Ishq E Junoon By Iqra Sheikh Readelle50202 Episode 17
No Download Link
Rate this Novel
Episode 17
” ‘ ڈیڈ مجھے آپ سے ضروری بات کرنی ہے آپ مصروف تو نہیں ہیں ?
‘ حیدر اسٹڈی روم میں داخل ہوتے ہی سامنے چیئر پہ بیٹھے یاسر صاحب سے مخاطب ہوا تھا ”
” ہاں بولو بیٹا میں مصروف نہیں ہوں ..
انہوں نے اسکو سامنے رکھی چیئر پر بیٹھنے کا اشارہ کیا مگر وہ ایسے ہی کھڑا رہا تھا “
‘ ” ڈیڈ مجھے بس اتنا جاننا ہے کہ آخر آپ مجھے رضوا سے بات کیوں نہیں کرنے دیں رہے ہیں ..
وہ ٹھیک تو ہے نہ ?
” اتنے دن ہو گئے ہیں ..
نہ آپ مجھے وہاں جانے دیتے ہیں اور نہ اس سے بات کرنے دیتے ہیں آخر مثلا کیا ہے ?
“” وہ ایک سانس میں بولتا چلا گیا تھا
کل اس نے کتنی کوشش کی کہ وہ رضوا کے خاص دن پر اسکے ساتھ رہے یا کم از کم اس سے بات کرے لیکن یاسر صاحب نے اسکو منع کر دیا تھا “”
” ‘ اور آج وہ مزید برداشت نہیں کر سکا اس لئے انکے پاس آیا تھا “
“” جبکہ اسکی بات سن کر یاسر صاحب سوچ میں پڑ گئے تھے “
انکے پاس حیدر کے کسی بھی سوال کا جواب نہیں تھا “
” ” کل بھی اس سے بات نہیں کڑ سکا کتنا انتظار کیا ہوگا رضوا نے میرا “
“حیدر کے لہجے میں اپنی بہن کے لئے پریشانی تھی “
“” وہ رضوا کے ساتھ بہت کچھ شیئر کرنا چاہتا تھا مگر وہ اسکے پاس موجود نہیں تھی “
“” میں تمہاری پریشانی سمجھ سکتا ہوں حیدر مگر فلحال اسکے پاس جانا یا اس سے بات کرنا ٹھیک نہیں ہے ..
جب تک ہم کاوش کا معملا نہ سلجھا لیں کے کیسے اس سے رضوا کو اس رشتے سے آزادی دلوا سکیں ہم ,,
“” انہوں نے فورا سے بات بنائی تھی “
“” میں سمجھتا ہوں ڈیڈ کم از کم میری اس سے بات کروا دیں مجھے سکون مل جائے گا “
وہ بےچینی سے بولا تھا “”
“”رض وا سے بات کرنے سے زیادہ ضروری اس بات کاوش کے بارے میں سوچنا چاہئے ..
ویسے میں سوچ بھی چکا ہوں کہ ہم آگے کیا کر سکتے ہیں “
” یاسر صاحب پرسوچ انداز میں بولے ..
“”کیا سوچ چکے ہیں آپ ڈیڈ ?
“حیدر نے جاننا چاہا تھا کہ اسکے باپ کے دماغ میں اس وقت کیا چل رہا ہے “
“” سوچ تو لیا ہے میں نے لیکن وہ کام کرنا تمہارے ہاتھ میں ہے “
کیونکہ جو کرو گے اب صرف تم ہی کر سکتے ہو .
“تمہاری بہن کی اس رشتے سے آزادی کا راستہ تمہارے پاس موجود ہے “
“” وہ شاطر انداز میں حیدر کی طرف دیکھ کر مسکراۓ تھے
جبکہ حیدر ابھی بھی ناسمجھی سے اپنے باپ کی طرف دیکھ رہا تھا “
“” میں آپکی بات نہیں سمجھا ڈیڈ ..
