No Download Link
Rate this Novel
Episode 9
‘ ” میں یہ کیا سن رہا ہوں ایشا ..
تم اس طرح کی باتیں کیسے کر سکتی ہو ..
‘ ” حیدر غصّے سے ایشا کی طرف دیکھ رہا تھا
:” میری نہیں تو کم از کم تم اپنی عزت کا کچھ خیال کر لیتی ..
‘
‘ ” بات ہی ایسی تھی کہ اسکا اتنے غصّے میں ہونا لازمی تھا ..
ابھی تھوڑی دیر پہلے ہی وہ یونی آیا تھا اور یہاں آکر جو خبر اسکو سننے کے لئے ملی اسکو سن کر وہ سیدھا غصّے میں اپنی دوست کے ساتھ کھڑی ایشا کے پاس آیا تھا …
‘”” اس میں اتنا حیران ہونے والی کیا بات ہے حیدر
تم تو ایسے ری ایکٹ کر رہے ہو جیسے جو کچھ بھی میں نے کہا ہے وہ سب جھوٹ ہے ..
‘ ” ایشا نارمل اندز میں اسکی طرف دیکھ کر بولی
جبکہ اسکا نارمل انداز دیکھ کر حیدر کا خون ہی کھول اٹھا تھا ..
” ‘ ہاں سب جھوٹ ہے ..
بلکہ غلطفہمی ہے تمہاری ..
کیا میں نے کبھی تم سے کہا کہ میں تمھیں پسند کرتا ہوں یا تم سے پیار کرتا ہوں ..
” ‘ بولو کہا کبھی میں نے ایسا کچھ ?
تو پھر تم اتنا بڑا جھوٹ کیسے بول سکتی ہے اج پوری یونی تمہارے اور میرے درمیان کیا ہے اسکے بارے میں باتیں کر رہی ہے ..
” ‘ کیا یہ سب کرتے وقت تمھیں اپنی عزت کا ذرا خیال نہیں آیا .
” ‘ اسکا غصّہ کسی بھی طرح کم ہونے کا نام نہیں لے رہا تھا ..
اسکا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ اپنے سامنے کھڑی بےوقوف لڑکی کو دو چار تھپڑ ہی لگا دیتا .
” ‘ وہ ایک رئیس خاندان سے تھا عمر کا ایک حصہ اس نے باہر ملق میں گزارا تھا مگر آج تک اس نے کسی لڑکی کے ساتھ فلرٹ تک نہیں کیا تھا ..
” ‘ نہ ہی کبھی کسی لڑکی کو غلط نگاہ سے دیکھا اسکو شروع سے ہی پہلی نظر کی محبت میں یقین تھا ..
“‘ اور اب تک اسکو ایسی کوئی لڑکی نہیں ملی تھی.
” اور آج ایشا کی غلطفہمی کی وجہ سے اسکی تو عزت خراب ہوتی ہی ساتھ میں ایشا کی بھی ..
” ‘ ہاں جانتی ہوں تم نے کبھی اپنی محبت کا اظھار نہیں کیا
” مگر کبھی کبھی اظھار بھی ضروری نہیں ہوتا ہے .
” ‘ مجھے تمہاری باتیں تمہارے ھر ایک انداز سے یہی محسوس ہوتا تھا کہ تم مجھے پسند کرتے ہو اور بھول گئے اس نے دن تم نے خود ہی تو کہا تھا کہ میں سب سے الگ ہوں ..
” ‘ اور پھر تم سب لڑکیوں کو چھوڑ کر مجھ سے بات کرتے ھو بلکہ ہر بار میری ہیلپ کی تو اس سب کے بعد مجھے کچھ اور سننے کی ضرورت ہی نہیں محسوس ہوئی ..
” ‘ وہ کہاں سے کہاں پہنچ گئی تھی حیدر کے تو وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ وہ اس طرح کی سوچ رکھ سکتی ہے اسکے لئے ..
” ‘ ایشا …میں اب کیا کہوں تمھیں ..
” تم بڑی ہو چھوٹی بچی نہیں جو بغیر سوچے سمجھے یہ سب سمجھ بیٹھی ہو ..
” ‘اگر مجھے تم سے محبت ہوتی تو میں کب کہ تم سے اظھار کر چکا ہوتا ..
” ‘ رہی بات ہیلپ کی اور تم سے بات کرنے کی تو تم مجھے اچھی لگتی تھی اس لئے تم سے بات کر لیتا تھا ..
