103.8K
25

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

2nd Last Episode

” (کچھ دن بعد )”
” فنکشن کرنا چاہتے ہیں آپ لوگ ?
” کاوش نے باری باری ان دونوں کی طرف دیکھا تھا ”
” ہاں بیٹا میں نے اور بھائی صاحب نے فیصلہ کیا ہے کہ ہم چاہے چھوٹا سا ہی سہی لیکن فنکشن کریں گے ”
” وہ محبت سے ان دونوں کی طرف دیکھ کر بولی تو کاوش نے ایک نظر اپنے سامنے بیٹھے حیدر کی طرف دیکھا تھا ”
” پر ڈیڈ اب اسکی کیا ضرورت ہے میرا مطلب ہے کہ ”
” حیدر کی سمجھ نہیں آیا تھا کہ وہ کیا بولے ان دونوں کو فنکشن سے کوئی پرابلم نہیں تھی مگر انکے دوسرے فیصلے نے ان دونوں کو پریشان کیا تھا ”
” نہیں بیٹا اسکی بہت ضرورت ہے تم نے سادگی سے نکاح کر لیا بغیر کسی فنکشن کے اور پھر رضوا کی رخصتی بھی میں نہیں کر پایا ..
میرے دونوں بچوں کی ایسے ہی شادی ہو گئی اس لئے میں نے سوچا ہے کہ ہم ایک چھوٹا سا فنکشن رکھ لیں گھر میں رونق بھی ہو جائے گی”
” یاسر صاحب نے بہت محبت سے اپنے بیٹے کی طرف دیکھا”
” اس دن انکی طبیعت اچانک سے خراب ہو گئی تھی مگر سب کی دعائے انکو پھر سے زندگی کی طرف لے آئی تھی ”
” ہسپتال سے واپس آنے کے بعد انہوں نے سب سے پہلا کام یسرا کو طلاق دینے کا کیا تھا ”
” اس بات پر یسرا نے بہت شور مچایا دھمکی دی مگر حیدر انکو اپنے غصّے سے بہت کچھ سمجھا چکا تھا ”
” لیکن اسکے باوجود بھی یاسر صاحب نے اپنا ایک فلیٹ یسرا کے نام کر دیا تھا جس کو یسرا بڑے حق سے لیکر انکے گھر سے روانہ ہو گئی تھی ”
” وہ ایک لالچی عورت تھی انکے ساتھ بلکل ٹھیک ہوا تھا ”
” ہاں بھائی صاحب بلکل ٹھیک کہہ رہے ہیں ایک ہفتہ بعد کا سوچا ہے ھم دونوں نے تب تک بھائی صاحب کی طبیعت بھی بہتر ہو جائے گی ”
” رضوا کو بھی وقت مل جائے گا انکے پاس رہنے کا اور میں منال کو ساتھ لیکر ساری تیاریاں کر لونگی ”
” ان دونوں کی حالت سے بےخبر نمرہ بیگم بڑے آرام سے اپنا فیصلہ سونا رہی تھی ”
” اور وہ دونوں بچارگی سے ایک دوسرے کی طرف دیکھ رہے تھے ”
” آج وہ کتنا خوش تھا کہ رضوا کو اپنے ساتھ لیکر آ جائے گا مگر نمرہ بیگم کے اس فیصلے نے اسکی خوشی کو پل میں ختم کر دیا تھا ”
” ہسپتال سے واپس آنے کے بعد رضوا تب سے ہی اپنے گھر رہ رہی تھی جبکہ منال بھی اسکے ساتھ مل کر یاسر صاحب کی دیکھ بھال کر رہی تھی مگر اب جدائی کے لمحے حیدر کی حصّے میں بھی آنے والے تھے ”
” اب تم دونوں بتاؤ تمھیں اس فیصلے سے کوئی اعتراض تو نہیں ہے نہ ”
” ابکہ بار یاسر صاحب ان دونوں سے مخاطب ہوئے تھے ”
” انکی بات سن کر کاوش نے ایک نظر حیدر کے اترے ہوئے چہرے کی طرف دیکھا اور نہ میں گردن ہلائی تھی ”
” نہیں چاچو آپ جیسا چاہتے ہیں ویسا ہی ہوگا ”
