103.8K
25

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 6

💕💕
‘ ” مس منال آپ میرے روم میں وہ فائل لیکر آیں ابھی ..
‘ ” وہ بیٹھی اپنا کام کر رہی تھی جب فون پہ حیدر نے اسکو حقم سنایا تھا ..
‘ ” سر اسکا کچھ کام باقی رہ گیا ہے میں بس دس منٹ میں کمپلیٹ کر کے آپکے پاس لے آتی ہوں ..
‘ ” منال نے اس سے جھوٹ بولا کیونکہ وہ اسکے پاس جانا نہیں چاہتی تھی ..
جبکہ وہ فائل کا کام کمپلیٹ کر چکی تھی جو اس سے کل دیا تھا اسکو .
‘ ” کوئی بات نہیں آپ پھر بھی روم میں آؤ ..
وہ بھی کہاں اسکی بات سننے والا تھا فورا سے بولا…
‘” سر میں کمپلیٹ کر کے لاتی ہوں بس تھوڑی دیر میں ..
منال اسکا کوئی بھی جواب سنے بغیر غصّے سے فون رکھ چکی تھی .
‘ ” وہ اسکا باس تھا اسکا ہرگز ی مطلب نہیں تھا کہ وہ اس پر حقم چلاتا رہے ..
ویسے بھی کل سے اسکو حیدر کی حرکت پر بہت غصّہ آ رہا تھا ..
‘ ” کیسے اس نے زبردستی کر کے اسکو اپنی کار میں بیٹھا لیا تھا ..
‘ ” اب منال کو لگ رہا تھا کہ اگر اب پھر سے اس نے کوئی ایسی حرکت کی تھی وہ اس بار اپنا غصّہ برداشت نہیں کر سکے گی ..
‘ ” پھر چاہے وہ اس پر کتنے بھی کیس کرتا رہے..
وہ غصّے سے بیٹھی اپنی جگہ کھول رہی تھی ..
‘” جبکہ اسکے اس طرح سے فون رکھنے پر حیدر کو بھی غصّہ آیا تھا ..
وہ صبح سے اس سے بات کرنے کی کوشش کر رہا تھا اور وہ تھی جو اسکے ہاتھ نہیں لگ رہی تھی .
‘ ” پتہ نہیں وہ اس سے کیوں اتنا چیڑتی تھی کیوں اسکو اتنا ناپسند کرتی تھی حیدر اب تک سمجھ نہیں پایا تھا ..
‘ ” جبکہ وہ حیدر علی تھا جسکے پیچھے یونی کی ساری لڑکیاں پڑی رہتی تھی
پر وہ زیادہ کسی سے بھی بات کرنا پسند نہیں کرتا تھا ..
‘ ” یا پھر آج تک اسکو ایسی لڑکی ملی ہی نہیں تھی جو پہلی نظر میں اسکے دل میں اتر جائے ..
” ‘ لیکن منال کو پہلی بہار دیکھ کر اسکو لگا کہ شاید اسکی تلاش ختم ہو گئی ہے ..
وہ بلکل ایسی ہی تھی جیسی لڑکی اسکو چاہئے تھی سب سے الگ ..
‘ ” اور آج وہ خود ایک لڑکی کے پیچھے پھر رہا تھا
کبھی کبھی تو اسکو خود پر بھی بہت غصّہ آتا تھا کہ کیوں وہ ایسا ہو جاتا ہے اسکو دیکھ کر ..
‘ ” ابھی بھی اسکی یہی حالت ہو رہی تھی اس لئے وہ غصّے میں اسکے کبین کی طرف بڑھا تھا ..
‘ ” جب میں نے بولا کہ آپ میرے روم میں آئے تو آپکو اک بار میں میری بات سمجھ نہیں آتی ہے ..
وہ اسکے سامنے کھڑا سخت نظروں سے اسکو گھورتا ہوا بولا ..
‘ ” منال جو اپنا کام کرنے میں مصروف تھی حیدر کی آواز سن کر ایک پل کے لئے تو ڈری تھی مگر خود کو نارمل ظاہر کرتی اپنی جگہ پر بیٹھی رہی جیسے وہ سامنے کھڑا ہی نہ ہو …
‘ ” میں نے بولا تھا آپ سے کہ کمپلیٹ کر کے آتی ہوں اس لئے نہیں آئی میں
“منال فائل پر نظریں جمائے بولی اس نے گردن اٹھا کر سامنے دیکھنے کی کوشش نہیں کی تھی .
