103.8K
25

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 8

” ‘یاسر جو کچھ بھی میں سن رہا ہوں کیا وہ سچ ہے
اگر سچ بھی ہے تو تم ایسا کر بھی کیسے سکتے ہو تمھیں ذرا شرم نہیں آئی یہ سب کرتے وقت ..
‘ ” یاسر اپنے آفس میں بیٹھے تھے جب حسن غصّے میں انکے آفس میں داخل ہوئے تھے ..
‘ ” انکی بات اور چہرے پر غصّہ دیکھ کے یاسر نے ناسمجھی سے انکی طرف دیکھا تھا ..
‘ ” کیا سن لیا تم نے حسن اور کس بات کی شرم آنی چاہیے مجھے ..
میں تمہاری بات سمجھا نہیں .
یاسر اپنی جگہ سے کھڑے ہوئے تھے ..
‘ ” آج انہوں نے شاید پہلی بار حسن کو اتنے غصّے میں دیکھا اور وہ بھی انکے اوپر اتنا غصّہ .
یاسر کے لئے یہ بڑی بات تھی ..
‘ ” اتنے معصوم اور انجان بننے کی ایکٹنگ میرے سامنے نہ ہی کرو تو اچھا ہے ..
تم بہت اچھی طرح سے جانتے ہو میں کس بارے میں بات کر رہا ہوں ..
‘” حسن بھی غصّے میں انکی طرف بڑھے تھے پہلی بار وہ اتنے سخت لہجے میں اپنے دوست سے بات کر رہے تھے ..
” ‘ جبکہ یاسر ابھی بھی انکے غصّے کی وجہ سمجھ نہیں پا رہے تھے ..
‘ ” تم مجھے بتاؤ آخر اتنے غصّے میں کیوں ہو .
وجہ کیا ہے ..
‘ ” یاسر نے حسن کے کندھے پر ہاتھ رکھنا چاہا جسے حسن نے بےدردی سے جھٹک دیا تھا ..
‘ ” بہت کچھ غلط ہو رہا ہے یاسر
تم اتنا غلط کرکے بھی مجھ سے پوچھ رہے ہو ..
کیا ایک بار بھی تمھیں اپنی بیوی اپنے بچوں کا خیال نہیں آیا ..
” یہ سب کرتے وقت ..
حسن اپنے دوست کو شکوہ بھری نظروں سے اپنے دوست کو دیکھ رہے تھے ..
” ‘ بس یہ بات تھی اور اتنی سی بات کے لئے تم مجھ پر غصّہ کر رہے ہو ..
ویسے کس سے معلوم ہوا تمھیں یہ سب ..
” ‘ حسن کی ساری بات سمجھ آ جانے پر وہ دو قدم پیچھے ہوئے تھے ..
انکا انداز اتنا نارمل تھا کہ جیسے یہ کوئی بہت معمولی بات ہو ..
” ‘ شاید تم بھول رہے ہو میں تمہارا دوست ہوں ہر بات کی خبر رہتی ہے مجھے ..
اور یہ تمہارے لئے معمولی بات ہے ..
” ‘ تم دوسری عورت کے لئے اپنی بیوی کو دھوکہ دے رہے ہو
اس بیوی کو جو تمہارے بچوں کی ماں ہے ..
” ‘ کیا تمھیں ایک بار بھی خیال نہیں آیا سارہ کا یہ سب کرتے وقت ..
حسن کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ اپنے سامنے کھڑے اس بےحس شخص کا منہ تھپڑ سے لال کر ہی کر دیتے ..
‘” میں نے کچھ غلط نہیں کیا حسن محبت کرتا ہوں میں یسرا سے ..
میرا نہیں خیال کہ محبت کرنا غلط ہے ..
‘ ” انکو اس وقت کچھ غلط نہیں لگ رہا تھا ..
‘ ” محبت کرنا غلط نہیں ہے بلکہ دھوکہ دینا غلط ہے اور اس وقت تم سارہ کو دھوکہ دے رہے ہو ..
بلکہ وہ عورت بھی غلط ہے جو اپنی وجہ سے دوسری عورت کا گھر برباد کر رہی ہے ..
اسکو صرف تمہارے پیسوں سے محبت ہے تم سے نہیں …
حسن نے اس عورت کی حقیقت بتانی چاہی تھی اپنے دوست کو ..
“کیونکہ وہ یسرا کے بارے میں ساری معلومات کروا کر ہی اسکے پاس آئے تھے ..