” کاوش معصوم سی شکل بنا کر انکی طرف دیکھ کر بولا جبکہ اسکا دل کہہ رہا تھا کہ ان سے کہہ دے کی اسکی بیوی کو اسکے ساتھ بھیج دیں پھر چاہے فنکشن کبھی بھی کرتے رہے ”
” مگر اپنی اس معصوم سی خوائش کو اپنے اندر دبا گیا تھا ”
” اسکا جواب سن کر یاسر صاحب مطمئن ہوکر نمرہ بیگم سے باتوں میں مصروف ھو گئے تھے ”
” جبکہ وہ دونوں بےچینی سے اپنی اپنی بیوی کا انتظار کر رہے تھے جو نہ جانے کہاں چھپ کر بیٹھ گئی تھی ”
” جبکہ منال اور رضوا لاؤنج کے دروازے میں کھڑی ان دونوں کی شکل دیکھ کر بمشکل اپنی ہنسی ضبط کئے ہوئے کھڑی تھی ”
” یہ آئیڈیا منال کا تھا جس میں رضوا نے اسکا پورا ساتھ دیا تھا ”
” وہ دونوں ہمیشہ ان دونوں کو پریشان کرتے رہتے تھے اب ان دونوں کی باری تھی انکو پریشان اور اپنے لئے تڑپتا ہوا دیکھنے کی ”’
💕💕
‘” حسن صاحب دوائی دینے کے بعد انکو سونے کا کہہ کر وہ ٹرے لیکر کچن میں آئی تھی ”
” آج یاسر صاحب کی طبیعت کچھ ٹھیک نہیں تھی تو رضوا کافی دیر تک انکے پاس ہی بیٹھی رہی تھی ”
”ان سے باتیں کرتے ہوئے وقت کا بلکل اندازہ ہی نہیں ہوا تھا جب وہ سو گئے تو انکے کمرے سے آ گئی تھی ”
” وہ پوری طرح سے انکی خدمت کر رہی تھی اس نے ایک بیٹی کا فرض پوری طرح سے نبھایا تھا ”
” اسکو اپنے لئے یوں پریشان اور فکرمند ہوتا دیکھ یاسر صاحب کو بہت اچھا لگتا تھا ”
” وہ شروع سے ہی رضوا کو اپنے قریب دیکھنا چاہتے تھے جس طرح سے وہ ان سے باتیں کرتی آدھی بیماری تو انکی یوں ہی ٹھیک ہو گئی تھی ”
” اور اب انکے ساتھ وقت گزار کر رضوا کی زندگی میں باپ کی کمی محسوس ہوتی تھی وہ بھی ختم ہوتی جا رہی تھی”
” ٹرے شیلف پر رکھ کر اب اسکا ارادہ اپنے لئے کافی بنانے کا تھا ”
”کیونکہ نیند تو اسکی اب مکمل اڑ ہی چکی تھی ”
” اس سے پہلے کے وہ پلٹتی کسی نے پیچھے سے اسکو اپنی باہوں کے حصار میں لیا تھا ”
”اسکا لمس اور جانی پہچانی خوشبو اسکی ناک سے ٹکرائی تو رضوا کے ہونٹوں پر ایک خوبصورت سی مسکراہٹ آئی تھی ”
” آپ اس وقت یہاں کیا کر رہے ہیں ”
” سرگوشی کے انداز میں سوال کیا گیا اسکو ڈر تھا کہ کہیں کوئی کچن میں نہ آ جائے ”
”تمہاری یاد آ رہی تھی تو چلا آیا اور ویسے بھی محبت کرنے والے وقت نہیں دیکھتے جانم ”
” وہ اسکے رخسار پر اپنے لب رکھتا ہوا محبت سے بولا اور اپنی تھوڈی اسکے کندھے پر ٹکا دی تھی ”
” اگر آپکو کسی نے اس وقت یہاں دیکھ لیا تو کیا ”
” رضوا ایسے بات کر رہی تھی جیسے وہ اسکا شوہر نہیں کوئی غیر محرم ہو ”
” کون دیکھے گا چاچو سو چکے ہیں ملازم ہونگے نہیں اور رہ گیا حیدر تو تمھیں کیا لگتا ہے وہ بھی اس وقت گھر پر موجود ہوگا ”
” وہ اسکو کمر سے پکڑ کر شیلف پر بیٹھاتا ہوا بولا تو رضوا خاموشی سے لب چباتی رح گئی تھی ”
” اچھا یہ بتایں کھانے کھائے گے ?