‘ “” جبکہ اسکی بات پر حیدر کا غصّہ مزید بڑھا تھا وہ تیزی سے اسکی چیئر کے پاس آیا اور بازو سے پکڑ کر اسکو اپنے مقابل کھڑا کیا ..
‘ ” کیوں کر رہی ہو تم ایسے
آخر مل کیا رہا ہے تمھیں یہ سب کر کے ..
وہ اپنی لال آنکھیں اسکی آنکھوں میں گاڑتا ہوا سخت لہجے میں بولا ..
‘ ” اسکی سخت پکڑ سے منال کو تکلیف ہو رہی تھی مگر وہ خود پر ضبط کئے کھڑی اسی کو دیکھتی رہی…
‘ ” میں آپکے ساتھ کیا کر سکتی ہوں
کچھ بھی تو نہیں کیا میں نے ..
اور اگر کر بھی رہی ہوں تو آپکو فرق کیوں پڑ رہا ہے آخر میں آپکی کمپنی کی اک چھوٹی سے ورکر ہی تو ہوں …
‘ “”اسکے لہجے میں حیدر علی کے لے بےزاری تھی..
‘ “” تم مجھے اگنور کر رہی ہو ..حیدر علی کو
وہ اسکے چہرے کو اپنی نظروں کے حصار میں لئے ہوئے تھا ..
‘ ” اور ہاں فرق پڑتا ہے مجھے کیونکہ میں …
حیدر اپنی بات کہتے کہتے اک پل کے لئے رکا تھا ..
‘ ” منال جو اسکی طرف دیکھ رہی تھی حیدر کی ادھوری بات پر جانے کیوں اسکا دل یکدم تیزی سے دھڑکا تھا ..
‘ ” کیونکہ میں حیدر علی تمھیں چاہنے لگا ہوں
اور جب تم میرے ساتھ ایسا کرتی ہو تو مجھے یہاں تکلیف ہوتی ہے ..
وہ دوسرے ہاتھ سے اپنے دل کی طرف اشارہ کرتا ہوا بولا ..
‘ ” آخر جو بات اسکے دل میں تھی وہ اپنی زبان پر لے ہی آیا تھا ..
اسکی بات سن کر رضوا کچھ لمحے بس خاموشی سے اسکو دیکھتی رہ گئی تھی ..
وہ ایسا کچھ بولے گا اسکو اس نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا …
‘ ” ہو گیا آپکا اب ہاتھ چھوڑیں میرا ویسے بھی بہت کام باقی ہے ..
منال اسکی گرفت سے اپنا بازو آزاد کرواتی ہوئی بولی اور پھر سے اپنی جگہ پر آ بیٹھی تھی ..
‘ “میں نے اتنی بڑی بات بولی تمھیں کیا تمہاری نظر میں اسکی ذرا بھی احمیت نہیں ہے ..
اسکا نارمل انداز حیدر کو برا لگا تھا ..
‘” وہ ایسے بیٹھی تھی جیسے اسکے لئے یہ بات بلکل معنے نہیں رکھتی ہے ..
‘” ہاں نہیں ہے کیونکہ محبت جیسے لفظ کی میری زندگی میں کوئی جگہ نہیں ہے ..
اگر کبھی مجھے کسی سے محبت ہوگی بھی تو کم از کم وہ آپ تو بلکل نہیں ہونگے …
‘ ” وہ اسکا بری طرح دل توڑ رہی تھی …
‘ ” تمھیں خود پر بہت غرور ہے نہ مس منال
دیکھ لینا ایک دن تمھیں محبت ہوگی
اور مجھسے ہی ہوگی ..
یہ حیدر علی کا وعدہ ہے تم سے …
‘ ” وہ ایک نظر اسکے چہرے کو دیکھتا تیزی سے وہاں سے نکلا تھا ..
جبکہ منال نے ناگواری سے اسکو جاتا دیکھا تھا …
💕💕
‘ ” رضوا یہاں آؤ ..
