Ishq E Junoon By Iqra Sheikh Readelle50202 Episode 10
No Download Link
Rate this Novel
Episode 10
” ” کیا بات ہے حسن بھائی آپ جب سے آئے ہیں اسی طرح خاموشی سے بیٹھے ہیں ..
” کیا بات ہے ..
‘” کوئی پریشانی والی بات ہے کیا ?
” حسن صاحب آج پھر سے رضوا اور سارہ سے ملنے آئے تھے ..
‘ ” مگر سارہ کب سے نوٹ کر رہی تھی کہ نہ تو وہ پہلے کی طرح رضوا سے ہنس بول رہے تھے اور انکی باتوں کا جواب بھی بس ہاں نہ میں دے رہے تھے .
‘ ” سارہ پہلے تو نظر انداز کرتی رہیں مگر جب انکو حسن صاحب کے چہرے پر پریشانی نظر آئی تو وہ ان سے پوچھے بغیر نہ رہ سکی تھی ..
‘ ” حسن بھائی کیا ہوا میں آپ سے بات کر رہی ہوں.
انہوں نے جب کوئی جواب نہ دیا تو سارہ نے پھر سے حسن کو مخاطب کیا تھا “
” ‘ سارہ کے پھر سے مخاطب کرنے پر حسن جیسے ہوش میں آئے تھے .
” نہیں ..نہیں ایسی کوئی بات نہیں ہے
تم پریشان مت ہو ..
” ‘ انہوں نے سارہ کو ٹالنا چاہا تھا ..
اب وہ سارہ کو کیا بتاتے کہ وہ اسکے شوہر کی وجہ سے پریشان ہیں ..
‘ ” جو دوسری عورت کی وجہ سے اپنی خوشیاں برباد کرنا چاہ رہا تھا .
” جسکے علاوہ اسے اور کوئی نظر ہی نہیں آ رہا تھا..
‘” “حسن نے اس دن کے بعد سے یاسر کو بہت سمجھانے کی کوشش کی مگر وہ تو جیسے انکی سننے کو تیار ہی نہیں تھے ..
‘ ” چند ماہ کے پیار کے لئے وہ اپنی بیوی کو دھوکا دے رہے تھے .
اور دوسرا وہ سارہ کو اس بارے میں بتانا بھی نہیں چاہتے تھے ..
‘ ” انہیں ڈر تھا کہ اگر سارہ کو معلوم ہو گیا تو وہ انکو چھوڑ کر چلی جائے گی اور انکے بچوں کو بھی ان سے دور کر دیگی ..
‘ ” اور یہ سب جاننے کے بعد وہ ضرور کوئی فیصلہ لیتی جو وہ نہیں چاہتے تھے ..
اس وقت وہ بہت خودغرض بنے ہوئے تھے ..
‘ ” بھائی کہیں آپکے اور یاسر کے بیچ تو کوئی بات نہیں ہوئی ہے
کیونکہ آج کل یاسر کا رویہ بھی کچھ عجیب سا ہے .
‘ ” سارہ کو دن دن پہلے والا واقع یاد آیا تھا جب یاسر نے چھوٹی سی بات کے لئے رضوا کو کتنی بری طرح ڈانٹ دیا تھا ..
‘” وہ بیچاری بچی بری طرح سے رونے لگی تھی سارہ نے بہت مشکل سے اسکو چپ کرایا تھا ..
‘ ” اس وقت بھی ان دونوں نے لڑائی ہوتے ہوتے رہ گئی سارہ ایک سمجھدار خاتون تھی اس لئے بات سمبھال لی تھی ..
” ‘ نہیں سارہ کیسی باتیں کر رہی ہو ..
ایسا کچھ بھی نہیں ہوا ہے جیسا تم سوچ رہی ہو ..
آج کل آفس میں کام زیادہ ہے نہ اس لئے وہ تھوڑا ایسا ہو رہا ہے ..
تم اسکی باتوں پر زیادہ دھیان مت دیا کرو ..
