103.8K
25

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 18

‘ ” صبح اسکی آنکھ عجیب سے احساس سے کھلی جیسے کوئی اسکو بھینچ رہا ہو ..
منال کو اپنا سانس رکتا ہوا سا محسوس ہوا تو اس نے اپنی پوری آنکھیں کھول کر وجہ معلوم کرنی چاہی تھی ”
” آنکھ کھلتے ہی اسکی سب سے پہلی نظر حیدر پر پڑی جو اسکو مکمل اپنی قید میں لئے ہوئے سو رہا تھا “
” اسکو شرٹ لیس دیکھ کر منال ایک جھٹکے میں خود کو اسکی گرفت سے آزاد کر کر تھوڑا فاصلے پر جا بیٹھی تھی ”
” حیدر کے چہرے کو دیکھ کر رات کا سارا منظر اسکی آنکھوں کے سامنے گھوم گیا تھا ”
”ی سب کیا ہو گیا تھا ”
”اس نے ایسا کچھ نہیں چاہا تھا مانا کہ وہ غلط تھی اور رات اپنی اسی غلطی کی معافی اس سے مانگ رہی تھی
‘ مگر اس نے یہ شادی صرف بدلہ کے لئے کی تھی جب کوئی بدلہ نہیں تو اس رشتے کا بھی کوئی مطلب نہیں تھا ”
” یہ شخص اسکی بہن کی محبت تھا تو وہ کیسے ..
یہ سب سوچتے ہی منال کی آنکھوں سے آنسوں بہنا شروع ہو گئے تھے ”
”اور جب حیدر کو معلوم ہوگا کہ وہ ایشا کی بہن ہے تو تب کیا ہوگا ?
“اس لئے ہی تو وہ اس رشتے کو آگے نہیں بڑھانا چاہتی تھی مگر ..
” اس نے اپنی سسکی کو ضبط کرنا چاہا مگر کر نہیں پائی تھی “
” اس وقت وہ خود کو بہت بڑی مشکل میں پھنسا ہوا محسوس کر رہی تھی “
‘ وہ اپنی پوزیشن سے بےخبر بیڈ پر بیٹھی روۓ جا رہی تھی ‘
‘ ‘ حیدر جو آرام سے سو رہا تھا اسکی سسکی کی آواز پر ہلکا سا کسمسایا تھا مگر مسلسل آتی آوازوں پر اس نے اپنی نیند سے بوجھل آنکھیں بمشکل کھولی تھی “
” اسکے پہلے تو کچھ سمجھ نہیں آیا مگر جیسے ہی اسکی نظر روتی ہوئی منال پر پڑی تو وہ گھبرا کر اٹھ بیٹھا تھا ”
”منال کیا ہوا کیوں رو رہی ہو تم ?
“وہ اسکے قریب ہوا تھا منال کو اس طرح سے روتا دیکھ کر اسکی نیند ایک پل میں اڑی تھی “
‘ ” لیکن منال تو اسکی سن ہی نہیں رہی تھی “
”منال کیا ہوا یار “
اس نے منال کے چہرے پر رکھے ہاتھوں کو ہٹایا تھا
وہ پریشان ہوا تھا کہ پتہ نہیں کیا ہو گیا اسکو “”
“‘ دور رہو مجھ سے ..ہاتھ مت لگانا “
اس نے حیدر کے ہاتھوں کو بری طرح سے جھٹکا تھا ‘
جبکہ اسکے اس طرح سے کرنے پر حیدر کے ماتھے پر بل پڑ گئے تھے “”
‘” مجھے بتاؤ گی بھی کیا ہوا ہے صبح صبح کس بات کا رونا ڈالا ہوا ہے تم نے ‘
“اس نے منال کی دونوں کلائی کو سختی سے پکڑا تھا “”
” ‘ سب کچھ کرنے کے بعد پوچھ رہے ہو کیا ہوا ہے بہت ہی بدتمیز انسان ہو تم “
‘منال روتی ہوئی بس بولتی چلی جا رہی تھی جبکہ ساری بات سمجھ آ جانے پر حیدر کی مسکراہٹ گہری ہوئی تھی “
‘” تم تو ایسے ری ایکٹ کر رہی ہو جیسے میں کوئی غیر ہوں شوہر ہوں تمہارا “
‘اور ویسے بھی رات تم خود میرے قریب آئی تھی تو میں اتنا اچھا موقع کیسے چھوڑ سکتا تھا “
‘ وہ اب اسکو چھیڑنے کے موڈ میں تھا “”
“‘ میں بس اپنی غلطی کی معافی مانگ رہی تھی اسکا ہرگز یہ مطلب نہیں تھا کہ تم اپنی حد ہی پار کر دو ..
