Ishq E Junoon By Iqra Sheikh Readelle50202 Episode 23
No Download Link
Rate this Novel
Episode 23
” وہ بیڈ پر لیٹی ادھر سے ادھر کروٹ بدل رہی تھی کچھ وقت پہلے وہ اسی کمرے میں رہتی تھی مگر آج اسکو اپنے اس کمرے میں بھی سکون نہیں مل رہا تھا ”
” اور اسکو سکون ملتا بھی کیسے اسکا سکون تو اس گھر میں تھا جہاں حیدر رہتا تھا ”
” وہ گھر چھوڑ کر آنا اسکے لئے مشکل تھا مگر اس گھر میں حیدر کے بغیر رہنا اسکے بےرخی سہنا وہ سب زیادہ تکلیف دیتا تھا اسکو ”
” اس نے نمرہ بیگم کو فلحال تو کچھ نہیں بتایا تھا مگر آنے والے وقت کے بارے میں اس نے کچھ نہیں سوچا تھا شاید اسکو یقین تھا کہ حیدر اسکو لینے آ جائے”
” وہ پریشان ہو کر اس بار سیدھی لیٹ گئی اور اپنی آنکھوں پر بازو رکھ لیا تھا ”
” شاید اس طرح اسکو نیند آ جائے ”
” کچھ پل ایسے ہی لیٹی رہی جب اسکو اپنے اوپر دباؤ سا محسوس ہوا تھا ”
” منال کو خوف سا محسوس ہوا مگر وہ ایسے ہی آنکھیں بند کئے لیٹی رہی جب کسی نے اسکی گردن کو اپنی گرفت میں لیا تھا ”
” منال نے گھبرا کر آنکھیں کھولی تو ایک پھل کے لئے حیران ہی رح گئی تھی ”
” حیدر ”
” اپنی گردن اسکی گرفت میں ہونے کی وجہ سے منال بمشکل اسکا نام لے پائی تھی ”
نائٹ بلب کی روشنی میں وہ اسکا چہرہ آسانی سے دیکھ سکتی تھی ”
” گھر چھوڑ کر کس کی اجازت سے آئی تم ”
اس نے کہنے کے ساتھ ہی اسکی گردن پر اپنا دباؤ بڑھایا تھا”
” منال کو اب اپنا سانس رکتا ہوا محسوس ہونے لگا تھا اس وقت اسکی آنکھوں میں غصّہ نہیں تھا مگر اسکی گرفت اس بات کا پتہ دے رہی تھی کہ اسکے گھر چھوڑنے سے حیدر کو کتنی تکلیف ہوئی تھی ”
” بولو کیوں آئی میرے اجازت کے بغیر ?
” اس بار لہجے میں سختی آئی تھی ”
” تم …تمہاری وجہ سے ..تمہاری ناراضگی برداشت نہیں ھو رہی تھی مجھ سے ”
” منال کی آنکھوں سے آنسوں بہنے لگے تھے اسکی سخت پکڑ سے ”
” حیدر پلیز …مجھے سانس نہیں آ رہا ہے ”
” اس نے التجا کی تھی اس سے جو اس وقت بےرحم بنا ہوا تھا ”
” اسکے آنسوں دیکھ کر حیدر یہ یکدم سے اسکی گردن کو آزاد کیا تھا ”
‘” مجھے بھی اپنا سانس رکتا ہوا محسوس ہوا تھا جب تم مجھے گھر میں نہیں ملی تھی ”
وہ اسکے آنسوں صاف کرتا ہوا نرم لہجے میں بولا ”
” اس نے منال کو احساس دلایا تھا کہ اسکے جانے سے اس نے کیسا محسوس کیا تھا ”
” میں کیا کرتی وہاں رح کر جب تم ہی مجھ سے ناراض تھے تمہارے علاوہ میرا وہاں اور کون ہے ”
” ایک بار پھر سے آنکھیں نم ہوئی تھی ”
” اسکو حیدر کو اپنے سامنے دیکھ کر خوشی کے ساتھ ساتھ رونا بھی آ رہا تھا ”
” مجھے مناتی ”لیکن تم نے تو ایک بار بھی کوشش نہیں کی”
” وہ باری باری اسکی آنکھوں پر اپنے لب رکھتا ہوا بولا تھا اتنے دن بعد اسکو خود پر یوں مہربان ہوتا دیکھ منال کو اندر تک سکون ملا تھا ”
” کوشش کی میں نے لیکن تمہارا غصّہ تھا کہ بس ..
