103.8K
25

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 1

” ‘ نہیں سر پلیز مت ماریں مجھے …
” پلیز سر …
‘ ” نہیں …””آہ
” ‘ اس شخص کی دردناک چیخ پورے یاسر ولا میں گونج رہی تھی ..
” جبکہ کچھ ملازم ڈرے کھڑے یہ منظر دیکھ دیکھ رہے تھے ..
‘ ” کسی میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ اپنے مالک کو روک سکیں ..
” اور روکتے بھی کیوں .
” اس شخص نے حرکت ہی ایسی کی تھی ..
‘ ” تجھے یہ گھٹیا حرکت کرنے سے پہلے سوچنا چاہئے تھا .
” آج میں تیرا وہ حال کروں گا کہ تو کسی بھی لڑکی کی طرف آنکھ اٹھا کر دیکھنے سے بھی ڈرے گا .
” ‘ نہیں سر پلیز مجھے معاف کر دیں …
آج کے بعد کبھی ایسا نہیں ہوگا ..
معاف کر دیں پلیز …
” ‘ اس نے اپنے سامنے کھڑے شخص کے آگے ہاتھ جوڑے تھے ..
” آج اسکو اپنی ہر غلطی یاد آ رہی تھی ..
‘ ” اسکی بات پر حیدر علی کا ہاتھ اک پل کے لئے رکا تھا ..
” تونے بہت بڑی غلطی کی ہے حیدر علی کی بہن پر غلط نظر ڈال کر اسکی سزا تو تجھے ضرور ملےگی گی …
” اس نے پھر سے اس لڑکے پہ ہاتھ اٹھایا تھا وہ بیچارہ پہلے ہی ادھمرا ہو چکا تھا
” اس زوردار پنچ سے وہ زمین پر گرا تھا …
” ‘ تیرا میں وہ حال کروں گا کہ تو میری بہن کا نام لیتے ہوئے بھی ڈرے گا ..
” وہ قہر برساتی نظروں سے زمین پر پڑے اس لڑکے کو دیکھتا ہوا بولا ..
” بس کرو حیدر کیا اب جان سے ہی مار ڈالو گے اسکو ..
” چھوڑو اسکو اپنا سبق مل چکا ہے .
” مجھے امید ہے یہ اچھی طرح سمجھ بھی چکا ہے .
” ‘ اسکو پھر سے اس لڑکے کی طرف بڑھتا دیکھ کر یاسر صاحب بیچ میں آئے تھے ..
” وہ بہت دیر سے خاموشی سے اپنے بیٹے کو دیکھ رہے تھے .
اسکا اتنا غصّہ ہونے لازمی تھا ..
” ‘ اس شخص نے حیدر علی کی بہن کو پریشان کرنے کی غلطی کی تھی ..
جسکی سزا اسکو ملنی ہی تھی ..
‘ ” مگر اب یاسر صاحب کو لگا کہ وہ اسکو زیادہ ہی مار چکا ہے
اور اس لڑکے میں اب اتنی طاقت باقی نہیں رہی ہے کہ وہ اسکی مار برداشت کر سکے اس لئے انکو بیچ میں ہی اپنے بیٹے کو روکنا پڑا تھا …
” ڈیڈ میرا تو دل کر رہا ہے کہ میں اسکی جان ہی لے لوں ..
اگر میرے آدمی نہ بتاتے تو ہمیں تو کچھ معلوم ہی نہیں ہوتا کہ یہ کس طرح سے رضوا کو پریشان کرتا رہتا ہے ..
” اسکا غصّے کی وجہ سے چہرہ لال ہو چکا تھا ..
