103.8K
25

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 22

” کاوش اور کتنا کام باقی رہ گیا ہے آپکا مجھے سخت نیند ا رہی ہے ”
” وہ بیڈشیٹ صحیح کرتی اک نظر سامنے صوفہ پر بیٹھے کاوش کی طرح دیکھ کر بےزاری سے بولی تھی ”
” دو گھنٹے ھو گئے تھے اسکو مسلسل لیپ ٹاپ میں کرتے ہوئے اور وہ بیٹھی اسکے فری ہونے کا انتظار کر رہی تھی مگر وہ تھا کہ اسکا کام ختم ہونے میں ہی نہیں آ رہا تھا ”
” بس جاناں آ رہا ہوں لیکن آج رات میرا سونے کا بلکل ارادہ نہیں ہے اس لئے اپنی نیند کو تم بھول ہی جاؤ ”
” رضوا کی بات پر اس نے لیپ ٹاپ سے نظریں ہٹا کر شرارت سے اسکی طرف دیکھا تھا ”
” جبکہ اسکی بات پر رضوا کا چہرہ شرم سے سرخ ہوا تھا اسکی باتیں ہی اسکو شرم سے پانی پانی کرنے کے لئے کافی تھی ”
” اپنی بات کہہ کر کاوش پھر سے اپنے کام میں مصروف ہو گیا اور وہ اپنے ہونٹ چباتی اسکو دیکھنے میں ”
” اسکی طرف دیکھتے ہوئے ایک خیال اسکے ذہن میں آیا تھا”
” کاوش آپ سے ایک بات پوچھوں ?
” اسکو پھر سے مخاطب کیا تھا ”
” ہاں پوچھو لیکن یہاں آکر بیٹھو کیونکہ اتنی دور سے میں تمھیں دیکھوں یا سنو اس لئے میرے قریب آؤ ”
” وہ اسکو صوفہ پر اپنے قریب بیٹھنے کا اشارہ کرتا ہوا بولا تو اسکی اس نئی فرمائش پر رضوا بس منہ بنا کر رہ گئی تھی ”
‘ جانتی تھی اگر وہ وہاں چلی گئی تو بات تو ہرگز نہیں کر پاۓ گی وہ ”
” نہیں اپنا کام کر لیں میں پھر کبھی پوچھ لوں گی ”
” اسکے اس جواب پر کاوش نے بمشکل اپنی مسکراہٹ سکو روکا تھا ”
” اچھا چلو وہیں سے بتاؤ کیا کہنا چاہ رہی تھی تم ”
” اسکو رضوا کا چہرہ دیکھ کر اس پر یکدم سے بہت پیار آیا تھا اس لئے فورا سے اسکی مشکل آسان کی تھی ”
”آپ پہلے مجھے اتنا کیوں ڈراتے تھے اور ڈیڈ سے اتنی نفرت اتنا غصّہ کیوں کرتے ہیں ”
”وہ معصوميت سے اسکی طرف دیکھ کر سوال کر رہی تھی جو ھر وقت اسکے دماغ میں چلتا رہتا تھا ”
” مام کے انتقال کے بعد اپ لوگ کہاں چلے گئے تھے اور اب واپس آئے تو اتنی نفرت اسکی وجہ کیا تھی ”
” وہ تب چھوٹی تھی اسلئے اسکو معلوم نہیں تھا کہ اسکا باپ کیا کچھ کر چکا تھا انکے ساتھ ”
” جبکہ اسکے سوال پر کاوش کچھ دیر تو خاموشی سے اسکی طرف دیکھتا رہا تھا ”
” وہ چاہتا تو تھا کہ اسکو اسکے باپ کی کرتوتوں کے بارے میں بتا دیں لیکن وہ یہ سب بتا کر اسکو ہرٹ نہیں کرنا چاہتا تھا ”
” بس تمہارے ڈیڈ اور میرے ڈیڈ کے بیچ کچھ غلطفہمی ہو گئی جس وجہ سے مجھے ان پر غصّہ ہے ”
” اس نے جیسے بات ختم کی تھی ”
” غصّہ تو مجھے بھی بہت ہے ان پر ”
” اسکی بات سن کر رضوا کھوے کھوے انداز میں بولی تھی جبکہ اسکی بات پر کاوش نے چونک کر اسکی طرف دیکھا تھا”