” وہ اسکی شرٹ کے بٹن پر اپنے ہاتھ پھیرتی ہوئی بولی ”
” میں موقع دے رہا ہوں اب پھر سے کوشش کرو ”
وہ اس پر اپنی پکڑ مزید سخت کرتا ہوا بولا ‘
” جبکہ منال کی سمجھ نہیں آیا تھا کہ وہ کیا کریں اسکے اتنی قربت اور خود پر جمی نظروں سے اسکی گھبراہٹ میں اضافہ ہوا تھا ”
اور حیدر اس پر جھکا خاموش نظروں سے اسکی طرف دیکھ رہا تھا ”
‘ ‘ میں نے تمھیں موقع دیا تھا میری ناراضگی ختم کرنے کا اب میں اپنے طریقے سے ختم کروں گا ”
” جب منال کچھ نہ بولی تو حیدر اپنی شرٹ کے بٹن کھولتا ہوا بولا اور اپنے ہونٹ اسکی گردن پر رکھنے کے ساتھ اتنی ہی زور سے اسکے کندھے پر اپنے دانتوں کا بھی دباؤ بڑھایا ”
” تکلیف کی وجہ سے منال کے ہونٹوں سے سسکی نکلی تھی”
” مگر حیدر پر کوئی اثر نہیں ہوا تھا وہ ایسے ہی اس پر جھکا خود کو سیراب کر رہا تھا ”
” حیدر ”
” اپنی شرٹ کندھے پر سے سرکتی ہوئی محسوس کر کے منال نے کانپتی ہوئی آواز میں اسکو پکارا تھا ”
” آج اسکو حیدر کے ھر عمل سے ڈر سے محسوس ھو رہا تھا”
” شششش ”
” اگر میری ناراضگی ختم کرنا چاہتی ھو تو بلکل خاموش رہو میں آج تمہاری مداخلت بلکل برداشت نہیں کرونگا ”
” اپنی بات کہہ کر وہ اسکے ہونٹوں پر جھک گیا تھا ”
” آج اسکے ھر انداز میں ایک جنون سا تھا جو منال کی گھبراہٹ کو بڑھا تھا
اسکی بڑھتی جسارتوں سے منال کو اپنا حلق خشک ہوتا محسوس ھو رہا تھا مگر آج حیدر اس پر رحم کرنے کے موڈ میں بلکل نہیں تھا ”
” ساری رات منال نے اسکی شدتیں برداشت کر کے گزاری تھی ”
” اسکے ھر عمل سے منال کو اندازہ ہو گیا تھا کہ وہ اس سے کتنا سخت ناراض تھا ”
💕💕
” وہ دروازہ بند کرتا گھر میں داخل ہوا تو خاموشی نے اسکا استقبال کیا تھا ”
”جانے کیوں یہ خاموشی اسکو اپنے اندر اترتی ہوئی محسوس ہوئی تھی”
” جب بھی ووہ آفس سے واپس آتا تو رضوا اسکے انتظار میں لاؤنج میں بیٹھی ہوئی ملتی مگر آج لاؤنج خالی تھا ”
” تو کیا وہ اسکو چھوڑ کر چلی گئی ”
” اسکے دل نے صرگوشی کی تھی ”
” آج صبح جب وہ معمول کے متابِک آفس جانے سی پہلے نمرہ بیگم کے پاس گیا تو وہاں منال کو دیکھ کر حیران ہوا تھا مگر پھر جو منال نے اسکو بتایا وہ سب سن کر اسکے دل کو سکون بھی ملا تھا ”
”مگر اسکا سکون تب ختم ہوا جب منال نے اسکو یہ بتایا کہ وہ حیدر کو بتا چکی ہے کہ رضوا کہاں ہے وہ چاہ کر بھی اسکو کچھ نہیں کہہ سکا مگر ایک طرح سے صحیح بھی ہوا تھا اس سے وہ رضوا کی مرضی بھی جان جائے گا کہ وہ کیا چاہتی ہے ”
”مگر گھر کی خاموشی نے اسکی خوشی کو ختم کر دیا تھا”
” کاوش آپ آ گئے “”
‘ اس سے پہلے کے وہ مزید اداس ہوتا رضوا بیڈروم سے نکلتی ہوئی اسکے پاس آئی اور سیدھا اسکے سینے سے آ لگی تھی”
” کاوش بےیقینی سے اپنی باہوں میں موجود رضوا کو دیکھ رہا تھا ”
” تو کیا اسکی محبت جیت گئی ”
