Ishq E Junoon By Iqra Sheikh Readelle50202 Episode 13
No Download Link
Rate this Novel
Episode 13
’’ یاسر تم مجھے ہمارے گھر کب لیکر جا رہے ہو ’
’’ یسرا نے یاسر بہت ہی محبت سے یاسر کے کندھے پہ اپنا سر رکھا تھا ’’
’’ یاسر اسکی بات پر مسکراۓ اور یسرا کی کمر کے گرد اپنے بازو حائل کر کے اسکو اپنے قریب کیا تھا ’’
’’ تم اس وقت جہاں موجود ہو وہ ہمارا ہی تو گھر ہے میری جان ’’
’ یاسر بہت محبت سے یسرا کی طرف دیکھ کر بولے’
’’ انکی آنکھوں میں ہی نہیں انکے لہجے میں بھی یسرا کے لئے بےپناہ محبت تھی ’’
’’ وہ محبت جو کچھ وقت پہلے سارہ کے لئے تھی ’’
’’ مگر وقت کے ساتھ ساتھ انکی محبت میں بھی تبدیلی آ گئی ..
اور اب وہ یسرا سے محبت کرتے ہیں ’’
’’ میں اس گھر کی نہیں یاسر
میں اس گھر کی بات کر رہی ہوں جہاں تمہارے بیوی بچے رہتے ہیں ’’
’’یسرا نے اپنا چہرہ اٹھا کر یاسر کی طرف دیکھا تھا’’
’’ وہ یاسر سے محبت تو کرتی تھی مگر اس سے زیادہ اسکو یاسر کی دولت نے اپنی طرف کھینچا تھا.
وہ خود اک مڈل کلاس گھرانے نے تعلق رکھتی تھی’’
’’ اس لئے تو اسکو یاسر کے بیوی اور بچوں سے کا سن کر کوئی فرق نہیں پڑا تھا ’’
’’ نہیں یسرا میں تمھیں وہاں لیکر نہیں جا سکتا ’
’’وہ گھر سارہ اور میرے بچوں کا ہے
تمھیں وہاں لے جا کر میں کوئی پریشانی کھڑی نہیں کرنا چاہتا ہوں ’’
’’ یاسر یسرا کو خود سے دور کر کے اپنی جگہ سے کھڑے ہوئے تھے ’’
’’ جبکہ یاسر کی بات سن کر یسرا کو غصّہ آ گیا تھا’’
’’ ایسا نہیں تھا کہ یاسر نے اسکو چھوٹے گھر میں رکھا ہوا تھا .
بس اسکی خوائش یاسر کے اس عالیشان سے گھر میں رہنے کی تھی ’’
’’ کیوں نہیں لیکر جا سکتے تم مجھے وہاں
کیا میں تمہاری بیوی نہیں ہوں
کیا میرا کوئی حق نہیں ہے تمہاری کسی بھی چیز پر’’
’’ وہ تڑخ کر بولی تو یاسر کو اسکا یہ انداز بلکل پسند نہیں آیا تھا ’’
’’ یسرا یہ کیسی باتیں کر رہی ہو تم ..
تمھیں پورا حق ہے .
’’ پر تم خود ہی سوچوں میں تمھیں وہاں کیسے لیکر جا سکتا ہوں ..
’’ جبکہ سارہ تمہارے بارے میں کچھ نہیں جانتی ’’
’’ وہ تھوڑا پریشانی سے بولے تھے ’’
’’ انہوں نے یسرا سے نکاح تو کر لیا تھا مگر انکی سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ آگے کیا کریں گے ’’
’’ وہ یہ بات سارہ سے راز رکھنا چاہتے تھے ’’
’’ اس وقت وہ خودغرض بنے ہوئے تھے ’’
’’ اگر وہ نہیں جانتی ہے تو تم اسے بتا دو آخر کب تک چھپا کر رکھو گے یہ سب ’’
’’ کیونکہ ایک نہ ایک دن تو اسے سب معلوم ہو ہی جائے گا ’’
’’ یسرا نے انکو اپنی باتوں سے قائل کرنا چاہا تھا ’’
’’ نہیں یسرا یہ سب اتنا آسان نہیں ہے جتنا تم سوچ رہی ہو ..