حسن نے پھر سے اپنے دوست کی سائیڈ لی تھی ..
‘ ” ٹھیک ہے بھائی اگر آپ کہہ رہے ہیں تو ایسا ہی ہوگا ..
” سارہ انکی بات سن کر پرسکون انداز میں بولی تو حسن بس خاموشی سے انکو دیکھتے رہے تھے ..
‘ ” اس وقت وہ خود کو بہت بےبس محسوس کر رہے تھے ..
ایک طرف انکا دوست تھا تو دوسری طرف سارہ جو انکی بہن کی طرح تھی ..
‘ ” انکی سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ کیا کریں اس وقت وہ خود کو بری طرح پھنسا ہوا محسوس کر رہے تھے ..
💕💕
‘ ” وہ جیسے ہی واشروم سے نکلا تو اسکی نظر صوفہ پہ خاموش بیٹھی رضوا پر پڑی جو اپنے سامنے ٹیبل پر رکھے ناشتے دیکھتی نہ جانے کن سوچوں میں گم تھی ..
‘ ” یہ بھی اسی کا حقم تھا کہ وہ روز اسکے آفس جانے سے پہلے کمرے میں ناشتہ کرے وہ بھی اسکی نظروں کے سامنے ..
‘ ” اسکی بات ماننے پر کاوش کے لب مسکرا دیے تھے .
اور ایسا شاید پہلی بار ہوا تھا کہ وہ دل سے اسکے لئے مسکرایا تھا ..
‘ ” یہ ناشتہ تمہارے دیکھنے کے لئے نہیں ہے اسے ختم بھی کرو ..جلدی سے .
” ‘ وہ تیز آواز میں اس سے مخاطب ہوا اور آہستہ سے چل کر اسکے سامنے آ کھڑا ہوا ..
‘ ” اسکی آواز سن کر رضوا اپنی سوچوں سے باہر آئی اور نظر اٹھا کر جیسے ہی اسکی طرف دیکھا اس پر نظر پڑتے ہی اس نے اتنی ہی جلدی سے اپنی نظریں جھکا لی تھی ..
‘ ” اسکا چہرہ شرم سے لال ہوا تھا ..
” نہیں میں ختم کر چکی ہوں ..
اسکی خود پر جمی نظروں کو محسوس کر کے اس نے جلدی سے کپ اپنے لبوں سے لگایا تھا ..
‘ ” اس نے پھر سے اسکی طرف دیکھنے کی کوشش نہیں کہ تھی ..
جبکہ کاوش آرام سے کھڑا اسکی گھبراہٹ کو انجوۓ کر رہا تھا ..
‘ ” وہ اچھی طرح جانتا تھا کہ وہ اسکی طرف کیوں نہیں دیکھ رہی ہے ..
کیونکہ وہ اس وقت صرف پینٹ میں موجود تھا ..
‘ ” اچھا اگر ناشتہ کر ہی لیا ہے تو چلو میرے لئے شرٹ نکال دو اچھی سی ..
وہ اسکے جھکے سر کو دیکھتا ہوا بولا ..
‘ ” جبکہ اسکا دوسرا حقم سن کر رضوا بغیر اسکی طرف دیکھے اپنی جگہ سے کھڑی ہوئی اور وارڈراب کی طرف بڑھی تھی .
‘ ” وہ جانتی تھی اگر کہ وہ اسکے کسی بھی کام کو منع نہیں کر سکتی ہے وہ زبردستی بھی اس سے یہ کام کروا لیگا ..
‘ ” وارڈراب کے پاس کھڑی وہ سوچ میں پڑ گئی تھی کہ کون سی شرٹ نکالے ..
اس میں موجود ساری ہی شرٹس اچھی تھی ..
‘ ” ایک شرٹ نکالنے میں اتنا وقت لگتا ہے تمھیں
” وہ کنفیوز سی کھڑی سوچ رہی تھی کہ کیا کریں جب وہ اسکی پشت پر آ کھڑا ہوا تھا ..
