Ishq E Junoon By Iqra Sheikh Readelle50202 Episode 15
No Download Link
Rate this Novel
Episode 15
” کیسے ہیں یاسر صاحب
یقیناً میرے سرپرائز بہت پسند آیا ہوگا آپکو ’’
’’ کاوش فون پر یاسر صاحب سے مخاطب ہوا تھا لہجہ ہمیشہ کی طرح سرد تھا ؛؛
؛؛ مگر اب رضوا کے لئے اسکے لہجے اور رویہ میں تبدیلی آ گئی تھی ,,
,, تم آخر خود کو سمجھتے کیا ہو ,,
تمھیں کیا لگتا ہے ھر بار تم مجھ سے جیت جاؤ گے تو یہ تمہاری بہت بڑی غلطفہمی ہے ,,
,, یاسر صاحب غصّے سے دہاڈے تھے انکا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ کاوش کا قتل ہی کر دیتے ,,
,, کل کتنا خوش تھے وہ یہ سوچ کر کے انکی بیٹی اب واپس انکے پاس آ جائے گی ,,
,, مگر وہ بھول گئے تھے کہ سامنے بھی کاوش حسن تھا ,,
وہ اسکے باپ کو تو بیوقوف بنا سکتے تھے مگر اس کو ہرانا انکے لئے اتنا آسان نہیں تھا ,,
,, انہیں تو اب تک یہ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ آخر کاوش کو انکے ارادوں کے بارے میں کیسے خبر ہوئی تھی ,,
,, مجھے لگتا نہیں بلکہ ایسا ہی ہے کہ تم مجھے کبھی ہرا نہیں سکتے ہیں ..
,, دیکھ لینا میں تمہاری بیٹی کو اتنا دور لے جاؤ گا کہ تم اسکی شکل تک دیکھنے کے لئے ترستے رہو گے,,
,, اپنی بات کہہ کر اس نے گردن موڑ کر ایک نظر بیڈ پر لیٹی رضوا کی طرف دیکھا ,,
,, وہ کل سے اب تک سکون کی نیند سو رہی تھی ,,
,, وہ پچھلے کچھ دنوں سے اپنے گھر کے آس پاس کچھ لوگوں کو نظر رکھتے ہوئے محسوس کر چکا تھا مگر خود کو نارمل ظاہر کئے رہا ,,
,, مگر وہ اتنا تو سمجھ چکا تھا کہ یہ آدمی یاسر خان کے ہی ہیں ,,
,, اور یقیناً وہ رضوا کو یہاں سے لے جانے کے لئے تھے ,,
,, اس سے پہلے کہ ووہ لوگ اپنا کام کرتے اس نے جلدی سے رضوا کو یہاں سے لے جانے کے بارے میں سوچا تھا ,,
,, وہ تو پہلے بھی اسکو خود سے دور نہیں ہونے دینا چاہتا تھا اور اب تو بات ہی کچھ ہر تھی ,,
,, اسکی نفرت جو اب ہارنے لگی تھی اسکی محبت کے آگے ,,
,, وہ اپنی نفرت کو ختم ہونے سے روک نہیں پا رہا تھا ,,
,, رات ہی رات میں اس نے اپنا گھر بدلہ اور رضوا کو لیکر شہر کے باہری علاقے میں لے آیا اسکو یقین تھا کہ یاسر یہاں تک نہیں پہنچ سکتا تھا ,,
,, یہ گھر فلحال کے لئے سیف تھا ,,,
,, اسکو معلوم تھا اگر اک بار رضوا یاسر کے پاس چلی گئی تو پھر اسکے لئے رضوا کو پانا مشکل ہو جاتا ,,
,, حیدر اور یاسر دونوں ملکر اس رشتے کو ختم کرنے میں ذرا دیر نہ کرتے اور یہ کاوش کو بلکل منظور نہیں تھا,,
,, وہ یہاں واپس صرف اپنے باپ کا وعدہ پورا کرنے آیا تھا ,,
,,مگر رضوا کی محبت نے اسکے دل پر جمی برف کو کب پگھلانا شروع کیا اسکو خبر نہیں ہوئی تھی ,,
,, اس رشتے کو نبھانا اب صرف ایک وعدہ نہیں رح گیا تھا اس میں اسکی محبت بھی شامل ہوتی جا رہی تھی,,
,, تمھیں جتنا خوش ہونا ہے ہو لو کاوش حسن میں اپنی بیٹی کو واپس اپنے پاس لیکر آ جاؤں گا ,,
,, پھر یہ رشتہ بھی نہیں رہنے دوں گا ,
,, تب معلوم ہوگا تمھیں کہ یاسر علی کیا چیز ہے ,,
,, یاسر کا غصّہ کسی پل کم نہیں ہو رہا تھا
,, معلوم تو مجھے پہلے ہی ہو گیا تھا کہ تم کیا چیز ہو جو اپنی غلطی چھپانے کے لئے اپنے بھائی جیسے دوست پر الزام لگا سکتا ہے ..
