Ishq E Junoon By Iqra Sheikh Readelle50202 Episode 16
No Download Link
Rate this Novel
Episode 16
,, حسن مجھے اب تک یقین نہیں ہو رہا ہے یاسر تمہارے ساتھ ایسا کر سکتا ہے ,,
,, تم دونوں تو دوست نہیں بھائی جیسے تھے ..
,, نمرہ بےیقینی سے حسن کی طرف دیکھ رہی تھی
,, جو کچھ بھی انہیں حسن نے بتایا اس سب پہ یقین کرنا انکے لئے بہت مشکل تھا ,,
,, تم یہ سب جان کر اتنی حیران ہو رہی ہو
یہ سوچو اس وقت مجھ پر کیا گزر رہی ہوگی تم اس بات کا اندازہ بھی نہیں لگا سکتی ہو ,,
,, مجھے ایسا لگ رہا ہے کہ میں بلکل تنہا ہو گیا ہوں ایسے جیسے کچھ باقی نہ رہا ہو ,,
,, حسن کے لہجے میں گہرا دکھ تھا ,,
,, انہیں یاسر سے اس طرح کی بلکل امید نہیں تھی ,
,, یہ سب برداشت کرنا انکے بس سے باہر تھا اس لئے آج وہ نمرہ کے پاس آئے تھے اپنا دکھ باٹنے ,,
,, نمرہ انکی بیوی کی بہت اچھی دوست تھی
اپنی بیوی کی موت کے بعد بھی انہوں نے انسے ملنا نہیں چھوڑا تھا ,,
,, بلکہ انکی بیوی کے انتقال کے بعد نمرہ نے ہی کاوش کی دیکھ بھال کی تھی ,,
,, اور اس شہر میں واپس آنے کے بعد کاوش ان لوگوں کے اور قریب ہو گیا تھا ,,
,, انکی یہی دوستی انکے بچوں میں بھی تھی ,,
,, کاوش نمرہ بیگم کے ساتھ ایشا اور منال سے بھی بہت محبت کرتا تھا ,,
,, بلکہ وہ ان دونوں کو اپنی بہن کی طرح سمجھتا تھا ,,
,, اسی طرح نمرہ کے لئے کاوش بہت عزیز تھا ,,
,, میں آپکا درد سمجھ سکتی ہوں حسن لیکن آپ تنہا نہیں ہیں .
اپکا بیٹا ہے جو آپکی پوری دنیا ہے آپکے لئے ,,
,, نمرہ بیگم نے انکو تسلی دینی چاہی تھی مگر وہ یہ بات بہت اچھے سے سمجھ سکتی تھی کہ انکا یہ دکھ اتنی آسانی سے کم نہیں ہونے والا تھا ,,
,, کتنی تکلیف ہوتی ہے جب آپ پر الزام لگایا جائے ..
اوو یہ الزام تو بہت بڑا تھا کہ انکی وجہ سے کسی کو موت ہوئی ہے .
جبکہ وہ اس معملے میں ہر طرح سے بےقصور تھے,,
,, میں اپنے بیٹے کی وجہ سے ہی تو سب کو برداشت کر رہا ہوں ..
خود کو سمبھالا ہوا ہے ..
,,ورنہ میں تو کب کا ٹوٹ چکا ہوتا ,,
,, جانتی ہو نمرہ اس بچے کی آنکھوں میں اپنے لئے نفرت دیکھ کر میرا دل تڑپ اٹھا تھا ,,
,,مجھ بےقصور کو قصوروار بنا دیا ,,
,, صرف اس لئے کہ اپنی غلطی چھپا سکے ,,
,اس بار حسن کی آنکھیں نم ہوئی تھی
جبکہ نمرہ اس بار بس خاموشی سے انکی طرف دیکھ کر رہ گئی تھی ,,
, , وہ انکا درد سننے کے علاوہ اور کر بھی کیا سکتی تھی ,,
,, میں نے فیصلہ کر لیا ہے نمرہ ..
میں اس بوجھ کی وجہ سے یہاں نہیں رہ سکتا .
