103.8K
25

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 3

” ‘ آپی آج میں نے اس شخص کو دیکھا
وہ بلکل میرے سامنے تھا …
“لیکن میں اسکو اپنے سامنے دیکھ کر بھی کچھ نہیں کر سکی ..
” اس وقت میں خود کو کتنا بےبس محسوس کر رہی تھی اتنا آج تک میں نے کبھی ایسا محسوس نہیں کیا..
” ‘ میرا بس نہیں چل رہا تھا کہ اسکا قتل ہی کر دیتی کتنا آرام سے رح رہا ہے وہ اپنی زندگی میں
ہماری ساری خوشیاں چھین کر …
” ‘ وہ ہاتھ میں اپنی بہن کی تصویر لئے بیٹھی باتیں کر رہی تھی .
” اسکے جانے کے بعد وہ خود بھی گھر واپس آ گئی تھی نمرہ بیگم اسکے اس طرح سے اچانک آنے پر حیران ہوئی تھی ..
” مگر وہ انکو سر درد کا بہانہ بنا کر اپنے کمرے میں آ گئی تھی اور بس تب سے بیٹھی اپنی بہن کی تصویر سے باتیں کر رہی تھی …
” ‘ آپی اگر مجھے پتہ ہوتا کہ وہ اس شخص کی کمپنی ہے تو میں کبھی وہاں نہیں جاتی …
لیکن ابھی بھی دیر نہیں ہوئی ہے ..
میں کل ہی وہ جاب چھوڑ دوں گی ….
” ‘ اس نے جیسے اک فیصلہ کیا تھا
آخر وہ کیسے ا شخص کے ساتھ کام کر سکتی تھی جس سے وہ نفرت کرتی تھی …
” ‘ کیا بات ہے منال طبیعت کو کیا ہوا تمہاری میرے یونی جانے سے پہلے تک تو تم بلکل ٹھیک تھی
اب اچانک سے طبیعت کو کیا کر لیا تم نے ?
” ‘ کاوش کمرے میں داخل ہوتے ہی بیڈ پہ بیٹھی منال سے مخاطب ہوا تھا ..
مگر اسکے ہاتھ میں تصویر دیکھ کر اک پل کے لئے رکا تھا ..
” ‘ کچھ نہیں بس ایسے ہی سر میں درد تھا مگر اب ٹھیک ہو گیا ہے ..
تم سناؤ آج کہ دیں کیسا رہا تمہارا ..
” اس نے ہاتھ میں لی ہوئی تصویر کو سائیڈ پر رکھنا چاہا مگر کاوش اسکے ہاتھ سے وہ تصویر لے چکا تھا..
” ‘ وقت کتنا جلدی گزر جاتا ہے پتہ ہی نہیں چلتا دو سال ہو گئے ہیں صنم کو کو گئے ہوئے ..
وہ تصویر کو دیکھتا ہوا بولا تھا ..
” ‘ میں نے اس وقت بہت کوشش کی تم لوگوں کے پاس آنے کی مگر میں نہیں آ سکا ..
اس وقت تمھیں اور خالہ کو میری کتنی ضرورت تھی پر میں نہیں تھا تمہارے ساتھ …
” ‘ اسکے لہجے میں گہرا دکھ تھا جو منال بہت اچھے سے سمجھ سکتی تھی ..
” ‘ کوئی بہت نہیں بس اس وقت تمہاری قسمت میں نہیں تھا یہاں آنا …
لیکن تم نے اج تک جو بھی کیا ہے ھم دونوں کے لئے وہ بھی کم نہیں ہے …
” ‘ منال اسکی شرمندگی کم کرنے کے لئے بولی ..
ووہ نہیں چاہتی تھی کہ کاوش خود کو شرمندہ محسوس کرے ..
” ‘ یہ تو میرا فرض ہے تم میری بہن جیسی ہو اور خالہ میری امی کی طرح اور پھر میں تم دونوں کا خیال نہیں رکھوں گا تو اور کون رکھے گا ..