” تمھیں کیوں غصّہ ہے ان پر ”
” وہ لپ ٹاپ ایک سائیڈ پر رکھ کر اپنی جگہ سے کھڑا ہوا تھا ”
” کچھ نہیں بس ایسے ہی لیکن آپ نے یہ نہیں بتایا کہ آپ مجھے کیوں ڈراتے تھے پتہ ہے کتنا ڈر جاتی تھی میں آپ سے”
” وہ پھر سے اپنے اسی سوال پر آئی تھی آنکھوں میں شکوہ تھا ”
” کیا کروں تمہارے چہرے پر ڈر ہی تو مجھے بہت اچھا لگتا تھا بس اس لئے ڈراتا رہتا تھا تمھیں ”
” وہ اسکا رخسار نرمی سے سہلاتا ہوا بولا اور اسکی ہتھیلی پر اپنے لب رکھے تھے ”
”اسکی بات سن کر رضوا ناراضگی لئے اسکی طرف دیکھ رہی تھی ”
” جائں مجھے بات نہیں کرنی آپ سے
”آپ برے ہی نہیں بہت برے ہیں ”
”آپکو اچھا لگتا تھا اور میری جان نکلنے کو رہتی تھی ”
اس نے بہت پر زور دیتے ہوا کہا اور اپنا ہاتھ اسکی گرفت سے آزاد کرا کر بیڈ سے کھڑی ہوئی تھی ”
” یار ڈراتا تھا تو پیار بھی تو کرتا تھا نہ تمہارے ڈر ختم کرنے کے لئے ”
” کاوش نے اسکو بازو سے پکڑ کر اپنے قریب کھینچا تھا رضوا جو کھڑی ہوئی تھی اسکے کھینچنے پر لڑکھڑا کر اسکے اوپر آ گری تھی ”
” رہنے دیں مجھے ایسے پیار کی ضرورت نہیں ہے”
اس نے خافگی سے اپنے چہرے کا رکھ دوسری طرف کیا تھا”‘
” ناراض ناراض سی وہ اسکو اپنے دل میں اترتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی ”
“” تمھیں ضرورت نہیں پر مجھے تو تمھیں ایسے ہی پیار کرنا ہے ”
” اس پر اپنی گرفت سخت کرتا وہ پھر سے اسکو بےبس کر چکا تھا ”
💕💕
” کیا بکواس کر رہے ہو تم ایک ہفتہ ہو گیا ہے اور تم اب تک اسکے بارے میں کچھ پتہ نہیں لگا پاۓ ہو ”
” اسی دنیا میں ڈھونڈھنے کہ بولہ ہے میں نے تمھیں دوسری دنیا میں نہیں ”
” وہ فون پر دہاڈتا ہوا اپنے کمرے میں داخل ہوا تھا ”
” آج وہ پورے ا ہفتے بعد گھر واپس آیا تھا اور اس پورے ہفتے میں وہ رضوا کے بارے میں کچھ پتہ نہیں لگا پایا تھا ”
” اور اب اسکا غصّہ پہلے سے بھی زیادہ بڑھا ہوا تھا ”
” میں اب کچھ نہیں سنو گا صرف ایک دن ہے تمہارے پاس اسکے بعد تم مجھے آفس میں اپنی شکل مت دیکھانا ”
” حیدر سخت لہجے میں بولتا ہوا فون کٹ کر چکا تھا اور موبائل بیڈ پھینک دیا تھا ”
” جب سے اسے سب معلوم ہوا تھا وہ پاگلوں کی طرح رضوا کی تلاش میں لگا ہوا تھا ایک پل کے لئے اسکو چین نہیں مل رہا تھا ”
” جانے کاوش اسکی بہن کے ساتھ کیا ظلم کر رہا ہوگا یہ سوچ آتے ہی وہ خود کو بےبس محسوس کرنے لگتا تھا ”
” وہ اپنے بالوں میں انگلیاں پھنساۓ غصّہ ضبط کرنے کی کوشش کر رہا تھا جب اسکو اچانک کمرے مین غیر معمولی خاموشی اور کسی کی کمی کا احساس ہوا تھا ”
” وہ کمی منال کی تھی ”
” اس نے ادھر ادھر نظریں گھما کر دیکھا تو وہ اسکو کہیں نظر نہیں آئی ”
