103.8K
25

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 20

” صبح جب اسکی آنکھ کھلی تو اسکی سب سے پہلی نظر صوفہ پہ لیٹے کاوش پر پڑی تھی ”
” وہ اتنے چھوٹے سے صوفہ پر بھی آرام سے سکون کی نیند سو رہا تھا ”
” اسکو اس طرح سے سوتا دیکھ کر رضوا کے ہونٹوں پر ایک خوبصورت سی مسکراہٹ آئی تھی ”
” وہ آہستہ سے قدم اٹھاتی بیڈ سے اٹھ کر اسکے قریب آئی”
” زمین پر گرا کمفرٹر اسکے اوپر اچھی طرح سے ٹھیک کیا تھا ”
” دھڑکتے دل کے ساتھ وہ اس پر جھکی اور اپنے کانپتے لب اسکی چوڑی پیشانی پر رکھ کر پل میں سیدھی کھڑی ہوئی تھی ”
”اسکے اٹھ جانے کے ڈر سے دل بری طرح گھبرا بھی رہا تھا اگر وہ اسکو دیکھ لیتا تو وہ کیسے اس سے نظریں ملا پاتی ”
” اپنی یس بےخودی پر وہ خود ہی مسکرائی اور جلدی سے فریش ہونے کے لئے واشروم میں گھسی تھی ”
” واشروم سے نکل کر کمرے سے باہر نکلی تھی اب اسکا رخ کچن کی طرف تھا ”
” کچھ دیر بعد وہ ناشتے کی ٹرے لیکر کمرے میں داخل ہوئی تو کمرہ بلکل خالی تھا ”
” واشروم کے بنڈ دروازے سے آتی آواز اس بات کا پتہ دے رہی تھی کہ کاوش واشروم میں ہے ”
” رضوا ٹرے صوفہ کے پاس رکھی ٹیبل پر رکھ کر اسکا انتظار کرنے لگی تھی ”
” اسکو اب روز ہی کاوش کے ساتھ ناشتہ کرنے کی عادت ہو چکی تھی ”
” روز اسکے آفس جانے سے پہلے رضوا اسکے لئے ناشتہ تیار کرتی پھر دونوں ساتھ بیٹھ کر کھاتے تھے ”
” مگر پچھلے دو دیں سے وہ اسکو مکمل نظرانداز کر رہا تھا اس لئے رضوا نے سوچا یہ اسکی ناراضگی کم کر سکتا ہے ”
” کچھ دیر انتظار کرنے کے بعد کاوش نکھرا نکھرا سا واشروم سے باہر نکلا تھا ”
” ٹاول سے بال خشک کرتا وہ رضوا کو مکمل نظر انداز کئے وارڈراب کی طرف بڑھا ”
” رضوا جو اسکے لئے شرٹ نکالنے کے لئے اٹھی تھی کاوش کو وارڈراب کی طرف بڑھتا دیکھ کر اسکے قدم اپنی جگہ رک گئے تھے ”
” وہ اس سے اتنا سخت ناراض تھا کہ اپنا کوئی بھی کام اس سے نہیں کروانا چاہتا تھا ”
” یہ سوچ آتے ہی رضوا کی آنکھیں یکدم سے نم ہوئی تھی “
‘” ہٹیں میں نکال دیتی ہوں آپکی شرٹ ”
” وہ اپنے آنسوں پیتی اسکی پشت پر آ کھڑی ہوئی تھی ”
” نہیں رہنے دو میں نکال چکا ہوں ..
” ووہ اسکی طرف پلٹے بغیر بولا اور اپنی شرٹ لیکر اسکی سائیڈ سے نکلتا ڈریسنگ کے پاس آ کھڑا ہوا تھا ”
” کاوش کی اتنی بےرخی پر رضوا کی آنکھ سے ایک آنسوں ٹوٹ کر زمین پر گرا تھا ”
” اس نے اپنے دل میں ایک درد سا محسوس کیا تھا ”
” وہ تو اب اسکی محبت اسکے نرم رویہ کی عادی ہو چکی تھی ..