“دیکھو میں تمہارے لئے کیا لایا ہوں
یہ دیکھو ..
‘ ” اٹھارہ سالہ لڑکا اپنے ہاتھ میں موجود چاکلیٹ لئے اپنے سامنے کھڑی اس دس سالہ لڑکی کو دینے کی کوشش کر رہا تھا ..
اس سے بات کرنے کی کوشش کر رہا تھا مگر وہ چھوٹی بچی اس سے ڈر کر اپنی ماں کے پیچھے جا کھڑی ہوئی تھی ..
‘ ” دیکھو نہ چاچی میں جب بھی آتا ہوں یہ اسی طرح سے کرتی ہے میرے ساتھ ..
اس لڑکے نے اپنے سامنے کھڑی سارہ بیگم سے اس معصوم سی لڑکی کی شکایات کی تھی ..
‘ ” وہ ہمیشہ ہی یاسر صاحب کے گھر خاص کر رضوا کے لئے آتا تھا ..
مگر وہ تھی کہ اس سے بات کرنا تو دور اسکے آس پاس بھی نہیں گزرتی تھی ..
‘ ” اور ہر بار اسکی سارہ سے یہی شکایات ہوتی تھی..
‘ ” نہیں بیٹا یہ تمہارے ساتھ ہی ایسا نہیں کرتی ہے بلکہ جب حیدر چھٹیوں میں گھر واپس آتا ہے تو تب بھی اسکا رویہ ایسا ہی رہتا ہے ..
‘ ” لیکن تم اداس مت ہوا کرو رضوا ابھی چھوٹی ہے بیٹا …
اور ساتھ بہت کمزور بھی لوگوں سے اتنی جلدی سے نہیں گھل مل پاتی ہے ..
‘ “کچھ وقت لگے گا پھر خود ہی ٹھیک ہو جائے گی ..
وہ اک نظر اپنے پیچھے ڈری سہمی کھڑی رضوا کو دیکھ کر اپنے سامنے بیٹھے کاوش سے مخاطب ہوئی تھی ..
‘ ” جتنا عزیز انکے لئے انکے دونوں بچے تھے اتنا ہی عزیز انکے لئے کاوش بھی تھا ..
وہ کاوش سے شروع سے ہی محبت کرتی تھی ..
‘ ” شاید اس لئے بھی کہ وہ بچپن میں اپنی ماں کو کھو چکا تھا ‘ “
‘ ” وہ اسکو حیدر کی طرح ہی سمجھتی تھی کیونکہ حیدر تو باہر پڑھنے کے لئے گیا ہوا تھا مگر کاوش سے حیدر کی کمی پوری ہو جاتی تھی ..
‘ ” یہ بھی حیدر کی ہی ضد تھی باہر پڑھنے کی ورنہ انکا ارادہ بلکل نہیں تھا اپنے بیٹے کو خود سے الگ کرنے کا ..
‘ “” آپکا مطلب چاچی کہ مجھے کوشش کرتی رہنی چاہیے …
وہ چہرے پر شرارت لئے انکی طرف دیکھ رہا تھا ..
‘ ” ہاں بلکل کوشش کرتے رہو ایک دن تم رضوا سے دوستی کرنے میں کامیاب ہو ہی جاؤ گے ..
وہ اسکی طرف دیکھ کر مسکرائی تھی ..
‘ ” جبکہ انکے پیچھے ابھی بھی ایسے ہی کھڑی تھی جیسے یہ اسکے نہیں کسی اور کے بارے میں باتیں چل رہی ہو ..
” ‘ کس لئے کوشش کرنی چاہئے
ذرا ہمیں بھی تو پتہ چلے…
یاسر صاحب وہاں ان دونوں کے پاس آتے ہوئے بولے تھے انکے پیچھے حسن صاحب بھی موجود تھے ..
‘ ” انکی آواز پر کاوش کے ساتھ ساتھ سارہ بیگم نے انکی طرف دیکھا تھا .
‘” ” میں کاوش کو بول رہی تھی کہ تم روز کوشش کرو گے تو اک دن تمہاری بھی رضوا سے دوستی ہو جائے گی ..
‘ ” وہ مسکرا کر بولی تھی ..
