103.8K
25

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 14

’’ کیا میں پوچھ سکتی ہوں یہ سب کیا ہے یاسر ?
سارہ نے بیڈ پہ بیٹھے یاسر کے سامنے کچھ تصویرے پھینکنے کے انداز میں ڈالی تھی ’’
’’ پہلے تو یاسر صاحب نے ناسمجھی سے انکی طرف دیکھا مگر اپنے سامنے یسرا اور اپنی نکاح کی تصویر دیکھ کر وہ حیران ہی رہ گئے تھے ’’
’’ یہ سب کہاں سے آئی تمہارے پاس کس نے دی تمھیں یہ سب ’’
’’وہ گھبراۓ ہوئے انکے پاس آئے تھے ’’
’’ آج انکا ڈر انکے سامنے آ گیا تھا ’’
’’’ آپکو اس بات سے کوئی مطلب نہیں ہونا چاہئے یاسر ’’
’’ ان تصویروں میں جو کچھ بھی نظر آ رہا ہے مجھے وہ جاننا ہے آپسے ’’
’’ وہ یاسر کی طرف دیکھ کر غصّے سے بولی تھی’’
’’ بہت دنوں سے وہ یاسر کا بدلہ ہوا رویہ محسوس کر رہیں تھی ’’
’’ مگر حسن کے سمجھانے پر ہر بار خاموش ہو کر رہ جاتی تھی ’’
’’ انہیں لگنے لگتا کہ یہ صرف انکا وہم ہے انہیں اپنے شوہر پر شق نہیں کرنا چاہئے ’’
’ ’ یاسر انہیں کبھی دھوکہ نہیں دے سکتے بس یہی سب سوچ کر وہ مطمعین ہو جاتی تھی ’’
’’ مگر آج یں تصویروں نے انکا مان انکا بھروسہ انکا دل توڑ کر رکھ دیا تھا ’
’’ یہ سب تمھیں حسن نے دی ہے نہ ?
’’ وہ جانچتی نظروں سے انکی طرف دیکھ کر بولے ’’
’ انکا سب سے پہلا شق حسن پر ہی گیا تھا کیونکہ کل بھی حسن انکے آفس انہیں سمجھانے کے لئے آئے تھے ’’
’’ وہ آخری بار انہیں وارن بھی کیا تھا مگر ہر بار کی طرح یاسر نے انکی بات پر غور کرنا ضروری نہیں سمجھا تھا ’’
’’ اب انہیں لگ رہا تھا کہ یہ سب حسن نے ہی کیا ہے مگر حقیقت کچھ اور ہی تھی ’’
’’ مجھے کسی نے بھی دیا ہو آپ مجھے بس سوال کا جواب دیں دے کہ اس تصویر میں موجود عورت آپکی کیا لگتی ہے ’’’
’’ وہ دو ٹک انداز میں بولی ’’
’’ ہاں بیوی ہے یہ میری محبت کرتا ہوں میں یسرا سے ’’
’’ یاسر کا جواب سن کر سارہ کو لگا کہ وہ اپنے قدموں پر کھڑا ہی نہیں رہ پاۓ گی “’’
’’ انہیں ایسا لگ رہا تھا کہ کسی نے انکے پیروں کے نیچے سے زمین ہی کھینچ لی تھی ’’
’’ آپکو یہ سب کرتے وقت میرا ذرا خیال نہیں آیا یاسر?
’’ یہ نہیں سوچا کہ جب مجھے معلوم ہوگا تو مجھ پر گزرے گی
کیسے برداشت کرونگی میں یہ سب ?
’’ ذرا خیال نہیں آیا میرے احساسات کا
’’ وہ انکا کالر پکڑ کر بری چلائی تھی ’’
’’ ہاں نہیں خیال آیا مجھے تمہارا
کیونکہ میں یسرا سے محبت کرتا ہوں
’’ یاسر نے بےدردی سے سارہ کے ہاتھ جھٹک کر اسکی پکڑ سے اپنا کالر آزاد کروایا تھا ’’
’’ اور میں ?
’’ کیا مجھ سے محبت نہیں رہی آپکو
’’ ١٩ سال کی محبت یہ رستہ پل میں ختم کر دیا آپنے?