” وہ اس سے ناراض تھا مگر اسکی کمرے میں غیر موجودگی نے اسکو پریشان کیا تھا ”
” اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے اس نے پورا گھر تلاش کر لیا مگر وہ اسکو کہیں نظر نہیں آئی ”
” وہ پریشان سا پھر سے اپنے کمرے میں آیا تو ”
” یکدم سے اسکی نظر بیڈ کی سائیڈ ٹیبل پر پڑی جہاں ایک لیٹر رکھا ہوا تھا ”
” حیدر نے تیزی سے اس لیٹر کو اٹھا کر پڑھنا شروع کیا جیسے جیسے وہ پڑھتا جا رہا تھا اسکے چہرے کا رنگ بدل رہا تھا ”
” یہ منال کا لیٹر تھا جو وہ جانے سے پہلے اسکے لئے لکھ کر گئی تھی اور آخر میں کاوش کا ایڈریس بھی تھا جہاں اس وقت وہ رضوا کے ساتھ تھا ”
” کیا وہ اسکو چھوڑ کر چلی گئی تھی اسکے اس مشکل وقت میں ”
” وہ اسکی ذرا سی ناراضگی برداشت نہیں کر پائی ”
” اسکے دماغ میں کتنے ہی سوال چل رہے تھے جنکے جواب صرف منال ہی دے سکتی تھی ”
” لیکن اسکو پہلے اپنی بہن کے پاس جانا تھا اسکو واپس لانا تھا ”
” اور پھر اسکے بعد وہ منال سے پوچھے گا کہ وہ اسکو چھوڑ کر ایسے کیسے جا سکتی ہے ”
” وہ اسکو اتنی آسانی سے جانے نہیں دیگا بلکل بھی نہیں ”
” وہ تیزی سے اپنے بیڈ سے اٹھا اور باہر نکلا تھا اسکو بس اب اپنی بہن کے پاس جانا تھا جس کی تلاش میں وہ اپنا سکون تک برباد کر چکا تھا ”
💕💕
” وہ کچن میں کھڑی اپنے لئے کچھ بنانے کا سوچ رہی تھی جب جب دروازے پر بیل ہوئی ”
” اس نے حیران ہوکر ایک نظر سامنے لگی گھڑی کی طرف دیکھ جو اس وقت بارہ بجا رہی تھی ”
” کاوش اتنی جلدی آ گئے ”
” کاوش کے علاوہ اسکے دماغ میں کسی اور کا خیال ہی نہیں آیا تھا ”
”کیونکہ اس نے ابھی تک یہاں کسی کو آتے جاتے نہیں دیکھا تھا ”
” کاوش کو گئے ابھی کچھ ہی گھنٹے ہوئے تھے اس لئے وہ حیران ہوئی تھی اسکی اتنی جلدی واپسی پر ”
دوسری طرف اسکا دل بھی خوش ہوا تھا ”
” یکدم سے اسکے ذہن میں صبح والا منظر گھوم گیا تھا
کتنی مشکل سے اس نے کاوش کو آفس بھیجا تھا ”
” اور وہ جاتے جاتے اسکو دھمکی بھی دینا نہ بھولا تھا اسکی دھمکی کا سوچ کر رضوا کی ہونٹوں پر شرمیلی سے مسکراہٹ آئی تھی ”
” اس نے مسکراتے ہوئے جیسے ہی دروازہ کھولا تو اپنے سامنے کھڑے شخص کو دیکھ کر وہ اپنی پلکیں تک جھپکانا بھول گئی تھی ”
” جبکہ حیدر کا حال بھی اس سے کچھ کم نہ تھا ”
” بھائی ”
” بہت آہستہ آواز میں اس نے اسکو پکارا تھا”
” اتنے دنوں بعد اپنے بھائی کو سامنے دیکھ کر اسکی آنکھیں نم ہوئی تھی ”
” اسکی آواز پر حیدر جیسے ہوش میں آیا تھا اس نے آگے بڑھ کر رضوا کو اپنے سینے سے لگایا تھا ”
” وہ ایک مضبوط شخص تھا مگر ضبط کرنے کے باوجود اسکی آنکھیں بھی نم ہوئی تھی ”’
” رضوا کیسی ہو میری جان تم ٹھیک تو ہو نہ ..