میرے بچوں کے مستقبل کا سوال ہے اگر سارہ نے جذبات میں آکر کوئی بڑا فیصلہ لے لیا تو میرے بچوں کا کیا ہوگا ’’
’’ اس وقت یاسر کے لہجے میں اپنے بچوں کے لئے محبت تھی جو یسرا کو بلکل اچھی نہیں لگی تھی ’’
’’ تمھیں صرف اپنے بچوں کی فکر ہے بس انکا خیال ہے میری خوشی اسکا کیا ’’
’’ اس نے اپنی اہميت جاننی چاہی تھی ’’
’’ جتنا خیال مجھے اپنے بچوں کا ہے اتنا تمہارا بھی ہے ..
تمھیں بڑا گھر چاہئے نہ تم میں تمھیں اس سے بھی بڑا گھر خرید دوں گا ..
اب بس اس بات کو یہیں ختم کرو ’’
’’ یاسر نے پھر سے اسکو اپنی باہوں میں حصار میں لیا تھا ’’
وہ یسرا کی محبت میں اس قدر کھو چکے تھے کہ انہیں صحیح اور غلط کیا ہے سوچنا بھی چھوڑ دیا تھا’’
’’ نہیں یاسر جانا تو مجھے تمہارے اسی گھر میں ہے چاہے مجھے اسکے لئے کچھ بھی کرنا پڑے ..
وہ یاسر کا چہرہ دیکھ کر اپنے آپ میں بولی اور انکے سینے سے لگ کر اپنی آنکھیں بند کر چکی تھی’’
💕💕
” ‘ وہ صوفہ پر بیٹھی بہت ہی فرصت میں کمرے کا جائزہ لے رہی تھی ’’
’’ یہاں رہتے ہوئے اب اسکو ہر چیز کے بارے میں معلوم ہو گیا تھا کہ کون سی چیز کہاں پر رکھی ہے’’
’’ سارا دن وہ گھر میں رہ کر بس یہی تو کرتی تھی نہ کہیں جا سکتی نہ کسی سے بات کر سکتی تھی ’’
’’ کام کرنے کے لئے ملازمہ موجود تھی .
ویسے کام تو وہ اپنے گھر بھی نہیں کرتی تھی مگر یہاں اکیلے رہ کر اسکا بہت کچھ کرنے کا دل کرتا تھا’’
’’ مگر کاوش کے ڈر سے وہ بس خاموش ہو کر رہ جاتی تھی ’’
’’ وہ بیٹھی اپنی سوچوں میں گم تھی جب زور سے بدل گرجنے کی آواز پر وہ اپنی سوچوں سے باہر آئی تھی ’’
’’ گلاس وال کی طرف دیکھا تو بارش بہت تیزی سے شروع ہو چکی تھی ’’
’’ وہ اپنی جگہ سے اٹھی اور برستی بارش کو دیکھنے لگی ’’
’’ اسکو شروع سے ہی بارش بہت پسند تھی اسکے چہرے پر یکدم سے ایک خوبصورت سی مسکراہٹ آئی اور کچھ سوچ کر وہ باہر لان کی طرف بڑھی تھی ’’
’’ پہلے تو وہ کشمکش میں کھڑی رہی کچھ کاوش کا بھی ڈر تھا ’’
’’ مگر اسکی گھر پر غیر موجودگی کا خیال آتے اس نے آہستہ سے اپنے قدم لان کی گیلی گھاس پر رکھے تھے ’’
’’ بارش کی بوندے اسکو بھیگونے لگی تھی رضوا کو ایک سکون سا اپنے اندر محسوس ہوا تھا ’’
’’ وہ مزید آگے بڑھی اور اپنا چہرہ اوپر کر کے آنکھیں بند کر کے بارش کو محسوس کرنے لگی ’’
