Ishq E Junoon By Iqra Sheikh Readelle50202 Episode 21
No Download Link
Rate this Novel
Episode 21
” صبح جب وہ جاگا تو سب سے پہلے اسکی نظر رضوا پر پڑی جو اسکے سینے سے لگی ہوئی سو رہی تھی ”
” اسکے کھلے بالوں نے مکمل طور پر اسکا چہرہ چھپایا ہوا تھا ”
” اسکو اس طرح سے سوتا دیکھ کر کاوش کے ہونٹوں پر ایک دلکش مسکراہٹ آئی تھی ”
اس نے رضوا کی کمر سے ہاتھ ہٹا کر اسکے چہرے پر آئے بالوں کو نرمی سے اسکے کان کے پیچھے کئے تھے ”
” وہ دنیا جہان کی معدومیت لئے کسی چھوٹے بچے کی طرح اس سے چپکی ہوئی سو رہی تھی ”
”کاوش اسکے چہرے کو دیکھتا آنکھوں کے راستے دل میں اتار رہا تھا ”
” وہ اسکی محبت تھی لیکن اسکی محبت اسکا عشق اسکا جنون بن چکی تھی ”
” اس نے سوچ لیا تھا کہ وہ اب اپنے اور رضوا کے بیچ کسی کو نہیں آنے دیگا .
”کسی کو بھی نہیں ”
” وہ نرمی سے اسکے رخسار کو سہلاتا ہوا سوچ رہا تھا اسکا دل کر رہا تھا کہ وہ اسکو بس یوں ہی دیکھتا رہے ”
” اسکی نظروں کی تپیش اور اسکے لمس میں اتنی شدت تھی کہ رضوا ہلکا سا کسمسا کر اس سے دور ہوئی تھی ”
” کاوش کو اسکا نیند میں بھی خود سے دور جانا بلکل پسند نہیں آیا تھا ”
” اس نے رضوا کو کمر سے پکڑ کر اپنی طرف کھینچا تو وہ کسی بےجان گڑیا کی طرح پھر سے اسکے سینے سے آ لگی تھی ”
” ابھی کچھ دیر سونے کی وجہ سے وہ ابھی بھی گہری نیند میں تھی ”
” اسکو یوں سوتا دیکھ کر کاوش شوخی سے مسکرایا اور اسکی گردن پر جھک کر خود کو سیراب کرنے لگا “
” کچھ دیر تک وہ یوں ہی اس پر اس پر جھکا رہا تھا جبکہ رضوا پر ابھی بھی کوئی اثر نہیں ہوا تھا وہ یوں ہی بےخبر سوتی رہی ”
” اسکی اتنی گہری نیند پر کاوش کی مسکراہٹ مزید گہری ہوئی”
”دل پھر سے شرارت کرنے پر آمادہ ہو رہا تھا ”
‘ اور ایک بار پھر وہ اپنے دل کی خوائش کو سنتے ہوئے اس نے اپنی انگلیاں رضوا کے بالوں میں پھنسائی اور اسکے ہونٹ پر اپنے ہونٹ رکھ دئے تھے ”
” رضوا جو گہری نیند میں سو رہی تھی اپنے سانس رکتا ہوا محسوس ہونے پر اسکی آنکھیں یکدم سے کھلی تھی ”
” کاوش کی اس گستاخی پر اسکی نیند پوری طرح سے اڑی تھی ”
” اس نے اسکے سینے پر ہاتھ رکھ کر اسکو دور کرنا چاہا مگر اسکی مزاحمت پر کاوش کی گرفت میں مزید سختی آئی تھی”
” رضوا کو جب لگا کہ وہ اب برداشت نہیں کر پاۓ گی تو اس نے اپنی پوری طاقت لگا کر اسکو خود سے دور کیا تھا ”
” آپ بہت برے ہیں ..