اسکی اپنی بہن کے لئے فکر اور محبت دیکھ کر یاسر صاحب کے چہرے پہ اک مسکراہٹ آئی تھی …
‘ ” چلو معلوم تو ہو گیا نہ تمھیں اور تم نے اسکو سبق بھی سکھا دیا اب بس غصّہ کم کرو …
“اور سنو جاؤ اسکو ہسپتال لے جاؤ اور اچھی طرح سے علاج کرا کر اسکے گھر چھوڑ آنا …
‘ ” اس بار وہ اپنے پاس کھڑے ملازم سے مخاطب ہوئے تو وہ انکی بات سن کر زمین پر پڑے اس لڑکے کو اٹھا کر اپنے ساتھ باہر لے گیا تھا …
” ‘
💞💞
” وہ شاہنہ چال چلتا ہوا ایئرپورٹ سے باہر نکلا تھا
تھری پیس سوٹ میں اسکی پرسنلیٹی غضب ڈھا رہی تھی ..
” ‘ چہرے پہ اک روب تھا جبکہ آنکھوں کو گوگلس کے پیچھے چھپایا ہوا تھا .
” آتے جاتے لوگ مڑ مڑ کر اسکو دیکھ رہے تھے .
” مگر وہ اس بات سے بےنیاز اپنے ڈرائیور کا انتظار کر رہا تھا ..
” ‘ آج پورے دس سال بعد وہ اپنے ملق واپس لوٹا تھا ..
” وہ جب یہاں سے گیا تھا تو اس وقت کتنا ڈرا اور سہما ہوا تھا ..
” ‘ مگر اب وہ اک الگ انسان بن کر واپس لوٹا تھا .
” کتنا کچھ چھین لیا تھا یہاں کے لوگوں نے اسکو .
” اسکی زندگی کی سب سے بڑی خوشی اسکا گھر اسکی معصومیت اسکی مسکراہٹ سب کچھ..
” اتنے سب کچھ ہونے کے بعد بھی وہ واپس آیا تھا ..
” ‘ جس وقت وہ یہاں سے گیا تھا تو اس نے خود سے کبھی واپس نہ آنے کا وعدہ کیا تھا ..
مگر اسکو خود سے کیا وعدہ توڑنا پڑا ..
” ‘ صرف کسی کا وعدہ پورا کرنے کے لئے اس نے اپنا وعدہ توڑا تھا ..
” وہ وعدہ جو وہ کبھی پورا نہیں کرنا چاہتا تھا مگر اسکو ناچاہتے ہوئے بھی کرنا تھا …
” ‘ اس نے ہاتھ میں بندھی مہنگی گھڑی میں ٹائم دیکھا
” اسکو باہر آئے ہوئے کافی وقت ہو چکا تھا مگر ڈرائیور ابھی تک اسکو پک کرنے نہیں آیا ..
‘ ” اس نے غصّے سے اپنا موبائل نکالا تھا …
” ‘ ڈرائیور کا انتظار ہی رہا ہے مت کرو وہ نہیں آئے گا۔۔
“” اس سے پہلے کہ وہ نمبر ڈائل کرتا اسکو اپنے پیچھے جانی پہچانی آواز سنائی دی تو وہ یکدم سے پلٹا تھا ..
‘ ” منال تم …
” اپنے سامنے کھڑی جنّت کو دیکھ کر اسکے چہرہ پر غصّہ یکدم سے غائب ھوا تھا۔۔
” ہاں جناب میں ..
‘اور میں نے ہی تمہارے مینیجر کو منع کیا تھا کہ وہ ڈرائیور کو رہنے دے میں خود جا رہی ہوں تمھیں پچ کرنے …
“اور پتہ ہے گھر پہ امی بھی کتنا بےصبری سے انتظار کر رہیں ہیں تمہارا ..
وہ اسکا مکمل جائزہ لیتی ہوئی بولی ..
” جتنا وہ فوٹو میں لگتا تھا اس سے کئی زیادہ قریب سے دیکھنے میں ہینڈسم لگتا تھا ۔
” اس نے دل ہی دل میں اسکی نذر اتاری تھی ..
” یہ تو تم نے اچھا کیا مگر ہم جائے گے کیسے
اگر تم ڈرائیور کے ساتھ آ جاتی تو..
وہ تھوڑا پریشانی سے بولا ..
