103.8K
25

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 2

” ‘ سنسان سڑک پہ اسکی کار تیز رفتار سے ڈور رہی تھی
کار کی تیز رفتار کے ساتھ ساتھ اسکی سوچیں بھی اتنی تیزی سے اسکے دماغ میں چل رہی تھی .
” جو نفرت وہ اتنے سالوں سے اپنے دل میں رکھتا آیا تھا
کیا وہ اسکو قائم رکھ پایں گا۔
” ‘ کیا وہ اپنے دل میں اسکے لئے نفرت اور محبت دونوں جذبات ایک ساتھ رکھ سکے گا …
” یہاں واپس آنے سے پہلے کبھی اس نے ایسا نہیں سوچا تھا “
‘ ” مگر آج اسکو اتنے قریب سے دیکھنے کے بعد وہ دس سال پہلے والا کاوش بن گیا تھا ..
‘ ” جسکے دل میں اپنی رضوا کے لئے صرف محبت تھی صرف محبت …
‘ ” اس وقت نفرت تو دور کی بات تھی وہ اس سے اونچی آواز میں بھی بات نہیں کرتا تھا ..
‘ “آج اسکو صرف ایک بار دیکھنے کے بعد اسکو خود کے احساسات پر قابو رکھنا مشکل لگ رہا تھا ..
” “”نہیں مجھے اس سے نفرت ہے ..
‘ ” اس گھر کے ہر ایک فرد سے نفرت کرتا ہوں میں
اگر آج میں یہاں موجود ہوں تو صرف اس وعدے کی وجہ سے ..
‘”” اس نے جیسے اپنے دل کو سمجھایا تھا “
‘ ” اس نے کار ایک جھٹکے میں اپنی خالہ کے گھر کے آگے روکی تھی ..
‘ ” ویسے تو اس نے یہاں بھی اپنے لئے گھر خرید لیا تھا مگر نمرہ خالہ کی ضد پہ وہ انکے پاس رک گیا تھا”
‘ “کار سے نکل کر وہ تھکے ہوئے قدموں سے اندر داخل ہوا تھا ..
اس وقت وہ اپنی سوچوں اور سفر کی وجہ سے بہت تھک چکا تھا ..
“” اور وہ فلحال سکون کی نیند چاہتا تھا جو شاید آج آنی مشکل تھی ..
” ‘ کہاں سے واپس آ رہے ہو اس وقت ..
وہ جب اپنے کمرے کی طرف بڑھ رہا تھا اپنے پیچھے اسکو منال کی آواز سنائی دی تھی ..
” وہ حیران ہوا تھا اسکے اتنی دیر تک جاگنے پر ..
‘ ” تمہیں سب معلوم تو ہے یہاں تک کہ میرے یہاں واپس آنے کا مقصد بھی ..
” اسکے بعد بھی پوچھ رہی ہو ..
‘ ” وہ بغیر اسکی طرف پلٹے بولا ..
‘ ” ہاں معلوم ہے بس تمہارے منہ سے سننا چاہتی تھی ..
‘ ” دیکھ آئے اسکو یا بغیر دیکھے ہی واپس آ گئے ہو..
” وہ اسکی پشت کو دیکھتی ہوئی بولی اور ایک قدم اسکے قریب ہوئی تھی ..
‘ ” تم میرے ساتھ کم ہی رہی ہو اس لئے مجھے اچھی طرح سے نہیں جانتی .
جب میں کوئی کام کرنے کا سوچتا ہوں تو اسکو پورا کرکے ہی واپس آتا ہوں ..
” ‘ اس بار اس نے اپنا رخ اسکی جانب کیا تھا ..
اس وقت اسکی آنکھیں لال ہو رہی تھی
اسکی لال آنکھیں دیکھ کر اک پل کے لئے تو منال کو اس سے خوف سا محسوس ہوا تھا “
‘ ” اففف یار تم پھر شروع ہو گئے میں مذاق کر رہی تھی …
مجھے بہت اچھے سے معلوم ہے کہ کاوش حسن کیا چیز ہے اس لئے اپنا یہ رعب مجھے مت دکھایا کرو ..
