103.8K
25

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 5

‘ ” وہ بس اسٹینڈ پر کھڑی بس کا انتظار کر رہی تھی لیکن بس تھی کہ آنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی ..
“‘ ” اس نے اپنی ہاتھ پر بندھی گھڑی میں ٹائم دیکھا تو سات بج رہے تھے ..
” ‘ ٹائم دیکھ کر اسکی پریشانی مزید بڑھی تھی
مطلب وہ پچھلے آدھے گھنٹے سے یہاں کھڑی تھی اب تک تو وہ اپنے گھر کے قریب ہوتی ..
” ‘ اففف ….منال تم کام جلدی کرنا سیکھ لو اب دیکھو کتنی دیر ہو گئی ہے
دوسرا امی بھی گھر پر پریشان ہو رہی ہونگی ..
” ‘ اسکو اپنی ماں کی فکر ہوئی تھی ..
” آج کمپنی میں کام زیادہ تھا جسکو کرتے کرتے وہ کافی لیٹ ہو چکی تھی ..
” ‘ اس نے آس پاس نظر دوڑائی مگر بس کا نام و نشان تک نہ تھا ..
” ‘ آج یقینن امی نے گلا دبا دینا ہے میرا
انکو ویسے ہی اسکا جاب کرنا پسند نہیں تھا اور اوپر سے دیر سے آنے پر وہ روز اس پہ غصّہ کرتی تھی..
” ‘ وہ دوسری جانب دیکھ رہی تھی کہ ایک کار اسکے قریب آکر رکی تھی ..
منال ڈر کر دو قدم پیچھے ہوئی تھی …
‘ ” کار کا دروازہ کھول کر حیدر باہر نکلا تو اسکو دیکھ کر منال کے ماتھے پر بل پڑ گئے تھے وہ اسکو نظر انداز کرتی اپنی رخ دوسری جانب کڑ چکی تھی…
“‘ ‘ میری کار میں بیٹھو میں تمھیں گھر چھوڑ دیتا ہوں..
” ‘ وہ اسکی پشت پر کھڑا ہوکر اس سے مخاطب ہوا تھا ..
‘ ” نہیں شکریہ میری بس آنے والی ہے میں چلی جاؤں گی ..
” ‘ وہ اک نظر اسکو دیکھ کر بیزاری سے بولی اور اپنی رکھ پھر سے سامنے کیا تھا …
” ‘ میں کہہ رہا ہوں نہ کہ چل کر کار میں بیٹھو میں تمھیں چھوڑ آتا ہوں ..
” ووہ پھر سے حقم دینے والے انداز میں بولا تو اسکے اس انداز سے منال کا خون کھول اٹھا تھا ..
” ‘ مسٹر حیدر علی صاحب یہ سڑک ہے آپکا آفس نہیں کہ آپ یہاں کھڑے ہو کار بھی حقم چلا رہے ہیں
جب میں نے کہہ دیا ہے کہ میں چلی جاؤں گی تو آپکو فکر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں …
” ‘ وہ اپنی بات کہہ کر آگے بڑھی تھی مگر حیدر اسکی کلائی تھام کر اسکو دور جانے سے روک چکا تھا …
” ‘یہ کیا حرکت ہے ہاتھ چھوڑو میرا ..
” حیدر کی اس ہمت پر منال کے ماتھے پر بل کے ساتھ ساتھ آنکھوں میں بھی غصّہ آیا تھا ..
” ‘ جب میں بول رہا ہوں میرے ساتھ چلو تو بات سمجھ نہیں آتی ہے تمھیں ..
” اگر بس کے انتظار میں کھڑی رہی تو رات یہیں گزر جانی ہے تمہاری ..
” ‘ تو آپکو اس سے کیا پرابلم ہے میں چاہے رات تک یہیں کھڑی رہوں ..
” وہ آنکھوں میں غصّہ لئے اسکو دیکھ رہی تھی ..