” اوہ ..میں تو بھول ہی گئی تھی کاوش حسن جو باہر ملق کا اتنا بڑا بزنس مین ہیں اور اب یہاں بھی اپنا بزنس شروع کر چکا ہے وہ کہاں میرے ساتھ بس میں جانا پسند کرے گا …
” ‘ وہ اسکو چیڑانے والے انداز میں بولی تھی جانتی تھی کہ اسکو ایسی باتیں بلکل اچھی نہیں لگتی ہیں ..
” ‘ کیا یار کیسی بات کر رہی ہو تم میں نے اپنے سامان کی وجہ سے بولا …
وہ اسکی شرارت سمجھ چکا تھا ..
‘ ” ہاں ہاں جانتی ہوں بےفکر رہو مذاق کر رہی تھی تمہارے ڈرائیور کے ساتھ ہی آئی ہوں میں ..
” منال کی بات پر وہ مسکرایے بغیر نہ رہ سکا تھا ..
” ‘ چلو تم گھر میں خالہ کو بتاؤں گا کہ تم مجھے کتنا پریشان کر رہیں تھی ..
اب اتنے دن بعد واپس آئے ہو اب اتنا پریشان کرنا تو بنتا ہے نہ …
” اسکو جواب دے کر وہ مسکرائی تھی تو وہ بس اپنا سر ہلا کر رہ گیا تھا …
💞💞
” رضوا تم اب تک ایسے ہی بیٹھی ہو یونی نہیں جانا تمھیں ?
” وہ اپنی آستین فولڈ کرتا صوفہ پہ بیٹھی اپنی بہن سے مخاطب ہوا تھا ..
” وہ جو آج پھر یونی نہ جانے کا ارادہ رکھتی تھی حیدر کی بات پر اپنا رخ اسکی جانب کیا تھا ..
” ” بھائی پلیز مجھے کہیں نہیں جانا ہے ..
مجھسے نہیں ہوگا ..
اتنے سارے لوگوں کو اپنے قریب دیکھ کر مجھے گھبراہٹ سی محسوس ہوتی ہے …
” اک عجیب سا ڈر لگتا ہے مجھے
پلیز بھائی میں اب مزید پڑھنا نہیں چاہتی ہوں ..
” ‘ اس نے اپنے بھائی کے دونوں ہاتھوں تھام کر التجائی انداز میں بولی تھی .
” اسکے چہرے پہ اک انجانا سا ڈر دیکھ کر اور پریشانی دیکھ کر حیدر کو اک لمحے کے لئے اس پر ترس آیا تھا ..
” ‘ مگر اس نے اپنا ارادہ نہیں بدلہ تھا ..
“نہیں رضوا میں صرف اک یہی بات نہیں ماں سکتا ہوں تمہاری تمھیں آگے بڑھنا ہے .
“‘ لوگوں کے بیچ رہو گی تو تمہارے اندر کا ڈر بھی ختم ہوگا ورنہ یوں اس طرح سے خود کو گھر میں قید رکھو گی تو کیسے چلے گا ..
” دوست بناؤ وہاں پر تو تمہارا یونی میں دل بھی لگ جائے گا اور رہی بات دیکھنے کی تو تم بےفکر رہو کوئی تمھیں آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھنے کی بھی ہمت نہیں کرے گا ..
” ‘ اس نے بہت نرمی سے اسکو سمجھایا تھا ..
‘ ” وہ جتنا اپنی بہن کا ڈر دور کرنے کی کوشش کرتا وہ اتنا ہی خود کو قید کرکے رکھتی تھی ..
آج تک وہ اسکے ڈر کی وجہ نہیں سمجھ پایا تھا .
” پر بھائی آپ میری بات کیوں نہیں سمجھ رہے ہیں مجھے نہیں جانا کہیں ..
اپنے بھائی کے جواب سے اسکی آنکھیں نم ہوئی تھی “
” ”رضوا جب میں نے کہہ دیا نہ کچھ نہیں ہوگا اب تم جاؤ اور تیار ہوکر جلدی سے آو میں یہیں تمہارا انتظار کر رہا ہوں .