” ‘ وہ اسکی طرف دیکھ کر ہلکا سا مسکرایا تو ووہ بھی ہنس دی تھی ..
” ‘ بس کبھی کبھی یقین نہیں آتا صنم اتنی جلدی ہم لوگوں سے دور ہو گئی آج تک میں سمجھ نہیں پایا اس نے ایسا کیوں کیا کیا وجہ تھی اسکا ایسے کرنے کی…
” ‘ وہ پرسوچ انداز میں بولا تو منال اسکی بات پہ خاموش ہو گئی تھی …
” ‘ اچھا چلو چھوڑو یہ بتاؤ آج کا پہلا دن کیسا رہا تمہارا آفس میں ..
ماحول کو دیکھتے ہوئے اس نے یکدم سے بات بدلی تھی …
” ‘ جبکہ اسکے سوال پر منال سوچ میں پر گئی تھی کہ اب اسکو کیا جواب دے ..
” ‘ ہاں …پہلا دن بس ٹھیک رہا آہستہ آہستہ عادت ہوگی ..
” اس نے بات بنائی تھی ..
وہ اسکو کچھ نہیں بتا سکتی تھی …
” ‘ چلو اچھی بات ہے اگر جاب پسند نہ آئے تو میرا اوفر ابھی ہے اسکے بارے میں سوچ لینا ….
” ‘ اس نے اپنی کمپنی میں کام کرنے کی بات یاد دلائی تھی ..
” ‘ پلز کاوش مجھے خود سے کچھ کرنا ہے اور میں اس میں کسی کی بھی مدد نہیں چاہتی .
وہ ضدی لہجے میں بولی تو اسکی بات پر کاوش بس مسکرا کر رہ گیا تھا …
” ‘ چلو باہر چلتے ہیں ورنہ خالہ بولیں گی کہ انہیں اکیلا چھوڑ کر ہم روم میں بیٹھے ہیں …
” ‘ وہ باہر کی طرف قدم بڑھاتا ہوا بولا تو منال بھی فوٹو سائیڈ پہ رکھ کر اسکے پیچھے چل دی تھی ..
💕💕
” ‘ وہ آفس میں بیٹھا کوئی فائل ریڈ کر رہا تھا جب دروازے پہ دستک ہوئی تھی ..
” اس نے فائل سے بغیر سر اٹھائے دستک دینے والے کو اندر آنے کی اجازت دی تھی ..
” اسکے اجازت ملتے ہی منال آہستہ سے قدم اٹھاتی اندر داخل ہوئی تھی .
” ‘ وہ اس وقت یہاں کس طرح سے آئی تھی یہ بس اسکا دل ہی جانتا تھا ..
لیکن اسکا پھر سے اسکے آفس میں آنا اسکی مجبوری تھی ..
” ‘ کیونکہ وہ اسکی سیکٹری تھی اس لئے جاب چھوڑنے سے پہلے اسکو انفارم کرنا ضروری تھا ..
” اب وہ خاموشی سے کھڑی تھی اسکی سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ کس طرح سے بات شروع کرے ..
‘ ” اب بولو بھی یا یوں ہی خاموش کھڑے رہنے کا ارادہ ہے ..
وہ فائل پہ نظریں جمائے بولا تھا ..
‘ “” حیدر کی بات پر منال دو قدم اور آگے بڑھی تھی …
” ‘ مجھے تمہاری کمپنی میں جاب نہیں کرنی ہے اس لئے میں یہ جاب چھوڑ رہی ہوں ..
وہ ہاتھ میں تھما کاغذ اسکی طرف بڑھاتی ہوئی بولی تھی .