تو اب اسکی بےرخی کہاں برداشت کر سکتی تھی ”
” وہ بہت مشکل سے خود پر ضبط کئے کھڑی اسکی پشت کو دیکھ رہی تھی ”
” اسکو لگ رہا تھا کہ اب کاوش کو اسکی فکر نہیں ہے مگر ایسا نہیں تھا وہ اس پر پل پل نظر رکھے ہوئے تھا بس ”
” کاوش کا دل کر رہا تھا کہ وہ رضوا کو اپنی باہوں میں بھر لے اسکو رضوا کے چہرے پر یہ اداسی بلکل اچھی نہیں لگ رہی تھی ”
” مگر یہ سب کر کے رضوا کو اپنا احساس دلانا بھی ضروری تھا ”
”اگر وہ اسکے قریب گیا تو اسکے چہرے پر وہی ڈر آ جائے گا جو وہ بلکل نہیں چاہتا تھا ”
” وہ چاہتا تھا کہ رضوا بغیر ڈرے اسکے قریب آئے “
” رضوا اسکو تیاری کرتا ہوا دیکھ رہی تھی جب کچھ سوچ کر وہ آگے بڑھی اور بیڈ پر رکھی اسکی ٹائی اٹھا کر اسکے قریب آئی تھی ”
” کاوش …آپ ….آج آفس کیوں جا رہے ہیں ..
آج مت جایں ”
” وہ بہت آہستہ آواز میں اسکی طرف دیکھ کر بولی آنکھوں سے آنسوں بہنے کے لئے تیار تھے ”
” جبکہ اسکی بات سن کر کاوش کے چلتے ہاتھ یکدم سے رکے تھے ”
” کیوں کیا کوئی خاص بات ہے جو میں آفس نہ جاؤں ?
” لہجہ ناراضگی لئے ہوئے تھے ”
” وہ …وہ ..آپکو چوٹ لگی ہیں نہ اس لئے میں ”
” وہ اسکی ناراضگی ختم کر دینا چاہتی تھی مگر وہ تھا کہ مان ہی نہیں رہا تھا ”
” اتنی چھوٹی سی چوٹ کے لئے میں آفس کی چھٹی نہیں کر سکتا ”
” اس نے اپنی بات کہہ کر اسکے ہاتھ سے ٹائی لینے کے ساتھ ساتھ اسکو بھی اپنی طرف کھینچا تھا ”
” رضوا جو آرام سے کھڑی تھی اس اچانک حملے پر وہ سیدھا اسکے سینے سے آ لگی تھی ”
” کاوش کے جسم سے آتی مردانہ پرفیوم کی خوشبو نے اسکو اپنے حصار میں لیا تھا ”
” اگر میری ناراضگی ختم کرنی ہے تو کوئی دوسرا طریقہ ڈھونڈھوں ”
شاید اس سے بات بن جائے ”
” وہ اسکے کان میں سرگوشی کے انداز میں بولا تھا بولتے ہوئے اسکے لب رضوا کی کان کی لؤ کو چھو رہے تھے ”
” اور جتنا تم دیر کروگی تمہارے لئے ہی اچھا نہیں ہوگا ”
” اس بار اس نے اسکی کان کی لؤ کو اپنے دانتوں میں لیکر بہت زور سے دبایا تھا ”
یہ اسکو اتنا انتظار کرانے کی چھوٹی سی سزا تھی ”
”جبکہ درد کی وجہ سے رضوا نے اپنی چیخ کا گلا بمشکل گھوٹا تھا ”
” اب جاؤ جاکر ناشتہ کرو اور اچھے سے سوچوں کہ تمھیں کیا کرنا چاہئے ”
” اس نے اپنا رخ پھر سے ڈریسنگ کے سامنے کیا ”
” جبکہ رضوا ابھی بھی ایسے ہی کھڑی اسکو تیار ہوتا ہوا دیکھتی رہی ”
” یہ شخص سارے طریقے جانتا تھا اسکو خاموش کروانے کے”
” اپنی تیاری مکمل کرنے کے بعد کاوش نے ایک نظر اپنے سامنے خاموش کھڑی رضوا کو دیکھا اور اسکو سائیڈ پر کرتا ہوا کمرے سے نکل گیا تھا رضوا وہیں کھڑی اسکی پشت کو دیکھتی رہی تھی ”
💕💕
” وہ جب گھر میں داخل ہوئی تو اسکا سب سے پہلے سامنا لاؤنج میں بیٹھی یسرا بیگم سے ہوا تھا ‘
‘ ‘ جب سے وہ اس گھر میں آئی تھی تب سے اسکی یسرا بیگم سے کم ہی بات ہوئی تھی .
