی تھی ”
” ” وہ میری دیوانی اس لئے ہے کیونکہ اسکے بابا اسکی مام کے دیوانے ہیں ..
اسکی مام سے اتنی محبت کرتے ہیں تو بس وہ مجھ سے محبت کرتی ہے تم سے زیادہ ”
” وہ محبت سے اسکی چھوٹی سی ناک کو چومتا ہوا بولا تو رضوا خفگی سے اسکی طرف دیکھنے لگی ”
” آپکا مطلب ہے میں آپ سے محبت نہیں کرتی ہوں ”
” وہ پل میں اس سے دور ہوئی تھی ”
” کرتی ہو کیوں نہیں کرتی بس کبھی کبھی مجھے خود ہی تم سے زبردستی اظھار کروانا پڑتا ہے ”
‘ وہ اسکو پھر سے اپنے قریب کرتا ہوا بولا ”
” وہ اس لئے کیونکہ میری محبت آپکی محبت سے الگ ہے آپکی محبت کو اظھار چاہئے اور مجھے صرف آپ ”
رضوا نے کہتے کے ساتھ ہی اپنا سر اسکے سینے پر رکھ دیا تھا”
” وہ تو میں ہوں تمہارا اور کتنا ہوں اس پر بعد میں بات کرتے ہیں پہلے تم جاکر چینج کرکے آؤ باتوں باتوں میں مجھے خیال ہی نہیں رہا اس بات کا ”
” وہ یکدم سے اسکو اٹھاتا ہوا بولا تو اسکی بات سن کر رضوا جلدی سے واشروم میں گھس گئی تھی ”
” جانتی تھی کہ اگر دیر کرے گی تو یقیناً اسکی ڈانٹ سننے کو ملے گی ”
” اسکے جانے کے بعد کاوش بیڈ پر سوتی اپنی بیٹی کے پاس آیا اور نرمی سے اسکے رخسار کو چھو کر وہیں اسکے قریب لیٹ کر رضوا کا انتظار کرنے لگا ”
💕💕
” منال ”
” منال یار جلدی سے روم میں آؤ ”
” وہ کچن میں کھڑی ملاذمہ کے ساتھ مل کر کام کر رہی تھی جب حیدر کی آواز پر اسکے تیزی سے چلتے ہاتھ رکے تھے ”
” پتہ نہیں اب کیا نہیں مل رہا ہوگا ”
” بوا آپ یہ سب دیکھو میں ذرا ابھی آتی ہوں ”
” وہ ملاذمہ کو ہدایت دیتی کچن سے نکل کر اپنے بیڈروم کی طرف بڑھی تھی ”
” ابھی تھوڑی دیر پہلے تو وہ اسکو فائل دیکر آئی تھی جو اسکو مل نہیں رہی تھی اب پھر سے اسکے بلانے پر جھنجھالا گئی تھی ”
‘ وہ ہمیشہ ہی جب بھی گھر پر ہوتا اسکو ایسے ہی پریشان کرتا رہتا تھا منال بس اپنا غصّہ ضبط کرکے رہ جاتی تھی جب وہ چھوٹی چھوٹی چیزوں کے لئے بھی اسکو آواز دیتا تھا”
” وہ بیڈروم کے باہر سے آتی رونے کی آواز سن سمجھ گئی تھی کہ اسکے دونوں شیطان اٹھ چکے ہیں اور حیدر صاحب سے انکو سمبھالا نہیں جا رہا ہوگا ”
” وہ مسکراتی ہوئی جیسے ہی کمرے میں داخل ہوئی تو اسکا منہ حیرانی سے کھلا رہ گیا ”
” ابھی کچھ دیر پہلے تو روم کی صفائی کر کے گئی تھی مگر اب وہ کہیں سے بھی صاف نظر نہیں آ رہا تھا ”
” حیدر آپنے یہ کیا حالت بنہ رکھی ہے روم کی میں ابھی تو صاف کرکے گئی تھی ”
” وہ ادھر ادھر بکھری پڑی ہوئی چیزوں کو دیکھ کر بولی جبکہ حیدر بیڈ پر بیٹھا اصد اور احمد کو چپ کرانے کی اپنی ناکام سی کوشش کر رہا تھا ”