”کوئی بات نہ ملنے پر رضوا اسکی بھوک کا خیال آیا تو وہ یکدم فکرمندی سے بولی تھی ”
” ہاں یار بھوک تو بہت لگی ہے وہ بھی شدّت والی چلو تمہارے بیڈروم میں چلکر میری بھوک کو ختم کرتے ہیں ”
” وہ ذو معنی لہجے میں بولتا اسکے ارد گرد اپنے ہاتھ رکھ کر اس پر مزید جھکا تھا ”
” جبکہ اسکی بات کا مطلب سمجھ کر رضوا کا چہرہ شرم سے لال ہوا تھا
اسکی بولتی نظروں سے گھبرا کر اس نے اپنی پلکیں جھکا لی”
” یار کچھ تو رحم کرو میری حالت پر ایک تو ویسے ہی بہت مشکل سے خود پر ضبط کئے کھڑا ہوں اگر میرے سامنے ایسے ہی بیٹھی رہوگی تو سچ میں خود پر قابو کرنا مشکل ہو جائے گا ”
” وہ اسکے لبوں کو اپنی انگلی سے سہلاتا ہوا خمار آلودہ لہجے میں بولا تھا ”
”کاوش ”
” اسکی باتیں رضوا کو بری طرح کنفیوز کر رہی تھی ”
” کاوش ”کاوش کرکے مجھے اور مت تڑپاؤ ایک تو میری سمجھ نہیں آ رہا خالہ کو ایسا آئیڈیا آیا کہاں سے اچھا خاصا تمھیں لینے آ رہا تھا میں آج ”
” اسکو پھر سے اپنا غم یاد آیا تھا ”
” جبکہ اسکی بات پر رضوا کو اپنی ہنسی روکنا مشکل ہو گیا تھا ”
”اس نے اپنا لب دانتوں میں دبایا ”
” میں یہاں تڑپ رہا ہوں اور تمھیں ہنسی آ رہی ہے ابھی بتاتا ہوں تمھیں تو ”
” کاوش نے ناراضگی سے کہتے ہوئے سختی سے اسکو بالوں سے پکڑ کر اپنی طرف کھینچا اور اسکی ہنسی کے ساتھ ساتھ اسکی سنسیں بھی بند کر چکا تھا ”
” چلو آج رات تو مجھے سکون سے نیند آ جائے گی ”
” وہ اس سے جدا ہوتا ہوا شرارتی انداز میں بولا اور اسکی پیشانی پر اپنے لب رکھے تھے ”
” رضوا نے بری طرح سے شرما کر اسکے سینے میں اپنا چہرہ چھپایا تھا ”
” تو پھر کیا ارادہ ہے جانم بیڈروم میں چلیں ”
” وہ اسکی کمر کے گرد بازو حائل کرتا ہوا شوخ ہوا تھا جبکہ اسکی بات سن کر رضوا یکدم سے پیچھے ہٹی اور جلدی سے شیلف سے اتری تھی ”
” وہ کچھ بھی کر جائے اسکا کوئی بھروسہ نہیں تھا ”
” چلیں پھر ?
” وہ اسکی آنکھوں میں دیکھ کر بولا تو رضوا فورا سے دور ہوئی تھی ”
اس وقت وہ اسکی حالت کو انجوۓ کر رھا تھا”
” بلکل بھی نہیں ”
” وہ اپنی بات کہہ کر وہاں رکی نہیں تھی تیزی سے کچن سے نکل گئی تھی اسکی جلدبازی پر کاوش مسکرا دیا تھا ”
💕💕
” کیا ہوا تم سو کیوں نہیں رہی ہو ”
” نمرہ بیگم نے جب کروٹ بدلی تو منال کو جاگتا دیکھ کر اس سے مخاطب ہوئی تھی ”
” امی مجھے ایسا لگ رہا ہے کہ دروازے پر کوئی ہے شاید ‘
” وہ بند دروازے کی طرف دیکھ کر بولی اسکو ڈر سا محسوس ہو رہا تھا ”
” کوئی نہیں ہے ..
