Ishq E Junoon By Iqra Sheikh Readelle50202 Episode 19
No Download Link
Rate this Novel
Episode 19
” یوسف تم ان لوگوں سے بولو بس تھوڑا اور انتظار کریں میں بس پہنچنے والا ہوں ”
حیدر پارکنگ کی سائیڈ بڑھتے ہوئے اپنے ورکر سے فون پر مخاطب تھا ”
” مجھے کچھ نہیں سننا میرے آنے تک تم بس ان لوگوں کو روک کر رکھو ‘
‘یہ میٹنگ کینسل نہیں ہوگی ”
یوسف کی بات پر وہ تھوڑا سخت لہجے میں بولا اور فون کٹ کر کے موبائل اپنی کوٹ کی پاکٹ میں رکھ چکا تھا ”
” فون رکھ کر جیسے ہی اس نے اپنی کار کا دروازہ کھولنے کے لئے ہاتھ بڑھایا کسی نے پیچھے سے اسکو اپنی طرف کھینچا اور اسکو سمبھلنے کا موقع دئے بغیر ایک زوردار پنچ اسکے منہ پے دے مارا تھا ”
” حیدر جو اس حملے کے لئے بلکل تیار نہیں تھا زوردار پنچ لگنے کی وجہ سے سیدھا اپنے کار سے ٹکرایا تھا ”
” تمہاری ہمت کیسے ہوئی مجھے تکلیف دینے کے لئے میری بہن کا استمال کرنے کی ‘
” کاوش نے اسکو کالر سے پکڑ کر اپنے مقابل کھڑا کیا اور پھر سے اسکے منہ پر حملہ کیا تھا ”
” اس بار حیدر کا سر بری طرح سے کار سے ٹکرانے کی وجہ سے پیشانی سے خون نکلنا شروع ہو چکا تھا ”
” جبکہ حیدر کی غصّے سے رگے تن گئی تھی اسکے منہ سے استمال لفظ سن کر ..
” اس نے کبھی ایسا کرنے کے بارے میں سوچا تک نہیں تھا کرنا تو دور کی بات تھی ”
‘ ‘ مرد ہوکر ایک لڑکی کا سہارا لیتے وقت تمھیں ذرا شرم نہیں آئی ‘
” اس وقت کاوش کا غصّے سے برا حال ہو رہا تھا آنکھیں یکدم سے سرخ ہو چکی تھی اسکی “
‘ ‘مگر حیدر کا حال بھی اس سے مختلف نہ تھا ”
” لڑنا ہے تو مجھ سے لڑو منال کو بیچ میں لاکر تم نے بلکل اچھا نہیں کیا ہے ‘
‘ ” کاوش نے اپنی بات کہہ کر پھر سے اس پر ہاتھ اٹھانا چاہا مگر اسکا ارادہ بھانپ کر حیدر اسکا ہاتھ ہوا میں ہی روک چکا تھا اور ابکہ حیدر کی باری آئی تھی ”
” اس نے کاوش کے منہ پر اتنی زور سے مارا کہ وہ سیدھا زمین پر جا گرا تھا “
” اس نے اپنا منہ زمین پر لگنے سے بچا تو لیا تھا مگر حیدر کے مکے کی وجہ سے اسکے ہونٹ سے خون نکلنا شروع ہو چکا تھا “
‘ ” میں تم جیسا گھٹیا انسان نہیں ہوں کہ اپنے بدلے کے لئے کمزور کا سہارا لوں “
‘ اگر مجھے ایسا کرنا ہوتا ٹو بہت پہلے کر چکا ہوتا آج تم میرے سامنے کھڑے نہ ہوتے ”
‘ ” وہ یکدم سے اس پر لپکا تو کاوش بھی تیزی سے کھڑا ہوا تھا ”
” اس وقت وہ دونوں ایک دوسرے کا کالر پکڑ کھڑے ہوئے تھے”
‘” آنکھوں میں ایک دوسرے کے لئے غصّہ تھا ”
” اگر تم نے ایسا کرنے کے بارے میں سوچا بھی نہ تو وہ دیں
تمہاری زندگی کا آخری د ہوگا “
‘” کاوش نے پھر سے اس پر حملہ کرنا چاہا مگر حیدر خود کو اس بار بچا چکا تھا “
” ‘ وہ دونوں اس وقت بری طرح سے لڑ رہے تھے ..