‘” زیادہ وقت تو وہ گھر میں ملتی ہی نہیں تھی اور جب گھر میں ہوتی تب بھی منال انکو مخاطب نہیں کرتی تھی “
‘” کیونکہ وہ انکی نظروں سے ہی سمجھ گئی تھی کہ وہ اسکو خاص پسند نہیں کرتی ہے اس لئے منال نے ان سے دوری بنانا بہتر ہی سمجھا تھا ..
‘” ویسے بھی جب حیدر کو کوئی فرک نہیں پڑتا تھا تو وہ کیوں انکا خیال کرے اس لئے وہ انکو نظر انداز کرتی اپنے کمرے میں آ گئی تھی ‘”
‘” کمرہ خالی دیکھ کر وہ اتنا تو سمجھ ہی گئی تھی کہ حیدر آفس جا چکا ہے ..
وہ تھوڑی اداس تو ہوئی تھی لیکن اسکی واپسی پر اس نے حیدر کو سب بتانے کے بارے میں سوچ لیا تھا ‘
‘” آج وہ اپنے اس فیصلے سے بہت مطمئن تھی اسکے دل پہ جو بوجھ سا تھا وہ جلد ختم ہو جائے گا ..
‘” یہ بات اسکو سکون پہنچانے کے لئے کافی تھی “
‘” آپی میں آج حیدر کو بتا دوں گی کہ آپ میری بہن ہو جنتی ہوں اسکو لگے گا میں نے آپکی وجہ سے اس سے شادی کی لیکن میں اسکی یہ غلط فہمی بھی دور کر دوں گی ”
‘ ‘ وہ اسی فائل سے ایشا کی تصویر نکال کر اس سے بات کر رہی تھی ..
آج اسکو بہت ساری ہمت چاہئے تھی خود کے لئے ”
وہ اسکی تصویر کو دیکھ ہی رہی تھی جب اسکا بیڈ پر رکھا موبائل بجا تھا ”
‘” سکرین پر کاوش کا نام دیکھ کر اسکے ہونٹوں پر مسکراہٹ آئی تھی ..
” کل سے وہ اسکو ہی فون کرنے کے بارے میں سوچ رہی تھی آج اسکا فون آ بھی گیا تھا “
‘ ” ہیلو منال ..کیسی ہو تم ..
تمہارے ساتھ سب ٹھیک تو ہے نہ ..
‘” اسکے کال پک کرتے ہی کاوش کے سوال شروع ہو گئے تھے ‘”
‘” ہاں ..ہاں میں ٹھیک ہوں اور سب کچھ ٹھیک ہے میرے ساتھ ..
‘ ‘ سانس تو لے لو تم سکون سے “
اسکی جلدبازی پر وہ مسکرائی تھی “
‘” بس میں کل سے بہت پریشان تھا تمہارے لئے مجبوری کی وجہ سے تم سے ملنے بھی نہیں آ سکتا تھا ”
‘ ” وہ تھوڑا فکرمندی سے بولا تھا “
وہ اور نمرہ بیگم اسکی زندگی میں بہت اہميت رکھتے تھے “
‘” ارے تمھیں میرے لئے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے اور میں جانتی ہوں کل کیا ہوا تمہارے اور حیدر کے بیچ اسی وجہ سے تم پریشان ہو نہ “
‘ ‘ منال نے اسکے فون کرنے کی وجہ خود ہی بتا دی تھی ”
‘” سچ بولوں کاوش حیدر اپنے باپ سے بلکل الگ ہے ..
‘” تمہارے دل میں حیدر کے لیے جو بھی غلطفہمی ہے اسے دور کر لو ‘”
‘ ‘ میں حیدر کے ساتھ خوش ہوں تم میرے لئے فکر مت کرو “
” وہ اسکی پریشانی کو اچھے سے سمجھتی تھی اس لئے اسکو سمجھانے لگی .
‘ ‘ یہ سچ تھا حیدر اپنے باپ سے بلکل الگ تھا اسکو بس وہ معلوم تھا جو اسکے باپ نے بتا رکھا تھا ”
‘” اور یہی وجہ تھی کہ وہ کاوش کو ناپسند کرتا تھا “
‘” ہاں کل اسکی باتوں سے مجھے اندازہ تو ہو گیا تھا مگر تمہارے منہ سے سن کر مجھے اب سکون ملا ہے ”
” اسکے لہجے میں منال کے لئے محبت تھی ”
” اچھا چلو تم یہ سب چھوڑو .