اس لئے میں نے فیصلہ کر لیا ہے کہ میں ہمیشہ کے لئے یہ ملک چھوڑ کر جا رہا ہوں ,,
,, انکے اس فیصلے سے نمرہ بیگم حیران ہوئی تھی,,
,, آپ ایسے کیسے جا سکتے ہیں سب کچھ تو یہیں ہے آپکا ..
انہوں نے روکنا چاہا تھا ,,
,, نہیں نمرہ میرا کچھ نہیں رہا یہاں جو تھا وہ سب ختم ہو گیا ,,
اس لئے اب یہاں رہنے کی وجہ باقی نہیں رہی ہے ,,
اب تو ہر رشتے سے میرا دل اٹھ گیا ہے اس لئے مجھے نا روکو ..
,, حسن نے جیسے اپنی بات ختم کی مگر وہ اس بات سے انجان کے دروازے کے پیچھے کھڑے کاوش کو کتنی تکلیف ہو رہی تھی انکی حالت سے ..
,, اور دوسری طرف اسکو یاسر اور اسکی پوری فیملی کے لئے نفرت محسوس ھو رہی تھی ..
جن لوگوں نے اسکے باپ کے ساتھ اتنا برا کیا تھا کہ وہ مجبور ہو گیا تھے اپنا ملک چھوڑنے کے لئے ..
,, اور اسکی یہ نفرت وقت کے ساتھ بس بڑھتی ہی چلی گئی تھی ,,
💕💕
,, وہ گلاس وال کے پاس کھڑی آسمان میں آزادی سے اڑتے پرئندوں کو دیکھ رہی تھی ..
وہ آزاد تھے مگر محفوظ نہیں ,,
,, اگر انکو قید کر لیا جائے تو وہ پوری طرح سے محفوظ تھے ,,
,, اسی طرح سے وہ بھی کسی کی قید میں تھی لیکن اب اسکو یہ قید بھی اچھی لگنے لگی تھی ,,
,, پہلے اس قید سے ڈرتی تھی مگر اب اس قید میں اسکو سکون ملنے لگا تھا ..
اسکے اس سکون کی وجہ کاوش کا نرم رویہ تھا ,,
,, وہ کھڑی آسمان میں دیکھ رہی تھی جب ایک جانی پہچانی خوشبو اسکی ناک سے ٹکرائی تھی اور ساتھ ہی اپنے پیچھے کاوش کی موجودگی کا احساس ہوا تھا ,,
,, اب تو وہ کاوش کی آہٹ سے بھی اسکو پہچانے لگی تھی پھر تو وہ اسکے پیچھے قریب ہی کھڑا تھا ,
,, کیا دیکھ رہی ہو ,,
, بھاری آواز میں اسکے کان میں سرگوشی کی گئی تھی ,,
اسکی گرم سانسیں اپنی کان کی لؤ پر محسوس کر کے رضوا نے اپنی آنکھیں بند کی تھی ,,
,, ان پریندوں کو آزادی سے اڑتا ہوا دیکھ رہی ہوں
اس نے اپنا ہاتھ گلاس وال پر رکھا تھا جیسے انکو چھونا چاہتی ہو ,,
,, کیا تم بھی انکی طرح آزاد ہونا چاہتی ہو ,
,,کاوش نے پیچھے سے اسکو اپنی باہوں کے حصار میں لیا اور اپنی ٹھوڈی اسکے کندھے پر ٹکا دی تھی,
,, اسکی اتنی قربت پر رضوا کو اپنی ٹانگوں پر کھڑے رہنا مشکل لگ رہا تھا ,,
,, بولو کیا تم بھی انکی طرح آزاد ہونا چاہتی ہو
اپنا سوال پھر سے دوہرایا تھا ,,
,, میرے چاہنے یا نہ چاہنے سے کیا ہوتا ہے ہوگا تو وہی نہ جو آپ چاہتے ہیں ,,
,, پھر سے شکوہ کیا گیا تھا ,,
,, ہر گزرتے دن کے ساتھ تمہاری شکایاتیں بھی بڑھتی جا رہی ہیں ..
,, کاوش نے اپنی بات کہہ کر اس پر اپنا گھیرا مزید تنگ کیا تھا .