” ہاں رضوا نہیں گئی وہ اسکو چھوڑ کر نہیں گئی ”
” کاوش نے پرسکون ہوکر اسکو خود میں بھینچ لیا تھا ”
” آپکو پتہ ہے آج بھائی آئے تھے انہوں نے مجھے سب بتا دیا”
” رضوا اسکی باہوں میں سکون سے آنکھیں بند کئے اس سے سوال کر رہی تھی ”
” وہ حیدر کی ساتھ نہیں گئی تھی اس نے حیدر کو بول دیا تھا کہ یاسر جب تک کاوش سے اپنی غلطیوں کی معافی نہیں مانگے گے وہ وہاں نہیں جائے گی ”
” اسکے اس فیصلے کو حیدر نے دل سے قبول کیا تھا کیونکہ وہ بھی کچھ یہی چاہتا تھا یاسر صاحب سے ”
” اور نہ اس نے رضوا سے زبردستی کی تھی اپنے ساتھ چلنے کے لئے اسکی بہن خوش تھی یہ اسکے لئے کافی تھا اور کاوش کے لئے غلطفہمی تھی وہ بھی ختم ہو چکی تھی ”
” جانتا ہوں میں ”
” اس نے رضوا کا چہرہ اپنے سامنے کیا تھا ”
” آپ نے کبھی مجھے اس بات کا احساس ہونے نہیں دیا کہ میرے ڈیڈ کیا کر چکے ہیں آپکے ڈیڈ کے ساتھ ”
”آپ بہت اچھے ہیں کاوش بہت زیادہ ”
” اس نے پھر سے اپنا سر اسکے سینے پر رکھ دیا تھا آج اسکو کاوش کی محبت پر فخر محسوس ہو رہا تھا ”
” پر میں آپ سے ناراض ہوں آپ نے بھائی کے نکاح کی بات مجھ سے چھپا کر رکھی ”
” یکدم سے حیدر کی بات یاد آنے پر وہ اس سے دور ہوئی تھی”
” اگر آج بھائی مجھے نہ بتاتے تو مجھے کبھی معلوم ہی نہ ہوتا نہ آپنے کبھی ذکر کیا ”
” یہ کیا بات ہوئی یار اب حالات ہی ایسے تھے کہ میں کیسے بتاتا تمھیں ”
” وہ بیچارہ سا منہ بنا کر بولا مگر رضوا کی ناراضگی ابھی بھی قائم تھی ”’
” میں کچھ نہیں جانتی اس بات کے لئے میں آپ سے ناراض ہوں اس لئے آج آپکو کھانا بھی نہیں ملے گا ”
” وہ خفا خفا سی اسکو بہت حسین لگی تھی ”
” کوئی بات نہیں تم آج کھانا نہ دو میں تم سے اپنا پیٹ بھر لوں گا …
وہ اسکو اپنی باہوں میں اٹھاتا ہوا شرارت سے بولا تو رضوا نے شرما کر اپنے چہرہ اسکے سینے میں چھپا لیا تھا ”
💕💕
” وہ جب واشروم سے باہر نکلی تو اسکی سب سے پہلی نظر بیڈ پر لیٹے حیدر پر پڑی ”
” اسکو دیکھ کر منال کے ہونٹوں پر ایک خوبصورت مسکراہٹ آئی تھی ”
” وہ ٹاول صوفہ پر ڈالتی بیڈ کی طرف بڑھی تھی ”
” کل تک وہ خود کو کتنا تنہا محسوس کر رہی تھی ایک کمی سی لگ رہی تھی اسکو اپنی زندگی میں حیدر کے بغیر ”
” مگر اب وہ مکمل تھی کیونکہ وہ اسکے پاس تھا اسکے ساتھ ”
” منال حیدر کے قریب بیٹھی اسکو سوتا ہوا دیکھ رہی تھی ”
” اس وقت وہ سوتا ہوا کتنا معصوم لگ رہا تھا اسکو لیکن جب غصّہ کرتا ہے اسکے چہرے کی یہ معصومیت کہیں کھو سی جاتی ہے ”
” منال بہت محبت سے اسکے چہرے کے ایک ایک نکوش کو چھو رہی تھی ”
” حیدر کا غصّے سے لال سرخ چہرہ یاد کر کے منال نے جھرجھری لی تھی ”
” اسکے چھونے سے بھی جب وہ نہ جاگا تو منال کے چہرے کی مسکراہٹ مزید گہری ہوئی تھی ”
” اس نے آہستہ سے حیدر کے بالوں میں اپنے انگلی پھنسا کر اسکے بالوں کو بہت زور سے کھینچا تھا ”