رضوا کے بارے میں بتاؤ کیسی ہے وہ ..
اسکا رویہ تبدیل ہوا یا نہیں ”
” اس نے اپنی باتوں کا رخ اب رضوا کی طرف موڑ لیا تھا
وہ کاوش کی رضوا کے لئے محبت تو دیکھ ہی چکی تھی اب بس اسکو رضوا کی محبت کا انتظار تھا ‘
‘” اسکا رویہ ہی نہیں وہ پوری کی پوری تبدیل ہو چکی ہے ..
رضوا کا ذکر آتے ہی کاوش کی مسکراہٹ گہری ہوئی تھی اسکی آنکھوں کے سامنے کل رات والا منظر گھوم گیا تھا ”
” یہ تو بہت اچھی بات ہے میں بہت خوش ہوں تمہارے لئے انشاءلله سب جلد ٹھیک ہو جائے گا “
‘” کاوش کی بات سن کر منال کو خوشی ہوئی تھی ‘”
‘” کچھ دیر کاوش کے ساتھ یوں ہی باتیں کرتی رہی تھی اس بات سے انجان کی کوئی تھا جو دروازے کے باہر کھڑا اسکی باتیں سن چکا تھا “”
💕💕
” اپنی تیاری مکمل کرنے کے بعد اس نے ایک آخری بار آئنے میں اپنا جائزہ لیا ”
” ڈارک گرین کلر کے سوٹ میں وہ اس وقت نظر لگ جانے کی حد تک خوبصورت لگ رہی تھی ”
” ہلکا سا میک اپ اور ڈارک ریڈ کلر کی لپ سٹک اسکی خوبصورتی کو مزید نکھار رہی تھی ”
” اپنے لمبے بالوں کو اس نے کھلا ہی چھوڑا ہوا تھا ”
” کیونکہ وہ اتنا تو جان ہی چکی تھی کہ کاوش کو اسکے کھلے بال پسند ہیں ”
” آج وہ پورے دل سے اسکے لئے تیار ہوئی تھی ”
” اس نے آج پورا ارادہ کر لیا تھا کاوش کی ناراضگی ختم کرنے کا ”
” جبکہ کاوش تو اس سے ناراض تھا ہی نہیں وہ تو بس اسکے منہ سے اظھار محبت سننے کا منتظر تھا ”
” اور یہ بات اسکے چھوٹے سے دماغ میں نہیں آ رہی تھی ”
” لاؤنج سے آتی آواز سن کر اسکا دل یکدم سے تیزی سے دھڑکا تھا ”
” یقیناً کاوش ہی ہوگا کیونکہ یہ اسکے گھر آنے کا وقت تھا”
” سچ کہتے ہیں محبت انسان کو پوری طرح سے بدل دیتی ہے جیسے وہ بدل گئی تھی کاوش کی محبت میں ”
” وہ لڑکی جو اسکی آواز اسکی آہٹ سے بھی ڈرتی تھی آج اسکے بغیر رہنے کے بارے میں تصور بھی نہیں کر سکتی تھی”
” بس وہ اپنی اسی محبت کا عتراف کرتی ہوئی تھوڑا سا گھبراتی تھی ”
” اس سے پہلے کہ وہ مسکراتی ہوئی کمرے سے باہر نکلتی کاوش دروازہ کھول کر کمرے میں داخل ہوا تھا ”
” اس پر نظر پڑتے ہی کاوش کے قدم اپنی جگہ پر رک سے گئے تھے ”
” اسکو اپنے پسندیدہ رنگ میں دیکھ کر اسکو اپنی نظریں رضوا پر سے ہٹانا مشکل لگ رہا تھا ”
” وہ اسکو اپنے دل میں اترتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی “
‘” آ گئے آپ …پانی لاؤں آپکے لئے “
‘” اسکی خود پر جمی گہری نظروں سے گھبرا کر وہ بمشکل بول پائی تھی ”
” نہیں ضرورت نہیں ہے ”
‘ اسکی آواز سن کر کاوش اس پر سے نظریں ہٹاتا ہوا بولا ‘
” وہ جان بوجھ کر ناراض لہجے میں بولا مقصد صرف اسکو پریشان کرنا تھا ”
‘” وہ جو اسکے منہ سے اپنے لئے تعریف کے لفظ سننے کی منتظر تھی اسکا جواب سن کر رضوا کو اپنے اندر کچھ ٹوٹتا ہوا سا محسوس ہوا وہ تیزی سے کمرے سے نکلی تھی ”
” اسکے اس طرح سے جانے پر کاوش بھی اسکے پیچھے گیا تھا ”
” مگر جب کچن میں روتی ہوئی رضوا پر نظر پڑی تو وہ یکدم سے پریشان ہوا تھا ”
” رضوا میری جان کیا ہوا کیوں رو رہی ہو “
” اس نے اسکا چہرے اپنے دونوں ہاتھوں میں لیا تھا ”
” رلا کر پوچھ رہے ہیں میں کیوں رو رہی ہوں ..