” ‘ مگر اسکا ہرگز یہ مطلب نہیں تھا کہ میں تمہاری محبت میں یہ سب کر رہا ہوں ..
اور تمھیں سب سے الگ تمہاری ڈریسنگ کی وجہ سے کہا تھا ..
تمہاری سادگی اچھی لگتی تھی مجھے ..
” ‘ اور تم اس سب کو کچھ اور سمجھ بیٹھی ..
ایشا میں اب بھی صاف لفظوں میں تمھیں بتا رہا ہوں کہ میں تم سے محبت نہیں کرتا ہوں ..
” ‘ صرف یک اچھا دوست سمجھ کر تم سے بات کر لیتا تھا بس اور کچھ نہیں ..
اگر تم اس سب کو میری محبت سمجھ بیٹھی تو دنیا میں تم سے بیوقوف لڑکی میں نے پھر آج تک نہیں دیکھی ..
” ‘ اس بار اسکا لہجہ سخت ہوا تھا
جبکہ ایشا آنکھوں میں آنسوں لئے اسی کو دیکھ رہی تھی ..
” ‘ نہیں حیدر تم میرے ساتھ ایسا نہیں کر سکتے میں بہت محبت کرتی ہوں تم سے ..
کہہ دو کہ یہ سب جھوٹ ہے تم مذاق کر رہے ہو میرے ساتھ …
” ‘ ایشا بھیگی آنکھوں سے اسکی طرف دیکھ رہی تھی جسکی آنکھوں میں اس وقت اسکے لئے صرف غصّہ تھا ..
” ‘ میں نے تمہارے ساتھ کچھ نہیں کیا ہے جو کچھ بھی ہوا ہے تمہاری غلطفہمی کی وجہ سے ہوا تھا ..
نہ میں نے کبھی تم سے محبت کا دعوا کیا نہ کبھی کوئی نہ کبھی تم سے کوئی اظھار مانگا ..
” ‘ اسکو اک پل کے لئے اپنے سامنے کھڑی لڑکی پر ترس تو بہت آیا تھا مگر وہ اسکی غلطفہمی جلد دور کر دینا چاہتا تھا ..
” ‘ حیدر کی بات پر ایشا بس خاموش نظروں سے اسکی طرف دیکھ کر رہ گئی تھی ..
کیا کہہ رہا تھا وہ ..
اسکو اس سے محبت نہیں تھی ..
” ‘ صرف ایک دوست کی نظر سے دیکھتا تھا اسکو ..
چھن سے بہت کچھ اسکے اندر ٹوٹا تھا ..
” ‘ دیکھو ایشا اگر میری باتوں کی وجہ سے تمہارا ڈیل دکھا ہے تو اسکے لئے میں معذرت چاہتا ہوں لیکن تم اس بات کو جتنی جلدی ھو تسلیم کر لو تمہارے لئے اچھا ہوگا ..
” ‘ اور بہتر ہے آج سے نہ میں تم سے بات کرونگا اور نہ تم مجھ سے یہی ھم دونوں کے لئے اچھا رہے گا ..
” ‘ وہ اک نظر خاموش کھڑی ایشا سکو دیکھتا وہاں سے چلا گیا تھا ..
جبکہ ایشا کی نظریں اسکے قدموں پر تھی جو اس سے دور جاتے جا رہے تھے ..
💕💕
” ‘ بس منال بیٹا مجھ سے اب اور نہیں کھایا جائے گا..
رہنے دو بیٹا ..
نمرہ بیگم بہت ہی محبت سے اپنی بیٹی کی طرف دیکھ رہی تھی ..
” ‘ نہیں امی بس تھوڑا اور کھا لیں .
دیکھیں نہ بس پورا ختم ہی ہونے والا ہے ..
اس نے مسکراتے ہوئے اپنی ماں کی طرف چمچ بڑھایا تھا ..
” ‘ اور اسکی ضد پر نمرہ بیگم کو کھانا ہی پرا تھا.
کل ہی انکی ہسپتال سے چھٹی ہوئی تھی اور بس منال کسی چھوٹے بچے کی طرح انکا خیال رکھ رہی تھی ..
” ‘ انکے چھوٹے زخم تو ٹھیک ہو گئے تھے مگر سر پر لگی چوٹ گہری تھی جس وجہ سے تھوڑا وقت لگتا ٹھیک ہونے میں ..