” ‘ اسکی بات پہ حیدر نے یکدم سے سر اٹھایا اور اپنے سامنے کھڑی لڑکی کو دیکھ کر ایک پل کے لئے تو وہ حیران ہی رہ گیا تھا …
‘ ” یہ چہرہ وہ کیسے بھول سکتا تھا جتنا وہ اسکی خوبصورتی سے امپریس ہوا تھا اتنا ہی اسکی چلتی زبان نے اسکا خون جلایا تھا …
‘ ” لیکن کچھ تو بات خاص لگی تھی حیدر علی کو اس میں کہ اس نے دوبارہ پھر اسکو دیکھنے کی خوائش کی تھی ..
‘ ” اور اتنی جلدی اسکی خوائش پوری ہوگی یہ اسنے سوچا نہ تھا ..
دوسری اسکی بات سن کر اسکو لمحہ ہی لگا تھا سمجھنے میں کہ وہ کل جس سیکٹری کا انتظار کر رہا تھا وہ کوئی اور نہیں یہ ہی لڑکی تھی …
” یہ رہا میرا ریزنگنیشن لیٹر ۔
اسکو اپنی طرف دیکھتا پاکر منال نے وہ لیٹر اس بار اسکی ٹیبل پہ رکھا تھا …
” شاید آپنے ایگریمنٹ پر سائن کرتے وقت صحیح سے نہیں پڑھا ..
” ‘ منال کی آواز پہ جیسے وہ ہوش میں آیا تھا ..
” ‘ حیدر کی بات پر اس نے ناسمجھی سے اسکی طرف دیکھا ..
میں تم سے اجازت مانگنے نہیں آئی ہوں تمھیں بتانے آئی ہوں کہ مجھے یہ جاب نہیں کرنی ہیں ..
” اسکا لہجہ تلخ ہوا تھا جس سے حیدر کے ماتھے پر بل پڑے تھے …
” ‘ مجھے کچھ بھی بولنے سے پہلے آپ ایگریمنٹ ٹھیک سے پڑھ لیتی تو اچھا ہوتا ..
جب تک مجھے نئی سیکٹری نہیں مل جاتی تب تک آپکو اسی کمپنی میں کام کرنا ہوگا آپ ایسے ہی جاب چھوڑ کر نہیں جا سکتی ورنہ ہماری کمپنی آپ پر کیس کر سکتی ہے …
” وہ بڑی شان سے اپنی جگہ سے کھڑا ہوا اور آہستہ سے چلتا ہوا اسکے پاس آیا تھا …
اسکی بات پر منال اپنی جگہ کھڑی رہ گئی تھی یہ کیسی مصیبت میں اس نے خود کو پھنسا لیا تھا ..
” ‘ اگر آپ میری بات سمجھ گئی ہیں تو جاکر اپنی جگہ پر کام شروع کریں ..
اسکی شکل پہ پریشانی دیکھ کر وہ اپنی مسکراہٹ کو بامشکل روکتا ہوا بولا تھا ..
” ‘ اب مزہ آنے والا تھا اسکو …
” پر مجھے نہیں کرنا تمہارے ساتھ کام
وہ بھی کہاں ہار ماننے والی تھی ..
” ‘ تو ٹھیک ہے پھر آگے اپنی حالت کی آپ خود زمیدار ہونگی ..
اس نے اپنی باتوں سے ڈرانا چاہا تھا ..
‘ ” اور وہ ڈر بھی گئی تھی وہ اپنی امی کو اپنی وجہ سے پریشان نہیں کرنا چاہتی تھی
جو بھی تھا اسکو اس شخص کے ساتھ کام کرنا ہی تھا …
‘ ” مطلب آپکو منظور ہے ..
وہ مسکراتی آنکھوں سے اسکی طرف دیکھ کر بولا تھا ..
‘ ” اسکی بات پہ منال ایک نظر اس پر ڈالتی اسکے کیبن سے نکل گئی تھی اسکا رخ اب اپنے روم کی طرف تھا …
‘ ” کیا چیز ہے یہ لڑکی …
وہ اسکے جانے پر خود سے بولا تھا …
” “” لیکن اک بات اسکی سمجھ نہیں آئی تھی آخر وہ یہ جاب کیوں چھوڑنا چاہ رہی تھی ..