,,مگر وہ اسکو کوئی تکلیف نہیں پہنچا رہا تھا اسکا بس یہی انداز تھا بات کرنے کا ,,
,, جو رضوا برداشت نہیں کر پاتی تھی ,,
,, شکایات نہیں میں نے بس آپکے سوال کا جواب دیا ہے آپ ہی تو کہہ ,,
اس سے پہلے کے وہ مزید کچھ کہتی کاوش کے لبوں کا گرم لمس اپنے کندھے پر محسوس کر کے اسکی بولتی بند ہوئی تھی,,
,, وہ میرے سوال کا جواب نہیں تھا ..
آزادی چاہتی ہو یا نہیں ,,
اس نے اسکے پونی میں قید بالوں کو آزاد کیا تھا ..
,,جبکہ رضوا سوچ رہی تھی کہ کہہ دے وہ آزاد ہونا چاہتی ہے مگر اکیلے نہیں اسکے ساتھ ..
,وہ اسکا شوہر تھا یہ بات تو وہ تب ہی قبول کر چکی تھی جب اسکو اس بات کا علم ہوا تھا ..
,,بس حیدر کی بات کی وجہ سے وہ تسلیم نہیں کر پا رہی تھی مگر اسکے ساتھ رہ کر وقت گزار کر اسکو اندازہ ہو گیا تھا کہ وہ اگر سخت تھا تو اتنا ہی نرم بھی تھا ,
,, اسکے باپ سے نفرت کی وجہ وہ اب تک نہیں جان پائی تھی مگر اس نے اپنے بھائی کے بعد اگر کسی کو اپنے قریب محسوس کیا تھا تو وہ کاوش ہی تھا ,,
,, اگر میرا جواب ہاں ہوا تو کیا آپ کر دیں گے مجھے آزاد.
وہ بھی اسکا جواب سننا چاہتی تھی ,,
, اسکی بات سن کر کاوش نے ایک جھٹکے میں اسکا رخ اپنی طرف کیا تھا ,,
,, ہاں کر دوں گا تمھیں آزاد ..
اسکے جواب پر رضوا کا سانس کہیں سینے میں ہی اٹک گیا تھا,,
,, لیکن صرف کچھ گھنٹوں کے لئے ..
اسکا جواب سن کر رضوا کے چہرے پر یکدم سے ایک چمک آئی تھی کچھ گھنٹے بھی اسکے لئے کافی تھے ,,
,, پر آج نہیں ایک دو دن بعد کیونکہ ابھی تو میں خود کچھ گھنٹوں کے لئے باہر جا رہا ہوں ..
,, میری غیر موجودگی میں یہاں سے نکلنے کی کوشش بلکل مت کرنا ..
اسکی انگلی نے رضوا کی پیشانی سے اسکی گردن تک کا سفر طے کیا تھا ,,
,, اگر تم نے کوشش کی تو میں ,,
اس سے پہلے کے اسکا ہاتھ مزید سفر طے کرتا رضوا نے گھبرا کر اسکا ہاتھ پکڑا تھا ,,
اسکی جلد بازی پر کاوش کی مسکراہٹ مزید گہری ہوئی ..
,, مجھے لگتا ہے تم میری بات سمجھ گئی ہو جب تک میں نہ آؤ اپنا خیال رکھنا .
,وہ اسکی پیشانی پر اپنے لب رکھتا تیزی سے کمرے سے نکلا تھا ..