’’ ایسا کرکے اسکو سکون مل رہا تھا ورنہ پچھلے کچھ دنوں سے وہ سکون کھو ہی چکی تھی ’
’’ اور اسکی وجہ صرف کاوش تھا ’’
’’ وہ اسکو سمجھ نہیں پا رہی تھی
’’ جب وہ اس سے پہلے بار ملی اسکے لہجے میں کتنی نفرت تھی ’’
’’ اور اب نفرت کے ساتھ کچھ اور بھی ہوتا تھا ’
’’ اسکا رویہ کبھی تو پتھر کی طرح سخت ہوتا تو کبھی موم کی طرح نرم ’
’’ مگر اپنی سختی میں ابھی تک اس نے اسکو کوئی تکلیف نہیں دی تھی ’’
’’ لیکن وہ اسکی نرمی بھی برداشت نہیں کر پاتی تھی ’’
’’ اسکی نرمی کب شدت میں بدل جائے اسکو اندازہ نہیں تھا اس بات کا ’’
’’ رضوا بارش میں کیوں بھیگ رہی ہو فورا یہاں آؤ ..
ورنہ بیمار پڑ جاؤ گی تم ’’
’’ وہ آنکھیں بند کئے اسی کو سوچ رہی تھی جب کاوش کی آواز پر بھی اس میں کوئی حرکت نہیں ہوئی ’’
’’ نہ وہ پلٹی نہ اسکو کوئی جواب دیا بس ایسے ہی کھڑی رہی ’’
’’ اسکا لگ رہا تھا کہ یہ صرف اسکا وہم ہے ’’
’’ رضوا میں کیا کہہ رہا ہوں تمھیں سنائی نہیں دیا
’’ اس بار اسکی آواز تیز ہوئی تھی مگر اس پہ تو جیسے کوئی اثر ہی نہیں ہو رہا تھا ’’
’’ کاوش کھڑا اسکی پشت کو دیکھتا رہا وہ اس وقت پوری طرح سے بھیگ چکی جس وجہ سے اسکے کپڑے بھیگ کر پوری طرح سے اسکے بدن پر چپک چکے تھے ’’
’’ ٹھنڈی حوا تیز بارش میں بےپرواہ سے کھڑی وہ لڑکی اسکو کہیں سے بھی اپنی رضوا نہیں لگ رہی تھی’’
’’ وہ فکرمند سے اسکی طرف بڑھا جبکہ اسکو بارش میں بھیگنا سخت ناپسند تھا ’’
’’ مگر وہ رضوا کے لئے بھیگتا ہوا اسکے پاس آیا اور پیچھے سے اسکو اپنی باہوں کے حصار میں لیا اور اپنے لب اسکے بالوں پر رکھے تھے ’’
’’ جبکہ رضوا ابھی بھی ایسے ہی کھڑی تھی اسکو ابھی بھی لگ رہا تھا کہ ی صرف اسکا وہم ہے کیونکہ وہ ایسا ایک دو بار محسوس کر چکی تھی ’’
’’ کاوش آپ ایسے کیوں ہیں ’’
’’ اس نے بےخودی کے عالم میں اپنے پیٹ پر رکھے اسکے ہاتھ پر اپنے ہاتھ رکھے تھے ’’
’’ ایسا کیسا ?
’’ کان میں سرگوشی کے انداز میں کہا گیا اور ساتھ میں اس پر اپنی گرفت مضبوط کی تھی ’’
’’ پتھر کی طرح سخت اتنے سخت کی آپکے قریب آنے پر بھی ڈر لگتا ہے ’’
’’ اس وقت وہ آنکھیں بند کئے سوال کر رہی تھی اسکو کاوش کی قربت اچھی لگ رہی تھی ٹھنڈ میں گرماہٹ کا احساس ھو رہا تھا ’’
’’ تو تم میرے قریب آنا چاہتی ہو ..