” وہ انکی طرف دیکھ کر بولا “
“” اس میں ناسمجھنے والی کیا بات ہے کاوش سے اپنی بہن کی آزادی کا راستہ تمہارے پاس موجود ہے ہر ووہ راستہ ہے خود کاوش کی کزن “
“” مطلب تمہاری بیوی منال “”
“جہاں انکے منہ سے منال کا نام سن کر حیدر حیران ہوا تھا وہیں دروازے کے باہر اپنا نام سن کر منال کے قدم اپنی جگہ رکے تھے “”
“” اسے کسی کی بات سننا پسند نہیں تھا مگر اپنا نام سن کر مجبوراً وہ وہیں کھڑی ہو گئی تھی “”
“”تم کاوش کو بلیک میل کرو بلیک میل کرو ..
یا منال کو کو بولو کے وہ کاوش کو بولے کہ رضوا کو طلاق دیں ورنہ دوسری صورت میں تم اسکی بہن کو چھوڑ دو گے ہمارا کام آسان ہو جائے گا “
“” یاسر صاحب مسکرا رہے تھے جبکہ حیدر کو یقین کرنا مشکل ھو گیا تھا کہ اسکا باپ اتنی گھٹیا بات بھی سوچ سکتا ہے ..
“”وہیں دوسری طرف منال کی نفرت مزید بڑھی تھی یاسر صاحب کے لئے “
“” آپ نے یہ سب سوچ بھی کیسے لیا ڈیڈ کی میں ی سب کروں گا ..
منال میری محبت ہے میری بیوی ..
جب مجھے معلوم ہوا کہ منال کاوش کی کزن ہے تب میں نے اس بارے میں نہیں سوچا تو اب تو وہ میری بیوی ہے میں ایسا کرنے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا ہوں “
“”حیدر بول رہا تھا جہاں اسکے الفاظ سن کر یاسر صاحب گنگ رہ گئے تھے وہیں منال اپنی جگہ جم سی گئی تھی .
وہ حیدر کے لہجے اسکی بات میں اپنے لئے محبت محسوس کر سکتی تھی جو سچی تھی جس میں کوئی کھوٹ نہیں تھا “
” ” میں نے منال سے شادی اپنے مقصد کے لئے نہیں کی میں منال سے محبت کرتا ہوں شدید محبت “
” اور مجھے تو حیرانی ہو رہی ہے ڈیڈ کہ آپ کسی لڑکی کے بارے میں ایسا سوچ بھی کیسے سکتے ہیں “
” اسکو شاید زندگی میں پہلی بار اپنے باپ پر اتنا غصّہ آیا تھا “”
” ‘ جبکہ یاسر صاحب کے پاس تو الفاظ ہی نہیں تھے کچھ کہنے کے لئے وہ خاموشی سے اپنے بیٹے کو دیکھ رہے تھے “
” اور دروازے کے باہر کھڑی منال کے آنسووں رکنے کا نام ہی نہیں لے رہے تھے
کتنا غلط سمجھتی تھی وہ اسکو جبکہ غلط تو اسکی سوچ تھی “
“” آج تو آپ نے یہ بات کہہ دی ڈیڈ آئندہ اس طرح کی بات میرے سامنے نہ کرنا ..
“وہ اک نظر خاموش کھڑے یاسر صاحب کی طرف دیکھ کر بولا اور باہر کی طرف قدم بڑھاۓ تھے “
” اسکے قدموں کی آواز سن کر منال جیسے ہوش میں آئی تھی اور اسکے روم سے نکلے سے پہلے پہلے وہاں سے ہٹ گئی تھی “
” ” اب صرف روم میں یاسر صاحب اکیلے رہ گئے تھے انہیں جب معلوم ہوا تھا کہ منال کاوش کی بہن ہے تو تب یہ پلان انکے دماغ میں آیا تھا مگر حیدر کی بات پر وہ خاموش ہو کر رہ گئے تھے
💕💕
” ‘ تھوڑا وقت اور آگے بڑھا تو یاسر یسرا کو اپنی بیوی اور بچوں کی ماں بناکر اسی گھر میں لے آئے تھے جبکہ یہ بات الگ تھی کہ وہ شادی تو پہلے ہی کر چکے تھے مگر بیچارے بچے انہیں کیا پتہ اپنے باپ کے کارناموں کے بارے میں “
” ‘ یسرا اسی گھر میں آ گئی تھی جہاں وہ ہمیشہ سے آنے چاہتی تھی ..