‘ ” اور اتنا قریب تھا کہ بولتے وقت اسکے لب رضوا کے بالوں کو چھو رہے تھے ..
‘ ” نہیں بس نکل ہی گئی ..
اسکے اتنے قریب آ جانے پر رضوا کی گھبراہٹ میں مزید اضافہ ہوا تھا اس نے کانپتے ہاتھوں سے بامشکل ایک شرٹ نکالی تھی ..
” ‘ وہ جیسے ہی اسکو شرٹ دینے کے لیے پلٹی تو اس نے خود کو اسکے سینے سے ٹکرانے سے بچایا تھا ..
” وہ اسکے بہت قریب کھڑا تھا کہ رضوا کا وجود اسکے چوڑے جسم کے آگے جیسے چھپ سا گیا تھا..
‘ ” کاوش ایک نظر اسکے گھبراۓ اور کانپتے وجود کی طرف دیکھتا اسکے ہاتھ سے شرٹ لیکر ڈریسنگ ٹیبل کی طرف بڑھا ..
” ‘ اسکے جانے پر رضوا نے اپنا رکا سانس بحال کیا اور سینے پر ہاتھ رکھ کر اپنی تیز ہوتی دھڑکنوں کو درست کرنا چاہا تھا ..
” ‘ جبکہ کاوش کھڑا آئنے میں سے اسکو دیکھ رہا تھا ” رضوا ..
یہاں آؤ اور بٹن بند کرو آکر ..
‘ ” ابھی صحیح سے پرسکون بھی نہیں ہو پائی تھی جب اسکی اگلی فرمائش پر اسکی جان ہی تو نکل گئی تھی .
‘ ” وہ گھبرائی کھڑی اسکی پشت کو دیکھ رہی تھی.
‘” آ رہی ہو یا میں آ جاؤں وہاں پر ..
اس نے گردن موڑ کر اسکو مخاطب کیا اس بار لہجے میں پہلے والی نرمی بلکل نہیں تھی ..
‘ ” رضوا بیچاری اسکی دھمکی پر آہستہ سے قدم اٹھاتی اسکے پاس آئی تھی ..
” اسکو لگ رہا تھا کہ یہ شخص ایک دن اپنی حرکتوں سے اسکی جان لیکر ہی رہے گا ..
‘ ” وہ نظریں جھکائے اسکے قریب آئی تو کاوش نے اپنا رخ اسکی طرف کیا اور اپنی نظریں اسکے چہرے پر جما لی ..
‘ ” اس نے کانپتے ہاتھوں سے اسکی شرٹ کے بٹن بند کرنا شروع کئے مگر اسکے چوڑے سینے پر نظر پڑی تو اس نے اپنی پلکے جھکا لی تھی ..
‘ ” ایک تو اسکی اتنی قربت دوسرا خود پہ جمی اسکی نظروں کو محسوس کر کے اسکی حالت غیر ہونے لگی تھی ..
وہ اپنا لب چباتی اپنی حالت پر قابو کر رہی تھی ..
‘ ” کاوش کی نظر جب اسکے ہونٹوں پر پڑی تو اس نے اپنا انگوٹھا اسکے ہونٹوں پہ رکھ دیا ..
مطلب صاف تھا اسکو رضوا کی یہ حرکت پسند نہیں آئی تھی ..
” ‘ تم انکو سزا کیوں دے رہی ہو..
مجھے بولو میں یہ کام بہت اچھے طریقے سے کر سکتا ہوں اور جسکو کرتے وقت مجھے بہت اچھا لگے گا ..
” ‘ وہ اسکے ہونٹوں پر نظریں جماۓ ذومعنے انداز میں بولا .
” اسکی بات کا مطلب سمجھ کر رضوا فورا اس سے دو قدم دور ہوئی تھی ..
” ” آپکا کام ہو گیا ہے .
میں وہ سب برتن کچن میں رکھ کر آتی ہوں ..
“وہ جلدی سے ٹیبل پہ رکھی ٹرے کی طرف
..بڑھی
” اسکا کوئی بھروسہ نہیں تھا جو کہہ رہا ہے وہ کر بھی سکتا تھا ..