’’ اس بار اسکا رخ اپنی طرف کیا تو رضوا جیسے ہوش میں آئی تھی ’’
’’ اس نے آنکھیں کھول کر دیکھا تو وہ اسکے سامنے کھڑا گہری نظروں سے اسکی طرف دیکھ رہا تھا ’’
’’ بولو کیا قریب آنا چاہتی ہو تم میرے ?
وہ اسکے بھیگے لبوں پر نظریں جماۓ بولا اسکا دل کیا کہ وہ انہیں چوم لے ’’
’’ نہیں میں نے ایسا کب بولا ’’
’’ اس نے اپنی بات کہہ کر جلدی سے وہاں سے جانا چاہا جب بہت زور سے بادل کے گرجے تھے رضوا ڈر کر بری طرح اسکے سینے سے آ لگی تھی ’’
’’ رضوا کے اس طرح سے اسکی پناہوں میں آ جانے پر کاوش ہولے سے مسکرایا اور اپنا گھیرا مزید تنگ کیا تھا ’’
’’ اس نے کاوش کی شرٹ کو بہت سختی سے پکڑا ہوا تھا ’’
’’ ” کتنے ہی لمحے یوں ہی خاموشی سے گزر گئے تھے وہ دونوں یوں ہی کھڑے بارش میں بھیگ رہے تھے ’’
’’ اب اگر تم اسی طرح میرے اتنے قریب کھڑی رہو گی تو مجھے خود پر قابو کرنا مشکل ہو جائے گا ’’
’’ پھر بعد میں خود ہی شکایات کروگی ’’
’’ کاوش اسکی کندھے پر اپنے لبوں کا لمس چھوڑتا ہوا خمارآلودہ لہجے میں بولا اور اپنے پکڑ اسکی کمر پر سخت کی تھی ’’
’’ اسکے لبوں کا گرم لمس محسوس کر کے رضوا اک پل میں اس سے دور جا کھڑی ہوئی تھی ’’
اسکو اچانک ہی اپنے حلیے کا خیال آیا تھا اپنے لباس پر نظر پڑتے ہی چہرہ شرم سے لال ہوا تھا ’’
’’ آپ بہت برے ہی نہیں بہت بدتمیز بھی ہیں ’’
اسکو اور اور نام سے نوازا گیا تھا ’’
’’ روکو ذرا ابھی تمھیں بتاتا ہوں بدتمیز کیسے ہوتے ہیں ’
’ وہ شوخ لہجے میں کہتا ہوا اسکی طرف بڑھا مگر رضوا اسکا ارادہ بھانپ کر تیزی سے وہاں سے بھاگی تھی ’’
’’ اگر وہ اسکو پکڑ لیتا تو یقیناً اسکو اپنی جان چھوڑانا مشکل ہو جاتا ’’
جبکہ کاوش کھڑا مسکراتا ہوا اسکو بھاگتے ہوئے دیکھتا رہا تھا ’’
💕💕
’’ وہ بہت آہستہ سے دروازہ کھول کر کمرے میں داخل ہوئی تھی ..