آپ ہی تو رلا رہے ہیں مجھے صبح سے ”
آپکی ناراضگی کی وجہ سے رو رہی ہوں میں
‘ اسکے دونوں ہاتھوں کو جھٹک کر شکایات کی گئی تھی ”
‘” جبکہ اسکا جواب سن کر کاوش کے ہونٹوں پر مسکراہٹ آئی تھی ”
‘” میری ناراضگی کی اتنی.فکر ہے تمھیں ..میری ناراضگی سے فرک پڑتا ہے تمھیں ?
” اس سے سوال پوچھا گیا تھا ”
‘” فرک پڑتا ہے بہت زیادہ جان نکلنے کو ہوتی ہے میری میری آپکی ناراضگی سے ”
” وہ بری طرح روتی ہوئی بولی تو اسکا جواب سن کر کاوش کو سکون ملا تھا ‘”
‘” اگر میں تمہاری جان ایک بار میں ہی نکال دو تو ”
‘” وہ اسکے ہونٹوں کو نرمی سے چھوتا ہوا ذو معنی لہجے میں بولا تو رضوا کی آنکھیں صدمے کے مارے مزید کھلی تھی “
‘” آپ مجھے جان سے ماریں گے ..جایں مجھے بات نہیں کرنی ..آپ ..
اس سے پہلے کے رضوا مزید کچھ کہتی کاوش اسکی ہونٹوں پر جھک گیا تھا ”
” رضوا نے سختی سے اسکا کلر اپنی گرفت میں لیا تھا “
‘” کچھ لمحے یوں ہی خاموشی سے گزرنے کے بعد وہ اس سے جدا ہوا تھا “
‘” کاوش …آپ مجھ سے ناراض تو نہیں ہیں نہ ?
“‘ رضوا گہرے گہرے سانس لیتی اسکی طرف دیکھتی ہوئی بولی “‘
‘” اسکو ابھی بھی اسکی ناراضگی کی فکر تھی جبکہ اسکی بات سن کر کاوش ہلکے سے مسکرایا اور پھر سے اسکے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھ چکا تھا “‘
‘” اس بار اسکی پکڑ میں سختی تھی شدّت تھی .
رضوا کو آپنا سانس رکتا ہوا محسوس ہونے لگا تھا مگر وہ اسکو روک نہیں پا رہی تھی “
‘” وہ اس پر جھکا اسکو اپنی محبت کا یقین دلا رہا تھا”
” رضوا کیا مجھے اجازت ہے کہ میں تمہارے قریب آ جاؤں .
اتنا قریب کہ تم اپنی ہر سانس کے ساتھ مجھے محسوس کرو’
”وہ اسکے رخسار کو نرمی سے سہلاتا ہوا خمار آلودہ لہجے میں بولا ”
” اس وقت دونوں کا سانس بری طرح پھول چکا تھا دونوں کی دھڑکنے بھی اس وقت تیز ہو رہی تھی ”
” اسکی بات سن کر رضوا نے شرما کر اپنا چہرہ اسکے سینے میں چھپایا تھا ”
” اسکے اتنے خوبصورت اظھار پر کاوش اندر تک خوش ہوا اور اسکو اپنی باہوں میں اٹھا کر کمرے میں لایا تھا ‘”
” کاوش ” مجھے ڈر لگ رہا ہے ”
” اسکو اپنی شرٹ کے بٹن کھولتا دیکھ کر رضوا گھبرائی ہوئی آواز میں بولی ”
”” تمھیں لگنا بھی چاہئے میری جان اتنا انتظار جو کروایا ہے تم نے ..