” ‘ جبکہ حیدر بہت ہ دلچسپی سے اسکو دیکھ رہا تھاوہ اسکو ہر انداز میں خوبصورت لگتی تھی
اسکی غصّے سے لال ہوتی آنکھیں حیدر علی کا قتل کرنے کے لئے کافی تھی …
” ‘ آپکو شاید سنائی دینا بند ہو گیا ہے
میں نے کہا کہ میرا ہاتھ چھوڑیں ..
اس نے کہنے کے ساتھ ساتھ اسکی گرفت سے اپنی کلائی آزاد کرنی چاہی مگر مقابل کی گرفت مضبوط تھی ..
‘ ” سنائی تو نہیں ہاں جب سے تمھیں دیکھا ہے کوئی اور دکھائی ہی نہیں دیتا ہے مجھے ..
” وہ اسکے چہرے کو بہت ہی محبت سے دیکھتا ہوا بولا اور ایک قدم مزید اسکے قریب ہوا تھا ..
” ‘ مجھے ان لڑکیوں میں سے بلکل مت سمجھنا جو آپکے آگے پیچھے پھرتی ہیں …
اور میرا ہاتھ چھوڑیں ورنہ میں شور مچانہ شروع کر دوں گی اور پھر آگے جو ہوگا یہ آپ بہتر جانتے ہیں…
” ‘ وہ مسلسل اپنی کلائی آزاد کرانے کی کوشش کر رہی تھی جبکہ حیدر آرام سے کھڑا اسکو محنت کرتے دیکھ رہا تھا ..
‘ ” مچاؤ شور مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا
کیونکہ میں حیدر علی ہوں ..
اور حیدر علی کسی سے نہیں ڈرتا ..
وہ اسکی آنکھوں میں دیکھ کر مضبوط لہجے میں بولا تھا ..
” ‘اسکی بات سن کر منال خاموشی سے اسکی طرف دیکھ کر رہ گئی تھی ..
” ‘ اب چپ چاپ چلو اور کار میں بیٹھو ورنہ یہ کام میں خود بھی کر سکتا ہوں ..
جسکو کرتے ہوئے مجھے تو کوئی پرابلم نہیں ہوگی..
وہ شرارتی انداز میں بولا تو منال اسکو گھور کر رہ گئی تھی ..
” ‘ منال نے اک نظر ادھر ادھر دیکھا اسکو آپ پاس کوئی نظر نہیں آیا تھا …
سنسان سڑک تھی ..
مطلب وہ جو کہہ رہا تھا کر بھی سکتا تھا ..
” ‘چلیں مس …
وہ اسکی کلائی آزاد کرتا ہوا بولا اور اسکو کار میں بیٹھے کا اشارہ کیا ..
منال بیچاری اکیلی لڑکی اوپر سے اسکی باتیں سن کر مجبوری میں اسکی کار میں آ بیٹھی تھی ..
‘ ” اگر کوئی اور وقت ہوتا تو وہ کبھی اسکی کار میں نہ بیٹھتی بس اسکو اپنی ماں کا پریشان چہرہ یاد آیا تھا ..
‘ ” حیدر اک نظر خاموش بیٹھی منال پر نظر ڈال کر کار سٹارٹ کر چکا تھا ..
💕💕
‘ “.منال جلدی سے وہ سامنے دیکھو ..
ایشا اپنے ساتھ چلتی منال کو اشارے سے سامنے دیکھنے کو کہا ..
‘ ” کہاں آپی کیا دیکھوں ?
” وہ اپنی بہن کی بات سمجھ نہیں پائی تھی ..
” ‘ ارے وہ دیکھو سامنے اس بلیک کار کے پاس جہاں دو عورتیں کھڑی ہیں ..
” ایشا اسکو تفصیل سے بتانے لگی کیونکہ بھیڑ میں وہ اسکو انگلی سے اشارہ نہیں کر سکتی تھی ..
” کیونکہ سامنے والے کا دیکھنے کا ڈر تھا “
” ‘ اچھا وہ کار ..
ہاں کار تو اچھی ہے ..
لیکن آپی ہم اتنی مہنگی کار نہیں خرید سکتے ہیں ..