” ” حسن پلز تم میرے دوست ہو اس لئے میں تمہاری عزت کر رہا ہوں یسرا کے بارے میں میں اب اک لفظ مزید برداشت نہیں کر سکتا ..
یاسر کو یکدم سے غصّہ آیا تھا ..
‘ ” میں تم سے محبت کرتا ہوں اس لئے تمھیں سمجھانے آ گیا ..
وقت ہے تمہارے پاس سمبھال جاؤ ..
ورنہ تم بہت پچھتاؤ گے …
‘ ” حسن اپنی بات مکمل کر کے وہاں رکے نہیں تھے جبکہ یاسر انکی بات پر اپنا غصّہ ضبط کر کے رہ گئے تھے
” ‘ 💕💕
“‘ ” ڈیڈ کیا ہوا آپ یہاں اکیلے کیوں بیٹھے ہیں ..
” حیدر جب تھکا ہارا گھر واپس آیا تو اپنے باپ کو لاؤنج میں اکیلا بیٹھا دیکھ کر انکے پاس آیا تھا ..
” ‘ ڈیڈ میں آپسے بات کر رہا ہوں .
یاسر صاحب نے جب اسکی بات کا کوئی جواب نہیں دیا تو اس نے انکے کندھے پر ہاتھ رکھ کر انکو مخاطب کیا تھا ..
“‘ ” یاسر صاحب جو کسی گہری سوچ میں گم تھے حیدر کے مخاطب کرنے پر ہوش میں آئے تھے ۔
ہاں ..بیٹا کچھ نہیں بس ایسے ہی بیٹھا تھا ..
تم بتاؤ کب آئے ؟
‘ ” انہوں نے اپنے چہرے پر ہاتھ پھیر کر خود کو جیسے نارمل کیا تھا ..
‘ ” آج پورا دن انکا پریشانی میں گزرا تھا انکی سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ کیا کریں ..
” جہاں تک انکو لگتا تھا کہ کاوش رضوا کو کچھ نہیں کہے گا مگر پھر بھی انہیں اپنی رضوا کو واپس لانا تھا جلد سے جلد ..
‘ ” میں بس ابھی آیا ہوں آپ اتنے پریشان کیوں لگ رہے ہیں کوئی بات ہوئی ہے کیا ?
وہ انکے قریب ہی دوسرے صوفہ پر بیٹھا اور اپنے باپ کو جاچتی ہوئی نظروں سے دیکھنے لگا ..
‘ ” کچھ نہیں سب ٹھیک ہے
تم بتاؤ آج کا دن کیسا رہا ?
انہوں نے ادھر ادھر کی بات شروع کرنی چاہی تھی.
‘ ” اپنے باپ کی بات پر یکدم سے اسکی نظروں کے سامنے منال کا روتا ہوا چہرہ آیا تھا ..
کتنی تکلیف ہو رہی تھی اسکو منال کو روتا ہوا دیکھ کر ..
‘ ” اسکا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ اسکو اپنی باہوں میں بھر کے اسکے غم کو کم کرنے کی کوشش کرتا اسکے بہتے ہوئے آنسوں کو صاف کرتا ..
” لیکن اس وقت وہ خود پر ضبط کر گیا تھا ..
‘ ” دن تو ٹھیک رہا ڈیڈ بس تھوڑا تھک گیا ہوں آج ..
‘ ” تو بیٹا جاؤ جاکر آرام کرو مجھے تو تمہارا چہرہ بھی اترا ہوا لگ رہا ہے ..
انکے لہجے میں اپنے بیٹے کے لئے بہت محبت تھی ..
‘ ” نہیں ڈیڈ ایسی بات نہیں ہے بس آپ مجھے اتنا بتا دیں کہ آج چھوڑ آئے آپ رضوا کو ..
رہ لیگی نہ وہ وہاں اکیلے ..
‘ “اب وہ اپنے مطلب کی بات پر آیا تھا ..
‘ “جبکہ اسکی بات سن کر کچھ لمحوں کے لئے یاسر صاحب خاموش رہ گئے تھے ..
اس سوال سے ہی تو وہ بچنا چاہ رہے تھے .
‘ ” انکی سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ اسکو کیا جواب دیں ..
اگر سچ بتا دیتے تو حیدر غصّے میں آ جائے گا اور پھر انکو کاوش کا بھی ڈر تھا ..
” ” بتائے نہ ڈیڈ چھوڑ آئے آپ ?