” میں نے دیر تو نہیں کی نہ آنے میں ”
حیدر اسکے چہرے کو تھام کر بےچینی سے بولا ”
” وہ پاگلوں کی طرح اسکا جائزہ لے رہا تھا ایسے جیسے کاوش کے ظلم کا کوئی نشان ڈھونڈھ رہا ہو ”
” وہ اپنی فکر میں یہ تک نہ سوچا تھا کہ اگر وہ اس پر ظلم کرتا تو اسکا قید کرکے رکھتا ”
” بھائی آپکو کیا ہوا آپ ایسے کیوں پریشان ہو رہے ہیں اور یہاں کیسے آئے آپ ?
” رضوا کی حیرانی ابھی بھی کم نہیں ہو رہی تھی ”
” کتنا چاہا تھا اس نے حیدر سے ملنے کا اور آج وہ اس سے ملی تھی ”
”تم جھوٹ تو نہیں بول رہی ہو نہ کاوش نے تمھیں ڈرایا ہوا ہے پر تم فکر مت کرو میں اب آ گیا ہوں ”
”میں لے جاؤں گا تمھیں یہاں سے ”
اسکو سکون ملا تھا رضوا کو صحیح سلامت دیکھ کر ”
” نہیں بھائی کاوش نے ایسا کچھ نہیں کیا اور وہ کیوں کریں گے ایسا ”
” وہ ناسمجھی سے حیدر کی طرف دیکھ رہی تھی ”
” ڈیڈ کی وجہ سے انہوں نے کاوش کے ڈیڈ کے ساتھ غلط کیا اور وہ تم سے اس چیز کا بدلہ نہ لے ”
” وہ پریشانی سے اسکے چہرے کی طرف دیکھ رہا تھا ”
”کیسا بدلہ بھائی ”
اس نے حیدر کا بازو تھام لیا تھا اسکی بات سن کر پھر حیدر اسکو سب بتاتا چلا گیا تھا ”
” رضوا سانس روکے بس اسکو سن رہی تھی ”
” اس لئے میں تمھیں لے جانے آیا ہوں تم بس چلو میرے ساتھ ”
‘ حیدر اپنی بات ختم کر کے جلدی سے بولا تھا ”
” جبکہ رضوا کو یقین ہی نہیں آ رہا تھا کہ اسکا باپ کاوش کے ڈیڈ کے ساتھ ایسا کر چکے ہیں ”
” نہیں بھائی آپکو غلط لگ رہا ہے کاوش ایسے نہیں ہیں
انہوں نے میرے ساتھ کوئی ظلم نہیں کیا بلکہ وہ تو مجھ سے بہت محبت کرتے ہیں ”
” ہاں بس ڈیڈ سے نفرت ہیں انہیں اور آج انکی نفرت کی وجہ مجھے معلوم ہو گئی ہے ”
” رضوا نے اپنے بھائی کی غلطفہمی دور کرنی چاہی تھی جبکہ اسکی بات سن کر حیدر حیران ہی تو رہ گیا تھا ”
” یہ تم کیا کہہ رہی ہو اتنا کچھ ہونے کے بعد بھی وہ کوئی بدلہ نہیں لے رہا تم سے ”
” حیدر بےیقینی سے اسکی طرف دیکھ رہا تھا ”
” تو کیا اسکی سوچ غلط تھی کاوش کے لئے ”
” جی بھائی کاوش ایسے نہیں ہے وہ مجھ سے بہت محبت کرتے ہیں ..
