103.8K
25

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 7

‘ “” یار منال میں یہاں تم سے بات کر رہی ہوں اور تم ہو کہ اپنی بکس لئے بیٹھی ہو ..
انہیں سائیڈ پر رکھو ذرا تم ..
‘ ” ایشا خفگی سے بولی اور منال کے ہاتھ سے بکس لیکر سائیڈ پر رکھی تھی ..
‘ ” کیا ہے آپی ..پڑھنے دیں نہ ..
میں بعد میں آپکی بات سن لوں گی ..
” ” نے بےزاری سے کہتے ہوئے اپنی بکس کو اٹھانا چاہا مگر ایشا انکو منال کی پہنچ سے دور کر چکی تھی ..
‘” ‘ وہ ہمیشہ ہی ایسا کرتی تھی جب بھی رضوا پڑھنے بیٹھتی وہ اسکو اپنی باتوں میں الجھا لیتی تھی..
‘ ” اور منال کو ناچاہتے ہوئے بھی اسکی باتیں سننے پڑتی تھی ..
‘ ” سن لو نہ یار تم تو جانتی ہی ہو کہ جب تک میں تمھیں اپنی بات نہ بتا دوں تب تک مجھے سکون نہیں ملتا ہے ..
‘ ” وہ منال کی طرف دیکھ کر معصومیت سے بولی تو اسکو اپنی بڑی بہن پہ یکدم سے بہت پیار آیا تھا “
‘ “” ٹھیک ہے آپی آپ بتاؤ میں سن رہی ہوں
وہ بیڈ سے اٹھ کر کھڑی ہوئی تھی ..
‘ ” اسکے پاس ایشا کی باتیں سننے کے علاوہ اور کوئی راستہ بھی نہیں تھا ..
‘ “پتہ ہے منال آج یونی میں کیا ہوا ..
اس نے مجھے کہا کہ میں بہت اچھی ہوں .
اس نے جوش میں اپنی بات شروع کی تھی اس وقت اسکا چہرہ خوشی سے کھل رہا تھا ..
‘ ” منال نے اسکی طرف دیکھ کر دل میں اپنی بہن کی خوشیوں کے لئے دعا کی تھی …
‘” پتہ اس نے بولا کہ میں بہت الگ ہوں باقی سب لڑکیوں سے ..
بلکل مختلف ..
‘” وہ خوشی سے بولتی اپنی جگہ سے اٹھ کر منال کے پاس آئی تھی ..
اسکے چہرے پہ ایک الگ ہی خوشی تھی ..
” ‘جیسے کوئی خاص چیز اسکو مل گئی ہو ..
‘ “زیادہ خوش مت آپی وہ یہ بات جانے کتنی ہی لڑکیوں کو بول چکا ہوگا ..
“اسکو آپ اچھی لگی ہو اس غلطفہمی میں مبتلا نہ ہو یہ آپکے لئے ہی اچھا ہوگا ..
‘ ” اس نے پھر سے اسکے خلاف بولنا شروع کیا تھا..
” ” میری مانے آپی آپ اسکے آس پاس رہنا چھوڑ دیں یہ جو رئیس لوگ ہوتے ہیں نہ انہیں ہم جیسے لوگوں کے احساسات کی قدر نہیں ہوتی ..
” ان جیسے لوگوں کے لئے یہ سب ایک مذاق ہوتا ہے اور ہم اس مذاق کو دل پہ لے لیتے ہیں ..
وہ کسی بڑے بزرگ کی طرح اسکو سمجھا رہی تھی ..
” ‘ نہیں منال ایسا نہیں ہے ..
ضروری نہیں کہ جیسا تم سوچتی ہو وہ ایسا ہی ہو .
اگر وہ غلط ہوتا تو کوئی بھی لڑکی اسکے آگے پیچھے نہ گھومتی …
” ‘وہ پھر سے اسکی حمایت میں بولی تھی ..
” ‘ وہ غلط ہے تبھی لڑکیوں کے بیچ رہتا ہے آپی
اسکا انداز طنزیہ تھا …
” وہ ایسا ہی جیسا میں نے بولا ہے ..