” حیدر اور منال کے یہاں دو جڑوا بیٹوں کی پیدائش ہوئی تھی تھی وہ سدرہ سے تین مہینے بڑے تھے ”
” اچھا ہوا یار تم آ گئی یہ دونوں جب روتے ہیں تو چپ ہونے کا نام ہی نہیں لیتے اب تم سمبھالو انہیں ”
” وہ ایک نظر زور شور سے روتے اپنے بیٹوں کی طرف دیکھ کر بولا تو منال اسکی بات سن کر بس ایک گہرا سانس بھر کر رہ گئی تھی ”
” اس نے پہلے ایک کو چپ کروایا پھر دوسرے کو حیدر کی گود سے لیکر چپ کروانے لگی ”
” وہ دونوں منال کے پاس آتے ہی یکدم سے چپ ہو گئے تھے اور پھر کچھ ہی دیر میں وہ انکو پھر سے سلا چکی تھی ”
” حد ہے حیدر آپ سے تو ایک کام بھی ٹھیک سے نہیں ہوتا اپنے بچوں تک کو سمبھال نہیں سکتے ہو ”
” منال دونوں کے اوپر کمفرٹر ٹھیک کرتی ہوئی بولی تھی ”
” گزرے سالوں میں منال پر کافی ذمہ داری بڑھ چکی تھی اپنے بیٹوں کی وجہ سے کیونکہ ان دونوں کو صرف منال ہی سمبھال پاتی تھی ”
” اب میں کیا کہہ سکتا ہوں یار جب ان دونوں شیطانوں کو بھی تمہارے پاس آکر ہی سکون ملتا ہے اپنے باپ کی طرح ”
” وہ اسکو پیچھے سے اپنی باہوں کے حصار میں لیتا ہوا بولا اور اسکے کندھے پر اپنے لب رکھے تھے ”
” کیا کر رہے ہو حیدر چھوڑو مجھے کچن میں بہت سارا کام باقی ہے میرا ”
” اسکو رومینٹک موڈ میں آتا دیکھ منال نے خود کو اسکی گرفت سے آزاد کرنا چاہا مگر اسکی پکڑ مضبوط تھی ”
” کام تو ہوتے رہیں گے کبھی کبھی تو تم ہاتھ لگتی ہو ورنہ تمھیں تو اپنے اس بیچارے شوہر پر بلکل رحم نہیں آتا ”
” وہ اس وقت اسکو چھوڑنے کے موڈ میں بلکل نہیں تھا ”
” نہیں مجھے فلحال تم پر کوئی رحم نہیں کرنا ہے اسلئے چھوڑو مجھے ”’
” منال نے اسکی باہوں کے حصار سے نکلنا چاہا مگر مگر اس بہار حیدر اسکا رخ اپنی طرف کر چکا تھا اور ساتھ میں اسکی کمر پر اپنی پکڑ سخت کی تھی ”
” چلو مجھ پر نہ سہی اپنے بیٹوں پر تو رحم کر لو وہ تمھیں اس لئے پریشان کرتے ہیں کیونکہ انہیں اب اپنے ساتھ کھیلنے کے لئے ایک بہن چاہئے ”
” وہ باری باری اسکے رخسار پر اپنے لب رکھتا ہوا شرارت سے بولا ”
” نہیں بلکل بھی نہیں ان دونوں نے ہی مجھے اتنا پریشان کر رکھا ہے ”
” اسکی بات سن کر منال فورا سے بولی ان دونوں شیطانوں نے ہی اسکی ناک میں دم کر رکھا تھا وہ ایک اور کی بات کر رہا تھا ”
” نہ نہیں ہاں بولو کیونکہ میں نے تو سوچ رکھا ہے کہ کم از کم چار پانچ بچے تو ہو ہمارے ”
” اسکی بات سن کر منال کی آنکھیں حیرت کے مارے کھلی کی کھلی رہ گئی تھی ”
” کیا ہوا کم لگ رہے ہیں ..
چلو چار نہیں سات بچے ٹھیک رہے گے نہ ?