” اسکے اس طرح سے کرنے پر حیدر نے ہڑبڑا کر اپنی آنکھیں کھولی پہلے تو اسکے کچھ سمجھ نہیں آیا”
” مگر منال کے چہرے پر نظر پڑتے اسکے ساری بات سمجھ آئی تھی جو اپنی مسکراہٹ کو بمشکل روکے اسکی طرف دیکھ رہی تھی ”
” یہ کیا حرکت تھی ”
” چہرے پر خفگی لئے اسکی طرف دیکھا تھا ”
”میں نے تو تمھیں جگایا ہے ”
” میری نیند خراب کر کے خود آرام سے سو رہے تھے ”
” چہرے پر دنیا جہان کی معصومیت لئے اسکی طرف دیکھا ”
” ادھر آؤ تم ذرا میں تمھیں بتاتا ہوں کہ کیسے اٹھاتے ہیں اپنے شوہر کو ”
” اسکی شرارت سمجھ کر حیدر نے اسکو کھینچ کر اپنے برار گرایا اور بغیر اسکو کوئی موقع دیے اسکے ہونٹ کو سختی سے اپنے ہونٹوں کی قید میں لے چکا تھا ”
” اسکی اس گستاخی پر منال نے بیڈشیٹ کو اپنو مٹھی میں جکڑا تھا ”
” اسکے عمل میں اتنے سختی تھی کہ منال کی آنکھوں سے آنسوں بہنا شروع ہو چکے تھے مگر وہ رات کی طرح بےرحم بنا ہوا تھا ”
” کچھ لمحوں بعد حیدر کو اس پر رحم آیا تو اس نے اسکے ہونٹوں کو آزادی بخشی تھی ”
” منال بری طرح سے سانس لے رہی تھی جبکہ حیدر اسکے نم بالوں میں اپنا چہرہ چھپا گیا تھا ”
” آپ بہت بےرحم ہیں حیدر ہر بار مجھے تکلیف دیتے ہیں ”
”وہ نم لہجے میں بولی اور اسکے سینے پر ہاتھ رکھ کر اسکو دور کیا تھا ”
” رات بھر بھی اس ظالم نے بلکل رحم نہیں کیا تھا اس پر ”
” اسکی آواز پر حیدر نے اسکی نم آنکھوں میں دیکھا وہ جانتا تھا کہ وہ ایسا کیوں کہہ رہی ہے ”
” میں نے رات ہی بولا تھا کہ میں اپنے طریقے سے ناراضگی ختم کروں گا تم خود سے کرتی تو ایسا نہ ہوتا ”
” لیکن میری جو ناراضگی تھی وہ ختم ہو چکی ہے ”
” وہ اسکی ناک کو چومتا ہوا بولا ”
اسکو ذرا افسوس نہیں تھا اپنے رات کے رویہ پر ”
” اسکی بات سن کر منال کو غصّہ آیا تھا ”
” اپنی ناراضگی میں آپ نے اتنا بھی نہیں سوچا کہ مجھے تکلیف دیں رہے ہیں ”
یہ دیکھیں ”کیا کیا آپنے رات ”
” اس نے اپنے کندھے پر پڑا نشان اسکے سامنے کیا تو حیدر کو بہت شرمندگی محسوس ہوئی تھی ”
” سوری منال میں ایسا نہیں کرنا چاہتا تھا بس میں تھوڑا غصّے میں تھا ”
” وہ اپنے دئے گئے نشان پر لب رکھتا ہوا شرمندگی سے بولا تھا ”
” جبکہ منال کا ہرگز ارادہ نہیں تھا اسکو شرمندہ کرنے کا ”
” بہت تکلیف دی نہ میں نے تمھیں سچ میں ایسا نہیں کرنا چاہتا تھا بس غصّے اور ناراضگی میں ایسا ہو گیا مجھ سے ”
” وہ اسکے کندھے پر موجود نشان کو نرمی سے سہلاتا ہوا بولا ”
” جانتی ہوں میں حیدر لیکن آپکی ناراضگی ختم کرنے کے لئے میں ہر تکلیف برداشت کر سکتی ہوں ”
” وہ حیدر کی آنکھوں میں دیکھ کر بولی جہاں وہ اپنا عکس دیکھ سکتی تھی ”
” اسکی بات سن کر حیدر ہولے سے مسکرایا اور اس بار بہت ہی نرمی سے اسکے لبوں کو چھوا تھا ”
” اتنی محبت کرنے لگی ہو مجھ سے ?
