No Download Link
Rate this Novel
Episode 4
” ‘وہ اپنے کیبن میں کرسی پہ آرام سے آنکھیں بند کئے بیٹھی تھی کہ فون کی بیل نے اسکے آرام میں خلل ڈالا تھا “
‘ “اس نے جھنجھلا کر کال پک کی تھی .
‘ ” مس منال آج شام ہونے والی میٹنگ کے لئے جو فائل آپکو تیار کرنے کے لئے کہا تھا وہ میرے پاس لیکر آ جایں۔
” ” حیدر کی آواز سن کر منال نے غصّے سے اپنے لب بھینچ لیے تھے۔
‘ ” آج صبح کمپنی آنے کے بعد سے اس نے بہت زیادہ کام دیکر اسکو بری طرح تھکایہ ہوا تھا ۔
‘ ” ابھی وہ تھوڑی دیر پہلے ہی اسکے روم سے واپس آئی تھی کہ وہ پھر سے اسکو اپنے روم میں بلا رہا تھا “
‘ ” منال غصّے سے اپنے جگہ سے اٹھی اور فائل لیکر اسکے روم کی طرف بڑھی تھی “
‘ “” وہ اتنا تو سمجھ رہی تھی کہ وہ جان بوجھ کر اسکے ساتھ ایسا کر رہا تھا “
‘ ” وہ دروازہ ناک کرتی اندر داخل ہوئی تھی ..
” ‘شاید آپکو ہر کام دیر سے کرنے کی عادت ہے مس منال..
” وہ اپنے ہاتھ میں بندھی گھڑی میں ٹائم دیکھتا ہوا بولا ..
” جبکہ منال سوچ کر رہ گئی تھی کہ اس نے کونسا کام دیر سے کیا تھا وہ تو ہر کام وقت پر کر رہی تھی..
” ‘ سر یہ رہی فائل …
” وہ اپنا غصّہ ضبط کرتی فائل ٹیبل پر رکھتی ہوئی بولی تھی ..
” ‘ جبکہ حیدر اسکا غصّے کی وجہ سے لال پڑتا چہرہ دیکھ رہا تھا .
جانے کیا بات تھی اسکے چہرے میں کہ وہ اسکو دیکھ کر اسکو ایک الگ ہی احساس ہوتا تھا ..
‘” “کل سے کاوش کے فون کے بعد وہ جتنا پریشان تھا اسکو دیکھ کے جیسے سب کچھ بھول چکا تھا “
‘ ” پتہ نہیں کیوں اسکو پریشان کر کے مزہ آ رہا تھا اسکو .
اس لئے جان بوجھ کر اسکو زیادہ زیادہ کام دے رہا تھا””
” ‘ آپ دیکھ لیں کچھ غلطی تو نہیں ہے ..
وہ فائل اسکی طرف کرتی ہوئی بولی تو حیدر نے فائل کھول کر دیکھنا شروع کی تھی ..
” ‘ یہ کمپلیٹ نہیں ہے کچھ غلطیاں ہیں اس میں ٹھیک کرو …
” وہ فائل ٹیبل پر ڈالتا ہوا بولا .
” ‘ اسکی بات پر منال حیرانی سے اسکی طرف دیکھنے لگی تھی …
” ‘ پر میں نے تو دیکھا اس میں کوئی غلطی نہیں ہے..
” ‘ اسکو غصّہ آیا تھا اسکے جھوٹ پر ..
‘ ” اسے ابھی ٹھیک کر کے لاؤ بلکہ یہیں بیٹھ کر صحیح کرو اس فائل کو ..
وہ اسکو اپنے سامنے چیئر پہ بیٹھنے کا اشارہ کرتا ہوا بولا ..
‘ ” اسکا اک اور حقم سن کر منال دانت پیستی چیئر پر بیٹھی اور فائل کو پھر سے چیک کرنے لگی ..
‘ ” کچھ دیر بعد اسکو اپنے چہرے پہ اسکی نظروں کی تپیش کا احساس ہوا تو اس نے نظریں اٹھا کر دیکھا تو وہ اپنے موبائل میں مصروف تھا …
‘ ” اک نظر اسکو دیکھ کر وہ پھر سے فائل پر جھک گئی تو پھر سے وہی احساس شروع ہونے لگا تھا ..
‘ ” گھٹیا انسان …
وہ من ہی من میں اسکو گالی دیتی اپنے کام میں مصروف ہو گئی تھی …
‘ ” آپکی پرابلم کیا ہے کیوں دیکھ رہے ہیں آپ مجھے
‘” جب اسکی سب برداشت سے باہر ہو گیا تو وہ غصّے میں اپنی جگہ سے کھڑی ہوئی تھی …
‘” تمیز سے مس منال یہ میرا آفس ہے آپکا گھر نہیں ..اور دوسری بات آپ میں ایسا کیا ہے جو میں آپکو دیکھوں گا ..