’’ سارہ بےیقینی سے اپنے شوہر کی طرف دیکھ رہی تھی ..
اس وقت ان پر کیا گزر رہی تھی یہ بس انکا دل ہی جانتا تھا ’’
’’ ہاں نہیں رہی محبت لیکن میں نے یہ رشتہ ختم نہیں کیا ہے تم میری بیوی ہو ابھی بھی ’’
’’ اس وقت وہ بہت سنگدل بنے ہوئے تھے صرف اپنا سوچنے والے ’’
’’ آپ میرے ساتھ ایسا کیوں کر رہے ہیں یاسر آخر کیا غلطی ہو گئی مجھ سے ’’
’’ انکی آواز میں گہرا دکھ تھا جو یاسر سمجھ نہیں سکتے تھے ’’
’’ اس وقت انہیں لگ رہا تھا کہ جیسے انکی دنیا ہی ختم ہو گئی ہو ’’
’’ میں نے تمہارے ساتھ کچھ نہیں کیا ہے سارہ ’’
’’ تم تو ایسے ری ایکٹ کر رہی ہو جیسے میں دنیا کا پہلا مرد ہوں جس نے دوسری شادی کی ہے ’’
’’اس بات کو زیادہ بڑھانے کی ضرورت نہیں ہے ’’
’’ تو یہ سب جلدی قبول کر لوگی تو تمہارے لئے ہی بہتر ہوگا ’’
وہ غصّے سے سارہ کو سمجھا رہے تھے اس بات سے بےخبر کے دروازے میں کھڑی رضوا اپنے باپ کا یہ خوفناک روپ دیکھ کر سہم سی گئی تھی ’’
’’ تمھیں قبول کرنا ہی ہوگا اسکے علاوہ تمہارے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے ..
یاسر نے سختی سے سارہ کا بازو پکڑا اور انہیں بیڈ پر دھکا دے کر واشروم میں گھس گئے تھے ’’
’’ نہیں یاسر میں مر جاؤں گی لیکن یہ سب ہرگز قبول نہیں کروں گی ..
’’ کبھی نہیں ’’
’’ سارہ بری طرح رو رہی تھی جبکہ دروازے میں کھڑی دو معصوم آنکھیں اپنی ماں کو روتا ہوا دیکھ کر خود بھی رونے لگی تھی ’’
💕💕
’’ وہ واشروم سے ٹاول سے بال خشک کرتی باہر نکلی تھی جب دروازے پر دستک ہوئی تھی’’
’’ اسکے تیزی سے چلتے ہاتھ ایک پل کے لئے رکے تھے ’’
’ ’ آ جائے اندر ’’
’’ اس نے اک نظر دروازے کی طرف دیکھ کر آنے والے کو اجازت دی اور آئنے کے سامنے جا کھڑی ہوئی تھی ’’
’’ بیگم صاحبہ آپکو کاوش صاحب نیچے لاؤنج میں بلا رہے ہیں ’’
ملازمہ دروازہ کھول کر اندر داخل ہوئی اور اسکو کاوش کا حکم سنایا تھا ’’
’’ ٹھیک ہے تم جاؤ میں آتی ہوں تھوڑی دیر میں
وہ ٹاول سائیڈ پہ رکھتی اسکی طرف دیکھ کر بولی جبکہ دل اندر سے گھبرایا تھا کہ پتہ نہیں اب کیا کہے گا اسکو بلا کر ’’
’’ مگر کاوش صاحب نے بولا ہے کہ آپکو ساتھ لیکر ہی آؤں اس لئے آپ میرے ساتھ چلیں ’’
’’ ملازمہ پریشانی سے بولی اسکو بھی کاوش کے غصّے سے ڈر لگتا تھا ’’
’’ ملازمہ کی بات سن کر رضوا نے بیڈ سے اپنا دوپٹہ اٹھایا اور اسکے پیچھے چل دی تھی ’’