‘ ” وہ تو شکر تھا کہ اس وقت آس پاس کوئی موجود نہیں تھا ورنہ اچھا تماشہ بن جانا تھا ان دونوں کا “
‘” گھٹیا انسان میں نہیں تمہارا باپ ہے
کاوش نے اسکی پکڑ سے اپنا کالر آزاد کروایا تھا ”
‘” جبکہ اسکی بات سن کر حیدر کا غصّہ مزید بڑھ گیا تھا “
‘” گھٹیا میرا باپ نہیں تمہارا باپ تھا جس نے میری ماں کو میرے ڈیڈ کے خلاف بھڑکایا اور انکی غلط فہمی کی وجہ سے میری ماں نے اپنی جان لی ..
‘” تمہارے باپ نے ایک دوست ہوکر ایسی حرکت کی ..
” میں ایسے خاندان سے اپنی بہن کا کوئی رشتہ نہیں رکھنا چاہتا ..
تمھیں میری بہن کو طلاق دینی ھوگی ..
” حیدر سرخ آنکھوں سے اسکی طرف دیکھ رہا تھا ”
” دونوں ایک دوسرے سے کم نہ تھے ..
ایک کی پیشانی سے خون نکل رہا تھا تو ایک کے ہونٹ سے “
دونوں کی کپڑے بھی خراب ہو چکے تھے “
“‘ بہت بڑے جھوٹ میں جی رہے ہو تم حیدر علی .
نہ تمھیں اپنے باپ کی کرتوتوں کے بارے میں معلوم ہے نہ اپنی بہن کے بارے میں ..
‘” بہت رحم آ رہا ہے مجھے تمہاری حالت پر
کاوش اپنے ہونٹ سے خون صاف کرتا ہوا اسکا مذاق اڑانے والے انداز میں بولا ..
“‘ جس دن تمھیں سب معلوم ہوگا نہ اس دیں تمہاری شکل دیکھنے والی ہوگی “
‘ اور دوسری بات رضوا میری بیوی ہے میں مر جاؤں گا لیکن رضوا کو آزاد نہیں کروں گا “
‘” وہ اسکی طرف انگلی اٹھا کر وارن کرنے والے انداز میں بولا”
‘” آزاد تو تمھیں کرنا ہی ہوگا میری بہن کو ..
اگر اگر میں نے ایسا نہ کروایا تو میرا نام بھی حیدر علی نہیں ” وہ بھی اس سے کم نہیں تھا “
” ‘ دیکھ لوں گا لیکن تم پہلے یہ تو معلوم کر لو جو تمہارا باپ تمھیں بتاتا ہے وہ سب بھی ہے یا نہیں ..
‘ ” تم سمجھ رہے ہو نہ میری بات “
‘” کاوش اسکو اپنی باتوں سے بہت کچھ سمجھانا چاہ رہا تھا “
وہ چاہتا تو خود بتا دیتا رضوا کے بارے میں مگر حیدر کو یہ بات خود معلوم ہو تاکہ اسکو اپنے باپ سے سوال کرنے کا موقع ملے “
‘” کیونکہ اسکو لگتا تھا کہ وہ اسکی بات کا یقین نہیں کرے گا “
“‘ جبکہ حیدر کو اسکی باتوں نے بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر دیا تھا .
اسکو یکدم سے اپنے باپ کا رویہ یاد آیا تھا کچھ تو عجیب رہنے لگے تھے وہ آج کل “
” ‘ کاوش اسکو سوچوں میں کھویا دیکھ کر وہاں سے نکلتا چلا گیا تھا “
“‘ اسکو ایک بات کا تو یقین ہو گیا تھا کہ حیدر منال کو تکلیف نہیں دیگا ..