‘ “”شاید آپ کسی بہت بڑی غلطفہمی میں مبتلا ہیں میری مانے اپنی یہ غلطفہمی دور کر لیں ..
‘ “اس نے اپنی باتوں سے اچھا خاصا شرمندہ کر دیا تھا منال کو ..
‘ ” جایں آپ یہ فائل مجھے دیں میں خود کر لوں گا صحیح ..
اسکے چہرے پر شرمندگی دیکھ کر اس نے اسکو جانے کی اجازت دی تو وہ اسکی طرف دیکھے بغیر تیزی سے وہاں سے گئی تھی …
‘ “”جبکہ اسکی تیزی پر حیدر کے ہونٹوں پر اک مسکراہٹ آئی تھی ..
💕💕
” ‘ کیوں ملنا چاہتے تھے تم بولو اب …
” یاسر صاحب اپنے سامنے صوفہ پر شان سے بیٹھے کاوش حسن کی طرف دیکھ کر بولے …
” ‘جبکہ وہ چہرے پر سرد تاثرات لئے انکی طرف دیکھ رہا تھا ..
” ‘ آج پورے دس سال بعد وہ اسکو دیکھ رہے تھے انہیں بلکل وہ اسکے باپ کی کاپی لگ رہا تھا .
” ‘ مگر بس اسکی آنکھیں کالی تھی جبکہ اسکے باپ کی آنکھیں شہد رنگ کی تھی ..
” اسکو دیکھ کر اک پل کے لئے تو انہیں لگا کہ انکا دوست حسن انکے سامنے آ گیا ہو ..
” ‘ آپ اچھی طرح جانتے ہیں میرے واپس آنے کی وجہ کیا ہے ..
اور میں آپسے کیوں ملنا چاہتا تھا ..
” ‘ اسکے تاثرات کی طرح اسکا لہجہ بھی سرد تھا ..
” اور پھر تم یہ بھی اچھی طرح سے جانتے ہونگے کہ جو تم چاہ رہے ہو وہ ہونا ناممکن ہے …
پھر بھی یہاں آ گئے ..
” ‘ اس بار دوسرے صوفہ پہ بیٹھا حیدر بھی خاموش نہیں رح سکا تھا ..
جبکہ اسکی بات سن کر کاوش طنزیہ انداز میں مسکرایا تھا جیسے اسکی بات کا مذاق بنا رہا ہو ..
” ‘ ممکن …ناممکن کی بات نہ ہی کرو تو اچھا ہوگا
کیونکہ کاوش حسن کے لئے کچھ بھی ناممکن نہیں ہے …
” اسکا انداز جتانے والا تھا ..
” ‘ جبکہ اسکے جواب پر حیدر نے غصّے سے اپنی مٹھی بھینچ لی تھی ..
” ‘ اس بار ہوگا ناممکن …
اور اچھا ہوا تم آ گئے اب فیصلہ تمہارے سامنے ہی ہو جائے گا ..
” ‘ یاسر علی اپنی جگہ سے اٹھ کر ٹیبل کی طرف بڑھے اور اس پہ رکھے کاغذات اٹھائے تھے۔۔
” ” میں یہاں کوئی فیصلہ نہیں کرنے آیا ہوں یاسر صاحب ..
اج اس نے زندگی میں پہلی بار انکو چچا کے علاوہ انکے نام سے پکارا تھا ..
میں یہاں اپنی بیوی کو اپنے ساتھ واپس لے جانے آیا ہوں “
اور اپنے ساتھ لیکر بھی جاؤں گا ..
اسکا لہجہ سخت تھا “
” ‘ خبردار اگر تم نے اپنی زبان سے میرے بہن کا نام بھی لیا تو ..
وہ کچھ نہیں ہے تمہاری اور اگر کچھ رشتہ بھی ہے تو میں اس رشتے کو نہیں مانتا ..
” ‘ اس بار حیدر اپنا غصّہ ضبط نہیں کر سکا تھا..
” ‘ آرام سے سالے صاحب …
اونچی آواز میں مجھ سے بھی بات کرنی آتی ہے ..
” کاوش بھی غصّے میں اپنی جگہ سے کھڑا ہوا ..
” ‘ اور دوسری بات تمہارے ماننے یا نہ ماننے سے مجھے کوئی فرک نہیں پڑتا ..