” ” وہ چیڑی تھی اسکا جواب سن کر “
“اسکی شکل دیکھ کر ایسے موڈ میں بھی کاوش کے چہرے پہ مسکراہٹ آئی تھی ..
‘ ” اگر اسکے لئے اس دنیا میں کوئی عزیز تھا تو وہ منال اور نمرہ خالہ ہی تھی …
‘ ” اچھا مجھے تم یہ بتاؤ اب تک کیوں جاگ رہی تھی تم سوئی کیوں نہیں وقت دیکھا ہے کیا ہو رہا ہے
‘ ” اس نے اسکو وقت یاد دلایا تھا “
‘ ” اسکی بات پہ منال ایک پل کے لئے تو خاموش ہو گئی تھی .
وہ اسکو کیا بتاتی کہ اتنی دیر تک جاگنا تو اب اسکی عادت بن چکی تھی ..
‘ ” کچھ نہیں میں نے تمھیں باہر جاتے ہوئے دیکھا تو تمہاری واپسی کا انتظار کر رہی تھی ..
‘ ” اچھا اب تم بھی سونے جاؤ اگر امی اٹھ گئی نہ تو پھر انکے سوال شروع ہو جائے گے …
‘ ” وہ تھوڑا شرارتی انداز میں بولی تو کاوش بھی مسکراتا اپنے روم میں گھس گیا تو وہ بھی اپنے کمرے میں آ گئی تھی ..
‘ “اک نظر اپنے بیڈ پر رکھی تصویر کو دیکھ کر پھر سے اسکو اپنی گود میں لیکر بیٹھ گئی تھی …
” اب صرف وہ تھی اور اسکی باتیں تھی …
💕💕
” ‘ اسکو یونی آتے ہوئے ایک ہفتہ ہو چکا تھا اور اس ایک ہفتے میں وہ کچھ حد تک خود کو ایڈجسٹ بھی کر چکی تھی ..
‘ ” مگر اس نے اب تک کوئی دوست نہیں بنایا ..
کلاس میں بھی سب سے الگ اور خاموشی سے بیٹھی رہتی تھی …
‘ ” بس پروفیسر کے لیکچر غور سے سنتی تھی باقی اسکو کیسی سے کوئی مطلب نہیں تھا۔
” لیکن جو بھی تھا وہ اپنے بھائی کے کہنے پہ اپنی پوری کوشش کر رہی تھی ..
‘ ” آج یونی آنے کے بعد اسکو معلوم ہوا کہ اسکے سائیکالوجی کے پروفیسر چینج ہو گئے ہیں ..
مگر اسکو اس بات سے بھی کوئی فرک نہیں پڑا تھا ۔
‘ ” وہ عام لوگوں کی طرح سے چھوٹی چھوٹی باتوں پہ ری ایکٹ نہیں کرتی تھی .
‘ ” ہیلو سٹوڈنٹس میں آپکا نیا پروفیسر ہوں کاوش حسن ..
.. جیسا کہ آپ سب جانتے ہے آج میرا پہلا دن ہے تو آپ سب لوگ اپنا اپنا تعرف کروائں ۔
تاکہ میں آپ سب کے نام معلوم ھو جایں ..
‘ ” وہ اپنی سوچوں میں اس قدر گم تھی کہ جب اک آواز نے اسکا دھیان اپنی طرف کھینچا تھا ..
” ‘ اگر وہ اپنی سوچوں میں اس قدر گم نہ ہوتی تو یقینن نام سن کر ضرور چونک جاتی مگر ایسا نہی ہوا تھا …
‘ ” رضوا نے جیسے ہی سامنے دیکھا تو وہ پہلے ہی اسکو اپنی نظروں کے حصار میں لئے ہوئے تھا ..