,, اس انسان سے کسی بھی قسم کی امید کی جا سکتی ہے ..
,, اس لئے مجھے یہ سب نہ بتاؤ تو اچھا رہے گا ,,
,, کاوش تلخی سے بولا اور چلتا ہوا بیڈ کے پاس آیا تھا ..
,, رضوا کے اوپر سے کمفرٹر ہٹ چکا تھا اسکو ایک ہاتھ سے صحیح کرتا ہوا پھر سے سیدھا کھڑا ہوا تھا,,
,, ابھی تو رضوا کے جاگنے کے بعد اسکے سوالوں کے جواب بھی دینے تھے اسکو ,,
,, تمھیں کیا لگتا ہے تمہاری یہ سب باتیں سن کر میں خاموشی سے بیٹھ جاؤں گا ..
نہیں کاوش جب تک میری بیٹی تمہارے پاس ہے میں خاموش نہیں رح سکتا ..
,, اور جس دن حیدر کو معلوم ہوگا نہ تو وہ کیا حال کرے گا تمہارا اسکے بارے میں سوچو تم ,,
,, انہوں نے اپنے بیٹے کی دھمکی دی تھی جس پر کاوش کے ہونٹوں پر مسکراہٹ آئی تھی ,,
,, جی ضرور بتایں بلکہ میں تو چاہتا ہوں اسکو بھی معلوم ہو اپنی بہن کے بارے میں بھی اور ساتھ ساتھ ہی ساتھ اپنے باپ کے بارے میں بھی ,,
,, آخر اسکو بھی تو معلوم ہونا چاہئے کہ اسکے باپ کی کیا کیا حرکتیں رح چکی ہیں ماضی میں ,,
,, اس بہار خاموش رہنے کی باری یاسر صاحب کی تھی,,
,, ارے خاموش کیوں ہو گئے آپ ..
,, اچھا سوچ میں پڑ گئے ہو کہ بتاؤ یا نہیں ..
چلیں آپ اتنے سوچے آرام سے سوچے ..
,, انکی خاموشی کا اس نے مذاق بنایا تھا ,,
,, اور اپنی بیٹی کی طرف سے بےفکر رہے وہ اپنے شوہر کے پاس ہے بلکل محفوظ ,,
,, وہ اک نظر سوتی ہوئی رضوا پر ڈالتا روم سے نکلا تھا اور ساتھ ہی ساتھ فون بھی کٹ کر چکا تھا ,,
💕💕
‘””یاسر یہ سب کیسے ہوا “
” اور تم نے مجھے بتانا بھی ضروری نہیں سمجھا “
“حسن صوفہ پر آنکھیں بند کئے بیٹھے یاسر سے مخاطب ہوئے تھے “
” ” وہ کاوش کو لیکر کچھ دن کے لئے باہر گئے ہوئے تھے مگر آج واپس آنے پر جو خبر انکو سننے کو ملی وہ انکے لئے ناقبل قبول تھی “
” ” وہ فورا سے یاسر سے ملنے انکے پاس آئے تھے .