وہ میری بیوی ہے میں ابھی اسی وقت اسکو اپنے ساتھ لے جا سکتا ہوں ..
” اور آپ میں سے کوئی مجھے نہیں روک سکتا
اس نے باری باری یک نظر دونوں کو دیکھا تھا ..
” ” ویسے دات دینے پڑے گی تمہاری ہمت کی اتنا سب کچھ ہونے کے بعد تم یہاں کھڑے ہو
” ‘ وہ رشتہ تو اسی وقت ختم ہو گیا تھا جب تمہارے باپ نے میری بیوی…
” ‘ یاسر صاحب اپنی بات کہتے ہوئے اک پل کے لئے خاموش ہوئے تھے …
” ‘ میرے باپ نے کچھ نہیں کیا تھا یہ بات آپ اچھی طرح جانتے ہیں …
” ‘ اور اسی باپ کے وعدے کی وجہ سے میں یہاں کھڑا ہوں …
وہ انکی آنکھوں میں دیکھ کر بولا تھا …
” ‘ اسکی آنکھوں میں ایسا کچھ تھا کہ یاسر صاحب اپنی نظریں جھکا گئے تھے …
” ‘ تمھیں اپنا جواب مل گیا ہے نہ ہم اس رشتے کو نہیں مانتے ..
چپ چاپ ان کاغذات پر سائن کرو اس قصے کو یہیں ختم کرو ..
” ‘ میں اپنی بہن پر تم جیسے لوگوں کا سایہ بھی نہیں پڑنے دینا چاہتا ہوں …
” حیدر نے غصّے میں اسکی طرف ان پیپر کو بڑھایا تھا ..
” ‘ یہ تو وہ دونوں بہت وقت سے کرنے کا سوچ رہے تھے اب وہ آ ہی گیا تھا تو انکے لئے ایک طرح سے اچھا ہوا تھا ..
” ‘ تم چاہے کچھ بھی کہہ لو یا پھر کچھ بھی سوچ لو اس سے حقیقت نہیں بدلنے والی ہے .
“رضوا میری بیوی ہے میں اسے اپنے ساتھ لیکر ہی جاؤں گا ..
” وہ حیدر کے ہاتھ سے طلاق کے پیپرز لئے اور انکو دو ٹکڑوں میں کر کے ان دونوں کی طرف اچھال دیا تھا۔
” ” تمہاری اتنی ہمت تمھیں تو میں …
حیدر اسکی حرکت پہ غصّے میں اسکی طرف بڑھا مگر یاسر صاحب نے اسکو بازو سے پکڑ کر روکا تھا…
” ‘ ہمت تو بہت ہے اگر موقع ملا تو دیکھا بھی دوں گا ..
لیکن فلحال میں بس آپکو یہاں اپنے آنے کا مقصد بتانے آیا تھا …
” ‘ امید ہے اگلی بار جب میں واپس آؤ تو آپ رضوا کو آرام سے میرے ساتھ رخصت کر دیں ..
ورنہ مجھے بہت طریقے آتے ہیں …
” ‘ وہ یاسر صاحب کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولا اور اک نظر حیدر کی طرف دیکھ کر وہاں سے نکلتا چلا گیا تھا …
” ‘ اتنی آسانی سے تجھے میں اپنی بہن کو نہیں لے جانے دوں گا کاوش حسن بلکل بھی نہیں …
” حیدر اسکے جانے کے بعد غصّے میں اس سے مخاطب ہوا تھا …
💕💕
” ‘ وہ بیڈ پہ لیٹی آنکھیں بند کر کے سونے کی کوشش کر رہی تھی .
مگر نیند تھی کہ آنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی ..
” ‘ اس نے جھنجھلا کر کروٹ بدلی تھی ..
” ‘ کچھ دیر ایسے ہی آنکھیں بند کئے لیٹی رہی کہ یکدم سے بند آنکھوں کے سامنے کسی کا چہرہ آیا تھا ..
” ‘ رضوا نے گھبرا کر آنکھیں کھولی اور جھٹکے سے اٹھ بیٹھی تھی ..
پچھلے تین دیں سے اسکی یہی حالت ہو رہی تھی ..
” ‘ بلکہ اس واقع کے بعد سے اس نے یونی جانے بھی بند کر دیا تھا
” بار بار وہی منظر آنکھوں کے سامنے گھومتا رہتا تھا ..