” نئی جگہ ہے نہ اس لئے تمھیں ایسا لگ رہا ہے لائٹ بند کر کے سو جاؤ تمھیں نیند آ جائے گی ”
” نمرہ بیگم اپنے اوپر کمفرٹر ٹھیک کرتی ہوئی بولی اور پھر سے آنکھیں بند کر چکی تھی ”
” وہ لوگ اس وقت کاوش کے گھر موجود تھے کاوش کے بےحد اسرار پر نمرہ بیگم بہت مشکل سے راضی ہوئی تھی اسکے پاس رہنے کے لئے ”
” اور یہ منال کی بھی خوائش تھی جو کاوش بغیر کہے پوری کر چکا تھا ”
” نمرہ بیگم کے لیٹنے کے بعد اس نے جیسے ہی لیٹنا چاہا تو اسکو پھر سے کسی کی آہٹ سنائی دی تھی ”
” منال کو ڈر تو لگ رہا تھا مگر وہ ہمت کرتی ہوئی بیڈ سے اٹھی اور آہستہ سے قدم اٹھاتی ہوئی کمرے سے باہر نکلی تھی ”
” کمرے سے نکل کر وہ لاؤنج میں داخل ہوئی تو یکدم سے اسکو اپنے قریب کسی کی موجودگی کہ احساس ہوا تھا ”
” منال نے ڈر کے جیسے ہی چیخ مارنے کے لئے اپنا منہ کھولا مگر حیدر تیزی سے اسکے منہ پر ہاتھ رکھ کر اسکو دیوار سے لگا چکا تھا ”
” ارے یار میں ہوں کیوں شور مچانے پر لگی ہوئی ہو ”
حیدر لائٹ اون کرتا ہوا بولا تو اپنے سامنے حیدر کو دیکھ کر منال کا ڈر یکدم سے ختم ہوا تھا ”
‘” اسکے چہرے کے نارمل تاثرات دیکھ کر حیدر نے اسکے منہ پر سے اپنا ہاتھ ہٹا دیا ”
” جب ایسے چوروں کی طرح آؤ گے تو شور تو مچاوں گی نہ پتہ ہے کتنا ڈر گئی تھی میں ”
” منال اپنے تیزی سے دھڑکتے دل پر ہاتھ رکھتی ہوئی بولی تو اسکے اس انداز پر حیدر کھل کر مسکرایا تھا ”
” قریب آؤ میں تمہارا ڈر ختم کر دیتا ہوں ”
” حیدر اسکی کمر کے گرد بازو حائل کرتا اسکو خود سے قریب کر کے شوخ لہجے میں بولا ”
” نہیں دور ہٹو مجھ سے کوئی ضرورت نہیں ہے ”
” منال نے اسکو خود سے دور کرنا چاہا مگر اسکی پکڑ مضبوط تھی ”
” بیگم میں یہاں تم سے دور ہونے نہیں تمھیں اپنے قریب کرنے آیا ہوں ”
” اور تم ہو کہ مجھے دور کار رہی ہو جانتی ہو تمہاری اتنی عادت ہو گئی ہے مجھے کہ تمہارے بغیر اپنے بیڈ پر نیند بھی نہیں آ رہی ہے ”
” آج کل لاؤنج کو اپنا بیڈروم بنا رکھا ہے میں نے ”
” وہ اسکے کندھے پر بکھرے بالوں کو پیچھے کرتا ہوا بولا اور بہت ہی نرمی سے اسکے کان کی لؤ کو چوم لیا تھا ”
” جبکہ بات سن کر منال کو اس پر بےانتہا پیار آیا تھا عادت تو اسکو بھی ہو چکی تھی اسکی ”
” تو تم یہاں اپنی نیند پوری کرنے آئے ہو ”
” منال اپنی ہنسی دباتی ہوئی بولی اس وقت وہ حیدر کی حالت کو پورا انجوۓ کر رہی تھی ”
” نہیں جاناں تمہارے قریب آکر تو میری نیند ویسے بھی اڑ جاتی ہے ”
” وہ شرارت سے کہتا پھر سے اسکے اوپر جھکا تھا ”
” اچھا ایسی بات ہے تو رکو میں امی کو بلاتی ہوں وہ تمہاری نیند مزید اڑا دیں گی ”
” اسکے پھر سے کوئی بھی گھستاخی کرنے سے پہلے منال معصوم سی شکل بنا کر بولی ”
” اپنی بات پر عمل کرنے کے لئے اس نے جیسے ہی اپنے لب کھولے ہی تھے کہ حیدر اسکے چہرے پر جھک گیا تھا ”
” منال تو بس اسکو ڈرانا چاہتی تھی مگر بری پھنسی ”
” جبکہ حیدر تو کب سے اسی موقے کی تلاش میں تھا ”
‘ منال نے سختی سے اسکا کالر پکڑا ہوا تھا اور حیدر کی گرفت اسکی کمر پر مزید سخت ہوتی جا رہی تھی ”
” منال کیا تم ہو لاؤنج میں ?
