103.8K
25

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 12

,, وہ صوفہ پر بیٹھا بس ایک ٹک بیڈ پر لیٹی رضوا کو دیکھ رہا تھا ..
,, ہاتھ میں دبی سگریٹ اسکی انگلی جلا رہی تھی مگر اسکو تو جیسے اس درد اور تکلیف کا احساس ہی نہیں ہو رہا تھا ,,
,, کیونکہ اسکی یہ تکلیف اس درد کے آگے کم تھی جو وہ رضوا کو اس حالت میں دیکھ کر رات سے برداشت کر رہا تھا ,,
,, رات وہ حیدر کی وجہ سے شدید غصّے میں تھا اور اپنے اس غصّے میں اس نے رضوا کو تکلیف دینی چاہی تھی ..
,, اگر رات رضوا بیہوش نہ ہوتی تو یقیناً اپنا سارا غصّہ رضوا پر نکال چکا ہوتا ,,
,, مگر رات رضوا کے ہوش سے بیگانا ہونے پر وہ جیسے خود ہوش میں آیا تھا ,
,, وہ کیا کرنے والا تھا اپنی رضوا کے ساتھ یہ سوچ کر ہی اسکو خود پر غصّہ آنے لگا ,
,, رضوا کو بیہوشی کو حالت میں دیکھ کر پہلے بار اسکے دل میں ڈر کا احساس ہوا تھا ,,
,,اسکا غصّہ یکدم سے حوا ہوا اور وہ جلدی سے اسکو ہوش میں لانے کی کوشش کرنے لگا ,,
,, کچھ دیر بعد وہ ہوش میں آ تو گئی مگر اس نے پھر سے اپنی آنکھیں بند کرلی ..
,, وہ پوری رات یوں ہی اسکے پاس بیٹھا اسکے چہرے کو دیکھتا رہا
اپنے دل میں وہ شرمندگی بھی محسوس کر رہا تھا,
,, جو بھی تھا وہ لڑکی اسکی محبت تھی اسکی بیوی اگر وہ اسکو تکلیف بھی دیتا تو خود بھی سکون میں نہیں رہتا تھا ..
,, جیسے اب بےسکون سا بیٹھا اسکے اٹھنے کا انتظار کر رہا تھا ,
,, نہیں کاوش ,,پ,,,پلز مت کریں ,,
,, وہ بیٹھا اسی کو دیکھ رہا تھا جب رضوا کی بڑبڑاہٹ اس تک پہنچی تھی ,,
,, کاوش جلدی سے اپنی جگہ سے اٹھا اور بیڈ پر اسکے قریب ا بیٹھا ,,
,, ,,نہیں ,,ایسا نہ کریں ,,
,, وہ نیند میں پھر سے بڑبڑائی تھی ڈر کی وجہ سے اسکے ماتھے پر پسینے کی ننہی ننہی بوندے جما ہو گئی تھی ..
,,,ششش,,,,نہیں کر رہا کچھ ,,
ڈرو مت ,,کچھ نہیں ہوگا ,,
,, وہ اپنے ہاتھ سے اسکے ماتھے پر آیا پسینہ صاف کرتا ہوا بہت آہستہ آواز میں بولا تھا ,,
,, اور رضوا خاموش ہو گئی تھی خواب میں جس سے ڈر رہی تھی اسی کی آواز سن کر جیسے اسکو سکون مل گیا تھا ,,
,, کاوش کو اس وقت خود پر بہت غصّہ ا رہا تھا وہ رضوا کو ڈرا کر رکھنا چاہتا تھا مگر خوف میں نہیں,,
,,اس نے بہت آہستہ سے اسکے چہرے پر آئے بالوں کو اسکے کان کے پیچھے کیا ,,
,, تھوڑی دیر پہلے اسکے چہرے پر جو ڈر تھا وہ اب موجود نہیں تھا ,,
,کاوش اسکے چہرے کے ایک ایک نقوش کو اپنی انگلیوں سے چھو رہا تھا ,,
,, وہ اسکی تھی صرف اسکی اور اپنی چیزوں کو اس نے آج تک بہت پیار سے رکھا تھا ,
,,مگر اسکے معملے میں وہ اتنا سخت کیوں ہو جاتا تھا,,
,, اسکی انگلیوں نے اسکے چہرے سے گردن تک کا سفر طے کیا جب جب رضوا نے اسکے لمس کی شدّت سے ہلکا سا کسمسا کر آنکھیں کھولی تھی ,,
,, کاوش کو اپنے قریب دیکھ کر رات کا سارا منظر اسکی آنکھوں کے سامنے گھوم گیا تھا ..