اگر کسی دن میں اسکے سامنے آ گئی نہ تو وہ مجھے بھی ایسا ہی بول دیگا ..
” وہ پورے یقین سے بولی تھی …
وہ خود بھی نہیں جانتی تھی کہ ایک دن اسکی یہ بات سچ بھی ہو جائے گی …
” ” اور آج اسکی یہ بات سچ ثابت ہوئی تھی ..
” دیکھو آپی میں نے کہا تھا نہ ..
آج وہ سچ ہوا ہے..
“آپ اس جیسے انسان سے پیار کرنے لگی تھی جسکو آپکی قدر ہی نہیں تھی …
” ‘ وہ آج پھر اپنی بہن کی تصویر لئے بیٹھی اس سے باتیں کر رہی تھی ..
اسکے اندر کا دکھ بس اسی طرح کم ہوتا تھا “
” ‘ کاش آپی اس وقت آپ میری بات سمجھ لیتی
کاش آپ اس سے کوئی امید نہ لگاتی ..
تو آج اس وقت میرے پاس موجود ہوتی پھر میں اکیلے نا ہوتی ..
” ‘ اسکے آنسوں اسکا چہرہ بھیگو رہے تھے ..
” جس وقت حیدر نے اس سے اپنی محبت کا اظھار کیا تھا اس وہ کتنی تکلیف سے گزری تھی یہ بس اسکا دل ہی جانتا تھا ..
” ‘ کتنی تکلیف ہوئی تھی اسکو اس شخص کے منہ سے اپنے لئے وہ سب الفاظ سن کر جس سے اسکی بہن محبت کرتی تھی ..
” ‘ جسکی وجہ سے آج اسکی بہن آج انکے درمیان نہیں تھی ..
” ‘ اور وہ کتنی آرام سے رہ رہا تھا
کتنا خوش اور اپنی زندگی میں مطمعین …
” ‘ شاید اسکو تو خبر بھی نہیں ہوگی کہ اسکی وجہ سے کسی نے اپنی زندگی ختم کر دی تھی ..
” ‘ میں تمھیں کبھی معاف نہیں کرونگی حیدر علی کبھی بھی نہیں …
” ‘اسکے لہجے میں حیدر کے لئے نفرت تھی صرف نفرت ..
” ‘ اور اسکے دل میں یہ نفرت کب تک رہنے والی تھی یہ بات وہ خود بھی نہیں جانتی تھی …
💕💕
” ” کیا بکواس ہے ..
تم نے صحیح سے دیکھا بھی ہے یا یوں ہی بول رہے ہو ..
‘ ” یاسر صاحب اپنے سامنے کھڑی ملازمہ پر دہاڈے تھے۔
انکی دہاڈ سے سامنے کھڑی ملازمہ کانپ اٹھی تھی..
” ‘اس نے بات ہی ایسی کہی تھی کہ یاسر صاحب کا غصّے میں آنا لازمی تھا ..
” جی صاحب میں نے سہی سے دیکھا تھا بیبی جی اپنے کمرے میں موجود نہیں ہیں ..
” ‘ میں نے پورا کمرہ تلاش کر لیا ہے لیکن وہ مجھے کہیں نہیں ملی ..
‘ ” ملاذمہ بیچاری یاسر صاحب کے غصّے کے ڈر سے نظریں جھکائے بول رہی تھی ..
” آج اس نے اپنے صاحب کو پہلی بار اتنے غصّے میں دیکھا تھا ..
‘ ” کیونکہ یاسر صاحب بہت نرم طبیعت کے مالک تھے نہ کسی سے اونچی آواز میں بات کرتے تھے یہ کام صرف یسرا بیگم کا تھا …
‘ ” ملاذمہ کی بات سن کر یاسر صاحب کے چہرے پر پریشانی چھا گئی تھی ..
کل ہی تو حیدر سے بات کر کے انہوں آج رضوا کو اپنے ساتھ لے جانے کا فیصلہ کیا تھا ..