‘ ” اسکے دیکھنے پر رضوا کو ایسا احساس ہوا جیسے کہ وہ کسی برفیلے علاقے میں پہنچ گئی ہو .
” اس قدر سرد مہری تھی مقابل کی آنکھوں میں ..
” اس کے بدن میں اک عجیب سے لہر ڈور گئی تھی…
” جس کی وجہ وہ خود بھی نہ سمجھی تھی ..
‘ ” اسکی آنکھوں میں اپنے لئے اجنبیت دیکھ کر مقابل نے اسے اپنی نظروں کے سحر سے آزاد کیا اور اپنا رخ دوسرے سٹوڈنٹس کی طرف کیا تھا “
” ‘ اسکی بات پر ایک ایک سٹوڈنٹ نے اپنا تعرف کرانا شروع کیا تھا ..
” مگر وہ اس بات سے بےنیاز گردن نیچے کئے بیٹھی رہی تھی …
‘ ” اسکو کوئی مطلب نہیں تھا کسی سے نہ انکے نام سے ..
‘ “مس آپ اپنا تعرف نہیں کروائں گی ?
‘ ” وہ اسکے سیٹ کے پاس آکر اس سے مخاطب ہوا تھا .
‘ ” اسکی آواز اپنے اتنے قریب سن کر رضوا نے فورا اپنا چہرہ اوپر کیا تو اسکے اپنے سامنے کھڑا دیکھ کر وہ اپنی سیٹ سے کھڑی ہوئی تھی ..
‘ ” ووہ ….میں ….میرا …
‘ “سر کو اپنے اتنے قریب دیکھ کر پتہ نہیں کیوں اس سے کچھ بولا ہی نہیں جا رہا تھا ..
” اک عجیب سی حالت ہو رہی تھی اسکی ..
” جبکہ وہ اسکے سامنے کھڑا خاموش نظروں سے اسکو دیکھ رہا تھا “
‘ ” میرا نام رضوا یاسر علی …
‘ ” یہ تین لفظ وہ بامشکل بول پائی تھی ..
‘ ” اسکے منہ سے پورا نام سن کر مقابل کے ماتھے پر یکدم سے بل پڑے گئے تھے ..
‘ ” اگر وہ اک پل کے لئے بھی نظریں اٹھا کر اپنے سامنے کھڑے شخص کو دیکھ لیتی تو یقینن اسکے خوف میں اضافہ ہو جاتا ..
‘ ” ٹھیک ہے بیٹھ جایں آپ …
وہ اسکو بیٹھنے کا اشارہ کرتا واپس اپنی جگہ پر آیا
اور پھر ان لوگوں کو سمجھانا شروع کر چکا تھا ..
‘ ” اسکے جانے کے بعد رضوا سکون سے اپنی جگہ پہ بیٹھ گئی تھی .
لیکن خود پہ کسی کی نظروں کی تپیش لگاتار محسوس کر رہی تھی ..
‘ ” اس نے ڈرتے ڈرتے اپنے چہرہ اوپر کرکے دیکھا مگر کوئی اسکو دیکھتا ہوا نظر نہیں آیا تھا ..
‘ ” اب اسکو اس وقت کلاس میں بیٹھنا بھی مشکل لگ رہا تھا ..
‘ ” جیسے ہی کلاس ختم ہوئی وہ بغیر کسی کی طرف دیکھے وہاں سے نکلی …
‘ ” اس بات سے انجان کہ کاوش کی نظروں نے دور تک اسکا پیچھا کیا تھا “”
” میری بلبل “”
وہ اسکی پشت دیکھ کر خود میں بولا تھا “
💕💕
” ‘ وہ تیز تیز قدم اٹھاتی اپنے آفس جا رہی تھی ..
” آج اسکی جاب کا پہلا دن تھا اور وہ پہلے ہی دن اتنا لیٹ ہو گئی تھی ..