’’ اس کمرے میں جس میں انکی منال رہتی تھی ’’
’’ چند ہی روز میں یہ کمرہ بھی کتنا خالی ہو گیا تھا ورنہ ہر طرف منال کی چیزے بکھری رہتی تھی ’’
’’ وہ آہستہ سے چلتی ہوئی بیڈ کے قریب آئی اور سائیڈ ٹیبل پر رکھی منال اور ایشا کی تصویر کو اٹھایا تھا ’’
’’ ایک بیٹی تو انکو پہلے ہی چھوڑ کر جا چکی تھی اب دوسری بھی چلی گئی تھی ’’
’’ انہیں یاد ہے ابھی کچھ روز پہلے ہی تو وہ منال کی شادی کے بارے میں سوچ رہی تھی ’’
’’ ’ مگر انہیں کیا معلوم تھا کہ ی سب اتنی جلدی ہو جائے گا ’’
’’ منال وں سے اتنی بڑی بات نہ چھپاتی تو آج انہیں اتنا دکھ نہ ہوتا ’’
’’ انہوں نے سوچا نہیں تھا کہ یہ سب اتنی جلدی ہو جائے گا ’’
’’ تم نے اچھا نہیں کیا منال اپنی ماں کے ساتھ ’’
’ ’ شکوہ پھر سے انکے لبوں پر آیا اور کتنے ہی آنسوں ٹوٹ کر انکی گود میں گرے تھے ’’
’’ وہ بیٹھی اپنا غم کم کرنے کی کوشش کر رہیں تھی جب دروازے پر بیل ہوئی ’’
’’ اس وقت کون ہو سکتا ہے ..
وہ حیران سی اپنی جگہ سے کھڑی ہوئی تھی کیونکہ ابھی تھوڑی دیر پہلے ہی تو کاوش انکے پاس سے گیا تھا ’’
’’ منال کا خیال انکے ذہن میں آیا نہیں تھا یہی سوچتے ہوئے انہوں نے جیسے ہی دروازہ کھولا تو اپنے سامنے کھڑے شخص کو دیکھ کر حیران ہوئی تھی’’
’’ تم یہاں کیوں آئے ہو ?
..فورا سے سوال کیا گیا تھا ’’
’’ مجھے آپسے بہت ضروری بات کرنی ہیں آنٹی
انکو سلام کرنے کے بعد حیدر نے اپنے آنے کا مقصد بتایا تھا ’’
’’ پر مجھے نہ تم سے اور نہ ہی تمہاری بیوی سے کوئی بات نہیں کرنی ہے .
اس لئے بہتر ہے تم چلے جاؤ یہاں سے ’’
’’ وہ سخت لہجے میں کہتی دروازہ بند کرنے لگی جب حیدر تیزی سے اندر آیا تھا ’’
’’ پلیز آنٹی بس ایک بار میری بات سن لیجئے اسکے بعد چاہے آپ مجھے گھر سے نکال دینا ..
پر پلیز بس ایک بار سن لیں ’’
’’ اس نے التجا کی تو نمرہ بیگم خاموشی سے اسکو دیکھتی رہی پھر کچھ سوچ کر اسکو اندر آنے کی اجازت دے دی تھی ’’
’’ حیدر خوش ہوتا ہوا انکے ساتھ لاؤنج میں داخل ہوا اور انکے اشارے پر صوفہ پہ بیٹھ گیا تھا ’’
’’ تم میری بیٹی کے شوہر ہو اس لئے تمھیں اندر آنے کی اجازت دی ہے .
اس لئے جو بھی کہنا چاہتے ہو جلدی سے کہو ’’
’’ نمرہ بیگم اسکی طرف دیکھ کر بولی ..
جانے کیوں وہ اس سے سخت انداز میں بات نہیں کر پا رہیں تھی ..
’’ میں زیادہ لمبی بات کرنے نہیں آیا ہوں بس آپ سے اتنا کہنا تھا کہ جو کچھ بھی ہوا ہے اس میں منال کی کوئی غلطی نہیں ہے ’’
’’ میں نے اسکو مجبور کیا تھا یہ سب کرنے کے لئے’
’’ کل وہ منال کی سرخ آنکھیں دیکھ کر سمجھ گیا تھا کہ وہ یقیناً اپنی امی کی وجہ سے روئی ہوگی ’’
’’ صرف اس لئے آج وہ یہاں موجود تھا ’’
’’ میں سمجھی نہیں تمہاری بات کہنا کیا چاہتے ہو تم’’
’’ نمرہ بیگم نے ناسمجھی سے اسکی طرف دیکھا تھا’
’’ ابھی کچھ روز پہلے آپ کا ایکسیڈنٹ ہوا تھا تو اس وقت میں نے آپکی بیٹی کی مدد کی تھی ..