” حسن کی آواز پر انہوں نے آنکھیں کھول کر اپنے دوست کی طرف دیکھا اور اپنی جگہ سے کھڑے ہوئے تھے ,,
,, سب کچھ کرنے کے بعد مجھ سے پوچھ رہے ہو کہ یہ سب کیسے ہوا ,,
یہ جو کچھ بھی ہوا ہے اسکے ذمہ دار تو تم ہی ہو ,,
,, وہ آنکھوں میں سرد تاثرات لئے انکی طرف دیکھ رہے تھے,,
,, کیا مطلب میری وجہ سے کیوں ہوا ہے
کہنا کیا چاہ رہے ہو تم ?
,, حسن ناسمجھی سے یاسر کی طرف دیکھ رہے تھے ,,
,, آج انکی آنکھوں میں اجنبییت دیکھ کر حسن کے دل کو چوٹ سی لگی تھی ,
,, اگر تم سارہ کو یسرا کے بارے میں نہ بتاتے تو کیا ہو جاتا
,,اگر تم اپنے دوست کے راز کو راز رکھ لیتے ,,
,, پر نہیں تمھیں تو اچھا بننا تھا نہ ..
معلوم ہو گیا سب کچھ سارہ کو ,,
وہ یہ صدمہ برداشت نہ کر سکی ,
,, اب تو مل گیا ہوگا تمھیں سکون میرے بچوں کی ماں کو ان سے چھین کر ,,
یاسر زہر خند لہجے میں بول رہے تھے ,,
,, کیسا شخص تھا وہ غلطی خود کی تھی دھوکہ خود نے دیا تھا اپنی بیوی کو اور سارا الزام اپنے دوست پر لگا رہے تھے جو ہر طرح سے بےقصور تھے ,,
,, یہ تم کیا کہہ رہے ہو یاسر ..
تمھیں ضرور کوئی غلطفہمی ہوئی ہے ..
میں نے کسی کو کچھ نہیں بتایا ہے ,,
,, اتنے بڑے الزام پر حسن شاکڈ ہی تو رہ گئے تھے ,
,, انہوں نے ایسا تو کبھی نہیں سوچا تھا
وہ مانتے ہیں کہ انہوں نے یاسر کو کچھ وقت پہلے وارن کیا تھا مگر اسکا ہرگز یہ مطلب نہیں تھا کہ وہ سارہ کو سب سچ بتانے کا ارادہ رکھتے تھے ,,
,, کیونکہ وہ سارہ کی جذباتی طبیعت سے اچھی طرح سے واقف تھے انہیں اندازہ تھا کہ سارہ اتنا بڑا صدمہ برداشت نہیں کر سکے گی ..
بس وہ اتنا چاہتے تھے کہ یاسر یسرا کو چھوڑ دیں ..
,, مگر ایسا نہیں ہوا الٹا سارہ ان لوگوں کو چھوڑ کر چلی گئی تھی ,,
,, میرے سامنے اتنا شریف بننے کی کوشش مت کرو ..
جانتا ہوں تم نے ہی کیا ہے یہ سب ,,
,, میرا گھر برباد کرنے والے صرف تم ہو صرف تم ,,
یاسر نے بڑی چالاکی سے سب الزام ان پر ڈال دیا تھا
,,جبکہ اس بار حسن کو بہت غصّہ آیا تھا یاسر کی بات پر ..
,, میں نے تم خود ذمہ دار ہو
صرف تمہاری حرکتوں کی وجہ سے آج سارہ ہمارے درمیان نہیں ہے ,,
تم نے جان لی ہے اپنی بیوی کی ..