‘ ” وہ معصومیت سے بولی تو ایشا اسکی بات پر مسکرا دی تھی ..
‘ ” پاگل وہ کار نہیں اس کار کے پاس کھڑے لڑکے کو دیکھو ..
ایشا نے اسکی توجہ اس لڑکے کی طرف دلائی تھی.
‘ ” ایشا کے کہنے پر منال نے اس لڑکے کو دیکھا جو کار کے پاس کھڑا کسی سے فون پر بات کر رہا تھا..
‘ ” یہ ہی وہ لڑکا جسکے بارے میں میں تمھیں بتاتی ہوں ..
پتہ ہے ہماری یونی کا سب سے ہینڈسم لڑکا ہے ہر لڑکی اسکے آگے پیچھے گھومتی رہتی ہے مگر یہ کسی سے بات تک نہیں کرتا …
‘ ” جبکہ مجھسے بہت اچھے سے ملتا ہے بات کرتا ہے ..
میری بہت بار مدد بھی کی ہے ..
‘ ” پتہ ہے منال مجھے کبھی کبھی لگتا ہے کہ وہ مجھے ..
‘ “”ہاں ہاں جانتی ہوں آپکو لگتا ہے کہ وہ آپکو پسند کرتا ہے ..
اس لئے ہر وقت آپکی مدد کے لئے تیار رہتا ہے یہی نہ ..
‘ ” منال نے اسکی بات بیچ میں کاٹی تھی ..
آپی میں یہ آپکے منہ سے ہر وقت سنتی رہتی ہوں پر کیا آپنے کبھی میری بات پر غور کیا جو میں آپ سے کہتی رہتی ہوں ..
‘ ” منال سنجیدگی سے اپنی بہن کی طرف دیکھ کر بولی تھی ..
منال تھی تو ایشا سے تین سال چھوٹی مگر وہ ایشا سے زیادہ سمجھدار اور عقلمند لڑکی تھی ..
‘ ” وہ یہ بات تو بہت اچھی طرح سمجھ چکی تھی کہ اسکی بہن دل ہی دل میں اس شخص کو چاہنے لگی ہے ..
‘ ” مگر اسکو شروع سے ہی اپنی بہن کی دوستی ان رئیس لوگوں کے ساتھ بلکل پسند نہیں تھی .
وہ ہر وقت اپنی بہن کو سمجھاتی رہتی تھی مگر ایشا بڑی ہونے کے باوجود سمجھدار نہیں تھی ..
‘ ” صرف وہ کرتی جو اسکو پسند ہوتا تھا ..
اور جو چیز اسکو چاہیے اسکو حاصل کرنا اسکی ضد بن جاتی تھی ..
‘ ” اور بس یہی وجہ تھی منال ہر وقت اپنی بہن کے لئے پریشان رہتی تھی کیونکہ اسکو آنے والے وقت سے ڈر لگتا تھا ..
‘” ” وہ جب بھی منال کو یونی سے آکر ساری باتیں بتاتی تو وہ بس بےدلی سے سنتی رہتی تھی مگر آخر میں اسکو ہدایت دینا نہیں بھولتی ..
‘ ” تو بتاؤ نہ کیسا لگا تمھیں ..
اسکو خاموش دیکھ کر ایشا نے اسکو پھر سے مخاطب کیا تھا ..
‘ “” ٹھیک ہے آپی ..
سب لڑکو کی طرح ہے کچھ خاص نہیں لگا مجھے ..
وہ منہ بناتی ہوئی بولی تو ایشا نے حیرانی سے اسکی طرف دیکھا تھا …
‘ ” تمہارا کچھ نہیں ہو سکتا منال اتنا ہینڈسم بندہ ہے اور تمھیں بس ٹھیک لگا ..
اسکو اپنی بہن کی بات نے حیران کیا تھا ..
‘ ” ہاں آپی ٹھیک ہے اور اب چلیں گھر دیر ہو گئی ہے امی گھر پر پریشان ہو رہیں ہونگی ..
اسکو آپ کل یونی میں بھی دیکھ لیں گی ..