” ‘ بس بیٹا اب بلکل گنجائش نہیں بچی ہے کھانے کی اس بار نمرہ بیگم نے اسکا ہاتھ بیچ میں ہی روک دیا تھا”
” ‘ انکے اس طرح سے کرنے پر منال نے خفگی سے چمچ واپس پلیٹ میں رکھ دیا تھا .
” ‘ چلیں ٹھیک ہیں مان لی آپکی بات آپ آرام کریں میں یہ سب رکھ کر آتی ہوں پھر آپکو دوائی بھی کھانی ہے ..
” منال ٹرے اٹھا کر اپنی جگہ سے کھڑی ہوئی تھی .
” بیٹا ابھی تو کھانا کھایا ہے میں تھوڑی دیر میں کھا لیتی ہوں بلکہ میں خود ہی تمھیں ید دلہ دوں گی ..
” ‘منال کو اسکی ماں اس وقت کسی چھوٹے بچے کی طرح لگ رہی تھی ..
“” ‘ ٹھیک ہے امی جان آپکی یہ بات بھی مان لیتی ہوں اگر کاوش یہاں ہوتا نہ تو وہ آپکی ایک نہ سنتا ..
وہ ٹرے سائیڈ ٹیبل پر رکھ کر پھر سے انکے پاس آ بیٹھی تھی ..
” ‘ ارے ہاں کاوش کہاں گیا آج صبح سے نظر نہیں آیا..
انہیں یکدم کاوش کا خیال آیا تھا ..
” ‘ جب آپ سو رہیں تھیں تو وہ چلا گیا اسکی کوئی ضروری میٹنگ تھی ..
میں نے بولا کہ آپکو اٹھا دیتی ہوں پر اس نے منع کر دیا ..
” ‘ بول رہا تھا فری ہو کر جلد واپس آ جائے گا ..
وہ انکو تفصیل سے سب بتانے لگی تھی ..
” ‘ منال بول رہی تھی اور وہ خاموشی سے اسکو دیکھ رہی تھی صرف ایک منال کے علاوہ اور تھا ہی کون انکا ..
“منال کے بعد وہ اس گھر میں کیا کریں گی کیسے رہیں گی وہ اسکے بغیر مگر ایک نہ ایک دن تو اسکو جانا ہی تھا ..
” ‘ لیکن اب کاوش کے آ جانے سے انکی یہ فکر بھی کم ہو گئی تھی ..
اللہ نے اگر انکی ایک بیٹی واپس لی تھی تو ایک بیٹا بھی تو انکو دیا تھا ..
” ‘ کیا ہوا امی کیا سوچ رہی ہیں آپ ..
انکو سوچ میں ڈوبا دیکھ کر وہ ان سے مخاطب ہوئی تھی .
” کچھ نہیں بیٹا بس ایسے ہی جاؤ تم یہ برتن رکھ آؤ پھر مجھے دوائی بھی تو دینی ہے تمھیں ..
نمرہ بیگم کے جواب پہ وہ بس مسکرا کر رہ گئی تھی …
💕💕
” ” پورا دن اس گھر میں ادھر سے ادھر گھومنے کے بعد وہ پھر سے اپنے کمرے میں واپس آئی تھی “
” ‘دو دن ہو گئے تھے اسکی اس گھر میں قید ہوئے .
“یہاں سے نکلنا تو دور اسکو اس گھر میں کوئی فون تک نظر نہیں آیا تھا “
‘”” اسکو شدت سے اپنے بھائی کی یاد آ رہی تھی ..
ان دو دنوں میں کتنا روئی تھی وہ اپنے بھائی کے لئے مگر کوئی راستہ نظر نہیں آ رہا تھا .
‘ ” اوپر سے کاوش کی حرکتیں اسکی مشکل مزید بڑھا رہی تھی ..
‘ “وہ کیسے اس شخص کے ساتھ ایک ہی گھر میں رہ سکتی تھی جو پل پل اپنا رنگ بدلتا رہتا تھا ..
‘ ” وہ تو شکر تھا کہ پچھلے دو دن سے وہ اسکو گھر میں نظر نہیں آیا تھا ..
رضوا اسکے یہاں آنے سے پہلے اس گھر سے نکلنے کا سوچ رہی تھی ..
‘” وہ بیڈ کے پاس کھڑی سوچ ہی رہی تھی کہ یکدم سے اسکی نظر بیڈ کی سائیڈ ٹیبل پہ رکھے موبائل پر پڑی .
‘ ” موبائل دیکھ کر اسکی آنکھوں میں یکدم سے چمک آئی تھی ..