💕💕
,, وہ آئنے کے سامنے بیٹھی اپنے بال بنا رہی تھی مگر وہ مکمل طور پر وہاں موجود نہیں تھی
,, اسکے دماغ میں اس وقت بہت ساری باتیں چل رہی تھی ،،
,, وہ اس وقت بری طرح کنفیوز ہو چکی تھی
دل کر رہا تھا کہ حیدر کی بات پر یقین کر لے مگر اپنی بہن کا خیال آتے ہی اسکا دماغ دل کی بات کو رد کر دیتا تھا ,,
,, کیا بات ہے بیگم کن خیالوں میں گم ہو کہ تمھیں شوہر کی موجودگی کا ذرا احساس نہیں ہے ,,
,, حیدر کب سے بیڈ پہ لیٹا آئنے میں سے نظر آتے اسکے چہرے کو دیکھ رہا تھا ,,
جب وہ کافی وقت تک ایسے ہی بیٹھی رہی تھی اسکو مخاطب کیا تھا ,,
,, حیدر کی آواز پر وہ اپنی سوچوں سے باہر نکلی اور اپنا رخ اسکی جانب کیا تھا ,,
,, تمھیں اپنی اس دوست سے محبت کیوں نہیں ہوئی جبکہ وہ بہت خوبصورت بھی تھی ,,
,, اسکے من میں چلتا سوال زبان پر آیا تھا ,,
,,اسکے سوال کرنے پر حیدر نے بامشکل اپنی مسکراہٹ کو روکا تھا ..
,, مطلب کل سے اب تک وہ اسی بات پر اٹکی ہوئی تھی ,,
,, محبت خوبصورتی دیکھ کر نہیں ہوتی بیگم یہ تو دل کا معملا ہے ..
دل سے دل کا کنیکشن ہوتا ہے ..
,, جیسے میرے دل کا تمہارے دل کے ساتھ ہوا ..
,, وہ آنکھوں میں محبت لئے اسکی طرف دیکھ رہا تھا جب منال نے اسکی بولتی نظروں سے گھبرا کر نظریں چرائی تھی ..
,, میں یہاں میری نہیں کسی اور کی بات کر رہی ہوں پھر سے پہلے والا لہجہ اپنایا گیا تھا ,,
,, مگر میری تو ہر بات تم سے سے شروع تم پر ختم ہوتی ..
آنکھوں میں شرارت لئے اسکی طرف دیکھا
,, مقصد صرف اسکو پریشان کرنا تھا ,,
,, تم سے تو بات کرنا ہی فضول ہے
,,منال جھنجھلا کر اپنی جگہ سے اٹھی اور بیڈ کی طرف بڑھی تھی ..
اب حیدر کی باتیں ہی نہیں اسکی حرکتیں بھی اسکو پریشان کرنے لگی تھی ..
اپنی اس بدلتی کیفیت کو وہ خود بھی نہیں سمجھ پا رہی تھی ,
اک طرف وہ اسکو ناپسند کرتی تھی تو دوسری طرف اسکی محبت اسکو اپنی طرف کھینچ رہی تھی ,,
,, یہ کیا ہو رہا ہے کہاں جا رہی ہو تم ..
اسکو بیڈ سے تکیہ اٹھاتے دیکھ حیدر کا لہجہ پل میں بدلہ تھا ,
,, تم نے شاید میری بات کو دھیان سے نہیں سنا تھا
وہ ماتھے پر بل ڈالے اسکی طرف دیکھ رہا تھا ,,
,, ہاں سنا تھا پر میں کہیں بھی جاکر لیٹوں تم اس چیز میں میرے ساتھ زبردستی نہیں کر سکتے ہو .
وہ تکیہ لیکر آگے بڑھی تھی جب حیدر اسکی کلائی تھام چکا تھا ,,
,, اسکا مطلب تم مجھ سے ڈر رہی ہو کہیں میں اپنا حق,,
,, بات کو ادھوری چھوڑ کر حیدر نے ہلکا سا جھٹکا دیکر اسکو اپنی طرف کھینچا تو منال اس پہ جھکی تھی,,
,, کسی خوش فہمی میں مت رہنا کہ میں تم سے ڈرتی ہوں ..
بس تمہارے ساتھ ایک بیڈ شیئر نہیں کر سکتی ..
,, وہ اپنی کلائی اسکی گرفت سے آزاد کراکر سیدھی ہوکر پلٹی تھی جب اسکو اپنے دوپٹے کی وجہ سے گلے میں کھیچاؤ سا محسوس ہوا تھا ..
,, اس نے پلٹ کڑ دیکھا تو حیدر اسکے دوپٹہ کا کونا پکڑے آرام سے لیٹا اسکی طرف دیکھ رہا تھا ،،
،،یہ کیا بدتمیزی ہے دوپٹہ چھوڑو میرا ..