“مانا کہ میں بھی غلط ہوتی ہوں مگر تم بھی ٹھیک نہیں ہو تم نے میرے ساتھ زبردستی “
“‘منال کی چلتی زبان کو یکدم سے بریک لگا تھا کیونکہ حیدر بڑی ہ دلچسپی سے اسکو دیکھ رہا تھا “
“بس اتنی سی بات کے لئے اتنا رونا ..
ویسے میری قسمت ہی خراب ہے اتنی حسین رات کی ایسی صبح ہوئی ہے “
“‘ اس نے منال کو کھینچ کر اپنی قریب کیا تھا ..
اسکی بات سن کر رضوا کا چہرہ شرم سے لال ہوا تھا
” ‘ ویسے مجھ لگا کہ رات میری محبت میں تمھیں کوئی کمی لگی اس لئے رو رہی ہو ..
”اگر ایسی بات ہے تو میں تمہاری یہ شکایات بھی ابھی دور کر دیتا ہوں “
‘” وہ پھر سے رات والے موڈ میں آ چکا تھا “
‘ ” میں نے کہا نہ کہ دور رہو مجھ سے اور آئندہ میرے قریب مت آنا ..
وہ خود کو اسکی پکڑ سے آزاد کرنے کی کوشش کرتی ہوئی بولی تھی “
‘” اتنے قریب آکر پھر سے دور جانا تو اب ممکن نہیں ہے میرے لئے بیگم ..
اب تو ہر دن رات تمہارے قربت میں گزارنا چاہتا ہوں “
‘” وہ اسکی کمر کے گرد بازو حائل کرتا خود سے مزید قریب کر چکا تھا “
‘”اسکی اور اپنی پوزیشن کا خیال آتے ہی منال کی سنسیں بےترتیب ہوئی تھی ..
اسکے جسم کی گرماہٹ سے منال کے ماتھے پر پسینہ جما ہو چکا تھا “
“‘ حیدر پلز مجھے پریشان مت کرو “
‘” اسکے لبوں کا لمس اپنے کان کی لؤ پر محسوس کر کے منال اسکی پکڑ میں بری طرح مچل رہی تھی “
‘” مگر حیدر تو جیسے اسکی سن ہی نہیں رہا تھا
ایک ایک کر کے وہ اسکے چہرے کے نکوش کو چومنے لگا تھا
اسکی باہوں میں اسکی بیوی تھی اسکی محبت “
”حیدر میں نے کہا نہ کہ دور رہو ”
اسکو رکتا ہوا نہ دیکھ کر منال نے اسکو زور سے دھکا دیکر خود سے دور کیا اور جلدی سے بیڈ سے اٹھ کر واشروم میں چلی گئی تھی ‘”
‘” جبکہ حیدر وہیں بیڈ پر بیٹھا اسکے رویہ کو غور کرتا رہ گیا تھا “
‘وہ سمجھ نہیں پا رہا تھا کہ وہ ایسا کیوں کر رہی ہے ‘
💕💕
‘ ‘ میری سمجھ نہیں آ رہا ہے یاسر آخر تم حیدر کو بٹ کیوں نہیں دیتے کہ رضوا کہاں ہیں ‘
” کیا پتہ یہ سب جاننے کے بعد وہ تمہاری بات ماننے کے لئے تیار ہو جائے ”
”یسرا یاسر صاحب کو دیکھ کر بولی جو پچھلے آدھے گھنٹے سے مسلسل ادھر سے ادھر ٹہل رہے تھے ‘
”وہ خود تو پریشان رہتے تھے ساتھ میں انکو بھی کیا ہوا تھا”
”وہ تھک چکی تھی انکی روز روز کی باتوں سے ”
”تمہارا دماغ خراب ہو گیا ہے یسرا ..