سمجھے تم ,,
حسن غصّے سے دہاڈے تھے ,,آج انہیں یاسر کو اپنا دوست کہتے ہوئے بھی شرم آ رہی تھی ,,
,, ڈیڈ یہ شخص کیا کر رہا ہے ہمارے گھر فورا اسے یہاں سے نکالے ,,
ایک آواز پر دونوں نے پلٹ کر دیکھا تو حیدر اپنی معصوم آنکھوں سے حسن کو نفرت بھری نظروں سے دیکھ رہا تھا ,,
,, یاسر نےً اپنا گناہ چھپانے کے لئے اس بچے کے دل میں حسن کے لئے غلطفہمی ڈال دی تھی کہ اسکی ماں کے مرنے کی وجہ حسن ہے ,,
,, نہیں بیٹا تمھیں غلطفہمی ہوئی ہے ..
ایسا بلکل نہیں ہے جیسا تم سوچ رہے ہو ,,
تمہارا باپ جھوٹ بول رہا ہے ,,
حسن نے اس بچے کے سامنے اپنی صفائی پیش کرنی چاہی مگر انکی وہاں سن کون رہا تھا ,,
,, ڈیڈ اس شخص کو ہمارے گھر سے ابھی اور اسی وقت نکالے کچھ رشتہ نہیں ہے ہمارا ان سے ,,
اگر آپ ایسا نہیں کر رہے ہیں تو میں گارڈ کو بلاتا ہوں ,,
,,اسکے لہجے ہی نہیں اسکی آنکھوں میں بھی نفرت تھی حسن کے لئے ,,
,, جبکہ حسن اب کچھ بولنے کے قابل ہی نہیں رہے تھے ..
انہوں نے اک نظر اپنے دھوکے باز دوست کی طرف دیکھا جس نے اپنے اولاد کے سامنے اچھے بننے اور اپنی غلطی چھپانے کے لئے سب الزام حسن کے اوپر لگا دیے تھے ..
,, وہ بغیر کسی کی طرف دیکھ وہاں سے نکلتے چلے گئے تھے اب کچھ باقی بھی تو نہیں رہا تھا انکا یہاں پر ,,
💕💕
” ‘ وہ یاسر صاحب سے بات کرنے کے بعد جب کمرے میں واپس آیا تو بیڈ خالی دیکھ کر یکدم سے پریشان ہوا تھا “
“‘ ابھی تھوڑی دیر پہلے تو وہ رضوا کو یہاں سوتا ہوا چھوڑ کر گیا تھا اچانک سے کہاں چلی گئی تھی “
“” وہ پریشان سا واشروم کی طرف بڑھا مگر وہاں بھی کوئی موجود نہیں تھا “
” اب اسکی پریشانی مزید بڑھی تھی “
” کاوش اپنی پیشانی مسلتا ہوا کمرے سے باہر نکلا تھا
کمرے سے نکل کر وہ سیدھا لاؤنج یہ گھر اتنا بڑا نہیں تھا ایک کمرہ چھوٹا سا لاؤنج اور اوپن کچن تھا ,,
,,وہ لاؤنج میں بھی موجود نہیں تھی مگر لاؤنج کے سامنے کچن میں کھڑی رضوا کو دیکھ کر اسکے اندر ایک سکون سا اترا تھا ,,
,, اسکی کاوش کی طرف پشت تھی اس لئے وہ اسکو دیکھ نہیں سکی تھی ,,
,, تم یہاں ہو پتہ ہے میں کتنا پریشان ہو گیا تھا تمھیں کمرے میں نہ دیکھ کر ,,
,, وہ نرم لہجے میں بولتا ہوا اسکی جانب بڑھا تھا اسکی آواز سن کر رضوا نے اپنا رخ اسکی طرف پلٹا تھا ,,
,, آنکھوں میں ابھی بھی نیند کا خمار بکھرے بال نم آنکھیں دیکھ کر کاوش کا دل پریشان سا ہوا تھا ,,
,, کیوں کر رہے ہیں آپ میرے ساتھ ایسا ,,
,, اسکے سوال پر کاوش کے چلتے قدم یک پل کے لئے رکے تھے ,,
,, رضوا بھیگی آنکھوں سے اسکی طرف دیکھ رہی تھی ,,
,, کیا کر رہا ہوں میں تمہارے ساتھ ..