منال ن اسکی گرفت سے اپنا دوپٹہ آزاد کرانا چاہا مگر مقابل کی گرفت مضبوط تھی ,,
,, تم اسے بدتمیزی کہہ رہی ہو ..
پاس آؤ پھر بتاتا ہوں میں تمھیں ,
,, حیدر نے شرارت سے کہتے ہوئے تھوڑا سا اسکو اپنی طرف کھینچا جبکہ منال بھی مسلسل اپنی کوشش کر رہی تھی ,,
,, آخر پرابلم کیا ہے تمہاری چھوڑ کیوں نہیں رہے ہو ..منال کو اس بار غصّہ آیا تھا ,,
,, تو چھڑوا لو میں ن کب روکا ہے ..
حیدر کی مسکراہٹ مزید گہری ہوئی اور اس بار اس نے تھوڑا سا زور لگا کر اسکو اپنی طرف کھینچا تو منال سیدھا اسکے اوپر آ گری تھی ,,
,, کیوں کوشش کرتی ہو جب مجھ سے جیت نہیں سکتی تم ..
حیدر اسکی کمر کے گرد اپنے بازو حائل کرتا اسکو اپنی گرفت میں لے چکا تھا ,,
,, اسکے ہاتھوں کی گرفت اپنی کمر پر محسوس کر کے منال کی دھڑکنے یکدم سے تیز ہوئی تھی ,,
,,آپ مجھے کیوں پریشان کر رہے ہیں ..
منال بیچارگی سے بولی تو حیدر کو اس پر ترس آ گیا تھا اس نے آرام سے بیڈ پڑ اسکو لیٹا دیا .
,, میں تمھیں پریشان نہیں کروں گا اگر تم نے بیڈ سے اٹھنے کی کوشش کی تو …
وہ اسکے بازو پر اپنی انگلی پھیرتا ہوا بولا اسکی بات پوری ہونے سے پہلے منال جلدی سے کروٹ بدل کے لیٹ گئی تھی ..
,, اسکے اس طرح سے ڈرنے پر حیدر کھل کر مسکرا دیا اور لائٹ اوف کرتا خود بھی سکون سے لیٹ گیا تھا ..
💕💕
,, وہ جیسے ہی کمرے میں داخل ہوا تو رضوا کو واشروم سے نکلتا دیکھ کر اسکے ماتھے پر بل پڑے تھے ,,
,, میں نے منع کیا تھا نہ بےوقت شاور لینے سے ,,
پھر بھی میری بات نہیں سنی تم نے ,,
,, رضوا جو کھڑی ٹاول سے اپنے بال خشک کر رہی تھی کاوش کی آواز پر یکدم سے پلٹی تھی ..
,, صبح کے بعد سے وہ اب واپس لوٹا تھا اور اس دوران وہ بےچینی سے اسکی واپسی کا انتظار کر رہی تھی ,,
,, جب انتظار کر کے تھک گئی تو کچھ دیر آرام کرنے کے لئے لیٹی تو نیند اس پر مہربان ہو گئی تھی ,,
,, فریش ہونے کے لئے اس نے جلدی سے شاور لیا مگر اب بری پھنسی تھی ,,
,, کاوش کی طرف دیکھا جو چہرے پر ناراضگی لئے اسکی طرف دیکھ رہا تھا ,,
,,جبکہ اسکے لہجے میں رضوا کے لئے فکرمندی تھی,,
,, آئندہ ایسا نہیں ہوگا ..یہ بس آخری بار تھا ,,,
,, اس سے پہلے کے وہ اپنی ناراضگی میں اسکے ساتھ کچھ کرتا رضوا جلدی سے بولی تھی ,,
,, اسکے جلدی سے جواب دینے پر کاوش کے تاثرات یکدم سے بدلے تھے ,,
,, ٹھیک ہے یہ لاسٹ بار تھا ,,
,,, اگر آگے سے ایسا ہوا تو میں معاف نہیں کروں,,
,, لہجے میں وارننگ تھی جس پر رضوا بس خاموش ہی رہی تھی ,,
,, اگر اسے پتہ ہوتا کہ وہ یوں اچانک آ جائے گا تو وہ شاور لینے کے بارے میں سوچتی بھی نہ ,,
,, اچھا اب جاؤ کوئی اچھی سی ڈریس چینج کر کے لاؤنج میں آؤ میں تمہارا انتظار کر رہا ہوں ,,
,, اور اچھے سے تیار ہو کر آنا..