”بری طرح شرماتے ہوئے اسکے سینے میں اپنا چہرہ چھپایا تھا ”
” برا کیوں یار میں تو تمھیں پیار کر رہا تھا ”
” وہ اسکی کمر کو سہلاتا ہوا شوخ لہجے میں بولا “
“‘ آپ مجھے پریشان کر رہے ہیں اور میری نیند بھی خراب کر دی آپنے ”
” ایک اور شکایات کی گئی ”
” تمہاری یہ نیند ہی تو میری نیت خراب کر رہی تھی جاناں”
” وہ اسکے چہرہ اپنے سامنے کرتا ہوا بولا جبکہ رضوا کی شرم سے آنکھیں مزید جھک گئی تھی ”
” اور میں چاہتا ہوں جب تم میرے قریب ہو تو صرف مجھے دیکھو مجھے سوچوں مجھ پر توجہ دو ”
” تمہارے ہونٹوں سے نکلا ہر ایک لفظ صرف میرے لئے ہو ”
” وہ ایک ہاتھ سے اسکا چہرہ تھام کر انگوٹھے سے اسکے ہونٹ کو سہلاتا ہوا بولا ‘”
‘” اسکے ہر ایک لفظ میں رضوا کے لئے محبت تھی بےپناہ محبت ”
” وہ محبت جس میں جنون ہے دیوانگی ہے “
‘” دوگی نہ ”
” اسکا چہرہ تھوڑا سا اونچا کیا تو رضوا نے اپنی جھکی نظروں کو اٹھا کر اسکی طرف دیکھا اور ہاں میں گردن ہلائی تھی ‘”
‘” اسکے اس انداز پر کاوش کی مسکراہٹ گہری ہوئی اور وہ اس پر پھر سے جھکا تھا ”
‘” کاوش مجھے نیند آ رہی ہے پلز سونے دیں “
‘” اسکو پھر سے رات والے موڈ میں آتے دیکھ وہ التجائی انداز میں بولی تھی ”
” رضوا کی آواز پر کاوش نے اپنا چہرہ اٹھا کر اسکی آنکھوں میں دیکھا جو نیند کی وجہ سے سرخ ہو رہی تھی ‘”
‘” ٹھیک ہے اب تم اچھے سے اپنی نیند پوری کر لو تاکہ بعد میں تمہاری یہ نیند مجھے ڈسٹرب نہ کرے ”
” ذو معنی لہجے میں کہتے ہوئے اسکی پیشانی پر اپنے لب رکھے اور اسکے اوپر کمفرٹر صحیح کرتا ہوا اٹھا اور واشروم میں گھس گیا تھا ”
” رضوا جو نیند کے خمار میں تھی اسکی بات کا مطلب سمجھے بغیر پھر سے نیند کی وادیوں میں اتر گئی تھی ”
💕💕
” وہ بیڈ پر لیٹی بس ایک ٹک چھت کو گھور رہی تھی اسکی زندگی میں ایسا بھی ہوگا اس نے کبھی نہیں سوچا تھا ”
” پہلے تو اس شخص سے محبت ہوئی جس سے وہ نفرت کرتی تھی ”
” اور اب جب اس شخص سے محبت ہوئی تو وہ اس سے نفرت کرنے لگا تھا ”
” نفرت تھی یا غصّہ مگر وہ اسکی شکل تک دیکھنا نہیں چاہتا تھا ”
” دو دن ہو گئے تھے اسکو گئے ہوئے اور ان دو دنوں میں اس نے ایک بار بھی پلٹ کر نہیں دیکھا تھا ”
” پچھلے دو دنوں میں وہ اتنا رو چکی تھی کہ لگتا تھا کہ اب جیسے آنسوں بھی ختم ہو گئے تھے ”
”پتہ نہیں کہا تھا وہ کس حال میں اسکو کچھ معلوم نہیں تھا مگر منال کا دل تڑپ تھا حیدر کو نظر دیکھنے کے لئے ”
” وه ایسی ہی لیٹی اپنی سوچوں میں گم تھی جب کوئی دروازہ زور سے بند کرتا اندر داخل ہوا تھا ”
” آواز پر منال نے اپنی آنکھوں پہ سے بازو ہٹا کر دیکھا تو حیدر کو اپنے سامنے کھڑا دیکھ کر وہ یکدم سے بیڈ سے اٹھی اور دوڑتی ہوئی اسکے سینے سے جا لگی تھی ”
” حیدر آپ کہاں چلے گئے جانتے ہیں کتنا پریشان رہی ہوں میں آپکے لئے ”
” وہ اسکے سینے سے لگی آنسوں بہا رہی تھی جبکہ حیدر کا چہرہ سپاٹ تھا ”
” دم گھٹ رہا تھا میرا اس گھر میں سکون چاہتا تھا میں مگر اب لگتا ہے میری زندگی میں سکون باقی نہیں رہا ہے ”
” وہ منال کو بےدردی سے خود سے دور کرتا سرد لہجے میں بولا تھا ”
”اس دن یہاں سے جانے کے بعد وہ سیدھا اپنے فلیٹ پر گیا تھا اسکا غصہ کسی بھی طرح کم نہیں ہو رہا تھا ”
” وہ دونوں ہی اسکے لئے خاص تھے اور ان دونوں نے ہی اسکے ساتھ ایسا کیا تھا ”
” جبکہ اسکے سرد لہجے میں کہی گئی بات پر منال کے دل کو بری طرح سے چوٹ لگی تھی ”
” جس شخص کو اس نے اپنے لئے صرف محبت بھرے الفاظ کہتے سنا تھا آج وہ اس سے دوری چاہتا تھا اسکی شکل تک دیکھنا پسند نہیں کر رہا تھا ”
” حیدر پلز بس تم میری ایک بار بات سن لو میں تمھیں سب سچ بتانے ہی والی تھی لیکن اس دن ..