وہ اسکو اٹھانے کے لئے تیزی سے بڑھی ..
‘ ” وہ موبائل دیکھ کر اتنی خوش ہوئی تھی کہ اس نے یہ سوچنے کی ضرورت بھی محسوس نہیں کی تھی کہ اب موبائل آیا کہاں سے تھا ..
‘ ” موبائل میں کوئی لاک نہ ہونے کی وجہ سے اس نے جلدی سے اپنے بھائی کا نمبر ڈائل کیا تھا ..
‘ ” وہ اپنے بھائی سے بات کرنے کا سوچ کر ہی بہت خوش ہو رہی تھی ..
” ‘ یہ کیا ہو رہا ہے ..
” اپنے پیچھے اسکی رعبدار آواز سن کر وہ یکدم سے پیچھے مڑی تھی .
” ‘ کاوش کو اپنے سامنے دیکھ کر رضوا کے ہاتھ سے موبائل چھوٹ کر زمین پر گرا تھا ..
” ‘ میں نے پوچھا کیا ہو رہا تھا ابھی .
” ‘وہ اسکو سخت نظروں سے گھورتا اسکی طرف بڑھا تھا ..
” رضوا کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ وہ اس وقت کمرے میں موجود ہوگا ..
” ‘ وہ ..وہ ..میں ..اپنے بھائی سے بات کرنا چاہتی تھی
“وہ اسکی گھورتی ہوئی نظروں سے گھبرا کر جلدی سے بولی تھی .
‘ “کیوں بات کر رہی تھی جب میں کہہ چکا ہوں کہ اب سے تم میری قید میں ہو میری مرضی کے بغیر تم کچھ کچھ نہیں کر سکتی ..
‘ ” تو پھر کیوں کر رہی تھی تم اپنے بھائی سے بات ..
کیا میں نے اجازت دی تمھیں ?
” ‘ اسکی بات سن کر کاوش کو بہت غصّہ آیا تھا جتنی وہ کوشش کرتا تھا اس سے کم نفرت کرنے کی اسکے باپ کا نام سن کر اس نفرت میں اضافہ ہی ہوتا تھا ..
” ” پر مجھے بات کرنی ہے اپنے بھائی سے نہیں رہنا مجھے آپکے ساتھ .
میں بس اپنے بھائی کے پاس جانا چاہتی ہوں ..
‘ ” وہ کسی ضدی بچے کی طرح بولی تھی آنکھیں نم ہوئی تھی اپنے بھائی کے نام سے .
‘” جبکہ اسکی بات سے کاوش کا غصّہ مزید بڑھا تھا اس نے سختی سے اسکا بازو کر کر اسکو اپنے قریب کیا تھا ..
‘ وہ کیسے اسکے سامنے اسکی بات ماننے سے انکار کر رہی تھی ..
‘ ” اب سے تمھیں یہیں اسی گھر میں رہنا ہے میرے ساتھ میرے قریب ..
اس سب کی عادت ڈال لو تمہارے لئے اچھا ہوگا .
وہ اسکی آنکھوں میں دیکھ رہا تھا ..
“‘ نہیں ڈالنی مجھے کوئی عادت نہیں رہنا مجھے آپکے ساتھ ..
مجھے بس میرے بھائی کے پاس جانا ہے ..
” ‘ بھائی صحیح کہتے ہیں آپ بہت برے انسان ہے
وہ روتے ہوئے بس بولتی جا رہی تھی ..
” جبکہ اسکی بات سن کر کاوش کے ماتھے پر بل پڑے تھے اسکی پکڑ رضوا کے بازو پر مزید سخت ہوئی تھی..
” بس بہت ہو گیا خاموش ہو جاؤ رضوا بہت بول لی تم..
اگر تم خاموش نہیں ہوئی نہ تو میں تمھیں بہت برا بن کر دیکھاونگا۔
““ اس بار اسکی آواز اونچی ہوئی تھی مگر رضوا نے تو جیسے سنی ہی نہیں تھی .
” نہیں مجھے میرے بھائی کے پاس جانا ہے مجھے کچھ نہیں سننا .
‘ ” وہ آج ایک چھوٹے بچے کی طرح ضد پر اڑی ہوئی تھی .
” ‘رضوا سنا نہیں تم نے ?
” اس نے پھر سے گھورا مگر اسکو ہوش کہاں تھا نہ وہ ڈر رہی تھی اسکی بات مان رہی تھی .
‘ ” نہیں میں نے کہا نہ کہ .