” ‘ مطلب یاسر نے صرف اسکو غصّہ دلانے کے لئے یہ سب بولا تھا “
💕💕
‘ ” جب وہ کمرے میں داخل ہوئی تو حیدر کی موجودگی کو نظر انداز کرتی بیڈ کی طرف بڑھی تھی ”
‘ ‘ اس نے یہ تک دیکھنے کی بھی زحمت نہیں کی تھی کہ اسکا شوہر ڈریسنگ کے سامنے کھڑا کیا کر رہا ہے “
‘” ویسے بھی آج کل وہ ایک عجیب سے جھجھک محسوس کرنے لگی تھی حیدر کے سامنے ”
‘ ” وہ جتنا اس سے فاصلہ قائم کرنا چاہتا اسکا دل اتنا ہی اسکے قریب جانا چاہتا تھا ”
‘ ‘ اپنی دل کی اس کیفیت سے وہ گھبرا سی جاتی تھی ‘
‘” منال یہاں آؤ اور ذرا یہ بینڈیج لگاؤ آکر ‘
”حیدر اسکی پشت کو دیکھ کر بولا تو اسکی بات سن کر منال نے یکدم سے اپنا رخ اسکی جانب کیا تھا ”
‘ ” اسکی پیشانی پر لگی چوٹ کو دیکھ کر اسکا دل پریشان ہوا تھا ‘ “
‘ ” مگر خود کو نارمل ظاہر کئے کھڑی رہی تھی ‘
‘” ماشاءاللہ سے دو ہاتھ موجود ہیں تمہارے پاس اپنا کام تم خود کر سکتے ہو ”
‘” وہ اب بھی اس سے غصّہ تھی اس لئے تڑخ کر جواب دیا گیا تھا اسکو ”
” مگر دل تو کر رہا تھا کہ فورا سے اسکے پاس جائے اسکی چوٹ کے بارے میں پوچھے ”
‘” جب تم موجود ہو میرے کام کرنے کے لئے تو مجھے خود کرنے کی کیا ضرورت ہے اس لئے فورا سے یہاں آ جاؤ ورنہ تم جانتی ہو میں یہ کام زبردستی بھی کروا سکتا ہوں “
‘” وہ اسکو گھورتا بینڈیج اسکی طرف بڑھاتا ہوا بولا ”
‘” اسکی گھوری پر منال پیر پٹختی ہوئی اسکے قریب آئی اور بینڈیج اسکے ہاتھ سے لی تھی ”
‘” اسکی پیشانی تک پھنچنے کے لئے منال کو تھوڑا سا اونچا ہونا پڑ رہا تھا “
” اسکی مشکل کو دیکھ کر حیدر نے اسکی کمر کے گرد بازو حائل کرکے اسکو تھوڑا سا اونچا اٹھایا تھا ‘”
‘” حیدر کی پکڑ اپنی کمر پر محسوس کر کے منال کی دھڑکنے یکدم سے تیز ہوئی تھی ‘
‘ ‘ اپنی حالت پہ قابو پاتی ہوئی اس نے جلدی سے حیدر کی چوٹ پر بینڈیج لگائی تھی ”
‘” یہ چوٹ کیسے لگی ?
“کس سے مار کھا کر آ رہے ہو ‘
‘ ‘ وہ اسکی چوٹ کو چھوتی ہوئی بولی
اسکی نظریں حیدر کی پیشانی پر تھی جب حیدر اسکے چہرے کو دیکھ رہا تھا ‘ “
‘ ” تمہارے کزن سے لڑ کر آیا ہوں تمہارے لئے “
‘ ” حیدر اسکے رخسار کو نرمی سے سہلاتا ہوا بولا ‘
” ‘ کاوش کی باتوں سے اس وقت وہ بہت پریشان تھا مگر منال کا چہرہ دیکھ کر وہ جیسے اپنی ساری پریشانی بھول گیا تھا “”
‘” جبکہ اسکی بات پر منال بےیقینی سے اسکی طرف دیکھ رہی تھی “
آخر کس بات پر لڑائی ہوئی ہوگی ان دونوں کی “
‘” ضرور تم نے ہی شروعات کی ہوگی ورنہ کاوش ایسا نہیں ہے “
میں بہت اچھی طرح سے جانتی ہوں اسکو “
‘ ” منال نے خود کو اسکے حصار سے نکالنا چاہا مگر پکڑ مضبوط تھی “
“‘ جبکہ حیدر کو منال کا اسکے سامنے کاوش کی سائیڈ لینا بلکل پسند نہیں آیا تھا ایک جلن کا احساس ہوا تھا اسکو “
” ‘ شروعات میں نے نہیں تمہارے بھائی نے کی تھی کسی غلطفہمی میں آکر میں بس اسکی وہ غلط فہمی دور کرکے آیا ہوں “
‘ ” حیدر نے اسکی کمر پر اپنی پکڑ سخت کی اور ساتھ ہی اسکو سچ بتانا ضروری بھی سمجھا تھا “
‘” کیسی غلطفہمی ?