” وہ دونوں ایسے ہی ایک دوسرے میں کھوۓ ہوئے تھے جب نمرہ بیگم کی آواز پر ہوش میں آئے تھے””
” حیدر ایک پل میں اس سے دور ہوا تھا ”
” منال جواب کیوں نہیں دے رہی ہو ”
” جی امی میں ہی ہوں پانی پینے آئی تھی ”
” انکی دوسری آواز پر وہ یکدم سے بولی تھی کہ کہیں وہ یہیں نہ آ جائے ”
” انکو جواب دیکر ایک نظر حیدر کی طرف دیکھا جو آنکھوں میں شرارت لئے اسکو دیکھ رہا تھا ”
” اچھا ٹھیک ہے میرے لئے بھی لیتی آنا ”
” اسکا جواب سن کر نمرہ بیگم پھر سے کمرے میں چلی گئی تھی ”
” انکے جانے کے بعد دونوں نے شکر کیا تھا ”
اگر وہ یہاں آ جاتی تو کتنی شرمندگی ہوتی دونوں کو ”
” سن لیا امی جاگ رہی ہیں اب جاؤ یہاں سے کبھی نیند کے ساتھ تمہاری عزت بھی اڑ جائے ”
” منال اپنی ہنسی ضبط کرتی ہوئی بولی اور زمین پر گرا اپنا دوپٹہ اٹھا کر گلے میں ڈالا تھا ”
” ٹھیک ہے جا رہا ہوں لیکن گن گن کر بدلے لوں گا تم سے ایک بار آ تو جاؤ میرے پاس ”
” حیدر اسکی طرف دیکھ کر وارن کرنے والے انداز میں بولا اور پل میں وہاں سے غائب ہوا تھا ”
” اسکی دھمکی پر منال بس مسکرا کر رہ گئی تھی ”
💕💕
” دونوں ہی گھروں میں تیاریاں زور شور سے چال رہی تھی ایک طرف رضوا حیدر کے ساتھ مل کر منال کے لئے شاپنگ کر رہی تھی ”
”تو دوسری طرف منال کاوش کے ساتھ رضوا کے لئے شاپنگ کر رہی تھی ”
” جبکہ یہ بات الگ تھی کہ وہ دونوں بس ساتھ جاتی ساری شاپنگ تو حیدر اور کاوش خود ہی کرتے تھے اپنی اپنی بیوی کے لئے ”
” سب بہت خوش تھے بس ایک کاوش اور حیدر ہی اداس رہتے تھے اور ہوتے بھی کیوں نہ آخر انکی بیویوں کو ان سے الگ جو کیا ہوا تھا ”
” اس وقت انہیں یاسر صاحب ہر نمرہ بیگم کسی ظالم سے کم نہیں لگ رہے تھے جنہوں نے انکی بیوی کو الگ کیا ہوا تھا ان سے ”
” یہ ساتھ دیں ان دونوں کو ساتھ مہینوں سے کم نہیں لنگ رہے تھے ”
” جبکہ رضوا اور منال انکی حالت سے بےخبر مزے سے سب انجوۓ کر رہی تھی ”
” خیر سے وہ دن بھی آ گیا جب انکا انتظار ختم ہوا تھا ”
” یاسر صاحب کی خوائش پر انکے ولیمہ کا فنکشن لان میں ہی رکھا گیا تھا ”
” لان کو بہت ہی خوبصورتی سے سجایا گیا تھا ”
” یاسر صاحب نے اپنے کچھ دوست اور بزنس پارٹنرز کو بلایا تھا ”
” کچھ کاوش اور حیدر کے دوست تھے ”
” یاسر صاحب اور نمرہ بیگم دونوں مہمانوں کا استقبال کر رہے تھے آج دونوں کے چہروں پر ایک الگ ہی خوشی تھی ”
” دونوں نے ایک ساتھ مسکرا کر اسٹیج کی طرف دیکھا جہاں اس وقت کاوش اور حیدر بیٹھے ہوئے تھے ”