’’ وہ نہیں چاہتی تھی کہ کاوش اسکا غصّہ کسی پر بھی نکالے ’’
’’ لاؤنج میں داخل ہوتے ہی ملازمہ جا چکی تھی جب رضوا کی نظر کاوش پر پڑی جو صوفہ پہ شاہنہ انداز میں بیٹھا موبائل پر نظریں جمائے ہوئے تھا ’’
’’ آپنے بلایا تھا ,,
’’ اس نے بہت آہستہ آواز میں اسکو مخاطب کیا تھا ’’
’’ رضوا کی آواز پر کاوش نے جیسے ہی نظریں اٹھا کر دیکھا تو نظروں نے پلٹنے سے انکار کر دیا تھا ’
’’ اسکا نکھرا نکھرا سا چہرہ ’’
’’ اور بھیگے الجھے بال اس اس بات کا پتہ دے رہے تھے کہ وہ ابھی نہا کر آئی ہے ’’
’’ وہ بےخود سا اسکو دیکھتا جا رہا تھا ’’
’’ جبکہ اسکی نظروں کی تپیش سے گھبرا کر رضوا کبھی تو اپنے چہرے پہ آئے بالون کو پیچھے کرتی تو کبھی اپنے دونوں ہاتھوں کو آپس میں مسل رہی تھی ’’
’’ کچھ کہنا تھا آپکو ’’
اس نے ہمت کر کے پھر سے اسکو مخاطب کیا تھا ’’
’’ اسکی آواز پر وہ جیسے ہوش میں آیا تھا ’’
’’ ہاں یہاں میرے پاس آکر بیٹھو ’’
’’کاوش نے ہاتھ کے اشارے سے اسکو جگہ بتائی تو رضوا اسکے اتنے قریب بیٹھنے کا سوچ کر ہی اسکی گھبراہٹ میں اضافہ ہوا تھا ’’
’’ لیکن اسکو بیٹھنا تو تھا ہی اس لئے ہمت کرتی اس سے کچھ فاصلے پر آ بیٹھی تھی ’’
’’ جبکہ اسکی احتیاط کرنے پر کاوش کے ہونٹوں پر ایک خوبصورت سی مسکراہٹ آئی جسکو ان سے بامشکل روکا تھا ’’
’’ بےوقت کیوں نہائی تم جانتی ہو بیمار بھی پڑ سکتی ہو کل بھی تم بارش میں کافی دیر بھیگتی رہی تھی ’’
’’ اسکا ہاتھ بہت آہستہ سے رضوا کے الجھے بالوں کو سلجھا رہا تھا ’’
’’ لہجے میں فکرمندی کے ساتھ ساتھ محبت بھی تھی جو آج پہلی بار رضوا کو محسوس ہوئی تھی ’’
’’’ کچھ کہنا چاہتے تھے آپ ..
’’ اسکی انگلیوں کا لمس اپنے بالوں میں محسوس کر کے رضوا جلدی سے بولی تھی ..
وہ بس جلدی سے اسکے پاس سے جانا چاہتی تھی ’’
’’ ہاں میں سوچ رہا تھا کہ آج ہم کوئی مووی دیکھتے..
کس طرح کی موویز پسند ہیں تمھیں ؟
’’ انداز دوستانہ تھا۔۔
اس نے سوچ لیا تھا کہ وہ اسکے دل سے اپنا ڈر ختم کرکے ہی رہے گا ’’
’’ آپکی مرضی ہے کوئی بھی دیکھ لیتے ہیں ’’
اسکے ساتھ اتنی دیر تک بیٹھے رہنے کا سوچ کر ہی رضوا کو اپنی جان نکلتی ہوئی محسوس ھو رہی تھی’’
’’ ٹھیک ہے پھر ہم میری پسند کی فلم دیکھتے ہیں .
کاوش نے جلدی سے ٹیوی اون کیا تھا ..
“” اتنے میں رضوا کھسک کر کونے میں جا بیٹھی تھی یہاں بیٹھنا اسکی مجبوری تھی مگر وہ اس سے فاصلہ تو بنا ہی سکتی تھی ..