” وہ اپنی مسکراہٹ کو بمشکل ضبط کرتا ہوا بولا تو اسکے چہرے پر ہنسی دیکھ کر منال نے اسکے سینے پر اپنا نازک ہاتھ مارا تھا ”
” بس یہ دو کافی ہیں مجھ سے اور نہیں سمبھالے جائے گے”
” وہ بیچارہ سا بنہ کر بولی تو حیدر کو اسکی شکل دیکھ کر اس پر بہت پیار آیا تھا ”
” چلو سات نہیں پر مجھے ایک بیٹی تو ضرور چاہئے جو بلکل تمہاری طرح ہو ”
” حیدر محبت سے اسکی طرف دیکھتا ہوا بولا اور اسکے ہونٹوں پر جھک گیا تھا ”
” کتنے ہی لمحے وں دونوں کے بیچ یوں ہی خاموشی سے گزر گئے ”
” وہ اسکے لبوں کو آزاد کرتا ہوا اسکی گردن پر جھکا ہی تھا جب کمرے کی معنی خیز خاموشی میں رونے کی آواز گونجی تھی ”
” ایک بعد جب دوسری آواز آئی تو دونوں یکدم سے دور ہوئے تھے ”
” ان شیطانوں کو بھی ابھی اٹھنا تھا ”
” حیدر سخت بدمزہ ہوا تھا ”
” جبکہ اسکی بات سن کر منال مسکراتی ہوئی پھر سے اپنے شہزادوں کی طرف بڑھی تھی اور حیدر ٹھنڈی آہ بھرتا صوفہ پر اپنا لیپ ٹاپ لیکر بیٹھ گیا ”
” اسکو معلوم تھا کہ وہ دونوں اب اتنے جلدی سے سونے والے نہیں تھے ”
💕💕
” لاؤ منال میں تمہاری کچھ ہیلپ کر دیتی ہوں ”
” رضوا کچن میں داخل ہوتے ہی کام میں مصروف منال سے مخاطب ہوئی تھی ”
” ارے رضوا تم یہاں کیا کر رہی ہو جاؤ جاکر آرام سے سب کے ساتھ بیٹھو میں اس حال میں تم سے کام کرواتی ہوئی اچھی لگوں گی ”
” اسکو کچن میں کھڑا دیکھ کر منال فورا بولی ”
” آج سنڈے تھا اور وہ لوگ ہفتے میں ایک دن ساتھ گزارتے تھے ”
” یہ آئیڈیا بھی منال اور رضوا کا ہی تھا اس طرح سے سب ایک ساتھ بھی ہو جاتے تھے ”
” اور پھر اس بات سے کس کو اعتراض ہوتا یوں گزرے سالوں میں وہ لوگ ہر ہفتے اسی طرح ایک دن ساتھ میں گزارتے تھے”
” میں باہر بیٹھی بیٹھی بور ہو گئی ہوں ”
” نمرہ خالہ اور ڈیڈ اپنی باتیں کر رہے ہیں اور کاوش اور بھائی کی اپنی بزنس کی باتیں ”
” تینوں بچے ساتھ کھیل رہے ہیں ”
” رہ گئی میں تو یھاں تمہارے پاس آ گئی ”
” رضوا نے تفصیل سے سبکی مصروفیت بتائی تھی ”
” میں نے سوچا کہ میں یہاں آکر تمہاری تھوڑی ہیلپ کر لونگی مگر تم بھی مجھے یہاں سے جانے کا کہہ رہی ہو ”
وہ منال کی طرف شکوہ بھری نظروں سے دیکھ کر بولی
تو منال کو یکدم سے اس پر بہت پیار آیا تھا ”
” اگر میں نے تمھیں کوئی کام دے دیا نہ تو کاوش میری کلاس لیگا کہ میں اسکی بیوی سے کام کروا رہی ہوں ”
” منال یہ بات بہت اچھے سے جانتی تھی کہ کاوش رضوا سے کوئی کام نہیں کرواتا ہے ”
” ہاں ہاں میں تو بھول ہی گئی تھی آخر تم ھو تو انکی ہی بہن ”
” وہ منہ بناتی ہوئی بولی تو منال کو یکدم سے ہنسی آئی تھی ”
” چلو یار تم مجھ سے ناراض نہ ہو ویسے بھی کام تو سب مکمل ہو ہی چکا ہے ”