اس سے پہلے کہ وہ مذید کچھ کہتی کاوش اسکے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھ کر اسکی بولتی بند کر چکا تھا ..
‘ ” اسکی پکڑ میں اتنی سختی تھی کہ رضوا نے گھبرا کر اسکو خود سے دور کرنا چاہا مگر وہ اسکی کمر کے گرد بازو حائل کرتا اسکو اپنے مزید قریب کر چکا تھا .
‘ ” اسکی پکڑ میں اب سختی کے ساتھ شدت تھی جنون تھا ..
وہ اس پہ جھکا اسکی سانسوں کو قید کئے ہوئے تھا..
‘ ” رضوا کو اپنا سانس رکتا ہوا محسوس ہو رہا تھا آنکھوں میں پانی بھر آیا تھا اسکے ..
” ” کچھ لمحوں بعد اس نے اسکے ہونٹوں کو آزادی بخشی تھی ۔
” ‘ اسکے جدا ہونے پر رضوا بری طرح سانس لیتی بیڈ پر گرنے کے انداز میں بیٹھی تھی ..
جبکہ کاوش آرام سے کھڑا اسکو بری طرح سانس لیتا ہوا دیکھ رہا تھا ..
‘” تم صرف میری ہو رضوا صرف میری آج تو میں نے تمھیں چھوڑ دیا ..
اگر آئندہ تم نے مجھے چھوڑ کر جانے کی بات کی نہ تو میں تمھیں یہ بھی بتا دوں گا کہ برا انسان کیسا ہوتا ہے ..
“‘ ” اور اس وقت مجھ سے رحم کی امید بلکل مت رکھنا ..
” وہ اسکے اوپر جھکا وارن کرنے کے انداز میں بولا تھا ..
اسکے پھر سے قریب آنے پر رضوا نے ڈر کے اپنی آنکھیں بند کی تھی ..
” ‘ کچھ لمحوں تک جب کچھ محسوس نہیں ہوا تو اس نے یکدم سے آنکھیں کھولی تو اس بار بھی کمرے میں کوئی نہیں تھا ..
” ‘ وہ بلکل اکیلی تھی ..
کچھ دیر پہلے والا منظر یاد کرکے اس نے فورا سے اپنا چہرہ دونوں ہاتھوں میں چھپایا تھا ..
💕💕
‘ ” وہ آج پورے تین دن بعد واپس آفس آئی تھی ..
یہاں آنا اسکی مجبوری تھی بس کچھ اور اس شخص کو برداشت کرنا تھا ..
‘” اوپر سے وہ اس پر اک احسان کر چکا تھا جو وہ جلد سے جلد اتار دینا چاہتی تھی ..
‘ ” اس سے بات کرنے کے لئے اس لئے وہ سیدھا اسکے آفس آئی تھی .
“اسکے روم کا دروازہ نوک کرنے کے بعد کچھ پل کھڑی اسکے جواب کا انتظار کرتی رہی ..
‘ ” اجازت ملنے پر وہ آہستہ سے قدم اٹھاتی اندر داخل ہوئی تھی ..
” جیسے ہی حیدر کی نظر پڑی تو اس دن والا منظر یاد کر کے اس نے غصّے سے اپنی مٹھی بھینچ لی تھی ..
‘ ” اسکو کاوش کے ساتھ دیکھ کے حیدر کو یہی لگنے لگا تھا کہ وہ کاوش کے کہنے پر یہاں جاب کر رہی تھی شاید اسکے زریعے کاوش ان پر نظر رکھ رہا تھا ..
” ‘ کیا آپکے پاس وقت ہے مجھے آپ سے ضروری بات کرنی تھی .
وہ حیدر کی طرف دیکھ کر آگے بڑھی تھی ..
” ‘ اس نے ہسپتال کا سارا خرچ ادا کیا تھا یہ بات اس نے کاوش سے اور اپنی ماں سے چھپائی ہوئی تھی .
اگر انکو پتہ چل جاتا تو وہ ان دونوں کو کیا جواب دیتی ..
” ‘ وہ اس شخص کا احسان بلکل نہیں لینا چاہتی تھی اس لئے ان سے فیصلہ کیا تھا کہ وہ اسکا سارا خرچ اتار دیگی..
“”‘ مس منال اگر آپ کوئی کام کی بات کرنے آئی ہیں تو ضرور کریں لیکن فالتو باتوں کے لئے میرے پاس بلکل وقت نہیں ہے ..