” ارے کہاں جا رہی ہو تم نے میرا کام کیا ہے اب مجھے بھی موقع دو ..
” وہ اسکو دروازے کی طرف جاتے دیکھ شرارتی انداز میں بولا جبکہ رضوا اسکی بات کو ان سنی کرتی تیزی سے وہاں سے نکلی تھی ..
‘ ” تمہارا یہ ڈر ہی مجھے تمہارے اور قریب کرتا ہے میری بلبل ..
“وہ اسکو وہاں سے نکلتا دیکھ خود سے بولا تھا اور پھر سے اپنے آفس جانے کی تیاری کرنے لگا ..
💕💕
‘ ” کاوش بیٹا ذرا پتہ کرو آخر یہ منال کہاں رہ گئی ہے ..
اس وقت تو واپس آ جاتی ہے .
‘”” نمرہ بیگم اپنے پاس بیٹھے کاوش کی طرف دیکھ کر فکرمندی سے بولی تھی ..
انکے انداز میں بےچینی کو کاوش اچھے سے محسوس کر سکتا تھا ..
‘”” خالہ آپ پریشان نہ ہو میں نے ابھی کال کی تھی اسکو بس آنے ہی والی ہے وہ آپ فکر نہ کریں ..
اس نے انہیں تسلی دی تھی .
‘”وہ آفس سے واپسی پر انکے پاس آیا تھا انکو پریشان دیکھ کر انکے پاس ہی رک گیا ..
” ‘ لو آ گئی میں نے کہا تھا نہ کہ راستے میں ہوگی .
دروازے پر بیل بجی تو وہ انکی طرف دیکھ اپنی جگہ سے کھڑا ہوا اور باہر دروازے کی طرف بڑھا ..
” ‘ اس نے جیسے ہی دروازہ کھولا اپنے سامنے کھڑے شخص کو دیکھ کر وہ حیران ہوا تھا ..
” ‘ تم ..یہاں ?
“وہ منال کے ساتھ حیدر کو دیکھ کر حیرانی سے بولا ..
” ‘ کیا ہوا حیدر حسن تم مجھے یہاں دیکھ کر ہی حیران ہو گئے ہو اور جب تمھیں آگے جو معلوم اسکے بعد کیا حال ہوگا تمہارا ..
“”‘ وہ ایک نظر اپنے برابر کھڑی منال کو دیکھ کر بولا ..
“‘ جبکہ خاموش کھڑی منال اتنا تو سمجھ گئی تھی کہ دونوں پہلے سے ہی ایک دوسرے کو جانتے ہیں ..
” ‘ منال یہ شخص کیا بکواس کر رہا ہے اور تم اسکے ساتھ کیوں آئی ہو ..
کیا چل رہا ہے یہ سب .
“‘ وہ اب سیدھا منال سے مخاطب ہوا تھا ..
” پہلے تم مجھے یہ بتاؤ تم دونوں ایک دوسرے کو کیسے جانتے ہو ..
” یہ سوال منال کی طرف سے آیا تھا .
” ‘ اس وقت تینوں ایک دوسرے سے کھڑے سوال کر رہے تھے.
“”‘ تم منال سے کیوں پوچھ رہے ہو میں بتا دیتا ہوں تمھیں کہ میں اور منال نکاح کر چکے ہیں .
“اور یہ خوشخبری تم لوگوں کو بتانے آئے ہیں .
” ‘ اس نے کاوش کے ساتھ ساتھ نمرہ بیگم کے سر پہ جیسے کوئی بم پھوڑا تھا ..
وہ ان لوگوں کی تیز آواز سن کر وہاں آئی تھی
‘ ” مگر اس انجان شخص کے منہ سے یہ الفاظ سن کر وہ جیسے اپنی جگہ کھڑی رہ گئی تھی .
” یہ میں کیا سن رہی ہوں منال کیا بول رہا ہے یہ سخص .