وہ تو میری مدد لینا بھی نہیں چاہتی تھی پر حالات کی وجہ سے اسکو چپ رہنا پڑا ..
’’ پھر جب وہ میری مدد کا احسان اتارنے آئی تو میں نے بدلے میں اس سے نکاح کی شرط رکھی ’’
’’ وہ آہستہ آہستہ سب سچ سچ انکو بتانے لگا ’’
’’ اور نمرہ بیگم حیرانی سے اسکی طرف دیکھ رہی تھی’’
’’ مطلب تم نے میری بیٹی کو مجبور کیا اس زبردستی کے رشتے کے لئے ’’
’ ’ سب جان لینے کے بعد نمرہ بیگم اس بار سخت لہجے میں اس سے مخاطب ہوئی تھی ’’
’’ مجھے یہ سب کرنے کے لئے منال نے ہی مجبور کیا تھا ..
میں اس سے بہت محبت کرتا ہوں پر اس نے مجھے انکار کر دیا اس لئے میں نے یہ سب اسکو حاصل کرنے کے لئے کیا ہے ..
’’ وہ نظریں جھکاۓ بیٹھا اپنی غلطی کا عتراف کر رہا تھا ’’
’’ جبکہ نمرہ بیگم کو یکدم سے منال کا خیال آیا تھا کتنا غلط سوچا تھا انہوں نے اپنی بیٹی کو ’’
’’ یہ سب سننے کے بعد تمھیں کیا لگتا ہے میں تمھیں معاف کر دوں گی اور منال کیا وہ معاف کر دیگی تمھیں ’’
’’ انکی بات پر وہ مزید شرمندہ ہوا تھا ’’
’’ میں جانتا ہوں میں نے غلط کیا پر میرے پاس اسکے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں تھا ..
اور میں یہاں صرف اس لئے آیا ہوں کہ آپ منال کو معاف کر دیں ..
اور مجھے بھی ’’
’’ وہ شرمندہ سا بول رہا تھا مگر نمرہ بیگم کو وہ اس وقت بہت اچھا انسان لگا جو اپنی غلطی خود مان رہا تھا ..
اور وہ اسکی آنکھوں میں اپنی بیٹی کے لئے محبت بھی دیکھ سکتی تھی ’’
’’ سب سننے کے بعد میں اب بھی اس سے ناراض ہوں کم از کم اسے مجھے سب بتانا چاہئے تھا ..