,, وہ گھبرا کر اٹھی اور کھسک کر اس سے دور جا بیٹھی تھی ..
’’ رضوا فورا سے یہاں واپس اپنی جگہ پر آؤ ’’
’’اسکو رضوا کا یوں خود سے دور جانا بلکل اچھا نہیں لگا تھا ’’
’’ نہیں آپ بہت برے ہیں ..
’’ مجھے آپکے پاس نہیں رہنا ’’
’’ اس نے تکیے کو اپنے سینے سے لگا کر مضبوطی سے پکڑا تھا ..
ایسے جیسے وہ بےجان چیز اسکو اس ظالم شخص سے بچا لیگی ’’
’’ اگر تم واپس اپنی جگہ پر نہیں آئی تو مجھے بہت برا بننے میں بھی وقت نہیں لگے گا ..
اس لئے اپنی خیریت چاہتی ھو تو شرافت سے میرے پاس آ جاؤ ’’
’’ اسکو پھر سے دھمکی دی گئی تھی ’’
’’ جو کاراگار ثابت ہوئی رضوا واپس سے اسی جگہ آ بیٹھی مگر لیٹنے کی اس میں ہمت نہیں تھی ’’
’’ تمھیں میں پہلے بھی سمجھا چکا ہوں اب بھی کہہ رہا ہوں ..
اب سے یہی تمہارا گھر ہے اور تم میرے ساتھ ہی رہو گی ..
’’ اور رات جو ہوا ایسا دوبارہ نہیں ہوگا …
’’اس لئے وہ بات اور وہ کام بلکل مت کرنا جو مجھے سخت ناپسند ہیں ..
’’ ورنہ ’’
’’ وہ اپنی نظروں اور باتوں سے بہت کچھ سمجھا رہا تھا اسکو ’’
’’ اسکی بات سن کر رضوا خود میں سمٹی تھی اور تکیے پر اپنی گرفت سخت کی تھی ’’
’’ سمجھ رہی ہو نہ میں کیا کہہ رہا ہوں ..
’’ اس نے بہت نرمی سے اسکے رخسار کو چھوا تھا’’
’’ اسکے ڈر سے رضوا پیچھے بھی نہیں ہٹ سکی اور ہاں میں گردن ہلا دی تھی ..
’’ چلو جلدی اٹھو اور فریش ہوکر آؤ آ جانا آج میں ہم ناشتہ ڈائننگ روم میں کریں گے ’’
وہ بہت نرمی سے اسکی پیشانی پر اپنے لب رکھتا ہوا اپنی جگہ سے اٹھا اور اسکو بازو سے پکڑ کے بیڈ سے کھڑا کیا ..
’’ اسکے اشارے پر رضوا تیزی سے واشروم میں جا گھسی ..
” یہ شخص پہلے دن سے ہی اسکی سمجھ سے باہر تھا ..
’’پتہ نہیں وہ کیسے اسکے ساتھ رہ پاۓ گی۔۔
💕💕
,, کیوں آئی ہو تم یہاں جب میں کہہ چکی ہم کہ اب سے تمہارا اور میرا کوئی رشتہ نہیں ہیں ..