بول دو کہ یہ سب جھوٹ ہے “
” ‘ وہ تیزی سے منال کے پاس آئی اور اسکو بری طرح سے جھنجھوڑا تھا
” ‘ جبکہ کاوش کھڑا غصّے سے حیدر کو سخت نظروں سے گھور رہا تھا .
” ‘وہ اتنا تو سمجھ چکا تھا کہ حیدر یہ سب کیوں کر رہا ہے..
بس اک بات اسکی سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ منال کی اس سے ملاقات کیسے ہوئی .
” اور یہ بات منال سے ہی معلوم ہوتی .
” ‘ امی یہ جو بھی کہہ رہے ہیں بلکل ٹھیک کہہ رہے ہیں .
میں حیدر کی کمپنی میں جاب کرتی ہوں .
اور ھم ایک دوسرے کو پسند کرنے لگے حیدر کے ڈیڈ راضی نہ ہوتے اس رشتے کے لئے اس لئے ہمیں اس طرح سے نکاح کرنا پڑا ..
” ‘ یہ سب باتیں اس نے آتے وقت سوچی ہوئی تھی اس لئے بنا رکے بولتی گئی .
“امی میں ….
اس سے پہلے کہ وہ مزید کچھ کہتی نمرہ بیگم کا ہاتھ اٹھا اور اسکے چہرے پر اپنا نشان چھوڑ چکا تھا ..
” ‘ حیدر نے غصّے سے اپنی مٹھی بھینچ لی تھی۔
وہیں کاوش اپنے غصّے پڑ ضبط کئے کھڑا تھا ..
دل تو اسکا بھی کر رہا تھا حیدر کے مارنے کا جو وہ ان دونوں کے بیچ اسکی بہن کو لیکر آ گیا تھا ..
” ‘ یہ سب کرتے وقت تمھیں ذرا شرم نہیں آئی کیا ایک بار بھی اپنی ماں کا خیال نہیں آیا تمھیں ..
نمرہ بیگم اسکی طرف دیکھ کر غصّے سے بولی تھی مگر انکو تو اپنی بیٹی پر صحیح سے غصّہ بھی نہیں کرنا آتا تھا .
” ‘ جبکہ منال خاموشی سے کھڑی انکو دیکھ رہی تھی وہ انکو نہیں بتا سکتی تھی اس نے یہ سب کیوں اور کس کے لئے کیا ہے ..
” اسکو لگ رہا تھا کہ حیدر نے اسکو پانے کے لئے یہ سب کیا ہے اور وہ اسکا بتا دینا چاہتی تھی کہ وہ اسکو حاصل کر کے بھی حاصل نہیں کر سکتا ..
” ‘ امی میں مانتی ہوں بہت بڑی غلطی کی ہے میں نے مجھے ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا پلز معاف کر دیں ..
اس نے انکے ہاتھ تھامنے چاہے جنہیں انہوں نے بےدردی سے جھٹکا تھا ..
” ‘ کاوش اس سے بول دو چلی جائے یہ یہاں سے مجھے اسکی کوئی بات نہیں سننی ہے ..
اور تم بھی دروازہ بند کرکے اندر آ جاؤ ..
وہ ایک شکوہ بھری نظر اس پر ڈال کر اندر کی طرف چلی گئی تھی ..
جبکہ منال انکو آوازیں دیتی رہ گئی ..
” ‘ میری بہن کو اس سب کے بیچ لاکر تم نے بلکل اچھا نہیں کیا ہے حیدر ..بلکل بھی نہیں ..
انکے جانے کے بعد کاوش غصّے سے اسکی طرف لپکا اور غصّے سے اسکا کالر پکڑا تھا ..
” ‘ آرام سے کاوش صاحب غصّہ مجھے بھی کرنا آتا ہے ..
اور جب تم نے میری اور ڈیڈ کی بات نہیں مانی تو نیا طریقہ اپنانا پڑا مجھے ..
” ‘ اس نے کاوش کی پکڑ سے آزاد کروایا اور روتی ہوئی منال کا بازو پکڑ کر وہاں سے اپنی کار کی طرف بڑھا تھا ..
