103.8K
25

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 11

” ‘ منال وہ مجھے پیار نہیں کرتا .
,پتہ ہے اس نے مجھے کیا کہا ,
‘” ایشا بری طرح رو رہی تھی کہ اس سے بولا تک نہیں جا رہا تھا “
‘ اسکے پاس بیٹھی منال سے اسکی یہ حالت برداشت نہیں ہو رہی تھی “
” ‘ وہ بولتا ہے کہ آج تک اس نے صرف مجھے ایک دوست کی نظر سے دیکھا ہے .
” دوست کے علاوہ وہ مجھے اور کچھ نہیں سمجھتا “
‘” اسکا مطلب جانتی ہو اس نے مجھے کبھی پیار ہی نہیں کیا ..
,اور ایک میں تھی جو اس سے اتنی محبت کرنے لگی ,
” ‘ ایشا نے روتے ہوئے منال کے ہاتھ تھام لئے تھے
اسکا بکھرے بال رونے کی وجہ سے سرخ ہوتی آنکھیں دیکھ کر منال کا دل کٹ کر رہ گیا تھا “
” ” جب سے وہ یونی سے واپس آئی تھی بس تب سے کمرے میں بند تھی ,
,منال کو کچھ غلط ہونے کا احساس ہوا تو وہ ایشا کے کمرے میں آئی اور اسکے پوچھنے پر وہ اسکو سب بتاتی چلی گئی تھی ..
‘ “اور اب منال کو اسکو چپ کرانا مشکل ہو گیا تھا “
‘ ” بس کریں آپی ..
,آپ کیوں اس شخص کے لئے رو رہی ہیں .
,, میں نے کتنی بار آپکو سمجھایا تھا کہ ان رئیس لوگوں کو ہم جیسے لوگوں کے احساسات کی کوئی قدر نہیں ہوتی ,,
,, , لیکن آپنے میری اک نہ سنی ,,
,, اس نے اپنی بہن کے آنسو صاف کئے تھے ,
,,ہاں منال تم صحیح کہتی تھی میں ہی پاگل تھی تھی اس شخص کے لئے ..
,, اور آج دیکھو میں نے اپنے پاگلپن کتنا غلط کر لیا اپنے ساتھ ,,
,, اب پوری یونی میرا مذاق بناۓ گی سب ہنسے گے مجھ پر ..
,,کیا کروں میں منال بہت مشکل میں ہوں میں اس وقت ,,
, , ایشا اپنی بات کہہ کر اک بار پھر سے رونے لگی.
,, منال کو اس وقت اپنی بہن پر بہت ترس آ رہا تھا اس وقت کے لئے ہی تو سمجھاتی تھی وہ اسکو ,
,, , آپی پلز آپ چپ ہو جائے کوئی مذاق نہیں بناۓ گا آپکا ..
,, ایک دو دن بعد سب بھول بھی جائے گے ..
, , اور اگر کسی نے آپکو پریشان کیا تو آپ مجھے بتانا آکر میں اچھے سے دیکھ لوں گی اسکو ..
,, اس نے بات کو مذاق کے انداز میں کہا مقصد صرف اپنی بہن کو ہنسانا تھا ..
” ‘ جبکہ اسکی بات پر ایشا خاموشی سے صرف اسکو دیکھ کر رہ گئی تھی ..
,,جتنا وہ بول رہی تھی سب اتنا آسان بھی نہیں تھا ..
” ‘ وہاں پر لوگ ایسی باتوں کی ہی تو تلاش میں رہتے تھے ..
,, اچھا آپی آپ آرام کریں میں چلتی ہوں ….
,اور ہاں اب اگر آپ دوبارہ روئی نہ تو میں امی کو بتا دوں گی جاکر ..
” ‘ اس نے اپنی طرف سے دھمکی دی اور ایشا کے آنسوں صاف کر کے دروازے کی طرف بڑھی تھی ,
, , منال ,,
اسکو جاتا دیکھ ایشا نے اسکو پکارا تھا ,,
,, ایشا کی آواز پر منال نے پلٹ کر اسکی طرف دیکھا تھا ,,
,, منال تم کبھی میری طرح غلطی مت کرنا ورنہ بہت تکلیف ہوتی ہے ,,
,, , ایشا کی بات پر منال ہلکے سے مسکرائی اور کمرے سے باہر نکل گئی تھی ,,
,, اسکو کیا پتہ تھا کہ وہ آخری بار اپنی بہن کو مسکراتے ہوئے دیکھ رہی ہے ,,
” ” اگلی صبح منال ہر نمرہ بیگم کے لئے کسی قیامت سے کم نا تھی ..