,,چلی جاؤ اپنے شوہر کے پاس اب وہی تمہارا گھر ہے ,,
,, نمرہ بیگم باہر کھڑکی کے باہر دیکھتی ہوئی اپنے پیچھے کھڑی منال سے مخاطب ہوئی تھی ،،
’’ وہ منال کی طرف دیکھ نہیں رہی تھیں م’
’’ انکو لگ رہا تھا کہ اگر انہوں نے ایک بار بھی اسکا روتا ہوا چہرہ دیکھ لیا تو وہ اسکو معاف کر دیں گی’’
’’ اور وہ منال کو اتنی بڑی غلطی کے لئے جلدی معاف نہیں کرنا چاہتی تھی’’
’’ امی پلز بس ایک بار میری طرف دیکھ لیں ’’
’’ آپ اچھی طرح جانتی ہیں کہ مجھ سے آپکی یہ ناراضگی برداشت نہیں ہوتی ہے ’’
’’پلز معاف کر دیں مجھے ’’
’’ وہ اپنی ماں کی پشت کو دیکھتی بری طرح رو رہی تھی ’’
’’ منال کی روتی ہوئی آواز سن کر نمرہ بیگم کا دل تڑپ رہا تھا مگر وہ سخت بنی کھڑی رہی ’’
’’ جب میری ناراضگی کی اتنی فکر تھی تو یہ سب کرنے سے پہلے میرا خیال کیوں نہیں آیا تمھیں ’’
’’ کیا تم نے ایک بار بھی نہیں سوچا کہ اس سب سے مجھے کتنی تکلیف ہوگی ’’
’’ تب کہاں گیا تھا ماں کے لئے پیار ’’
’’ انکا لہجہ سخت تھا ’’
’’ امی میں اس اس وقت مجبور تھی مجھے کچھ سمجھ نہیں آیا کہ میں کیا کروں ’
’’پلز امی ایسا نہ کریں ’’
’’ معاف کر دیں مجھے ’’
’’ اس نے اپنی ماں کے ہاتھ کو تھامنا چاہا مگر وہ اپنا ہاتھ کھینچ چکی تھی ’’
’’انکے اس طرح سے کرنے پر منال کو بہت دکھ ہوا تھا ..
’’ آج سرف اس شخص کی وجہ سے اسکی ماں اس سے اتنی ناراض تھی ’’
’’ کاوش تم کیوں خاموش کھڑے ہو ..
’’سمجھاؤ نہ کہ امی مجھے معاف کر دیں ’’
’’وہ پاس ہی خاموش کھڑے کاوش کی طرف مڑی تھی’’
’’ چاہتا تو وہ بھی تھا کہ خالہ اسکو معاف کر دیں ’’
’’ اس لئے اس نے بہت بار انکو سمجھانے کی کوشش کی مگر وہ اسکی بھی نہیں سن رہیں تھیں’’
’’ کاوش سے سفارش کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے میں کسی کی نہیں سننے والی ’’
’’اس لئے بہتر ہے تم واپس چلی جاؤ ’’’
’’ انہوں نے کاوش کے کچھ بھی بولنے سے پہلے اپنی بات کہی جس پر وہ بس منال کی طرف دیکھ کر رہ گیا تھا ’’
’’ کاوش اس سے کہہ دو کہ یہ یہاں سے چلی جائے ورنہ میں ی گھر چھوڑ کر چلی جاؤں اور تم دونوں بس تلاش کرتے رہنا مجھے ’’
’’ ’ وہ اپنی بات کہہ کر کمرے میں رکی نہیں تھی جبکہ منال بےبسی سے بس انکو جاتا دیکھتی رہی تھی’’
’’ تم پریشان نہ ہو منال خالہ کا غصّہ کچھ وقت کے لئے ہے وہ تمھیں معاف کر دیں گی ’’’
’’انکے جانے کے بعد کاوش اسکے پاس آیا تھا ’’
’’ پر میری یہ سمجھ سمجھ نہیں آ رہا تم اس شخص سے کیسے محبت کر سکتی ہو.
کہیں اس نے تمہارے ساتھ زبردست تو نہیں کی ..
’’’وہ جانچتی ہوئی نظروں سے اسکی طرف دیکھ کر بولا تھا ’’
اسکو شق تھا اسکے اس طرح سے نکاح کرنے پر ’’
’’ نہیں کاوش میرے ساتھ کوئی زبردستی نہیں کی اس نے یہ سب میری مرضی سے ہوا ہے ..
تم یہ سب خیال اپنے دل سے نکال دو..
’’منال کسی کو نہیں بتانا چاہتی تھی کہ اس نے اس سے نکاح کیوں کیا کیونکہ اسکو اپنی بہن کی بات کو کسی کو نہیں بتانا تھا ’’
’’ میں سوچنا نہیں چھوڑ سکتا جانتی ہو کیوں .
اس نے اک نظر منال کے چہرے کو دیکھا جو اسی کو دیکھ رہی تھی ’’
’’ کیونکہ حیدر کوئی اور نہیں رضوا کا بھائی ہے اور مجھے لگتا ہے اس نے سب میری وجہ سے کیا ہے ..