اس نے پھر سے اپنا سوال دوہرایا تھا ..
‘ ” ہاں بیٹا چھوڑ آیا اور وہاں کے سب ملازموں کو بھی سب اچھے سے سمجھا دیا ہے تم بےفکر رہو ..
” وہ اسکو سچ بتانا نہیں چاہتے تھے انہوں نے سوچ لیا تھا کہ وہ خود ہی کچھ کر لیں گے ..
‘ ” چلیں اچھی بات ہے میں صبح کال کرتا ہوں رضوا کو .
وہ اپنی جگہ سے کھڑا ہوا تھا ..
‘ ” نہیں بیٹا ابھی کچھ دن مت کرنا ورنہ وہ یہاں آنے کی ضد کرے گی ..
بہت مشکل سے سمجھایا تھا اسکو ..
ایک اور جھوٹ بولا گیا …
‘ ‘ “ٹھیک ہے ڈیڈ جیسی آپکی مرضی رضوا کے لئے کچھ بھی ..
وہ اپنی بات کہہ کر مسکرایا تو یاسر صاحب بھی ہولے سے مسکرا دئے ..
فلحال تو انہوں نے بات سمبھال لی تھی ..
💕💕
” ‘ رضوا دروازہ کھولو ..
میں یہ آخری بار کہہ رہا ہوں شرافت سے دروازہ کھول دو..
” ‘ وہ دروازہ کے پاس کھڑا اندر موجود رضوا سے مخاطب تھا ..
جب وہ اسکے پاس سے گئی تھی تب تو وہ اسکے پاس نہیں گیا تھا اور نہ اس نے یہ جاننے کی کوشش کی تھی کہ وہ اتنے بڑے گھر کے کون سے کمرے میں گئی ہوگی ..
” صبح سے رات ہونے والی تھی وہ اپنے کمرے میں آرام سے لیٹا نیند پوری کر رہا تھا ..
رات رضوا کی وجہ سے وہ اک پل کے لئے بھی نہ سو سکا تھا ..
جب نیند پوری ہوئی تو اسکو یکدم سے رضوا کا خیال آیا تو وہ فریش ہو کر اپنے کمرے سے نکل ملازمہ سے کھانے کا کہہ کر اسکو تلاش کرنے لگا ..
” ‘ ایک کمرہ لاک دیکھ کر اسکو اندازہ ہو گیا کہ رضوا اسی کمرے میں ہے تو وہ باہر کھڑا سخت لہجے میں اس سے مخاطب ہوا تھا ..
” ‘ جبکہ اسکی آواز سن کر رضوا خوفزدہ نظروں سے بند دروازے کے پیچھے سے اسکی آواز سن رہی تھی ..
” ‘ ٹھیک ہے تم نہیں کھولتی تو کوئی بات نہیں اب میں یہ دروازہ ہی توڑ دیتا ہوں ..
اور پھر میں جو کروں گا نہ اسکے بعد تم اپنی غلطی پر پچھتاؤ گی ..
” ‘ اس نے سخت لہجے میں اسکو دھمکی دی تھی
اس وقت اسکا مقصد رضوا کو ڈرانے یا رلانے کا نہیں تھا مگر وہ اسکو اس طرح کمرے میں اکیلا بھی نہیں چھوڑ سکتا تھا ..
” ‘ کاوش کی دھمکی سن کر رضوا اپنے لب چباتی ہوئی آہستہ سے دروازے کی طرف بڑھی تھی ..
اتنا تو وہ اسکو سمجھ ہی چکی تھی کہ وہ کچھ بھی کر سکتا ہے ..
” ‘ اگر اسکو خود کو اسکی سختی سے بچانہ ہے تو دروازہ کھولنا ہی تھا ..
” ‘ کاوش کچھ دیر تو خاموش کھڑا انتظار کرتا رہا جب دروازہ نہ کھلا تو جیسے ہی اس نے غصّے سے دروازہ کھولنے کے لیے ہاتھ بڑھایہ تو یکدم سے دروازہ کھلا تھا..
‘ ” دروازہ کھول کر رضوا دو قدم پیچھے ہوئی تھی
کاوش نے اک نظر اسکو دیکھ کر ملازمہ کو آواز دیکر کھانا لانے کے لئے کہا ..
اور پھر ایک نظر اسکو دیکھ کر اندر کی ترف بڑھا تھا ..