” ‘ وہ مصروف سے انداز میں بولا تھا اسکی نظریں ابھی بھی فائل پر ہی تھی ..
“کیونکہ وہ اسکی شکل تک دیکھنا نہیں چاہتا تھا اس وقت اسکو لگ رہا رہا تھا کہ وہ اگر اسی طرح اسکے سامنے کھڑی رہی تو یقینا وہ اپنا غصّہ مزید برداشت نہ کر پاتا ..
” ‘ بس آپ مجھے اتنا بتا دیں کہ آپکا کتنا خرچہ ہوا ہے میری امی پہ تاکہ میں آپکو واپس کر سکو..
اس نے یہاں آنے کی اصل وجہ بتائی تھی..
وہ اسکا کوئی احسان نہیں رکھنا چاہتی تھی .
‘ ” مس منال جو خرچ ہونا تھا ہو گیا اسکی کوئی ضرورت نہیں ہے ..اس لئے آپ اپنا کام کریں .
منال کی بات نے اسکا غصّہ مزید بڑھایا تھا ..
” ‘اس وقت اس نے ہمدردی میں نہیں اپنی محبت میں اسکو ہیلپ کی تھی ..
” ” ضرورت ہے سر ..کیونکہ میں اپنی امی کے معملے میں کسی کا احسان نہیں رکھنا چاہتی ہوں .
اس لئے آپ بتا دیں تو بہتر ہوگا .
” وہ بےزاری سے بولی تھی..
” “اسکی بات سن کر حیدر اپنی جگہ سے کھڑا ہوا تھا وہ اسکی محبت کو احسان سمجھ رہی تھی .
” ‘ مطلب آپ احسان اتارنا چاہتی ہیں “
وہ اس پر نظریں جماۓ بولا تھا اس وقت اسکا لہجہ کسی بھی جذبات سے خالی تھا .
” ‘ جی صحیح سنا آپنے ..
وہ بھی اس سے کم نہیں تھی .
” ‘ ٹھیک ہے پھر نکاح کر لو مجھ سے..
اس نے جیسے لمحوں میں فیصلہ لیا تھا
“جبکہ اسکے جواب سے منال کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئی تھی .
” ‘کیا ہوا خاموش کیوں ہو گئی آپ ?
” کچھ دیر پہلے تو بہت بول رہی تھی کہ کسی کا احسان نہیں رکھتی ..
اسکا لہجہ طنزیہ تھا .
‘ ” دماغ خراب ہو گیا ہے آپکا .
کیا بکواس کر رہے ہیں آپ …
منال کا چہرہ غصّے سے لال ہو چکا تھا “
” ” ‘میرا دماغ بلکل درست ہے بلکہ آپکے سوال کا میں نے سیدھا سا جواب دیا ہے .
“‘ میں احسان اتارنے کا طریقہ بتا رہا ہوں ..
” ‘ اس وقت وہ بولتا ہوا کہیں سے بھی حیدر علی نہیں لگ رہا تھا جو اس سے محبت کرتا تھا ..
‘ “” صحیح کہا آپنے آپ درست کہہ رہے ہیں بس میں ہی غلط کہ پہلے کیوں نہیں سمجھ پائی کہ یہ سب آپ نے جان بوجھ کر کیا ہے ..
تاکہ آپ اس طرح کی شرط رکھ سکے میرے ساتھ ..
” ‘ منال کو اس وقت خود پہ بھی غصّہ آ رہا تھا کہ وہ اس وقت کیوں نہیں روک پائی تھی اسکو ..
” ‘ بلکل صحیح کہا ..
اور اب وہ منال کہاں گئی جو کچھ وقت پہلے بہت بڑی بڑی باتیں کر رہی تھی ..
کیا ڈر گئی مجھ سے ..
سیدھی طرح بول دو کہ تم نہیں کر سکتی ..
” ‘وہ اسکو اکسا رہا تھا ..
حیدر یہ سب جان کر رہا تھا اسکا مقصد صرف کاوش کو سبق سیکھانا تھا منال کے زریعے ۔
” ” مجھے منظور ہے ..
” ” اس نے جیسی ان چند لفظوں میں اپنی بات ختم کی تھی ..
” اگر وہ حیدر علی تھا تو وہ بھی منال تھی اس نے بھی جیسے کچھ سوچ کر یکدم سے فیصلہ لیا تھا ..
” ” جبکہ اسکا جواب سن کر حیدر کی مسکراہٹ مزید گہری ہوئی تھی ..
💕💕
(جاری ہے )