,, وہ ایک نظر اسکے سادہ سے سوٹ پر ڈالتا ہوا بولا اور کمرے سے نکل گیا تھا ,,
,, جبکہ رضوا ابھی بھی ناسمجھی سے کھڑی تھی وہ گھر میں ہی تو تھی تو وہ کیوں اسکو تیار ہونے کا بول رہا تھا ,,,
,, کچھ دیر یوں ہی کھڑی رہی پھر جب اسکے غصّے کا خیال آیا تو تیزی سے وارڈراب کی طرف بڑھی تھی ,,
,, اسکی وارڈراب میں سب کپڑے کاوش کی پسند کے تھے ,,
,, رضوا نے جلدی سے سب سے اچھا سوٹ نکالا اور چینج کرنے چلی گئی ..
,, میک اپ کے نام پر ہلکے کلر کی لپ سٹک لگائی اور جلدی سے کمرے سے نکلی تھی ,,
,, اسکے اندر کاوش کا اتنا ڈر تھا کہ وہ ایک منٹ بھی لیٹ نہیں ہونا چاہتی تھی ,,
,, وہ جیسے ہی لاؤنج میں داخل ہوئی تو لاؤنج میں مکمل اندھیرا تھا ,,
,, رضوا تھوڑا ڈرتے ڈرتے آگے بڑھی تھی اندھیرے میں گرنے کا بھی ڈر تھا ,,
,, کاوش آپ کہاں ہیں ..
اس نے بہت آہستہ آواز میں اسکو پکارا تھا اسکی آواز اتنی آہستہ تھی کہ بس لاؤنج میں موجود شخص ہی سن سکتا تھا ,,
,, کاوش ,,آپ کہاں ہیں مجھے اب ڈر لگ رہا ہے ,
,, جواب میں خاموشی کے بعد رضوا نے ایک بار پھر اسکو پکارا تھا ,,
,, دل میں الگ سوال چل رہے تھے کہ وہ اب اسکے ساتھ کیا کرنے والا تھا ,,
,, کاوش ,,
ابکہ بار اسکی آواز پر لائٹ اون ہونے کے ساتھ ساتھ اسکو کاوش بھی نظر آ گیا تھا ,,
,, صوفہ کے سامنے موجود ٹیبل کو بہت خوبصورتی سے سجایا ہوا تھا اور بیچ میں کیک رکھا ہوا تھا ,,
,, ’’Wish you A very Happy Birthday my Love❤
،، کاوش آہستہ سے قدم اٹھاتا اسکے قریب آیا تھا ,,
,,اسکو اپنی نظریں رضوا پر سے ہٹانا مشکل لگ رہا تھا ..
,, جبکہ اسکے منہ سے یہ الفاظ سن کر رضوا حیران ہی رہ گئی تھی ,,
,, آج اسکی سالگرہ تھی اور وہ خود ہی بھول گئی تھی ,,
,, آپکو کیسے معلوم ،،
وہ حیرانی سے اسکی طرف دیکھ رہی تھی جو آہستہ سے چلتا ہوا اسکے قریب ا کھڑا ہوا تھا ,,
,, تم سے جڑی ہر بات مجھے یاد ہے تو پھر اتنا بڑا دن میں کیسے بھول سکتا ہوں ,,
,, اپنی نفرت غصّے میں ہی صحیح لیکن کبھی تمہارے بارے میں سوچنا نہیں چھوڑا ,,
,, وہ اسکی آنکھوں میں دیکھ کر اپنے احساسات اسکو بتا رہا تھا ..
,, جانتی ہو کیوں ?
,, اسکے دونوں ہاتھوں کو اپنے ہاتھ میں لیکر سوال کیا گیا تھا ..