’’ کاوش کی بات سن کر منال حیرانی سے اسکی طرف دیکھ رہی تھی ’’
’’ مجھے ایسا لگتا ہے اس نے صرف مجھے پریشان کرنے کے لئے تم سے نکاح کیا ہے کیونکہ جہاں تک مجھے معلوم ہے ..
اسکو رضوا کے بارے میں معلوم نہیں کی وہ میرے پاس ہے ’’
’’وہ پہلے ہی منال کو رضوا کے بارے میں بتا چکا تھا’’
’’مطلب حیدر نے یہ سب تمہاری وجہ سے کیا ہے ’’
جانے کیوں سب جان کر منال کو ایک الگ سا احساس ہوا تھا ’’
’’ وہ احساس جب آپ کسی بڑی غلطفہمی میں مبتلا ہو اور کوئی آکر آپکی غلطفہمی دور کر دے ’’
’’مطلب حیدر نے محبت میں نہیں اپنے بدلے کے لئے اس سے نکاح کیا تھا ’’
’’ ہاں اگر مجھے پہلے سے معلوم ہوتا تو میں یہ سب ہونے نہ دیتا ..
لیکن تم پریشان نہ ہو میں جلد کچھ کروں گا ..
’’ اس نے منال کو تسلی دی تھی ’’
اسکو لگ رہا تھا کہ یہ سب اسکی وجہ سے ہو رہا تھا منال کے ساتھ ’’
’’ تم میری فکر مت کرو کاوش میں اپنا خیال رکھ سکتی ہوں اور رہی بات اس نکاح کی تو اگر اس نے بدلے کے لئے سب کیا ہے تو میں یہ نکاح بھی زیادہ نہیں چلنے دوں گی ’’
’’وہ مضبوط لہجے میں بولی مگر کاوش پھر بھی مطمعین نہیں ہوا ..
’’ وہ سوچ رہا تھا کہ اگر حیدر نے منال سے نکاح بدلے کے لئے کیا ہے تو وہ اسکو نہیں چھوڑے گا ..
’’مگر منال کے چہرے پر سکون دیکھ کر اسکو لگ رہا تھا کہ شاید وہ غلط بھی ہو سکتا تھا ’’
’’ رضوا تمہارے پاس ہے اور کس کس کو معلوم ہے انکے گھر میں ..
کچھ سوچ کر منال نے اس سے سوال کیا ..
’’ صرف اسکے باپ کو اگر حیدر کو معلوم ہوتا تو اتنی آرام سے نہیں رہتا ’’
’’ اسکے جواب پر منال نے صرف گردن ہلا دی تھی ..
’’ آرام سے تو وہ اسکو رہنے بھی نہیں دیگی یہ بھی اس نے سوچ لیا تھا ’’
💕💕
” ‘ وہ جب واشروم سے باہر نکلا تو بیڈ پر رکھی اپنی شرٹ کو دیکھ کر اسکے ہونٹ مسکرا دئے تھے ’’
’’ اس نے گردن موڑ کر ایک نظر صوفہ پہ بیٹھی رضوا کو دیکھا جو ایسے بیٹھی تھی جیسے اسکے علاوہ کمرے میں اور کوئی موجود ہی نہ ہو ’’
’’ اسکے دل میں کاوش کا اتنا ڈر بیٹھ گیا تھا کہ اس نے بغیر کہے ہی اسکی شرٹ نکال کر رکھ دی تھی مگر جو بھی تھا کاوش کو اسکی یہ بات پسند آئی تھی’’
’’ اس نے مسکراتے ہوئے شرٹ اٹھائی اور اسکے پہننے لگا ’’
’’رضوا یہاں آؤ ’’
’’ ڈریسنگ کے پاس جاکر وہ آئنے میں سے اسکو دیکھ رہا تھا ’’
’جو اپنے دونوں ہاتھوں کو دیکھ رہی تھی جانے کیا تلاش کرنا چاہ رہی تھی ان میں ’’
’’ کاوش کی آواز پر وہ بغیر اسکی طرف دیکھے اٹھی اور اسکے سامنے آ کھڑی ہوئی تھی ’’
’’ ایک بار بھی اس نے کاوش کی طرف دیکھنا ضروری نہیں سمجھا تھا ’’
’’ نظریں نیچے کئے اپنے دونوں ہاتھوں کو آپس میں مسلتی وہ اسکے حکم کا انتظار کر رہی تھی ’’
’’ مگر کاوش اپنے آفس جانے کی تیاری مکمل کرتا اسکو اپنی نظروں کے حصار میں لئے ہوئے تھا ’’
’’ وہ پہلے تو اس سے ڈرتی تھی مگر کل کے بعد سے بلکل خاموش ہو گئی تھی ’’
’’ بات تو پہلے بھی کم ہی کرتی تھی مگر اب اسکے چہرے کے تاثرات الگ تھے نہ گھبراہٹ نہ شرم نہ ڈر بس خاموشی سے نظریں جھکاۓ کھڑی تھی ’’
’’ کاوش اسکو اس طرح سے دیکھ کر اندر ہی اندر بےچین ہو رہا تھا ’’
’’ کیا بات بات ہے تم اتنی خاموش کیوں ہو’’
’’ جبکہ اب میں نے کچھ بھی نہیں کیا نہ تمھیں تکلیف دی ..