” ‘ یکدم سے اسکی نظر اپنے ہاتھ پر پڑی اسکا زخم تو ٹھیک ہو چکا تھا مگر وہ ابھی بھی اپنی اس انگلی پر اسکے لبوں کا لمس محسوس کر رہی تھی …
” ‘ وہ منظر پھر سے یاد کرکے اسکے پورے بدن میں کپکپاہٹ سی ہونے لگی جبکہ ماتھے پسینہ آنے لگا تھا..
‘ ” یہ کیا ہو رہا تھا کیوں ہو رہا تھا اسکے ساتھ وہ اپنی حالت سمجھ نہیں پا رہی تھی ..
” اسکی دھڑکنے یکدم سے تیز ہوئی تو وہ اپنی حالت سے گھبرا کر اپنی جگہ سے اٹھی اور کھڑکی کے پاس آن کھڑی ہوئی تھی …
” ‘کھڑکی کھول کر وہ کچھ دیر کھڑی گہرے گہرے سانس لیتی رہی .
جب طبیعت کو کچھ سکون ملا تو بغیر کھڑکی بند کئے واپس سے بیڈ پر آ لیٹی اور پھر سے آنکھیں بند کرکے سونے کی کوشش کرنے لگی تھی …
‘ ” ابھی اسکو لیٹے ہوئے کچھ ہی وقت ہوا تھا کہ یکدم سے اسکو اپنے پاس کسی کی موجودگی کا احساس ہوا تھا .
” ‘ رضوا نے ڈرتے ڈرتے آنکھ کھول کر دیکھا تو کسی کو اپنے قریب بیٹھا دیکھ کر اس نے جیسے ہی چیخنے کے منہ کھولا مگر وہ اسکے منہ پر ہاتھ رکھ کر اسکی آواز بند کر چکا تھا ….
” ‘ شششش …..
خاموش بلکل خاموش …
وہ اس پہ جھک کر سرگوشی کے انداز میں بولا تھا .
” ‘ جبکہ اسکی آواز سن کر رضوا میں ہلنے تک کی ہمت نہیں ہوئی تھی .
اندھیرے میں وہ ٹھیک سے اسکی شکل تو پہچان نہیں سکی تھی مگر آواز ضرور پہچان گئی تھی …
‘ ” ابھی تم مجھے ہی یاد کر رہی تھی نہ ..
وہ اپنے دوسرے ہاتھ سے اسکی پیشانی کو چھوتا کان کی طرف لے گیا تھا …
‘ ” اسکے چھونے پر رضوا اپنا بدن سن ہوتا ہوا محسوس کر رہی تھی ..
وہ کیسے اسکے دل کا حال جان گیا تھا …
” ‘ اگر اتنا ہی یاد کر رہی تھی تو یونی کیوں نہیں آ رہی …
” اسکی انگلیاں اپنے پیٹ پر چلتی ہوئی محسوس کر رضوا کی جیسے جان ہی نکل گئی تھی …
‘ ” اس نے ہمت کر کے اسکا ہاتھ اپنے پیٹ سے ہٹانا چاہا مگر وہ اسکے ہاتھ کو بھی اپنی گرفت میں لے چکا تھا ..
‘ ” ڈرو نہیں …
میں کچھ کرنے والا نہیں ہوں …
لیکن اگر تم کل یونی نہیں آئی تو …
” وہ اسکے منہ پر سے ہاتھ ہٹا کر اپنا چہرہ اسکے چہرے کے قریب لے گیا تھا ..
” ‘ اتنا قریب کہ رضوا اسکی گرم سانسیں اپنے ہونٹ پر محسوس کر رہی تھی ..
اس نے اپنے کانپتے ہونٹوں سے بامشکل بولنا چاہا تھا..
” ‘ مگر اسکی آواز تو جیسے کہیں گم ہو گئی تھی ..
” اگر خود کو سخت تکلیف سے بچانا چاہتی ہو تو کل یونی ضرور آ جانا ..
” ‘ وہ اسکے ہونٹوں کو اپنے انگوٹھے سے سہلاتا ہوا بولا اور اس پہ مزید جھکا تھا ..
” اسکے جھکنے پر رضوا نے ڈر سے اپنی آنکھیں سختی سے بند کی تھی …
” ‘ کچھ دیر یونہی گزر گئی تو اس نے ڈرتے ہوئے آنکھیں کھولی تو وہاں اب کوئی نہیں تھا ..
رضوا جلدی سے اٹھی اور لائٹ اون کی پورا کمرہ خالی تھا …
“‘ وہ بیڈ سے اٹھ کر کھڑکی کے پاس آئی باہر لان میں دیکھا تو وہاں بھی کوئی نہیں تھا …
دو گارڈ ادھر سے ادھر پھر رہے تھے مطلب صاف تھا کوئی اسکے کمرے میں آسانی سے آ ہی نہیں سکتا تھا …
” ‘ کیا میرا خواب تھا یہ ….