‘ ‘ جانتی بھی ہو تم کیا کہہ رہی ہو ‘
” حیدر سب سچ بتا کر میں اپنے بیٹے کو کھونا نہیں چاہتا
کیونکہ مجھے انداز ہے اگر حیدر کو رضوا کے بارے میں معلوم ہو گیا تو اسکو میرے بارے میں بھی سب معلوم ہوتا چلا جائے گا ”
” اس لئے میں نہیں چاہتا کہ حیدر کو کچھ بھی معلوم ہو اسکے کچھ بھی پتہ چلنے سے پہلے مجھے رضوا کو واپس لانا ہے ”
”اور پھر اسکو اس رشتے سے بھی جلد آزاد کروا دوں گا ”
”یاسر صاحب کا شاطر دماغ بہت تیزی سے کام کر رہا تھا”
” لیکن یسرا تو کچھ اور ہی چاہتی تھی “
وہ چاہتی تھی کہ حیدر کو سب معلوم ہو جائے اسکا باپ اسکی ماں کے ساتھ کیا کر چکا ہے ‘
”ان دونوں باپ بیٹے کے بیچ نفرت پیدا ہو جائے اور پھر دونوں ایک دوسرے کے شکل تک دیکھنا پسند نہ کریں اسکے باپ وہ حیدر کو اس گھر سے نکلوا کر یہ ساری دولت اپنے نام کروا لیں گی ”
” اگر یاسر صاحب خودغرض تھے تو یسرا بھی ان سے کم نہ تھی ”
” اگر تم حیدر کو بتا دو کہ کاوش زبردستی رضوا کو لیکر گیا ہے تو شاید حیدر غصّے میں آکر وہ سب کرنے کے لئے تیار ہو جائے جو تم چاہتے ہو ”
” اس طرح منال اور کاوش کا قصّہ بھی ختم ہو جائے گا ”
”انہوں نے یاسر صاحب کو سمجھانا چاہا تھا اس سے انکا کام بھی آسان ہو جاتا ”
” پہلے میں نے بھی یہی سوچا تھا مگر حیدر اس لڑکی کی محبت میں اتنا دیوانہ ہو چکا ہے کی میں کچھ بھی کہہ لوں وہ نہیں کرے گا ”
”یاسر صاحب کو کچھ دیں پہلے والی حیدر کی بات یاد آئی تھی ”
”تو پھر اب کیا سوچا ہے تم نے ?
”انہوں نے یاسر کے آگے کے پلان کے بارے میں جاننا چاہا تھا “
” سوچنا پڑے گا اس کاوش حسن نام کی مصیبت سے سے چھٹکارہ کیسے مل سکتا ہے “
”وہ پرسوچ انداز میں بولے تو یسرا بس خاموشی سے انکو دیکھ کر رح گئی تھی “
💕💕
” وہ جیسے ہی کمرے میں داخل ہوئی تو کاوش کو بیڈ پر لیٹا دیکھ کر اسکے قدم ایک پل کے لئے رکے تھے ‘
‘ ‘ جب سے وہ لوگ یہاں آئے تھے کاوش تب سے صوفہ پہ ہی سوتا تھا ”
‘” اسکو اندازہ تھا تھا کہ رضوا کا ڈر اب تک ختم نہیں ہوا ہے.