‘ ” جی پھر ہم بھی آپ دونوں کی طرح بہت اچھے دوست بن جائے گے …
وہ یاسر صاحب اور اپنے باپ کی دوستی کی مثال دیتا ہوا بولا تھا ..
‘” اور سچ بھی تھا یاسر صاحب اور حسن دونوں بہت گہرے دوست تھے جبکہ حسن صاحب پہلے دوسرے شہر میں رہتے تھے ..
‘ ” ابھی کچھ وقت پہلے ہی وہ یاسر صاحب کے کہنے پر اپنا پورا بزنس یہاں شفٹ کر چکے تھے ..
ان دونوں کے درمیان دوری ہونے کے باوجود انکی دوستی میں کوئی فرق نہیں آیا تھا ..
‘ ” اور اس دوستی میں زیادہ ہاتھ حسن صاحب کا تھا کیونکہ وہ یاسر کو اپنے بھائی کی طرح سمجھتے تھے …
‘ ” حسن صاحب کے یہاں آنے کے بعد انہوں نے اپنی دوستی رشتےداری میں بدل لی تھی ..
” ‘ کاوش بڑا تھا اس لئے کچھ کچھ اس رشتے کو سمجھتا تھا اور رضوا تو شروع سے ہی اسکو پسند تھی …
‘ ” جبکہ رضوا ناسمجھ اور کافی چھوٹی بھی تھی لیکن جو بھی تھا حسن صاحب بہت خوش تھے کیونکہ یہ انکی شروع سے ہی خوائش تھی کہ رضوا انکے بیٹے کی دلہن بنے …
‘ ” بلکل ٹھیک کہا تم نے تم ہم دونوں سے بھی زیادہ اچھے دوست بننا میری بس یہی خوائش ہے ..
حسن صاحب نے سارہ کے پیچھے کھڑی رضوا کو اپنی طرف کیا تھا ..
‘ ” اب وہ معصوم بچی ان چاروں کو اپنی طرف دیکھتا ہوا پاکر گھبرا گئی تھی ..
اس سے پہلے کہ وہ اپنا رونا شروع کر دیتی وہ پھر سے ڈر کر اپنی ماں کے پیچھے جا چھپی تھی ..
‘ ” اس بار اسکی اس حرکت پر وہ چاروں کھل کر مسکرا دیے تھے ..
💕💕
ہاں رحیم بولو سب انتظام ٹھیک سے ہو گیا ہے نہ ?
یاسر صاحب فون پر اپنے ملازم سے مخاطب ہوئے تھے ..
‘ ” جی صاحب بلکل ویسا ہی کیا ہے جیسا آپ نے بولا تھا ..
بی بی جی کو یہاں کسی بھی طرح کی کوئی پریشانی نہیں ہوگی ..
‘ ” آپ بلکل بےفکر ہو جائے ..
اپنے ملازم کی بات سن کر وہ کچھ مطمعین ہوئے تھے …
‘ ” ٹھیک ہے میں کل آتا ہوں سب اک بار دیکھ لوں
اسکے بعد رضوا کو وہاں بھیج دوں گا …
یاسر صاحب اپنی بات مکمل کر کے فون کٹ کر چکے تھے ..
‘ ” کس کو بھیج نے کی باتیں ہو رہی ہیں ڈیڈ ?
اور کہاں ?
“‘ حیدر لاؤنج میں داخل ہوتے ہی یاسر صاحب سے مخاطب ہوا تھا
کیونکہ وہاں آتے وقت وہ انکے آخری جملہ سن چکا تھا…
‘”میں رضوا کو یہاں سے بھیجنے کے بارے میں بات کر رہا تھا .
وہ حیدر کی طرف دیکھ کر بولے اور اپنا موبائل ٹیبل پہ رکھ کر صوفہ پہ آ بیٹھے تھے ..
‘” رضوا کو مگر کیوں?
اور کہاں بھیج رہے ہیں آپ ..
” یاسر صاحب کی بات پہ وہ حیرانی سے انکی طرف دیکھ کر سامنے دوسرے صوفہ پہ آ بیٹھا تھا ..
” ‘ کاوش پھر سے آیا تھا میرے آفس ..
انکے لہجہ بہت سنجیدہ تھا ..
‘ ” کیا …وہ پھر آیا تھا اسکی اتنی ہمت ..