‘ ” اس لئے وہ صبح سے اسکے اٹھنے کا انتظار کر رہے تھے .
وہ حیدر کو پہلے ہی بتا چکے تھے اس لئے وہ مطمعین ہو کر آفس جا چکا تھا ..
‘ ” اب جب انکو انتظار کرتے کرتے کافی وقت ہو تو انہوں نے ملازمہ کو رضوا کے کمرے میں بھیجا تھا مگر اسکے بعد جو اس نے آکر بتایا اسکو سن کر وہ پوری طرح سے پریشان ہو چکے تھے ..
‘تم لوگوں سے ایک کام ٹھیک سے نہیں ہوتا میں ہی دیکھ کر آتا ہوں …
آخر وہ صبح کے وقت کہاں جا سکتی ہے ایسا تو پہلے کبھی نہیں ہوا تھا ..
‘ ” یاسر صاحب اک نظر ملازمہ پر ڈال کر رضوا کے کمرے کی طرف بڑھے تھے ..
” جانے کیوں انکو اپنے قدموں میں کپکپاہٹ سی محسوس ہو رہی تھی
ایک انجانا سا ڈر تھا انکے دل میں جس کو وہ کم نہیں کر پ رہے تھے “
” کمرے کے پاس پہنچ کر انہوں نے آرام سے دروازہ کھولا اور آہستہ سے قدم اٹھاتے اندر داخل ہوئے تھے ..
‘ ” کمرے میں داخل ہوتے ہی سب سے پہلی نظر انکی خالی بیڈ پر پڑی ..
پتہ نہیں کیوں انہیں بہت کچھ غلط ہونے کا احساس ہوا تھا ..
” شاید رضوا لان میں ہوگی ..
وہ خود سے بولتے لان کی طرف بڑھے پھر لان سے پورا گھر تلاش کر لیا مگر وہ انکو کہیں نہ نظر آئی ..
” ” وہ گھر پہ ہوتی تو ہی انکو ملتی نہ ..
‘ ” اب انکی پریشانی مزید بڑھتی جا رہی تھی ..
” ” کہاں چلی گئی ہو رضوا تم ?
” ” وہ صوفہ پر گرنے کے انداز میں بیٹھے تھے .
کہیں کاوش تو “”
انکے دل کا ڈر زبان پہ آیا تھا ..
” ‘ نہیں ایسا نہیں ہو سکتا مجھے حیدر کو کال کرنی چاہئے ..
انہوں نے ٹیبل پر رکھا اپنا فون اٹھانا چاہا مگر اس سے پہلے ہی انکا فون بجا تھا ..
” ‘ سکرین پر چمکتا نمبر وہ پل میں پہچان چکے تھے کہ فون کرنے والا کون ہو سکتا ہے ..
‘ ” انہوں نے جلدی سے کال پک کی تھی ..
” کیسے ہیں یاسر صاحب ..
” ‘ امید ہے آپ اس وقت بلکل ٹھیک نہیں ہونگے اپنی بیٹی کے لئے پریشان ہو رہے ہونگے …
تو میں نے سوچا کیوں نہ آپکی پریشانی مزید بڑھا دوں ..
” ‘ وہ سرد آواز میں زہر اگل رہا تھا ..
” ‘ اسکی بات سن کر یاسر صاحب کی غصّے سے رگے تن گئی تھی ..
” ‘ آپکی پیاری بیٹی اس وقت میرے پاس ہے مطلب اپنی شوہر کاوش حسن کے پاس ..
اپنی بات کہہ کر وہ زور سے ہنسا تھا ..
” ‘ مطلب انکا ڈر انکے سامنے آ گیا تھا ..
” ‘ اگر تم نے میری بیٹی کے ساتھ کچھ بھی غلط کرنے کا سوچا نہ تو میں …
وہ اک پل کے لئے رکے تھے ..
” ‘ آپ کچھ کریں یا نہ کریں لیکن ..