’’ مگر یہ کوشش بھی اسکی ناکام ہو گئی جب کاوش مزید اسکے قریب ا بیٹھا اور صوفہ کی پشت پر اپنا ہاتھ رکھ کر اسکو پوری طرح سے اپنی قید میں لے چکا تھا ’’
’’ تھوڑی دیر تک دونوں کے درمیان خاموشی ہی رہی رضوا سیدھی سکرین پر نظریں جمائے ہوئے بیٹھی تھی ’’
’’ وہ سکون سے بیٹھی تھی جب کاوش کا ہاتھ اسکے بالوں کو چھوتا ہوا اسکی کمر تک پہنچا تھا ’’
’’ رضوا کو پورے بدن میں سنسناہٹ سی محسوس ہوئی تھی ’’
’’ رضوا نے گردن موڑ کر دیکھا تو اسکی نظریں سکرین پر ہی تھی مگر اسکے چلتے ہاتھ رضوا کی پریشانی کی وجہ بنے ہوئے تھے ’’
’’ وہ لب چباتی پھر سے سیدھی ہو بیٹھی مگر وہ اسکی انگلیاں کبھی تو اپنے رخسار کو چھوتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی تو کبھی اپنی گردن پر ..
’’ رضوا سمجھ گئی تھی کہ اسکا موڈ صرف اسکو پریشان کرنے کا تھا ’’
’’ کاوش مسکراتا ہوا اسکے مزید قریب ہوا اور اسکے بال کندھے سے ہٹا کر اپنے لب اسکی گردن پر رکھ دیے تھے ’’
’’ اسکی بڑھتی جسارتوں سے گھبرا کر رضوا جلدی سے اپنی جگہ سے کھڑی ہوئی مگر کاوش اسکی کلائی تھام چکا تھا ’’
’’ وو…وہ مجھے پیاس لگ رہی ہے ’’
اسکی آنکھوں میں سوال پڑھ کر وہ اپنا خشک حلق تر کرتی ہوئی بولی تھی ’’
’’ پیاس تو مجھے بھی لگ رہی ہے وہ بھی شدت والی ..
وہ معنی خیز لہجے میں بولا تو رضوا سٹپٹا کر ادھر ادھر دیکھنے لگی ….
’’ روکو یہاں بیٹھو میں دیتا ہوں ..
کاوش نے اسکو پھر سے اپنی جگہ پر بیٹھایا اور سامنے ٹیبل پر رکھے گلاس میں پانی ڈالا اور رضوا کی نظروں سے بچا کر اس میں ایک گولی ڈال چکا تھا’’
’’ اسکے ہاتھ سے گلاس لیکر اس نے اک ہی سانس میں پانی ختم کیا تھا’’
’’ کچھ دیر تو وہ ایسے ہی بیٹھی سکرین کی طرف دیکھتی رہی اور کاوش اسکو ..
’’ اور پھر کچھ ہی دیر بعد وہ بیہوش ہو کر کاوش کی گود میں آ گری تھی ..
’’ میں یہ کرنا تو نہیں چاہتا تھا میری جان مگر مجھے معلوم ہے تم میرے ساتھ یہاں سے جانے پر کبھی راضی نہ ہوتی ..
’’لیکن مجھے تمھیں تمہارے باپ کی پہنچ سے دور لے جانا ہے بہت دور …
’’ وہ اسکی بند آنکھوں سکو دیکھتا ہوا بولا اور رضوا کو اپنی باہوں میں اٹھا کر باہر اپنی کار کی طرف بڑھا تھا ’’
💕💕
’’ کیا ہوا ڈیڈ سب خیریت تو ہے نہ ?
آپنے اتنی جلدی میں مجھے گھر کیوں بلایا ہے ’’
’’ حیدر پریشان سا گھر میں داخل ہوا اور سامنے صوفہ پر بیٹھے اپنے باپ سے مخاطب ہوا تھا ’’
’’ جبکہ وہ انکے برابر میں بیٹھی یسرا کو مکمل نظرانداز کر چکا تھا ’’
’’ وہ کسی ضروری میٹنگ کے لئے جا رہا تھا جب یاسر صاحب کے فون پر وہ جلدی سے گھر آیا ’’
’’ خیریت ہی تو نہیں ہے بیٹا اس لئے تمھیں یہاں بلایا ہے ..
انکا لہجہ طنزیہ تھا جبکہ حیدر انکی بات سن کر پریشان ہوا تھا ’’
’’ کیا ٹھیک نہیں ہے ڈیڈ ..