” ‘ اسکو اپنی طرف بڑھتا دیکھ کر رضوا نظریں نیچے کیے پیچھے کی طرف جا رہی تھی ..
اسکی دل کی دھڑکنے اس وقت بہت تیز ہو رہی تھی..
‘ ” وہ صبح والی حرکت بھول نہیں پائی تھی اسکی ..
جبکہ کاوش کی نظریں اسکے چہرے پر ہی جمی ہوئی تھی ..
” ‘ اتنے میں ملازمہ کھانا لیکر آئی تو کاوش نے اسکو صوفہ کے پاس موجود ٹیبل پر رکھنے کا اشارہ کیا تو وہ کھانا ٹیبل پر رکھ کر جا چکی تھی ..
” ‘ ادھر آکر بیٹھو ..
کاوش نے اسکو سرد آواز میں اپنے پاس صوفہ پر بیٹھنے کا حقم دیا تھا ..
‘ ” رضوا بیچاری ڈرتی ڈرتی اسکے پاس آئی تھی اگر وہ اسکی بات نہ مانتی یقینن وہ اسکو ضرور کچھ سزا دیتا ..
وہ اس کشمکش میں کھڑی تھی کہ کس طرح سے اسکے قریب بیٹھے ..
اسکو اس وقت شدت سے اپنے بھائی کی یاد آ رہی تھی …
” ‘”آنکھیں یکدم سے نم ہوئی تھی ..
” ‘وہ یونہی کھڑی رہتی جب کاوش نے اپنے پاس کھڑی رضوا کو بازو پکڑ سے اسکو جھٹکے سے اپنے قریب بیٹھایا تھا ..
‘ ” رضوا نے اپنی چیخ کو بہت مشکل سے روکا تھا..
‘ ” تمھیں ایک بار میں سنائی نہیں دیتا
جب میں بول رہا ہوں یہاں بیٹھ جاؤ تو فورا بیٹھ جاؤ
مجھے اک بات بار بار دوہرانے کی عادت نہیں ہے .
‘ ” وہ اسکا چہرہ اپنے قریب کرتا ہوا بولا تھا اتنا قریب کے اسکی ناک رضوا کی ناک کو چھو رہی تھی
اسکی سانسیں اپنے ہونٹوں پہ محسوس کر کے اس نے سختی سے اپنی آنکھیں بند کی تھی ..
” ‘ رضوا کو لگ رہا تھا کہ اسکی اتنی قربت ایک دن اسکی جان ہی لے لیگی ..
‘ ” کاوش کچھ دیر تو اسکی بند آنکھوں کو دیکھتا رہا پھر یکدم سے اسکا چہرہ اپنی پکڑ سے آزاد کرتا اس سے کچھ فاصلے پر ہوا تھا ..
” ‘ کھانا کھا لو ٹھنڈا ہو رہا ہے ..
” اسکی آواز پر رضوا نے یکدم سے اپنی آنکھیں کھولی تو وہ اسی کو دیکھ رہا تھا ..
” ‘ وہ جانتا تھا کہ اس نے صبح سے کچھ نہیں کھایا ہے اور یقینن اس وقت اسکو بھوک لگ رہی ہوگی اور وہ یہ بھی جانتا تھا کہ وہ پیار سے اسکی بات نہیں سنے گی اس لئے وہ اس پہ سختی کر رہا تھا ..
” ‘ رضوا اپنا خشک حلق تر کرتی آہستہ سے اپنے لئے کھانا اتارنے لگی ..
بھوک تو اسکو بہت لگی تھی مگر اسکو سامنے کھانا اسکے لئے بہت مشکل تھا ..
‘ ” وہ آہستہ سے منہ چلاتی کھانا نگل رہی تھی
کھانا ختم کرکے ہی وہ اسکی جان چھوڑنے والا تھا ..
‘ ” کاوش کی نظریں اسکے ہاتھ تو کبھی اسکے منہ کی طرف ہوتی تھی ..
اسکی خود پر مسلسل جمی نظروں سے رضوا اپنے ہاتھ میں کپکپاہٹ سی محسوس کر رہی تھی ..
‘ ” جبکہ کاوش اسکو دیکھ کر یہ سوچ رہا تھا کیا تھی یہ لڑکی جس سے وہ جتنی محبت کرتا تھا اس سے اتنی ہی نفرت بھی ..
اور ہر بار اسکی نفرت اسکی محبت کو مات دے دیتی تھی ..