اس گھر میں آنے کے لئے اس نے کیا کچھ نہیں کیا تھا .
وہ تصویر سارہ تک اس نے ہی پہنچائی تھی جسکا علم یاسر کو نہیں تھا “
” لیکن یسرا نے کبھی نہیں چاہا تھا کہ سارہ مر جائے یا گھر چھوڑ کر چلی جائے ..
مگر ووہ جانے انجانے میں سارہ کی موت کا ذمہ دار تھی مگر یہ الزام کسی اور پر آیا تھا “
” ‘ یاسر جب یسرا کو اس گھر میں لاۓ تھے تو انہوں نے بچوں کے سامنے یہی ظاہر کیا تھا کہ انہوں نے یہ شادی انکے لئے کی ہے جبکہ یسرا نے گھر میں آنے کے بعد بچوں کی طرف اک نظر دیکھنا تک پسند نہیں کیا تھا “
” ‘ اپنی تو کوئی اولاد نہیں تھی اس لئے وہ ھر طرح سے بےفکر تھی اور یاسر تو تھے ہی یسرا کے دیوانے انہیں اپنے بچوں کی طرف یسرا کی لاتعلقی دکھائی نہیں دیتی تھی “
“” اور انہوں نے یسرا کو اس بات کا احساس بھی نہیں دلایا تھا کیونکہ یسرا پہلے ہی بول چکی تھی کہ وہ انکے بچوں کے وجہ سے نہیں جا رہی ہیں اس گھر میں .
اور یاسر نے ان سے اس بات کے لئے کوئی زبردستی نہیں کی تھی “
“” حیدر سمجھدار تھا اپنا خیال خد رکھ سکتا تھا اس ن خود کو سمبھال لیا تھا ..
ویسے بھی اسے یسرا بیگم شروع دیں سے ہی پسند نہیں آئی تھی “”
“” بس ایک رضوا تھی جو اپنی ماں کے جانے کے بعد اور خاموش ہوکر رح گئی تھی “
اسکو ووہ دیں نہیں بھولتا تھا جب اسکے باپ نے اسکی ماں کے ساتھ لڑائی کی تھی اور اسکے بعد وہ ہمیشہ کے لئے اسکو چھوڑ کر چلی گئی تھی “
“” رضوا کہیں نہ کہیں اپنی ماں کی موت کا ذمہ دار یاسر کو سمجھتی تھی جو سچ بھی تھا اور یہی وجہ تھی کہ وہ ان سے دور ہوتی چلی گئی تھی “
‘ صرف ایک حیدر تھا جس سے وہ محبت کرتی تھی اور حیدر بھی اس سے کم محبت نہیں کرتا تھا ”
” وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یاسر کو احساس ہوتا چلا گیا تھا کہ یسرا کو صرف انکی دولت سے محبت تھی .
انہیں تو اس بات سے بھی کوئی فرق نہیں پڑتا تھا کہ یاسر نے انکے لئے اپنی بیوی اور دوست کو دھوکہ دیا تھا “
“” اب وہ یسرا کی طرف سے پچھتانے کے علاوہ اور کر بھی کیا سکتے تھے ..
مگر انکے دل میں ابھی بھی یہ غلطفہمی تھی کہ ووہ سب تصویر حسن نے دی تھی سارہ کو جس وجہ سے وہ حسن کے ساتھ ساتھ کاوش سے بھی نفرت کرنے لگے تھے “”
“” وہیں دوسری طرف حسن کاوش کو لیکر دوسرے ملک آ گئے تھے ..