” کب بتانے والی تھی تم منال ”
”آخر کب ?
” وہ اس پر دہاڈا تھا ”
اسکی دہاڈ پر منال کا ننھا سا دل سہم سا گیا تھا ”
” اگر تمھیں بتانا ہوتا نہ تو تم پہلے دن ہی سب بتا دیتی ”
”مگر نہیں تم کیوں بتاتی ”
” تم تو اپنی نفرت اپنے بدلے میں آکر مجھ سے نکاح کے لئے راضی ہوئی تھی نہ ”
” وہ اس وقت غصّے میں بولتا ہوا منال کو کہیں سے بھی اپنا حیدر نہیں لگ رہا تھا ”
” حیدر میں مانتی ہوں پر ایک بار میری بات تو سن لو ”
اس نے ریکویسٹ کی تھی ”
” تمھیں کیا لگا منال یہ سب جاننے کے بعد میں سمجھ نہیں پاؤں گا تمھیں مجھے ناپسند کرنے کی کیا وجہ تھی ”
سب سمجھ چکا ہوں میں منال ”
” میری تم سے محبت سچی تھی منال لیکن افسوس میں تمہاری طرف سے بھی غلطفہمی کا شکار رہا ”
” اس بار اسکا لہجہ نم ہوا تھا ”
” حیدر تم جو کہہ رہے ہو وہ سب ٹھیک ہے مگر میں بھی تم سے محبت کرتی ہوں ..
پہلے مجھ غلطفہمی تھی تمھیں لیکر مگر وقت کے ساتھ ساتھ وہ سب ختم ہوتی چلی گئی ”
” اور پھر میرا دل بھی تمھیں کب چاہنے لگا مجھے بھی خبر نہیں ہوئی ”
بس تمھیں بتاتے ہوئے ڈرتی تھی صرف اسی دن کی وجہ سے”
” اس نے روتے ہوئے اپنی محبت کا عتراف کیا تھا اگر کوئی اور وقت ہوتا تو حیدر خوشی سے جھوم اٹھتا مگر اب حالات الگ تھے ”
” چلو مان لیا تمہاری نفرت اپنی بہن کی وجہ سے تھی مگر تم نے تو مجھ سے میری بہن کے بارے میں بھی سب چھپا کر رکھا ہوا تھا ”
” مانا کہ میں نے آج تک تم سے اپنی بہن کا ذکر نہیں کیا مگر تم تو سب جانتی تھی نہ یہ بات پھر بھی چھپا کر رکھی مجھ سے ”
” کیا یہی تھی تمہاری محبت ”
” وہ ٹوٹے لہجے میں اس سے سوال کر رہا تھا
جن دو لوگوں سے اس نے اتنی محبت کی آج ان دونوں نے اسکا بھروسہ توڑا تھا ”
” میں مجبور تھی حیدر اگر تمھیں معلوم ہو جاتا رضوا کے بارے میں تو تم یقیناً اپنے ڈیڈ کے کہنے پر ان دونوں کو الگ کرنے کی کوشش کرتے ”
” جبکہ تم اپنے ڈیڈ کے بارے میں بھی کچھ نہیں جانتے تھے”
” منال کو آج موقع ملا تھا اپنی صفائی پیش کرنے کا جس کو وہ چھوڑنا نہیں چاہتی تھی ”
” مجھے تو یہ بھی لگتا تھا کہ میں تمھیں بہت اچھی طرح سے جانتا ہوں مگر ایسا نہیں ہے ”
” وہ اس سے دو قدم پیچھے ہوا تھا ”
” اسکے اس طرح سے پیچھے ہونے پر منال کو لگا تھا جیسے وہ اس سے دور جا رہا ہو ”
” نہیں حیدر ایسا نہیں ہے میں وہی منال ہوں جس سے تم نے محبت کی ”
” وہ حیدر کے دونوں بازو کو تھامتی ہوئی بھیگی آنکھوں سے اسکی طرف دیکھ رہی تھی ”