‘ ” اتنی مشکل سے تو اسکو یہ جاب ملی تھی
پچھلے پانچ مہینوں سے وہ جاب کی تلاش میں جانے کتنی ہی کمپنی میں انٹرویو دے چکی تھی ..
‘” مگر ہر طرف سے اسکو مایوسی ہی ملی تھی ..
لیکن وہ بھی ضدی تھی …
اس نے سوچ لیا تھا کہ اپنی کوشش کم نہیں کرے گی ..
‘ ” ابھی دو دن پہلے ہی اسکے سلیکٹ ہونے کی کال آئی تھی ..
اس وقت وہ کتنی خوش تھی وہ اپنی خوشی لفظوں میں بیان نہیں کر سکتی تھی ۔
” “ایسا نہیں تھا کہ جاب کرنا اسکی مجبوری تھا یا اسکو بہت ضرورت تھی ..
بس یہ اسکی خوائش تھی ..
‘ ” ورنہ آج تک انکا سارا خرچ کاوش ہی اٹھاتا تھا بلکہ وہ تو منال کو اپنی کمپنی میں جاب بھی اوفر کر چکا تھا ..
‘ ” مگر اس نے یہ کہہ کر منع کر دیا کہ وہ خود سے کچھ کرنا چاہتی ہے ویسے بھی وہ آج تک بہت کچھ کرتا آیا تھا ان لوگوں کے لئے اب اسکی باری تھی ..
‘ ” اسکے اس جواب پہ نمرہ بیگم کے ساتھ کاوش بھی خاموش ہو گیا تھا ..
‘ ” دونوں جانتے تھے وہ منال تھی اپنے آگے کسی کی نہ سننے والی …
‘ ” اس نے اس کمپنی کا بہت نام سنا تھا اسکو تو بلکل امید نہیں تھی کہ وہ لوگ اسکو سکیٹری کے لئے سلیکٹ کر لیں گے …
” ‘ جو بھی تھا اسکے لئے تو سب اچھا ہو گیا تھا اب اسکے پاس بھی جاب تھی ..
” ‘ وہ کمپنی کے آگے آکر اک پل کے لئے رکی اور اک نظر اس شاندار عمارت کو دیکھ کر اندر داخل ہوئی تھی ..
” ‘وہاں سے وہ اپنے روم کے بارے میں معلوم کر کر کے تیزی سے اپنے کیبن کی ترف بڑھی تھی ..
اتنی دیر سے چلتے چلتے اسکا سانس بری طرح پھول چکا تھا ..
” ‘ وہ اپنا حجاب ٹھیک کرتی اگر بڑھ ہی رہی تھی کہ سامنے سے آتے سخص سے بری طرح سے ٹکرائی تھی ..
” ‘ اس سے پہلے کے وہ اس ٹکر لگنے کی وجہ سے زمین پر گرتی سامنے والے نے بڑی ہی فرتی سے اسکی کمر میں ہاتھ ڈال کر اسکو گرنے سے روکا تھا …
” ‘ آنکھوں کھول لو گری نہیں ہو تم ..
” ‘ منال جو گرنے کے ڈر سے آنکھیں بند کر چکی تھی خود کو کسی کے حصار میں محسوس کر کے اس نے اپنی آنکھیں یکدم سے کھولی تھی ..
” ‘ مگر آنکھیں کھولتے ہی جس شخص کا چہرہ نظر آیا اک پل کے لئے تو وہ یونہی اسکو دیکھتی رہ گئی تھی …
” ‘ یہ چہرہ …ہاں یہ چہرہ کیسے بھول سکتی ہے وہ..
اس چہرے نے اسکی زندگی کی خوشیاں چھین لی تھی …
” ‘جیسے سب یاد آنے کے بعد اسکی آنکھوں میں ڈر کی جگہ نفرت نے لے لی تھی ..
” ‘ چھوڑو مجھے ہمت کیسے ہوئی تمہاری مجھے ہاتھ لگانے کی ..