وہ صرف اپنے بیٹے کے لئے جے رہے تھے اور یہ بات کاوش بہت اچھے سے جانتا تھا جب بھی وہ اپنے باپ کو دکھ میں دیکھتا اسکی نفرت میں اضافہ ہوتا رہتا تھا “
“” وہ اس وقت بری طرح سے ٹوٹا تھا جب حسن صاحب بھی دنیا سے رخصت ہو گئے تھے “
“لیکن جاتے جاتے انہوں کاوش کو سب بتا دیا تھا کہ یاسر نے انکے ساتھ کیا کیا ..
“اور سب بتانے کے بعد اس سے وعدہ لیکر گئے تھے کہ وہ اپنی امانت اپنی بیوی کو اپنے پاس لیکر آئے گا اور اس رشتے کو پوری ایمانداری سے نبھانے کا وعدہ لیا تھا “”
” اور کاوش نے وعدہ کیا تھا اس لئے وہ واپس آیا تھا ..
دل میں نفرت لئے لیکن اسکی نفرت رضوا کے سامنے ہار گئی تھی “
“وہ لاکھ پتھر بن جاتا مگر رضوا اسکی محبت تھی اور اپنی محبت کو وہ تکلیف نہیں دیں سکتا تھا “
“مگر یاسر سے اسکی نفرت میں ہر دیں اضافہ ہوتا رہتا تھا””
💕💕
” کاوش آپ مجھے کہاں لیکر جا رہے ہیں “
“رضوا نے ڈرتے ڈرتے اپنی آنکھ پر بندھی پٹی کو ہٹانا چاہا تھا “
” اس وقت اسکو اس پٹی سے گھبراہٹ سی محسوس ہو رہی تھی “
” رضوا میں کہہ چکا ہوں نہ تم اپنی پٹی تب تک نہیں اتار سکتی جب تک میں نہ بولوں ..
“اس لئے چپ چاپ بیٹھی رہو ..تھوڑی دیر میں معلوم ہو جائے گا تمھیں “
” ” اس بار وہ تھوڑا سخت لہجے میں بولا تو رضوا نے ڈر کے اپنے ہاتھ گود میں رکھ لئے تھے “
” ‘ پچھلے دو گھنٹوں سے وہ اس سے کم از کم پانچ بار اس سے سوال کر چکی تھی
مگر ہر بار ایک ہی جواب ملتا تھا “
” لیکن اس بار جواب کے ساتھ لہجہ تھوڑا سخت ہوا تو رضوا ڈر کے چپ چاپ بیٹھ گئی تھی ..
پتہ نہیں کہاں لیکر جا رہا تھا وہ اسکو “
” ‘ کاوش نے کار ڈرائیو کرتے وقت ایک نظر خاموش بیٹھی رضوا دیکھا تو چہرے پر مسکراہٹ آئی تھی ..
وہ پھر سے گردن موڑ کر ڈرائیونگ کرنے میں مصروف ہو گیا تھا””
” ‘ آدھے گھنٹے بعد اس نے کار کو روکا اور اپنی سائیڈ کا دروازہ کھول کر رضوا کی سائیڈ آیا ..
اور اسکی سائیڈ کا دروازہ کھول کر رضوا کو بازو سے پکڑ کر کار سے باہر نکالا تھا “
‘ ” تمھیں کچھ گھنٹے اس گھر سے آزادی کا وعدہ کیا تھا نہ تو آج میں اپنا وعدہ پورا کر رہا ہوں ..
وہ اسکے کان میں سرگوشی کے انداز میں بولا اور اسکی آنکھوں پر سے پٹی ہٹائی تھی “
” ‘ رضوا نے جیسے ہی آنکھیں کھولی تو سامنے کا نظارہ دیکھ کر اسکو ایک پل کے لئے یقین کرنا مشکل ہو گیا تھا ..
” سمندر “”
بہت آہستہ آواز میں وہ کاوش کی طرف دیکھ کر بولی تھی .
ایسی جگہ پر آنا اسکا خواب تھا “
“مگر کبھی حیدر کو وقت نہیں ملا تھا “
” ‘ مجھے سمندر دیکھنا بہت پسند ہے ..