” اس بار اسکے لہجے کی نرماہٹ کم ہوئی تھی “
” ‘ کہاں جانے کی تیاری کر رہے ہو تم دونوں بہن بھائی “
یاسر صاحب لاؤنج میں داخل ہوئے تو ان دونوں کے پاس قریب آتے بولے تھے “
‘” بس ڈیڈ رضوا کو یونی ڈراپ کرنے جا رہا ہوں بس میں وہیں سے آفس پہنچ جاؤں گا ..
” وہ اپنے ڈیڈ کو جواب دیکر اپنی جگہ سے کھڑا ہوا تھا “
‘” جبکہ یاسر صاحب کے آنے کے بعد رضوا کے چہرے پر اک ڈر سا چھا گیا تھا
اس نے اپنی آنکھوں کے ساتھ ساتھ نظریں بھی جھکا لی تھی ..
” ‘ اسکی یہ حرکت یاسر صاحب کی آنکھوں سے پوشیدہ نہ رہ سکی تھی ..
‘ یہ ہمیشہ سے ہوتا تھا .
جب بھی وہ اسکے آس پاس ہوتے تو وہ ایسے ہی ہو جاتی تھی “
” وہ اسکا باپ تھا مگر وہ صرف انکی بات کا جواب ہاں یا نہ میں ہی دیتی تھی ..
‘ ” ایسا کیوں تھا وہ سمجھ نہیں پائے تھے”
‘ ” بھائی میں جا رہی ہوں ..
وہ اک نظر حیدر کی طرف دیکھ کر تیزی سے وہاں سے نکلی تھی …
“یاسر صاحب نے دور تک اسکو جاتے دیکھا تھا “
💞💞
” اس نے اپنی کار کو اک جھٹکے میں روکا .
اور اک گہرا سانس بھر کے وہ اپنی سائیڈ کا دروازہ کھول کر باہر نکلا ..
‘ ” آدھی رات کا وقت تھا لوگ اپنے گھر میں آرام کی نیند سو رہے تھے مگر وہ اپنے سامنے موجود اس گھر کو دیکھ رہا تھا .
‘ ” وقت بدل گیا تھا لیکن یہ گھر آج بھی بلکل ویسا ہی تھا جیسا دس سال پہلے تھا ..
” کچھ بھی نہیں بدلہ تھا ..
لیکن وہ پہلے جیسا نہیں رہا تھا …
” ‘ اس گھر سے اسکی کتنی یادیں جڑی ہوئی تھی
” اک وقت تھا جب وہ روز اس گھر میں آتا جاتا رہتا تھا کتنی ہی وجہ تھی اسکے پاس یہاں آنے کی ..
” اور اک تو بہت خوبصورت وجہ بھی تھی ..
” اس گھر میں رہنے والے ہر اک فرد سے اسکو کتنی محبت تھی لیکن اب وہ محبت وقت کے ساتھ نفرت میں بدل گئی تھی ..
” ‘ وہ کھڑا چاند کی روشنی میں چمکتے اس گھر کو دیکھ رہا تھا ..
” کچھ سوچ کر وہ آگے بڑھا اور اک نظر سوتے ہوئے گارڈ کو دیکھ کر آرام سے دیوار پار کر گیا تھا …
” ‘ اس گھر کی ایک ایک جگہ سے وہ اچھی طرح سے واقف تھا .
اس لئے اسکو معلوم تھا کہ کہاں جانا ہے ..
” ‘وہ آرام سے چلتا ہوا گھر کے پیچھے کی سائیڈ آیا اور اک کھڑکی کے پاس آکر رکا تھا ..
” ‘ اسکو پوری امید تھی کہ دس سال پہلے یہ کمرہ جسکا تھا وہ ابھی بھی اسی کا ہوگا ..
” وہ ایک ہی جھٹکے میں لاک توڑ کر اندر داخل ہوا تھا.
” ‘کمرے میں داخل ہوتے ہی گلاب کی خوشبوں اس کے اوسان پر چھائی تھی ..
” اور پھر اس کے سامنے بیڈ پہ سوئی ہوئی لڑکی ..