” ایشا ہمیشہ کے لئے اس دنیا سے رخصت ہو گئی تھی ..
” ‘نمرہ بیگم ٹو بری طرح سے ٹوٹ چکی تھی شوہر کے بعد اب انکی بیٹی بھی انکو چھوڑ کر چلی گئی ..
” ” اس مشکل وقت میں منال نے اپنی ماں کو سمبھالا تھا ..
,,صرف اک وہ ہی جانتی تھی کہ اسکی بہن نے اپنی جان کیوں لی لیکن اس نے اپنی ماں کو بتانا ضروری نہیں سمجھا وہ نہیں چاہتی تھی کہ اسکی ماں کو دکھ ہو یہ سب جان کر ..
” ‘ وقت کا کام ہے گزرنا اچھا ہو یا برا گزر ہی جاتا ہے ..
لیکن وقت کے ساتھ ساتھ منال کے دل میں حیدر کے لئے نفرت بڑھتی چلی گئی ,,
,,وہ ی سوچنے لگی کہ اسکی وجہ سے اسکی بہن ان لوگوں کو چھوڑ کر چلی گئی ..
” ‘ دو سال سے وہ اسی نفرت میں تھی اور پھر اک دیں حیدر اسکو نظر آ گیا ..
” ‘ اس نے کبھی بدلہ لینے کے بارے میں نہیں سوچا تھا مگر جب اس نے منال سے اپنی محبت کا اظھار کیا تو تب اسکے دل میں یہ خیال آیا تھا ..
” اور اپنی اسی نفرت میں اس نے حیدر سے نکاح کر لیا ..
” ‘ وہ اسکو اپنی محبت کے لئے تڑپتا ہوا دیکھنا چاہتی تھی وہ اسکو یہ بتانا چاہتی تھی کہ وہ اسکو حاصل کر کے بھی حاصل نہیں کر سکے گا ..
,, یہ اسکی سوچ تھی آگے اسکے ساتھ کیا ہونے والا تھا وہ اس بات سے بےخبر تھی ..
,,کیا پتہ اسکو بھی حیدر سے محبت ہو جائے کب کیا ہو جائے کون جانتا تھا ,,
💕💕
‘ ” وہ وقت لاؤنج میں صوفہ پہ بیٹھا سگریٹ کے گہرے گہرے کش لے رہا تھا ..
” اس وقت اسکے ہر اک انداز میں بےچینی تھی ..
‘ ” کبھی تو اپنی جگہ سے کھڑا ہو کر ادھر سے ادھر ٹہلنے لگتا تو کبھی واپس سے اپنی جگہ آکر بیٹھ جاتا ..
” ‘ نمرہ بیگم کو انکو کمرے میں لے جانے کے بعد سے بس وہ یہیں بیٹھا ہوا تھا .
اس نے فلحال تو انکو بہت مشکل سے سمبھال لیا تھا مگر اسکو انکی فکر ہو رہی تھی .
‘ ” آج جو بھی کچھ ہوا وہ اسکے لئے ناقابل قبول تھا اس کے تو وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ حیدر اپنی بہن کو اس سے آزادی دلانے کے لئے ایسا بھی کر سکتا ہے …
‘ ” وہ کبھی نہیں چاہتا تھا کہ اسکی وجہ سے منال یا نمرہ بیگم کو کوئی بھی پریشانی ہو.
اس لئے اس نے رضوا کو بھی الگ گھر میں رکھا ہوا تھا …
‘ ” مگر اس سب کا کچھ فائدہ نہیں ہوا
” اسکو رہ رہ کر حیدر پر غصّہ آ رہا تھا وہ کیسے اسکی بہن کو ذریع بنا سکتا ہے ..
‘ ساتھ میں اسکو منال کی بیوقوفی پر بھی غصّہ آ رہا تھا کہ وہ کیسے اس طرح سے نکاح کر سکتی ہے..