اس لئے وہ اسکو سپیس دے رہا تھا ”
‘ ‘ مگر آج اسکو اپنی جگہ لیٹا دیکھ کر رضوا سوچ میں پڑ گئی تھی ”
‘ ‘ ارے تم وہاں کیوں کھڑی ہو یہاں آؤ ”
‘ ‘ کاوش کی نظر جب اس پر پڑی تو وہ اسکی طرف دیکھ کر بولا اور اپنے قریب آنے کا اشارہ کیا تھا ‘ ‘
” رضوا اپنا خشک پڑتا حلق تر کرتی بیڈ کی طرف بڑھی تھی اسکو اس وقت اپنا ایک ایک قدم بھاری پڑتا ہوا محسوس کر رہی تھی ”
” اسکا کاوش سے ڈر تو کم ہو گیا تھا مگر اسکی قربت سے وہ گھبرا جاتی تھی ”
” کاوش بیڈ پر لیٹا اسکے چہرے کے تاثرات سے اسکی اندر کی کیفیت کا اندازہ لگا سکتا تھا ”
” رضوا آہستہ سے قدم اٹھاتی بیڈ کے قریب آئی اور بیڈ پر ایک کونے میں آکر بیٹھ گئی تھی ”’
‘ ‘ قریب آکر بیٹھو نہ میں تمھیں کھا نہیں جاؤں گا ”
”کاوش اٹھ کر بیٹھا اور رضوا کا بازو کھینچ کر اسکو اپنے قریب کیا تھا ”
” اسکے کھینچنے پر رضوا نے خود کو اسکے اوپر گرنے سے بچایا اور سیدھی ہوکر بیٹھی گئی تھی ”
” وہ بنا اسکو کھائے بھی اسکی جان نکال سکتا تھا ”
” تم مجھ سے اتنا کیوں ڈرتی ہو رضوا ”
” کاوش نے پھر سے اسکے بالوں کو پونی سے آزاد کیا تھا اسکو رضوا کے کھلے بال بہت پسند تھے ”
” نہیں ایسی تو کوئی بات نہیں ہے “
‘وہ بہت آہستہ آواز میں بولی تھی
مگر اسکا دل تو کر رہا تھا کہ کہہ دیں کی اسکا رویہ اسکو ڈراتا تھا شروع میں کتنا برا کرتا تھا وہ اسکے ساتھ ”
” مگر کہیں وہ اسکی بات سن کر غصّہ نہ ہو جائے اس لئے خاموش رہنا بہتر لگا تھا اسکو ”
”اچھا اگر ایسی بات ہے تو مجھے بتاؤ تمھیں کل باہر جاکر کیسا محسوس ہوا ”
‘وہ اسکی لٹ اپنی انگلی پر لپیٹتا ہوا بولا ”
” کل وہ اسکے چہرے پر خوشی کو بہت اچھے سے محسوس کر سکتا تھا مگر پھر بھی اسکے منہ سے سب سننا چاہتا تھا”
” شاید یہ اس سے بات کرنے کا نیا طریقہ تھا اسکا ”
” اسکی بات سن کر رضوا کی نظروں کے سامنے کل کا منظر گھوم گیا تھا ”
”اسکے چہرے پر ایک خوبصورت سی مسکراہٹ آئی تھی “
”کل کا دن میری زندگی کا سب سے خوبصورت دن تھا میں ہمیشہ سے بھائی کے ساتھ ایسی جگہ پر جانا چاہتی تھی ..
”مگر بھائی کی مصروفیت کی وجہ سے کبھی موقع نہیں ملا”
” لیکن کل میرا خواب پورا ہو گیا آپکی وجہ سے ”
”وہ بولتی ہوئی کہیں کھو سی گئی تھی ”
” اور اپنے ڈیڈ انکے ساتھ نہیں جانا چاہتی تھی تم ”
”وہ اسکے بالوں سے آتی خوشبو کو اپنے اندر اتارتا ہوا بولا ‘
”جبکہ اپنے باپ کا ذکر آتے ہی رضوا کے چہرے کی مسکراہٹ یکدم سے غائب ہوئی تھی ”
”نہیں صرف بھائی کے ساتھ جانا چاہتی تھی میں ”
”اسکا لہجہ بلکل سپاٹ تھا اور کاوش اسکی سن کہاں رہا تھا وہ تو بس رضوا کو اپنے قریب محسوس کر رہا تھا
اگر وہ رضوا کی بات پر غور کر لیتا یقیناً حیران رہ جاتا ”
” میں نے تمہارے لئے اتنا کچھ کیا تم کیا کر سکتی ہو میرے لئے ”
کاوش نے شرارت سے کہتے ہوئے اسکی لٹ کو کھینچ کر اسکو اپنے اوپر جھکایا تھا ”
” میں ..میں کیا کر سکتی ہوں آپکے لئے ”
”وہ اپنے لب چباتی کنفیوز سی بولی ‘
وہ اب کیا چاہ رہا تھا اس سے وہ سمجھ نہیں پا رہی تھی ”
” سب تو اب تمہارے ہی ہاتھ میں ہے ”
وہ اسکے رخسار کو نرمی سے چھوتا ہوا بولا ..