تو پھر یہ خاموشی کیسی ’’
’’ وہ اسکی ٹھوڈی کے نیچے اپنی انگلی رکھ کر اسکا چہرہ اوپر کرتا ہوا بولا ’’
’’رضوا اسکے بولنے پر ڈری نہیں تھی ’’
’’ کیونکہ اس کے لمس کے ساتھ ساتھ اسکا لہجہ بھی نرم تھا’’
’’ میں کچھ پوچھ رہا ہوں تم سے ’’
’’ اس نے رضوا کی کمر کے گرد بازو حائل کر کے اسکو اپنے قریب کیا تھا ’’
’’ جبکہ رضوا یہ سوچ رہی تھی کہ کیا تھا یہ سخص جو تکلیف دے کر پوچھ رہا تھا کی تکلیف میں کیوں ہو’’
’’ نہیں ..ایسی کوئی بات نہیں ہے ….
’’ میں تو ہمیشہ ہی ایسے رہتی ہوں ’’
’’ وہ اسکی قربت میں بامشکل بول پائی تھی
ورنہ اسکا دل تو کر رہا تھا کہ وہ کہہ دے کہ اسکو اپنے بھائی کے پاس جانا ہے یا اسکے بھائ سے بات کرا دے ..
’’ مگر اسکی اس دن والی بات یاد کر کے خاموش ہی رہی تھی ’’
’’ جانے اس بار وہ کیا کرتا اسکے ساتھ ’’
’’ اچھا اگر ایسی بات ہے تو یہ بات میری آنکھوں میں دیکھ کر بولو ..
اس نے اپنا چہرہ اسکے چہرے کے مزید قریب کیا تھا’’
’’ دونوں کی سنسیں ایک دوسرے کے چہرے کو چھو رہی تھی ’’
’’ رضوا نے اپنی بےترتیب ہوتی دھڑکنوں کو قابو کر کے اسکی طرف دیکھا ’’
’’ میں خاموش نہیں ہوں آپکو غلط لگ رہا ہے ’’
’’ کاوش کہ نرم رویہ اسکو بولنے کے قابل بنہ رہا تھا’’
’’ اچھا اگر ایسی بات ہے تو ثبوت دو مجھے اس بات کا ’’
’’ اس نے رضوا کو کمر سے پکڑ کڑ ڈریسنگ ٹیبل پر بیٹھایا تھا ’’
’’ اسکے ایسا کرنے پر ڈر سے رضوا کی چیخ نکلی تھی ’’
’’یہ کیا کر رہے ہیں آپ ’’
نیچے اتار دیں مجھے ’’
’’اسکو ڈر ہوا جانے کیا کرنے والا تھا وہ اسکے ساتھ’’
’’ اتار دوں گا پہلے تمھیں مجھے کس کرنی ہوگی یہاں ’’
’’وہ انگلی اپنے گال پر رکھتا ہوا بولا ’’
’’ اسکی اس نئی فرمائش پر رضوا کی گھبراہٹ میں اضافہ ہوا تھا ’’
’’ آپ مجھے پھر سے پریشان کر رہے ہیں جبکہ آپنے کہا تھا کہ آپ دوبارہ ایسا نہیں کریں گے ’’
’’ اس نے کاوش کو اسکی کہی بات ید دلائی تھی ’’
’’ میں نے تکلیف نا دینے کے بارے میں کہا تھا پریشان کرنے کے بارے میں نہیں ’’
’’ اور یہ تو بس اک چھوٹی سی فرمائش ہے ’’
وہ اسکے یرد گرد ہاتھ رکھا ہوا بولا اور اپنا چہرہ اسکے لبوں کے قریب کیا تھا ’’
’’ رضوا کشمکش میں بیٹھی اسکا چہرہ دیکھ رہی تھی ’’
اسکی سمجھ نہیں آ رہا تھا کس طرح سے اسکی فرمائش پوری کرے اگر نہیں کرتی تو وہ بغیر کئے اسکی جان نہیں چھوڑنے والا ’’