‘ ” وہ ایشا کا ہاتھ کھینچتی ہوئی اسکو لیکر دوسری طرف چل دی تو ایشا بس اپنی چھوٹی بہن کو دیکھ کر مسکرا دی تھی …
💕💕
” ‘ وہ آہستہ سے قدم اٹھاتی اپنے کمرے کی طرف بڑھ رہی تھی ..
اس وقت وہ بہت تھکی ہوئی تھی ..
‘ “اسکا ارادہ کپڑے چینج کر کے آرام سے سونے کا تھا “
” ‘ تھکا ہوا ہونے کے باوجود بھی وہ آج بہت خوش تھی .
‘ “پہلی خوشی تو آج یونی میں اسکو نہ دیکھ کر ہوئی تھی ..
‘ “اور دوسرا آج یونی سے واپس آنے کے بعد حیدر اسکو اپنے ساتھ شاپنگ پر لیکر گیا تھا .
اسکو شاپنگ کا زیادہ شوک تو نہیں تھا .
‘ “” لیکن آج اس نے حیدر کے ساتھ بہت اچھا وقت گزارا تھا .
ابھی بھی وہ اسکے پاس سے ہی واپس اپنے کمرے میں جا رہی تھی “
“” وہ اپنے کمرے کا دروازہ اچھی طرح لاک کرتی اندر داخل ہوئی ..
‘ ” تم میری اتنی بات مانو گی اس بات کا مجھے بلکل اندازہ نہیں تھا ..
وہ واشروم کی طرف بڑھ رہی تھی جب اس آواز پر اسکے قدم یکدم سے رکے تھے ..
‘ ” رضوا نے مڑکر دیکھا تو اسکو اپنے سامنے کھڑا پایا …
ایک ہاتھ پینٹ کی پاکٹ میں ڈالے وہ آرام سے کھڑا اسی کو دیکھ رہا تھا ..
‘ ” اسکی آنکھوں میں ایک الگ سی چمک تھی ..
‘ ” اگر مجھے پتہ ہوتا تو کہ تم میری وجہ سے یونی گئی تو میں سب کام چھوڑ کر تمہارے پاس آ جاتا …
‘ ” وہ اسکی طرف قدم بڑھا رہا تھا ..
‘ ” لیکن کوئی بات نہیں اب میں صرف تم سے ملنے آیا ہوں ..
اسکی نظریں رضوا کے چہرے پہ جمی ہوئی تھی ..
‘ ” اسکی بات اور اسکے اپنی طرف بڑھتے قدموں کو دیکھ کر رضوا پیچھے کی طرف قدم بڑھا رہی تھی …
‘” مطلب کل رات وہ اسکا خواب نہیں تھا وہ سچ میں اسکے پاس آیا تھا اور اب بھی اسکے سامنے اسکے کمرے میں موجود تھا ..
‘ ” آ…آپ کیوں کر رہے ہیں ایسا …
آخر چاہتے کیا ہیں آپ ?
“‘ اس بار وہ ہمت کرکے اسکی آنکھوں میں دیکھ کر بولی تھی ..
ویسے بھی وہ اب بہت پریشان ہو چکی تھی اسکی وجہ سے ..
‘ “”اب یہ سب اسکی برداشت سے باہر ہوتا جا رہا تھا”
‘” میں تمھیں اپنی قید میں کرنا چاہتا ہوں ..
اور یہ سب کرتے ہوئے مجھے بہت مزہ آتا ہے اتنا کہ میں لفظوں میں بیان نہیں کر سکتا ..
‘ ” کاوش نے آج پہلی بار اسکو اپنے سامنے یوں اس طرح سے بولتے ہوئے دیکھا تھا ..
‘ “جانے کیوں اسکو رضوا کی ہمت پسند نہیں آئی تھی ..
اسکو تو اپنی بلبل ڈری ہوئی اچھی لگتی تھی .
‘ ” اسکا جواب سن کر رضوا کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئی تھی ..
مطلب وہ اپنے مزے کے لئے یہ سب کرتا تھا ..