رضوا تو ٹھیک ہے نہ اس تو کچھ نہیں ہوا ’’
اسکے ذہن میں سب سے پہلا خیال اپنی بہن کا آیا تھا’’
’ ’ رضوا ٹھیک ہے مگر تمہاری حرکتوں کی وجہ سے میں ضرور بیمار پڑ جاؤں گا ’’
’’ انکے لہجے میں اپنے بیٹے کے لئے شکوہ تھا ’’
’’ اور حیدر سمجھ نہیں پا رہا تھا کہ اسکے ڈیڈ کہنا کیا چاہتے ہیں ’’
’’ میں آپکی بات نہیں سمجھا آپ کن حرکتوں کے بارے میں بات کر رہے ہیں ’’
’’ اس نے اپنے باپ کی طرف ناسمجھی سے دیکھا تھا’’
’’ ابھی سمجھا دیتا ہوں ’’
’’ تم اندر آ سکتی ہو ’’
وہ اپنی جگہ سے کھڑے ہوئے اور کسی کو اندر آنے کی اجازت دی تھی ’’
’’ یاسر صاحب کے ساتھ ساتھ اس نے بھی سامنے دیکھا تو دیکھتا ہی رح گیا ..
منال نظریں جھکائے آہستہ سے لاؤنج میں داخل ہوئی تھی’’
’’ منال کو اپنے گھر دیکھ کر وہ اپنے باپ کے غصّے کی وجہ سمجھ گیا تھا ’’
’’ کیا رشتہ ہے تمہارا اس لڑکی کے ساتھ ?
’’ وہ سخت نظروں سے حیدر کی طرف دیکھ رہے تھے جبکہ حیدر گھورتا ہوا منال کو دیکھ رہا تھا ’’
’’ اس نے اپنے باپ کو سب بتانے کے بارے میں سوچا ہوا تھا مگر اس طرح سے نہیں جس طرح سے منال نے کیا ’’
’’ خاموش کیوں کھڑے ہو جواب دو مجھے ’’
اسکی خاموشی پر وہ پھر غصّے میں بولے ’’
’’ بیوی ہے میری ’’
’’ اسکی بات ختم ہونے کے ساتھ ہی ایک زوردار تھپڑ کی آواز پورے لاؤنج میں گونجی تھی ’’
’’حیدر اپنے چہرے پر ہاتھ رکھے حیرانی سے اپنے باپ کو دیکھ رہا تھا ’’
’’ شاید نہیں یقیناً یہ پہلا تھپڑ تھا جو اسکے باپ نے مارا تھا اسکو …
’’ منال کا حال بھی حیدر سے کچھ کم نہ تھا اسکو یاسر صاحب کے اس قدر شدید عمل کی ہرگز امید نہیں تھی ..
’’ وہ تو بس کل کی وجہ سے حیدر سے بدلہ لینا چاہتی تھی مگر ایسا اس نے بلکل نہیں سوچا تھا ’’
’’ مجھے جب اس لڑکی نے بتایا تو مجھے بلکل یقین نہیں ہوا کیونکہ مجھے اپنے بیٹے پر بھروسہ تھا تم کبھی ایسا کر نہیں سکتے ’’
’’ مگر آج تم نے میرا بھروسہ توڑ دیا ’’
نکاح کر لیا اور اپنے باپ کو بتانا ضروری نہیں سمجھا
اتنا غیر ہو گیا میں تمہارے لئے ’’
’’ انکے لہجے میں گہرا دکھ تھا جو بھی تھا وہ اپنی اولاد سے بہت محبت کرتے تھے ’
مگر انکی اولاد نے انہیں کچھ نہیں سمجھا تھا ’’
’’ آج انہیں سارہ کی تکلیف کا احساس ہوا جب انہوں نے انکو اپنے نکاح کے بارے میں بتایا تب انہیں کیسا لگا ہوگا ’’
’’ ڈیڈ یہ سب بس اتنی جلدی ہوا کہ مجھے آپکو بتانے کا موقع نہیں ملا اور میں صحیح وقت کا انتظار کر رہا تھا آپکو بتانے کے لئے ..
اس نے اپنے باپ کا غصہ کم کرنا چاہا تھا ’’
’’ کب بتاتے تم جب پورے شہر کو خبر ہو جاتی کہ یاسر علی کا بیٹا نکاح کر چکا ہے ..
تب بتاتے ?
’’ اس بار کب سے خاموش بیٹھی یسرا بیگم بولی تو انکی بات پر حیدر کی غصّے سے رگے تن گئی تھی ’’
’’ اسکو بلکل برداشت نہیں تھا کہ یسرا اسکے معملے میں بولے ’’
’’ آپ میرے معملے میں نہ ہی بولے تو آپکے لئے بہتر ہوگا ..