اسکے لہجے میں تپیش محسوس کر کے رضوا کی دھڑکنے یکدم سے تیز ہوئی تھی ”
” آپ کیا کہہ رہے ہیں میں سمجھی نہیں ”
” ایک تو اسکی اتنی قربت اوپر سے اسکی نظریں رضوا کو پریشان کر رہی تھی ”
اس نے کاوش کی بولتی نظروں سے گھبرا کر اپنا دوپٹہ درست کیا تھا ”
” تمہاری یہی معصومیت تو مجھے تمہارا دیوانہ بناتی جا رہی ہے رضوا ..
میں خود کو تمہارے قریب آنے سے نہیں روک سکتا ہوں ”
” وہ خمار آلودہ لہجے میں کہتا اسکو کھینچ کر اپنے قریب لٹا چکا تھا ”
”اب صحیح معنے میں وہ اسکی بات سمجھ چکی تھی ”
” کاوش پلز ..رک جائے ”
”اسکی بڑھتی جسارتوں سے گھبرا کر رضوا بمشکل بول پائی تھی ”
” ‘ رضوا میں تمھیں بہت قریب سے محسوس کرنا چاہتا ہوں اتنا قریب کہ تمہاری ہر سانس مجھے چھو کر گزرے ”
‘ ‘ اس نے رضوا بالوں میں اپنی انگلیاں پھنسائی اور اسکے چہرے پر جھکا تھا ”
” اس سے پہلے کے اسکے لب کوئی گھستاخی کرتے رضوا اسکے ہونٹوں پر اپنا نازک ہاتھ رکھ چکی تھی ”
”کاوش میں آپکی شدتیں برداشت نہیں کر پاؤ گی پلز مجھے تھوڑا وقت دیں ”
اسکے لہجے میں گزارش تھی آنکھیں نم ہوئی تھی “
‘”جبکہ کاوش کو اسکی مزاحمت بلکل پسند نہیں آئی تھی ” ”اور کتنا وقت چاہیے رضوا کیا اتنا وقت کافی نہیں تھا ”
”رضوا اسکے گلے میں ابھرتی ہوئی نسوں کو دیکھ رہی تھی جو اسکے غصّے میں ہونے کا پتہ دے رہی تھی ”
” پلز کاوش ..مجھے ڈر لگتا ہے آپ سے آپکی قربت سے
مجھے لگتا ہے کہ میری جان نکل جائے گی ”
”وہ اپنے ہاتھوں میں چہرہ چھپا کر بری طرح رونے لگی تھی”
” اسکو روتا ہوا دیکھ کر کاوش کا غصّہ یکدم سے ختم ہوا تھا’
” رضوا سنو چپ ہو جاؤ ”
‘میں کچھ نہیں کر رہا ”
”دیکھو میری طرف …
اس نے رضوا کے چہرے سے ہاتھ ہٹاۓ تھے”
” اسکی بات سن کر رضوا یکدم سے چپ ہوئی اور بھیگی آنکھوں سے اسکی طرف دیکھنے لگی تھی ”
” صرف کچھ وقت اور دے رہا ہوں میں تمھیں اسکے بعد مجھ سے مزید وقت کی بلکل امید مت رکھنا ”
”تم میری بیوی ہو اور سب حق رکھتا ہوں تم پر اس لئے جتنی جلدی ہو سکے یہ بات مائنڈ میں سیٹ کر لو..