اور اب مجھ سے رحم کی امید بلکل مت رکھنا ”
” وہ اپنی شرٹ ایک طرف ڈالتا اس پر جھکا تھا ”
‘” اسکی بات سن کر رضوا کو اپنا حلق خشک ہوتا ہوا محسوس ہوا تھا ”
” کاوش ”
” اسکے ہونٹوں کا نرم گرم لمس اپنی گردن پر محسوس کرکے رضوا نے اسکو ہٹانا چاہا مگر کاوش اسکے دونوں ہاتھوں کو اپنی گرفت میں لے چکا تھا ”
اب فرار کی راہ ممکن نہیں تھی ‘
” کاوش مجھے پیاس لگی ہے ”
”اسکی بڑھتی جسارتوں سے گھبرا کر بہانہ بنانا چاہا تھا ”
‘” پیاس تو مجھے بھی بہت لگی ہے رضوا ..
وہ اپنی بات کہہ کر پھر سے اسکو ہونٹوں پر جھک کر اسکو مزید کچھ بولنے سے روک چکا تھا ”
‘” رات گزرنے کے ساتھ ساتھ اسکی شدتیں بھی بڑھتی جا رہی تھی ”
” اسکے ہر عمل سے رضوا کو اندازہ ہو گیا تھا کہ اس نے ان لمحوں کا کتنا انتظار کیا تھا..
” جسکو اپنی اگلی سانس سے زیادہ اسکے لمس کی چاہ تھی تو رضوا کیوں اس شخص کو روکتی وہ خود بھی کاوش کو سونپ چکی تھی ..
کھڑکی سے چمکتا چاند انکے ملن پر مسکرا دیا تھا ”
💕💕
‘” حیدر کہاں ہو تم .
آج تمہارا انتظار کر رہی ہوں اور تم ہو کہ میرا انتظار ختم ہی نہیں کر رہے ہو ..
‘ منال پریشانی سے کہتی بیڈ سے اٹھی اور ڈریسنگ کے سامنے آ کھڑی ہوئی تھی ”
” صبح سے رات ہونے والی تھی حیدر کا کچھ پتہ نہیں تھا کہ کہاں ہے ..
”اسکی سیکٹری کو فون کرنے کے بعد جب اسکو معلوم ہوا کہ وہ آج کمپنی نہیں گیا تو اسکی پریشانی میں مزید اضافہ ہوا تھا ”
” آج اسکو حیدر سے اتنا کچھ کہنا تھا اور آج ہی وہ اسکے پاس نہیں تھا ”
” وہ آئنے کے سامنے کھڑی خود کو دیکھ کر حیدر کے بارے میں سوچ رہی تھی جب اسکو کمرے میں کسی کی موجودگی کا احساس ہوا تھا ”
” حیدر آپ آ گئے ..
منال حیدر کا سوچ کر خوشی سے پلٹی مگر یاسر صاحب کو اپنے سامنے دیکھ کر اسکی مسکراہٹ یکدم سے غائب ہوئی تھی ”
‘” حیدر نہیں حیدر کا باپ آیا ہے ”
“‘ وہ اسکی طرف دیکھ کر مسکراۓ تھے مگر منال کو انکی یہ مسکراہٹ زہر لگی تھی ”
” کوئی کام تھا آپکو ”
” سپاٹ چہرہ لئے انکی طرف دیکھ رہی تھی
منال کو آج بھی وہ دن یاد تھا جب وہ اسکے شوہر کو اسکے خلاف بھڑکانے کی کوشش کر رہے تھے ”
” وہ پہلے ہی کاوش کی وجہ سے انکو ناپسند کرتی تھی مگر اس دن کے بعد اسکی ناپسندیدگی مزید بڑھ گئی تھی ”
” کام ہی تو ہے اس لئے تمہارے پاس موجود ہوں .
جلدی سے مجھے میری بیٹی کے بارے میں بتا دو کہاں رکھا ہوا ہے تمہارے اس کزن نے میری بیٹی کو ..