بتاؤ ذرا مجھے بھی تو پتہ چلے ,,
,, وہ اس سے کچھ قدم فاصلے پر آکر رکا اور اپنے دونوں ہاتھ سینے پر باندھ کر کھڑا اسکے چہرے کے تاثرات کو دیکھنے لگا ,,
,, یہ سب تو آپ مجھ سے زیادہ بہتر جانتے ہیں
آپ مجھے صرف اتنا بتا دیں کہ کیوں کر رہے ہیں آپ ایسا ?
,, رات اپنے اس لئے وہ کیا تھا نہ کہ تاکہ آپ مجھے میری فیملی سے دور کر سکے ,,
,, اس بار بغیر ڈرے اسکی آنکھوں میں دیکھ کر بولی تھی ,
, اسکو لگنے لگا تھا کہ یہ شخص ایک دیں اسکو پگال کر دیگا ,,
,, جبکہ اسکی بات سے کاوش سمجھ گیا تھا کہ وہ اسکے اور یاسر کے درمیان ہونے والی باتیں کچھ حد تک سن چکی تھی ,,
,, اور اب اسکے غصّے کی وجہ یہی تھی ,,
,, کیونکہ تم نے مجھے اپنا دیوانہ کر دیا ہے ,,
,, اس نے کھلے لفظوں میں اپنے احساسات کو بیان کیا تھا مگر رضوا تو اس وقت بہت غصّے میں تھی اسکو کچھ نہیں سمجھنا تھا اور نہ کچھ سننا تھا ,,
,, نہیں مجھے میرے سوالوں کا جواب چاہئے کیوں دور کر رہے ہیں آپ مجھے میری فیملی سے ..
کیوں ملنے نہیں دیتے آپ مجھے ,,
,, جواب دیں مجھے ,,
,, وہ غصّے سے چیخی ہر شیلف پر رکھا گلاس زمین پر دے مرا تھا ,,
,, وہ اس وقت بہت غصّے میں تھی شاید اتنا غصّہ اسکو پہلی بار آ رہا تھا اور وہ یہ تک بھول چکی تھی کہ اس وقت اسکے سامنے کون کھڑا ہے ,,
,, کیونکہ نفرت کرتا ہوں میں تمہارے ڈیڈ سے اور میرے خیال سے یہ جواب کافی ہے تمہارے لئے .
وہابھی بھی بڑے آرام سے کھڑا اسکی ایک ایک حرکت کو دیکھ رہا تھا ,,
,, نہیں کافی نہیں ہے ..
اگر میرے ڈیڈ سے نفرت تھی ٹو اسکا بدلہ مجھ سے کیوں ..
مجھے کیوں الگ کیا میری فیملی سے میرے بھائی سے,,
, اس بار دوسرا گلاس پھینکا گیا تھا ,,
,, جبکہ کاوش پر کوئی اثر نہیں ہو رہا تھا بلکہ وہ تو چاہتا تھا کہ رضوا اپنا غصّہ نکالے ,,
,,وہ سب بولے جو آج تک اس نے دل میں دبا کر رکھا ہوا تھا ,,
,, ایک نہ ایک دن تو تمھیں اپنے بھائی اور اپنی فیملی سے الگ ہونا ہی تھا تو ہو گئی تم ,,
,,اس میں اتنا غصّہ کیوں ,,
,,اس نے ایک قدم اسکی طرف بڑھایا تھا ,,
,, نہیں ہونا مجھے الگ .
مجھے میرے بھائی کے پاس جانا تھا ..
,, اس بار پانی سے بھرے جگ کی باری آئی تھی ..