‘ ” کس طرح سے کھا رہی ہو ٹھیک طرح سے کھاؤ نہ…
وہ سمجھ گیا تھا کہ وہ اسکی وجہ سے کھا نہیں پا رہی ہے مگر پھر بھی اسکو ٹوکنا ضروری سمجھا تھا اب پوری زندگی اسکے ساتھ گزارنی تھی اس لئے اسکو اس سب کی عادت ہونی ضروری تھی ..
” ‘ کاوش کا بس اتنا کہنے کی دیر تھی رضوا نے ڈر کے جلدی جلدی کھانا شروع کر دیا تھا ..
جبکہ کاوش نے بلکل نارمل انداز میں کہا تھا مگر رضوا کو اسکو نارمل انداز بھی ڈرا گیا تھا ..
“‘ ” کاوش بہت دلچسپی سے اسکے چہرے کو دیکھ رہا تھا ..
“کچھ پل اسکے ساتھ بیٹھنے کے بعد وہ کتنی جلدی اسکی بات مان گئی تھی ..
” ‘ وہ آنکھوں میں ایک الگ ہی جذبات لئے اسکو دیکھ رہا تھا جب اسکی نظر رضوا کے ہونٹ کے نیچے لگے چاول کے دانے پر پڑی ..
” ‘ جلدی جلدی کھانے کی وجہ سے وہ اپنے منہ پر دھیان ہی نہیں دے سکی تھی ..
” ‘ وہ کاوش کے ڈر سے نظریں نیچے کیے اپنا کھانا ختم کر رہی تھی جب وہ بےخودی کے عالم میں اسکے مزید قریب ہوا اور اسکے لب پر لگا وہ دانہ اپنے لبوں سے صاف کیا تھا …
” ‘ اسکی اس گستاخی پر رضوا کے ہاتھ سے چمچ چھوٹ کر زمین پر گرا تھا ..
اسکو لگا تھا کہ اسکا دل اچھل کر باہر آ جائے گا ..
” ‘ کاوش بےخود سا اس پر مزید جھکتا جا رہا تھا
اسکے ہونٹوں کا لمس اپنی گردن پر محسوس کر کے رضوا نے ہمت کی اور اپنی پوری طاقت لگا کر اسکو خود سے دور کیا تھا …
” ‘ اسکے دھکا دینے پر وہ جیسے ہوش میں آیا تھا اک نظر بری طرح کانپتی رضوا سکو دیکھا جو شرم سے پڑتا لال چہرہ لئے اسی کو دیکھ رہی تھی ..
” ‘ اسکے چہرے پر ڈر کے ساتھ ساتھ شرم و حیا کے رنگ دیکھ کر جانے کیوں کاوش کے دل کو عجیب سی خوشی محسوس ہوئی تھی …
‘ ” میرے خیال سے اب تمہارا پیٹ بھر چکا ہے اور ساتھ میں میرا بھی ..
” پہلی بار رضوا نے اسکے لہجے میں شرارت محسوس کی تھی ..
میں ملازمہ کو بھیجتا ہوں آکر یہ سب لے جائے ..
” ‘ کاوش اک نظر اسکے چہرے پر ڈالتا اپنی جگہ سے اٹھ کر کمرے سے باہر نکل گیا تھا ..
” ‘ جبکہ رضوا وہیں بیٹھی اسکی پشت کو دیکھتی رہ گئی تھی ..
وہ اسکو سمجھ نہیں پا رہی تھی یہ صبح والا کاوش حسن تو بلکل بھی نہیں تھا ..
یہ تو ایک الگ ہی کاوش تھا جسکی نظروں میں اسکے لئے جذبات تھے ..
اک الگ چمک ..
وہ اپنی جگہ بیٹھی کتنی ہی دیر تک اسکے بارے میں سوچتی رہی تھی .
💕💕
” ‘ ” ‘ منال مجھے تم سے یہ امید نہیں تھی اتنا سب کچھ ہو گیا تم نے مجھے بتانا بھی ضروری نہیں سمجھا …
کیا اتنا غیر ہو گیا ہوں میں تمہارے لئے “
” ‘ کاوش کے لہجے میں ہی نہیں اسکی آنکھوں میں بھی شکوہ تھا ..
” وہ صبح اپنے گھر سے نمرہ خالہ کے گھر ان سے ملنے کے لئے آیا مگر انکے گھر لاک لگا دیکھ کر وہ حیران ہوا تھا .
” وہ دونوں اتنی صبح کہاں جا سکتی تھی اسکو بغیر بتایں ..