‘ ‘ اور میں بہت خوش ہوں انکے ساتھ ”
” اسکے چہرے پر ایک الگ سی خوشی محسوس کر کے حیدر سوچ میں پڑ گیا تھا ”
” اسکے باوجود کیا تم میرے ساتھ جاؤ گی ?
” حیدر نے ایک آخری سوال اس سے کیا اور اپنے سامنے کھڑی رضوا کی طرف اپنا ہاتھ بڑھایا تھا ”
💕💕
” کیا میں پوچھ سکتی ہوں یاسر کہ یہ سب کیا ہے ”
” یسرا بیگم انکے آفس میں داخل ہوتے ہی تیز آواز میں ان سے مخاطب ہوئی اور فائل انکے سامنے پٹخنے کے انداز میں رکھی تھی ”
” یاسر صاحب جو فون پر کسی سے بات کر رہے تھے یسرا کے اس انداز میں انکے ماتھے پر بل بل پڑ گئے تھے ”
” یہ کیا حرکت ہے یسرا یہ میرا آفس ہے گھر نہیں جو تم اس طرح سے چیخ رہی ہو ”
” یاسر غصّے میں فون کٹ کر کے اپنے سامنے کھڑی یسرا سے سخت لہجے میں مخاطب ہوئے تھے ”
” جانتی ہوں میں کہ یہ تمہارا آفس ہے مگر مجھ یہ بتاؤ یہ سب کیا ہے تم اس طرح سے کیسے کر سکتے ہو میرے ساتھ”
” وہ انکو فائل کی طرف دیکھ کر اشارے کرتی ہوئی بولی ”
” آج صبح جب وہ اپنی وارڈراب میں گھس رہی تھی تو انکی نظر اس فائل پر پڑی ”
” یہ پراپرٹی کی فائل تھی جس میں یاسر نے اپنا سب کچھ حیدر اور رضوا کے نام کر دیا تھا انکا اس پراپرٹی میں کوئی حصّہ نہیں تھا یہ دیکھ کر یسرا کا خون ہی تو کھول اٹھا تھا وہ سیدھا یاسر کے آفس آئی تھی ”
” میں نے تمہارے ساتھ کچھ نہیں کیا ہے بلکہ میری چیزوں پر جس کا حق ہے بس اسکے نام کیا ہے یہ سب ”
” اور مجھے نہیں لگتا اس میں اتنا غصّہ ہونے والی بات ہے ”
” وہ عام سے لہجے میں بولے تھے حیدر کی باتوں نے انہیں اپنی ہی نظروں میں گرا دیا تھا ”
” بہت تکلیف ہوئی تھی انہیں اپنے بیٹے کے منہ سے اپنے لئے ایسے الفاظ سن کر ”
” صحیح تو کہہ رہا تھا وہ آج تک انہوں نے صرف اپنے بارے میں سوچا تھا اور اب اپنی غلطی پر پچھتانے کے علاوہ وہ اور کر بھی کیا سکتے تھے ”
” اس لئے انہوں نے فیصلہ کیا تھا کہ یہ سب حیدر کے نام کر کے وہ اس سے اپنی غلطی کی معافی مانگے گے وہ جانتے تھے کہ حیدر اور رضوا انہیں معاف نہیں کریں گے لیکن انہیں کوشش تو کرنی تھی ”
” تم میرے ساتھ ایسا نہیں کر سکتے ہو یاسر اتنے سال میں نے تمہارے ساتھ گزارے ہیں میں اتنی آسانی سے تمھیں سب کچھ اپنے بچوں کے نام نہیں کرنے دوں گی .