” ‘ کاش کے وہ اسکو پہلے رضوا اور اسکی فیملی کے بارے میں آگاہ کر دیتا تو شاید آج وہ حیدر کی سازش کا شکار نہ ہوتی ..
‘ ” لیکن اس نے بھی سوچ لیا تھا کہ وہ منال کو اس سے آزادی ضرور دلا کر رہے گا ..
مگر وہ رضوا کو چھوڑنے کا ارادہ بلکل نہیں رکھتا تھا..
” ‘ دوسرا اسکو خود کی بےخودی پر بھی بہت غصّہ آ رہا تھا کیوں وہ رضوا کو اپنے قریب دیکھ کر سب بھول جاتا ہے ..
‘ ” کیوں اسکی قربت اسکو سب بھولا دیتی ہے
اسکی نفرت جو وہ آج تک اس سے کرتا آیا تھا ..
” وہ کبھی واپس نہ آتا اگر اسکو اپنے ڈیڈ کا وعدہ نہ پورا کرنا ہوتا ..
‘ ” اپنی نفرت میں وہ اس رشتے کو ہی بھول چکا تھا اگر اسکے ڈیڈ ضد نہ کرتے اور مرتے وقت اس سے وعدہ نہ لیتے تو وہ کبھی پلٹ کر نہ دیکھتا ..
‘ ” جتنی نفرت وہ اب تک اس سے کرتا آیا تھا
رضوا کو اپنے پاس اپنے قریب دیکھ کر کہیں کھو سی جاتی ہے ..
” اسکے پاس آتے ہی وہ خود کو بھی بھول جاتا ہے..
‘ ” رضوا کے سامنے وہ اپنے جذبات کو قابو میں نہیں رکھ پا رہا تھا .
ورنہ اسکا ارادہ تو ساری زندگی اسکو تکلیف دینے کا تھا ..
‘ ” اسکو تقلیف دے کر اسکو باپ کو سبق سیکھانا چاہتا تھا ..
تب جاکر اسکو سکون ملتا ,,
پر سب کچھ الگ ہو رہا تھا .
‘ ” جیسا اس نے سوچا تھا ویسا بلکل نہیں کر پا رہا تھا ..
,,یہ سب کچھ تمہاری وجہ سے ہو رہا ہے رضوا ..
صرف تمہاری وجہ سے ,,
, ,,, وہ غصّے میں اپنی جگہ سے کھڑا ہوا اور ٹیبل پر پڑی اپنی کار کیز اٹھا کر باہر نکلا تھا ..
💕💕
‘ ” وہ کب سے ادھر سے ادھر کروٹ بدلتی سونے کی کوشش کر رہی تھی “
” ایسا نہیں تھا کہ اسکو نیند نہیں آ رہی تھی “
“‘ اس وقت اسکی آنکھوں میں نیند تھی لیکن آنکھیں بند کرتے ہی جو چہرہ سامنے آ رہا تھا ..
وہ چہرہ اسکی بےچینی کی وجہ تھا “
” ‘وہ گھبرا کر کروٹ بدلتی مگر کچھ فائدہ نہیں .
‘ وہ اسکو دن میں تو پریشان کرتا ہی تھا مگر اب خوابوں میں آکر اسکو پریشان کر رہا تھا “
‘” رضوا اس وقت مکمل اسکے سحر میں تھی خود کو اسکی نظروں کے حصار میں محسوس کر رہی تھی .
” اس نے اپنی کیفیت سے گھبرا کر آنکھیں بند کئے سائیڈ سے تکیہ اٹھا کر اپنے چہرے پر رکھا .
‘ ” ایسے جیسے خود کو اسکی نظروں سے چھپانا چاہ رہی ہو..
‘ ” اس طرح سے کرنے پر اسکو کچھ سکون سا ملا اور وہ یوں ہی لیٹی رہی ..
‘ ” ابھی اسکو لیٹے ہوئے تھوڑا ہی وقت ہوا تھا کہ جب اسکے کمرے کا دروازہ کھلا اور کاوش اندر داخل ہوا تھا “
‘”” اس وقت بھی کمرے میں لائٹ اون تھی .
کاوش کی نظر بیڈ پر لیٹی رضوا پر پڑی جو سینے تک کمفرٹر اوڑھے چہرے پر تکیہ رکھے لیٹی ہوئی تھی .