”ہاں تم وہی منال ہو جس سے میں نے محبت کی لیکن تمہارے دھوکے نے میرا اعتبار توڑا ہے میرا مان توڑا ہے ”
” وہ اسکی بھیگی آنکھوں سے نظریں چراتا ہوا بولا
اسکا دل پگھل رہا تھا منال کی حالت دیکھ کر مگر وہ خود کو پتھر بناۓ کھڑا رہا ”
” اور رہی بات رضوا کی تو میرا اب بھی وہی فیصلہ ہے میں اس شخص کے پاس اپنی بہن کو نہیں رہنے دوں گا ”
” اس نے منال کے ہاتھوں کو بری طرح سے جھٹکا اور بغیر اسکی طرف دیکھے واشروم میں جا گھسا تھا ”
” جبکہ منال اسکے اس طرح سے کرنے پر روتی ہوئی زمین پر بیٹھتی چلی گئی تھی ”
” اسکی سسکی کی آواز سن کر حیدر نے سختی سے اپنی مٹھی بھینچ لی تھی ”
💕💕
” وہ ڈریسنگ کے سامنے کھڑی اپنے بال سلجھا رہی تھی جب ایک پل کے لئے اسکے چلتے ہاتھ رکے تھے ”
” وہ جب بھی خود کو یوں آئنے میں دیکھتی تو اپنے آپ کو دیکھ کر حیران ہی رہ جاتی تھی ”
”وہ پہلے سے ہی اتنی خوبصورت تھی یا کاوش کی محبت نے اسکو ایسا بنا دیا تھا ”
” ہاں یہ کاوش کی محبت کا ہی اثر تھا ”
” اسکے دل نے سرگوشی کی تھی ”
”اپنے دل کی اس بات پر رضوا کے ہونٹوں پر خوبصورت سی مسکراہٹ آئی تھی ”
” ہر لمحہ اس سے ڈرنے والی لڑکی اب اسکے ساتھ خوش رہنے لگی تھی ”
” یہ اسکی محبت کا ہی تو جادو تھا جو وہ ہر وقت بس اسکے بارے میں سوچنے لگی تھی ”
”کیا بات ہے اکیلے اکیلے کیوں مسکرایا جا رہا ہے ”
” کاوش پیچھے سے اسکو اپنی باہوں کے حصار میں لیتے ہوئے بولا ”
” وہ اپنی سوچوں میں اس قدر گم تھی کہ اسکو خبر ہی نہیں ہوئی تھی کہ وہ کب کمرے میں آیا تھا ”
”کاوش کی آواز پر وہ جیسے ہوش میں آئی تھی ”
” آپ کب آئے رضوا کے ہونٹوں پر شرمیلی سے مسکراہٹ آئی تھی اس نے آئنے میں سے کاوش کی طرف دیکھا جو اسکے کندھے پر اپنی تھوڈی رکھے اسی کو تک رہا تھا ”
” جب تم میرے خیالوں میں گم تھی ”
” وہ اسکے بالوں سے آتی شیمپوں کی خوشبو کو اپنے اندر اتارتا ہوا بولا ”
” وہ کہیں بھی چلا جائے اسکو سکون صرف رضوا کے قریب آکر ہی ملتا تھا ”
” اسکی گرم سانسیں اپنے کان اور گردن پر محسوس کر کے رضوا نے گھبرا کر اپنی آنکھیں بند کی تھی ”
” اسکی قربت اسکو جلا دیتی تھی ”
” اسکی بند آنکھیں دیکھ کر کاوش ہلکے سے مسکرایا اور اپنے کوٹ کی پاکٹ میں سے ایک خوبصورت سا پینڈنٹ نکال کر اسکی صراحی دار گردن میں پہنایا تھا ”
” رضوا بس آنکھیں بند کئے اسکی انگلیوں کا لمس اپنی گردن پر محسوس کر رہی تھی ”
” میری زندگی کا پہلا تحفہ اپنی زندگی کے لئے ”
” آنکھیں کھول کر بتاؤ جاناں کیسا لگا ?