تمہاری پراپرٹی پر میرا بھی حق ہے ”
” وہ جیسے پاگل ہونے کو تھی اتنے سالوں سے وہ جس چاہ میں یاسر کے ساتھ تھی آج وہ انکے ہاتھ سے جاتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی ”
” ہاں تم نے اتنے سال میرے ساتھ گزارے ہیں لیکن نہ تم میرے بچوں کے دل میں جگہ بنا سکی اور نہ میرے گھر میں..
میں کبھی کبھی سوچتا ہوں کہ میں تم سے شادی کر کے اتنی بڑی غلطی کیسے کر بیٹھا ”
” شاید اللّه مجھے اسی بات کی سزا دے رہا ہے کہ اولاد ہونے کے باوجود بھی میں بلکل تنہا رہ گیا ہوں ”
” انکے لہجے میں گہرا دکھ تھا رضوا تو پہلے ہی انکے پاس نہیں تھی اور حیدر بھی اس دن کے بعد سے جو گیا تھا گھر واپس نہیں آیا تھا ”
” اب صحیح معنے میں انہیں اپنی غلطیوں کا احساس ہو رہا تھا ”
” واہ یاسر علی اتنے سال میرے ساتھ گزار لئے اس وقت نظر نہیں آئی اپنی غلطی جب اپنی بیوی کو دھوکہ دے رہے تھے”
” اور آج جب مجھے میرا حق دینے کی باری آئی تو پیچھے ہٹ رہے ہو ”
” نہیں میں تمھیں ایسا نہیں کرنے دوں گی کتنا کچھ کیا میں نے یہ سب کچھ پانے کے لئے اور میں ایسے خاموش نہیں بیٹھ سکتی ”
” یسرا کو آج اپنے ہاتھ سے سب کچھ جاتا ہوا محسوس ہو رہا تھا ”
” جبکہ اسکی بات سن کر یاسر نے چونک کر انکی طرف دیکھا تھا”
” کیا مطلب کیا کچھ کیا ”
” کہیں تم نے ہی سارہ کو وہ سب ”
” یاسر صاحب نے اپنی بات بیچ میں ہی چھوڑی تھی ”
” ہاں صحیح پہچانا میں نے سارہ کو وہ سب تصویر دی تھی ‘
” میں نے یہ سب صرف اس دن کے لئے نہیں کیا تھا کہ تم اپنی پراپرٹی میں مجھے حصّہ نہ دو ”
” میں تمہاری بیوی ہوں مجھے میرا حق چاہیے ”
‘ یسرا غصّے میں سب کچھ بولتی چلی جا رہی تھی انکو آج سب اپنے ہاتھ سے نکلتا ہوا محسوس ہو رہا تھا ”
”جبکہ یاسر صاحب میں تو اب بولنے تک کی ہمت نہیں بچی تھی ”
” انکا کیا آج انکے سامنے آ رہا تھا ”
” مجھے پہلے ہی اندازہ ہو گیا تھا کہ تمھیں صرف میری دولت سے محبت ہے لیکن تم اتنی گری ہوئی حرکت کے سکتی ہو مجھے اسکی ہرگز امید نہیں تھی ”
” وہ دہاڈے تھے انکو اپنے دل میں ایک درد سا محسوس ہوا تھا”
” اور میں یہ سب خاموشی سے دیکھتی رہوں گی مجھ سے اسکی امید بھی مت رکھنا مجھے میرا حصّہ چاہئے ”
اپنی بات کہہ کر یسرا تیزی سے وہاں سے نکلی تھی ”
” جبکہ اتنے بڑے دھوکہ پر یاسر صاحب کو بہت افسوس ہوا تھا صرف اس عورت کے لئے انہوں نے اپنی زندگی برباد کی تھی ”
” انکے دل کا درد تیزی سے بڑھا اور یکدم سے زمین پر گرے تھے ”
💕💕
[جاری ہے ]