‘ ” اسکو یوں آرام سے لیٹا دیکھ کر کاوش کا خون کھول اٹھا تھا .
” وہ اتنا پریشان ہو رہا تھا اور ایک یہ تھی جو نیند کی مزے لے رہی تھی “
” ‘ جبکہ اسکی پریشانی کی وجہ وہ ہی تھی اسکے بھائی نے اسکی بہن سے نکاح کیا تھا صرف اسکی وجہ سے اور وہ اتنی بےفکر ہو کر لیٹی تھی .
” ‘ کاوش غصّے سے اسکی طرف بڑھا اور بےدردی سے اسکے چہرے سے تکیہ ہٹا کر دور پھینک دیا ..
” ‘ رضوا جسکی ابھی آنکھ ہی لگی کاوش کی اس طرح سے کرنے پر یکدم سے ڈر کے آنکھیں کھولی تھی .
” ‘ مگر کاوش کو اپنے سر پر کھڑا دیکھ کر اس نے سختی سے کمفرٹر کو اپنی مٹھی میں جکڑا تھا ..
” ‘میری نیند حرام کر کے تم اتنی سکون کی نیند کیسے سو سکتی ہو .
” اس نے رضوا کا بازو سختی سے پکڑ کر اسکو بیڈ سے کھینچ کر اپنے مقابل کھڑا کیا تھا .
” ‘ بیچاری رضوا نیند میں ہونے کی وجہ سے گرتے گرتے بچی تھی .
اسکی سمجھ نہیں آیا تھا کہ وہ اس پر کس بات کا غصّہ نکال رہا ہے”
” ‘ یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں میں نے تو کچھ بھی نہیں کیا ہے.
” اس نے جلدی سے اپنی صفائی پیش کرنی چاہی مگر اسکی سن کون رہا تھا “
‘” یہ جو سب کچھ ہو رہا ہے نہ تمہارا بھائی مجھے تکلیف دینے کے لئے جو کر رہا ہے ..
اس سب کی وجہ تم ہو صرف تم “
,, وہ اسکے بازو پر اپنی گرفت سخت کرتا ہوا بولا ,,
,,حیدر کی وجہ سے وہ اس وقت شدید غصّے میں تھا اور اپنے اس غصّے میں وہ رضوا کو تکلیف پہنچا رہا تھا “
,, میرے بھائی نے کچھ نہیں کیا ہے اور نہ میں نے .
,,بلکہ آپ مجھے تکلیف پہنچا رہے ہیں .ہر لمحہ ہر روز ,,
,,درد کی شدت سے رضوا سے بولا بھی نہیں جا رہا تھا ,,
,,جبکہ اسکی بات نے کاوش کے غصّے کو مزید بڑھا دیا تھا..
‘ ” اب تک تو میں نے تمھیں کوئی تکلیف نہیں دی لیکن میں اب بتاؤں گا تمھیں کہ تکلیف کیا ہوتی ہے .
” وہ پہلے والے سرد لہجے میں بولا اور رضوا کو پیچھے بیڈ پر دھکا دیا اور رضوا کو سمبھالنے کا موقع دیے بغیر اس پہ جھکا تھا ..
” ‘ اسکے ایسا کرنے پر رضوا کی نیند اب پوری طرح اڑ چکی تھی .
اسکو خود کے اوپر جھکا دیکھ اس نے اپنے کانپتے وجود کو اس سے دور کرنا چاہا تھا ..
” ‘ یہ آپ کیا کر رہے ہیں ..پ…پلز …مت کریں ..
” اسکی آواز میں پہلے دن والا ڈر تھا ,
” ‘ وہی کر رہا ہوں جو مجھے پہلے ہی دن کر دینا چاہئے تھا ورنہ آج تمہاری ہمّت نہ ہوتی میرے سامنے بولنے کی .
اس نے تھوڑا سا اٹھ کر اپنے ہاتھ سے شرٹ کے بٹن کھولے تھے .”