لیکن یہ آپکو کیسے معلوم ..
“وہ چہرے پر مسکراہٹ لئے اسکی طرف دیکھ رہی تھی جبکہ حیدر تو اسکی خوشی دیکھ کر کہیں کھو سا گیا تھا “
” ‘ جن لوگوں سے محبت ہوتی ہے انکی پسند نہ پسند کے بارے میں ہمیں سب معلوم ہوتا ہے “
“وہ اسکے چہرے پر آئے بالوں کو اسکے کان کے پیچھے کرتا ہوا بولا “
“ٹھنڈی ہوا کے ساتھ اپنے چہرے پر اسکے ہاتھ کا گرم لمس محسوس کر کے ایک الگ ہی سکون ملا تھا اسکو “
‘اس وقت وہاں ان دونوں کے علاوہ اور کوئی موجود نہیں تھا
شام کا وقت تھا چاروں طرف بس سمندر کی لہروں کی آوازیں سنائی دے رہی تھی “
” ‘ جاؤ کچھ گھنٹے ہیں تمہارے پاس آزادی سے جی لو انہیں اس نے اجازت دی تھی اسکو یہ جگہ گھومنے کی “
” وہ بول رہا تھا اور رضوا اسکی طرف دیکھ رہی تھی یہ شخص اس شخص سے بلکل الگ تھا جس سے وہ یونی میں ملی تھی”
” ‘ اس نے کبھی خواب میں بھی نہیں سوچا تھا کہ کاوش اسکے لئے اتنا کچھ کرے گا “
‘ ابھی وہ دو دن پہلے والا سرپرائز ہی نہیں بھول پائی تھی اور اب یہ …
سب کچھ ایک خواب کی طرح سے تھا اسکے لئے “
“‘ کاوش کی اجازت ملنے کی دیر تھی رضوا آہستہ سے قدم اٹھاتی آگے بڑھی تھی “
“یہاں کی ٹھنڈی ہوا کو محسوس کر کے اسکو اندر تک سکون مل رہا تھا “
‘ ” وہ خوشی سے اس جگہ کو دیکھ رہی تھی اور کاوش کار سے ٹیک لگا کر اسکے خوشی سے کھلتے چہرے کو دیکھ رہا تھا “
” ‘ وہ بےخودی سے چلتی پانی کو دیکھی آگے بڑھ رہی تھی
وہ اس پانی میں جانا چاہتی تھی اس سے کھیلنا چاہتی تھی””
” جیسے ہی اسکے پیروں نے پانی کو چھونا شروع کیا تو ٹھنڈ کا احساس اسکے پورے بدن میں ڈورا تھا ‘
‘” دیکھتے ہی دیکھتے اس نے پانی سے کھیلنا شروع کر دیا تھا .
کاوش دور کھڑا اسکو دیکھ رہا تھا “
اسکو ڈر بھی تھا کہ کہیں وہ زیادہ گہرائی میں نہ چلی جائے اس لئے اسکی طرف بڑھا تھا “
‘ ” رضوا مگن سی پوری طرح سے بھیگ چکی تھی جب اسکو اپنے قریب کاوش کی موجودگی کا احساس ہوا تو اس نے پلٹ کر دیکھا تو اپنی پینٹ تھوڑی سی فولڈ کئے اسکے پاس آ گیا تھا “
” ‘ تمھیں اچھا لگ رہا ہے یہ سب “
اسکے چہرے کو اپنی نظروں کے حصار میں لئے سوال کیا گیا تھا “
” ‘ بہت اچھا ..میرا دل کر رہا ہے میں یہیں رہ جاؤں ہر چیز کو چھو کر دیکھوں ..
” وہ کھوے کھوے انداز میں بولی ..
” ‘ہاں میرا بھی دل کر رہا ہے کہ میں بھی چھو لوں ..