” ‘ منال ناسمجھی سے اسکی طرف دیکھ رہی تھی ‘”
‘” تمہارے کزن کو لگتا ہے کہ میں نے تم سے شادی اسکو تکلیف دینے کے لئے کی ہے ..
بس وہی دور کرکے آیا ہوں ..
“‘ کہ میں نے صرف تمہاری محبت میں تم سے شادی کی
” تم سے محبت تک ہوئی جب میں تمہارے بارے میں کچھ نہیں جانتا تھا اور شادی سب سچ جاننے کے بعد کی تم .
‘ “وہ اسکی آنکھوں میں دیکھ کر بول رہا تھا اور اسکا ایک ایک لفظ منال کو اپنے دل میں اترتا ہوا محسوس ہو رہا تھا “
“‘ محبت تو وہ بھی کرنے لگی تھی اس سے اور آج وہ اسکے لئے کاوش سے بھی لڑ کر آیا تھا ..
” ‘ کتنی خوش قسمت تھی وہ “
“‘ ہاں میں اندازہ لگا سکتی ہوں کون کس کو سمجھا کر آیا ہے .
” وہ اسکی چوٹ کی طرف دیکھ کر مذاق اڑانے والے انداز میں بولی “
“‘ فکر نہ کرو تمہارے کزن کو بھی ایسی ہی چوٹ دیکر آیا ہوں بس جگہ الگ ہے ..
” ‘ وہ بھی کہاں چپ رہنے والا تھا “
‘ ” تم نے کاوش کو مارا ?
,, اسکی آنکھیں پوری کی پوری کھلی تھی “”
“‘ ہاں جب وہ مجھے مار سکتا ہے تو میں نے بھی حساب برابر کر دیا ,,
,, اور اب تمہاری باری ہے تمہارے لئے چوٹ کھائی میں نے اب اپنی سزا کے لئے تیار ہو جاؤ “
” حیدر شرارتی انداز میں بولا تو منال اسکو گھورتی ہوئی اس سے دور ہوئی تھی “
‘” پہلے اپنی تو چوٹ ٹھیک کر لو آئے بڑے سزا دینے والے..
وہ اسکی حالت کا مذاق بناتی ہوئی بولی اور واشروم کی طرف بڑھی تھی ‘”
‘” جبکہ اسکا جواب سن کر حیدر اسکے پیچھے لپکا مگر وہ بھی منال تھی اسکے ہاتھ نہ آئی تھی “
‘” تمھیں تو میں بتاتا ہوں منال بیگم ذرا باہر نکلو تم ,,
,, اسکی بڑبڑاہٹ سن کر منال ہولے سے مسکرائی تھی ”
💕💕
‘” وہ لاؤنج میں بیٹھی چینل ادھر ادھر بدل رہی تھی اس وقت اسکا کچھ بھی کرنے کا دل نہیں کر رہا تھا ”
‘ ” لیکن وقت گزارنے کے لئے اسکو کچھ تو کرنا تھا اس لئے ٹیوی اون کرکے بیٹھ گئی ”
‘” مگر دل کی بےچینی کسی بھی طرح کم نہیں ہو رہی تھی’
‘ اس نے ایک نظر گھڑی کی طرف دیکھا جو سات بجا رہی تھی ”
‘ ‘ کاوش کی اب تک واپسی نہیں ہوئی تھی ورنہ وہ پانچ بجے تک گھر آ جاتا تھا “
‘ ‘ کیونکہ اسکو رضوا کے گھر پر اکیلے ہونے کا خیال تھا ”
‘ ” مگر آج اسکو دو گھنٹے ہو گئے تھے وہ اب تک نہیں آیا تھا رضوا کا پریشان ہونا لازمی تھا ”
‘ ” وہ ٹیوی بند کرکے اٹھی اور ادھر سے ادھر ٹہلنے لگی تھی”
” رضوا کو کاوش کا صبح والا رویہ یاد آیا تھا ”
” وہ کس طرح سے اسکو اگنور کر رہا تھا اور اسکا اگنور کرنا رضوا کو کتنا پریشان کر رہا تھا اسکی آنکھوں میں پانی بھر آیا تھا مگر وہ نظر انداز کرتا آفس کے لئے نکل گیا ”
” رضوا جانتی تھی کہ وہ ایسا کیوں کر رہا ہے مگر وہ خود بھی مجبور تھی ”
‘” وہ اپنی اسکی پریشانی میں اب جان مزید ہلکان کرتی جب دروازہ کھلنے اور بند ہونے کی آواز پر اسکے قدم رکے تھے ”
‘” کاوش کی واپسی کا سوچ کر ہی اسکے چہرے پر رونک آئی تھی ”
” چہرہ یکدم خوشی سے کھل اٹھا تھا ”
‘” لیکن کاوش کے چہرے پر نظر پڑتے ہی جیسے اسکی جان ہی نکل گئی تھی ”
” ہونٹ پر لگا خون شرٹ کے بٹن ٹوٹے ہوئے تھے کوٹ بازو پر ڈالے سپاٹ چہرے کے ساتھ وہ لاؤنج میں داخل ہوا تھا ”
‘” کاوش ” یہ ..یہ کیا ہوا آپکو ..