‘”” اور یہی موقع تھا جب جب رضوا تیزی سے بیڈ سے اٹھنے لگی مگر کاوش کسی شکاری کی طرح اس پر لپکا اور اسکو ٹانگ سے کھینچ کر اپنے قریب کر چکا تھا ‘
“‘ اس وقت اسکی آنکھیں بےحد سرخ ہو چکی تھی آج رضوا کو اسکے ارادوں سے ڈر لگ رہا تھا ..
‘ ” اس نے خوف کی وجہ سے زور سے چیخنا شروع کر دیا تھا””
‘ ” چیخو اور زور سے چیخو لیکن تمہاری آواز سننے کے لئے یہاں کوئی موجود نہیں ہے “
” وہ اسکو اپنی گرفت میں لیتا ہوا سخت لہجے میں بولا ..
” ‘اور اب رضوا کی برداشت بس یہیں تک تھی وہ اسکی باہوں میں بیہوش ہو چکی تھی “
💕💕
,, وہ جیسے ہی اپنے آفس میں داخل ہوا تو سامنے کا منظر دیکھ کر حیران کھڑا رہ گیا تھا ,,
,, منال اسکی چیئر پہ بیٹھی بڑے آرام سے اسکے حیران چہرے کو دیکھ رہی تھی ,
,, تم یہاں کیسے آئی ?
,, وہ چہرے پر حیرانی لئے اسکی طرف بڑھا تھا ,,
,, اسکو اچھی طرح سے یاد تھا کہ جب وہ اسکو گھر چھوڑ کر آیا تھا تو اس نے دروازہ اچھی طرح سے لاک کیا تھا ,,
,, لیکن وہ اب اسکے آفس میں اسکے سامنے موجود تھی ,,
,, تمھیں شاید غلطفہمی تھی کہ تم مجھے قید کر کے رکھو گے اور میں آرام سے تمہاری قید میں رہ لوں گی ?
,, اگر آپنے ایسا سوچا تھا تو میں آپکی یہ غلطفہمی دور کرنے کے لئے موجود ہوں ,,
,, وہ اپنی دونوں کوہنی ٹیبل پر رکھ اپنا چہرہ دونوں دونوں ہاتھوں میں لئے بڑی معصومیت سے اسکی طرف دیکھ رہی تھی ,,
,, ,اس بات سے بےخبر کہ اسکا یہ انداز حیدر کے دل میں ہلچل مچا رہا تھا “
,, یوں ہی تو وہ اسکو سب سے الگ لگی تھی
اسکا ہر انداز حیدر کو اپنا دیوانہ بناتا تھا ,,
, ,, نہیں میں نے ایسا ہرگز نہیں سوچا تھا ..
اور دوسری بات تمھیں گھر میں تو قید نہیں کر سکتا مگر تم میرے ساتھ اس رشتے میں تو قید ہو گئی ہو,,
, ,, وہ دل جلانے والی مسکراہٹ کے ساتھ بولا تو منال سچ میں جل گئی تھی اسکی مسکراہٹ دیکھ کر,,
,, , صحیح کہا یہ رشتہ میرے لئے کسی قید سے کم نہیں ہے ,
,,وہ بھی منال تھی چپ نہ رہنے والی
فورا جواب حاضر تھا ,,
,, جبکہ اسکا حیدر کو بلکل پسند نہیں آیا اس نے منال کی چیئر کا رخ اپنی طرف کیا اور اسکے ارد گرد ہاتھ رکھ کر اس پہ جھکا تھا “
,, تو پھر کیوں ہوئی تم اس رشتے میں قید ..
جبکہ تمہارے ساتھ کوئی زبردستی نہیں ہوئی
تو پھر کیا وجہ تھی ,,
,, وہ اس پر مزید جھکا اور اسکی خوبصورت آنکھوں میں دیکھ کر بول رہا تھا ..
,, کل رات جس طرح کاوش اسکو منال کے ساتھ دیکھ کر حیران ہوا تھا ..
‘ ” اس سے حیدر کو کہیں نہ کہیں یہ لگا تھا کہ کاوش اسکی جاب کے بارے میں واقف نہیں تھا ,,
,, مطلب صاف تھا وہ کاوش کے ساتھ نہیں ملی ہوئی تھی اگر ایسا ہوتا تو وہ یکدم اس سے شادی کرنے کے لئے راضی کیوں ہوتی ,,
, ,; بس ایک یہی سوال کا جواب وہ اس سے چاہتا تھا،،
,, میں نے کچھ پوچھا ہے تم سے ,,منال حیدر علی ..