اس نے بےدردی سے اسکا ہاتھ اپنی کمر سے ہٹایا اور دو قدم اس سے دور ہوئی تھی ..
” ‘ جبکہ سامنے والا اسکی اس حرکت سے حیران ہوا تھا ..
” اک تو تمھیں گرنے سے بچایہ اور تم الٹا مجھ پر ہی غصّہ ھو رہی ہو دماغ تو ٹھیک ہے مس …
” اسکو بھی غصّہ آیا تھا اسکے اس طرح سے کرنے پر اک تو اسکی غلطی تھی اوپر سے اسکو ہی کچھ کچھ کہہ رہی تھی …
” ” تم …….تم جیسے لڑکوں کو میں بہت اچھی طرح سے جانتی ہوں ..
بس یہی تو کام ہوتا ہے تم جیسے لوگوں کا …
” اسکے لہجے میں مقابل کے لئے نفرت تھی ..
” ‘ اسکا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ اسکا قتل ہی کر دیتی ..
” ‘ تم کن لڑکوں کے بارے میں بات کر رہی ہو یا تم کتنے لڑکوں کو جانتی ہو مجھے اس سے کوئی فرک نہیں پڑتا …
” ‘ پر میں حیدر علی تمھیں اس بات کی بلکل اجازت نہیں دوں گا کہ تم میری ہی کمپنی میں کھڑی ہوکر مجھے کچھ بھی غلط کہو …
” میں اک منٹ میں تمھیں یہاں سے باہر نکلوا سکتا ہوں …
” ‘ وہ بھی کہاں چپ رہنے والا تھا جب بولا تو منال کی بولتی بند کرا چکا تھا …
” ‘ اسکے منہ سے مالک لفظ سن کر وہ اپنی جگہ کھڑی کی کھڑی رہ گئی تھی …
” ‘ سر آپ ابھی تک یہیں ہیں آپکے ڈیڈ میٹنگ شروع کر چکے ہیں جلدی کریں ..
وہ دونوں کھڑے اک دوسرے کو گھور رہے تھے جب اسکا مینجر اسکے پاس آیا تھا ..
‘ ” حیدر کا ارادہ تو بہت کچھ تھا اسکو سنانے کا مگر وہ میٹنگ کے لئے لیٹ نہیں ہو سکتا تھا اس لئے اک نظر اسکی ترف دیکھ کر تیزی سے آگے بڑھا تھا ..
” جبکہ منال وہیں کھڑی کی کھڑی رہ گئی تھی یہ کیسا کھیل کھیلا تھا قسمت نے اسکے ساتھ …
جس شخص کی وہ شکل تک دیکھنا نہیں چاہتی تھی آج اسی کے آفس میں کھڑی تھی ..
💕💕
“” کہاں جانے کی تیاری چل رہی ہے ..
یاسر صاحب جب اپنے روم میں داخل ہوئے تو ڈریسنگ کے سامنے کھڑی اپنی تیاری کرتی یسرا بیگم سے مخاطب ہوئے تھے …
” ‘ میری دوست کی بیٹی کی شادی ہے کل اس لئے وہیں جانے کی تیاری کر رہی ہوں ..
” شہر سے باہر جا رہی ہوں تو دو تین دن میں واپسی ہوگی میری ..
” انہونے مصروف سے انداز میں انکو جواب دیا تھا جبکہ انکے جواب سے یاسر صاحب کے ماتھے پر بل پڑ گئے تھے …
” ‘ ابھی تمھیں واپس آئے ہوئے ایک ہفتہ نہیں ہوا ہے اور پھر سے دو تین دن کے لئے جا رہی ہو …
اور یہ کونسی دوست کی بیٹی کی شادی ہے اسکے بارے میں پہلے تو تم نے مجھے کچھ نہیں بتایا ..
” ‘انکا لہجہ سخت ہوا تھا ..
” آپ گھر میں رہو گے تو آپسے بات ہوگی نہ اور اب بتا دیا ہے آپکو اس میں اتنا غصّہ ہونے والی کیا بات ہے .