” ‘ میں اپنے بھائی سے بتاؤ گی آپ مجھے روز پریشان کرتے ہیں
پہلے تو میں کچھ نہیں کہا …
لے ..لیکن …اب میں انکو بتاؤں گی ..
” وہ اپنا خشک حلق تر کرتی ہوئی بولی تھی جبکہ اسکی نظریں کاوش کے بڑھتے قدموں پہ تھی جو اسکے قریب آتے جا رہے تھے ..
” ‘ اسکو اپنے قریب آتا دیکھ رضوا یکدم سے وہاں سے بھاگنے لگی جب وہ اسکا بازو اپنی گرفت میں لے چکا تھا ..
‘ ” جاؤ آرام سے جاکر بتانا اسکو میں یہی تو چاہتے ہوں اسکو بھی معلوم ہو کہ میں اپنی بیوی کے کتنے قریب ہوں کم از کم اسکی یہ غلطفہمی تو دور ہوگی ..
” ‘ وہ اسکو خود کے مزید قریب کرتا ہوا بولا تھا ..
اسکی پکڑ رضوا کے بازو پہ سخت ہوئی تھی ..
“” جبکہ رضوا اسکی سخت پکڑ سے زیادہ اسکے بیوی لفظ پر اٹک کر رہ گئی تھی ..
وہ آنکھوں میں الجھن لئے اسکی طرف دیکھ رہی تھی “
” ‘ م …میں …آ ..آپ کی بیوی …
وہ بامشکل بول پائی تھی “
” ‘ کاوش نے بیوی لفظ جان بوجھ کر لیا تھا کیونکہ وقت آ گیا تھا اسکو بتانے کا کہ ان دونوں کے بیچ کیا رشتہ ہے ..
” ‘ ہاں تم میری بیوی ہو …
اگر میری باتوں پر یقین نہیں آتا تو اپنے بھائی سے پوچھ لینا..
اور اس سے کہنا کہ میں بہت جلد تمھیں لینے آ رہا ہوں وہ تیار رہے ..
” ‘وہ اک نظر اسکے حیران چہرے کو دیکھتا اسکا بازو آزاد کر چکا تھا ..
جبکہ رضوا کی سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ کیا بولے .
” ‘ لیکن ایک بات کا افسوس ہے مجھے ..
.. چلو تم مجھے تو پہچان نہیں سکی لیکن تم تو میرا نام بھی بھول چکی ہو کیا اتنی جلدی بھولا دیا تم نے مجھے …
” ” وہ خاموش کھڑی رضوا کو دیکھ رہا تھا کچھ دیر تک تو وہ کھڑا اسکے کچھ بولنے کا انتظار کرتا رہا مگر جب وہ کچھ نہ بولی تو جہاں سے آیا تھا وہاں سے چلا گیا تھا ..
” ‘ جبکہ رضوا ابھی بھی اسی حالت میں کھڑی رہی تھی..
“”کاوش “”
“سچ کہا تھا اس نے وہ یہ نام کتنی جلدی بھول گئی تھی پتہ نہیں یونی میں کتنی بار یہ نام سنائی دیتا تھا اسکو مگر اسکا دھیان کبھی اس کاوش کی طرف نہیں گیا تھا ..
” ایسا کیوں تھا اور اسکے بھائی نے اتنے بڑی بات اس سے کیوں چھپا رکھی تھی ..
ان سب باتوں کے جواب صرف اسکو حیدر ہی دے سکتا تھا “
💕💕
‘ ” کیا ہوا آپ اس طرح سے خاموش کیوں بیٹھے ہیں
کوئی پریشانی ہیں کیا آپکو ?
‘ “”یسرا بیگم جب سے روم میں آئی تھی بس تب سے یاسر صاحب کو ایک ہی پوزیشن میں بیٹھا دیکھ رہیں تھی تو جب ان سے برداشت نہ ہوا تو انکو مخاطب کیا تھا …
‘ ” یسرا بیگم کی آواز پر انہوں نے سر اٹھا کر یسرا کی طرف دیکھا جو آنکھوں میں سوال لئے انکی طرف دیکھ رہی تھیں ..