پریشانی سے اس نے منال کا نمبر ڈائل کیا تھا ..
” منال سے جو خبر اسکو ملی اسکو سن کر وہ کچھ لمحوں کے لئے تو کچھ بولنے کے قابل ہی نہیں رہا تھا .
منال سے بات کرنے کے بعد وہ تیزی سے اپنی کار کی طرف بڑھا اور سیدھا ہسپتال گیا تھا ..
” ‘ یہاں آکر جہاں اسکو نمرہ خالہ کی طبیعت ٹھیک سن کر سکون ملا تھا وہیں منال کے نہ بتانے پر وہ اس سے شکوہ کرنے لگا ..
” غیر کی بات نہیں ہے کاوش سب کچھ اتنی اچانک ہوا کہ مجھے کچھ بھی سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ میں کیا کروں ..
میرے دماغ و دل میں بس امی کے لئے دعا چل رہی تھی ..
“میرا یقین کرو میں تمھیں کال کرنے ہی والی تھی مگر اس سے پہلے تمہاری ہی کال آ گئی .
” ‘ اسکی بات سن کر منال کو بہت شرمندگی محسوس ہوئی تھی “
“وہ مانتی تھی کہ اسکی غلطی تھی اسکو تو سب سے پہلے کاوش کو بلانا چاہئے تھا مگر اس وقت کچھ دھیان ہی نہیں رہا تھا اسکو ..
” ‘ کب کرنے والی تھی تم ..
کل سے تم اور خالہ اس ہسپتال میں موجود ہو اور تم اب کال کرنے والی تھی مجھے ..
مانا کہ تم لوگ میرے سگے نہیں ہو پر میں خالہ کو دل سے خالہ کہتا ہوں اور اپنی سگی خالہ کی طرح بھی سمجھتا ہوں کم از کم اس بات کا خیال کر لیتی ..
” اسکی ناراضگی ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی ..
” ‘ میں تو ابھی تک یہ سوچ رہا ہوں کل تم نے سب کس طرح سے سمبھالا ہوگا ..
کتنا مشکل رہا ہوگا تمہارے لئے “
” ‘ اسکو اسکی پریشانی کا بھی خیال تھا “
” جبکہ اسکی بات پر منال کی آنکھوں کے سامنے کل کا سارا منظر گھوم گیا تھا ..
کس طرح سے حیدر نے اسکی ہیلپ کی تھی رات بھی اس نے زبردستی اسکو واپس بھیجا تھا ..
“‘ چلو یار اب یہ سب باتیں چھوڑو سب سے زیادہ ضروری امی کی طبیعت تھی اور وہ ٹھیک ہیں اس سے زیادہ اور کچھ نہیں چاہئے ہمیں ..
” اس نے کاوش کا غصّہ کم کرنا چاہا جس پر کاوش بس گھور کر رہ گیا تھا ..
” ‘ اس بار بس خالہ کی وجہ سے معاف کر رہا ہوں ورنہ ..
وہ اسکو دیکھ کر رکا تھا ..
” ہاں ہاں سمجھ گئی صرف خالہ کی وجہ سے غصّہ کم کیا ہے تم نے چلو اب خالہ سے مل بھی لو ڈاکٹر نہ اجازت دے دی ہے ..
” ‘ وہ اسکا ہاتھ پکڑ کر نمرہ بیگم کے روم کی طرف بڑھی تھی ..
” ‘ جبکہ کچھ ہی فاصلے پر کھڑے حیدر کی رگے تن گئی تھی یہ منظر دیکھ کر ..
” آج صبح آفس جانے سے پہلے وہ منال سے ملنے آیا تھا مگر منال کے پاس کاوش کو کھڑا دیکھ کر وں سے کچھ فاصلے پر رک کر انکی باتیں سن چکا تھا ..
” ‘ اسکے تو وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ منال کا کاوش سے کوئی رشتہ بھی ہو سکتا ہے ..
“کہیں منال کا آفس میں کام کرنا کاوش کی کوئی چال تو نہیں “
” ‘اسکو کاوش کے ساتھ دیکھ کر اسکے دل میں منال کے لئے غلطفہمی پیدا ہوئی تھی ..
” ‘ اگر ایسا ہوا نہ منال تو بہت برا ہوگا تمہارے لئے ..
” وہ غصّے میں بولتا وہاں سے واپس باہر کی طرف بڑھا تھا ..
💕💕
(جاری ہے )