اور یہ چوٹ کیسے لگی ”
“” رضوا بےاختیاری میں بولتی اسکی طرف بڑھی .
اس نے اپنا ایک ہاتھ کاوش کے سینے پر رکھا ہوا تھا جبکہ دوسرے ہاتھ سے وہ اسکے ہونٹ کے زخم کو چھو رہی تھی ”
” اسکے اس طرح سے اپنے قریب آ جانے پر کاوش حیران تو ہوا تھا مگر خود خود کو نارمل ظاہر کئے اسکے چہرے پہ اپنے لئے اسکی فکر دیکھنے لگا “
‘” بتایں نہ یہ چوٹ کیسے لگی آپکو ?
” اسکا دل کاوش کے زخم دیکھ کر تڑپ رہا تھا اسکی تکلیف کا سوچ کر اسکو بھی تکلیف ہو رہی تھی ”
‘” کچھ نہیں بس چھوٹا سا ایکسیڈنٹ ہو گیا تھا تمھیں فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے ‘
” وہ ناراض سے لہجے میں بولا اور اسکے ہاتھ اپنے سینے سے ہٹا کر کوٹ ایک سائیڈ پر رکھ کر صوفہ پر آ بیٹھا تھا ”
‘ ” اب وہ اسکو کیا بتاتا کہ وہ اسکے بھائی سے لڑ کر آیا ہے یہ سن کر یقیناً وہ پریشان ہو جاتی “
‘” کیوں فکر نہ کروں آپکو اتنی چوٹ لگی ہے رکے آپ میں دوائی لیکر آتی ہوں “
وہ فکرمندی سے کہتی ہوئی پلٹی تھی ‘
‘” رہنے دو رضوا میں نے کہا نہ کہ اسکی ضرورت نہیں ہے تم پریشان نہ ہو ”
” کاوش اسکی طرف دیکھ کر بولا مگر رضوا اسکی بات کو نظر انداز کرتی تیزی سے کمرے میں گئی تھی ‘
”” کچھ دیر بعد جب وہ واپس آئی تو اسکے ہاتھ میں کاٹن اور دوائی موجود تھی ”
” رضوا میں بول رہا ہوں نہ کہ مجھے ضرورت نہیں ہے ”
‘” وہ صوفہ پر اپنے قریب بیٹھتی رضوا کی طرف دیکھ کر پھر سے بولا “”
” آپکو نہیں ہے پر میرے لئے کروا لیں ”
” وہ بھیگی آنکھوں سے اسکی طرف دیکھ رہی تھی
اسکو اپنے لئے روتا ہوا دیکھ کر کاوش کو بہت اچھا لگ رہا تھا مگر اسکی ناراضگی بھی اپنی جگہ قائم تھی ”
‘” اس نے بھی اب فیصلہ کر لیا تھا کہ رضوا خود سے اپنی محبت کا اظھار کرے گی اور خود اسکے قریب آئے گی
یہ بھی اب اسکی ضد بن چکی تھی ”
‘” اسکے خاموش ہونے پر رضوا کانپتے ہاتھوں سے اسکے ہونٹ کا خون صاف کرنے لگی تھی ”
‘” وہ بہت احتیاط سے اپنا کام کر رہی تھی تاکہ کاوش کو درد محسوس نہ ہو .