اب اگر آپ نے میری بیوی کو مجھ سے دور کرنے کی کوشش کی نہ تو میں آپکی حقیقت آپکے بیٹے کے سامنے لے آؤ گا ..
بہت محبت بہت عزت کرتا ہے نہ وہ آپکی …
پھر دیکھتے ہیں آپکی کیا حالت ہوتی ہے ..
اسکا لہجہ طنزیہ تھا ..
” ‘ اسکی بات سن کر یاسر صاحب کچھ پل کے لئے خاموش رہ گئے تھے ..
وہ کس حقیقت کی بات کر رہا تھا ..
” ‘ کہیں حسن نے ..
” ‘ تم مجھے دھمکی دے رہے ہو ..
تمھیں کیا لگتا ہے میں تمہاری باتوں سے ڈر جاؤنگا .
وہ سخت لہجے میں بولے تھے ..
” ‘ میں نے کوئی دھمکی نہیں دی بس آپکو سمجھا رہا ہوں کچھ بھی کرنے سے پہلے بس اک بار میری بات دماغ میں رکھنا ..
باقی آگے میں کیا کر سکتا ہوں آپکو اس بات کا اندازہ نہیں ہوگا ..
” ‘ وہ اپنی بات کہہ کر فون کٹ کر چکا تھا ..
جبکہ یاسر صاحب کتنی ہی دیر یونہی خاموش کھڑے اسکی باتوں کو سوچتے رہے تھے ..
💕💕
‘ ” اس نے ہلکا سا کسمسا کر اپنی تھوڑی سی آنکھیں کھولی تھی ..
اسکی آنکھوں میں ابھی بھی نیند کا خمار تھا ..
‘ ” رات حیدر سے بات کرنے کے بعد جب وہ کمرےت سونے کے لئے لیٹی تھی مگر نیند تو جیسے اسکی آنکھوں سے اڑ چکی تھی ..
‘ ” کتنی بڑی حقیقت معلوم ہوئی تھی اسکو خود کے بارے میں
یہ سب باتیں اسکی نیند اڑا چکی تھی ..
‘ ” کچھ دیر تو وہ سونے کی کوشش کرتی رہی مگر جب نیند نہ آئی تو مجبورن اس نے نیند کی گولی کھا لی تھی ..
‘ ” جب بھی اسکو نیند نہیں آتی تھی تو وہ ایسا ہی کرتی تھی مگر اس بات کا علم حیدر کو نہیں تھا ..
اس وجہ سے ابھی بھی اسکی آنکھوں میں نیند تھی..
“‘ وہ ہمّت کر کے اٹھ بیٹھی اور اپنے چہرے پر ہاتھ پھیرا تھا ..
” ٹائم دیکھنے کے لئے اس نے جیسے ہی سائیڈ ٹیبل پر دیکھا تو صحیح معنے میں اسکی نیند اب اڑی تھی..
” ‘ وہ حیرانی سے کمرے کو دیکھ رہی تھی یہ اسکا تو کمرہ نہیں تھا بلکہ یہ کمرہ تو اسکے گھر کا ہی نہیں تھا …
” ” اس نے اپنا مکمل جائزہ لیا وہ بیڈ پر موجود تھی مگر یہ جگہ اسکے لئے انجان تھی ..
اسکی آنکھوں میں اب حیرانی کی جگہ ڈر نے لے لی تھی ..
” ‘ کہاں تھی وہ ..
کون لایا اسکو یہاں …
” یہ دو سوال اسکے دماغ میں چل رہے تھے ..
“ڈر کے مارے اس نے اپنی دونوں ٹانگے فولڈ کر کے اپنا چہرہ گھٹنوں چھپایا تھا ..
‘ ” اس وقت وہ اتنی ڈری ہوئی تھی کہ اسکو کمرے میں کسی اور کی موجودگی کا احساس تک نہیں ہوا تھا ..
‘ ” کاوش کمرے میں دوسری سائیڈ پر کھڑا بڑے آرام سے اسکے ڈرے سہمے چہرے کو دیکھ رہا تھا..