لیکن جو بھی تھا وہ اسکی ناپسندیدگی کی وجہ معلوم کر کے ہی رہے گا …
‘ ” بہت وقت بعد ایسا ہوا تھا کہ حیدر علی کسی لڑکی کے بارے میں جاننا چاہ رہا تھا …
💕💕
” ‘ رضوا یہاں کیوں بیٹھی ہو آج کلاس اٹینڈ نہیں کرنی ہے تمھیں ?
” وہ یونی کے پیچھے گراؤنڈ میں اکیلی بینچ پہ بیٹھی تھی جب اسکی کلاسمیٹ اسکے پاس آئی تھی ..
‘ ” وہ اک اکیلی لڑکی تھی جس سے رضوا ٹھیک سے بات کر لیتی تھی .
” وجہ اسکا رضوا کے ساتھ نرم رویہ تھا ..
‘ ” نہیں تم جاؤ آج میرے سر میں درد ہے میرے بھائی مجھے لینے آ رہے ہیں میں انکا ویٹ کر رہی ہوں ..
وہ بہانہ بناتی ہوئی بولی تو اسکا جواب سن کر وہ سر ہلاتی وہاں سے چلی گئی تھی …
‘ ” اب وہ اسکو کیا بتاتی کہ وہ کلاس کیوں اٹینڈ نہیں کر رہی ہے ..
صرف وہ اسکی ہی کلاس میں خود پہ مسلسل کسی کی نظروں کی تپیش محسوس کرتی ہے ..
‘ ” اسکے پورے بدن میں سنسناہٹ سی محسوس ہوتی تھی دل کی حالت عجیب سی ہو جاتی ہے ..
‘ ” ایک الگ سا احساس جسکو وہ سمجھ نہیں پاتی تھی..
‘ ” اور آج یونی آنے کے بعد وہ خود پر کسی کی نظریں محسوس کر رہی تھی ..
دل میں ڈر کا اضافہ بھی ہوا تو اس نے گھبرا کے حیدر کو کال کرکے اسکو گھر لے جانے کے بارے میں کہا تھا ..
‘ ” اب بیٹھی اسکے آنے کا انتظار کر رہی تھی ..
وہ ادھر ادھر دیکھ ہی رہی تھی کہ اچانک اسکی نظر سامنے کھلتے ہوئے لال گلاب پر پڑی تھی ..
‘ ” گلاب کے پھولوں کو دیکھ کر گھبراہٹ میں بھی اسکے چہرے پہ ایک خوبصورت مسکراہٹ آئی تھی ..
‘ ” وہ اپنی بک ایک سائیڈ پہ رکھ کر انکی طرف بڑھی تھی ..
گلاب بچپن سے ہی اسکو بہت پسند رہے ہیں ..
‘ ” وہ آہستہ سے قدم اٹھاتی ان خوبصورت سے پھولوں کی طرف بڑھ رہی تھی ..
وہ انکے قریب ہی بیٹھ کر بہت پیار سے انہیں دیکھ رہی تھی ..
‘ ” احتیاط سے “
“اس نے جیسے ہی ان پھولوں کو توڑنے کے لئے ہاتھ بڑھایا تو اپنے پیچھے جانی پہچانی آواز سن کر اس نے گردن موڑ کے دیکھا …
‘ ” جانے کیوں اس بار وہ کاوش کو اپنے قریب دیکھ کر خوفزدہ نہیں ہوئی تھی ..
شاید وہ ابھی بھی ان پھولوں کے سحر میں تھی ..
‘ ” وہ اسکی بات نظرانداز کرتی اک پھول کو توڑنے لگی تھی کہ جب اک کانٹا بہت زور سے اسکے ہاتھ میں چبھا تھا ..
‘ ” تھوڑا سا خون اسکی انگلی سے نکل آیا تو
تکلیف کی شدت سے اسکی منہ سے ہلکی سے چیخ نکلی تھی ..