آج وہ اسکے بہت قریب تھی ..
” ان دونوں کے بیچ گہرا رشتہ ہونے کے باوجود بھی وہ اتنے سالوں بعد اسکو اتنے قریب سے دیکھ رہا تھا “
‘ “اسکی صرف دو ہی وجہ تھی .
اس نے کبھی اسکو دیکھنے کی خوائش نہیں کی تھی یا اسکو صحیح وقت کا انتظار تھا ..
” دروازے سے ہوتی چاند کی روشنی اسکے چہرے کو روشن کر رہی تھی ..
” ‘ وہ اندھیرے میں اسکی طرف بڑھنے لگا تھا .
” جیسے پریوں کی کہانی میں کوئی شہزادہ اپنی شہزادی کے لئے بڑھتا ہے ..
“مگر وہ ہر شہزادے کی طرح نہیں تھا …
” وہ ایک وقت میں اپنی شہزادی کے لیے دو احساسات رکھتا تھا …
” محبت کے ساتھ ساتھ نفرت بھی “
” یہ بات اسے دوسرے شہزادوں سے الگ بناتی تھی “
” وہ عین اسکے قریب کھڑا ہوکر سوتے ہوئے بغور اسکو دیکھنے لگا تھا ..
” نیند میں بھی اسکے چہرے پہ ڈر تھا “
” جیسے کوئی برا خواب دیکھ رہی ہو ..
” وہ اس پہ جھکا اسکی بےچینی کی وجہ جاننا چاہتا تھا “
وہ اسکے چہرے پہ نظریں جمائے ہوئے تھا جب وہ نیند میں کچھ بڑبڑانے لگی تھی “
” وہ مزید اس پر جھک گیا اور اپنا منہ اس کے کان کے قریب لے گیا تھا .”
“” ششش “”
“ڈرو مت میں ہوں تمہارے پاس “
“”اور جب میں تمہارے پاس موجود ہوں تو تمہارے خواب تمہاری سوچوں اور تمہاری باتوں میں صرف میں میرے علاوہ کوئی اور نہیں ہونا چاہئے …
” تمہارا ڈر بھی نہیں …
” وہ اسکے کان میں سرگوشی کے انداز میں بول رہا تھا
بولتے ہوئے اسکے ہونٹ اسکے کان کی لؤ کو چھو رہے تھے “
” ‘ اسکی آواز سے اسکی بڑبڑاہٹ یکدم سے رکی تھی ایسے جیسے وہ نیند میں اسکو اپنی بات سمجھا رہا ہو .
” اسکے خاموش ہونے پہ وہ کچھ دیر اسکو دیکھتا رہا تھا
” اتنے سالوں میں اسکی معصومیت میں ذرا فرک نہیں آیا تھا:”
” ‘بلکہ وہ پہلے سے بھی زیادہ خوبصورت ہو گئی تھی ..
” وہ بس اک ٹک اسکے چہرے کو دیکھ رہا تھا “
” اسکے چہرے پر آتی آوارہ لٹے اسکو اپنے اور اسکے درمیان آتی بلکل اچھی نہیں لگی ..
اس نے ہاتھ بڑھا کر بہت ہی آہستہ سے انکو ہٹایہ تھا “
” ‘ اسکے چھونے پر وہ ہلکا سا کسمسائی تو اس نے فورا سے اپنا ہاتھ پیچھے کیا تھا ..
” ‘ اب اسکے چہرے پہ وہ دڑ کہیں بھی نہیں تھا جو کچھ دیر پہلے اس نے محسوس کیا تھا ..
” بلکہ ایک سکون سا تھا جیسے اسکو اپنے پاس کسی اپنے کی موجودگی کا احساس ہو رہا ہو ..
” ‘ بہت جلد تم سے ملاقات ہوگی ..
وہ اک نظر اسکو دیکھتا اپنی جگہ سے اٹھا اور جس خاموشی سے آیا تھا اتنی ہی خاموشی سے واپس چلا گیا تھا …
💕💕
(جاری ہے )