” وہ اسکے الجھے بالوں میں اپنی انگلیاں چلاتا ہوا بہت چاہ سے اسکی طرف دیکھ رہا تھا ”
” محبت نہیں عشق ہو گیا ہے تم سے حیدر علی اور تمہارے اس عشق میں منال حیدر علی دیوانی ہو گئی ہے ”
” وہ ایک ادا سے بولی اور بہت ہی چالاکی سے خود کو اسکی گرفت سے آزاد کروایا تھا ”
” کیونکہ وہ جانتے تھی کہ اسکا اظھار سن کر وہ اسکی جان نہیں چھوڑنے والا تھا ”
” کہاں جا رہی ہو یار اب میرا اظھار محبت بھی سن لو
اس نے منال کی کلائی کو اپنی گرفت میں لینا چاہا مگر وہ اسکی پہنچ سے دور ہوئی تھی ”
” بعد میں سن لونگی پہلے جاؤ فریش ہوکر آؤ امی سے بھی تو ملنا ہے ”
” وہ دو قدم اور دور ہوئی تھی اس سے ”
” رات میں ان سے مل کر ہی تمہارے پاس آیا تھا اس لئے اب فورا سے یہاں آؤ ”
” لہجے میں حکم تھا ”
” بلکل بھی نہیں ”
” وہ اسکی طرف منہ بناتی ہوئی بولی تو حیدر یکدم سے اپنی جگہ سے اٹھا تھا مگر اس سے پہلے کہ وہ منال کو اپنی گرفت میں لیتا اسکی نظر سائیڈ ٹیبل پر رکھے اپنے فون پر پڑی جسکی سکرین چمک رہی تھی ”
” فون سائلنٹ موڈ پر ہونے کی وجہ سے آواز نہیں آئی تھی انجان نمبر دیکھ کر حیدر نے جلدی سے کال پک کی ”
” مگر کال پک کرتے ہی جو خبر اسکو سننے کو ملی وہ اسکو پریشان کرنے کے لئے کافی تھی ”
” حیدر کیا ہوا کس کا فون ہے “
” اسکے چہرے پر پریشانی دیکھ کر منال اسکے قریب آئی ”
” ہمیں ابھی ہسپتال کے لئے نکلنا ہے ..
حیدر پریشان سا اپنی شرٹ اٹھا کر واشروم کی طرف بڑھا تھا ”
” اسکی جلدبازی دیکھ کر منال کو کچھ تو برا ہونے کا احساس ہوا تھا ”
💕💕
” حیدر ”
” رضوا ”’
” انہوں نے باری باری ایک نظر اپنے بیڈ کے قریب اپنے دونوں بچوں کی طرف دیکھا ”
” رضوا انکو اس حال میں دیکھ کر آنسوں بہا رہی تھی جبکہ حیدر خود پر ضبط کئے کھڑا ہوا تھا ”
” ہسپتال سے فون آنے کے بعد وہ سیدھا یہاں آیا اور منال سے کاوش کا نمبر لیکر اسکو بھی فورا ہسپتال بلایا تھا ”
” وہ دونوں تو اپنے باپ کو اس حال مین دیکھ کر جیسے ٹوٹ سے گئے تھے ”
” اولاد اپنے والدین سے چاہے کتنا ہی ناراض ہو جائے مگر انکو تکلیف میں دیکھ خود بھی تڑپ اٹھتی ہے ”
” رضوا اور حیدر کا بھی کچھ یہی حال تھا وہ اپنے ڈیڈ سے چاہے کتنے ہی ناراض صحیح مگر انکو اس حال میں دیکھ کر ان دونوں کو تکلیف ھو رہی تھی ”
” بیٹا میں تم دونوں سے معافی مانگتا ہوں کہ میں نے تمہاری ماں کے ساتھ اتنا غلط کیا ”
” ہو سکے تو مجھے معاف کر دو تم دونوں ”
” درد کی وجہ سے وہ بمشکل بول پا رہے تھے ”
” ڈیڈ آپکو اپنی غلطی کا احساس ہو گیا ہے ہمارے لئے اتنا ہی کافی ہے ”
” حیدر نے انکو خاموش کروایا تھا ”
” کافی نہیں ہے بیٹا ”
” میں نے بہت غلط کیا سارہ کے ساتھ حسن کے ساتھ مجھے ان دونوں سے بھی معافی مانگنے کا موقع نہیں ملا ..