” وہ اسکے آنسوں صاف کرتا ہوا بولا لہجے میں نرمی بلکل بھی نہیں تھی “
” جبکہ رضوا کے لئے تو اتنا کافی تھا کہ وہ اسکی جان بخش چکا ہے ‘
”جاؤ جاکر پہلے فریش ہوکر آؤ پھر آرام سے آکر سو جانا ”
وہ اپنے اور رضوا کے رشتے میں کوئی زبردستی نہیں چاہتا تھا ‘
”وہ اسکو ہدایت کرتا ہوا بیڈ سے اٹھا اور سائیڈ ٹیبل سے اپنا لیپ ٹاپ اٹھا کر صوفہ پر جا بیٹھا تھا ‘
”اس وقت اسکا موڈ سخت خراب ہو چکا تھا ‘
”رضوا ایک نظر اسکو دیکھتی ہوئی بیڈ سے اٹھی اور تیزی سے واشروم میں جا گھسی تھی “
💕💕
” ‘کمرے میں دو لوگوں کی موجودگی کے باوجود آج پھر انکے آفس میں مکمل خاموشی تھی’
‘ ” کاوش ٹانگ پر ٹانگ رکھے اپنی چیئر کو ادھر سے ادھر گھوماتا سامنے بیٹھے یاسر صاحب کو دیکھ رہا تھا ‘
”آنکھوں میں ہمیشہ کی طرح سرد تاثرات تھے رگے تنی ہوئی تھی ‘
“‘ کیوں آئے ہو تم یہاں ?
” یاسر صاحب اسکی طرف دیکھ کر سخت لہجے میں بولے تھے ”
” وہ جب بھی کاوش کو دیکھتے تھے انہیں حسن اور اسکی حرکت یاد آتی تھی ‘
‘اور پرانی باتیں یاد کر کے انکی نفرت کاوش کے لئے مزید بڑھتی تھی ”
‘ ‘اپنی اس نفرت میں انہوں نے یہ جاننا تک ضروری نہیں سمجھا تھا کہ جس دوست کو وہ کبھی اپنا بھائی سمجھتے تھے وہ اس دنیا میں ہے بھی یا نہیں “
‘ شاید وقت کے ساتھ انکے سارے احساسات مر چکے تھے ‘
‘ ” ایسا کیوں ہیں یاسر چاچو …سوری یاسر صاحب کہ آپ جب بھی مجھے دیکھتے ہیں اتنے نا خوش کیوں نظر آتے ہیں..
‘ کبھی تو میری طرف محبت سے دیکھ لیا کریں ‘
“‘ آخر آپکا اکیلا داماد ہوں ”
اس نے یاسر صاحب کی طرف آنکھ دبائی تھی اسکی اس حرکت پر یاسر صاحب کا خون کھول اٹھا تھا “
‘ ” تم سے میرا کوئی رشتہ نہیں ہے اور نہ میری بیٹی کا سمجھے تم ‘
‘وہ غصّے سے دہاڈتے ہوئے اپنی جگہ سے کھڑے ہوئے تھے “
‘ ” آرام سے “
‘ ” یاسر صاحب اتنا غصّہ اس عمر میں آپکی صحت کے لئے ٹھیک نہیں ہے ‘
” اپنا نہیں تو کم از کم اپنے بچوں کا خیال کر لیں “
‘ ” وہ چہرے پر ایک جاندار مسکراہٹ لئے انکی طرف دیکھ رہا تھا ‘
یاسر صاحب کا دل کیا تھا کے اسکا منہ ہی نوچ ڈالے ”
‘ ” ویسے میں آپکو یہاں یہ بتانے آیا تھا کہ آپکی بیٹی میرے ساتھ بہت خوش ہے “
‘ ” انشاءلله آگے بھی ایسے ہی خوش رہے گی
‘ ‘اور وہ دن بھی دور نہیں جب وہ آپ سب کو بھول جائے گی”
‘ ” اسے صرف ایک ہی شخص یاد رہے گا ”
” اور وہ شخص صرف میں ہوں صرف میں ‘
”کاوش حسن ”
” وہ ایک ایک لفظ پر زور دیتا ہوا بولا تھا “
‘ ‘ ویسے مجھے آپکی محبت پر بھی شق ہوتا ہے آخر وہ انسان جو صرف اپنے بارے میں سوچتا ہو ..