’’ اور رہی تمہاری بات تو جس دن منال تمھیں معاف کر دیگی اس دن میں بھی تمھیں معاف کر دوں گی ’’
’’ انکی بات سن کر حیدر کے دل کا بوجھ ہلکا ہوا تھا کیونکہ اسکو یقین تھا وہ منال کو منا ہی لیگا ایک دن’’
’’ اور سنو اپنی بیوی سے کہہ دینا کہ مجھے آکر مل لے ’’
’’ اسکو اپنی جگہ سے کھڑا ہوتا دیکھ وہ پھر سے بولی تو انکی اس بات پر وہ مسکرا دیا تھا ’’
💕💕
’’ وہ جیسے ہی اپنی کمپنی میں داخل ہوا تو سامنے کا منظر دیکھ کر اسکے ماتھے پر بل پڑ گئے تھے ’’
’’ منال کمپنی کے ایک ورکر یوسف کے ساتھ بیٹھی باتیں کرنے میں مصروف تھی ’’
’’ اس نے منال سے کچھ کہا جس پر اس نے ہنستے ہوئے اسکے بازو پر ہاتھ مارا تھا ’’
’’ یہ منظر حیدر کو بلکل پسند نہیں آیا تھا وہ غصّے سے کھولتا ہوا اپنے آفس کی طرف بڑھا اور اپنے روم کا دروازہ زور سے بند کرتا اندر داخل ہوا ’’
’’ وہ پہلے بھی منال کو اسکے ساتھ باتیں کرتا ہوا دیکھ چکا تھا ’
’’ تب بھی وہ اپنا غصّہ ضبط کرتا رہ جاتا تھا ’’
’’ کیونکہ وہ اس پر کوئی حق نہیں رکھتا تھا مگر اب ایسا نہیں تھا ’
’’ اسکو حق تھا ہر بات کا ’’
’’ وہ غصّے میں ادھر سے ادھر ٹہل رہا تھا جب کچھ سوچ کر وہ اپنے آفس سے نکلا تھا ’’
’’ مس منال میرے ساتھ چلیں مجھے آپ سے کچھ بات کرنی ہے ’’
’’ منال جو یوسف کی بات پر مسکرا رہی تھی حیدر کی آواز سن کے اسکی مسکراہٹ یکدم سے غائب ہوئی تھی ’’
’’ اس نے گردن موڑ کر دیکھا تو وہ اسکے سر پر کھڑا سخت نظروں سے اسکو گھور رہا تھا ’’
’’ اچھا یوسف تم اپنا کام کمپلیٹ کرو میں آتی ہوں ’’
’’ وہ ایک نظر یوسف کو دیکھتی ہوئی کھڑی ہوئی اور حیدر کے پیچھے چل دی تھی ..
’’ کچھ دوری پر چلنے کے بعد حیدر نے سختی سے اسکا بازو پکڑا اور کھینچتا ہوا اسکو اپنے آفس میں لایا ’’
’’ یہ کیا حرکت ہے بازو چھوڑو میرے ’’
’’ منال آفس میں داخل ہوتے ہی غصّے سے بولی اسکو حیدر کا خود پر یوں رعب جمانا بلکل پسند نہیں آیا تھا ’’
’’ اور تم جو حرکتیں کر رہی ہو میرے آفس میں میری نظروں کے سامنے اسکے بارے میں کیا خیال ہے تمہارا ?
’’ وہ اسکے بازو پر اپنی گرفت سخت کرتا ہوا بولا’’
’’ میں کچھ بھی کروں تمھیں اس سے کیا پرابلم ہے اور اگر اتنی ہی پرابلم ہوتی ہے تو مجھ پر نظریں رکھنا چھوڑ دو ’’
’’ منال اسکی سخت پکڑ سے اپنا بازو آزاد کرا کر اسکو سہلاتی ہوئی بولی تھی جو اسکی پکڑ سے درد کر رہا تھا ..
’’ مجھے پرابلم ہے کیونکہ بیوی ہو تم میری ..
اگر آئندہ میں نے تمھیں یوں اس طرح سے غیر مرد سے ہنس ہنس کے بات کرتے ہوئے دیکھ لیا تو تمہارے لئے بلکل اچھا نہیں ہوگا ’’
’’ وہ وارن کرنے کے انداز میں بولا جبکہ منال کا خون کھول اٹھا تھا اسکی بات پر ’’
’’ تم ہوتے کون ہو مجھ پر حکم چلانے والے .
میری مرضی میں کسی سے بھی بات کروں کسی کے گھر جاؤں یا کسی کو اپنے گھر بلاؤں ..
’’ یا پھر کسی سے مح..
اس سے پہلے کے وہ مزید غصّے میں کچھ الٹا سیدھا بولتی حیدر نے ہاتھ بڑھا کر اسکی نازک گردن کو جکڑا اور اسکو دیوار سے لگا چکا تھا ’’
’’ غصّے سے اسکی آنکھیں بہت سرخ ہو چکی تھی ’’
’’ جبکہ اسکے اس طرح سے کرنے پر منال کی زبان کے ساتھ سانس بھی رکتا ہوا محسوس ہو رہا تھا ..