آپ جو کلب پارٹیوں میں پھرتی رہتی ہیں اسکے بارے میں بھی میرے ساتھ پورے شہر کو خبر رہتی ہے ..
وہ غصّے سے انکی طرف دیکھ کر دہاڈا تھا ..
’’ اسکو اتنے شدید غصّے میں دیکھ کر منال بری طرح سے ڈر گئی تھی ’’
’’ یسرا تم خاموش رہو میں بات کر رہا ہوں نہ ..
یاسر صاحب نے یسرا بیگم کو چپ کرایا اور ملازمہ کو آواز دے کر منال کو وہاں سے لے جانے کا اشارہ کیا تھا ’’
’’ وہ آج پہلے ہی رضوا کی وجہ سے پریشان تھے جب انکے آدمی نے آکر بتایا کہ کاوش رضوا کو لیکر کہیں اور جا چکا ہے دوسرا اب حیدر کی اس حرکت کی وجہ سے انکی پریشانی مزید بڑھ گئی تھی ’’
’’ منال کے جانے کے بعد یسرا بیگم بھی غصّے میں وہاں سے چلی گئی تھی ’’
’’ اب وہاں صرف حیدر اور یاسر صاحب ہی رہ گئے تھے ’’
💕💕
’’ ملازمہ کے جانے کے بعد وہ کمرے میں ادھر سے ادھر ٹہل رہی تھی
’’ اسکے ہر اک انداز سے پریشانی ظاہر ہو رہی تھی ’’
’ ’ باہر کیا ہو رہا تھا وہ لوگ کیا باتیں کر رہے تھے اسکو کچھ معلوم نہیں تھا ’’
’’ اس نے غصّے میں یہ سب کر تو دیا تھا مگر اب ڈر بھی رہی تھی ’’
’’کل بھی وہ حیدر کے غصّے کی وجہ سے خوفزدہ ہو گئی تھی مگر پھر بھی خود کو اسکے سامنے مضبوط ظاہر کرتی رہی تھی ’
’’ ابھی بھی اسکی آنکھوں کے سامنے حیدر کا سرخ چہرہ گھوم رہا تھا .
وہ خود کو کتنا بھی مضبوط ظاہر کرتی مگر تھی تو وہ ایک لڑکی ہی ’’
’’ اور اب تو وہ ویسے بھی خود کو بری طرح پھنسا ہوا محسوس کر رہی تھی ’’
’’ دروازہ کھلنے کی آواز پہ اسکے قدم یکدم سے رکے تھے ’’
’’ حیدر دروازہ بند کرتا ہوا اندر داخل ہوا چہرے پر ابھی بھی غصّہ تھا ’’
’’ دیکھو کل تم نے میرے ساتھ غلط کیا اس لئے آج میں نے اپنا بدلہ لے لیا تم سے ..
اس لئے اب حساب برابر ہوا ’’
’’ حیدر کے قدم اپنی طرف بڑھتے دیکھ کر منال مضبوط لہجے میں بولی مگر دل اندر سے بری طرح ڈرا ہوا تھا ’’
’’ ہاں ٹھیک کہا ..
ویسے بھی میں نہیں چاہتا کہ ہم دونوں کے درمیان کوئی بھی حساب باقی رہے ۔
وہ اپنا کوٹ ایک طرف ڈالتا ہوا بولا لہجہ بلکل نارمل تھا ’’
’’ باہر والے حیدر اور اس حیدر میں بہت فرق تھا ’’
’’ صحیح کہا ہمارے درمیان کچھ ہونا بھی نہیں چاہئے’’
’’اسکی بات سن کر منال کو سکون ملا تھا ورنہ وہ فالتو میں ہی اتنا پریشان ہو رہی تھی ’’
’’ بلکل غلط ..