” دونوں نے ہی بلیک ڈنر سوٹ پہنا ہوا تھا اور دونوں کسی شہزادے سے کم نہیں لگ رہے تھے ”
” آج دونوں ہی پوری محفل پر چھاۓ ہوئے تھے ”
” مگر دونوں کی نظریں بےتابی سے اپنی شہزادی کا انتظار کر رہی تھی ”
” اور وہ دونوں پوری طرح سے انکا صبر آزما رہی تھی ”
”کچھ زیادہ ہی دیر نہیں کر دی ان دونوں نے تیار ہونے میں ”
” حیدر اپنے برابر میں بیٹھے کاوش سے مخاطب ہوا جبکہ اسکی نظریں ابھی بھی سامنے ہی دیکھ رہی تھی ”
” ہاں بہت زیادہ ”
” کاوش اپنے ہاتھ میں بندھی گھڑی پر نظر ڈالتا ہوا بولا ”
” جبکہ اسکے اس انداز پر حیدر کھل کر مسکرایا تھا ”
”تمھیں ہنسی آ رہی ہے اور ان دونوں کی تیاری ہی ختم ہونے میں نہیں آ رہی ہے حد ہے یار ”
” پتہ نہیں اور کتنا انتظار کروانے کا ارادہ ہے ”
”حیدر کے ہنسنے پر وہ چیڑ کر بولا مگر جیسے ہی اسکی نظر سامنے نمرہ بیگم اور منال کے ساتھ آتی رضوا پر پڑی تو ایک پل کے لئے وہ پلکیں جھپکانا بھی بھول گیا تھا ”
” ڈیپ ریڈ کلر کے لہنگے میں آہستہ سے قدم اٹھاتی اسکے قریب آ رہی تھی ”
” حیدر کا بھی حال کاوش سے کچھ کم نہ تھا ”
” ان دونوں کی طرح وہ دونوں بھی سیم کلر کی ڈریس میں تھی ”
” نمرہ بیگم نے باری باری دونوں کو انکے شوہر کے پاس بیٹھایا تھا ”
” کچھ زیادہ ہی وقت نہیں لگا دیا تم نے ”
”جب وہ اسکے پہلو میں آکر بیٹھی تو حیدر تھوڑا سا منال کی طرف جھک کر سرگوشی کے انداز میں بولا ”
” میرا تو اور انتظار کروانے کا ارادہ تھا بس رضوا کی وجہ سے آنا پڑا ”
” وہ اسکو چھیڑتی ہوئی بولی تھی ”
” تم کچھ زیادہ ہی بولنے لگی ہو بیڈروم میں آؤ پھر دیکھنا کیسے بولتی بند کرتا ہوں تمہاری ”
” وہ ذو معنی لہجے میں بولا تو منال نے سٹپٹا کر یسرا بیگم کی طرف دیکھا وہ تو شکر تھا کہ وہ یاسر صاحب سے باتوں میں مصروف تھی ”
” کیا ہوا تم پریشان کیوں لگ رہی ہو ”
” کاوش نے سب سے نظر بچا کر اپنا ہاتھ رضوا کے ہاتھ پر رکھا تھا ”
” نہیں بس تھوڑی گھبراہٹ سی ہو رہی ہے ”
” رضوا نظریں نیچے کئے بولی آج اسکو ایک عجیب سی شرم محسوس ہو رہی تھی کاوش سے ”
” کس سے ہو رہی ہے گھبراہٹ لوگوں سے یا مجھ سے ”
” وہ اسکے ہاتھ پر اپنا دباؤ بڑھاتا ہوا بولا تو رضوا نے فورا سے اسکی طرف دیکھا مگر اسکی بولتی نظروں سے گھبرا کر وہ پھر سے نظریں جھکا گئی تھی ”
” فنکشن اپنی عروج پر تھا ہر کوئی ان دونوں جوڑی کی تعریف کر رہا تھا ”
” سب خوش تھے سب کو اس طرح سے ہنستے مسکراتے دیکھ کر نمرہ بیگم نے سبکی نظر اتاری اور دل میں اسی طرح سے خوش رہنے کی دعا بھی کی تھی ”
💕💕
(جاری ہے )
💕💕💕💕💕