” چلو ہم بھی اب باہر سب کے ساتھ ملکر بیٹھتے ہیں ”
” منال اسکو پیار سے مناتی ہوئی اپنے ساتھ لیکر لاؤنج کی طرف بڑھی تھی ”
” مگر لاؤنج کا منظر دیکھ کر منال نے گہرا سانس بھرا تھا”
” اصد اور احمد دونوں بری طرح سے رونے میں لگے ہوئے تھے ”
” جنکو یاسر صاحب نمرہ بیگم اور حیدر چپ کرانے کی کوشش کر رہے تھے ”
اس نے گردن موڑ کر ایک نظر رضوا کی طرف دیکھا جو اسی کی طرف دیکھ کر مسکرا رہی تھی ”
” کس نے رلایا میرے شہزادوں کو ”
منال بری طرح سے روتے ہوئے اپنے بیٹوں کی طرف بڑھی تھی”
” تمہارے شہزادے میری بیٹی کو پریشان کر رہے تھے میں نے انکے پاس سے اپنی بیٹی کو اٹھا لیا تو رونا شروع ہو گئے”
” کاوش سدرہ کو گود میں لئے بڑے مزے سے اپنا کارنامہ بتا رہا تھا ”
” جبکہ اسکی بات سن کر منال نے گھور کر اسکی طرف دیکھا تھا ”
” میرے بیٹے اتنے شرارتی نہیں ہے وہ تو بس اپنی بہن کے ساتھ کھیلنا چاہتے ہیں ”
” اپنی بیٹی کو لیکر اتنا سینسیٹو ہونا اچھا نہیں ہے ”
” وہ لڑاکا عورتوں کی طرح سے اس سے لڑنے لگی اور ایسا ہمیشہ ہوتا تھا ”
” اور وہ چاروں بس ان دونوں کو لڑتے ہوئے دیکھتے رہتے تھے”
” وہ اسکے ساتھ کھلتے نہیں ہے میری بیٹی کو رلاتے ہیں ”
” وہ منال کی طرف دیکھ دیکھ کر بولا جو انکو چپ کروا رہی تھی اور پھر اپنی گاڈ میں موجود اپنی بیٹی کے رخسار کو چوما تھا جو معصومیت سے ان دونوں کو لڑتے ہوئے دیکھ رہی تھی “
” ہاں وہ تو مجھے دیکھ رہا ہے کون رو رہا ہے اور کون رلا رہا ہے ”
” اس نے باری باری اپنے بیٹوں کو پیار کیا مگر انکی نظریں ابھی بھی کاوش کی گود میں موجود سدرہ پر ہی تھی ”
” جبکہ دونوں کی باتوں پر حیدر اور رضوا بس مسکرا دئے تھے وہ ہمیشہ ایسے ہی لڑتے پھر کچھ دیر بعد ٹھیک بھی ھو جاتے تھے ”
” چلو بیٹا منال یہ لڑائی ختم کرو اب اور جاؤ کھانا لگواؤ مجھے تو بہت بھوک لاگ رہی ہے اب ”
” یاسر صاحب کی بات پر منال کا غصّہ کچھ کم ہوا تھا جبکہ کاوش کھڑا ابھی بھی اسکو دیکھ کر مسکرا رہا تھا ”
” ٹھیک ہی ڈیڈ میں ملاذمہ سے کہتی ہوں ابھی جاکر ”
” منال انکو جواب دیکر کچن کی طرف بڑھی تھی ”
” اور پھر کچھ ہی دیر بعد بہت خوشگوار ماحول میں وہ لوگ کھانا کھانے کھانے لگے ”
” منال کاوش کی پلیٹ میں بریانی اتار رہی تھی کچھ دیر پہلے والا غصّہ اسکے چہرے پر کہیں نہ تھا ”
” ان دونوں کو یوں باتیں کرتا دیکھ سب اس بار زور سے ہنس دئے تھے ”
” سب کو یوں ہنستا مسکراتا دیکھ یاسر صاحب کو اپنے اندر ایک سکون سا اترتا ہوا محسوس ہو رہا تھا ”
” انہوں نے ایک غلطی کی تھی مگر انہیں موقع ملا تھا اپنی غلطی کو صحیح کرنے کا اور یہ موقع انہوں نے جانے نہیں دیا تھا ”
💕💕💕
ختم شد
💕💕💕💕