’’ کچھ نہیں بہت کچھ ہونا چاہئے ’’
وہ اک پل میں اسکے قریب پہنچا اور بغیر اسکو موقع دئے منال کو اپنی گرفت میں لے چکا تھا ’’
’’ حیدر کی بات سن کر اب صحیح معنے میں اسکو اپنی غلطی کا احساس ہوا تھا ’’
’’ دور ہٹو ہمارے بیچ کچھ نہیں ہو سکتا سمجھے تم ’’
’’ منال نے اسکے سینے پر ہاتھ رکھ کر اسکو خود سے دور کرنا چاہا مگر حیدر سختی سے اسکے دونوں ہاتھ کو اسکی کمر کے پیچھے باندھ چکا تھا’’
’’ تمہارے کہنے سے کیا ہوتا ہے ..
جب سب اس رشتے سے واقف ہو چکے ہیں تو کیوں نہ اب اس رشتے کو اچھی طرح سے نبھایا جائے پورے حق کے ساتھ ’’
’’ حیدر نے اسکے کمر کے پیچھے بندھے ہاتھوں پر اپنی گرفت کر کے ہلکا سا موڑا تو درد کی لہر اسکے پورے بدن میں ڈور اٹھی تھی ’’
’’ مجھے تکلیف ہو رہی ہے ہاتھ چھوڑو میرا ..
منال نے جھٹکے سے اپنے ہاتھ آزاد کرانے چاہے مگر اسکے بری طرح سے ہلنے پر حیدر اپنا بیلنس برکرار نا رکھ سکا اور منال کے ساتھ خود بھی بیڈ پر اسکے اوپر گرا تھا ’’
’’ اپنے ہاتھ کمر کے نیچے دبے ہونے کی وجہ سے تکلیف سے منال کی ہلکی سی چیخ نکلی تھی ’’
’’ کیا ہوا اتنی سی تکلیف برداشت نہیں ہو رہی تم سے ..
’’ اسکے چیخنے پر حیدر نے مذاق بنایا تھا ’’
’’ ہاں نہیں ہو رہی ہٹو میرے اوپر سے مجھے سانس نہیں آ رہا ہے ’’
’’ حیدر کا پورا وزن اسکے اوپر تھا اوپر سے خود کے دونوں ہاتھ کمر کے نیچے ہونے کی وجہ سے اسکو گھوٹن سی محسوس ہو رہی تھی ’’
’’ ابھی تو تمہارا سانس اور رکنے والا ہے
’’اسکی بات پر منال نے ناسمجھی سے اسکی طرف دیکھا تھا ’’
’’ کیا مطلب ’’
’’اسکو یکدم سے حیدر کی کل والی حرکت یاد آئی تھی’’
’’ ابھی سمجھا دیتا ہوں ’’
حیدر اپنی بات کہہ کر اسکے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھ چکا تھا ..
منال کو اب صحیح معنے میں اپنا سانس رکتا ہوا محسوس ہو رہا تھا ’’
’’ اسکی اتنی سخت ترین گھستاخی پر منال کو اپنی جان نکلتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی ..
مگر وہ تھا کہ اسکو چھوڑنے کو تیار ہی نہیں تھا ’’
’’ کچھ لمحوں بعد اسکو منال کی حالت پر رحم آ ہی گیا اور وہ اسکے ہونٹوں کو آزاد کرتا اسکے اوپر سے اٹھا تھا ’’
’’ منال کی طرف دیکھا جو بری طرح سے اپنا سانس بحال کر رہی تھی ..
’’ آج تو تم نے یہ حرکت کر دی منال اگر آئندہ تم نے اپنے اور میرے بیچ فیملی کو لانے کی کوشش کی تو اس سے بھی زیادہ برا حال ہوگا تمہارا یاد رکھنا’’
’’ وہ وارن کرنے والے انداز میں بولا جبکہ منال ابھی بھی ایسے ہی لیٹی ہوئی اسکی طرف دیکھ رہی تھی اسے حیدر سے اس طرح کی حرکت کی بلکل امید نہیں تھی ’’
’’ وہ ایسا کرنا تو نہیں چاہتا تھا مگر منال کو اپنے قریب دیکھ کر خود پر قابو نہ رکھ سکا تھا وہ پلٹا اور واشروم میں جا گھسا …
’’ جبکہ منال ابھی بھی اسکے ہونٹوں کا لمس اپنے ہونٹوں پر محسوس کر رہی تھی اس نے بےدردی سے اپنے ہونٹوں کو صاف کیا تھا ’’
💕💕
[جاری ہے ]