اور آپ نے مجھے بتانا ضروری نہیں سمجھا ..
اپنے ڈیڈ کی بات سن کر حیدر غصّے میں اپنی جگہ سے کھڑا ہوا تھا ..
‘ ” بس تمہارے اسی غصے کی وجہ سے میں نے بتانا ضروری نہیں سمجھا
کیونکہ انسان ہمیشہ غصّے میں بہت کچھ غلط کر دیتا ہے ..
‘ ” اور میں رضوا کے معملے میں کوئی غلطی برداشت نہیں کر سکتا ہوں .
انکا لہجہ سخت ہوا تھا ..
‘ ” اپنے ڈیڈ کو غصّے میں دیکھ کر حیدر اپنی جگہ آ بیٹھا تھا
وہ ٹھیک ہی تو کہہ رہے تھے ..
‘ “جب تک ہم کچھ سوچ نہیں لیتے کہ کس طرح سے رضوا کو اس رشتے سے آزاد کریں تب تک کے لئے میں نے سوچا ہے کہ رضوا یہاں نہیں رہے گی ..
‘ ” کیونکہ میں چاہتا رضوا اس سے ملے یا اسکو اس رشتے کے بارے میں کچھ بھی معلوم ہو ..
یاسر صاحب پرسوچ انداز میں بولے تھے ..
‘ ” جبکہ حیدر خاموشی سے اپنے باپ کی طرف دیکھ رہا تھا ..
اسکو اپنے باپ کا فیصلہ پسند آیا تھا “
” ‘ یہ ٹھیک سوچا ہے آپ نے ڈیڈ ورنہ مجھے ہر وقت ڈر لگا رہتا ہے کہ کہیں وہ رضوا تک نہ پہنچ جائے ..
لیکن اب رضوا اس سے دور رہے گی اور سیف بھی..
‘ ” وہ مطمعین انداز میں بولا تو یاسر صاحب نے بھی ہاں میں اپنی گردن ہلائی تھی ..
‘ ” یاسر آپ اب تک ایسے ہی بیٹھے ہیں چلیں چل کر تیار ہو جائں..
ورنہ ہم پارٹی کے لئے لیٹ ہو جائے گے ..
‘ ” یہ آواز یسرا بیگم کی تھی جو اس وقت مکمل تیار کھڑی حیدر کے سامنے بیٹھے یاسر صاحب سے مخاطب ہوئی تھی .
‘ ” ٹھیک ہے میں آ ہی رہا تھا بس حیدر سے کچھ بات کر لوں .
وہ اک نظر حیدر کی طرف دیکھ کر بولے جو یسرا کے وہاں آ جانے پر اپنے موبائل میں مصروف ہو چکا تھا ..
‘ ” کہنے کو وہ انکی ماں تھی سوتیلی ہی صحیح لیکن انکے اور حیدر کے بیچ ہمیشہ اک سرد جنگ رہتی تھی جبکہ رضوا کو وہ پسند تھی مگر وہ ان دونوں کو کچھ سمجھتی ہی نہیں تھی ..
‘ ” ٹھیک ہے اپنی بات ختم کرکے جلدی آ جائے آپ میں انتظار کر رہی ہوں آپکا ..
وہ اک نظر دونوں پر ڈال کر واپس چلی گئی تو انکے جانے کے بعد حیدر اور یاسر صاحب پھر سے آگے کے بارے میں بات کرنے لگے تھے ..
💕💕
“‘ ‘ بھائی آپ کیا کر رہے ہیں ..
” ‘رضوا کمرے میں داخل ہوتے ہی وارڈراب میں کچھ تلاش کرتے حیدر سے مخاطب ہوئی تھی ..
‘ ” رضوا کی آواز سن کے اس نے گردن موڑ کر اسکی طرف دیکھا تھا ..
‘ ” نہیں کچھ نہیں بس میری وائٹ شرٹ نہیں مل رہی تھی بس وہی تلاش کر رہا تھا ..
وہ وارڈراب بند کرتا اسکی طرف بڑھا تھا ..
” ‘ لاؤ بھائی میں ڈھونڈھ دیتی ہوں وہیں رکھی ہوگی بس آپکو نظر نہیں آ رہی ہے ..