’’ جلدی کرو یار ورنہ میں خود ہی یہ کام کر لوں گا’’
’’ کاوش کی بات سن کر وہ جلدی سے اسکے چہرے پر جھکی کہیں وہ خود ہی نہ شروع ہو جائے ’’
’’ اس نے جیسے ہی اپنے لب اسکے رخسار پر رکھنے چاہے کاوش نے چالاکی سے اپنا چہرہ اسکے سامنے کیا اور اسکے ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں میں قید کر چکا تھا ’’
’’ کاوش کی اس حرکت پر رضوا نے سختی سے اپنی آنکھیں بند کی تھی ’’
’’ اس بار کاوش کی پکڑ میں سختی نہیں تھی وہ بہت نرم انداز میں اسکو چھو رہا تھا ..
’’ رضوا نے سختی سے اسکا کالر پکڑا ہوا تھا “
’’ وہ اس پر جھکا محبت سے اسکو چوم رہا تھا کچھ لمحے بعد وہ اس سے جدا ہوا تو آنکھیں بند کئے بیٹھی رضوا کو دیکھا ’’
’’ اسکی ذرا سی قربت میں کیا حال ہو جاتا ہے وہ تو اسکی شدتیں برداشت ہی نہیں کر پاۓ گی ’’
’’ اگر میرے سامنے ایسے ہی بیٹھی رہو گی تو پھر ایک کس سے میرا کام نہیں چلے گا ’’
’’ کاوش کی آواز پر اس نے یکدم سے اپنی آنکھیں کھولی تو وہ آنکھوں میں بےپناہ تپیش لئے اسکو دیکھ رہا تھا ’’
’’ رضوا اپنی تیز ہوتی دھڑکنوں کو بامشکل قابو کرتی ڈریسنگ سے اترنا چاہا تو کاوش پھر سے اسکی کمر میں ہاتھ ڈال کر اسکو اپنے مقابل کھڑا کر چکا تھا ’’
’’ شام جب میں گھر واپس آؤں تو مجھے تمہارے چہرے پہ یہ خاموشی بلکل نہیں چاہئے ’’
’’ وہ ایک نظر اسکے چہرے کو دیکھا کمرے سے نکلا تھا ..
’’ جبکہ رضوا کتنی ہی دیر کھڑی اسکے الفاظ پر غور کرتی رہی تھی ’’
💕💕
’’ ’’وہ اپنی ماں کے پاس سے سیدھا اس گھر میں آئی تھی جہاں دو دن پہلے حیدر اسکو لیکر آیا تھا ’’
’’ آج کاوش کی بات سن کر جہاں وہ حیران ہوئی تھی دوسری طرف اسکو ایک سکون بھی ملا تھا ’’
’’ جیسے وہ اپنی بہن کے لئے تڑپتی تھی ایسے ہی وہ بھی اپنی بہن کے لئے تڑپنے والا تھا ’’
’’ ایسا نہیں تھا کہ سچ جان کر وہ رضوا کو ناپسند کرنے لگی تھی .
’’ بس وہ حیدر کو تڑپتا ہوا دیکھنا چاہتی تھی ’’
’’ دروازہ اچھی طرح سے لاک کر کے وہ اندر داخل ہوئی ..
آتے وقت وہ اپنا ضروری سامان بھی لے آئی تھی ’’
’’ وہ سامان لاؤنج میں رکھ کر وہ کمرے میں آئی مگر حیدر کو کمرے کے بیچ و بیچ کھڑا دیکھ کر حیران ہوئی تھی ’’
’’ کل وہ اسکی باتوں سے ڈر سی گئی تھی اور رات کو اپنے کمرے کا دروازہ لاک کئے بیٹھ گئی تھی ..