‘ ” تم روز ہی اتنی گہری نیند سوتی ہو یا آج میری تمہارے پاس موجودگی کا اثر تھا ..
وہ اسکے چہرے پر جمائے ہوئے بولا تھا ..
” ‘ رضوا جو گھٹنوں میں اپنا چہرہ چھپائے بیٹھی تھی جانی پہچانی آواز پر اس نے یکدم سے گردن موڑ کر دیکھا تو دیکھتی ہی رہ گئی تھی ..
” ‘ حیرت سے اسکی آنکھیں پوری طرح کھل چکی تھی..
” آپ “
بہت آہستہ سے اسکے ہونٹ ہلے تھے ..
” اس میں کوئی شق نہیں تھا کہ وہ اسکو یہاں لیکر آیا ہے ..
” ‘ ہاں میں …
” اور میرے علاوہ میں کسی کو اجازت نہیں دیتا کہ وہ تمھیں آنکھ بھی اٹھا کر دیکھیں ..
اس وقت اسکی آنکھوں میں اک جنون سا تھا ..
” ‘ وہ فلحال رضوا کو لانا نہیں چاہتا تھا مگر یاسر صاحب نے اسے مجبور کر دیا تھا یہ سب کرنے کے لئے ..
” ‘ آپ کیوں لیکر آئے ہیں مجھے یہاں ..
..مجھے میرے بھائی کے پاس جانا ہے ..
ساری بات سمجھ آ جانے پر وہ اپنے آنسوں روک نہ پائی تھی ..
” ‘ کل کتنا مطمعین تھی وہ اپنے بھائی سے بات کرنے کے بعد
اسکو یقین تھا کہ اسکا بھائی سب ٹھیک کر دیگا ..
اس شخص کو پھر دوبارہ اسکے پاس نہیں آنے دیگا..
‘ “مگر افسوس آج وہ پھر اسکے سامنے تھا اور اس بار وہ اسکی قید میں تھی ..
‘ ” بیوی کو اپنے شوہر کے پاس رہنا چاہیے اس لئے تم اس وقت یہاں ہو ..
اور اب سے تم اپنے بھائی کو بھول جاؤ ..
کیونکہ تم میری قید میں ہو اب کسی کو اجازت نہیں ہے تم سے ملنے کی ..
‘ ” اس بار اسکا لہجہ سرد تھا ..
وہی سرد لہجہ جب پہلی بار رضوا نے اسکو دیکھ کر محسوس کیا تھا ..
‘ ” آپ کیوں کر رہے ہیں میرے ساتھ ایسا ..
میں نے کیا کیا ہے آپکے ساتھ ..
‘ ” وہ ڈری ڈری نظروں سے اسکی طرف دیکھ رہی تھی ..
‘ ” شروع سے اب تک اس شخص نے اسکو صرف ڈرایا تھا ..
اور کہنے کو وہ اسکا شوہر تھا ..
‘ ” نہ تم نے کچھ کیا ہے اور نہ میں نے ..
لیکن میری جان اب میں بہت کچھ کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں ..
وہ اپنی شرٹ کے بٹن کھولتا اسکی طرف بڑھا ..
اسکی بات اور اسکو آنکھوں میں بےپناہ تپیش دیکھ کر رضوا کا حلق تک خشک ہوا تھا ..
‘ ” یہ ….یہ …کیا کر رہے ہیں آپ دور رہیں مجھ سے..
میرے قریب مت آئے آپ ..
اسکو اپنی طرف بڑھتا دیکھ کر وہ خود میں سمٹی تھی ..
‘ ” کیوں نہ آؤں شوہر ہوں تمہارا پورا حق رکھتا ہوں تم پر ..
اور ویسے بھی آج تک میں نے اپنا حق نہیں چھوڑا ہے..
وہ اپنی شرٹ ایک طرف ڈالتا اسکے قریب آیا تھا ..
‘ ” اسکے قریب آتے ہی رضوا نے وہاں سے اٹھ کر بھاگنا چاہا تھا مگر وہ اسکی کلائی تھام کر اسکو اپنی قید میں لے چکا تھا ..