جبکہ رضوا تو کچھ بولنے کے قابل ہی نہیں رہی تھی,,
,,Because I Love You Rizwa..❤
,, اس نے آج کھلے لفظوں میں اپنی محبت کا اظھار کیا تھا ..
اس محبت کا جو اسکے باپ کی نفرت کی وجہ سے کہیں کھو سی گئی تھی مگر اس نے اس محبت کو پوری طرح سے کھونے نہیں دیا تھا ,,
,, جبکہ رضوا گنگ سی کھڑی اسکے ایک ایک لفظ کو اپنے اندر اتار رہی تھی .
اتنی محبت اس نے اپنے بھائی کے بعد کاوش کے لہجے میں محسوس کی تھی اپنے لئے ,,
,, کیا ہوا ساری رات یہیں کھڑے رہنے کا ارادہ ہے کیا چلو کیک کٹ کرتے ہیں ..
اس نے رضوا کا ہاتھ تھام کر اپنے ساتھ صوفہ پر لاکر بیٹھایا..
,, کیک کٹ کرنے کے بعد کاوش نے رضوا کو کیک کھلایا تھا ..
اور اس فرمائش کی وہ اب اسکو کھلاۓ..
تو رضوا نے جھجھکتے ہوئے اسکو کھلانے کے لئے ہاتھ بڑھایا تو وہ اسکا ہاتھ بیچ میں ہی روک چکا تھا ..
,,اس سے پہلے کہ رضوا کچھ سمجھتی وہ اسکے چہرے پر جھکا اور اسکے ہونٹوں پر لگی کریم کو اپنے ہونٹوں سے صاف کیا تھا ..
کاوش کی اس حرکت پر رضوا کا حلق تک خشک ہوا تھا ..
,, وہ اپنی حالت پر قابو کرتی جلدی سے اٹھی تھی جب کاوش نے اسکا ہاتھ پکڑا تھا ,,
,, ڈانس کروگے میرے ساتھ ?
,, اسکے سوال پر اس نے پلٹ کر اسکی طرف دیکھا اور جھجھکتے ہوئے اپنا کانپتا ہوا ہاتھ اسکے ہاتھ پر رکھ دیا تھا ,,
,, اسکے اقرار پر کاوش نے ٹیبل پر سے رموٹ اٹھا کر سائیڈ پر رکھا میوزک سیسٹم اون کیا تھا تو گانا چل پڑا تھا ..
,, Settle Down with Me ..
Cover Me Up..cuddle me in..
,,lie Down With Me And Hold me In your Arms..
..گانے کے بول کے ساتھ کاوش نے رضوا کو کھینچ کر اپنے قریب کیا اور اسکا ہاتھ اپنے کندھے پر رکھ کر اسکی کمر کے گرد بازو حائل کر دیے تھے ..
“” And your hearts against my chest your lips pressed to my neck
i’m falling for your eyes ..
But they don’t know me yet..
And with a feeling i’ll forget
i’m in love now..
,, وہ دونوں میوزک پڑ ڈانس کرتے کہیں کھو سے گئے تھے ..
کاوش کی نظریں رضوا کے گھبراۓ چہرے پر ہی جمی ہوئی تھی ..
,, Kiss me like you wanna be loved
you wanna be loved..
,,رضوا کو یہ گانے کے بول نہیں کاوش کے بول لگ رہے تھے جیسے وہ اس سے کہنا چاہ رہا ہو ..
,, this feels like falling in love
we ‘re falling in love..
,, کاوش ڈانس کرتا ایک پل کے لئے رکا اور بےخود سے رضوا کے چہرے کو دیکھتا ہوا اس پر جیسے ہی جھکنے لگا تو رضوا پل میں اس سے دور ہوئی تھی ..
,, کافی دیر ہو گئی ہے …
مجھے اب نیند ا رہی ہے ..
رضوا اسکی طرف بغیر دیکھے بولی اور وہاں سے بھاگنے کے انداز میں چلی گئی تھی ..
جبکہ کاوش بس اک گہرا سانس بھر کر رہ گیا تھا
💕💕
(جاری ہے )