’’ وہ چاہے کتنی بھی مضبوط بنتی اسکے سامنے مگر تھی تو ایک لڑکی ہی ..
’’ اگر وہ اسکی طرف پیش قدمی بھی کرتا تو وہ اسکو روک نہیں پاتی ..
’’ دیر رات تک وہ پریشان سی بیٹھی رہی مگر جب وہ نہ آیا تو اسکو ایک سکون سا ملا تھا ’’
’’ آئیے بیگم آپکا ہی انتظار ہو رہا تھا ’
ویسے کہاں سے آ رہی ہو تم اس وقت ’’
حیدر کی نظر جب اس پر پڑی تو وہ اسکی طرف بڑھا تھا مگر اسکی لال آنکھیں دیکھ کر تھوڑا پریشان بھی ہوا ’’
’’ منال اسکا سوال نظر انداز کرتی واشروم کی طرف بڑھی تھی مگر حیدر تیزی سے اسکے راستے میں آیا ’’
’’ کیا ہوا کل نہیں آیا اس بات سے ناراض ہو ..
’ اسکا چہرہ نظروں کے حصار میں لیے ہوئے بولا ’’
’’ ناراض نہ ہو بیگم آج میں تمہاری ساری ناراضگی دور کر دوں گا ..
وہ ایسے بات کر رھا تھا جیسے ان دونوں کے بیچ سب نارمل ہو ..
’’ جبکہ اسکی بات پر منال نے اسکو گھوری سے نوازا..
کتنا دوغلا انسان تھا یہ شخص محبت کی آڑ میں اپنا بدلہ بھی لے رہا تھا ’’
’آج اسکو کاوش سے سب معلوم نہ ہوتا تو اسکو کبھی پتہ ہی نہ چلتا اسکی چالاکی کا ’’
’’ ‍’’میں ناراض ان لوگوں سے ہوتی ہوں جو میرے لئے میری زندگی میں بہت اہميت رکھتے ہیں ..
’’ تم اس لسٹ میں کہیں نہیں ہو ..
’’منال کے جواب سے اسکا غصّہ تو بہت آیا تھا مگر ضبط کر گیا ’’
’’منال اپنی بات کہہ کر وہ اسکی سائیڈ سے نکلی تھی جب حیدر اسکا بازو تھام چکا تھا ’’
’’ چلو ناراض نہیں ہو ٹھیک ہے پر میری بات کا جواب نہیں دیا تم نے …
’’ اس وقت کہاں سے آئی ہو تم ’
اسکا لہجہ سخت ہوا تھا کیونکہ وہ زیادہ دیر کسی کے نخرے برداشت نہیں کر سکتا تھا ..
چاہے سامنے کوئی بھی ہو ’’
’’ میں کہیں بھی آؤ اور کسی بھی وقت تمھیں کوئی مطلب نہیں ہونا چاہیے ..
اور بازو چھوڑو میرا “
منال کو اسکے سوال سے غصّہ آیا تھا *
’’ مجھے حق ہے سوال کرنے کا ..
بیوی بننے سے پہلے محبت ہو تم میری…
مگر میں تمھیں اس بات کی ہرگز اجازت نہیں دوں گا کہ تم رات کے وقت اکیلے کہیں جاؤ ..
” ‘ اسکی آنکھوں میں ہی نہیں اسکے لہجے میں بھی غصّہ تھا ’’
’’ محبت ’’
وہ بھی تمھیں ’’منال اسکی بات پر زور سے ہنسی تھی..
’’ تم کیا جانو حیدر علی محبت کیا ہوتی ہے
لوگ محبت میں اپنی جان تک دے دیتے ہیں اور سامنے والے کو اس بات کی خبر بھی نہیں ہوتی ’’
’’ وہ بولتی ہوئی جیسے کہیں کھو سی گئی تھی .
’’ کس کی بات کر رہی ہو تم ..
کس نے جان دی ..
وہ ناسمجھی سے اسکی طرف دیکھ رہا تھا ’’
’’ کسی نے نہیں اور ہاتھ چھوڑو میرا ’’
منال اپنا بازو اسکی گرفت سے آزاد کروا کر واشروم میں چلی گئی تھی ..
جبکہ حیدر کھڑا اسکو جاتے ہوئے دیکھتا رہا ’’
💕💕
(جاری ہے )