‘ ” پلز مجھے جانے دیں ..
کیوں کر رہے ہیں آپ ایسا میرے ساتھ ..
” خوف کی وجہ سے اسکی آواز بامشکل نکل پائی تھی ..
‘ ” اس وقت چہرہ آنسووں سے بھیگ چکا تھا ..
‘ ” تم نے تو سکون کی نیند لے لی اب تھوڑا سکون مجھے بھی دے دو ..
اسکے بعد چلی جانا ..
‘ ” وہ اسکو بیڈ پر ڈالتا ہوا بولا اور اسکے ارد گرد اپنے ہاتھ رکھ کر فرار کی راہ بند کر چکا تھا ..
‘ ” خود کو مکمل اسکی قید میں پاکر رضوا کی جیسے جان ہی نکل گئی تھی ..
‘ ” پلز مت کرو ایسا میں کبھی آپکے بارے میں بھائی کو نہیں بتاؤ گی ..
وہ روتی ہوئی معصومیت سے بولی تھی ..
” ‘ جبکہ وہ اسکی بات ان سنی کرتا اپنے لب اسکی گردن پہ رکھ چکا تھا ..
اسکے ہونٹوں کا لمس خود پر محسوس کر کے رضوا پوری جان سے کانپ اٹھی تھی ..
” ‘ اس نے اپنے ہاتھ اسکے سینے پر رکھ کر اسکو دور کرنا چاہا مگر کاوش اسکے دونوں ہاتھوں کو بھی اپنی قید میں لے چکا تھا …
” ‘ کمرے کی خاموشی میں رضوا کی سسکی گونجی تو کاوش نے یکدم سے اپنا چہرہ اوپر اٹھایا اور پل میں اس سے دور ہوا تھا …
” ‘ وہ رضوا کے ساتھ کوئی زبردستی کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا تھا بلکہ وہ یہ سب کر کے اسکو یہ سمجھانا چاہ رہا تھا کہ اسکے ساتھ زندگی آسان نہیں گزرے گی ….
” ‘ اسکے لئے یہ سب بھولنا اتنا آسان نہیں تھا جو رضوا کے باپ نے کیا تھا اسکے باپ کے ساتھ ..
‘ ” اسکے ہٹنے پر رضوا تیزی سے بیڈ سے اٹھی اور بغیر اسکی طرف دیکھے کمرے سے نکلی تھی اسکو نہیں پتہ تھا کہ کمرے سے باہر نکل کر کہاں جائے گے اسکو بس اس شخص سے دور جانا تھا ..
‘ ” جبکہ کاوش بڑے آرام سے لیٹا اسکو تیزی سے نکلتا ہوا دیکھتا رہا ..
رضوا کو خود سے ڈرا ہوا دیکھ کر اسکو کتنا سکون ملتا تھا اسکو ..
” اک وقت تھا جب وہ اسکا دڑ بھگانہ چاہتا تھا مگر اب وہ بدل چکا تھا اور اسکی سوچ بھی …
💕💕
‘ ” امی بس کریں نہ .
اب اور کیا خریدنہ رہ گیا ہے ..
اس وقت میں بہت تھک چکی ہوں ..
‘ ” منال سڑک پر چلتی اپنی ماں سے مخاطب ہوئی تھی ..
اور یہ سوال وہ کم از کم تین بار ان سے پوچھ چکی تھی اور نمرہ بیگم کا ہر بار ایک ہی جواب ہوتا تھا ..
‘ ” بیٹا بس تھوڑا سا سامان اور رہ گیا ہے ..
پھر چلتے ہیں گھر بھی ..
وہ اپنی بیٹی کا تھکا ہوا چہرہ دیکھ کر مسکرائی تھی..
‘ ” امی آپکو بس ایک یہ ہی دن ملا تھا مارکیٹ آنے کا اس سے اچھا تو آج میں آفس ہی چلی جاتی ..
وہاں اتنی تھکان نہیں ہوتی کام کرکے جتنی آپکے ساتھ یہاں آکر ہو گئی ہے ..