” یاسر سیدھا اپنے مطلب کی بات پر آیا تھا ”
” جبکہ اسکے منہ سے یہ سن سن کر منال حیران ہی تو رہ گئی تھی آخر وہ کیسے جان گئے تھے کہ اسکو رضوا کے بارے میں معلوم ہے ”
‘” زیادہ حیران ہونے کے ضرورت نہیں ہے تم میرے گھر میں رہتی ہو مجھے ہر بات کی خبر ہے تمہارے بارے میں اب سیدھی طرح سے بتا دو کہاں ہے میری بیٹی ورنہ میں ”
” انہوں نے اپنی بات ادھوری چھوڑی تھی ”
” ورنہ کیا …بولیں کیا ورنہ ”
” منال کو انکی بات سن کر سمجھ گئی تھی کہ وہ ضرور اسکے اور کاوش کے درمیان ہونے والی باتیں سن چکے ہیں ”
‘” ورنہ میں حیدر کو سن بتا دوں گا کہ تم کس مقصد کے لئے اس سے شادی کی دھوکہ دے رہی تھی تم اسکو ”
” یاسر شاطر انداز میں اسکو بلیک میل کر رہا تھا .
” جبکہ منال کو لگ رہا تھا کہ اس نے اتنا گھٹیا انسان اپنی زندگی میں نہیں دیکھا ”
” بتا دیں آپ میں آپکی دھمکی سے نہیں ڈرنے والی ہوں ”
”منال انکی طرف دیکھ کر بےخوف ہوکر بولی تھی ‘
” دیکھ لو لڑکی اس میں تمہارا ہی نکسن ہے ”
‘ تم جانتی ہو حیدر صرف میری بات پر یقین کرے گا اور تمھیں اس گھر سے نکالنے میں بھی دیر نہیں کرے گا ”
” یاسر اسکو ڈرا کر رضوا کے بارے میں معلوم کرنا چاہ رہے تھے مگر منال کہاں انکی باتوں میں آنے والی تھی ”
” آپکو جو کرنا ہے کر لیں لیکن میں آپکو کچھ بتانے والی نہیں ہوں اور اگر اپنے حیدر کو بتا بھی دیا تو میں بھی خاموش نہیں رہوں گی ..
سب معلوم ہے مجھے آپکی کرتوتوں کے بارے میں سب بتا دوں گی میں بھی حیدر کو .
” وہ نفرت سے انکو طرف دیکھ کر بولی تھی ‘
آنکھوں میں اس وقت یاسر کے لئے غصّہ اور نفرت دونوں تھی”
‘” کیا بتاؤ گی تم اسکو یہی نہ کہ میں نے اپنی بیوی کو دھوکہ دیا تھا اسکی موت میری وجہ سے ہوئی تھی نہ کہ حسن کی وجہ سے یہی نہ ..
بتا دو ..تمھیں کیا لگتا ہے کہ حیدر تم پر یقین کر لیگا کل کی آئی لڑکی پر ..
‘” اگر تم ایسا سوچتی ھو تو یہ تمہاری بہت بڑی بھول ہے
” حیدر میری بات کا یقین کرے گا جیسے اس نے دس سال پہلے کیا تھا ..
کیونکہ وہ میرا خون ہے میرا بیٹا “
“یاسر صاحب بولتے چلے جا رہے تھے اس بات سے انجان کے دروازے میں کھڑا حیدر انکی یہ سب باتیں سن کر اپنی جگہ سن کھڑا رہ گیا تھا “‘
‘” اسکو اپنے کانوں پر یقین نہیں آ رہا تھا جو کچھ بھی اس نے سنا تھا وہ سچ تھا یا نہیں “
‘” اس لئے لڑکی تم میری نہیں اپنی فکر کرو جب حیدر کو معلوم ہوگا کہ تم شروع سے جانتی تھی کہ رضوا کاوش کے پاس ہے تو تب کیا ہوگا تمہارا ..
‘” اور پھر دوسری بات بھی موجود ہے تم سے نفرت کے لئے'”
‘” اس بار خاموش رہنے کی باری منال کی تھی وہ سچ ہی تو کھہ رہے تھے جب حیدر کو یہ سب معلوم ہوگا تو کیا ہوگا اسکا “‘
‘” مجھے بتا دو کہ رضوا کہاں ہے ورنہ میں “
”اس سے پہلے کہ یاسر صاحب مزید کچھ کہتے حیدر زور زور سے تالی بجات ہوا اندر داخل ہوا تھا ‘”
“‘ واہ …کیا بات ہے ایک سے بڑھ کر ایک جھوٹا موجود ہے یہاں تو ..