” وہ پھر سے اسکے کندھے پر اپنی تھوڈی ٹکاتا ہوا بولا تو رضوا نے یکدم سے اپنی آنکھیں کھولی تھی ”
” اسکی نظر جیسے ہی اپنی گلے میں موجود پینڈنٹ پر پڑی تو بس اسکو دیکھتی ہی رہ گئی تھی ”
”وہ بہت خوبصورت تھا ”
” اسکو کاوش کی پسند پر رشک آیا تھا ”
” بہت خوبصورت ہے ”
”وہ اسکو چھوتی ہوئی بےخودی کے علم میں بولی ”
”اسکی اس بےخودی پر کاوش ہکلے سے مسکرایا تھا ”
” خوبصورت تو ہے لیکن تم سے کم”
” بلکہ تمہاری گردن میں آکر اسکی خوبصورتی مزید بڑھ گئی تھی”
” وہ اسکے پینڈنٹ پر انگلی پھیرتا ہوا بولا اس سے پہلے کے اسکی انگلی مزید سفر طے کرتی رضوا نے گھبرا کر اسکا ہاتھ پکڑا تھا ”
” اسکے اس طرح سے کرنے پر کاوش کو کچھ وقت پہلے والا واقع یاد آیا جب وہ ایسے ہی گھبرائی تھی ”
” اچھا یہ بتاؤ میں تمہارے لئے اتنا اچھا تحفہ لایا ہوں بدلے میں مجھے بھی تو کچھ ملنا چاہئے نہ ”
”وہ اسکی پیشت پر بکھرے بالوں کو ایک سائیڈ پر کرتا ہوا بولا ”
” اسکی اس نئی فرمائش پر رضوا کی گھبراہٹ میں مزید اضافہ ہوا تھا ”
” وہ کب کیا کر جائے اسکو کچھ معلوم نہیں تھا ”
” کیا چاہتے ہیں آپ ?
” گھبرائی ہوئی آواز میں پوچھا گیا تھا ”
” میں تمھیں چاہتا ہوں رضوا اور میری یہ چاہ کبھی ختم ہی نہیں ہوتی ہے ”
” وہ ابھی بھی پیچھے سے اسکو اپنی باہوں کے حصار میں لئے ہوئے تھا جبکہ اسکی انگلیاں رضوا کی شرٹ کی زپ تک پہنچی تھی ”
” اور اپنی اس چاہ کو پوری کرنے کے لئے مجھے تمہاری اجازت کی بھی ضرورت نہیں ہے ”
” وہ اسکے کندھے پر اپنے لب رکھتا ہوا خمار آلودہ لہجے میں بولا ”
” اپنی شرٹ کی زپ کھلتی ہوئی محسوس کر کے رضوا نے گھبرا کر اپنا رخ اسکی طرف کیا اور اپنا چہرہ اسکے سینے میں چھپایا تھا ”
” اسکی شرٹ کو سختی سے اپنی مٹھی میں جکڑ کر پھر سے اپنے الفاظ دوہراۓ گئے تھے ”
” چلو آج تمھیں یہ بھی بتا دیتا ہوں کہ میں کتنا برا ہوں ”
” اپنی بات کہہ کر کاوش نے اسکو اپنی باہوں میں اٹھایا اور بیڈ کی طرف بڑھا تھا ”
” رضوا کو معلوم تھا کہ اب فرار کی راہ ممکن نہیں ہے ”
”کیونکہ اسکو روکنا رضوا کے بس میں نہیں تھا ”
💕💕
” حیدر کہاں جا رہے ہو میری بات سنو ”
” وہ تیز تیز قدم اٹھاتا باہر جا رہا تھا جب یاسر صاحب نے پیچھے سے اسکو آواز دی تھی مگر وہ نظر انداز کرتا آگے بڑھا تھا ”
” حیدر میں نے کہا نہ رک جاؤ ”
” اس بار انہوں نے تیز آواز میں اسکو مخاطب کیا تھا انکی آواز پر یسرا بھی لاؤنج سے نکل کر انکے قریب آئی تھی ”
” اس دن کے بعد سے انہوں نے کتنی کوشش کی تھی اس سے بات کرنے کی اس فلیٹ پر بھی گئے تھے مگر وہ انکی کوئی بات سننے کو تیار ہی نہیں تھا ”
” کیوں رکو میں اور کس حق سے روک رہے ہیں آپ مجھے ”
” انکی تیز آواز پر اسکے قدم رکے تھے اور پلٹ کر وہ چلایا تھا ”