” جبکہ چوٹ اتنے گہری نہیں تھی جتنی وہ فکرمند ہو رہی تھی ”
” خون صاف کرنے کے بعد وہ بہت نرمی سے اسکے زخم کو چھو رہی تھی اور پھر بےخودی کے عالم میں اسکے چہرے پر جھکی اور بہت ہی نرمی سے اسکی چوٹ کو اپنے ہونٹوں سے چھو کر پل میں دور ہوئی تھی ”
‘” جبکہ کاوش اسکے اس عمل سے حیران ہی تو رہ گیا تھا ”
‘” کیا میں جان سکتا ہوں کیا حرکت تھی یہ “
‘” وہ اسکے چہرے کو اپنے قریب کرتا ہوا بولا جبکہ اسکی بات سے شرم اور گھبراہٹ سے رضوا کی پلکیں جھک گئی تھی ”
‘” وہ …وہ مجھے لگا آپکو درد ہو رہا ہوگا تو اس لئے ”
وہ اپنے لب چباتی بات ادھوری چھوڑ گئی تھی ”
‘” مجھے درد میں دیکھ کر تمھیں تکلیف ہو رہی ہے ?
“محبت کرنے لگی ہو مجھ سے ”
‘”” وہ اسکی جھکی نظروں کو دیکھ کر سوال کر رہا تھا
اور رضوا میں تو اب بولنے تک کی ہمت نہیں بچی تھی “”
‘ ” بولو میں کچھ پوچھ رہا ہوں تم سے ?
‘ پھر سے سوال دوہرایا گیا تھا “
‘” مجھے نہیں پتہ ..
‘” رضوا اسکی طرف دیکھ کر بمشکل بول پائی تھی جبکہ اس بار بھی اسکے جواب نے کاوش کا موڈ خراب کر دیا تھا ..
‘ “تمھیں تو کچھ پتہ ہی نہیں ہوتا رضوا
‘اس نے ناراضگی سے کہتے ہوئے اسکا چہرہ آزاد کرتا ہوا اپنی جگہ سے کھڑا ہوا اور بغیر اسکی طرف دیکھے کمرے میں گھس گیا تھا “
” وہ اس سے اتنا انتظار کروا رہی تھی اتنی تو ناراضگی بنتی تھی اسکی “
💕💕
‘ ‘ کیا بات ہے بیٹا جب سے تم آئی ہو بلکل خاموش بیٹھی ہو کوئی بات ہوئی ہے کیا ?
,, نمرہ بیگم اپنے سامنے خاموش بیٹھی منال کی طرف دیکھ کر پریشانی سے بولی تھی ”
” ایک تو وہ صبح ہی انکے پاس آ گئی تھی اوپر سے اسکی خاموشی انکی پریشانی کو مزید بڑھا رہی تھی ”
” نہیں امی ایسی کوئی بات نہیں ہے بس تھوڑا پریشان ہوں میں ”
” انکی بات پر منال فورا سے بولی اور اپنی جگہ سے کھڑی ہوئی تھی ”
,, کیا ہوا بیٹا تم خوش تو ہو نہ اس گھر میں وہاں کے لوگوں کا رویہ تو ٹھیک ہے نہ تمہارے ساتھ ”
”نمرہ بیگم اپنی جگہ سے کھڑی ہو کر اسکے قریب آئی اور اسکا رخ اپنے جانب کیا تھا ”
” انہیں منال سے سب معلوم ہو چکا تھا کہ حیدر کس کا بیٹا ہے ..
یہ سب سن کر پہلے تو وہ پریشان ہوئی تھی کیونکہ وہ یاسر کے شاطر دماغ سے اچھے طرح واقف تھی مگر حیدر کی منال کے لئے محبت دیکھ کر انکے دل کو سکون ملا تھا ”
” کبھی کبھی تو وہ اس اتفاق پر حیران بھی رہ جاتی تھی کہ انکی بیٹی کی قسمت یاسر کے بیٹے سے جڑی ہوئی تھی ”
” امی میں نے حیدر سے ایک بات چھپائی ہوئی ہے اور اگر وہ بات حیدر کو کبھی معلوم ہو گئی تو میری زندگی میں پریشانی بڑھ سکتی ہے ”
”منال کھوے کھوے انداز میں بولی .