اب زمین پر کانچ کے ٹکڑوں کے ساتھ پانی بھی گر چکا تھا ,,
,, اس وقت رضوا پر ایک جنون سا سوار ہو گیا تھا وہ تھک گئی تھی یں سب سے ,,
,جو بھی اسکے ساتھ ہو رہا تھا ,,
,, فلحال تم کہیں نہیں جا سکتی ہو لیکن صحیح وقت آنے پر میں تمھیں تمہارے بھائی سے ملانے کے لئے لے جاؤں گا ..
,, کاوش نے اسکا غصّہ کم کرنا چاہا تھا ,,
,, نہیں مجھے ابھی جانا ہے ..
رضوا ادھر ادھر نظر ڈالتی کچھ چیز تلاش کرنے لگی تھی جب کاوش نے اسکا بازو پکڑ کر اسکو اپنے قریب کھینچ لیا تھا ,,
,, شششش ,,,
,,بس اب بلکل خاموش ہو جاؤ ..
آج کے لئے اتنا بہت ہے ,,
,,کاوش نے اسکا چہرہ اپنے دونوں ہاتھوں میں لیکر اسکی پیشانی سے اپنی پیشانی ملائی تھی ,,
,, زور سے چیخنے کی وجہ سے رضوا کا سانس بری طرح پھول چکا تھا
وہ آنکھیں بند کئے گہرے گہرے سانس لے رہی تھی,
,, دونوں کی سانسیں ایک دوسرے کے چہرے کو چھو رہی تھی ,,
,, تم اس گھر میں بلکل آزاد ہو رضوا لیکن صرف اس گھر میں ..
,,اور میں ہر وقت تمہارے ساتھ ہوں کبھی تمھیں تکلیف نہیں دوں گا ,,
,, مجھ پر بھروسہ رکھو ,,
,, وہ اسکی بند آنکھوں کو دیکھ کر بولا تو اسکی بات پر رضوا نے یکدم سے اپنی آنکھیں کھولی تھی ,,
,, دونوں ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے ..
,, بھروسہ کروگی نہ مجھ پر ..
کاوش نے اسکی آنکھوں میں دیکھ کر پھر سے اپنا سوال دوہرایا تو رضوا نے پھر سے اپنی آنکھیں بند کر لی تھی ,,
,, چلو کمرے میں جاؤ اور جاکر آرام کرو ..
وہ اسکا چہرہ آزاد کرتا ہوا بولا کیونکہ اسکی خاموشی میں اسکو اپنا جواب مل گیا تھا ,,
,, رضوا ایک قدم اس سے دور ہوئی اور تیزی سے کمرے کی طرف بڑھی تھی ..
اسکی سمجھ نہیں آیا تھا کہ کیسے اس نے اک پل میں اسکا غصّہ ختم کر دیا تھا ..
,, صرف چند لفظ بول کر ..
,, رضوا بیڈ پر گرنے ک انداز میں لیٹی تھی اس وقت اسکی سوچوں میں صرف کاوش تھا ..
💕💕
,, وہ وہ کتنا خوش تھی اس بات کو وہ لفظوں میں بیان نہیں کر سکتی تھی ,,
اپنی ماں کے پاس جاتے وقت وہ جتنا دکھی اور اداس تھی پر خوش ہوکر واپس آئی تھی ,,
,, اسکی ماں نے اسکو معاف کر دیا تھا پہلے تو اسکو یقین ہی نہیں آیا تھا ,,
,, مگر اسکے بعد یسرا بیگم نے اسکو بتایا اسکو سن کر تو وہ حیران ہی رہ گئی تھی ,,
,, پوری بات سن لینے کے بعد وہ بےیقینی سے اپنی ماں کی طرف دیکھ رہی تھی ,,
,, اسکے لئے یقین کرنا مشکل تھا ..
,,حیدر ایسا بھی کر سکتا ہے وہ سوچ بھی نہیں سکتی تھی ,,
,, وہ جتنا بھی وقت انکے پاس رہی نمرہ بیگم بس حیدر کے بارے میں ہی بات کرتی رہی تھی ..