” یسرا بیگم نے بھی تڑخ کر انکو جواب دیا تو انکے اس انداز پہ یاسر صاحب اپنا غصّہ ضبط کرکے رہ گئے تھے..
” ‘ میں تو گھر میں رہتا ہوں مگر شاید تم گھر میں رہنا بھول گئی ہو …
آج یہاں تو کل وہاں گھومتی رہتی ہو ..
کبھی گھر کو اور ہمیں وقت دو …
” ‘ انہونے اپنے لہجے کو تھوڑا نرم کیا تھا جانتے تھے اگر دونوں ہی غصّہ کریں گے تو بات کرنا مشکل ہو جائے گا اور ہر بار کی طرح انکی بات لڑائی پہ ہی ختم ہوگی..
” ‘ پہلی بات میں کہیں گھومنے نہیں جا رہی ہوں شادی میں شرکت کرنے جا رہی ہوں ..
اور دوسری بات مجھسے نہیں رہا جاتا گھر میں قید ہو کر تم یہ بات بہت اچھی طرح سے جانتے ہو یاسر
تو اس لئے مجھے مت روکا کرو …
” ‘ انکا لہجہ ابھی بھی ویسا ہی تھا اور یاسر صاحب کو اب خود پر کنٹرول کرنا مشکل لگ رہا تھا .
” مگر وہ کر بھی کیا سکتے تھے یہ انکے کئے کی ہی سزا تھی جو انہیں اب برداشت کرنی تھی …
” ‘ میں نے آج تک تمھیں کبھی نہیں روکا ہے یسرا عار نہ کبھی روکوں گا …
پر میں بس تم سے اتنا چاہتا ہوں کہ تم تھوڑا سا وقت رضوا کو دیا کرو ..
” ‘ اسکے پاس رہو
اس سے باتیں کرو یہ جاننے کی کوشش کرو کہ وہ اتنی خاموش اور ڈری ہوئی کیوں رہتی ہے ..
” وہ چل کر انکے قریب آئے تھے اور بہت پیار سے انکو اپنی بات سمجھائی .
” ‘ یاسر میں پہلے بھی کہہ چکی ہوں اور اب بھی کہتی ہوں ..
مجھے نہیں جاننا کچھ اور نہ کسی کا خیال رکھنا ہے
وہ تمہارے بچے ہیں انکا خیال تم خود رکھو ..
” ‘ میں نے یہ بات بہت وقت پہلے بھی تم سے کہہ دی تھی ..
مجھسے تم کسی بھی قسم کی امید مت رکھنا کہ میں انکو سگی ماں کی ترح محبت کروں گی ..
” ‘ میں تمہارے گھر میں اتنے سال تک تمہارے بچوں کے ساتھ رہتی آئی ہوں یہ ہی بہت ہے تمہارے لئے ..
” ‘ وہ اک اک لفظ چبا چبا کر بول رہیں تھی اور یاسر صاحب بس خاموش کھڑے انکے چہرے کو دیکھ رہے تھے ..
” ‘ اچھا میں چلتی ہوں تم اپنا خیال رکھنا ..
وہ اک نظر خاموش کھڑے یاسر صاحب کو دیکھ کر کمرے سے نکل گئی تھی …
” ‘ وہ بس انکو جاتا دیکھتے رہے تھے ..
اک لفظ نہیں تھا انکے پاس کہنے کے لئے اور کہتے بھی کیوں ووہ صحیح ٹو کہہ رہی تھی ..
غلطی تو انکی تھی انہونے یسرا سے امید رکھی ہوئی تھی ..
” ‘ بلکہ انکے ساتھ جو بھی کچھ ہو رہا تھا انکی خود کی غلطیوں کی وجہ سے ہو رہا تھا .
” اور اب پچھتانے کے علاوہ وہ اور کر بھی کیا سکتے تھے …
💕💕
(جاری ہے )