‘” وہ ایک سرد نگاہ دونوں پر ڈالتا ہوا بولا “
‘” جبکہ اسکی بات پر یاسر صاحب کہ رنگ سفید پڑ چکا تھا”
‘”حیدر کو لگ رہا تھا کہ یہ اسکی زندگی کا سب سے برا دن تھا آج ہی تو اسکو نمرہ بیگم سے باتوں ہی باتوں میں ایشا کے بارے میں معلوم ہوا ..
منال نے اس سے اتنا بڑا سچ چھپا کر رکھی تھی ‘
اسکو دکھ کے ساتھ ساتھ بہت غصہ بھی آیا تھا ”
‘” انکے گھر سے نکلنے کے بعد وہ سارا دن سڑکوں پر گاڑی دوڑاتا رہا ..
‘” اس وقت منال پر اسکو شدید غصّہ آ رہا تھا جب غصّہ تھوڑا کم ہوا تو وہ منال سے اس بارے میں بات کرنے کے لئے گھر واپس آیا مگر اب سوچ رہا تھا کہ کاش وہ گھر واپس ہی نہیں آتا “
“‘ بیٹا میری بات سنو تم نے جو کچھ بھی سنا ہے سب جھوٹ ہے یہ لڑکی ہی بکواس کر رہی تھی ..
‘” یاسر صاحب نے کہتے ہوئے اسکا بازو پکڑنا چاہا مگر حیدر بےدردی سے انکے ہاتھ جھٹک چکا تھا “
‘” ہاتھ مت لگائے مجھے آپ ..نفرت محسوس ہو رہی ہے اس وقت آپ سے ..
آپکو اپنا ڈیڈ کہتے ہوئے شرم آ رہی ہے مجھے “
‘” وہ سخت لہجے میں انکی طرف دیکھ کر بولا
آنکھیں غصّے کی وجہ سے سرخ ھو چکی تھی ‘”
‘” اور تم کیا ایک جھوٹ کافی نہیں تھا چھپانے کے لئے جو تم ,,
وہ سرد نگاہوں سے منال کی طرف دیکھ کر بولا ”
” اسکے لہجے میں اپنے لئے چھپی نفرت اور غصّے کو محسوس کر کے منال کہ دل تڑپ اٹھا تھا ‘
”ایسا تو اس نے کبھی نہیں چاہا تھا ”
کاش وہ حیدر کو سب کچھ پہلے ہی بتا چکی ہوتی “
‘” حیدر پلز میری بات سنو ..میں تمھیں ,,
‘” اس بار منال نے کچھ کہنا چاہا مگر حیدر ہاتھ کے اشارے سے اسکو روک چکا تھا ‘”
‘” مجھے اس وقت آپ دونوں میں سے کسی کی نہ تو بات سننی ہے اور نا شکل دیکھنی ہے اس لئے دور رہو مجھ سے ..
‘” وہ دہاڈا تھا ‘
” اسکی دہاڈ سن کر ایک پل کے لئے منال کانپ اٹھی تھی'”
‘” حیدر بیٹا میری بات سنو یہ لڑکی اس کاوش کے ساتھ ملی ہوئی تھی ..
“”میں نے کہا نہ مجھے کسی کی کوئی بات نہیں سننی آپ لوگ چلیں جایں یہاں سے ..
‘” اگر آپ لوگ نہیں جا سکتے تو میں ہی چلا جاتا ہوں ‘”
“‘ اس وقت اسکا بھروسہ ٹوٹا تھا دل ٹوٹا تھا اسکا بری طرح”
‘” حیدر میری بات تو سنو “
‘” اسکو کمرے سے باہر نکلتا دیکھ کر منال نے اسکو روکنا چاہا مگر وہ اسکی طرف دیکھے بغیر کمرے سے باہر نکلتا چلا گیا تھا “
”اس وقت وہ سب سے بہت دور جانا چاہتا تھا کیونکہ وہ نہیں چاہا تھا کہ وہ غصّے میں کچھ ایسا کر جائے کہ بعد میں اسکو پچھتانا پڑے “
‘” اسکے نکلے کے بعد منال بھی اسکے پیچھے پیچھے کمرے سے باہر نکل گئی تھی “”
‘اب صرف کمرے میں صرف یاسر صاحب اکیلے رح گئے تھے اب سب کچھ انکے ہاتھ سے نکل چکا تھا ‘
💕💕
(جاری ہے )