” ‘وہ حیدر کی بات سن کر اسکے وارڈراب کی طرف بڑھی مگر حیدر اسکا بازو پکڑ کے اسکو روک چکا تھا..
‘ ” نہیں رہنے دو یار میں نے آج تک کبھی تم سے کوئی کام کروایا ہے جو اب کرواوں گا۔
وہ اسکی طرف دیکھ کر مسکرایا اور اسکا ہاتھ پکڑ کے صوفہ پر آ بیٹھا تھا ..
” ‘ اب بتاؤ کیا بات کرنا چاہتی ہو تم
وہ اسکا ہاتھ تھام چکا تھا ..
” ‘ بھائی آپکو کیسے پتہ کہ مجھے آپسے کوئی بات کرنی ہیں..
وہ حیران ہوئی تھی اپنے بھائی کی بات سے ..
‘ ” تمہارے چہرے پر جو پریشانی ہے نہ اس نے بتایا مجھے ..
اب جلدی سے بتاؤ کیا بات پریشان کر رہی ہے تمھیں.اسکا لہجہ سنجیدہ ہوا تھا ..
‘ ” وہ ایسا ہی تھا رضوا اور اس سے جڑی ہر بات اسکے لئے سب سے ضروری تھی ..
“جبکہ اسکی بات پہ رضوا کی سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ اپنی بات کس طرح شروع کرے …
‘ “کل کاوش کے اسکے روم سے جانے کے بعد سے اسکی یہی حالت تھی .
اسکو یقین نہیں آ رہا تھا کہ اسکا کچھ رشتہ تھا اس شخص کے ساتھ ..
-” ‘ مگر کہیں نہ کہیں اسکو یہ بات جھوٹ لگ رہی تھی .
‘” کیونکہ اسکو اپنے بھائی پہ اتنا تو بھروسہ تھا کہ وہ اس سے اتنی بڑی بات نہیں چھپا سکتے ہیں …
‘” اب بتاؤ نہ کیا بات ہے جس وجہ سے تم اتنا پریشان ہو ..
مجھے بتاؤ میں ہوں تمہاری ہر پریشانی دور کرنے کے لئے ..
‘ ” وہ بہت محبت سے رضوا کی طرف دیکھ رہا تھا ..
‘ ” ب..بھائی کیا …م…میرا نکاح ہو چکا ہے
اور ..و ….وہ ..کاوش میرے شوہر ہیں ?
اس نے رک رک کر اپنی بات مکمل کی تھی ..
‘ ” کس نے بتایا تمھیں یہ سب ..
اسکی بات پر حیدر حیرانی سے اپنی جگہ سے کھڑا ہوا تھا ..
‘ ” جس بات کو وہ اس سے چھپانا چاہ رہے تھے وہ بات اسکو معلوم ہو چکی تھی .
“‘ کیونکہ انکو لگتا تھا کہ جس رشتے کو وہ رکھنا نہیں چاہتے اسکے بارے میں رضوا کو بتاکر کیا فائدہ..
‘” بھائی پلز پہلے آپ مجھے بتائے کیا یہ سب سچ ہے کیا کاوش میرے شوہر ہیں ..
وہی کاوش حسن انکل کے بیٹے مجھے کچھ کچھ یاد ہے انکی شکل ..
‘ ” بھائی بتاؤ نہ کیا سچ ہے ..
اس نے پریشانی سے اپنے بھائی کا بازو تھام لیا تھا..
‘ ” حیدر نے ایک نظر اپنی بہن کے پریشان چہرے کو دیکھا ..
اسکے لئے یہ بھی جاننا ضروری تھا کہ رضوا کو اس بارے میں کہاں سے معلوم ہوا اس لئے اسکو اپنی بہن کے سوالوں کا جواب دینے ہی تھے ..
‘” ہاں کاوش شوہر ہے تمہارا بچپن میں سب کی رضامندی سے یہ نکاح ہوا تھا ..
وہ بولتے وقت اپنی بہن کا چہرہ نہیں دیکھ رہا تھا جانتا تھا اسکو دکھ ہو رہا ہوگا کہ اسکے بھائی نے اتنی بڑی بات چھپائی تھی اس سے ..
‘ “” تو مجھے کیوں نہیں پتہ تھا اس بات کا کیوں چھپا رکھی تھی اتنی بڑی بات آپ لوگوں نے مجھ سے ..