کاوش خمار آلودہ لہجے میں کہتے ہوئے اسکے گیلے بالوں کو اسکی گردن سے ہٹایا اور اپنے دہکتے ہوئے لب اسکی گردن پر رکھ دیے تھے “
“‘ اسکو پھر سے پٹری سے اترتا دیکھ رضوا کی سانسیں بےترتیب ہوئی تھی “
“چہرے کے تاثرات یکدم بدلے تھے “
” ‘ رضوا تم اتنی خوبصورت کیوں ہو ..
میں جب جب تمھیں دیکھتا ہوں میری محبت مزید بڑھتی ہے”
” ‘ تمہارا یہ چہرہ ..
تمہاری آنکھیں ”
“یہ ہونٹ “
” وہ ایک ایک کر کے اسکے چہرے کے نکوش کو چھو رہا تھا”
“‘ تمہارے سینے میں دھڑکتا یہ دل ..
اس نے بےخودی سے کہتے اسکے سینے پر اپنا ہاتھ رکھا تھا”
“وہ رضوا کے تیزی سے دھڑکتے دل کو بہت اچھے سے محسوس کر سکتا تھا “
” ‘ یہ سب مجھے اپنا دیوانہ کرتے جا رہے ہیں “
“کاوش کے اس طرح سے کرنے پر رضوا میں تو جیسے ہلنے تک کی ہمت نہیں بچی تھی
اس نے گھبرا کر اپنے ہونٹوں پر زبان پھیری تھی “
” ‘اور بس یہی وہ لمحہ تھا جب کاوش کی نظر اسکے ہونٹوں پر پڑی اور وہ بےخود سے اسکے ہونٹوں پر جھکا اور بہت نرمی سے اسکے ہونٹوں کو چھوتا پل میں اس سے دور ہوا تھا “
” کیا کوئی کسی کا اتنا دیوانہ ہو جاتا ہے جتنا میں ہو گیا ہوں..
‘ وہ اسکو دونوں کندھوں سے تھامتا ہوا بولا ‘
” ‘ مجھے نہیں پتہ کاوش ..
رضوا بمشکل بول پائی تھی “
اسکی سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ اسکو کیا جواب دے .
” ‘ جس دن تم میرے پیار میں دیوانی ہو جاؤ گی تب تم بھی خود سے یہ سوال پوچھو گی ..
اور میں جانتا ہوں وہ دن بھی دور نہیں ہے ..
” کاوش نے اسکو کھینچ کر اپنی باہوں کے حصار میں لے لیا تھا اور اسکی نرم گرم باہوں کے حصار میں رضوا نے سکون سے اپنی آنکھیں بند کر لی تھی ..
‘ وہ دونوں ایک دوسرے کے قریب تھے ایک دوسرے کے ساتھ مکمل ..
ایک دوسرے کے لئے “”
💕💕
” ” وہ جیسے ہی کمرے میں داخل ہوئی تو اپنے سامنے حیدر
کو دیکھ کر اسکے چہرے پر خوشی کے رنگ بکھر گئے تھے “
” کیونکہ اس دن کے بعد سے وہ آج اسکو اپنے سامنے دیکھ رہی تھی ..
” اس دیں حیدر کی باتیں سننے کے بعد منال کو لگنے لگا تھا کہ اسکی یہ نفرت بےوجہ تھی “
“”وہ حیدر کو جیسا سوچتی تھی وہ ایسا بلکل نہیں تھا
“اسکا دل کیا تھا کہ وہ حیدر سے بات کرے مگر وہ یاسر صاحب کے پاس سے آنے کے بعد دو دن کے لئے شہر سے باہر چلا گیا تھا کسی میٹنگ کے لئے “
” آج پورے دو دن بعد اسکو اپنے سامنے دیکھ کر منال کو ایک الگ سی خوشی محسوس ہوئی تھی “
“” حیدر جو اپنا کوٹ اتار کر صوفہ پر ڈال چکا تھا کسی کی آہٹ پر اس نے پلٹ کر دیکھا تو منال کو خود کی طرف دیکھتا پایا ..