اس نے اپنا چہرہ اسکے چہرے کے مزید قریب کیا تھا,,
,, اتنا کہ دونوں کے بیچ بال برابر کا فاصلہ رہ گیا تھا,
,, اسکی سانسوں کی گرماہٹ اپنے چہرے پر محسوس کر کے منال نے تھوڑا سا گھبرائی مگر اپنی کیفیت پہ قابو کئے بیٹھی رہی ..
,, سب کچھ کرنے کے مجھے سوال پوچھنے کا کیا مطلب ?
,, منال نے غصّے سے اپنے چہرے کا رخ دوسری طرف کیا تھا ..
,,حیدر کی اتنی قربت سے اسکی حالت عجیب ہوئی تھی,,
, ,جبکہ اسکے چہرہ موڑ لینے پر مسکرایا اور اپنے لب اسکے کان کے قریب کئے تھے ,,
,, ابھی تو میں نے کچھ کیا ہی نہیں بیگم تو سوال کیسا ..
اور جس دن ہوگا نہ اس دن سوال بھی کروں گا ,,
,, اس نے بہت نرمی سے اسکی کان کی لؤ کو چوما تھا ,,
,, اسکی اس حرکت سے منال نے زور سے اسکو دھکا دیا اور جلدی سے اپنی جگہ سے کھڑی ہوئی تھی,,
, ,, یہ کیا حرکت تھی ,,
تمہاری ہمّت کیسے ہوئی مجھے چھونے کی ,,
وہ لال سرخ چہرہ لئے اسکی طرف دیکھ رہی تھی ..
اسکا چہرہ غصّے سے لال ہو رہا تھا یا شرم سے اسکو خود نہیں پتہ تھا ,,
“کیا ہوا میری اتنی سی قربت سے ڈر گئی تم ,
,,بس اتنی برداشت ہے تم میں ..
,,وہ اسکے گھبراۓ ہوئے چہرے کی طرف دیکھ رہا تھا..
” ‘ میں تم سے نہیں ڈرتی اور آئندہ اپنی حد میں رہنا,,
,,اگر نہیں ڈرتی تو دور ہوکر بات کیوں کر رہی ہو تھوڑا پاس آکر بات کرو ..
,, وہ اسکی کمر میں بازو حائل کرتا اسکو اپنے قریب کر چکا تھا ..
” ‘ میں کہہ رہی ہوں چھوڑو مجھے ورنہ میں ..
وہ اسکی باہوں میں بری طرح مچل رہی تھی اور خود کو اسکی گرفت سے آزاد کرانے کی کوشش کر رہی تھی ..
“‘ ورنہ کیا کیا کرو گی تم مجھے بھی تو پتہ چلے.
” اس نے اپنا گھیرا مزید تنگ کیا تھا ..
, اس وقت اسکی باہوں میں اسکی بیوی تھی وہ سارے حق رکھتا تھا اس پر ..
,, اسکا دل کیا کہ وہ محبت سے چوم لے اسکو اور اپنے دل کی بات پڑ عمل کرنے کے لئے وہ جیسے ہی اس پر جھکا تو فون کی بیل پر وہ جیسے ہوش میں آیا تھا ..
” ‘ ڈیڈ کا نام سکرین پر دیکھ کر اس نے منال کو اپنی گرفت سے آزاد کیا اور کال پک کی تھی ..
” اسکے آزاد کرنے پر منال سے کچھ فاصلے پر جا کھڑی ہوئی..
” ‘ جی ڈیڈ میں آفس میں ہی ہوں ..
جی ..آپ رہنے دے میں چلا جاتا ہوں ..جی ٹھیک ہے ..
,, اب تو مجھے جانا پڑ رہا ہے بیگم ضروری کام ہے
,,لیکن تم فکر نا کرو رات کو آکر بتاؤں گا تمھیں کی کتنی ہمت رکھتا ہوں میں ..
” ‘ وہ اک نظر اسکو دیکھ کر تیزی سے باہر نکل گیا تھا ..
” ‘ گھٹیا انسان ..
” منال اسکی پشت کو دیکھ کر بڑبڑئی تھی ..
💕💕
(جاری ہے )
💕💕💕💕