‘ ” دکھاؤ مجھے کیا ہوا …
کاوش جو اسکی کو دیکھ رہا تھا اسکی چیخ سن اسکے پاس آیا اور اسکا زخمی ہاتھ تھام لیا ..
‘ “اسکے ہاتھ سے نکلتا خون روکنے کے لئے اس نے جلدی سے اسکی انگلی کو اپنے منہ میں ڈال لیا تھا .
‘ ” اسکی اس حرکت سے رضوا اپنی جگہ سن کھڑی رہ گئی تھی ..
اسکی جان جیسے اس انگلی میں آ گئی تھی ..
‘ ” اسکے نرم گرم ہونٹوں کا لمس اپنی انگلی پہ محسوس کر کے رضوا کی جیسے جان ہی نکل گئی تھی ..
‘ ” یہ کیا کر رہے ہیں آپ ہاتھ چھوڑیں میرا .
وہ اپنا حواس قابو میں کرتی ہوئی بولی اور اسکی گرفت سے اپنا ہاتھ آزاد کروانا چاہا مگر مقابل کی پکڑ مضبوط تھی …
” ‘ ” کہا تھا نہ احتیاط سے لیکن تم نے میری نہیں سنی ..
‘ ” وہ اسکی سوال کو نظر انداز کرتا سرد لہجے میں بولا اور اسکی انگلی کو اپنے انگوٹھے سے سہلا رہا تھا …
‘ ” تم صرف میری ہو رضوا صرف میری
تمھیں چھونے اور تکلیف دینے کا حق بھی صرف مجھے ہے …
وہ اسکی آنکھوں میں دیکھتا ہوا بولا تھا ..
اسکے لہجے میں اک جنون تھا شدت تھی ..
‘ ” پلز میرا ہاتھ چھوڑ دیں ..
جبکہ اسکے لہجے سے خوفزدہ ہوئی تھی ..
وہ اس وقت اتنی ڈری ہوئی تھی کہ اسکے الفاظ پر غور ہی نہیں کر پائی تھی …
‘ ” کاوش کچھ دیر تو اسکا ہاتھ تھامے کھڑا اسکو ڈر سے کانپتا ہوا دیکھتا رہا
پھر یکدم سے اسکا ہاتھ اپنی پکڑ سے آزاد کیا تھا ..
‘ ” اسکے ہاتھ چھوڑنے پر رضوا اپنی بک اٹھا کر وہاں سے بھاگتی چلی گئی تھی ..
اس نے اک بار بھی پلٹ کر دیکھنے کی کوشش نہیں کی تھی …
‘ ” اگر وہ دیکھ لیتی تو اسکے چہرے پہ آئی مسکراہٹ دیکھ کر اسکے خوف میں مزید اضافہ ہو جاتا …
‘ ” جبکہ وہ اسکو دور جاتا دیکھتا رہا تھا
” بھاگ لو جتنا بھاگنا ہے
لیکن اک دن تمھیں میری قید میں آنا ہی ہوگا میری ڈر ہوئی بلبل …
‘ ” وہ اپنے من میں اس سے مخاطب ہوا تھا .
رضوا کا خون ابھی بھی اسکے ہونٹ پہ لگا ہوا تھا جسکو اس نے زبان کی مدد سے صاف کیا تھا …
💕💕
” ‘ صاحب آپکے لئے کھانا لگا دوں ?
یاسر صاحب لاؤنج میں صوفہ پہ بیٹھے لیپ ٹاپ پر کچھ کام کر رہے تھے جب ملازم انکے پاس آکر بولا تھا ..
” ‘ نہیں مجھے بھوک نہیں ہیں
..تم جاؤ ہر حیدر صاحب کو یہاں میرے پاس بھیج دو ..
انکا حقم سن کر وہ حیدر کے کمرے کی طرف بڑھا تھا ..
” ‘ سنو رضوا نے کھانا کھایا ?
وہ فکرمندی سے بولے تھے جانتے تھے وہ اپنے کھانے پینے کا کم خیال رکھتی تھی ..