’’ وہ پھٹی پھٹی آنکھوں سے اپنی گردن اسکی پکڑ سے آزاد کرانے کی کوشش کر رہی تھی ..
’’ تم میری بیوی ہو اور محبت بھی صرف مجھ سے کروگی ..
اس لئے میرے سامنے فالتو بکواس کرنے کی کوشش مت کرنا ’’
’’اس نے منال کی گردن کو اپنی مضبوط پکڑ سے آزاد کیا تھا ’
’’ تمہارا دماغ خراب ہو گیا ہے مارنا چاہتے ہو تم مجھے ’’
’’ منال بری طرح کھانستی ہوئی اسکی طرف دیکھ رہی تھی اسکی حرکت سے ایسا لگ رہا تھا کہ وہ اسکی جان لیکر ہی رہے گا ’’’
’’ مارنے کا نہیں تمھیں خاموش کرنے کا طریقہ تھا
وہ پانی کا گلاس اسکی طرف بڑھاتا ہوا بولا جسکو منال نے ہاتھ مار کر زمین پر گرایا تھا ’’
’’ اسکی حرکت پر حیدر اپنا غصّہ ضبط کرکے رہ گیا تھا ’
’’ تمھیں کیا لگتا ہے تمہارے ایسا کرنے میں خاموش ہو جاؤ گی ..
نہیں میں بولوں گی اور بولوں .
اسکو بھی غصّہ آیا تھا ’’
’’ ٹھیک ہے پھر میرے پاس اور بھی طریقے ہیں تمھیں چپ کرنے کے لئے جو یقیناً تمھیں پسند نہیں آئے گے..
وہ ٹیبل سے فائل اٹھا کر اک نظر اسکو دیکھتا آفس سے نکل گیا تھا ’
اسکی میٹنگ تھی ورنہ وہ اسکو اور اچھی طرح سے سمجھاتا …
’’ تم نے میرے ساتھ یہ حرکت کر کے بلکل اچھا نہیں کیا ہے حیدر علی ’’
’ میں نے تمھیں بھی خاموش نہ کروا دیا تو میرا نام بھی منال حیدر علی نہیں ’’
وہ غصے میں خود کو حیدر کے ساتھ جوڑ چکی تھی اور اسکو خبر بھی نہیں ہوئی تھی ’’
💕💕
’’ ہاں بولو کیا خبر ہے ’’
یاسر صاحب کال پک کرتے ہی بولے تھے انکے لہجے میں اس وقت بےچینی تھی ’’
’’ یہ تو بہت اچھی خبر سنائی ہے تم نے ..
’’اب تم جانتے ہی کہ آگے کیا کرنا ہے
’’ اپنے خاص آدمی کی بات سن کر انکے چہرے پر مسکراہٹ آئی تھی ’’
’’ اسکا مجھے نہیں پتہ بس مجھے کل میری بیٹی اپنی نظروں کے سامنے چاہئے ’’
’’ اور ہاں میں اس کام میں ذرا بھی غلطی برداشت نہیں کرونگا ’’
’’ وہ سامنے والے کی بات سن کر وارن کرنے والے انداز میں بولے اور اپنی بات کہہ کر فون کٹ کر دیا تھا ’’
’’ آج اتنے دن بعد انہیں خوشی کی خبر ملی تھی اب بس انہیں کل کا انتظار تھا جب انکی بیٹی انکے نظروں کے سامنے ہوگی ’’
’’ وہ مطمعین انداز میں اپنی جگہ پر آ بیٹھے تھے بس ایک بار انکی بیٹی مل جائے پھر آگے کا انہیں بعد میں سوچنا تھا ’’
💕💕
(جاری ہے )