” ‘ یہ تم نے بلکل اچھا نہیں کیا ہے حیدر بلکل بھی نہیں ..
” وہ حیدر کی پشت کو دیکھ کر بولا تھا ..
💕💕
“‘ انکی کار ایک گھر کے آگے آکر رکی تھی “
“سارا راستہ ان دونوں کے بیچ خاموشی ہی رہی تھی نہ حیدر نے اسکو کچھ بولا نہ منال نے اسکو کچھ کہنے کی ضرورت محسوس کی تھی “
” اس وقت منال بس اپنی ماں کے بارے میں سوچ رہی تھی اس نے کبھی اپنی ماں کو اس طرح سے دکھ دینے کے بارے میں نہیں سوچا تھا ..
‘ ” وہ اپنی ماں کو منا لیگی یہ تو اس نے سوچ لیا تھا ..
“‘ حیدر ایک نظر اسکو دیکھ کر اپنی سائیڈ کا دروازہ کھول کر باہر نکلا تھا .
‘ “فلحال وہ اس نکاح کے بارے میں اپنے ڈیڈ کو نہیں بتا سکتا تھا اس لئے وہ اسکو لیکر اپنے دوسرے گھر آیا تھا .
وہ گھر جو صرف اسکا تھا جسکو اس نے خود سے خریدہ تھا .
” ‘ حیدر کے کار سے نکلنے کے بعد منال بھی آہستہ سے دروازہ کھول کر باہر نکلی اور اسکے پیچھے چل دی تھی .
” اس نے غصّے میں آکر اس نے نکاح تو کر لیا تھا مگر آگے کیا کرے گی اس نے اسکے بارے میں کچھ نہیں سوچا تھا .
“‘ ‘وہ دونوں اس وقت اپنی اپنی سوچوں میں تھے دونوں ہی نہیں جانتے تھے انکو آگے کیا کرنا ہے ..
‘ ” وہ دونوں ایک ساتھ گھر میں داخل ہوئے یہ گھر تھا تو چھوٹا مگر بہت خوبصورت تھا منال ایک پل کے لئے بس دیکھتی ہی رہ گئی تھی ..
‘ ” کیا ساری رات یہیں رکنے کا ارادہ ہے تمہارا .
چلو تمھیں کمرہ دیکھا دوں ..
” حیدر جو آگے تھا اسکو وہیں رکا دیکھ کر پلٹ کر اس سے مخاطب ہوا تھا “
” ‘ حیدر کی بات پر وہ اسکو گھورتی ہوئی آگے بڑھی اسکا فلحال موڈ نہیں تھا بحس کرنے کا ورنہ ارادہ تو اسکا کوئی سخت جواب دینے کا تھا ..
‘ ” تھوڑی دور چلنے کے بعد وہ ایک کمرے کے آگے آکر رکا..
” ” ‘ یہ رہا ہمارا کمرہ .
“.اب سے تمھیں یہیں رہنا ہے “
” وہ سیدھا اسکی آنکھوں میں دیکھ کر بولا تھا
اس وقت اسکا لہجہ کسی بھی قسم کے جذبات سے خالی تھا..
‘ ” ہمارا نہیں مجھے میرے کمرہ بتاؤ “
جہاں میں اکیلی رہوں گی ..
وہ اسکی طرف دیکھ کر دانت پیستی ہوئی بولی تھی
” ‘اب اسکی برداشت ختم ہو چکی تھی ورنہ اپنی ماں کے سامنے وہ خاموش تھی ..
‘ ” جبکہ حیدر اسکی گھوری کو نظر انداز کرتا زور سے ہنسا تھا .
جیسے اسکی بات کا مذاق بنا رہا ہو ..
‘ ” لگتا ہے تمہاری میموری کمزور خیر کوئی بات نہیں میں یاد دلا دیتا ہوں کہ اب تم منال نہیں منال حیدر علی بن چکی ہو””
“اسکا مطلب آج سے تم اور میں ہم ہیں .