“‘جس نے اپنی خوشی کے لئے اپنی بیوی تک کو دھوکہ دیا وہ اپنے علاوہ کسی اور سے کیسے محبت کر سکتا ہے ”
‘ ‘ وہ مذاق اڑانے والے انداز میں بولا “
‘ ” تم سمجھتے کیا ہو خود کو میری بیٹی تمہارے پاس ہے اسکا یہ مطلب نہیں ہے کہ تم جیت گئے ہو کاوش ‘
‘ ‘ بہت جلد تمھیں معلوم ہونے والا ہے کہ یاسر علی کیا چیز ہے “
” بہت غرور ہے نہ خود پر تو خود کی جیت پہ ..
ان سب کے بیچ تم اپنی بہن کو کیسے بھول گئے “
‘ ‘ جو آج میرے حیدر کی بیوی بن کر ہمارے گھر آ چکی ہے ‘
‘” تمھیں کیا لگتا ہے میرے بیٹے نے اس سے محبت میں شادی کی ہے “
‘ ” یاسر اپنی اصل بات پر آیا تھا
وہ اسکو احساس دلانا چاہتا تھا کہ اسکے ہاتھ بھی بندہے ہوئے ہیں “
‘ ” کیا ہوگا جب حیدر کو معلوم ہوگا کہ اسکی بہن تمہارے پاس ہے تو سوچو تمہاری بہن کا کیا حال ہو سکتا ہے “
”وہ اسکو آنے والے وقت کی دھمکی دے کر ڈرانا چاہتے “
‘ ‘وہ چاہتے تھے کہ کاوش اپنی بہن کے لئے رضوا کو آزاد کر دے “
‘ ” مگر سامنے بھی کاوش حسن تھا اپنے احساسات پر قابو رکھنے والا ورنہ اسکا دل تو کر رہا تھا کہ یاسر صاحب کا گلا ہی دبا دے ..
اسکی ہمت کیسے ہوئی تھی اسکی بہن کو اس سب کے بیچ لانے کی “
‘” اگر تم لوگوں نے مجھے تکلیف دینے کے لئے میری بہن کا استمال کرنے کی کوشش کی تو اسکا انجام اچھا نہیں ہوگا ”
‘ میں رضوا کو تم لوگوں سے اتنا دور لے جاؤنگا کہ تم لوگ ساری زندگی اسکی شکل دیکھنے کے لئے ترستے رہو گے”
‘ ” اس لئے کچھ بھی کرنے سے پہلے دس بار سوچ لینا ..
اگر منال کو ذرا بھی تکلیف دی تو میں تمہارے پورے خاندان کو ختم کر دوں گا “
”وہ ایک جھٹکے میں اپنی جگہ سے کھڑا ہوا تھا ”
”اسکو ان لوگوں سے زیادہ خود پر غصّہ آ رہا تھا کہ اسکی وجہ سے منال پھنس گئ تھی”
‘ ‘ جبکہ یاسر صاحب اسکا غصّے سے لال چہرہ دیکھ کر تھوڑا گھبرا سے گئے تھے ”
‘ ‘ ٹھیک ہے پھر اگر اپنی بہن کی حفاظت چاہتے ہو تو میری بیٹی کو آزاد کرنے کے کے بارے میں اک بار پھر سے سوچ لینا”
” سوچ تو تم لینا مجھے سوچنے کی ضرورت نہیں ہے
اور امید ہے یاسر صاحب آپ میری بات بھی سمجھ گئے ہونگے ‘
” وہ ایک نظر انکو دیکھتا تیزی سے روم سے نکلا تھا ..
اس وقت اسکا غصّے سے برا حال ہو رہا تھا وہ دعا کر رہا تھا کہ حیدر اسکے سامنے نہ آ جائے ..
“” مگر آج قسمت میں اسکا حیدر سے سامنا لکھا ہوا تھا اسکی نظر کمپنی سے باہر نکلتے حیدر پر پڑی تو وہ تیزی سے اسکے پیچھے گیا تھا ”
💕💕
(جاری ہے )