”کل حیدر کی باتوں سے اسکو احساس ہونے لگا تھا کہ اسے اب ایشا کے بارے میں بتا دینا چاہئے ..
” صرف اس وجہ سے وہ اس سے دور جاتی تھی ,
,,وہ نہیں جانتی تھی کہ سب کچھ معلوم ہونے کے بعد حیدر کا کیا ری ایکشن ہوگا مگر اب اس نے فیصلہ کر لیا تھا کہ اگر اسکو حیدر کے ساتھ آگے بڑھنا ہے تو پہلے اسکو سب بتانا ہوگا ..
,, کہیں تم رضوا کی بات تو نہیں کر رہی ہو ..
” نمرہ کو یکدم سے رضوا کا خیال آیا تھا کیونکہ وہ یہ بھی جان چکی تھی کہ رضوا کاوش کے پاس ہے ‘
”اس لئے انکا سب سے پہلا خیال وہیں گیا تھا ”
” نہیں امی یہ رضوا کے بارے میں نہیں ہے
یہ بات مجھ سے جڑی ہے جو حیدر کو ابھی تک معلوم نہیں ہے”
‘ ‘ منال پریشانی سے بولی ”
اس وقت اسکے کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ کیا کریں اس لئے وہ نمرہ بیگم سے اپنی پریشانی شیئر کر رہی تھی ‘
” تو بیٹا اگر یہ بات تمہارے بارے میں ہے تو تم فورا حیدر کو جاکر بتاؤ ..
ایسا نہ ہو کہ تم دونوں کے درمیان فاصلے آ جائے ‘
” حیدر تم سے بہت محبت کرتا ہے اور یہ محبت میں نے اسکی آنکھوں میں تمہارے لئے محسوس بھی کی ہے اس لئے تم خود جاکر اسکو بتاؤ جو کچھ بھی تم اسکو بتانا چاہتی ہو ”
‘ ‘ نمرہ بیگم اسکو سمجھاتی ہوئی بولی ‘
” وہ یہ نہیں جاننا چاہتی تھی کہ وہ بات ہے کیا کیونکہ انکو اپنی بیٹی پر پورا بھروسہ تھا کہ وہ اپنی پریشانی خود ٹھیک کر سکتی ہے ”
‘ ‘ جی امی آپ ٹھیک کہہ رہی ہیں ..
‘ ‘ میں آج ہی سب بات کلیر کر دیتی ہوں ‘
” انکی پوری بات سن کر منال خوش ہوئی تھی
‘ ‘ وہ تو خود بھی حیدر کو دل سے قبول کر چکی تھی بس یہ بات اسکو آگے بڑھنے نہیں دیتی تھی ..
” لیکن اب اس نے فیصلہ کر لیا تھا حیدر کو خود سب بتانے کا ..
آگے کیا ہونا تھا اس نے اسکی فکر نہیں کی تھی ,,
,, کچھ دیر ان سے باتیں کرنے کے بعد وہ واپسی کے لئے اٹھی تھی .
” گھر جاکر سب سے پہلے اسکو یہی کام کرنا تھا وہ مطمعین سی گھر سے نکلی تھی ”
” جب وہ کاوش کو اپنے اور اسکے درمیان نہیں لایا تھا تو اب اس نے بھی سوچ لیا تھا کہ وہ ایشا کو بھی اپنے اور اسکے درمیان نہیں لاۓ گی ..
“وہ آج ہی اسکو سب بتا دے گی “
,, لیکن کبھی کبھی جیسا ھم چاہتے ہیں ویسا نہیں ہوتا ہے..
شاید قسمت کو کچھ اس بار کچھ اور ہی منظور تھا”
” اسکے گھر سے نکلتے ہی حیدر کی کار وہاں آکر رکی تھی”
‘ صبح ہی صبح منال کو گھر میں موجود نہ دیکھ کر وہ سیدھا نمرہ بیگم کے گھر آیا تھا “
” مگر وہ نہیں جانتا تھا کہ یہاں آنے کے بعد اسکی زندگی میں بہت کچھ بدلنے والا تھا ”
💕💕
(جاری ہے )