‘ ” اس لئے یہ کمرہ بھی ہم دونوں کا ہے .
” وہ ایک ایک لفظ پر زور دیتا ہوا بولا .
‘ ” تم اور میں کبھی ہم نہیں ہو سکتے
“اور دوسری بات کسی غلطفہمی میں مت رہنا کہ میں تمہارے ساتھ ایک ہی کمرے میں رہ لوں گی ..
‘ ” منال غصّے سے اسکی طرف انگلی اٹھا کر وارن کرنے والے انداز میں بولی تھی .
” حیدر جو بڑی دلچسپی سے اسکے غصّے سے لال پڑتے چہرے کو دیکھ رہا تھا
منال کی بات پر ایک قدم آگے بڑھا اور اسکا ہاتھ پکڑ کر منال کو اپنی طرف کھینچا تھا ..
” ‘ منال جو غصّے سے اسکو دیکھ رہی تھی حیدر کے ایسے کرنے پر سیدھا اسکے سینے سے آ لگی تھی ..
‘ “رہنا تو تمھیں میرے ساتھ ہی ہے وہ بھی ایک ہی کمرے میں ..
” ‘ اور یہ شادی تمہاری بھی مرضی سے ہوئی ہے تو اب یہ نخرے کس بات کے ..
وہ ہونٹوں پر دل جلانے والی مسکراہٹ کے ساتھ بولا..
‘ ” مرضی نہیں تم نے مجبور کیا ہے مجھے میری مجبوری کا فائدہ اٹھایا ہے ..
” منال جل ہی تو گئی تھی اسکی مسکراہٹ دیکھ کر اس نے اسکی پکڑ سے اپنا ہاتھ آزاد کروانا چاہا مگر مقابل کی پکڑ مضبوط تھی ..
‘ ” جبکہ اسکی بات پر حیدر سوچ کر رہ گیا کہ کیوں کیا اس نے اسکو مجبور ..
کاوش سے اپنی بہن کو آزادی دلانے کے لئے
“یا اسکو دھوکہ دینے کے لیے جو وہ کاوش کے ساتھ ملی ہوئی تھی .
‘ ” یا پھر اس محبت کے لئے جو وہ اس سے کرتا ہے اس ڈر کی وجہ سے کہیں وہ اسکو چھوڑ کر نہ چلی جائے .
اس لئے اسکو اپنے ساتھ اپنے قریب رکھنے کے لئے اس نے یہ نکاح کیا …
‘ ” کیا وجہ تھی وہ خود بھی سمجھ نہیں پا رہا تھا ..
” ‘ چلو مجبوری میں ہی صحیح بیوی تو بن ہی گئی ہو میری تو کیوں نہ میں اب اپنے شوہر ہونے کا فایدہ اٹھا لوں ..
” اس نے منال کی کمر کے گرد اپنے بازو حائل کیے تھے ..
” ‘ دور رہو مجھ سے تم ..
میرے قریب آنے کی کوشش بھی مت کرنا ..
” منال اپنے دونوں ہاتھ کی مدد سے اسکو دور کیا تھا ..
” ‘یہ تو اب بہت مشکل ہے بیگم …
“لیکن آج بےفکر رہو کیونکہ آج میرا دوسرا پلان ہے اس لئے تم آرام سے جاکر سو جاؤ ..
کل ملاقات ہوگی …
” “وہ اسکی طرف ایک آنکھ دبا کر بولا اور اسکو غصّے میں چھوڑ کر وہاں سے نکلتا چلا گیا تھا مگر جاتے جاتے باہر سے لاک کرنا نہ بھولا تھا ..
” ‘ جبکہ منال اسکے جانے کے بعد غصّے میں زور سے دروازہ بند کرتی کمرے میں چلی گئی تھی ..
” یہ شخص اسکی برداشت سے باہر تھا وہ نہیں جانتی تھی اپنے بدلے میں اس نے خود کے ساتھ کتنا بڑا مذاق کیا تھا ..
💕💕
(جاری ہے )