صرف ایک دن میں کیسا جادو کر دیا تھا اس نے منال صرف سوچ کر ہی رہ گئی تھی ,,
,, اسکے لئے صرف اتنا کافی تھا کہ اسکی ماں نے معاف کر دیا اسکو باقی وہ کچھ سوچنا بھی نہیں چاہتی تھی ,,
,, کمرے میں آکر اس نے چادر ایک سائیڈ پر رکھی اور وارڈراب کی طرف بڑھی تھی .
اسکا ارادہ اپنے کپڑے چینج کرنے کا تھا ,,
,, وہ اپنے لئے کوئی سوٹ نکال ہی رہی تھی جب اسکے ہاتھ لگنے سے سائیڈ پر رکھی فائل نیچے گری تھی ,,
,, منال کی نظر جب اس پر پڑی تو وہ فائل اٹھانے کے لئے جھکی تھی .
اس میں سے کچھ کاغذات اور کچھ تصویرے نکل کر گر چکی تھی ,,
,, ان سب چیزوں کو اٹھانے لگی جب اسکا ہاتھ ایک تصویر پر آکر رکا تھا
,, یہ تصویر کسی اور کی نہیں اسکی بہن ایشا کی تھی اور اس میں حیدر بھی موجود تھا ,,
,, , یہ انکی یونی کی تصویر تھی کیونکہ اسی طرح کی ایک تصویر اسکے پاس بھی تھی مگر اس میں حیدر نہیں تھا ,,
,, اپنی بہن کو دیکھ کر اسکی آنکھیں نم ہوئی تھی ,,
,,کیا بات ہے پوری کی پوری بیوی والی حرکتیں کرنی شروع کر دی ہے تم نے ..
اتنا شوق ہو رہا ہے میری جاسوسی کرنے کا ,,
,, اپنے پیچھے سے حیدر کی آواز سن کر w
وہ یکدم سے پلٹی تھی ..
,, مجھے کوئی شوق نہیں ہے تمہاری جاسوسی کا یہ مجھ سے گر گئی تھی بس اٹھا رہی تھی میں ,,
وہ بےزاری سے بولی تھی ,,
,, جبکہ اسکا دل تو کر رہا تھا کہ اس سے سوال کرے کہ کیوں رکھی ہوئی ہے اس نے اسکی بہن کی فوٹو جب اس سے محبت نہیں تھی ,,
,,مگر خود پر ضبط کرنا پڑا تھا ,,
,, وہ سب رکھنے ہی لگی تھی کہ جب حیدر کی نظر اس تصویر پر پڑی تو اس نے منال کے ہاتھ سے وہ تصویر لے لی تھی ,,
,, منال جانچتی نظروں سے اسکے چہرے کے تاثرات کو غور سے دیکھنے لگی ,,
,, یہ یونی ٹائم کی تصویر ہے ..
ہم بہت اچھے دوست تھے ,,مگر ,,,
,, وہ اک پل کے لئے رکا تھا اسکے رکنے کے ساتھ ساتھ منال کا دل بھی ایک پل کے لئے رکا تھا ..
,, جانے اب کیا کہنے والا تھا وہ ,,
,, مگر کیا?
,, منال اسکے چہرے کو دیکھ رہی تھی جو ابھی بھی تصویر سکو دیکھ رہا تھا ,,
,, مگر اب ہم دوست نہیں رہے ..
حیدر بولتا ہوا جیسے کہیں کھو سا گیا تھا ,,
جبکہ منال کی حالت عجیب سی ہو رہی تھی ,,
,, کیوں نہیں رہے پھر تم دوست ?
منال تو جیسے آج ہی اب کچھ جان لینا چاہتی تھی ,,
,, کیونکہ ایشا میری دوستی کو کچھ اور ہی سمجھ بیٹھی تھی جبکہ وہ میرے لئے صرف ایک اچھی دوست تھی ..