” ابھی کچھ وقت پہلے ہی تو انہیں کاوش سے معلوم ہوا تھا کہ انکا دوست بھی اس دنیا میں نہیں رہا ”
” اس وقت وہ غصّے میں تھے اس لئے انہیں کوئی فرق نہیں پڑا مگر آج انکا دل تڑپ رہا تھا ”
” لیکن میں اللہ کا شکر کرتا ہوں کہ اسکے بیٹے سے معافی مانگنے کا موقع ملا مجھے ”
” اور میں یہ موقع گوانا نہیں چاہتا ”
” بیٹا کاوش یہاں آؤ میرے پاس ”
” انہوں نے اشارے سے دور کھڑے کاوش کو اپنے قریب بلایا تھا ”
”’ انکی بات سن کر وہ آہستہ سے انکی طرف بڑھا تھا ”
” میں جانتا ہوں تم اپنے باپ کی وجہ سے مجھ سے بہت نفرت کرتے ہو جو جائز بھی ہے ”
” لیکن کیا تم مجھے معاف کر دوگے جو کچھ بھی میں نے تمہارے باپ کے ساتھ کیا ”
” اس سے معافی مانگنے کا موقع تو نہیں ملا مجھے لیکن تم اسکے لئے مجھے معاف کر دوگے ”’
” میں ہاتھ جوڑ کر معافی مانگتا ہوں تم سے ”
” انہوں نے اپنے دونوں ہاتھ اسکے سامنے جوڑ دئے تھے ”
” جبکہ کاوش کی سمجھ نہیں آیا کہ وہ کیا بولے ”
” اسکے باپ نے تو کبھی نفرت کی ہی نہیں تھی ان سے نا بدلا لینے کا سوچا ”
” نفرت تو اس نے کی تھی جبکہ اسکے باپ نے تو اس احساس سے دور رکھنا چاہا تھا اسکو ”
” بولو بیٹا کیا معاف کروگے مجھے ایک مرتے ہوئے انسان کی آخری خوائش سمجھ کر معاف کر دو ”
” اگر تم نے مجھے معاف نہ کیا تو مرنے کے بعد بھی مجھے سکون نہیں ملے گا ”
” انکو بولتے ہوئے تکلیف ھو رہی تھی مگر وہ پھر بھی بول رہے تھے”
انہوں نے اپنے ہاتھ ابھی بھی کاوش کے سامنے جوڑ رکھے تھے ”
‘” انکی بات سن کر کاوش نے ایک نظر روتی ہوئی رضوا کی طرف دیکھا جو آنکھوں میں ریکویسٹ لئے اسکو دیکھ رہی تھی اسکی آنکھوں میں اپنے باپ کے لئے التجا کو محسوس کر کے کاوش نے آگے بڑھ کر انکے ہاتھوں پر اپنے ہاتھ رکھ دئے تھے”
” اس نے صرف اپنی محبت کے لئے انکو معاف کرنے کا فیصلہ لیا تھا ”
”کیونکہ وہ رضوا کی آنکھوں میں آنسوں برداشت نہیں کر سکتا تھا ”
” کاوش کے ہاتھ رکھنے پر یاسر صاحب کو سکون ملا تھا اور وہیں انکے اچانک سے آنکھیں بند کر لینے پر کمرے میں رضوا کی چیخ گونجی تھی ”
💕💕
(جاری ہے )
💕💕💕💕