وہ خود سے بولتی پھر سے بیڈ پر آئی تھی اب تو اسکی نیند مکمل اڑ چکی تھی …
💕💕
” ‘ کیا بات ہے تمہاری طبیعت تو ٹھیک ہے نہ
ڈرائیونگ کرتے حیدر نے اک نظر اپنی برابر میں خاموش بیٹھی رضوا کی طرف دیکھ کر کہا تھا ..
‘ “جی بھائی میں ٹھیک ہوں …
کیوں کیا ہوا ?
“اس نے اپنا رخ حیدر کی طرف کیا تھا ..
‘ “آج تم نے خود یونی جانے کے بارے میں کہا نہ اس لئے مجھے شک ہوا کہ آج رضوا خود یونی جانا چاہ رہی ہے …
‘ ” وہ اسکی طرف دیکھتا شرارتی انداز میں بولا مگر رضوا اسکی بات پر مسکرا بھی نہیں پائی تھی …
‘ “کل رات سے وہ اتنا ڈری ہوئی تھی اسکی سمجھ نہیں ا رہا تھا کہ کل جو کچھ بھی اسکے ساتھ ہوا وہ خواب تھا یا سچ …
” ‘ سوچ سوچ کر اسکے سر میں بھی درد ہو چکا تھا..
” ‘ اور آج وہ یونی صرف اسکی باتوں کی ڈر کی وجہ سے جا رہی تھی ..
” ‘ جبکہ اسکو صحیح سے معلوم بھی نہیں تھا کہ وہ سچ میں آیا تھا یا نہیں …
” ‘ کیا ہوا خاموش کیوں ہو ..
کوئی پریشانی ہے ?
” ‘ حیدر اسکو خاموش دیکھ کر فکرمندی سے بولا تھا..
” ‘ وہ اسکی چھوٹی چھوٹی باتوں کے لئے پریشان ہو جاتا تھا ..
” ‘ اور ویسے بھی جب سے کاوش سے ملاقات ہوئی تھی وہ اس نے رضوا کی حفاظت کے لئے گھر میں گارڈ بھی رکھ لئے تھے ..
” ‘ بلکہ اس نے یونی میں بھی رضوا کی حفاظت کے لئے اک آدمی کو رکھا ہوا تھا جو ہر وقت اس پر نظر رکھتا تھا ..
” ‘ نہیں بھائی ایسی کوئی بات نہیں ہے ..
اگر مجھے کوئی پریشانی ہوگی تو میں آپکو ضرور بتاؤں گی ..
” اس نے مسکرانے کی کوشش کی تھی ..
“‘ ‘ وہ بتانا تو چاہتی تھی مگر وہ خود ہی کنفرم نہیں تھی تو اسکو کیا بتاتی …
” ‘ یہی تو بات ہے میری جان کہ تم اپنی پریشانی نہیں بتاتی تمہارے بھائی کو ہی کچھ کرنا پڑتا ہے تمہاری پریشانی جاننے کے لئے …
اسکے لہجے میں رضوا کے لئے محبت ہی محبت تھی..
” ‘ اچھا بس اک بات بلکل سچ بتانا ..
تمھیں یونی میں کوئی پریشانی تو نہیں ہیں نہ ..
میرا مطلب کوئی پریشان تو نہیں کرتا تمھیں ?
” ‘ اس نے یونی کے سامنے کار روکتے ہوئے اس سے آخری سوال کیا تھا ..
” ‘ اپنی بھائی کی بات پر رضوا کا دل چاہا کہ کہہ دے کہ کسی کی نظریں اسکو بہت پریشان کرتی ہیں
اسکو ایسا لگتا ہے جیسے وہ اسکو ان سب سے دور کہیں لے جائے گا …
” ‘ اب تو وہ شخص اسکو خواب میں بھی تنگ کرنے لگا ہے ..
وہ یہ سب بس سوچ کر رہ گئی تھی اس میں ہمت نہیں تھی کہ وہ یہ سب اپنے بھائی سے کہہ دے …
” ‘ نہیں بھائی سب ٹھیک ہے …
” اس نے یں چند لفظوں میں اپنی بات ختم کی اور کار سے نکل گئی تھی …
” ‘ سنو اپنا خیال رکھنا …
حیدر اسکو ہدایت کرتا تیزی سے کار آگے بڑھا لے گیا تھا اور وہ اسکی کار کو دور جاتا دیکھتی رہی تھی…
💕💕💕
(جاری ہے )