“وہ اسکو نظر انداز کرتا اپنی شرٹ کے بٹن کھولنے لگا تھا “
“” جانے کیوں منال کو آج اسکا یوں اس طرح سے نظرانداز کرنا بلکل اچھا نہیں لگا تھا “
“وہ بےخودی سے اسکی طرف دیکھتی اسکی طرف بڑھی اور اپنے نازک بازوں کا حصار اسکے گرد باندھ دیا تھا “
“” حیدر اپنی شرٹ کے بٹن کھول رہا تھا منال کی اس حرکت پر اسکے چلتے ہاتھ یکدم سے رکے تھے “
” وہ حیران سا کبھی اپنے سینے پر رکھے اسکے ہاتھوں کو دیکھتا تو کبھی گردن موڑ کر خود سے چپکی کھڑی منال کو “
“” اسکو اس وقت اپنی آنکھوں پر یقین کرنا مشکل لگ رہا تھا””
” ” تم پہلے سے ہی اتنے اچھے تھے یا ابھی بن گئے ہو ?
تعریف کے ساتھ ساتھ سوال بھی کیا گیا تھا
” جبکہ حیدر اسکی بات سن کر حیران ہوا تھا وہیں اسکی دوسری بات پر اسکی مسکراہٹ مزید گہری ہوئی تھی “
” ‘ اس نے مسکراتے ہوئے منال کے ہاتھوں کو تھام کر اسکو اپنے سامنے کیا تھا “
” بیگم میں تو شروع سے ہی اچھا تھا بس تمھیں ہی برائی نظر آتی ہے مجھ میں میرے ہر عمل میں “
“اس نے منال کی ٹھوڈی کے نیچے اپنی انگلی رکھ کر اسکا چہرہ اوپر کیا تھا “
اسکی بات پر منال نے بھیگی آنکھوں سے اسکی طرف دیکھا
“جبکہ اسکی آنکھوں میں آنسوں دیکھ کر حیدر پریشن ہوا تھا یہ آنسوں بہاتی منال اسکی منال نہیں تھی ..
اسکی منال تو ہر وقت لڑنے غصّہ کرنے والی منال تھی “
” ” ویسے یہ بتاؤ آج سورج کہاں سے نکلا ہے کہ منال حیدر علی نہ صرف میری تعریف کر رہی ہیں بلکہ خود سے میرے قریب بھی آئی ہیں “
“ورنہ میں قریب جانے کی کوشش کرتا ہوں تو دور بھاگتی ہو مجھ سے “
“” دو دن میں ایسا کیا بدل گیا
وہ اسکی بھیگی آنکھوں میں دیکھ کر بولا
“منال کا رویہ اسکے لئے بلکل الگ تھا “
“” حیدر میں غلط تھی میں نے تمھیں غلط سمجھا اپنی نفرت اپنے غصّے میں اتنی پاگل ہو گئی تھی کہ کچھ نہیں سوچا میں نے کہ کیا صحیح ہے اور کیا غلط “
وہ شرمندہ سی اسکی طرف دیکھ کر بولی تھی آنکھوں سے آنسوں بہنا شروع ہو چکے تھے “
” ” کتنا اچھا تھا یہ شخص کے اپنے باپ کے سامنے اسکے لئے لڑ رہا تھا .
جبکہ آج تک اس نے صرف غصّہ اور نفرت ہی کی تھی اس سے”
“” جبکہ اسکے الفاظ سن کر حیدر کی حیرانی مزید بڑھی تھی سچ میں سب سے الگ تھی یہ لڑکی کب کیا کر جائے کس کو معلوم تھا “
” ہاں جانتا ہوں تم غلطی پر تھی لیکن اب کس طرح سے مجھ معصوم پر رحم آ گیا تمھیں کیا وجہ ہے آخر “
وہ تھوڑا ہکلے پھلکے انداز میں بولا مقصد صرف اسکو رلیکس فیل کرانا تھا “
“بس ہو گئی غلط فہمی دور
میں اپنی غلطی اکسیپٹ کر رہی ہوں نہ کیا اتنا کافی نہیں ہے ” وہ بولتے بولتے اپنے آنسوں بچوں کی طرح صاف کرتی ہوئی بولی تھی .