,,ایک دن میں نے اسکو بہت سمجھایا تھا پھر اسکے بعد وہ کبھی واپس ہی نہیں آئی ,,
, حیدر بول رہا تھا اور منال بس گنگ سی کھڑی اسکو سن رہی تھی ..
,, کس پر یقین کرے اس پر یا اپنی بہن کے آنسووں پر ,,
وہ سخت مشکل میں تھی ,,
,, شاید اسکو سمجھ آ گئی تھی کہ وہ جو چاہتی ہے وہ کبھی ممکن نہیں تھا .
,, حیدر نے اپنی بات ختم کرکے وہ فائل اپنی جگہ پر رکھی اور وارڈراب کو بند کیا تھا ,,
,, صحیح کہا اسکو سمجھ آ گئی تھی ,,
منال کو یکدم اپنی بہن کا بےجان وجود یاد آیا تھا ,,
,, کیا کہا ?
,, حیدر نے ناسمجھی سے اسکی طرف دیکھا تھا ,,
,, کچھ نہیں میں تمھیں بتانا ضروری نہیں سمجھتی ,,
,, منال اپنی بات کہہ کر جانے لگی تھی جب حیدر نے اسکا بازو پکڑ کر منال کو وارڈراب سے لگایا تھا ,,
,, تمھیں اب تھوڑی تمیز بھی سیکھانی پڑے گی کہ شوہر کے ساتھ کیسے بات کرنی چاہئے ,,
وہ اسکے ارد گرد ہاتھ رکھتا اسکو اپنے حصار میں لے چکا تھا ,,
,, ہاں شوہر وہ بھی زبردستی کا ..
اسکی اتنی قربت پر جانے کیوں اسکی دھڑکنے یکدم سے تیز ہوئی تھی مگر وہ بھی منال تھی چپ رہنا اس نے سیکھا ہی نہیں تھا ,,
,, زبردستی کا ہی صحیح شوہر تو ہوں نہ ..
اور اگر اپنا حق لینے کے لئے زبردستی کرنی پڑی تو وہ بھی کر لوں گا ,,
,, وہ معنی خیز لہجے میں بولا اور اپنا چہرہ اسکے چہرے کے مزید قریب کیا ,,
,,جبکہ اسکی بات سن کر منال کے پورے بدن میں سنسناہٹ سی محسوس ہوئی تھی ,
,, اسکو دو دن پہلے والا واقع یاد آ گیا تھا
اتنا تو وہ سمجھ ہی چکی تھی وہ جو کہتا ہے اسکو پورا بھی کرتا تھا ,,
,, مجھے تم سے اسی بات کی امید تھی ..
اسکے اندر کی ڈرپوک لڑکی ظاہر ہونے لگی تھی ..
,, بیگم اب تم مجھ سے کوئی امید نہ ہی رکھو تو ہی بہتر ہوگا کیونکہ اس گھر میں تم اپنی مرضی سے آئی ہو اور اب جو کچھ بھی ہوگا میری مرضی سے ہوگا “”
,, وہ اپنی بات کہہ کر اس پہ مزید جھکا اور اسکی ناک کو اپنے دانتوں میں ہلکا سا دبایا تھا ..
منال پوری جان سے کانپ اٹھی تھی ,,
,, آگے سے مجھ سے تمیز سے بات کرنا میں صرف ایک بار موقع دیتا ہوں بار بار نہیں ,,
اور یہ تمہاری بدتمیزی کی چھوٹی سی سزا تھی جو آگے بڑی میں بھی تبدیل ہو سکتی ہے ,,
,, وہ ایک ایک لفظ پر زور دیتا ہوا بولا اور اس سے دور کھڑا ہوا تھا ,,
اسکے دور جانے پر منال اپنے بےترتیب ہوتی دھڑکنوں کو قابو میں کرتی تیزی سے واشروم میں جا گھسی تھی ,,
💕💕
(جاری ہے )