” باپ ہوں میں تمہارا ”
”تمھیں میری بات سننی ہی ہوگی ”
”انکے لہجے میں حقم تھا رعب تھا “
” جبکہ انکی بات سن کر حیدر تلخی سے مسکرایا تھا ”
‘ باپ ”
” ارے آپ جیسا خودغرض انسان باپ کہلانے کے لائق ہی نہیں ہے ”
‘” جس نے پوری امر صرف اپنے بارے میں سوچا صرف اپنی خوشی کے بارے میں ”
” اور آپکی اس خوشی نے میری مان کی جان لے لی ”
” وہ ایک نفرت بھری نظر یسرا بیگم پر ڈالتا ہوا بولا ”
” انہیں بنا کر لایں تھے آپ ہماری نئی ماں جو ماں تو دور آپکی بیوی بننے کے لائق بھی نہیں تھی ”
” وہ نفرت سے ان دونوں کی طرف دیکھ رہا تھا ”
” جبکہ اسکے لہجے میں اپنے لئے نفرت محسوس کر کے یاسر صاحب تو کچھ بولنے کے قابل ہی نہیں رہے تھے ”
” اور کیا بتاؤ گے آپ مجھے ”
” ایک اور جھوٹی کہانی ”
” آپکو کیا لگتا ہے میں اس بار آپکی باتوں پر یقین کر لوں گا”
” نہیں ڈیڈ بلکل نہیں”
” میں اب بچا نہیں رہا جو آپکی جھوٹی کہانی کو سچ مان لوں گا جیسے دس سال پہلے آپ پر یقین کر لیا تھا ”
” وہ سخت لہجے میں ان سے مخاطب تھا اور زندگی میں ایسا پہلی بار ہو رہا تھا ”
” بیٹا میری بات تو سنو ”
” یاسر صاحب نے اپنی صفائی میں کچھ کہنا چاہا تھا ”
” مت کہیں مجھے بیٹا آپ یہ حق بہت پہلے کھو چکے ہیں”
” آپکی وجہ سے ہم نے اپنی ماں کو کھو دیا ”
” اور اب صرف آپکی وجہ سے میں اپنی بہن سے بھی دور ہوں”
”اگر آپ حسن انکل کے ساتھ ایسا نہ کرتے تو حالات کچھ اور ہوتے ”
” پتہ نہیں میری بہن کس حال میں ہوگی ”
” اسکو یکدم سے رضوا کا خیال آیا تھا ”
” کاوش سے انکی اتنی نفرت کی وجہ وہ سمجھ چکا تھا اب اسکو اپنی بہن کی بھی فکر ہوئی تھی نہ جانے وہ اسکی بہن کے ساتھ کیسا سلوک کر رہا ہوگا ”
” ایک بات سن لیں آپ اگر آپکی وجہ سے میری بہن کو کاوش نے ذرا بھی نقصان پہنچایا تو میں آپکو کبھی معاف نہیں کروں گا ”
” وہ وارن کرنے والے انداز میں بولا تھا ”
” رضوا کو کچھ نہیں ہوگا میں وعدہ کرتا ہوں تم سے میں اسکو سہی سلامت تمہارے سامنے لے آؤں گا ”
” تم اسکی فکر نا کرو ”
” اسکی بات پر یاسر صاحب یکدم سے بولے تھے وہ چاہے کتنے ہی خودغرض تھے مگر انہیں اپنی اولاد سے بہت محبت تھی ”
” نہیں بہت شکریہ آپکا ”
” جیتا اب تک آپ کر چکے ہیں کافی ہے ہمارے لئے ”
” میں اپنی بہن کی حفاظت خود کر سکتا ہوں اس لئے آپکو ہمارے لئے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہیں ”
” وہ ایک سرد نگاہ ان دونوں پر ڈالتا تیزی سے باہر نکلا تھا اسکو بس جلد اپنی بہن تک پہنچنے کے لئے کاوش کا پتہ لگانا تھا ”
” جبکہ اسکے انداز میں چھپی نفرت اسکا سرد رویہ محسوس کر کے یاسر صاحب کھڑے ہی رہ گئے تھے زندگی میں ایسا بھی وقت آئے گا انہوں نے کبھی نہیں سوچا تھا ”
💕💕
(جاری ہے )