” ‘ نہیں صاحب یونی سے آنے کے بعد سے وہ اپنے کمرے میں بند ہیں
حیدر صاحب نے بہت کوشش کی کچھ کھلانے کی مگر انہوں نے انکار کر دیا ..
” وہ انکی تفصیل سے ساری بات بتانے لگا تھا ..
ٹھیک ہے تم جاؤ حیدر کو میرے پاس بھیج دو ..
اسکا جواب سن کر وہ تھوڑا پریشان ہوئے تھے ..
” ملازم کے جانے کے بعد وہ پھر سے اپنے لیپ ٹاپ میں مصروف ہو گئے تھے کہ یکدم سے انکا پاس پڑا موبائل بجا تھا …
” ‘ انجان نمبر دیکھ کر انہوں نے فون کٹ کرنا چاہا مگر پھر کچھ سوچ کر کال پک کر لی تھی ..
” ‘ اسلام علیکم ..چاچو ..
انکے کال پک کرتے ہی سلام کیا گیا تھا
یہ آواز انکے لئے اجنبی تھی مگر اک لفظ نے انکی توجہ اپنی طرف دلائی تھی ..
” ‘ وعلیکم سلام …
کون بات کر رہا ہے ..
” یاسر صاحب نے پہچان کرنی چاہی تھی ..
” ‘ یہ تو بہت غلط بات ہے آپ اتنی جلدی بھول جائے گے مجھے اس بات کی بلکل امید نہیں تھی ۔۔
خیر کوئی بات نہیں میں واپس آ گیا ہوں تو سب یاد آ جائے گا آپکو..
‘ ” اسکے لہجے میں ایسا کچھ تھا جو یاسر صاحب بہت آسانی سے محسوس کر سکتے تھے …
‘ ” کاوش …
انکو لمحہ لگا تھا اسکو پہچانے میں …
وہ بھولے ہی کب تھے اسکو ..
لیکن اتنے سالوں بعد اسکے فون نے انہیں حیران ضرور کیا تھا …
‘ ” ارے واہ ….
آپکو تو میں یاد ہوں …
اسکے لہجے میں اک طنز سا تھا …
‘ ” کیوں فون کیا ہے اور کیا چاہتے ہو تم …
وہ سیدھی بات پہ آئے تھے۔۔
اک ڈر ابھی بھی انکے اندر موجود تھا ..
‘ ” کیوں فون کیا ہے اور کیا چاہتے ہوں یہ بھی بتا دوں گا اسکے لئے آپ سے ملاقات کرنی ہوگی ایسی باتیں فون پہ نہیں ہوتی …
آپکو فون کرنے کا مقصد صرف اپنی یاد دلانا تھا کہ اگر آپ مجھے بھول گئے ہو تو یاد آ جائے گا کہ مجھ سے بھی کچھ رشتہ ہے آپ کا …
” ” اور انشاءاللہ جلد ملاقات ہوگی اللہ حافظ ۔
“‘ وہ ہمیشہ کی طرح سرد لہجے میں بولا اور فون کٹ کر چکا تھا ..
” یاسر یاسر صاحب کتنی ہی دیر بیٹھے اسکی بات یاد کرتے رہے تھے ..
” ‘ وہ واپس آ گیا …
وہ آ گیا …
‘ ” کون آ گیا ہے ڈیڈ ?
” حیدر لاؤنج میں داخل ہوا تو انکے منہ سے یہ الفاظ سن چکا تھا “
” ‘ کاوش لوٹ آیا ہے ..
” وہ حیدر کو اپنے سامنے دیکھ کر بولے اور پریشانی میں اپنی جگہ سے کھڑے ہوئے تھے ..
‘ ” جبکہ انکے منہ سے کاوش کا نام سن کر حیدر کچھ لمحوں کے لئے تو انکی شکل دیکھتا رہ گیا تھا ..
💕💕
(جاری ہے )