اسکے لہجے میں حیرانی کے ساتھ ساتھ گہرا دکھ بھی تھا ..
‘ ” کیونکہ اس وقت حالات الگ تھے مگر اب حالات کچھ اور ہیں ..
تم نہیں جانتی اس کاوش کے باپ کی وجہ سے ہماری مام ہمارے بیچ نہیں ہیں ..
اور وہ کاوش بھی اچھا انسان نہیں ہے ..
غلط ہے وہ ..
‘ ” اس لئے یہ بات تمھیں بتانا ضروری نہیں سمجھا کیونکہ میں اور ڈیڈ جلد سے جلد اس رشتے کو ختم کرنے کے بارے میں سوچ رہے ہیں ..
‘ ” حیدر نے اسکو سب تفصیل سے بتانے کے ساتھ ساتھ اپنا فیصلہ بھی سنایا تھا ..
جبکہ رضوا خاموش کھڑی اپنے بھائی کو دیکھ رہی تھی …
‘ ” اب تم بتاؤ کہاں سے معلوم ہوا تمھیں یہ سب اور سچ سچ بتانا ..
اب وہ مکمل اسکی طرف پلٹا تھا ..
‘ ” رضوا نے اک نظر اپنے بھائی کی طرف دیکھ کر شروع سے آخر تک اسکو بتاتی چلی گئی تھی
اسکے اک اک لفظ سے حیدر کی غصّے میں رگے تن گئی تھی ..
💕💕
‘ ” حیدر کے پاس سے آنے کے بعد وہ سیدھا اپنے روم میں آکر بیڈ پر لیٹی تھی ..
اس نے آج پہلی بار اپنے بھائی کو اتنے غصّے میں دیکھا تھا ..
‘ ” اور پہلی بار وہ اس پہ بھی غصّہ ہوا تھا شاید اسکی بھی غلطی تھی ..
اسکو اتنی بڑی بات نہیں چھپانی چاہئے تھی ..
” لیکن اب جو بھی تھا وہ سب کچھ حیدر کو بتا چکی تھی
اسکو سب بتا کر وہ کچھ مطمعین بھی ہو گئی تھی ..
” ‘کہیں نہ کہیں اسکو اپنے بھائی کی باتیں بلکل ٹھیک بھی لگ رہی تھی
وہ سچ میں غلط انسان تھا ..
‘ ” کتنی بار وہ اسکو یونی میں بھی پریشان کر چکا ہے بلکہ اسکے کمرے میں بھی آ چکا تھا “
“اک بات اس نے سوچ لی تھی کہ اب جو بھی ہوگا وہ اپنے بھائی سے ضرور بتا دیگی ..
کچھ دیر تو وہ اس بارے میں سوچتی رہی پھر کب نیند اس پر مہربان ہوئی اسکو خبر نہیں ہوئی تھی ..
‘ ” چاند کی روشنی اسکے کمرے میں آ رہی تھی وہ بیڈ پر لیٹی کسی شہزادی کی طرح لگ رہی تھی ہر فکر اور پریشانی سے بےخبر ..
‘ ” چاند کی روشنی کے ساتھ ساتھ اسکا شہزادہ بھی کمرے میں داخل ہوا تھا ..
” آج پھر اسکا شہزادہ اسکے پاس آیا تھا …
” ‘ لیکن آج اسکا شہزادہ اسکو دیکھنے یا اس سے بات کرنے نہیں آیا تھا
بلکہ آج اسکا ارادہ الگ تھا ..
‘ ” اپنی شہزادی کو اپنے ساتھ لے جانے کا ..
اور وہ جو ارادہ کر لیتا اسکو پورا ہی کرتا تھا ..
“وہ آہستہ سے قدم اٹھاتا اسکے بیڈ کی طرف بڑھا کاوش کو اپنی اور اسکی پہلی ملاقات یاد آئی تھی ..
‘ ” لیکن یہ والی ملاقات الگ ہونے والی تھی کیونکہ آج وہ اسکو اپنے ساتھ لے جانے آیا تھا …
اور اسکو روکنے والا کوئی نہ تھا خود رضوا بھی نہیں ..
💕💕
(جاری ہے )
💕💕💕💕💕💕