وہ ایسی ہی تھی دل کی صاف اپنی غلطی کو جلدی سے قبول کرنے والی “
” جبکہ حیدر محفوظ سا اسکو دیکھ رہا تھا وہ اسکی ہر ایک ادا کا دیوانہ تھا ‘
‘ ‘ میں جانتی ہوں کہ میں غلط تھی پر تم بھی کم نہیں ہو کتنا پریشان کرتے ہو مجھے ‘
” ‘ اس سے اسی کی شکایات کی جا رہی تھی .
اپنے دوٹے سے آنسوں صاف کرتی وہ لڑکی حیدر کو اپنے سحر میں جکڑ رہی تھی “
“رونے کی وجہ سے ناک بری طرح لال ہو چکی تھی
” وہ اسکو دیکھتا ایک قدم اسکے مزید قریب ہوا اور منال نے کچھ کہنے کے لئے منہ کھولا ہی تھا جب وہ اسکے ہلتے لبوں پر اپنے لب رکھ چکا تھا ” ‘
” ‘ اسکی اس گستاخی پر منال نے سختی سے اسکی شرٹ کو اپنی گرفت میں لیا تھا ‘
” حیدر اسکے ہونٹوں پہ جھکا اسکی سانسوں کو اپنے اندر اتار رہا تھا “
“” منال کے لئے یہ جاننا مشکل ہو رہا تھا کہ اس نے اپنی اگلی سانس کب لی تھی “
حیدر کی پکڑ اسکی کمر پر سخت ہوتی جا رہی تھی “
“منال کو جب لگا کہ وہ نہیں رکنے والا تو اس نے حیدر کے سینے پر ہاتھ رکھ کر اسکو خود سے دور کیا تھا “
” ‘ حیدر ..پلز.. رک جاؤ ..مت کرو ..
“وہ گہرے گہرے سانس لیتی بمشکل بول پائی تھی
اس وقت اسکے انداز میں غصّہ نہیں تھا بلکہ شرم تھی جھجھک تھی “
” ‘ نہیں منال یہ میرے لئے اب مشکل ہے ..
بہت مشکل “
“”وہ خمار آلوده لہجے میں کہتا پھر سے اسکو ہونٹوں پر جھک گیا تھا “
” ‘ آج منال کو اس سے اپنی جان چھوڑانا مشکل لگ رہا تھا
اسکی دھڑکنے تیز ہوتی جا رہی تھی ..
سانس کہیں سینے میں ہی اٹک کر رہ گیا تھا “”
“” حیدر ایک ہاتھ سے اسکے اپنی گرفت میں لئے اپنے دوسرے ہاتھ سے شرٹ کے بٹن کھول چکا تھا لیکن اس دوران وہ اک پل بھی منال سے جدا نہیں ہوا “
“” حیدر پلز یہ سب اتنی جلدی ٹھیک نہیں ہے ..
” وہ اپنی غیر ہوتی حالت پر بمشکل قابو پاتی بولی مگر اسکی سن کون رہا تھا “
“” کچھ جلدی نہیں ہے منال ..اور آج تم مجھے روک بھی نہیں سکتی
..کیونکہ آج تم خود میرے قریب آئی ہو .
“”وہ اسکو اپنی باہوں میں اٹھا کر بیڈ پر لایا اور اسکو لیٹا کر منال پہ جھکتا ہوا بولا تھا “
“” اسکے ہونٹوں کا لمس اپنی گردن پہ محسوس کر کے منال کی جیسے جان ہی نکل گئی تھی “
“”حیدر پلز …آخری بار مزاحمت کرنے کی کوشش کی مگر حیدر پھر سے اسکی بولتی بند کر چکا تھا “
“”وہ بس منال کو اپنے قریب محسوس کرنا چاہتا تھا اسکو بتانا چاہتا تھا کہ وہ اس سے کتنی محبت کرتا ہے ..
اور اپنے اس کام میں اس نے منال کو بھی بولنے کی اجازت نہیں دی تھی
💕💕
(جاری ہے )