‘ ” کچھ نہیں بس آج کل کمپنی میں کام زیادہ ہے تو بس اسی کی وجہ سے تھکان سی محسوس ہو رہی ہے ..
‘ “”وہ انکی جواب دے کر اپنی جگہ سے کھڑے ہوئے تھے ..
جانتے تھے انکو کچھ بھی بتا کر کچھ فرق نہیں پڑنے والا تھا ..
‘ “”آج تک تو آپکو کبھی تھکان محسوس نہیں ہوئی تو آج کیوں ..
‘” یا پھر آپ مجھے کچھ بتانا نہیں چاہتے ہیں ..
‘ “” وہ انکی طرف جانچتی نظروں سے دیکھ کر بولی .انکو ایسا لگ رہا تھا کہ یاسر صاحب ان سے کچھ چھپا رہے ہیں ..
‘ “”اور وہ غلط بھی نہیں سوچ رہی تھیں ..
‘ ” کاوش واپس آ گیا ہے ..
انہوں نے جیسے اپنی طرف سے حیران کرنے کی خبر انہیں سنائی تھی ..
‘ “”مگر یاسر صاحب کی بات پر ان پر کوئی اثر نہیں ہوا تھا “
‘ “”کاوش واپس آ گیا ہے تو اس میں پریشان ہونے والی کیا بات ہے ایک نہ ایک دن تو اسکو واپس آنا تھا اور وہ آ گیا “
‘ ” وہ بہت نارمل انداز میں اپنی بات کہہ رہی تھی ویسے بھی انکو کچھ فرق نہیں پڑتا تھا گھر میں چاہے کچھ بھی ہوتا رہے ..
‘ ” پریشان ہونے والی بات ہے یسرا کیا تم نہیں جانتی دس سال پہلے کیا ہوا تھا ..
اور یقینن وہ اپنے باپ کا بدلہ لینے واپس آیا ہے ..
‘ ” اور میرے لئے سب سے بڑی پریشانی والی بات یہ ہے کہ رضوا ابھی بھی اسکے نکاح میں ہے ..
” میں نہیں چاہتا کہ وہ اپنا بدلہ میری بیٹی سے لے..
‘ ” وہ سب کرتے وقت تمھیں پہلے سوچنا چاہئے تھا اب پریشان ہونے سے کیا فائدہ ہے ..
” یسرا بیگم کے لئے کوئی ضروری بات نہیں تھی جو وہ پریشان ہوتی ..
‘ ” تمھیں اچھی طرح معلوم ہے کہ جو کچھ بھی ہوا انجانے میں ہوا تھا
میری کوئی غلطی نہیں تھی اس میں ..
‘ ” یسرا بیگم کی بات انہیں بلکل پسند نہیں آئی تھی..
‘” ” مگر اسکے بعد جو کچھ ہوا وہ انجانے میں نہیں ہوا ..
تمہاری ہی غلطی تھی یاسر جسکی سزا شاید وہ تمہاری بیٹی کو دینے آیا ہے ..
‘ ” وہ خودغرض تھی مگر دس سال پہلے جو کچھ بھی ہوا تھا اس میں وہ شامل نہیں تھی ..
‘ ” نہیں …
میں ایسا نہیں ہونے دوں گا ..
” میں اسکو اپنی بیٹی کے قریب بھی نہیں آنے دوں گا..
” ‘ وہ غصّے میں انکی طرف دیکھ کر بولے اور تیزی سے کمرے سے باہر نکلے تھے ..
“‘ ” دیکھتے ہیں یاسر تم اپنی بیٹی کو بچا لیتے ہو یا نہیں ..
ی صرف وقت ہی بتائے گا ۔۔
” یسرا بیگم انکے جانے کے بعد خود سے بولی اور سونے کے لئے بیڈ کی طرف بڑھی تھی ..
“‘ ‘انکو اپنی نیند پیاری تھی جسکو پریشان ہونا تھا وہ ہوتا رہے ..
💕💕
(جاری ہے )