‘ ” وہ بیچارہ سا منہ بنا کر بولی ..
آج اس نے آفس کی چھوٹی کی ہوئی تھی جانے کیوں کل کی باتوں کی وجہ سے آج اس میں آفس جانے کی ہمت نہیں ہوئی تھی ..
‘ ” سارا وقت بس اسکی باتیں دماغ میں گھوم رہی تھی ..
اپنی اس کیفیت سے گھبرا کر وہ اپنی ماں کے ساتھ آ تو گئی تھی مگر اب یہاں آکر پچھتا رہی تھی ..
‘ ” بیٹا آج تم نے چھٹی کر لی تھی تو میں نے سوچا کیوں نہ آج کچھ شاپنگ کر لوں ..
ورنہ تمہارے جاب کرنے سے پہلے تو تم ہی سب چیزو کا خیال رکھتی تھی ..
‘ ” اور مجھ سے اکیلے آیا نہیں جاتا ..
وہ ایک سائیڈ آکر رکی تھی ..
انکا ارادہ سڑک پار کر کے دوسری سائیڈ جانے کا تھا..
” ‘ امی آپ رہنے دیں مجھے بتا دیں کیا لانا ہے میں چلی جاتی ہوں ..
انکو آگے کی طرف بڑھتا دیکھ منال یکدم سے بولی تھی ..
” ‘ اسکو احساس تھا کہ اسکی ماں بھی تو تھک چکی ہوگی ..
‘ نہیں بیٹا تم روکو میں آتی ہوں لیکر ..
” ‘ وہ اسکو جواب دیتی آگے بڑھی تھی ..
ابھی وہ کچھ قدم چلی ہی ہونگی کہ سامنے سے آتی کار سے انکی بری طرح ٹکر ہوئی تھی ..
کار والا بنا رکے تیزی سےت کار آگے بڑھا لے گیا ..
” ‘ ٹکر اتنی بری تھی کہ نمرہ بیگم سڑک کے بیچ جا گری تھی ..
” یہ منظر دیکھتی منال کی یکدم سے چیخ نکلی تھی اور وہ تیزی سے اپنی ماں کی طرف بڑھی تھی ..
“‘ امی …امی …آنکھیں کھولے امی …
اللہ میری امی کو کچھ نہ ہو …
وہ نمرہ بیگم کے سر سے نکلتا خون دیکھ کر بری طرح رو پڑی تھی ..
” ‘آس پاس لوگ جمع ہو چکے ..
پلز میری کوئی ہیلپ کریں …
” ‘ وہ روتی ہوئی لوگوں سے گزارش کر رہی تھی..
‘ ” مس منال …آپ …
” ‘ حیدر جو اس طرف سے گزر رہا تھا بھیڑ کو دیکھ اس نے اپنی کار روکی تھی مگر وہاں منال کو دیکھ کر حیرانی سے اسکی طرف بڑھا تھا ..
” ‘ جلدی کرو ہمیں انہیں ہسپتال لیکر چلنا چاہئے وہ اسکے قریب بیٹھتا ہوا بولا ..
” ‘ نہیں مجھے آپکی ہیلپ کی کوئی ضرورت نہیں ہیں.
اس حالت میں بھی اس نے اس سے ہیلپ لینا پسند نہیں کیا تھا ..
” ‘ مس منال یہ وقت ان سب باتوں کا نہیں ہے جلدی کریں …
وہ اسکی بات کو نظرانداز کرتا نمرہ بیگم کو اٹھا کر اپنی کار کی طرف بڑھا …
” ‘ کچھ وقت بعد وہ لوگ ہسپتال میں موجود تھے ڈاکٹر نمرہ بیگم کا علاج کر رہے تھے ..
انکے سر پر چوٹ زیادہ گہری تھی منال بینچ پر بیٹھی اپنی ماں کے لئے دعا کر رہی تھی ..
” جبکہ حیدر وہیں کھڑا اسکو روتا ہوا دیکھ رہا تھا ..
💕💕
(جاری ہے )